24/05/2026
فیصل آباد کے علاقے چک نمبر 220 رب باووالہ میں ایک مسیحی خاندان سراپا احتجاج ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق ان کی 16 سالہ بیٹی یشف نور، جو صرف نوڈلز لینے دکان پر گئی تھی، واپس گھر نہ آئی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شام تقریباً چار بجے پیش آیا۔ خاندان کے مطابق ایک رکشہ کئی دنوں سے علاقے میں کھڑا رہتا تھا اور مبینہ طور پر ملزمان مسلسل بچی پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
خاندان کا الزام ہے کہ دو بھائی، قلب عباس اور قلب علی، اس واقعے میں ملوث ہیں۔ اہلِ علاقہ اور خاندان کے مطابق جب بچی کے والدین نے ان افراد کو گھر کے قریب کھڑا ہونے سے منع کیا تو مبینہ طور پر گھر کے باہر فائرنگ بھی کی گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یشف نور کے والد سموائیل جان، جو محنت مزدوری اور بوری اٹھانے کا کام کرتے ہیں، اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے دربدر ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ یشف نور کی عمر صرف 16 سال اور 5 ماہ ہے جبکہ ان کو ایسے کاغذات بھی موصول ہوئے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچی نے مذہب تبدیل کر لیا ہے۔ اہلِ خانہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر بچی کم عمر ہے تو پھر یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ کیا کم عمری کی شادی اور مبینہ جبری مذہب تبدیلی کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی؟
غم سے نڈھال ماں، جس کی چھ بیٹیاں ہیں اور پانچ کی شادیا ں ہو چکی ہیں، اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کے لیے رو رو کر انصاف کی اپیل کر رہی ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بچی کا نادرا ریکارڈ اور عمر کے ثبوت موجود ہیں۔
متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ سے ، فیصل آباد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ یشف نور کو فوری بازیاب کروایا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور کمسن بچیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ آئندہ کسی خاندان کو اس اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔