Imam Bargah Khawaja Zulfiqar ali (wasan pura)

Imam Bargah Khawaja Zulfiqar ali (wasan pura) Kh.Baqar Abbas Matwali Imam Bargah Khawaja Zulfiqar Ali. Address:St #100 House 21 new wassan pura lahore. Contact #03334213913 03454035318

*`🚨 حقیقت کے آئینے میں 🚨`**📜 تاریخ کی سب سے بڑی سچائی 📜* ​ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...
30/05/2026

*`🚨 حقیقت کے آئینے میں 🚨`*
*📜 تاریخ کی سب سے بڑی سچائی 📜* ​ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*1۔ مکہ اور مدینہ خاموش رہے، لیکن کوفہ کے مؤمنین تڑپ اٹھے*
​جب یزید تخت پر بیٹھا، تو
*`مدینہ اور مکہ جیسے شہروں میں`*

*`بڑی بڑی شخصیات موجود تھیں،`*
*لیکن وہاں سے اموی حکومت کے خلاف*
*`🙌 کوئی منظم آواز نہ اٹھی 🙌`*
*یہ صرف کوفہ ہی تھا جہاں کے مخلص مؤمنین نے*
*یزید کے فاسق و فاجر ہونے کے خلاف*
*`سب سے پہلے احتجاج کیا۔ انہوں نے`*
*سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر پر اکٹھے ہو کر*
*امام عالی مقامؑ کو ہزاروں خطوط لکھ کر پکارا کہ:*
*`😔 ہمارا کوئی امام نہیں ہے 😔`*
آپ تشریف لائیے تاکہ خدا آپ کے ذریعے ہمیں حق پر جمع کرے"۔

*`📌 تاریخی مآخذ : ⚧️`*
کوفہ کے مؤمنین کے ان خطوط کا تفصیلی ذکر
شیخ مفید کی کتاب الارشاد (جلد 2، صفحہ 36)
اور بحار الانوار (جلد 44، صفحہ 332) میں
*پوری دیانت داری کے ساتھ محفوظ ہے۔*
​ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*2۔ کوفہ کے مؤمنین لالچ میں نہیں آئے، بلکہ قید و بند اور ظلم کا نشانہ بنے*
​عام طور پر یہ غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے کہ پورا کوفہ لالچ میں آ گیا تھا،
*جبکہ سچ یہ ہے کہ کوفہ کے سچے مؤمنین*
*ابنِ زیاد کے خوف یا لالچ کے آگے نہیں جھکے۔*

. *`🚨 اموی حکومت نے 🚨`*
*کوفہ کے چپے چپے پر ناکہ بندی کر دی تھی*
سچے مؤمنین کو چن چن کر قید خانوں میں ڈالا گیا،
*انہیں شدید زد و کوب (مارا پیٹا) گیا*
*`اور بے دردی سے شہید کیا گیا۔`*
​کوفہ کی مٹی کے وہ عظیم ستون جو حق کی خاطر قربان ہوئے:

*`😔 جنابِ ہانی بن عروہؑ: 🫡`*
*کوفہ کے انتہائی جلیل القدر اور معزز رہنما،*
*جنہوں نے مسلم بن عقیلؑ کو اپنے گھر پناہ دی*
اور ابنِ زیاد کے سامنے جھکنے کے بجائے مظلومیت کے ساتھ شہید ہونا قبول کیا
*📚(بحوالہ: مقتلِ ابی مخنف)📚*
*`حضرت مختار ثقفیؒ (امیرِ مختار):`*

کوفہ کے وہ عظیم مجاہد جنہیں مسلم بن عقیلؑ کی حمایت کرنے کے جرم میں کربلا کی جنگ سے پہلے ہی ابنِ زیاد نے قید خانے میں ڈال دیا تھا،
*تاکہ وہ امامؑ کی مدد کو نہ پہنچ سکیں*
*📚 (بحوالہ: تاریخِ طبری) 📚*
*`جلیل القدر صحابہ و تابعین:`*
*کوفہ میں حضرت علیؑ کے تربیت یافتہ*
*مخلص مؤمنین کی ایک بڑی تعداد کو*
کربلا پہنچنے سے پہلے ہی راستوں میں گرفتار کر کے جیلوں میں بند کر دیا گیا یا شہید کر دیا گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*3۔ کربلا کے انصارِ حسینؑ کا تعلق کوفہ ہی سے تھا*
*​ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ شبِ عاشور*
اور روزِ عاشور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کٹنے والے اور شجاعت کی نئی تاریخ رقم کرنے والے عظیم شہدا کی اکثریت اسی کوفے کے مؤمنین کی تھی۔
*`جنابِ حبیب ابنِ مظاہر اسدیؑ:`*
کوفہ کے نامور اور معزز مؤمن تھے *(بحوالہ: ابن حجر عسقلانی، الاصابہ)*
*`جنابِ مسلم بن عوسجہ اسدیؑ:`*
کوفہ کے عابد اور شجاع بزرگ تھے جنہوں نے کربلا میں جامِ شہادت نوش کیا (بحوالہ: کتاب الارشاد)۔
*`جنابِ عابس بن ابی شبیب شاکریؑ`*
اور جنابِ جونؑ: یہ سب اسی کوفے کے باوفا مؤمن تھے جو ابنِ زیاد کے سخت ترین پہروں اور موت کے خوف کو چیرتے ہوئے، رات کی تاریکی میں چھپ چھپ کر کربلا پہنچے اور امامؑ کے قدموں میں جانیں قربان کر دیں۔
*`📌 تاریخی مآخذ : 🚨`*
شہدائے کربلا کے کوفی الاصل ہونے اور ان کی قربانیوں کے احوال مقتلِ ابی مخنف (صفحہ 110) اور کتاب الفتوح میں تفصیلاً درج ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
​⭐*4۔ بنو امیہ کا سارا غصہ کوفہ پر کیوں تھا؟* ⭐
​اموی حکومت یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ اسلام کا اصل انقلابی اور بیدار مغز مرکز کوفہ ہے،
کیونکہ وہاں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے دورِ خلافت میں سچے مؤمنین کی تربیت کی تھی اور انہیں ملوکیت کے خلاف لڑنا سکھایا تھا۔

اسی لیے یزید نے کوفہ کے اس جذبے کو کچلنے کے لیے عبیداللہ بن زیاد جیسے سفاک شخص کو وہاں کا گورنر مسلط کیا، تاکہ دہشت، تلوار اور قید خانوں کے ذریعے اس سچے مؤمن شہر کی آواز کو دبا دیا جائے۔

*`📌 تاریخی مآخذ : 🔐`*
اموی حکومت کی کوفہ دشمنی اور ابنِ زیاد کے مظالم کی تفصیلات تاریخِ ابنِ خلدون (جلد 3) اور تاریخِ طبری (جلد 5، صفحہ 358) میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔​ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*`✍🏻 آخری پیغام (عنوان):`*
کوفہ: ایک مظلوم اور مؤمن شہر
​"دنیا کہتی ہے کوفہ بے وفا تھا، لیکن تاریخ گواہی دیتی ہے کہ
*`جب مکہ اور مدینہ خاموش تھے،`*
تب کوفے کے مؤمنین کے خطوط امامِ وقت کو پکار رہے تھے۔ کوفہ کے سچے مؤمنین لالچ میں نہیں آئے، بلکہ انہیں حق کی قیمت قید خانے کاٹ کر، شدید زد و کوب ہو کر، دار پر چڑھ کر اور کربلا کی مٹی پر خون بہا کر چکانی پڑی۔
*`سلام ہو کوفہ کے ان سچے اسیروں،`*
مجاہدوں اور شہیدوں پر جن کے دل آخری سانس تک حسینؑ کے ساتھ دھڑکتے رہے!"
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
👤

Follow ⚔️🚩𝐊𝐀𝐑𝐁𝐀𝐋𝐀 𝐖𝐀𝐋𝐘🚩⚔️'s WhatsApp Channel. ‎‏*وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ🕋*
*_𝙇𝙖𝙗𝙗𝙖𝙞𝙠 𝙔𝙖 𝙃𝙪𝙨𝙨𝙖𝙞𝙣 (𝘼.𝙨)👑_*
𝘼𝙯𝙖𝙙𝙖𝙧 𝙂𝙧𝙤𝙪𝙥 𝙋𝙖𝙠𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣🇵🇰
𝙁𝙤𝙪𝙣𝙙𝙚𝙧 7⃣2⃣ 𝙂𝙧𝙤𝙪𝙥𝙨
*𝘼𝙡𝙞 𝙎𝙖𝙛𝙙𝙖𝙧 𝘼𝙗𝙗𝙖𝙨🇵🇰*
𝙒𝙝𝙖𝙩𝙨-𝘼𝙥𝙥 𝙉𝙚𝙬𝙨 𝘼𝙡𝙚𝙧𝙩𝙨 🇵🇰 𝘾𝙝𝙖𝙣𝙚𝙡 𝙇𝙞𝙣𝙠 🌏👇
https://whatsapp.com/channel/0029VarDbOR6hENqLmEcc028
*_2026ء/1447 هجری_*
*_♥ لبیک یا حسین ۴👑_*
*_🚩کربلاوالے🚩_*
*_72 گروپس آف پاکستان قائم شدہ 2014 ء🏴_*.‎ Join 82K followers for the latest updates.

24/05/2026

شہید آیت اللہ حسین دستغیب شیرازی 🌹۔ ،۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ شہید آیة اللہ حسین دستغیب جو مشہور کتاب گناہان کبیرہ کے مصنف ہیں، ایک مجلس کے بعد بے تحاشا گریہ کر رہے تھے، ان کے قریبی شاگرد نے حیرت سے پوچھا: آقا! کیا ہوا ہے آپ اتنا کیوں رو رہے ہیں؟

شهید دستغیب رح نے فرمایا: آج ایک نوجوان میرے پاس آیا، میں نے اس کی آنکھوں میں شیطان کو ناچتے ہوئے دیکھا ہے۔"

میں نے اسے قرآن کی آیات سنائیں، دوزخ کی آگ قبر کے عذاب اور اللہ کے قہر کی بات کی مگر اس کے چہرے پر کوئی لرزش کوئی اثر نہیں آیا۔ میں نے آخر میں کہا: بیٹا! اگر آپ ابھی اسی وقت مر گئے تو؟

وہ بے فکری سے ہنسا اور بولا : آقا ! سب کو اللہ معاف کر دے گا، ابھی تو ہماری عمر پڑی ہے۔

آية الله دستغیب نے فرمایا: میں نے اس کے ماتھے پر یہ لکھا ہوا دیکھا محروم من رحمۃ اللہ یعنی اللہ

کی رحمت سے محروم اس منظر نے میرے وجود کو ہلا دیا کیونکہ اپنی پوری زندگی میں پہلی بار میں نے کسی نوجوان پر اللہ کی رحمت کے دروازے بند دیکھے ہیں۔"

اسی رات وہی نوجوان ایک نامحرم لڑکی کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا تیز رفتاری اور غفلت کی وجہ سے دونوں کا حادثے میں موقع پر ہی انتقال ہووجہ سے دونوں کا حادثے میں موقع پر ہی انتقال ہو گیا۔

جب اس کی تدفین کا وقت آیا تو قبر نے بدن قبول نہ کیا۔ لوگوں نے کئی بار لاش کو دفنانے کی کوشش کی مگر ہر بار مٹی نے اسے باہر اچھال دیا۔ لوگوں میں تعجب کی کیفیت تھی۔

بالآخر آیت الله دستغیب تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا: یہ بدن گناہ سے سیاہ ہو چکا ہے، اس کی ماں توبہ کرے اور سب لوگوں سے معافی مانگے شاید زمین پھر اسے قبول کرے۔

ماں چیختی روتی، سب کے قدموں میں گری توبہ کرتی رہی اور جب دل سے توبہ نکلی تو زمین نے لاش کو قبول کر لیا۔

گناهان کبیره ، شهید سید دستغیب شیرازی رح]

24/05/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللھم صل علی محمد وال محمد وعجل فرجھم

*اللہ تعالی ج کی حمد و ثناء*

معبود بیشک تو نے مجھے صحیح وسالم شکل میں خلق کیا ۔ اور بچپنے میں میری تربیت کا سامان کیا اور مجھے با کفایت رزق عطا کیا ۔ پرور دگارا ! تو نے اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں جو کچھ نازل کیا ہے اور جس کے ذریعے تو نے اپنے بندوں کو خوش خبری دی ہے اسے میں نے پڑھا ہے کہ ، اے اپنے نفسوں پر زیادتی کرنے والو ! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جا ؤ۔ بیشک اللہ سب کے گناہ بخش دے گا ۔

اس سے پہلے جو کچھ مجھ سے سر زد ہو اہے وہ سب کچھ تیرے علم میں ہے اور تو مجھ سے زیادہ اس کا علم رکھتا ہے۔ پس افسوس ہے میرے ان گناہوں پر جنھیں تیری کتاب نے لکھ کر رکھا ہے۔لہذا اگر تیری اس عفو و بخشش کی امید نہ ہو تی جو ہر چیز کے شامل حال ہے تو میں اپنے آ پ کو ہلاک کر دیتا اور اگر کوئی اپنے پرور دگار کا سامنا کرنے سے بھاگنے پر قادر ہوتا تو میں تجھ سے بھاگنے کا زیادہ سزاوار تھا ۔ جب کہ تیری شان یہ ہے کہ تو زمین وآسمان میں ہر چھپی ہوئی چیز کو ظاہر کردے گا ، اور تو سزا وجزا دینے اور حساب کرنے کے لئے کافی ہے۔معبود اگر میں بھاگ جاؤں تو تو مجھے تلاش کر لے گا اور اگر میں فرار کر جاؤں تو تو مجھے پکڑ لے گا ۔ لہذا میں تیرے حضور میں خاضع، ذلیل اور گردن انداختہ ہوں ۔پس اگر تو مجھے عذاب میں مبتلا کرے تو بیشک میں اسی کا سزاوارہوں اور یہ تیرا عدل ہے۔ اے میرے پرور دگارا ! ۔ اور اگر تو مجھے معاف کردے اور مجھے لباس عافیت پہنا دے تو تیرا عفوو کرم ہمیشہ میرے شامل حال رہا ہے۔پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے اللہ تیرے اسماء میں سے اس اسم کے واسطے سے جو مخزون ہے اور تیری نورانیت کے پردوں نے جسے چھپا رکھا ہے کہ تو اس سخت رنجیدہ نفس بوسیدہ ہڈ یوں کے ڈھانچے پر رحم کر جسے تیرے سورج کی گرمی تو برداشت نہیں پھر تیرے دوزخ کی سخت حرارت کس طرح برداشت ہو گی اور جسے تیری رعد کی کڑک سننے کی تو تاب نہیں پھر غضب وقہر کی آواز کیو ں کربرداشت ہو گی؟ پس مجھ پر رحم کر اے میرے معبود اس لئے کہ میں بے مایہ اور حقیر بندہ ہوں جس کی کوئی حیثیت نہیں اور مجھے عذاب میں مبتلا کرنے سے تیرے ملک میں ذرّہ برابر بھی اضا فہ نہیں ہو گا اور اگر مجھے عذاب دینے سے تیرے ملک میں اضافہ کا امکان ہوتا تو میں تجھ سے عذاب پر صبر کا سوال کرتا اور میں اسی بات کو پسند کرتا کہ تو مجھے عذاب میں مبتلا کرے لیکن تیری سلطنت۔اے میرے اللہ اس سے کہیں عظیم ہے اور تیرا ملک کہیں زیادہ پائدار ہے کہ اس میں اہل طاعت کی طاعت سے اضافہ ہو گا یا گنہگاروں کی معصیت سے اس میں کمی واقع ہوگی لہذا مجھ پر رحم کر اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے اور مجھ سے در گذر فرما اے صاحب جلال و اکرام اور میری توبہ قبول فرما بیشک تو بڑا توبہ پذیر اور رحم کرنے والا ہے

📕صحیفہ سجادیہ
دعا نمبر 162 مکمل

24/05/2026

*اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن-🖤*
میرا سلام ہو اس امامؐ پر جس کا بچپن شام کھاگئ-😭
🌙7 ذی الحجہ شہادت امام محمد باقرؐ-💔

24/05/2026

میں حاضر ہوں (لبیک) اگرچہ دل سخت ہو چکے ہوں ، میں حاضر ہوں اگرچہ گناہ حد سے بڑھ چکے ہوں۔

میں حاضر ہوں، ہم لوٹنے والے ہیں، تو بہ کرنے والے ہیں، شرمسار ہیں۔ میں حاضر ہوں، یقیناً اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے۔

میں حاضر ہوں، وہ دل کبھی بد بخت ( ناکام ) نہیں ہوا جس نے تیری پناہ لی۔

لبیک اے اللہ ! عفو و عافیت کے ساتھ۔

لبیک اے اللہ ! ایک کے بعد دوسری دعا کی قبولیت کے ساتھ۔

لبیک، تیری رضا اور حسن خاتمہ کے لیے۔

لبیک میرے رب ! اگرچہ میں حاجیوں کے درمیان ( میدان عرفات میں ) لبیک کہنے والوں میں موجود نہیں ہوں۔

میں حاضر ہوں، کیونکہ زندگی کاراستہ تیرے بغیر سراسر وحشت (اور اندھیرا) ہے “!😭😰

23/05/2026

Address

Kh. Baqar Abbas Present Address House#21 Street#100 New Wasan Pura Lahore
Lahore
009242

Telephone

+923334213913

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imam Bargah Khawaja Zulfiqar ali (wasan pura) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Imam Bargah Khawaja Zulfiqar ali (wasan pura):

Share