08/07/2026
آیت اللہ جوادی آملی نے نمازِ جنازہ کے آخری حصے میں امامِ شہید کی پوری زندگی کا خلاصہ ایک مؤثر “شہادت نامہ” کی صورت میں مرتب فرمایا، تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے یادگار بن جائے:
اللَّهُمَّ إِنَّ هذَا الْمُسَجَّى قُدَّامَنَا عَبْدُكَ وَ ابْنُ عَبْدِكَ وَ ابْنُ أَمَتِكَ.
بارِ الٰہا! ہمارے سامنے جو یہ جسدِ خاکی رکھا ہے، وہ تیرا بندہ، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا فرزند ہے۔
نَزَلَ، نَزَلَ، نَزَلَ بِعِزِّ جَلَالِكَ وَ جَبَرُوتِكَ وَ عَظَمَتِكَ وَ مَلَكُوتِكَ.
وہ حاضر ہو گیا، حاضر ہو گیا، حاضر ہو گیا ہے تیری عزت، جلال، جبروت، عظمت اور ملکوت کے حضور۔
نَزَلَ بِعِزِّ جَلَالِكَ وَ جَبَرُوتِكَ وَ مَلَكُوتِكَ.
وہ تیری عزت، جلال، جبروت اور ملکوت کی بارگاہ میں حاضر ہو چکا ہے۔
نَزَلَ بِعِزِّ جَلَالِكَ وَ جَبَرُوتِكَ وَ مَلَكُوتِكَ.
وہ تیری عزت، جلال، جبروت اور ملکوت کی بارگاہ میں حاضر ہو چکا ہے۔
اللَّهُمَّ إِنَّهُ نَزَلَ مُجَاهِدًا، مُبَالِغًا، وَرِعًا، مُوَحِّدًا، مُتَأَلِّهًا.
اے اللہ! وہ تیرے حضور اس حال میں آیا ہے کہ وہ ایک جانفشان مجاہد، نہایت کوشاں، پرہیزگار، خالص موحد اور خدا شناس و خدا پرست بندہ تھا۔
اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ، إِنَّهُ نَزَلَ عِنْدَكَ شَهِيدًا لِلْإِسْلَامِ وَ الْقُرْآنِ وَالْعِتْرَةِ؛ هذَا أَوَّلًا.
اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! وہ تیرے حضور اسلام، قرآن اور عترت کے شہید کی حیثیت سے حاضر ہوا ہے۔ یہ ہماری پہلی گواہی ہے۔
اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ، اللَّهُمَّ، إِنَّهُ نَزَلَ عِنْدَكَ قَتِيلًا لِلْإِسْلَامِ؛ قَتِيلًا لِلْأُمَّةِ الْمُسْلِمَةِ؛ قَتِيلًا لِسِيَاسَتِهَا؛ قَتِيلًا لِصِيَانَتِهَا؛ قَتِيلًا لِكِيَانِهَا؛ قَتِيلًا لِعَظَمَتِهَا وَ سِيَادَتِهَا وَ مَوْلَوِيَّتِهَا وَ وَحْدَتِهَا.
اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! وہ تیرے حضور اس حال میں آیا ہے کہ وہ اسلام کی راہ میں شہید ہوا، امتِ مسلمہ کی خاطر شہید ہوا، اسلامی نظام و سیاست کی حفاظت کے لیے شہید ہوا، امت کی پاسداری کے لیے شہید ہوا، اس کے وجود و بقا کی خاطر شہید ہوا، اور اس کی عظمت، سربلندی، ولایت و حقِ قیادت، اقتدار اور وحدت کی خاطر اپنی جان قربان کر گیا۔
يَا مَنْ يَقْبَلُ الْيَسِيرَ وَ يَقْبَلُ الْيَسِيرَ، اقْبَلْ مِنْهُ وَ مِنَّا الْيَسِيرَ، إِنَّكَ عَلَی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
اے وہ ذات جو معمولی عمل کو بھی قبول فرماتی ہے اور اس پر عظیم اجر عطا کرتی ہے! اس بندے کی اور ہماری یہ مختصر سی خدمت قبول فرما، بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
اللَّهُمَّ إِنَّهُ نَزَلَ بِعِزِّ غُفْرَانِكَ، وَ هُوَ عَبْدُكَ وَ مُحْتَاجٌ إِلَی رَحْمَتِكَ.
اے اللہ! وہ تیری مغفرت کی عزت و پناہ میں حاضر ہوا ہے، وہ تیرا بندہ ہے اور تیری رحمت کا محتاج ہے۔
اللَّهُمَّ احْشُرْهُ مَعَ الْأَئِمَّةِ الْهُدَاةِ الْمَهْدِيِّينَ.
اے اللہ! اسے ہدایت کرنے والے اور ہدایت یافتہ ائمہؑ کے ساتھ محشور فرما۔
وَاخْلُفْ عَلَى أَهْلِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَصَلِّ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ، وَاحْشُرْنَا مَعَهُ مَعَ عِنَايَتِكَ وَ عِنَايَةِ مُحَمَّدٍ وَ عِتْرَتِهِ الطَّاهِرِينَ.
اور اس کے پسماندگان کے لیے بہترین جانشین اور مددگار بن، اس پر اور اس کے تمام اہل و وابستگان پر اپنی رحمت نازل فرما، اور ہمیں بھی اپنی خاص عنایت اور حضرت محمد ﷺ اور ان کی عترتِ طاہرہؑ کی عنایت کے طفیل اس کے ساتھ محشور فرما۔ 🤲🏻😢😭