18/07/2019
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.
سلسلہ فہم القرآن 18-07-2019
سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 62
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰٓي اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوْا حَتّٰى يَسْتَاْذِنُوْهُ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
لفظی ترجمہ
[اِنَّمَا : بیشک صرف ] [ الْمُؤْمِنُوْنَ : سب ایمان لانے والے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : سب ایمان لائے ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَ : اور ] [ رَسُوْلِهٖ : اس کے رسول ] [ وَاِذَا : اور جب ] [ كَانُوْا : وہ سب ہوتے ہیں ] [ مَعَهٗ : اس کے ساتھ ] [ عَلٰٓي اَمْرٍ : کسی کام پر ] [ جَامِعٍ : جمع کرنے والا ] [ لَمْ : نہیں ] [ يَذْهَبُوْا : وہ سب جاتے ] [ حَتّٰى : یہاں تک کہ ] [ يَسْتَاْذِنُوْهُ : وہ سب اجازت مانگ لیں اس سے ] [ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : جو ] [ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ : وہ سب اجازت مانگتے ہیں آپ سے ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ ] [ الَّذِيْنَ : جو ] [ يُؤْمِنُوْنَ : وہ سب ایمان لاتے ہیں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَ : اور ] [ رَسُوْلِهٖ : اس کے رسول : پر ] [ فَاِذَا : تو جب ] [ اسْتَاْذَنُوْكَ : وہ سب اجازت مانگیں آپ سے ] [ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ : اپنے کسی کام کے لیے ] [ فَاْذَنْ : تو آپ اجازت دے دیں ] [ لِمَنْ : جس کو ] [ شِئْتَ : آپ چاہیں ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ وَ : اور ] [ اسْتَغْفِرْ : بخشش طلب کیجیے ] [ لَهُمُ : ان کے لیے ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ اِنَّ : بیشک ] [ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ ] [ غَفُوْرٌ : بہت بخشنے والا ] [ رَّحِيْمٌ : نہایت رحم کرنے والا ]
بامحاورە ترجمہ
” حقیقی مومن وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے لیے رسول کے پاس ہوں تو آپ سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ اے نبی جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں۔ جب وہ اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو جیسے چاہیں آپ جازت دیں اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کریں، اللہ یقیناً غفورورحیم ہے۔ “
فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی آداب کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب کا تذکرہ۔
مومنوں کی صفت یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مومنوں میں سرفہرست صحابہ کرام (رض) ہیں اور صحابہ کرام رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قدر مؤدب اور تابعدار تھے کہ جب آپ انہیں کسی مشورہ اور کام کے لیے طلب فرماتے تو صحابہ فی الفور آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوجاتے اور اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر رہتے جب تک آپ انہیں جانے کی اجازت عنایت نہ کرتے۔ اگر کسی کو جلدی جانا ہوتا تو وہ کام کی نوعیت اور آپ کے ادب واحترام کا خیال رکھتے ہوئے عاجزی کے ساتھ آپ سے اجازت طلب کرتا۔ آپ کو یہ اختیار دیا گیا آپ جسے چاہیں اجازت عنایت فرمائیں جیسے چاہیں اپنے ہاں روکے رکھیں۔ ایسے باادب اور تابع فرمان ساتھیوں کے بارے میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کیا کریں یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی فرمانے والا ہے۔ اس آیت میں صحابہ کرام (رض) کی اطاعت شعاری اور وفاداری کا تذکرہ کرنے کے بعد رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے لیے بخشش کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورة توبہ میں یہ بتلایا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا صحابہ کے لیے نہایت ہی اطمینان کا باعث ہوا کرتی تھی کتنے خوش نصیب تھے۔ وہ لوگ جن کے لیے رب کریم اپنے رسول کو بخشش کی دعا کا حکم دیتا ہے اور پھر آپ کی دعا کی قبولیت کو ان الفاظ کے ساتھ یقینی بنادیا کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔
مسائل
١۔ صحابہ کرام (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے اجازت کے بغیر نہیں اٹھا کرتے تھے۔
٢۔ مجلس کا ادب ہے کہ صاحب مجلس سے اجازت لے کرجایا جائے۔
٣۔ صاحب امرمشورہ یا کسی کام کے لیے لوگوں کو طلب کرے تو ان کا حاضر ہونا ضروری ہے۔
تفسیر بالقرآن
معاشرتی آداب :
١۔ اے ایمان والو ! تم کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لے لیا کرو۔ (النور : ٢٧)
٢۔ جب تم گھروں میں داخل ہو تم گھر والوں کو سلام کہو۔ (النور : ٦١)
٣۔ اے ایمان والو ! جب تمہیں مجلس میں کھل کر بیٹھنے کے لیے کہا جائے تو کھل کر بیٹھ جایا کرو، اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جایا کرو۔ (المجادلۃ : ١١)
اللہ ہمیں قرآن پڑھنے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین