Real concept of Islam

Real concept of Islam Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Real concept of Islam, Lahore.

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.سلسلہ فہم القرآن 18-07-2019سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 62بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰ...
18/07/2019

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.

سلسلہ فہم القرآن 18-07-2019
سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 62

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰٓي اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوْا حَتّٰى يَسْتَاْذِنُوْهُ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

لفظی ترجمہ
[اِنَّمَا : بیشک صرف ] [ الْمُؤْمِنُوْنَ : سب ایمان لانے والے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : سب ایمان لائے ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَ : اور ] [ رَسُوْلِهٖ : اس کے رسول ] [ وَاِذَا : اور جب ] [ كَانُوْا : وہ سب ہوتے ہیں ] [ مَعَهٗ : اس کے ساتھ ] [ عَلٰٓي اَمْرٍ : کسی کام پر ] [ جَامِعٍ : جمع کرنے والا ] [ لَمْ : نہیں ] [ يَذْهَبُوْا : وہ سب جاتے ] [ حَتّٰى : یہاں تک کہ ] [ يَسْتَاْذِنُوْهُ : وہ سب اجازت مانگ لیں اس سے ] [ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : جو ] [ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ : وہ سب اجازت مانگتے ہیں آپ سے ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ ] [ الَّذِيْنَ : جو ] [ يُؤْمِنُوْنَ : وہ سب ایمان لاتے ہیں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَ : اور ] [ رَسُوْلِهٖ : اس کے رسول : پر ] [ فَاِذَا : تو جب ] [ اسْتَاْذَنُوْكَ : وہ سب اجازت مانگیں آپ سے ] [ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ : اپنے کسی کام کے لیے ] [ فَاْذَنْ : تو آپ اجازت دے دیں ] [ لِمَنْ : جس کو ] [ شِئْتَ : آپ چاہیں ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ وَ : اور ] [ اسْتَغْفِرْ : بخشش طلب کیجیے ] [ لَهُمُ : ان کے لیے ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ اِنَّ : بیشک ] [ اللّٰهَ : بیشک اللہ تعالیٰ ] [ غَفُوْرٌ : بہت بخشنے والا ] [ رَّحِيْمٌ : نہایت رحم کرنے والا ]

بامحاورە ترجمہ
” حقیقی مومن وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے لیے رسول کے پاس ہوں تو آپ سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ اے نبی جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں۔ جب وہ اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو جیسے چاہیں آپ جازت دیں اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کریں، اللہ یقیناً غفورورحیم ہے۔ “

فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی آداب کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب کا تذکرہ۔
مومنوں کی صفت یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مومنوں میں سرفہرست صحابہ کرام (رض) ہیں اور صحابہ کرام رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قدر مؤدب اور تابعدار تھے کہ جب آپ انہیں کسی مشورہ اور کام کے لیے طلب فرماتے تو صحابہ فی الفور آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوجاتے اور اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر رہتے جب تک آپ انہیں جانے کی اجازت عنایت نہ کرتے۔ اگر کسی کو جلدی جانا ہوتا تو وہ کام کی نوعیت اور آپ کے ادب واحترام کا خیال رکھتے ہوئے عاجزی کے ساتھ آپ سے اجازت طلب کرتا۔ آپ کو یہ اختیار دیا گیا آپ جسے چاہیں اجازت عنایت فرمائیں جیسے چاہیں اپنے ہاں روکے رکھیں۔ ایسے باادب اور تابع فرمان ساتھیوں کے بارے میں آپ کو حکم ہوا کہ آپ ان کے لیے بخشش کی دعا کیا کریں یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی فرمانے والا ہے۔ اس آیت میں صحابہ کرام (رض) کی اطاعت شعاری اور وفاداری کا تذکرہ کرنے کے بعد رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے لیے بخشش کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورة توبہ میں یہ بتلایا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا صحابہ کے لیے نہایت ہی اطمینان کا باعث ہوا کرتی تھی کتنے خوش نصیب تھے۔ وہ لوگ جن کے لیے رب کریم اپنے رسول کو بخشش کی دعا کا حکم دیتا ہے اور پھر آپ کی دعا کی قبولیت کو ان الفاظ کے ساتھ یقینی بنادیا کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔

مسائل
١۔ صحابہ کرام (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے اجازت کے بغیر نہیں اٹھا کرتے تھے۔
٢۔ مجلس کا ادب ہے کہ صاحب مجلس سے اجازت لے کرجایا جائے۔
٣۔ صاحب امرمشورہ یا کسی کام کے لیے لوگوں کو طلب کرے تو ان کا حاضر ہونا ضروری ہے۔

تفسیر بالقرآن
معاشرتی آداب :
١۔ اے ایمان والو ! تم کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لے لیا کرو۔ (النور : ٢٧)
٢۔ جب تم گھروں میں داخل ہو تم گھر والوں کو سلام کہو۔ (النور : ٦١)
٣۔ اے ایمان والو ! جب تمہیں مجلس میں کھل کر بیٹھنے کے لیے کہا جائے تو کھل کر بیٹھ جایا کرو، اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ جایا کرو۔ (المجادلۃ : ١١)
اللہ ہمیں قرآن پڑھنے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.سلسلہ فہم القرآن 17-07-2019سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 61بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰ...
18/07/2019

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.

سلسلہ فہم القرآن 17-07-2019
سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 61

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُيُوْتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اٰبَاۗىِٕكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُيُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗٓ اَوْ صَدِيْقِكُمْ ۭ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِيْعًا اَوْ اَشْـتَاتًا ۭ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَيِّبَةً ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ

لفظی ترجمہ
[لَيْسَ : نہیں ] [ عَلَي الْاَعْمٰى : اندھے پر ] [ حَرَجٌ : کوئی حرج ] [ وَ : اور ] [ لَا : نہ ] [ عَلَي الْاَعْرَجِ : لنگڑے پر ] [ حَرَجٌ : کوئی حرج ] [ وَ : اور ] [ لَا : نہ ] [ عَلَي الْمَرِيْضِ : مریض پر ] [ حَرَجٌ : کوئی حرج ] [ وَ : اور ] [ لَا : نہ ] [ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ : تمہارے نفسوں پر ] [ اَنْ : کہ ] [ تَاْكُلُوا : تم سب کھاؤ ] [ مِنْۢ بُيُوْتِكُمْ : اپنے گھروں سے ] [ اَوْ : یا ] [ بُيُوْتِ اٰبَاۗىِٕكُمْ : اپنے باپوں کے گھروں : سے ] [ اَوْ : یا ] [ بُيُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ : اپنی ماؤں کے گھروں : سے ] [ اَوْ : یا ] [ بُيُوْتِ اِخْوَانِكُمْ : اپنے بھائیوں کے گھروں : سے ] [ اَوْ : یا ] [ بُيُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ : اپنی بہنوں کے گھروں : سے ] [ اَوْ : یا ] [ بُيُوْتِ اَعْمَامِكُمْ : اپنے چچاؤں گے گھروں : سے ] [ اَوْ : یا ] [ بُيُوْتِ عَمّٰتِكُمْ : اپنی پھوپھیوں کے گھروں : سے ] [ اَوْ : یا ] [ بُيُوْتِ اَخْوَالِكُمْ : اپنے مامؤں کے گھروں : سے ] [ اَوْ : یا ] [ بُيُوْتِ خٰلٰتِكُمْ : اپنی خالاؤں کے گھروں : سے ] [ اَوْ مَا : یا جو ] [ مَلَكْتُمْ : تم مالک بنے ہو ] [ مَّفَاتِحَهٗٓ : اس کی چابیوں : کے ] [ اَوْ : یا ] [ صَدِيْقِكُمْ : اپنے دوست : کے گھر سے ] [ لَيْسَ : نہیں ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ جُنَاحٌ : کوئی گناہ ] [ اَنْ : کہ ] [ تَاْكُلُوا : تم سب کھاؤ ] [ جَمِيْعًا : اکٹھے ] [ اَوْ : یا ] [ اَشْـتَاتًا : الگ الگ ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ دَخَلْتُمْ : تم داخل ہوا کرو ] [ بُيُوْتًا : گھروں : میں ] [ فَسَلِّمُوْا : تو سب سلام کہو ] [ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ : اپنے نفسوں پر ] [ تَحِيَّةً : سلامتی کی دعا ] [ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ : اللہ کی طرف سے ] [ مُبٰرَكَةً : بابرکت ] [ طَيِّبَةً : پاکیزہ ] [ كَذٰلِكَ : اسی طرح ] [ يُبَيِّنُ : وہ کھول کر بیان کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لَكُمُ : تمہارے لیے ] [ الْاٰيٰتِ : آیات ] [ لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم ] [ تَعْقِلُوْنَ : تم سب سمجھ جاؤ ]

بامحاورە ترجمہ
” کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا یا لنگڑا یامریض اور نہ تم پر کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی چابیاں تمہارے پاس ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ، البتہ جب گھروں میں داخل ہواکرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، جو دعائے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی ہے، بڑی بابرکت اور پاکیزہ ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ “

فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی آداب اور مسائل کا ذکر جاری ہے۔
اسلامی آداب نازل ہونے سے پہلے عرب معاشرے میں یہ رواج تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے گھر بغیر اجازت کے آتے جاتے اور بلا تکلف کھاتے پیتے تھے۔ قرآن مجید میں جب معاشرتی آداب کے احکام نازل ہوئے تو لوگوں نے محسوس کیا کہ جس طرح ہمارا ایک دوسرے کے گھر بلا اجازت جانا جائز نہیں۔ اسی طرح ہم اپنے عزیزو اقرباء کے گھر سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔ اس خدشہ کو دور کرنے اور حقیقت حال کی وضاحت کے لیے یہ فرمان نازل ہوا کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اندھے، لنگڑے، مریض اور اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤ پیؤ۔ خاص کر اپنے والدین، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے چچاؤں، اپنی پھوپھیوں، اپنے ماموؤں، اپنی خالاؤں، اپنے دوستوں اور بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے چچاؤں اپنی پھوپھیوں، اپنے ماموؤں، اپنی خالاؤں، اپنے دوستوں اور جن گھروں کی چابیاں تمہارے پاس ہیں ان میں بیٹھ کر کھانے پینے سے تم پر کوئی پابندی نہیں۔ تمہیں اس بات کی بھی اجازت ہے کہ تم اکٹھے ہو کر کھاؤ یا الگ الگ بیٹھ کر کھاؤ۔ جب اپنے گھروں میں جاؤ تو سلام کیا کرو۔ یہ تمہارے رب کے ہاں بابرکت اور اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔
ان رشتہ داروں کے گھروں میں کھانے پینے کا یہ مطلب نہیں کہ جو عورتیں تمہارے لیے غیر محرم ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا شروع کر دو ۔ اس فرمان کا فقط یہ معنٰی ہے کہ جو محرم خواتین اور مرد اکٹھے ہو کر کھانا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں یہ وضاحت اس لیے کردی گئی کہ اس زمانے میں یہودی مل بیٹھ کر کھانے کو ناجائز سمجھتے تھے۔

مسائل
١۔ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا ضروری ہے۔
٢۔ گھروں میں داخل ہوتے ہوئے اہل خانہ کو سلام کہنا چاہیے۔
اللہ ہمیں قرآن پڑھنے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.سلسلہ فہم القرآن 16-07-2019سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 58,59,60بِسْمِ اللَّهِ الرّ...
16/07/2019

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.

سلسلہ فہم القرآن 16-07-2019
سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 58,59,60

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِيَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِيْنَ مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ۭ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَحِيْنَ تَضَعُوْنَ ثِيَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِيْرَةِ وَمِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَاۗءِ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ ۭ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ ۭ طَوّٰفُوْنَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭكَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ

لفظی ترجمہ
[يٰٓاَيُّهَا : اے ] [ الَّذِيْنَ : جو ] [ اٰمَنُوْا : سب ایمان لائے ] [ لِيَسْتَاْذِنْكُمُ : چاہیے کہ وہ اجازت کریں تم سے ] [ الَّذِيْنَ : جن کے ] [ مَلَكَتْ : مالک بنے ] [ اَيْمَانُكُمْ : تمہارے دائیں ہاتھ ] [ وَالَّذِيْنَ : اور جو ] [ لَمْ : نہیں ] [ يَبْلُغُوا : وہ سب پہنچے ہیں ] [ الْحُلُمَ : بلوغت : کو ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ ثَلٰثَ : تین ] [ مَرّٰتٍ : مرتبہ ] [ مِنْ قَبْلِ : پہلے ] [ صَلٰوةِ الْفَجْرِ : فجر کی نماز : سے ] [ وَ : اور ] [ حِيْنَ : جب ] [ تَضَعُوْنَ : تم سب اتار دیتے ہو ] [ ثِيَابَكُمْ : اپنے کپڑے ] [ مِّنَ الظَّهِيْرَةِ : دوپہر کو ] [ وَ : اور ] [ مِنْۢ بَعْدِ : بعد ] [ صَلٰوةِ الْعِشَاۗءِ : عشاء کی نماز : کے ] [ ثَلٰثُ : تین ] [ عَوْرٰتٍ : پردے : کے اوقات ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ لَيْسَ : نہیں ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ وَلَا : اور نہ ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ جُنَاحٌۢ : کوئی گناہ ] [ بَعْدَهُنَّ : ان کے بعد ] [ طَوّٰفُوْنَ : سب بکثرت پھرنے والے ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ بَعْضُكُمْ : تمہارے بعض ] [ عَلٰي بَعْضٍ : بعض پر ] [ كَذٰلِكَ : اسی طرح ] [ يُبَيِّنُ : وہ کھول کھول کر بیان کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لَكُمُ : تمہارے لیے ] [ الْاٰيٰتِ : آیات ] [ وَ : اور ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ عَلِيْمٌ : خوب جاننے والا ہے ] [ حَكِيْمٌ : حکمت والا ]

بامحاورە ترجمہ
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو لازم ہے کہ تمہارے غلام اور تمہارے بچے جو ابھی بلوغت کی حد کو نہیں پہنچے ہیں۔ تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیاکریں صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کو جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد۔ تین وقت تمہارے لیے پردے کے اوقات ہیں ان کے بعد بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کیونکہ تمہیں ایک دوسرے کے پاس باربار آنا ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنے ارشادات کی وضاحت کرتا ہے۔ اور سب کچھ جاننے اور حکمت والا ہے۔

وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْاكَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭكَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ

لفظی ترجمہ
[وَاِذَا : اور جب ] [ بَلَغَ : پہنچ جائیں ] [ الْاَطْفَالُ : بچے ] [ مِنْكُمُ : تم میں سے ] [ الْحُلُمَ : بلوغت : کو ] [ فَلْيَسْتَاْذِنُوْا : تو چاہیے کہ وہ سب اجازت مانگیں ] [ كَمَا : جس طرح ] [ اسْتَاْذَنَ : اجازت مانگی ] [ الَّذِيْنَ : : ان لوگوں نے ] [ جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے ] [ كَذٰلِكَ : اسی طرح ] [ يُبَيِّنُ : وہ کھول کھول کر بیان کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ اٰيٰتِهٖ : اپنی آیتیں ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلِيْمٌ : خوب جاننے والا ہے ] [ حَكِيْمٌ : حکمت والا ]

بامحاورە ترجمہ
اور جب تمہارے بچے بلوغت کی حد کو پہنچ جائیں۔ تو چاہیے کہ اسی طرح اجازت لے کر آیاکریں جس طرح ان کے بڑے اجازت لیتے ہیں۔ اس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ “

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۢ بِزِيْنَةٍ ۭوَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ

لفظی ترجمہ
[وَ الْقَوَاعِدُ : اور بیٹھ رہنے والیاں ] [ مِنَ النِّسَاۗءِ : عورتوں میں سے ] [ الّٰتِيْ : جو ] [ لَا يَرْجُوْنَ : نہیں وہ امید رکھتیں ] [ نِكَاحًا : نکاح : کی ] [ فَلَيْسَ : تو نہیں ] [ عَلَيْهِنَّ : ان پر ] [ جُنَاحٌ : کوئی گناہ ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّضَعْنَ : وہ اتار دیں ] [ ثِيَابَهُنَّ : اپنے : حجاب والے ] [ کپڑے ] [ غَيْرَ : نہ ] [ مُتَبَرِّجٰتٍۢ : ظاہر کرنے والیاں ] [ بِزِيْنَةٍ : بناؤ سنگھار کو ] [ وَ : اور ] [ اَنْ : یہ کہ ] [ يَّسْتَعْفِفْنَ : وہ عورتیں بچیں ] [ خَيْرٌ : بہتر ] [ لَهُنَّ : ان کے لیے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ سَمِيْعٌ : خوب سننے والا ہے ] [ عَلِيْمٌ : خوب جاننے والا ہے ]

بامحاورە ترجمہ
” اور جو عورتیں جوانی سے گزرجائیں اور بڑھاپے کی وجہ سے نکاح کے قابل نہ ہوں وہ اپنے ڈوبٹے اتار کر رکھ دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم وہ بھی حیاداری ہی اختیار کریں تو ان کے حق میں اچھا ہے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ “

فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز
مومنوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے غلام اور ان کے نابالغ بیٹے تین اوقات میں ان سے اجازت لے کر ان کی خلوت گاہوں میں داخل ہوا کریں کیونکہ یہ تین اوقات پردہ کے اوقات ہیں۔ تینوں اوقات کے علاوہ ان کے غلاموں اور نابالغ بچوں کا خلوت گاہ میں آنے پر کوئی گناہ نہیں۔ اس اجازت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے گھریلو کام کے لیے باربار خلوت گاہ میں آنا جانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اصول بیان کرتا ہے تاکہ تمہاری معاشرت برائی اور بےحیائی سے محفوظ رہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہر کام اور بات کو پوری طرح جانتا ہے اور اس کے ہر حکم میں حکمت اور دانائی ہوتی ہے۔ ہاں جب نابالغ بچے بلوغت کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اسی طرح اجازت لینے کے پابند ہیں جس طرح تمہارے بڑے لوگوں کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات بیان کرتا ہے اسے خوب معلوم ہے کہ کیا حکم دینا ہے اور کیا نہیں دینا ؟ کیونکہ وہ ہر کام اور بات کی حکمت جانتا ہے۔

جو عورتیں عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکی ہیں کہ جہاں پہنچ کر ان کے نسوائی جذبات ختم ہوچکے ہیں اور اب انہیں نکاح کی حاجت نہیں رہی۔ اگر وہ اپنا سر ننگا کرلیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ ان کا مقصد اپنی زیب وزینت ظاہر کرنا نہ ہو ہاں بہتر یہ ہے کہ وہ بھی اپنے سروں پر کپڑا رکھاکریں۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے اور جاننے والا ہے۔ زینت سے مراد گلے میں پہننے والا زیور، عورت کی چھاتی سر کے بال اور چہرہ ہے معمر عورت کا ان چیزوں کو ڈھانپنا اس لیے بھی بہتر ہے تاکہ اس کی بہو، بیٹیوں اور دوسری بچیوں پر اس کی سیرت و کردار کے اچھے نقوش مرتب ہو سکیں۔ اگر ایک بوڑھی عورت اپنی عمر کے برخلاف زیب وزینت اور جوانی جیسا لباس اختیار کرتی ہے تو ظاہر بات ہے کہ ناصرف اس کے احترام میں فرق واقع ہوگا بلکہ بہو، بیٹیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ بہت بہتر ہے کہ بوڑھی عورتیں بھی اپنی زینت غیر محرموں کے سامنے نمایاں کرنے سے گریز کریں۔

مسائل
١۔ صبح، دوپہر اور عشاء کے بعد غلاموں اور چھوٹے بچوں کو بھی اجازت لے کر دوسروں کے خلوت خانہ میں جانا چاہیے۔
٢۔ جب نابالغ بچے بالغ ہوجائیں تو انہیں بھی اپنے بڑوں کی طرح اجازت لے کر دوسروں کے گھر جانا چاہیے۔
٣۔ بوڑھی عورت کسی وجہ سے غیر محرم کے سامنے سر سے دوپٹہ اتار دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
٤۔ بوڑھی عورت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی زیب وزینت کو ظاہر نہ کرے۔

تفسیر بالقرآن
گھر میں داخل ہونے کے آداب۔
١۔ اے ایمان والو ایک دوسرے کے گھروں میں اجازت طلب کیے اور سلام کہے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ (النور : ٢٧)
٢۔ اہل خانہ کی عدم موجودگی میں کسی کے گھر میں داخل نہ ہوا جائے۔ (النور : ٢٨)
٣۔ اہل خانہ اگر اجازت نہ دیں تو واپس آجانا چاہیے۔ (النور : ٢٨)
٤۔ بےآباد گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہوا جاسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہاں جانا ناگزیر ہو۔ (النور : ٢٩)
اللہ ہمیں قرآن پڑھنے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.سلسلہ فہم القرآن 15-07-2019سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 55,56,57بِسْمِ اللَّهِ الرّ...
16/07/2019

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.

سلسلہ فہم القرآن 15-07-2019
سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 55,56,57

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ

لفظی ترجمہ
[وَعَدَ : وعدہ فرمایا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : سب ایمان لائے ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ وَعَمِلُوا : اور سب نے اعمال کیے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیک ] [ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ : بلا شبہ ضرور وہ جانشین بنائے گا انہیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ كَمَا : جس طرح ] [ اسْتَخْلَفَ : اس نے جانشین بنایا ] [ الَّذِيْنَ : جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے ] [ وَ : اور ] [ لَيُمَكِّنَنَّ : ضرور بالضرور وہ مضبوط کرے گا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ دِيْنَهُمُ : ان کا دین ] [ الَّذِي : جو ] [ ارْتَضٰى : اس نے پسند کیا ] [ لَهُمْ : ان کے لیے ] [ وَ : اور ] [ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ : بلاشبہ ضرور وہ بدل : کر ] [ دے گا انہیں ] [ مِنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ : ان کے خوف کے بعد ] [ اَمْنًا : امن ] [ يَعْبُدُوْنَنِيْ : وہ سب میری عبادت کریں گے ] [ لَا : نہیں ] [ يُشْرِكُوْنَ : وہ سب شریک بناتے ہیں ] [ بِيْ : میرے ساتھ ] [ شَـيْـــًٔـا : کسی چیز کو ] [ وَ : اور ] [ مَنْ : جو ] [ كَفَرَ : کفر کرے ] [ بَعْدَ ذٰلِكَ : اس : کے ] [ بعد ] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہی لوگ ] [ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : ہی سب نافرمان ہیں ]

بامحاورە ترجمہ
” اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ اللہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنا چکا ہے۔ ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند فرمایا ہے اور ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔ بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ فاسق ہیں۔

وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ

لفظی ترجمہ
[وَاَقِيْمُوا : اور تم سب قائم کرو ] [ الصَّلٰوةَ : نماز ] [ وَاٰتُوا : اور تم سب ادا کرو ] [ الزَّكٰوةَ : زکوۃ ] [ وَاَطِيْعُوا : اور تم سب اطاعت کرو ] [ الرَّسُوْلَ : رسول کی ] [ لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم ] [ تُرْحَمُوْنَ : سب پر رحم کیا جائے ]

بامحاورە ترجمہ
” نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو ، اور رسول کی اطاعت کرو۔ امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۚ وَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ ۭ وَلَبِئْسَ الْمَصِيْرُ

لفظی ترجمہ
[لَا : نہیں ] [ تَحْسَبَنَّ : تم ہرگز سمجھنا ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ كَفَرُوْا : سب نے کفر کیا ] [ مُعْجِزِيْنَ : سب عاجز کردینے والے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ وَ : اور ] [ مَاْوٰىهُمُ : ان کا ٹھکانا ] [ النَّارُ : آگ ] [ وَ : اور ] [ لَبِئْسَ : یقینا بہت برا ] [ الْمَصِيْرُ : ٹھکانا ]

بامحاورە ترجمہ
جو لوگ کفر کررہے ہیں ان کے بارے میں غلط فہمی میں نہ رہو کہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کردیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ “

فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والوں کے لیے سیاسی اقتدار کی ضمانت۔
اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان بندوں کو خوش خبری دی گئی کہ تم ہی کامیاب ہونے والے ہو۔ کامیابی سے مراد صرف آخرت کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی خلافت یعنی سیاسی اقتدار بھی اس میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پہلے بندوں کے ساتھ بھی تھا اور آئندہ آنے والے نیک لوگوں کے ساتھ بھی ہے۔ نہ صرف تابع فرمان لوگوں کو اقتدار عطا کیا جائے گا بلکہ جس دین کی وجہ سے ان کی مخالفت کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ دین کو عملی طور پر بھی نافذ کرے گا اور مسلمانوں کا خوف دور کرکے انہیں ہر اعتبار سے استحکام اور امن وامان عطا فرمائے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مسلمان بلا شرکت غیرے صرف اپنے رب کی غلامی اور بندگی کرنے والے ہوجائیں۔ جس نے اس فرمان اور وعدے کے باوجود کفرو شرک کا طریقہ اختیار کیا وہ نافرمان ہوں گے سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے لازم ہے کہ مسلمان ہر قسم کے شرک سے بچتے رہیں اور نماز قائم کرنے کے ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی کا نظام اپنائیں اور ہر حال میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اختیار کریں۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا جن پر ” اللہ “ کا کرم ہو انہیں بےبس اور عاجز کرنا کفار کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے جو رہنے کی بدترین جگہ ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو سیاسی اقتدار اور اپنے پسندیدہ دین کے عملی نفاذ کی یقین دھانی کرائی ہے کیونکہ دین کے بارے میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ کافر اور مشرک جس قدر چاہیں اس کی مخالفت کریں۔ اللہ اس دین کو غالب کر کے رہے گا کیونکہ وہ غالب رہنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ دین کے غلبہ سے پہلی مراد یہ ہے کہ یہ اپنی سچائی اور دلائل کے اعتبار سے تمام باطل ادیان پر غالب ہے اور غالب رہے گا۔ کہ دین اسلام کے کسی مسئلہ کو دلائل کی بنیاد پر غلط ثابت کرنا ناممکن ہے اس اعتبار سے دین ہمیشہ غالب رہے گا۔ جہاں تک مسلمانوں کے غلبہ کا معاملہ ہے وہ اس بات کے ساتھ مشروط ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دین نافذ کریں اور دشمن کے مقابلے میں پوری تیاری کے ساتھ متحد ہوجائیں تو انہیں دنیا میں خلافت و امامت کا منصب مل جائے گا۔ جس کی اس امت میں پہلی مثال صحابہ کرام (رض) اور ان کے بعد مسلمانوں کا طویل ترین سیاسی اقتدار ہے۔

(عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ یَقُولُ کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَجَاءَ ہُ رَجُلاَنِ أَحَدُہُمَا یَشْکُو الْعَیْلَۃَ وَالآخَرُ یَشْکُو قَطْعَ السَّبِیلِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَمَّا قَطْعُ السَّبِیلِ فَإِنَّہُ لاَ یَأْتِی عَلَیْکَ إِلاَّ قَلِیلٌ حَتَّی تَخْرُجَ الْعِیرُ إِلٰی مَکَّۃَ بِغَیْرِخَفِیرٍ وَأَمَّا الْعَیْلَۃُ فَإِنَّ السَّاعَۃَ لاَ تَقُومُ حَتَّی یَطُوفَ أَحَدُکُمْ بِصَدَقَتِہِ لاَ یَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہَا مِنْہُ ، ثُمَّ لَیَقِفَنَّ أَحَدُکُمْ بَیْنَ یَدَیِ اللَّہِ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ حِجَابٌ وَلاَ تُرْجُمَانٌ یُتَرْجِمُ لَہُ ، ثُمَّ لَیَقُولَنَّ لَہُ أَلَمْ أُوتِکَ مَالاً فَلَیَقُولَنَّ بَلَی ثُمَّ لَیَقُولَنَّ أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَیْکَ رَسُولاً فَلَیَقُولَنَّ بَلَی فَیَنْظُرُ عَنْ یَمِینِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ ، ثُمَّ یَنْظُرُ عَنْ شِمَالِہِ فَلاَ یَرَی إِلاَّ النَّارَ ، فَلْیَتَّقِیَنَّ أَحَدُکُمُ النَّا رَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ) [ رواہ البخاری : باب صدقۃ قبل الرد ]
” حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھا۔ آپ کی خدمت میں دو آدمی آئے ایک نے فقر و فاقہ کی شکایت کی اور دوسرے نے راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی شکایت کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہاں تک راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا تعلق ہے۔ بہت جلد ایسا دور آئے گا کہ ایک قافلہ مکہ سے کسی محافظ کے بغیر نکلے گا اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ رہافقر تو قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ایک شخص اپنا صدقہ لے کر نکلے گا لیکن کوئی لینے والا نہیں ہوگا۔ پھر اللہ کے سامنے ایک آدمی اس طرح کھڑا ہوگا اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ اور کوئی ترجمان نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا میں نے تجھے دنیا میں مال نہیں دیا تھا وہ کہے گا کیوں نہیں۔ اللہ فرمائے گا کیا میں نے تیرے پاس پیغمبر نہیں بھیجا تھا۔ وہ کہے گا کیوں نہیں، پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ جہنم سے بچ جاؤ خواہ ایک کھجور کے ٹکڑے سے ہی بچا جائے اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کہو۔ “

(عَنْ أَبِی سُکَیْنَۃَ رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِینَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَمَّا أَمَرَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ عَرَضَتْ لَہُمْ صَخْرَۃٌ حَالَتْ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْحَفْرِ فَقَامَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَأَخَذَ الْمِعْوَلَ وَوَضَعَ رِدَاءَ ہُ نَاحِیَۃَ الْخَنْدَقِ وَقَالَ (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) فَنَدَرَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ قَاءِمٌ یَنْظُرُ فَبَرَقَ مَعَ ضَرْبَۃِ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَرْقَۃٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِیَۃَ وَقَالَ (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) فَنَدَرَ الثُّلُثُ الآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَۃٌ فَرَآہَا سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَۃَ وَقَالَ (تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلاً لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) فَنَدَرَ الثُّلُثُ الْبَاقِی وَخَرَجَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَأَخَذَ رِدَاءَ ہُ وَجَلَسَ قَالَ سَلْمَانُ یَا رَسُول اللَّہِ رَأَیْتُکَ حینَ ضَرَبْتَ مَا تَضْرِبُ ضَرْبَۃً إِلاَّ کَانَتْ مَعَہَا بَرْقَۃٌ قَالَ لَہُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا سَلْمَانُ رَأَیْتَ ذَلِکَ فَقَالَ إِی وَالَّذِی بَعَثَکَ بالْحَقِّ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ فَإِنِّی حینَ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الأُولَی رُفِعَتْ لِی مَدَاءِنُ کِسْرَی وَمَا حَوْلَہَا وَمَدَاءِنُ کَثِیرَۃٌ حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ لَہُ مَنْ حَضَرَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ یَا رَسُول اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بلاَدَہُمْ فَدَعَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِذَلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الضَّرْبَۃَ الثَّانِیَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَاءِنُ قَیْصَرَ وَمَا حَوْلَہَا حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالُوا یَا رَسُول اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَفْتَحَہَا عَلَیْنَا وَیُغَنِّمَنَا دِیَارَہُمْ وَیُخَرِّبَ بِأَیْدِینَا بلاَدَہُمْ فَدَعَا رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِذَلِکَ ثُمَّ ضَرَبْتُ الثَّالِثَۃَ فَرُفِعَتْ لِی مَدَاءِنُ الْحَبَشَۃِ وَمَا حَوْلَہَا مِنَ الْقُرَی حَتَّی رَأَیْتُہَا بِعَیْنَیَّ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عِنْدَ ذَلِکَ دَعُوا الْحَبَشَۃَ مَا وَدَعُوکُمْ وَاتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوکُمْ ) [ رواہ الترمذی : باب غَزْوَۃِ التُّرْکِ وَالْحَبَشَۃ ]ِ
“ حضرت ابی سکینہ جو محرر قبیلہ کے ایک فرد تھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے خندق کھودنے کا حکم دیا کھدائی کے دوران ایک چٹان حائل ہوگئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہاتھ میں کدال لیے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی چادر مبارک خندق کے کنارے رکھی اور یہ کلمات پڑھتے ہوئے ضرب لگائی ” تیرے رب کے سچے اور اس کے ارشاد عدل پر مبنی کلمات پورے ہوئے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے “ چٹان کا تہائی حصہ ٹوٹ گیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ضرب لگاتے وقت سلمان فارسی اس سے چمک کو دیکھ رہے تھے آپ نے دوسری ضرب لگائی اور کہا ” تیرے رب کے سچائی اور عدل کے کلمات مکمل ہوئے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے “ چٹان کا دوسرا تہائی حصہ ٹوٹ گیا حضرت سلمان فارسی اس وقت بھی چمک کا منظر دیکھ رہے تھے۔ پھر آپ نے تیسری ضرب لگائی اور کہا ” تیرے رب کے سچائی اور عدل والے کلمات مکمل ہوگئے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے “ تو اسکا بقیہ تہائی حصہ ٹوٹ بھی گیا۔ سلمان (رض) فارسی اس وقت بھی پتھر سے نکلنے والی چمک کا منظر دیکھ رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی چادر مبارک پکڑ کر خندق سے باہر تشریف لے آئے اور بیٹھ گئے سلمان (رض) نے عرض کی اے اللہ کے رسول میں نے مشاہدہ کیا کہ آپ نے جب بھی چٹان پر ضرب لگائی تو اس سے چمک نمودار ہوئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے سلمان کیا تو نے اس منظر کو دیکھ لیا ہے اس نے کہا ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے آپ نے فرمایا جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو کسریٰ کے محلات، شہر اور اس کے ارد گرد کی بستیاں مجھے دکھلادی گئیں آپ کے پاس بیٹھے ہوئے صحابہ نے عرض کی۔ اللہ کے رسول دعا کیجئے کہ اللہ ہمیں ان پر فتح عطا فرمائے اور ہمیں ان کے گھروں کا مالک بنادے اور ان کے شہروں کو ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد کر دے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھلائے گئے صحابہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول دعا کریں کہ اللہ ان کا بھی ہمیں فاتح بنادے اور ان کے گھر ہمیں مال غنیمت کے طور پر عطا فرمادے اور ان کے شہروں کو ہمارے ہاتھوں تباہ و برباد کر دے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی آپ نے فرمایا جب میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اس کے گرد ونواح کے شہردکھلائے گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت فرمایا حبشہ اور ترک والوں کو چھوڑ دو جنہوں نے تمہیں چھوڑ دیا۔ “

بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب تم آرام سے بےخوف ہو کر مجمع عام میں بیٹھو گے اور تمہارے جسم پر کوئی ہتھیار نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر کے اس ارشاد کی تائید فرماتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی۔
” اللہ نے لکھ دیا ہے ضرور بالضرور میں اور میرا رسول غالب رہیں گے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔ (المجادلۃ : ٢١)
تاریخ کی ناقابل تردید شھادت ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو وعدہ فرمایا تھا وہ من وعن پورا ہوا۔

مسائل
١۔ اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں کے ساتھ وعدہ ہے کہ انہیں خلافت فی الارض کا منصب دے گا۔
٢۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام (رض) کو خلافت عنایت فرمائی اور ان کے بعد مسلمانوں کو مدت مدید تک سیاسی اقتدار عنایت فرمایا۔
٣۔ دین کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور کسی اعتبار سے اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔
٤۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا نظام اپنایا جائے۔
٥۔ جو لوگ ہر حال میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر شفقت اور مہربانی فرماتا ہے۔

تفسیر بالقرآن
اطاعت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فائدے :
١۔ رسول کی اطاعت کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بن جاتا ہے۔ ( النساء : ٨٠)
٢۔ اطاعت رسول سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ( آل عمران : ٣١)
٣۔ رسول کی اطاعت سے انسان اللہ کے اجر کا مستحق بن جاتا ہے۔ ( الفتح : ١٦)
٤۔ رسول کی اطاعت سے انسان کے عمل ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ ( الحجرات : ١٤)
٥۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہدایت کا منبع ہے۔ (النور : ٥٤)
٦۔ رسول کی اطاعت کا میابی کا ذریعہ ہے۔ ( النور : ٥٢)
٧۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے انعام یافتہ لوگ ہیں۔ ( النساء : ٦٩)
٨۔ جنت میں داخلے کا معیار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہے۔ ( الفتح : ١٧)
٩۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی رسول اللہ کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران : ١٣٢)
١٠۔ اطاعت میں کامیابی ہے۔ (الاحزاب : ٧١)
١١۔ جو اللہ کا رسول تمہیں دے اسے پکڑ لو اور جس سے منع کر دے اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ ( الحشر : ٧)
اللہ ہمیں قرآن پڑھنے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.سلسلہ فہم القرآن 14-07-2019سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 53,54بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْ...
16/07/2019

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.

سلسلہ فہم القرآن 14-07-2019
سورة النور ترجمہ تفسیر آیت نمبر 53,54

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ اَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ ۭ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ

لفظی ترجمہ
[وَ اَقْسَمُوْا : اور ان سب نے قسمیں کھائیں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کی ] [ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ : اپنی پختہ قسمیں ] [ لَىِٕنْ : بلاشبہ اگر ] [ اَمَرْتَهُمْ : آپ حکم دیں انہیں ] [ لَيَخْرُجُنَّ : بلاشبہ ضرور وہ نکلیں گے ] [ قُلْ : آپ کہہ دیں ] [ لَا تُقْسِمُوْا : مت تم سب قسمیں کھاؤ ] [ طَاعَةٌ : اطاعت ہے ] [ مَّعْرُوْفَةٌ : جانی پہچانی ] [ اِنَّ : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ تعالیٰ ] [ خَبِيْرٌۢ : خوب باخبر ہے ] [ بِمَا :" اس " سے جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم سب عمل کرتے ہو ]

بامحاورە ترجمہ
” اللہ کے نام سے پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں۔ ان سے کہو قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت معلوم ہے۔ تمہارے کرتوتوں سے اللہ بیخبر نہیں ہے۔

قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ۭ وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا ۭ وَمَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ

لفظی ترجمہ
[قُلْ : کہہ دیں ] [ اَطِيْعُوا : تم سب اطاعت کرو ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ وَ : اور ] [ اَطِيْعُوا : سب اطاعت کرو ] [ الرَّسُوْلَ : رسول کی ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ تَوَلَّوْا : تم سب پھر جاؤ ] [ فَاِنَّمَا : تو بیشک صرف ] [ عَلَيْهِ : اس پر ] [ مَا : جو ] [ حُمِّلَ : اس پر بوجھ ڈالا گیا ] [ وَ : اور ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ مَا : جو ] [ حُمِّلْتُمْ : تم پر بوجھ ڈالا گیا ] [ وَ : اور ] [ اِنْ : اگر ] [ تُطِيْعُوْهُ : تم سب اطاعت کرو گے اس کی ] [ تَهْتَدُوْا : تم سب ہدایت پاجاؤ گے ] [ وَ : اور ] [ مَا : نہیں ] [ عَلَي الرَّسُوْلِ : رسول پر ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْبَلٰغُ : پہنچا دینا ] [ الْمُبِيْنُ : صاف صاف ]

بامحاورە ترجمہ
انہیں فرمائیں کہ اللہ کے مطیع بنو اور اس کے رسول کے تابع فرمان بن کر رہو لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو سمجھ لو رسول پر جس فرض کا بوجھ ڈالا گیا ہے وہ اس کا ذمہ دا رہے اور تم پر جس فرض کا بارڈالا گیا ہے اس کے ذمہ دارتم ہو۔ اس کی اطاعت کروگے ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری حق بات صاف صاف پہچانا ہے۔ “

فہم القرآن
ربط کلام : مخلص مسلمانوں کے بعد ایک دفعہ پھر منافقین کا تذکرہ۔
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں منافقوں کی یہ بھی عادت تھی کہ جب مسلمانوں پر مشکل وقت گزر جاتا تو منافق اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر باتکرار قسمیں اٹھا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو یقین دلاتے کہ آئندہ کوئی مشکل وقت آیا تو ہم ہر صورت آپ کے ساتھ ہوں گے۔ اس پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ منافقین سے فرمائیں کہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت نہیں تم نیکی کے کاموں میں سمع و اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ جس نیت کے ساتھ کروگے اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔ ان سے یہ بھی فرمائیں کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہو اگر تم اس سے پھر جاؤ تو رسول کے ذمہ حق بات پہنچانا اور تمہارے ذمہ اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنا ہے اگر تم اس طرح کروگے تو ہدایت پاؤگے۔ یادرکھو رسول کے ذمہ لوگوں تک واضح طور پر حق پہنچانا ہے قرآن مجید میں یہ بات مختلف موقعوں اور الفاظ میں واضح کی گئی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام لوگوں تک اخلاص اور محنت کے ساتھ حق بات پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ سننے والوں کا فرض ہے کہ وہ اخلاص نیت کے ساتھ سنیں اور اپنی ہمت کے مطابق اس پر عمل کریں۔

(عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا اَضَآءَ تْ مَاحَوْلَھَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَھٰذِہِ الدَّوَآبُّ الَّتِیْ تَقَعُ فِی النَّارِ ےَقَعْنَ فِےْھَا وَجَعَلَ ےَحْجُزُھُنَّ وَےَغْلِبْنَہُ فَےَتَقَحَّمْنَ فِےْھَا فَاَنَا اَخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَاَنْتُمْ تَقَحَّمُوْنَ فِےْھَا ھٰذِہٖ رِوَاے َۃُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُھَا وَقَالَ فِیْ اٰخِرِھَا قَالَ فَذَالِکَ مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ اَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ ھَلُمَّ عَنِ النَّارِ ھَلُمََّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُوْنِیْ تَقَحَّمُوْنَ فِےْھَا۔ ) [ رواہ البخاری : باب الاِنْتِہَاءِ عَنِ الْمَعَاصِی ]
” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری مثال آگ روشن کرنے والے شخص کی طرح ہے جب اس کا اردگرد روشن ہوگیا۔ تو آگ پر فریفتہ ہونے والے کیڑے پتنگے آکر اس میں گرنے لگے۔ آگ جلانے والے نے انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن وہ اس سے بےقابو ہو کر گرتے رہے۔ بس میں بھی تم کو آگ سے بچانے کے لئے تمہیں پیچھے سے پکڑتا ہوں لیکن تم ہو کہ اس میں گر رہے ہو۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں اور مسلم میں بھی اسی طرح ہے اس کے آخر میں ہے کہ میری اور تمہاری مثال ایسے ہے کہ میں تمہیں پیچھے سے پکڑ کر آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں ! میری طرف آؤ اور آگ سے بچو ‘ لوگو ! آگ کی بجائے میری طرف آؤ۔ لیکن تم مجھ سے بےقابو ہو کر آگ میں گرے جارہے ہو۔ “

مسائل
١۔ منافق قسمیں اٹھا اٹھا کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کو اپنی سمع و اطاعت کا یقین دلاتے تھے۔
٢۔ مسلمان کو اخلاص اور پوری ہمت کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا چاہیے۔
٣۔ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کا فرمان مان لیں تو ہدایت یافتہ ہوجائیں۔

تفسیر بالقرآن
سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی منصبی ذمہ داریوں میں ایک اہم ذمہ داری :
١۔ نبوت کے منصبی فرائض۔ (البقرۃ : ١٥١)
٢۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (الجمعۃ : ٢)
٣۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں میں ان فرائض کا تذکرہ۔ (البقرۃ : ١٢٩)
٤۔ نبوت اللہ تعالیٰ کا مومنوں پر احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : ١٦٤)
٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے بوجھ اتارنے اور غلامی سے چھڑانے کیلئے تشریف لائے۔ (الاعراف : ١٥٧)
٦۔ آپ لوگوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے (الاحزاب : ٤٥)
اللہ ہمیں قرآن پڑھنے اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Real concept of Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share