10/04/2017
۔۔۔ حال ۔۔۔ اعجازالحق
انسان جو نفع نقصان کا تصور رکھتا ہے۔ ماضی و مستقبل میں الجھا رہے گا۔ ویسے بھی ہر طرح کے مزاج ہوتے ہیں، کوئی ماضی کو دیکھتا ہے، تو کوئی مستقبل۔ کس کو شعور ہے کہ زندگی صرف ایک لمحہ ہے۔ ہم ہر لمحہ میں پیدا ہو کر مر جاتے ہیں۔ ہر لمحہ ہر دوسرے لمحے سے متصل ہوتا ہے، مربوط ہوتا ہے۔ اس لیے ایک لمحے میں موت ہوتی ہے تو اگلے لمحے میں جنم ہوتا ہے۔ یوں یہ ساٹھ سالہ زندگی بسر ہوتی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک لاکھوں کروڑوں انسانوں میں سے کسی ایک کو ہوتا ہے۔ باقی سارے برتھ ڈے مناتے رہتے ہیں۔ اس لیے فکر مند رہتے ہیں۔ فکر مند پھر کبھی ماضی میں کھو جاتا ہے تو کبھی مستقبل کے سہانے خوابوں میں۔ کبھی ماضی و مستقبل کے اندیشوں سے دوچار رہتا ہے۔ جو اللہ پر توکل کرنے والے ہوں انہیں نہ ماضی کی فکر ہوتی ہے، نہ ہی کسی مستقبل کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے میرے شیخ محترم نصیحت فرمایا کرتے تھے،
جس کا حال خوشگوار ہے، اس کا ماضی بھی محفوظ ہے اور مستقبل بھی!
حال کو خوشگوار بناؤ، ماضی و مستقبل خود بخود خوشگوار ہو جاتے ہیں۔ حال خوشگوار ہوتا ہے حال پر خوش رہ کر! کم خواہش والا بھی خوش رہ سکتا ہے۔ خواہش کرنے والا خواہش تو کرے، خواہش کی تکمیل کے لیے کوشش بھی کرے، کوشش میں کمی بیشی رہ جائے تو دعا بھی کرے۔ لیکن دعا کے بعد دعا کے نتیجے پر ضد نہ کرے۔ نتیجہ پھر قبول کرے! نتیجہ جب دل سے قبول کرے گا تو سکون میں رہے گا۔ بندہ پُرسکون ہو گیا تو حال خوشگوار ہو گیا۔ ناکامیوں کو قبول کر لینے والے کا حال خوشگوار ہوتا ہے۔
فی الحال ہم عام انسانوں کی بات کر رہے ہیں۔ اس لیے ان کی سطح پر رہتے ہوئے بات کر رہے ہیں ۔ یہ جو راضی بہ رضا رہنے والی بات ہے ۔ یہ ہمارے زمانے میں خاص لوگ ہی کر سکتے ہیں، ہر کسی کے بس میں نہیں ہے یہ بات۔ یہ شعبہ اللہ والوں کا ہے ۔ اللہ کی مشیت کو سمجھ کر اس پر راضی ہونا ہوتا ہے۔ بڑےشعور کے ساتھ راضی ہونا ہوتا ہے۔ایک خاص سطح شعور کی بات ہے، توکل کی بات ہے، ایک خاص حالت کی بات ہے۔ وہ جو راضی بہ رضا ہوتے ہیں، پھر ان کا اپنا منشور کوئی نہیں ہوتا۔ پھر وہ خود اللہ کی مشیت ہو جاتے ہیں! اللہ کا منشور ہوتے ہیں ایسے لوگ اس لیے انہیں نہ ماضی کا کوئی سوال ہوتا ہے اور نہ ہی مستقبل کا ۔۔ ان کی یہ زندگی بھی محفوظ ہوتی ہے اور مابعد کی بھی! اور اس ’’محفوظ‘‘ میں دار پر جھول جانا شامل ہے! وہ پھر سوئے مقتل خود چل کر جاتے ہیں۔ وہ شہادت کے بعد کے مقام کے لیے سجدہ شکر پہلے کرتے ہیں۔