25/05/2026
محکمہ داخلہ پنجاب کے زیر اہتمام سینٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کے پلیٹ فارم سے علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ کانفرنس میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا جواد احمد ڈوگر، چیئرمین نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی ڈاکٹر خورشید ندیم، وائس چانسلر نارووال یونیورسٹی ڈاکٹر محمد ضیاء الحق، ڈاکٹر طہٰ قریشی سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام،
اپنے خطاب میں سیکرٹری اوقاف نے کہا کہ موجودہ دور میں فکری انتشار، نفرت انگیز رویوں، عدم برداشت، مذہبی انتہا پسندی اور سماجی تقسیم جیسے چیلنجز معاشروں کے لیے سنگین خطرات بن چکے ہیں، ایسے میں علماء و مشائخ کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی، جمہوری اور کثیرالثقافتی ریاست ہے جہاں مختلف مذاہب، مسالک، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں، لہٰذا قومی یکجہتی، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نفرت انگیز بیانیہ معاشرتی امن اور استحکام کے لیے زہرِ قاتل ہے جبکہ سوشل میڈیا، جھوٹی معلومات اور اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے نوجوان نسل کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے، جس کا مقابلہ مثبت بیانیے، تعلیم، اخلاقی تربیت اور اجتماعی شعور کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
کانفرنس سے مولانا عبدالخبیر آزاد، علامہ ڈاکٹر ضیاء اللہ بخاری، علامہ ڈاکٹر میر آصف قادری، علامہ رائے ظفر علی، بشپ ندیم کامران، سردار ڈاکٹر کلیان سنگھ، پنڈت بھگت لال اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور امن، بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔