02/07/2026
جب زمین کے دروازے بند ہوں، تو رب کا آسمان پکارتا ہے
زندگی کا سفر کبھی بھی ہموار نہیں رہا۔ ہم سب اس راستے پر چلتے ہیں جہاں خاردار جھاڑیاں، پتھریلی زمین اور اچانک آنے والے طوفان ہمارا امتحان لیتے ہیں۔
میں نے زندگی کے وہ کٹھن موڑ دیکھے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ بھی نظر نہیں آتا تھا شدید پریشانیوں کے عالم میں جب تنہائی کا احساس شدت اختیار کر لیتا ہے، تب انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ دنیاوی معاملات کتنے نازک ہیں۔ لیکن مشکل صرف حالات کا نام نہیں، بلکہ ان لوگوں کا رویہ بھی ہے جو ہمیں گرتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب اپنی شناخت، اپنی محنت اور اپنے اخلاص کے باوجود مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب آپ آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو غیر تو خیر غیر ہیں، اپنے بھی اکثر پیروں میں بیڑیاں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سازشوں کے وہ جال جو خاموشی سے بنے جاتے ہیں، انسان کو اندر سے توڑنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ لیکن کیا یہی زندگی کا اختتام ہے؟ نہیں، بالکل نہیں۔
جب میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ مشکل وقت دیکھا، تب مجھے سمجھ آیا کہ زمین کے دروازے اگر بند ہوئے ہیں تو اس لیے نہیں کہ میری قسمت ختم ہو گئی ہے، بلکہ اس لیے کہ مجھے کسی بہتر راستے کی طرف موڑا جا رہا ہے۔
انسان جب سازشوں میں گھر کر مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبنے لگتا ہے، تو اسے یہ بھولنا نہیں جانا چاہیے کہ کائنات کا مالک سو رہا ہے اور نہ ہی غافل ہے۔ جب بندہ عاجز آ کر سجدے میں گرتا ہے اور رب سے رجوع کرتا ہے، تو اللہ پاک اپنے فضل کے وہ دروازے کھول دیتا ہے جن کا تصور انسانی عقل اور تدبیر سے کہیں بالاتر ہوتا ہے
آج میں ان تمام لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں جو مشکلات میں گھرے ہیں، جنہیں اپنوں نے تنہا چھوڑ دیا ہے اور جن کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں
اپنی ہمت نہ ہاریں دنیا کے بند دروازے آپ کی شکست کا اعلان نہیں، بلکہ یہ رب کی طرف سے آنے والی رحمتوں کی دستک ہیں
یقین رکھیے جس طرح رات کے تاریک ترین پہر کے بعد ہی فجر کا اجالا نمودار ہوتا ہے، آپ کی زندگی کے بند دروازے بھی بہت جلد اللہ کے فضل سے کھلنے والے ہیں بس اپنے توکل کو مضبوط رکھیے، کیونکہ جب زمین کے راستے بند ہوتے ہیں، تو آسمان کے دروازے کشادہ ہو جاتے ہیں
✍️