03/10/2023
مرزا دبیرؒ
فردوسِ بریِں گُلشنِ رُخسار ہے کس کا
خورشیدِ مبیں خالِ ضیا بار ہے کس کا
عیسیٰؑ جسے کہتے ہیں وہ بیمار ہے کس کا
داماد وصی حیدرِؑ کرّار ہے کس کا
حیدرؑ کا برادر ہے وہ زہرا کا (س) پدر ہے
محبوبِ خدا، شاہِ رُسلؐ، خیرِ بشر ہے
نہ روز نہ شب اور نہ خورشید و قمر تھے
نہ حور و ملائک تھے نہ جن تھے نہ بشر تھے
نہ کوہ نہ دریا نہ بیاباں نہ شجر تھے
لوح و قلم و عرش و فَلک کے نہ اثر تھے
واللّلہ کہ کچھ بھی نہ تھا اور تھا بھی تو کیا تھا
بس ایک خدا دوسرا محبوبِؐ خدا تھا
دو مِیم جو اک نامِ محمّدؐ میں ہیں باہم
اک میم موخّر ہے اور اک میم مقدّم
اوّل یہؐ ملائک سے ہیں اور آخرِ آدم
آغاز اور انجام سے ہے زیبِ دو عالَم
بعد آئے ہیں پر سب سے نخُست آئے ہیں مولاؐ
دیر آئیں نہ کیونکر کہ درُست آئے ہیں مولاؐ
لیکن یہ احادیث میں صادقؑ سے ہے تحریر
کی خلق جو اللّلہ نے روحِ شہِؐ تطہیر
منظور خدا کو ہوئی افزائشِ توقیر
مستغرقِ روح اُس نے کیا تب عسَل و شِیر
فرمایا کہ تُو کون ہے رُتبہ میرا کیا ہے
اُسؐ نے کہا میں بندہ ہوں تُو میرا خدا ہے
ناگہ ہوئی برخاستہ روحِ شہِؐ خوش ذات
اور قطرہ فِشانی کے عجب معجزے کے سات
تھے چار ہزار اور صَد و بست وہ قطرات
قدرت پئے ہر قطرہ تھی پھیلائے ہوئے ہات
نِیساں جو کبھی برسا تو گوہر ہوا پیدا
ہر قطرے سے یاں ایک پیمبر ہوا پیدا
جاتے تھے جہاں فَرق پہ تھا ابر کا سایا
سایا تھا مگر جسمِ مبارک نے نہ پایا
ملبوسِ بقا حق نے جب اسؐ قد کو پنھایا
سائے کو پئے چشمِ جہاں سُرمہ بنایا
بالذّات کسی چشم میں بینائی کہاں ہے
سایہ وہی نورِ نظرِ چشمِ جہاں ہے
یا حق کا جو عاشق تھا وہؐ اللّلہ کا پیارا
اُس عشق میں تھا شِرک نہ سائے کا گوارا
یا خلوتِ اللّلہ و نبی کر کے نظارا
خود فرطِ ادب سے کیا سائے نے کنارا
افلاک کے سائے میں تو سب اہلِ زمیں ہیں
اور سایۂ خیر الاُممؐ افلاکِ بریں ہیں
کیا سائے کے گُم ہونے کا مضمون مِلا واہ
گو ساکنِ افلاک میں کوئی نہیں گمراہ
پر مثلِ پیمبرؐ تو نہیں عارفِ اللّلہ
واں سائے کو چھوڑا کہ وہ اُن کو کرے آگاہ
واجب تھی دوعالَم کی ہدایت شہِؐ دِیں پر
سایا تو فلک پر رہا آپؐ آئے زمیں پر
از مرثیہ: فردوسِ بریِں گُلشنِ رُخسار ہے کس کا
میلاد پُر خیر و برکت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و امام جعفر صادق علیہ السلام سبھی مومنین کو مبارک ہو