05/03/2025
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
ایک روز میں باہر نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا ، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ آنحضرت ﷺ اسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے ۔ اس لیے میں چاند کے سائے میں آنحضرت ﷺ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ اس کے بعد آپ مڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : ابوذر ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ، ابوذر ! یہاں آؤ ۔ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جو لوگ ( دنیا میں ) زیادہ مال و دولت جمع کئے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے ۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور انہوں نے اسے دائیں بائیں ، آگے پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو ۔ ( ابوذر رضی اللہ عنہ نے ) بیان کیا کہ پھر تھوڑی دیر تک میں آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہاں بیٹھ جاؤ ۔ آنحضرت ﷺ نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا کہ یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ کے آؤں ۔ پھر آپ پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ آپ وہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے ۔ پھر میں نے آپ سے سنا ، آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے ” چاہے چوری ہو ، چاہے زنا کیا ہو “ ابوذر کہتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے ۔ اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے ۔ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ’’ یہ جبریل علیہ السلام تھے ۔ پتھریلی زمین ( حرہ ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوشخبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔ میں نے عرض کیا : اے جبریل ! خواہ اس نے چوری کی ہو اور زنا کیا ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ میں نے پھر عرض کیا ، خواہ اس نے چوری کی ہو ، زنا کیا ہو ؟ جبریل علیہ السلام نے کہا ہاں ، خواہ اس نے شراب ہی پی ہو ۔‘‘
صحیح البخاری حدیث نمبر 6443