Tajzia Hafiz Qasim

Tajzia Hafiz Qasim Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tajzia Hafiz Qasim, Religious Center, Lahore.

رات گہری ہو چکی تھی۔مصر کے ایک خاموش گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں دو لوگ بیٹھے تھے۔ ایک استاد… اور دوسرا شاگرد سامنے قرآن ک...
29/05/2026

رات گہری ہو چکی تھی۔

مصر کے ایک خاموش گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں دو لوگ بیٹھے تھے۔ ایک استاد… اور دوسرا شاگرد
سامنے قرآن کھلا ہوا تھا۔
اور ایک آیت نے دونوں کو خاموش کر رکھا تھا۔

﴿ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ﴾

ترجمہ:
“اور وہی ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے، اور وہی حکمت والا، علم والا ہے۔”

مسئلہ صرف ایک لفظ تھا… “إِلَٰهٌ”۔

عربی نحو کا مشہور قاعدہ یہ کہتا ہے کہ جب نکرہ اسم دو مرتبہ دہرایا جائے تو دونوں کا مفہوم الگ ہوتا ہے۔
اگر کوئی کہے: “میں نے گھر میں ایک آدمی دیکھا اور بازار میں ایک آدمی دیکھا” تو دونوں آدمی الگ سمجھے جائیں گے۔

یہی قاعدہ اُس رات شیخ شعراویؒ کے ذہن میں بجلی کی طرح کوند رہا تھا۔

آیت میں بھی “إِلَٰهٌ” دو مرتبہ آیا تھا۔
ایک بار آسمان کے لیے۔
ایک بار زمین کے لیے۔

چند لمحوں کے لیے اُن کے دل پر عجیب خوف طاری ہوا۔
کیا نحوی قاعدے کے مطابق یہاں دو معبودوں کا تصور نکلتا ہے؟
معاذ اللہ۔

وہ فوراً لرز اٹھے۔
استغفار کیا۔
اور اسی بے چینی میں اپنے استاد کے پاس جا پہنچے۔

استاد اُس وقت گاؤں میں تھے۔ عصر کا وقت قریب تھا۔ دونوں مسجد کی طرف نکل گئے۔ نماز ادا کی۔ پھر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر آیت پر گفتگو شروع ہوئی۔

ایک عالم۔
اور دوسرا مستقبل کا امام التفسیر۔
مگر دونوں خاموش تھے۔

جواب سامنے نہیں آ رہا تھا۔
عشا ہو گئی۔

مسجد میں عجیب سکوت تھا۔
باہر مٹی کا راستہ… دور کھجوروں کے درخت… اور اندر قرآن کی ایک آیت نے دو ذہین دماغوں کو روک رکھا تھا۔

اسی لمحے مسجد کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔

سادہ لباس میں ایک دیہاتی اندر داخل ہوا۔
چہرے پر عام سا تاثر۔
مگر آنکھوں میں عجیب سکون۔

اس نے سلام کیا… پھر بغیر کسی تمہید کے بولا:

“کیا آپ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کر رہے ہیں؟

﴿ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ ﴾”

شیخ شعراویؒ اور اُن کے استاد ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

اُس شخص نے بات جاری رکھی:

“آپ لوگ اسمِ موصول کو بھول گئے۔”

پھر اُس نے لفظ “الَّذِي” کی طرف اشارہ کیا۔

اور کہا:

“عربی کا قاعدہ یہ بھی تو ہے کہ اسمِ موصول نکرہ کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ یہاں ‘إِلَٰهٌ’ الگ الگ نہیں رہے… بلکہ ‘الَّذِي’ نے دونوں کو ایک ہی ذات کی طرف لوٹا دیا۔”

مسجد میں خاموشی چھا گئی۔

گویا ایک بند دروازہ اچانک کھل گیا ہو۔

پھر وہ اجنبی شخص آیت کی بلاغت، نحوی ساخت اور قرآنی حکمت پر گفتگو کرتا رہا۔ ایسے جیسے برسوں سے یہی مضمون پڑھا رہا ہو۔

شیخ شعراویؒ بعد میں کہا کرتے تھے کہ اُس لمحے انہیں محسوس ہوا جیسے قرآن اپنے دفاع کے لیے خود بول اٹھا ہو۔

چند لمحوں بعد وہ شخص خاموشی سے اٹھا… اور مسجد سے باہر نکل گیا۔

شیخ شعراویؒ بھی فوراً اُس کے پیچھے نکلے۔

مگر باہر کوئی نہیں تھا۔

دروازے کے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا گیا:

“وہ شخص کہاں گیا جو ابھی مسجد سے نکلا ہے؟”

لوگ حیران ہو گئے۔

انہوں نے کہا:

“یہاں تو آپ دونوں کے علاوہ کوئی اندر آیا ہی نہیں…”

وہ رات گزر گئی۔
مگر وہ آیت… وہ لمحہ… اور وہ اجنبی شخص… شیخ شعراویؒ کی زندگی کے اُن واقعات میں شامل ہو گیا جسے وہ اللہ کی نصرت کی ایک جھلک سمجھتے تھے۔

شاید اسی لیے قرآن صرف پڑھا نہیں جاتا…
کبھی کبھی وہ انسان کو اُس کی اپنی حد بھی دکھا دیتا ہے۔

منقول

─────••●◎●••─────

کبھی کبھی تاریخ کی گرد میں دبے ہوئے کچھ ایسے کردار ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ طاقت انسان کو کہاں سے...
29/05/2026

کبھی کبھی تاریخ کی گرد میں دبے ہوئے کچھ ایسے کردار ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ طاقت انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہے۔

انسان جب اپنے آپ کو بے حساب طاقتور سمجھنے لگے، جب اسے لگنے لگے کہ اب اس سے اوپر کوئی نہیں، جب اس کے حکم کے بغیر سورج بھی نہ نکلے اور اس کی مرضی کے بغیر کوئی سانس بھی نہ لے سکے… تو پھر وہی انسان اپنے آپ کو “خدا” سمجھنے لگتا ہے۔

فرعون بھی ایسے ہی لوگ تھے۔

آج ہم ان کے نام کتابوں میں پڑھتے ہیں، میوزیم میں ان کی لاشیں دیکھتے ہیں، ان کے محلات اور اہرام کو حیرت سے دیکھتے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا تھا جب یہی لوگ زمین پر اپنی خدائی کے دعوے کرتے تھے۔
لوگ ان کے سامنے جھکتے تھے، ان کی عبادت کرتے تھے، ان کے نام سے کانپتے تھے، اور ان کی ناراضی کو موت سمجھتے تھے۔

فرعون صرف بادشاہ نہیں تھے…
وہ ایک مکمل نظام تھے۔
ایسا نظام جس میں طاقت ہی سب کچھ تھی، اور انسان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔

ان کے درباروں میں داخل ہونا عام آدمی کے لیے خواب تھا۔
ان کے محل سونے، چاندی اور قیمتی پتھروں سے سجے ہوتے تھے۔
ان کے اردگرد سینکڑوں غلام کھڑے رہتے تھے۔
ہر غلام کا ایک الگ کام ہوتا تھا۔
کوئی پنکھا جھلنے کے لیے، کوئی لباس سنبھالنے کے لیے، کوئی جوتے پہنانے کے لیے، کوئی خوشبو لگانے کے لیے، اور کوئی صرف اس لیے کہ اگر فرعون کو پیاس لگے تو فوراً پانی پیش کر سکے۔

فرعونوں کا کھانا بھی عام انسانوں جیسا نہیں ہوتا تھا۔
اس کے لیے خاص شاہی باورچی مقرر ہوتے تھے۔
پجاری اس عمل کی نگرانی کرتے تھے۔
کھانا کئی مراحل سے گزرتا تھا۔
پہلے اسے تیار کیا جاتا، پھر چکھا جاتا تاکہ کہیں زہر نہ ہو، پھر مخصوص برتنوں میں رکھا جاتا، اور آخرکار انتہائی احتیاط کے ساتھ فرعون کے سامنے پیش کیا جاتا۔

انہیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھانا بھی اپنی شان کے خلاف لگتا تھا۔
کیونکہ وہ خود کو انسان نہیں بلکہ خدا سمجھتے تھے۔
اس لیے غلام انہیں کھانا کھلاتے تھے، ان کے ہاتھ دھلواتے تھے، منہ صاف کرتے تھے، اور ان کی خدمت میں ہر وقت جھکے رہتے تھے۔

سوچیں…
ایک طرف وہ شخص جو خود کو خدا کہتا تھا، اور دوسری طرف وہ غلام جو انسان ہوتے ہوئے بھی جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے تھے۔

روایات میں ذکر ملتا ہے کہ اگر فرعون کے آس پاس مکھیاں یا کیڑے مکوڑوں کے آنے کا خدشہ ہوتا تو غلاموں کے جسم پر شہد لگا دیا جاتا تاکہ مکھیاں ان کی طرف چلی جائیں۔
بعض غلام گھنٹوں بلکہ پوری پوری رات ایک ہی جگہ کھڑے رہتے تھے۔

اور انہیں حرکت کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

اگر کوئی غلام تھکن سے ہل جاتا، یا جسم کھجانے کی کوشش کرتا، تو اسے سخت سزا دی جاتی۔
یعنی وہ اپنے جسم پر رینگتے ہوئے کیڑے بھی برداشت کرتے رہتے مگر حرکت نہیں کر سکتے تھے۔

یہ طاقت کا وہ نشہ تھا جہاں انسان دوسرے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔

فرعونوں کی ایک عجیب بات یہ بھی تھی کہ وہ موت سے بہت ڈرتے تھے۔
حالانکہ وہ خود کو خدا کہتے تھے، مگر پھر بھی موت ان کے دلوں میں خوف بن کر موجود رہتی تھی۔

اسی خوف نے انہیں “ہمیشہ زندہ رہنے” کے خواب میں مبتلا کر دیا۔

وہ اپنی زندگی میں ہی مرنے کے بعد کی تیاری شروع کر دیتے تھے۔
بڑے بڑے مقبرے بنائے جاتے۔
اہرام تعمیر کیے جاتے۔
زمین کے نیچے خفیہ کمرے بنائے جاتے تاکہ ان کا خزانہ محفوظ رہے۔

جب کوئی فرعون مرتا تو اس کے جسم کو خاص طریقے سے محفوظ کیا جاتا، جسے آج ہم “ممی” کہتے ہیں۔
ان کے جسموں سے اندرونی اعضا نکالے جاتے، خاص نمک اور کیمیکل لگائے جاتے، پھر کپڑوں میں لپیٹ کر سینکڑوں سال تک محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی۔

کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ روح دوبارہ جسم میں واپس آئے گی، اور اگر جسم خراب ہو گیا تو اگلی زندگی بھی ختم ہو جائے گی۔

کتنی عجیب بات ہے…

جو لوگ خود کو خدا کہتے تھے، وہ اپنے مردہ جسم کو مٹی سے بچانے کے لیے اتنے پریشان تھے۔
حالانکہ اصل خدا وہ ہے جسے نہ موت آتی ہے، نہ نیند، نہ کمزوری۔

کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ فرعون کے مرنے پر اس کے خاص غلاموں اور خادموں کو بھی اس کے ساتھ دفن کر دیا جاتا تاکہ وہ اگلی زندگی میں بھی اس کی خدمت کرتے رہیں۔
ان کے ساتھ سونا، ہیرے، زیورات، قیمتی لباس، کھانا، مشروبات، یہاں تک کہ روزمرہ استعمال کی چیزیں بھی دفن کی جاتیں۔

انہیں یقین تھا کہ مرنے کے بعد بھی وہ بادشاہ ہی رہیں گے۔

فرعونوں نے اپنی جھوٹی خدائی کو قائم رکھنے کے لیے ایک اور عجیب راستہ اختیار کیا۔
وہ خاندان کے باہر شادیاں کرنے سے گریز کرتے تھے۔
انہیں لگتا تھا کہ ان کا خون مقدس ہے، اور اگر کسی عام خاندان سے رشتہ ہوا تو ان کی “الٰہی نسل” خراب ہو جائے گی۔

اسی لیے انہوں نے اپنے خاندانوں میں شادیاں شروع کر دیں۔
کئی فرعونوں نے اپنی بہنوں سے شادیاں کیں۔
کئی نے قریبی رشتہ داروں سے تعلقات قائم رکھے۔

اور پھر آہستہ آہستہ جینیاتی بیماریاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔

مشہور فرعون “توتنخامن” اس کی ایک مثال ہے۔
ماہرین کے مطابق وہ جسمانی کمزوریوں اور بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔
اس کے چلنے میں مشکلات تھیں، اسی لیے اس کے مقبرے سے بے شمار لاٹھیاں ملی تھیں۔

وہ صرف 9 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور 19 سال کی عمر میں مر گیا۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج دنیا اسے اس کی حکومت کی وجہ سے نہیں جانتی، بلکہ اس کے مقبرے کی وجہ سے جانتی ہے۔

جب اس کا مقبرہ دریافت ہوا تو دنیا حیران رہ گئی۔
سونے کے تابوت، قیمتی زیورات، شاہی ماسک، نایاب خزانے، اور بے شمار قیمتی چیزیں اس کے ساتھ دفن تھیں۔

وہ شاید سمجھتا تھا کہ یہ سب چیزیں مرنے کے بعد بھی اس کے کام آئیں گی۔

مگر آج…

وہ خود ایک شیشے کے ڈبے میں پڑا ہے، اور دنیا اس کی لاش دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدتی ہے۔

جس شخص کے سامنے لوگ نظریں جھکا کر کھڑے ہوتے تھے، آج اس کی لاش کو لوگ موبائل کیمرے سے تصویریں بنا کر دیکھتے ہیں۔

یہی دنیا کی حقیقت ہے۔

فرعونوں کے جانوروں کو بھی عام لوگوں سے زیادہ عزت دی جاتی تھی۔
خاص طور پر بلیوں کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔
ان کے لیے الگ کھانے، الگ دیکھ بھال، اور مرنے کے بعد خاص تدفین تک کا انتظام کیا جاتا تھا۔

بعض جانوروں کو سونے کے تابوتوں میں دفن کیا گیا۔

یعنی ایک وقت ایسا تھا کہ انسان بھوکا مر رہا تھا، مگر جانور شاہی زندگی گزار رہے تھے۔

طاقت جب حد سے بڑھ جائے تو انصاف مر جاتا ہے۔

فرعون سمجھتے تھے کہ ان کی حکومت ہمیشہ رہے گی۔
انہیں لگتا تھا کہ ان کے محلات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔
ان کا خزانہ کبھی کم نہیں ہوگا۔
ان کے نام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

لیکن آج…

نہ ان کی سلطنت باقی ہے، نہ ان کی خدائی، نہ ان کا غرور۔

رہ گئی ہیں تو صرف ٹوٹی ہوئی دیواریں، مٹتے ہوئے آثار، اور عجائب گھروں میں رکھی ہوئی لاشیں۔

قرآن نے کتنی سچی بات کہی:

“پس آج ہم تیرے جسم کو محفوظ رکھیں گے تاکہ تو بعد والوں کے لیے نشانی بن جائے۔”

واقعی فرعون آج نشانی ہے۔
طاقت کے غرور کی نشانی۔
تکبر کے انجام کی نشانی۔
اور اس حقیقت کی نشانی کہ انسان چاہے کتنا بڑا کیوں نہ ہو جائے، ایک دن اسے مٹی میں جانا ہی ہے۔

آج کے انسان کو بھی لگتا ہے کہ اس کی طاقت ہمیشہ رہے گی۔
کسی کو اپنی دولت پر غرور ہے، کسی کو عہدے پر، کسی کو شہرت پر، کسی کو اپنی خوبصورتی پر، کسی کو اپنے فالوورز پر۔

لیکن وقت سب کچھ چھین لیتا ہے۔

جو آج محلوں میں بیٹھے ہیں، کل قبروں میں ہوں گے۔
جو آج حکم چلاتے ہیں، کل ان کا نام لینے والا بھی شاید کوئی نہ ہو۔

آج سے صرف 100 سال بعد اس زمین پر موجود تقریباً ہر انسان بدل چکا ہوگا۔
نئی نسلیں ہوں گی۔
نئے چہرے ہوں گے۔
ہم سب ماضی کا حصہ بن چکے ہوں گے۔

نہ ہماری گاڑیاں ساتھ جائیں گی، نہ دولت، نہ شہرت، نہ سوشل میڈیا، نہ طاقت۔

اگر کچھ باقی رہے گا تو صرف اعمال۔

اسی لیے انسان کو اپنی حیثیت نہیں بھولنی چاہیے۔
ہم سب مسافر ہیں۔
ہمیں بھی ایک دن واپس جانا ہے۔

دنیا میں ہمیشہ رہنے والا کوئی نہیں۔

نہ نمرود رہا، نہ شداد، نہ فرعون۔

اگر کوئی ہمیشہ باقی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات۔

﴿كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ وَّیَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ﴾

“زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہونے والا ہے، اور صرف تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔”

اللہ ہمیں غرور، تکبر اور دنیا کی بے حقیقت محبت سے بچائے، اور یہ سمجھنے کی توفیق دے کہ اصل کامیابی صرف اللہ کی رضا میں ہے۔ 🤍
منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
پروفیسر شعیب ہاشمی

26/05/2026

Namaz-e-Eid Ka Practical Tareeqa | 6 Zaid Takbeeron Ka Saboot | Azaan o Iqamat Ka Hukum

26/05/2026

تکبرات تشریق کا حکم کب سے کب تک پڑھی جائیں اور کون کون پڑھے گا

Upcoming Video
25/05/2026

Upcoming Video

25/05/2026

Qurbani kin logo pr wajib hai | قربانی کن لوگوں پر واجب ہے

24/05/2026

قربانی کتنے دن تک کرنا جائز ہے

24/05/2026

حاملہ جانور کی قربانی کرنا کیسا ہے ؟

18/05/2026

عورت، بچے اور خنثی کے ذبیحہ کی حقیقت | قرآن و حدیث کی روشنی میں | مفتی قاسم بلال

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tajzia Hafiz Qasim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share