29/05/2026
رات گہری ہو چکی تھی۔
مصر کے ایک خاموش گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں دو لوگ بیٹھے تھے۔ ایک استاد… اور دوسرا شاگرد
سامنے قرآن کھلا ہوا تھا۔
اور ایک آیت نے دونوں کو خاموش کر رکھا تھا۔
﴿ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ﴾
ترجمہ:
“اور وہی ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے، اور وہی حکمت والا، علم والا ہے۔”
مسئلہ صرف ایک لفظ تھا… “إِلَٰهٌ”۔
عربی نحو کا مشہور قاعدہ یہ کہتا ہے کہ جب نکرہ اسم دو مرتبہ دہرایا جائے تو دونوں کا مفہوم الگ ہوتا ہے۔
اگر کوئی کہے: “میں نے گھر میں ایک آدمی دیکھا اور بازار میں ایک آدمی دیکھا” تو دونوں آدمی الگ سمجھے جائیں گے۔
یہی قاعدہ اُس رات شیخ شعراویؒ کے ذہن میں بجلی کی طرح کوند رہا تھا۔
آیت میں بھی “إِلَٰهٌ” دو مرتبہ آیا تھا۔
ایک بار آسمان کے لیے۔
ایک بار زمین کے لیے۔
چند لمحوں کے لیے اُن کے دل پر عجیب خوف طاری ہوا۔
کیا نحوی قاعدے کے مطابق یہاں دو معبودوں کا تصور نکلتا ہے؟
معاذ اللہ۔
وہ فوراً لرز اٹھے۔
استغفار کیا۔
اور اسی بے چینی میں اپنے استاد کے پاس جا پہنچے۔
استاد اُس وقت گاؤں میں تھے۔ عصر کا وقت قریب تھا۔ دونوں مسجد کی طرف نکل گئے۔ نماز ادا کی۔ پھر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر آیت پر گفتگو شروع ہوئی۔
ایک عالم۔
اور دوسرا مستقبل کا امام التفسیر۔
مگر دونوں خاموش تھے۔
جواب سامنے نہیں آ رہا تھا۔
عشا ہو گئی۔
مسجد میں عجیب سکوت تھا۔
باہر مٹی کا راستہ… دور کھجوروں کے درخت… اور اندر قرآن کی ایک آیت نے دو ذہین دماغوں کو روک رکھا تھا۔
اسی لمحے مسجد کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔
سادہ لباس میں ایک دیہاتی اندر داخل ہوا۔
چہرے پر عام سا تاثر۔
مگر آنکھوں میں عجیب سکون۔
اس نے سلام کیا… پھر بغیر کسی تمہید کے بولا:
“کیا آپ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کر رہے ہیں؟
﴿ وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَٰهٌ ﴾”
شیخ شعراویؒ اور اُن کے استاد ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
اُس شخص نے بات جاری رکھی:
“آپ لوگ اسمِ موصول کو بھول گئے۔”
پھر اُس نے لفظ “الَّذِي” کی طرف اشارہ کیا۔
اور کہا:
“عربی کا قاعدہ یہ بھی تو ہے کہ اسمِ موصول نکرہ کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ یہاں ‘إِلَٰهٌ’ الگ الگ نہیں رہے… بلکہ ‘الَّذِي’ نے دونوں کو ایک ہی ذات کی طرف لوٹا دیا۔”
مسجد میں خاموشی چھا گئی۔
گویا ایک بند دروازہ اچانک کھل گیا ہو۔
پھر وہ اجنبی شخص آیت کی بلاغت، نحوی ساخت اور قرآنی حکمت پر گفتگو کرتا رہا۔ ایسے جیسے برسوں سے یہی مضمون پڑھا رہا ہو۔
شیخ شعراویؒ بعد میں کہا کرتے تھے کہ اُس لمحے انہیں محسوس ہوا جیسے قرآن اپنے دفاع کے لیے خود بول اٹھا ہو۔
چند لمحوں بعد وہ شخص خاموشی سے اٹھا… اور مسجد سے باہر نکل گیا۔
شیخ شعراویؒ بھی فوراً اُس کے پیچھے نکلے۔
مگر باہر کوئی نہیں تھا۔
دروازے کے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا گیا:
“وہ شخص کہاں گیا جو ابھی مسجد سے نکلا ہے؟”
لوگ حیران ہو گئے۔
انہوں نے کہا:
“یہاں تو آپ دونوں کے علاوہ کوئی اندر آیا ہی نہیں…”
وہ رات گزر گئی۔
مگر وہ آیت… وہ لمحہ… اور وہ اجنبی شخص… شیخ شعراویؒ کی زندگی کے اُن واقعات میں شامل ہو گیا جسے وہ اللہ کی نصرت کی ایک جھلک سمجھتے تھے۔
شاید اسی لیے قرآن صرف پڑھا نہیں جاتا…
کبھی کبھی وہ انسان کو اُس کی اپنی حد بھی دکھا دیتا ہے۔
منقول
─────••●◎●••─────