21/04/2026
شنید ہے کہ آج محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی سالگرہ ہے اور آپ عمرِ عزیز کے 75 برس مکمل کر چکے ہیں۔ 🎂 غامدی صاحب، آپ کو سالگرہ کی دلی تہنیت(! 🎉دو دن قبل غامدی صاحب کی سالگرہ کے موقع پر لکھی تحریر بوجوہ پوسٹ نہیں کر سکا)
فکری اور نظریاتی زاویوں پر آپ سے ہمارا علمی اختلاف اپنی جگہ بجا اور مسلّم سہی ✋، مگر اس حقیقت سے ہرگز چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ آپ نے ہمارے علمی و سماجی حلقوں میں طاری فکری جمود کو توڑنے اور توہمات کے تارِ عنکبوت چاک کرنے میں ایک نہایت کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 🕸️💡 زبان و بیان پر آپ کی گرفت، اسلوب کی دلکشی، اور کلام کی شائستگی کا وہ معیار ہے جہاں ہم سب آپ کی استادی کے دل سے معترف ہیں۔ 📚✨
آج کے اس دن اللّٰہ رب العزت کے حضور دست بہ دعا ہوں کہ وہ ہم سب پر اور آپ پر حق کے مزید دریچے وا کرے۔ 🤲 میری دلی تمنا ہے کہ حق کی اس جستجو میں ربِ کریم کی طرف سے فکری قربت کا کوئی ایسا خوبصورت معجزہ رونما ہو کہ ہمارے درمیان موجود دوریاں سمٹ جائیں اور حقانیت کے سفر میں ہم ہمنوا ہو سکیں۔ 🕊️🌸
ہمارے معاشرے کے موجودہ فکری اضطراب اور حساس مزاج کو دیکھتے ہوئے، آپ کی بعض حالیہ آراء اور جس سمت میں آپ کا کلام جا رہا ہے، اس پر ایک دردمندانہ تشویش ضرور لاحق ہوتی ہے۔ 🌡️ یہ اندیشہ دامن گیر رہتا ہے کہ کہیں یہ تفردات کسی بڑی آزمائش، خلیج یا علمی دوری کا سبب نہ بن جائیں۔ ⚠️ تاہم، ایک طالبِ علم کی حیثیت سے، یہ فقیر آپ کی سلامتی، عافیت اور درازیِ عمر کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے گا۔ 🤲❤️ قادیانیت اور کفرکا مسءلہ تکفیر اور فہمِ عام: ایک ضروری توازن ( شذرہ) ازقلم: سید نور آغا
اگرچہ مبارکباد کا یہ موقع شاید سنجیدہ مباحث کا متحمل نہیں، مگر قادیانیت کے حوالے سے آپ کی حالیہ گفتگو کے تناظر میں ایک فکری شذرہ ذہن میں مرتب ہوا تھا۔ 💭 اس سے قبل زاہد مغل صاحب کی ایک گفتگو میں بھی اس کا مختصراً تذکرہ کیا تھا، اپنی الجھنوں کے باعث اسے تحریری شکل نہ دے پایا، مگر اب اسے پوری فکری دیانتداری اور علمی احترام کے ساتھ یہاں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں: 👇📜 قادیانیت اور کفرکا مسءلہ تکفیر اور فہمِ عام: ایک ضروری توازن ( شذرہ) ازقلم: سید نور آغا
یہ کہنا کہ کسی فکر یا عقیدے کو “صریح کفر” قرار دینے کے بعد لازماً اس کے حاملین کو بھی بلا توقف “کافر” کہا جائے—یہ بظاہر ایک سیدھا منطقی استنتاج معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت علمِ کلام اور اصولِ فقہ کی پوری روایت اس سادگی کو قبول نہیں کرتی۔ یہاں “حکم علی القول” اور “حکم علی القائل” کے درمیان وہی دقیق فرق ہے جسے نظر انداز کر کے آپ ایک پیچیدہ علمی مسئلے کو غیر ضروری طور پر دو ٹوک بنا دینا چاہتے ہیں۔
جاوید احمد غامدی کا موقف خواہ اس سے اتفاق کیا جائے یا اختلاف یہ نہیں کہ وہ لزوم کو مانتے ہوئے التزام سے فرار اختیار کرتے ہیں، بلکہ وہ اس اصولی احتیاط کے قائل ہیں کہ کسی عقیدے کے باطل یا کفر ہونے کا حکم اور کسی معین فرد یا گروہ پر اس حکم کا اطلاق، دونوں الگ درجے رکھتے ہیں۔ اس فرق کو مٹا دینا ہی دراصل وہ مقام ہے جہاں سے فکری شدت پسندی جنم لیتی ہے۔
یہ کہنا کہ “اگر فلاں عقیدہ کفر ہے تو اس کے ماننے والے بھی لازماً کافر ہیں”، ایک عمومی قاعدہ تو ہو سکتا ہے، مگر اس کے اطلاق میں جو شرائط، موانع اور علمی احتیاطیں درکار ہوتی ہیں، ان کو نظر انداز کر دینا ہی اصل سوفسطائیت کے قریب تر ہے—کیونکہ اس صورت میں آپ پیچیدہ انسانی، سماجی اور فکری حقیقتوں کو ایک جامد کلیہ میں قید کر دیتے ہیں۔
غامدی صاحب کے ہاں توقف دراصل علمی دیانت کا مظہر ہے، نہ کہ کسی حکم کو “سسپنڈ” کر دینا۔ وہ اس روایت کے امین نظر آتے ہیں جس میں ائمہ نے صراحت کی کہ:
> “القول قد یکون کفراً، ولا یکفر القائل بعینہ (” ابن تيمية، ت. (2004). مجموع الفتاوى (جلد 12، ص 466). مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف.)
یعنی بات کفر ہو سکتی ہے، مگر ہر قائل پر فوراً حکمِ کفر نہیں لگایا جاتا جب تک کہ حجت تمام نہ ہو، شبہات رفع نہ ہو جائیں، اور تمام موانع دور نہ کر دیے جائیں۔
مزید برآں، اس پورے مباحثے میں ایک پہلو وہ بھی ہے جسے دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے: کسی بھی علمی موقف کو اس کے اپنے اصولی فریم ورک میں سمجھنے کے بجائے، اسے عوامی جذبات کے ترازو پر تولنا۔ اسی مزاج کے ساتھ بعض حلقے، بغیر نام لیے، ایک ایسی تعبیر کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں جو نہ صرف اصل موقف کو مسخ کرتی ہے بلکہ اس کے حامل کی ساکھ کو بھی مجروح کرتی ہے۔ یہ طرزِ عمل علمی اختلاف نہیں بلکہ فکری سیاست کے زمرے میں آتا ہے۔
اگر یہ روش برقرار رہی تو اس کا نقصان کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے علمی ڈسکورس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا—اور خود وہ حلقے بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے جو آج اسے بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ علمی روایت کا حسن اسی میں ہے کہ وہ احتیاط، توازن اور دیانت کو جذباتی قطعیت پر مقدم رکھتی ہے۔لہٰذا، اصل سوال یہ نہیں کہ “کیوں نہیں کہا جا رہا”، بلکہ یہ ہے کہ “کن اصولوں کے تحت کہا یا نہیں کہا جا رہا ہے اور یہی وہ سوال ہے جسے نظر انداز کر کے ہم محض ایک منطقی مغالطے کو علمی موقف کا نام دے دیتے ہیں۔
اسی تسلسل میں اگر بات کو آگے بڑھایا جائے تو ایک اور پہلو بھی توجہ کا طالب ہےاور وہ خود جاوید احمد غامدی کی علمی و سماجی حیثیت ہے۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ غامدی صاحب محض ایک مدرس یا خطیب نہیں، بلکہ ایک ایسے مفکر ہیں جن سے ہمیشہ ایک معقول، متوازن اور اصولی بیانیے کی توقع وابستہ کی جاتی ہے۔ ان کے سامعین کا دائرہ بھی محض خواص تک محدود نہیں، بلکہ ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو علمی باریکیوں سے زیادہ واضح، دوٹوک اور رہنمائی فراہم کرنے والے جملوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ ایسے میں جب ایک مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے حساس بھی ہو اور عوامی جذبات سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہو، تو اس میں اسلوب اور اظہار کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔یہاں اصل سوال محض علمی صحت کا نہیں، بلکہ ابلاغ (communication) کی حکمت کا بھی ہے۔ اگر ایک موقف اپنی جگہ نہایت دقیق اور اصولی ہو، مگر اس کا بیان اس انداز میں ہو کہ عام ذہن اس سے التباس اخذ کرے، تو پھر یہ اشکال صرف سامع کا نہیں رہتابیان کرنے والے کو بھی اپنے اسلوب پر نظرثانی کرنی پڑتی ہے۔
اسی لیے، نہایت ادب کے ساتھ یہ گزارش بجا معلوم ہوتی ہے کہ غامدی صاحب اور خصوصاً ان کے قریبی علمی و فکری رفقا—جو ان کے بیانیے کی ترجمانی اور اشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں نہیں اس امر کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں ان کی تعبیرات خود غامدی صاحب کے موقف کو غیر ضروری ابہام میں تو مبتلا نہیں کر رہیں۔ علمی دنیا میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں کہ ایک مفکر کا اصل مقدمہ اپنی جگہ متوازن ہو، مگر اس کے بعض شارحین یا حلقۂ اثر کے افراد اسے اس نہج پر لے جائیں جہاں سے اصل مدعا ہی اوجھل ہونے لگے۔یہ طرزِ عمل—خواہ نیت کچھ بھی ہو—بالآخر خود اسی فکر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جس کی وہ خدمت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایک طرف یہ غامدی صاحب کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے، اور دوسری طرف ان کے وہ متبعین بھی اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں جو ان سے ایک واضح اور غیر مبہم رہنمائی کے امیدوار ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، نہ صرف اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ ایک سنجیدہ علمی روایت بھی غیر ضروری تنازعات کی نذر ہونے لگتی ہے۔
یہ کہنا شاید بے جا نہ ہوگا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ غامدی صاحب اپنے اس اصولی موقف کو—جس کی بنیادیں یقیناً ان کے ہاں موجود ہیں—زیادہ صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان کریں، اس طرح کہ نہ اصول مجروح ہوں اور نہ عوامی ذہن الجھن کا شکار ہو۔ کیونکہ اگر یہ خلا برقرار رہا تو وہ عناصر، جو پہلے ہی مختلف تاویلات کے ذریعے اس بیانیے کو ایک خاص رخ دینا چاہتے ہیں، مزید تقویت حاصل کریں گے—اور اس کا خمیازہ بالآخر خود اسی فکر کو بھگتنا پڑے گا۔
چنانچہ یہ تنقید دراصل مخالفت نہیں، بلکہ ایک خیرخواہانہ تنبیہ ہے: کہ ایک بڑے علمی نام کے ساتھ وابستہ ذمہ داری بھی بڑی ہوتی ہے، اور اس ذمہ داری کا تقاضا صرف درست موقف اختیار کرنا نہیں، بلکہ اسے اس انداز میں پیش کرنا بھی ہے کہ وہ فہمِ عام کے لیے باعثِ وضوح ہو، نہ کہ باعثِ اشکال۔اسی بحث کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اب ایک تیسرا پہلو ناگزیر ہو جاتا ہے—اور وہ ہے حکم کی صراحت، مگر اس صراحت کے ساتھ وہی علمی توازن بھی قائم رہے جس کی طرف ابتدا میں اشارہ کیا گیا تھا۔
یہ بات ابہام سے بالاتر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کو ماننا، ختمِ نبوت کے قطعی اور اجماعی عقیدے کے منافی ہے۔ لہٰذا یہ عقیدہ بذاتِ خود صریح کفر ہے، اور جو شخص دانستہ، شعوری اور دلائل کے ادراک کے بعد اس عقیدے کو اختیار کرتا ہے، وہ محض ایک فکری لغزش میں نہیں بلکہ ایک ایسے دائرے میں داخل ہوتا ہے جسے اہلِ سنت کی علمی روایت نے ہمیشہ “کفر” سے تعبیر کیا ہے۔یہاں تک بات واضح اور غیر متنازع ہے۔البتہ اس کے بعد جو دقیق مرحلہ آتا ہے، وہی اصل محلِ نزاع ہے یعنی ہر اس فرد پر اس حکم کا اطلاق جو کسی قادیانی ماحول میں پیدا ہوا، یا جس نے بغیر شعوری تحقیق کے محض تقلید یا ماحول کے زیرِ اثر یہ عقیدہ اختیار کر لیا۔یہاں پپر آئمہ کی تصریحات ہمیں ایک نہایت اہم توازن سکھاتی ہیں۔
مثلاً ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
> “وَالتَّكْفِيرُ هُوَ مِنَ الْوَعِيدِ، فَإِنَّهُ وَإِنْ كَانَ الْقَوْلُ تَكْذِيبًا لِمَا قَالَهُ الرَّسُولُ ﷺ، لَكِنْ قَدْ يَكُونُ الرَّجُلُ حَدِيثَ عَهْدٍ بِإِسْلَامٍ، أَوْ نَشَأَ بِبَادِيَةٍ بَعِيدَةٍ، وَمِثْلُ هَذَا لَا يُكَفَّرُ بِجُحُودِ مَا يَجْحَدُهُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْهِ الْحُجَّةُ”
یعنی: تکفیر وعید کے باب سے ہے؛ اگرچہ کوئی بات رسول ﷺ کی تکذیب ہو، مگر بسا اوقات ایک شخص نو مسلم ہوتا ہے یا دور دراز ماحول میں پلا بڑھا ہوتا ہے، تو ایسے شخص پر اس وقت تک کفر کا حکم نہیں لگایا جاتا جب تک اس پر حجت قائم نہ ہو جائے۔
اسی طرح وہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:> “لَيْسَ كُلُّ مَنْ وَقَعَ فِي الْكُفْرِ وَقَعَ الْكُفْرُ عَلَيْهِ”
یعنی: ہر وہ شخص جو کفر میں واقع ہو، ضروری نہیں کہ اس پر کفر کا حکم بھی واقع ہو جائے۔
یہی وہ اصولی فرق ہے جسے ملحوظ رکھے بغیر یا تو شدت پیدا ہوتی ہے یا ابہام۔چنانچہ اس پورے معاملے کو سمیٹتے ہوئے ایک متوازن اور اہلِ سنت کے قریب تر موقف یہ بنتا ہے کہ:'قادیانیت ایک صریح کفر پر مبنی عقیدہ ہے۔جو شخص شعوری طور پر، دلائل کے ادراک کے بعد اسے اختیار کرتا ہے، وہ اس کفر میں مبتلا ہے۔مگر جو لوگ جہالت، ماحول، یا عدمِ شعور کی بنا پر اس میں مبتلا ہیں، ان کے بارے میں حکم لگانے سے پہلے اقامتِ حجت، ازالۂ شبہات اور علمی رہنمائی لازم ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں دعوت، اصلاح اور خیرخواہی کا دروازہ کھلتا ہے—ورنہ محض فتوے معاشروں کو مزید تقسیم ہی کرتے ہیں، ہدایت نہیں دیتے۔
اسی تناظر میں، ایک بار پھر جاوید احمد غامدی کی طرف نہایت ادب کے ساتھ یہ گزارش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اصولی موقف اپنی جگہ قابلِ فہم ہونے کے باوجود، اس کے ابلاغ میں جو ابہام پیدا ہو رہا ہے، وہ نہ صرف علمی سطح پر سوالات کو جنم دیتا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی ایک غیر ضروری الجھن کا باعث بنتا ہے۔ایک طرف اگر وہ کفر کے لزوم کو واضح کرتے ہیں، تو دوسری طرف اس کے التزام میں توقف—بغیر اس دقیق تفریق کو پوری صراحت کے بیان کیے—ایسے حلقوں کو موقع فراہم کرتا ہے جو اس بیانیے کو یا تو حد سے زیادہ نرم بنا دیتے ہیں یا اس کے خلاف ردِ عمل میں غیر متوازن شدت پیدا کر دیتے ہیں۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے اسلوب میں ایسی جامع صراحت اختیار کریں جو نہ صرف علمی روایت سے ہم آہنگ ہو بلکہ عوامی فہم کے لیے بھی باعثِ وضوح ہو۔ اور ان کے قریبی حلقوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ جس بیانیے کی ترجمانی کر رہے ہیں، اس کی ذرا سی لغزش بھی ایک بڑے علمی نام کی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔آخر میں، یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ دین کی خدمت صرف “درست بات” کہنے کا نام نہیں، بلکہ اسے درست انداز میں، درست سطح پر اور درست مخاطب کے لیے بیان کرنے کا بھی نام ہے۔اسی بحث کو اگر ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو مسئلہ محض “حکم علی القائل” میں احتیاط کا نہیں رہتا، بلکہ اس سے جڑا ہوا ایک گہرا تر سوال سامنے آتا ہے—اور وہ خود اس فہمِ دین کی نوعیت ہے جس پر پورا استدلال قائم کیا جا رہا ہے۔
یہ محسوس کرنا مشکل نہیں کہ اس پورے بیانیے میں دین کو بنیادی طور پر عقائد، نظریات اور احکامات کے ایک مجموعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر بطورِ امت ایک ایسی اجتماعی ہستی (collective entity) جس کی اپنی حدود، شناخت اور داخلی نظم ہو—وہ تصور نمایاں نہیں۔ جب “امت” بطور ایک زندہ اجتماعی حقیقت پس منظر میں چلی جائے، تو پھر لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو اس دائرے سے خارج کرنے (یا اس کے بارے میں حکم لگانے) کا اختیار آخر کس بنیاد پر قائم ہوگا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں لسانیات اور دلالتِ الفاظ کا وہ اصول، جسے غامدی صاحب نہایت قوت کے ساتھ پیش کرتے ہیں، خود ایک داخلی تناؤ (tension) کا شکار نظر آتا ہے۔ایک طرف یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ زبان کی ساخت اور دلالتِ لفظیہ و عقلیہ اس درجہ واضح اور قطعی ہے کہ ہم شارع (متکلمِ حقیقی) کے کلام سے نہ صرف یہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہ اس کے نفس میں کیا مراد ہے۔ یہی اصول “ضروریاتِ دین” کے تعین کی بنیاد بنتا ہے—یعنی یہ کہ کن امور کی تصدیق پر ایمان اور انکار پر کفر کا حکم مترتب ہوتا ہے۔
لیکن دوسری طرف، جب یہی اصول انسانی متکلمین پر منطبق کرنے کی باری آتی ہے، تو اچانک یہ کہا جاتا ہے کہ ہم کسی شخص کے قول سے اس کے ارادے اور باطن تک قطعی رسائی حاصل نہیں کر سکتے، لہٰذا ہم اس کے دعوائے ایمان یا انکار کے بارے میں کوئی حتمی حکم نہیں لگا سکتے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ احتیاط کیوں برتی جا رہی ہے—بلکہ سوال یہ ہے کہ ایک ہی اصول، دو مختلف سطحوں پر، دو متضاد نتائج کیسے دے رہا ہے؟ اگر دلالتِ الفاظ اس قدر قطعی ہے کہ شارع کی مراد تک یقینی رسائی ممکن ہے، تو پھر وہی دلالت انسانی اقوال میں کیوں غیر یقینی ہو جاتی ہے؟ اور اگر انسانی سطح پر یہ رسائی اصولاً ممکن نہیں، تو پھر شارع کے کلام سے متعلق اس درجہ قطعیت کا دعویٰ کس بنیاد پر قائم ہے؟
یہ محض ایک جزوی اشکال نہیں، بلکہ اصولی سطح پر معرفتِ مراد (intentional meaning) کے پورے تصور کو متاثر کرتا ہے—اور یہی وہ مقام ہے جہاں ناقدین اسے ایک قسم کی سوفسطائیت سے تعبیر کرتے ہیں: یعنی جہاں علم کے دعوے بظاہر قائم رہتے ہیں، مگر ان کی بنیادیں داخلی طور پر متزلزل ہو جاتی ہیں۔
اسی تناظر میں “ضروریاتِ دین” کا مسئلہ بھی ازسرِ نو غور طلب ہو جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ضروریات سے مراد محض مجمل عناوین—جیسے توحید، رسالت، یا ختمِ نبوت—نہیں، بلکہ ان کے تحت آنے والے متعین، مشخص اور قطعی المعنی تصورات ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ان عناوین کو برقرار رکھتے ہوئے، ان کے اندر موجود انہی متعین معانی کی نفی کر دے، تو محض عنوان کا اقرار اسے اس حقیقت کا مصدق نہیں بنا دیتا جس کا اقرار مطلوب ہے۔
یہاں کلاسیکی منطق کا ایک بدیہی اصول رہنمائی فراہم کرتا ہے، جسے “امتناعِ اجتماعِ نقیضین” کہا جاتا ہے—یعنی دو متناقض قضیے بیک وقت درست نہیں ہو سکتے۔
A \land \neg A = \bot
اگر ختمِ نبوت کا قضیہ یہ ہے کہ:
“نبی ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں جو اللہ کی طرف سے تشریعی طور پر لوگوں کو مکلف بنائے”
اور اس کے مقابلے میں کوئی یہ کہے کہ:
“نبی ﷺ کے بعد ایک ایسا شخص موجود ہے جو اسی نوع کی تکلیف (binding authority) رکھتا ہے”
تو یہ محض دو مختلف تعبیرات نہیں، بلکہ ایک اثبات (A) اور اس کی صریح نفی (Not-A) ہیں۔ ایسی صورت میں “تاویل” کا سہارا لے کر دونوں کو بیک وقت درست قرار دینا درحقیقت تاویل نہیں، بلکہ جمع بین النقیضین کا التزام ہے—جسے علمِ منطق اور علمِ کلام دونوں میں محال قرار دیا گیا ہے۔امام سعد الدین تفتازانی شرحِ عقائد نسفیہ میں اس اصول کو نہایت وضاحت سے بیان کرتے ہیں:
> “وَاجْتِمَاعُ النَّقِيضَيْنِ مُحَالٌ، لِأَنَّهُ يَلْزَمُ مِنْهُ ثُبُوتُ الشَّيْءِ وَنَفْيُهُ فِي حَالٍ وَاحِدٍ”
یعنی: نقیضین کا اجتماع محال ہے، کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ ایک ہی شے ایک ہی وقت میں ثابت بھی ہو اور اس کی نفی بھی۔
چنانچہ اگر کوئی شخص مجمل عنوانات (labels) کو برقرار رکھتے ہوئے، ان کے قطعی معانی کی نفی کرتا ہے، تو اسے محض اس بنا پر مصدق قرار دینا کہ اس نے “الفاظ” کا اقرار کیا ہے، دراصل دلالتِ الفاظ کے اسی اصول کے خلاف ہے جس پر پوری بحث قائم کی گئی تھی۔یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ “تاویل” کی اپنی حدود ہیں۔ تاویل کا مقصد بظاہر متعارض نصوص یا اقوال میں حقیقی تطبیق (reconciliation) پیدا کرنا ہے، نہ کہ تضاد کو برقرار رکھتے ہوئے اسے لفظی مہارت سے چھپا دینا۔ اگر تاویل اس درجے تک پہنچ جائے کہ وہ اثبات اور نفی کو بیک وقت جمع کرنے لگے، تو وہ تاویل نہیں رہتی بلکہ معنی کی تحلیل (collapse of meaning) بن جاتی ہے۔
اسی لیے یہ کہنا کہ کوئی شخص ایک طرف کسی عقیدے کی متعین حقیقت کی نفی بھی کرے اور دوسری طرف اسی کے مجمل عنوان کا اقرار بھی، اور پھر اسے بلا تردد مصدق شمار کر لیا جائے—یہ نہ تو منطق کے اصول سے ہم آہنگ ہے، نہ کلام کی روایت سے، اور نہ ہی خود اس لسانی نظریے سے جسے بنیاد بنایا جا رہا ہے۔
یہاں آ کر بحث دوبارہ اپنے اصل مقام سے جڑ جاتی ہے:
یعنی احتیاط اپنی جگہ ایک معتبر اصول ہے، مگر اگر یہ احتیاط اس درجے تک پہنچ جائے کہ معنی کی تعیین ہی مشتبہ ہو جائے، تو پھر یہ احتیاط نہیں رہتی بلکہ ایک نئی نوع کی ابہام آفرینی بن جاتی ہے۔
چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پورے مقدمے کو—دلالتِ الفاظ، ضروریاتِ دین، تاویل، اور حکم علی القائل—ان سب کو ایک ہی مربوط اصولی فریم ورک میں دیکھا جائے، جہاں نہ تو غیر ضروری شدت پیدا ہو اور نہ ایسی نرمی جو بالآخر نقیضین کے اجتماع تک جا پہنچے۔اسی تسلسل کو اگر اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے تو اب بحث ایک اور سطح پر منتقل ہوتی ہے—اور وہ یہ کہ آیا یہ پورا مقدمہ اپنی داخلی ساخت میں واقعی متوازن ہے یا اس کے اندر ایک ایسا خلا موجود ہے جو بظاہر احتیاط کے نام پر، مگر حقیقت میں معنی کی تعیین کو ہی معلق کر دیتا ہے۔
یہاں وہ نکتہ، جس کی طرف مذکورہ سطروں میں اشارہ کیا گیا تھا، پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے: میرے نزدیک جاوید احمد غامدی کا فہمِ دین بنیادی طور پر عقیدہ، نظریہ اور احکام کے گرد گھومتا ہے، مگر اس میں “امت” بطور ایک اجتماعی و تاریخی حقیقت اپنی پوری معنویت کے ساتھ موجود نہیں۔ حالانکہ کلاسیکی اسلامی روایت میں دین محض چند تصدیقات یا قضایا کا نام نہیں، بلکہ ایک اجتماعی شعور، متعین حدود اور ایک زندہ روایت کا نام بھی ہے—جسے آئمہ نے “اہلِ اسلام” اور “جماعتِ مسلمین” جیسے تصورات کے ذریعے واضح کیا۔
چنانچہ جب اس اجتماعی وجود کو پس منظر میں ڈال دیا جائے، تو لازماً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر “داخل” اور “خارج” کی تعیین کس اصول پر ہوگی؟ اگر امت بطور ایک identifiable collective موجود ہی نہیں، تو کسی فرد یا گروہ کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اس دائرے سے باہر ہے—یہ بات خود اپنی بنیاد کھو دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک خاص نوع کی فکری نرمی، درحقیقت ایک اصولی ابہام میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اسی کے ساتھ جب ہم دلالتِ الفاظ کے اس اصول کو دیکھتے ہیں جس پر یہ پورا مقدمہ کھڑا ہے، تو ایک اور گہرا اشکال سامنے آتا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ زبان—اپنی لفظی و عقلی دلالتوں کے ذریعے—اس درجہ قطعی ہے کہ ہم شارع کے کلام سے اس کی مراد تک یقینی رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر “ضروریاتِ دین” کا تعین کیا جاتا ہے: یعنی وہ متعین امور جن کی تصدیق ایمان اور جن کا انکار کفر قرار پاتا ہے۔لیکن دوسری طرف، جب یہی اصول انسانی اقوال پر منطبق ہوتا ہے تو اچانک یہ کہا جاتا ہے کہ ہم کسی متکلم کے ارادے تک قطعی رسائی حاصل نہیں کر سکتے؛ لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس نے فی الواقع ان معانی کی تصدیق کی یا انکار۔یہاں سوال یہ نہیں کہ احتیاط کیوں برتی جا رہی ہے—بلکہ سوال یہ ہے کہ ایک ہی اصول، دو متضاد نتائج کیوں دے رہا ہے؟ اگر دلالتِ الفاظ شارع کے کلام میں ہمیں قطعیت تک پہنچاتی ہے، تو وہی دلالت انسانی کلام میں کیوں معطل ہو جاتی ہے؟ اور اگر انسانی سطح پر یہ عدمِ قطعیت اصولی ہے، تو پھر شارع کے کلام سے متعلق یہ دعویٰ اپنی نوعیت میں کیسے برقرار رہتا ہے؟
اب یہاں پر جہاں علمِ کلام اور منطق کی روایت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ کہیں ہم معرفت کے معیارات میں دوہرا پن (double standard) تو قائم نہیں کر رہے۔ امام ابو حامد الغزالی نے دلالت اور علم کے باب میں اس اصولی توازن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا:
> “الدلالة إذا استجمعت شروطها أفادت العلم، ولا يختلف ذلك باختلاف المتكلم”
یعنی: جب دلالت اپنی شرائط کو پورا کر لے تو وہ علم دیتی ہے، اور اس میں متکلم کے اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
گویا اگر واقعی دلالت اس درجے کی ہے جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تو پھر وہ شارع اور غیر شارع دونوں کے کلام میں—اپنی شرائط کے ساتھ—یکساں طور پر معتبر ہونی چاہیے۔ ورنہ یہ اصول اپنی کلیت کھو دیتا ہے۔
اسی تناظر میں “ضروریاتِ دین” کی بحث مزید واضح ہو جاتی ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ ضروریات محض مجمل عنوانات نہیں، بلکہ ان کے تحت آنے والے متعین اور غیر قابلِ تاویل معانی ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی شخص ان معانی کی نفی کرے، مگر بظاہر انہی عنوانات کا اقرار بھی کرتا رہے، تو یہ اقرار حقیقت میں اس تصدیق کے قائم مقام نہیں ہو سکتا جو مطلوب ہے۔
یہاں منطق کا وہی بنیادی اصول دوبارہ سامنے آتا ہے کہ اثبات اور نفی بیک وقت جمع نہیں ہو سکتے۔ امام سعد الدین تفتازانی اس کو یوں بیان کرتے ہیں:
> “النقيضان لا يجتمعان ولا يرتفعان”
یعنی: نقیضین نہ جمع ہو سکتے ہیں اور نہ بیک وقت ساقط۔
چنانچہ اگر ختمِ نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں جو تشریعی اطاعت کا مستحق ہو، اور اس کے مقابلے میں کوئی ایسا دعویٰ کیا جائے جو اس مفہوم کی نفی کرتا ہو، تو یہ محض تعبیر کا اختلاف نہیں بلکہ ایک صریح تضاد ہے۔ ایسے میں “تاویل” کا سہارا لے کر دونوں کو جمع کرنا درحقیقت تاویل نہیں بلکہ تضاد کو برقرار رکھتے ہوئے اس پر پردہ ڈالنا ہے۔
امام فخر الدین رازی نے تاویل کی حدود بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ:
> “التأويل إنما يصار إليه لدفع التعارض، لا لإثباته”
یعنی: تاویل تضاد کو دور کرنے کے لیے کی جاتی ہے، اسے برقرار رکھنے کے لیے نہیں۔
لہٰذا اگر کوئی شخص ایک طرف ختمِ نبوت کے مجمل عنوان کا اقرار کرے، اور دوسری طرف اس کے متعین مفہوم کی نفی کرے، تو اسے محض اس بنا پر مصدق قرار دینا کہ اس نے “لفظ” کو قبول کیا ہے، دراصل معنی کی نفی کو نظر انداز کرنا ہے—اور یہی وہ مقام ہے جہاں دلالتِ الفاظ کا اصول خود اپنے خلاف استعمال ہونے لگتا ہے۔یہاں آ کر “تکذیب” اور “تکفیر” کا باہمی تعلق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ ایمان دراصل متعین معانی کی تصدیق کا نام ہے، اور جب ان معانی کی تکذیب ہو جائے تو یہ محض ایک علمی اختلاف نہیں رہتا، بلکہ اسی حقیقت کا انکار بن جاتا ہے جسے دین نے ایمان کی بنیاد قرار دیا ہے۔
چنانچہ یہ کہنا زیادہ درست معلوم ہوتا ہے کہ:
جہاں تکذیب اپنے پورے شعور اور وضوح کے ساتھ متحقق ہو جائے، وہیں تکفیر کا حکم بھی اپنی اصل میں متحقق ہوتا ہے—البتہ اس کے اطلاق میں وہی شرائط اور موانع پیشِ نظر رہیں گے جن کی طرف ابتدا میں اشارہ کیا گیا تھا۔
اسی بنیاد پر قادیانیت کے معاملے کو دیکھا جائے تو بات اپنے منطقی نتیجے تک پہنچتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے کی نوعیت ایسی ہے جو ختمِ نبوت کے اس قطعی مفہوم کی نفی کرتی ہے جس پر امت کا اجماع رہا ہے۔ اس لیے اس دعوے کی تکذیب محض ایک فقہی یا کلامی اختلاف نہیں، بلکہ ایک اصولی اور قطعی ردّ ہے۔ اور جو شخص اس دعوے کو، اس کے حقیقی مفہوم کے ساتھ، شعوری طور پر قبول کرتا ہے، وہ دراصل اسی امر کی تکذیب کرتا ہے جو ضروریاتِ دین میں داخل ہےاور یہاں یہ بات واضح کر دوں کہ غامدی صاحب نے تکفیر پر جو موقف اپنایا ہے اس کے بعد کسی شخص کے مسلمان ہونے کا صرف ایک پیمانہ ہے: وہ شخص خود کو زبان سے مسلمان کہے۔ اس کے علاوہ وہ شخص جو بھی بات کہتا رہے، اپنے اصول پر یہ اس شخص کے اس دعوے یعنی زبانی تصدیق کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔ اگر انہوں نے کسی ایک بھی کیس میں ایسا امکان مان لیا تو تکفیر پر ان کا اصول ختم۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ یہ ضروریات دین کے باب میں بدترین سوفسطائیت پھیلا رہے ہیں اور اس کے بعد اسلام کسی قطعی طور پر متعین و معلوم چیز کا نام نہیں رہ پاتا۔
(نوٹ: تکفیر کا مطلب کسی شخص کو اس کے دعوی اسلام میں جھوٹا کہنا ہوتا ہے۔ لوگ چونکہ الفاظ سے توحش محسوس کرتے ہیں، اس لئے سوچا کہ متعلقہ بحث سے متعلق یہ نوٹ لکھ دیا جائے تاکہ یہ بات دھیان میں رہے کہ کفر کی حقیقت تکذیب ہے، ایسا نہیں ہے کہ کسی کو دعوی اسلام میں جھوٹا کہنے کے بعد تکفیر الگ سے کوئی قدم ہے۔)
یہی وہ جگہ ہے جہاں ایک متوازن مگر واضح موقف سامنے آتا ہے:
نہ تو ایسی شدت کہ ہر فرد پر بلا امتیاز حکم کفر لگا دیا جائے، اور نہ ایسی نرمی کہ خود معنی ہی تحلیل ہو کر رہ جائیں۔ بلکہ یہ کہ:
عقیدہ اپنی ذات میں کفر ہے،اس کی شعوری تصدیق، اسی کفر میں دخول ہے۔اور افراد پر حکم کے اطلاق میں علمی احتیاط اپنی جگہ برقرار رہے گیآخر میں یہی کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علمی دیانت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم تضاد سے بچیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم ابہام کو اصول کا نام نہ دیں۔ دین کی حفاظت نہ صرف شدت سے ہوتی ہے اور نہ محض نرمی سے، بلکہ اس توازن سے ہوتی ہے جس میں معنی واضح ہو، اصول مربوط ہوں، اور نتائج اپنے مقدمات سے ہم آہنگ ہوں۔
نوٹ:اس سلسلے میں زاہد مغل صاحب کی تحاریر کو لازمی دیکھییے مبتد ی کے طور پر۔
سید نور آغا
۱۹ اپریل ۲۰۲۶ بوقت ۱۱ بجے