03/10/2024
*علم انکسار چاھتا ھے اور خیرخواہی سکھاتا ہے*
ہارون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل ایک بار رات کے وقت میرے پاس آئے،دروازہ کھٹکھٹایا۔
میں نے پوچھا کون؟
کہنے لگے میں احمد
میں یہ سن کر جلدی سے باہر نکلا
ہم نے ایک دوسرے سےشام بخیر کہا
پھر میں نے پوچھا حضرت!کسی کام سے تشریف آوری ہوئی؟
فرمانے لگے: ہاں!آج تو دن بھر تمہارا خیال آتا رہا۔
میں نے استفسار کیا کہ اسکی کیا وجہ رہی؟
فرمایا: آج تمہاری مجلس سے میرا گزر ہوا تو تم چھاؤں میں بیٹھے لوگوں کو پڑھارہے تھے۔
اور لوگ دھوپ میں قلم اور رجسٹر لیے بیٹھے ہوئے تھے۔
دیکھو! دوبارہ کبھی یوں مت کرنا!
جب پڑھانے بیٹھو تو لوگوں کے پاس ہی بیٹھا کرو۔
قال هارون بن عبد الله الجمال:
جاءني أحمد بن حنبل بالليل، فدق علي الباب فقلت : من هذا ؟ فقال : أنا أحمد، فبادرت أن خرجت إليه، فمساني ومسيته، قلت: حاجة يا أبا عبد الله؟ قال : نعم، شغلت اليوم قلبي !
قلت : بماذا يا أبا عبدالله ؟
قال : جزتُ عليك اليوم وأنت قاعد تحدث الناس في الفيء ، والناس في الشمس بأيديهم الأقلام والدفاتر، لا تفعل مرة أخرى، إذا قعدت فاقعد مع الناس " .
(الجامع لأخلاق الراوي وآدب السامع للخطيب البغدادي)