27/06/2026
اس دلدوز کیفیت اور گہرے درد کو الفاظ کا روپ دیتے ہوئے، آپ کی بات کو کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
آہ! عاشور کی وہ شامِ غریباں...
جب ۱۰ محرم کے جلوسِ عزا کی سسکیاں اور ماتم اپنے دامن میں سمیٹے، جیسے ہی میں نمازِ مغربین کے بعد گھر کی دہلیز پر پہنچا، تو میرے ڈیڑھ سال کے معصوم بچے نے ہنستے ہوئے "بابا! بابا! بابا!" پکارا اور مچل کر میرے گلے سے لگ گیا۔
اس کی وہ ننھی سی مخملیں پکار جیسے ہی میرے کانوں کے پردوں سے ٹکرائی، میرا سارا وجود لرز اٹھا۔ میرا ذہن تڑپ کر سیدھا کربلا کے تپتے صحرا اور شامِ غریباں کے اندھیروں میں چلا گیا۔ جہاں خیمے جل چکے تھے، زمین گرم تھی، اور فضا میں ایک تڑپتی ہوئی آواز گونج رہی تھی... بی بی سکینہ سلام اللہ علیہا کی آواز۔
اس لمحے سے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور دماغ میں سوچوں کا ایک ایسا طوفان برپا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ میں اپنے بچے کو سینے سے لگائے یہی سوچ کر تڑپ رہا ہوں کہ ہائے! اس معصوم بی بی نے اپنے بابا کے کٹے ہوئے سر اور چمٹتے ہوئے تازیانوں کے بیچ، وہ ہولناک اور دردناک رات کیسے گزاری ہوگی؟ جس کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا، جس کے کانوں سے بالیاں چھین لی گئی تھیں... وہ اپنے بابا کے بغیر اس اندھیری رات میں کس طرح تڑپی ہوں گی؟
😭😭😭😭😭