استانہ عالیہ بندیال شریف

استانہ عالیہ بندیال شریف بندیال شریف ضلع خوشاب

29/08/2026
گولڑہ مقدسہ مرکزی امن علماء کونسل پاکستان و آزاد کشمیر کے زیرِ اہتمام کنونشن 01-08-2026
03/08/2026

گولڑہ مقدسہ مرکزی امن علماء کونسل پاکستان و آزاد کشمیر کے زیرِ اہتمام کنونشن 01-08-2026

لال عیسن کروڑ صاحب زادہ محبوب احمد بندیالوی گولڑوی کی حضرت علامہ محمد اشفاق سعیدی صاحب سے محبت بھری ملاقات
24/07/2026

لال عیسن کروڑ صاحب زادہ محبوب احمد بندیالوی گولڑوی کی حضرت علامہ محمد اشفاق سعیدی صاحب سے محبت بھری ملاقات

آستانہ عالیہ سواگ شریف صاحب زادہ محبوب احمد بندیالوی گولڑوی کی صاحب زادہ پیر محبوب الحسن سواگی صاحب اور صاحب زادہ پیر فہ...
24/07/2026

آستانہ عالیہ سواگ شریف صاحب زادہ محبوب احمد بندیالوی گولڑوی کی صاحب زادہ پیر محبوب الحسن سواگی صاحب اور صاحب زادہ پیر فہیم الحسن سواگی صاحب سے ملاقات ۔۔

اقتباس از کتاب شرح اسماء الحسنٰی مصنف مولانا محمد فضل الحق بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔۔۔۔ اَلْغَفُوْرُ (بخشنے والا)​تشری...
10/06/2026

اقتباس از کتاب شرح اسماء الحسنٰی مصنف مولانا محمد فضل الحق بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔۔۔۔
اَلْغَفُوْرُ
(بخشنے والا)

​تشریح:
ہمارے گناہوں کو بخشنے والا اور چھپانے والا ہے۔ تھوڑے سے عمل پر بہت بخشنے والا ہے۔ ایک نیکی کا اجر سات سو سے زیادہ بخشنے والا ہے۔
تعلق:
( یہاں تعلق سے مراد اللہ تعالیٰ کے اس اسم مبارک کے حوالے سے عقیدہ ہے)
انسان سوچے کہ جب بخشنے والا وہی ہے تو کیوں نہ اسی سے مانگوں اور امیدیں بھی اسی سے رکھوں۔
​تخلق :
(یہاں تخلق سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے اندر اس وصف کی جھلک پیدا کرے )
انسان اس وصف کی جھلک اپنے آپ میں پیدا کرے کہ کسی کی پردہ دری نہ کرے، کسی کے عیب ظاہر نہ کرے۔

​فائدہ:
ہمارا عقیدہ ہے کہ بخشنے والا اور دینے والا اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے۔ تقسیم فرمانے والے حضور سرورِ کائنات ﷺ ہیں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے
"إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي "
اللہ تعالیٰ دینے والا ہے اور میں بانٹنے والا ہوں ۔
حدیث مبارکہ:
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ رضي الله عنه قَالَ:
كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي: «سَلْ». فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: «أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ؟» قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ. قَالَ: «فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ»رواه مسلم
حضرت ربیعہ بن کعب سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رات گزارتا تھا ، میں آپ کے لیے وضو کا پانی اور ضروریات لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ کچھ مانگ لو۔ میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے سوا کچھ اور بھی؟ میں نے عرض کیا کہ بس یہی! فرمایا اپنی ذات پر زیادہ سجدوں سے میری مدد کر۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ رات بھر حضور ﷺ کے درِ اقدس پر خدمت گزاری کے لئے حاضر رہتے تھے۔ ایک دن دریائے رحمت جوش میں آیا اور حضرت ربیعہ کو انعام دینے کا ارادہ فرمانے لگے ، فرمایا کہ اے ربیعہ کچھ مانگ۔ اس کے ماتحت شیخ
عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
"از اطلاقِ سوال کہ فرمودہ سل بخواہ و تخصیص نکرد ، بمطلوب خاص معلوم مے شود کہ کار ہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہر چہ خواہد ہر کہ را خواہد باذن پروردگار خود بدہد "

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مانگ! اور یہ نہ فرمایا کہ یہ مانگ یا وہ مانگ۔ تو معلوم ہوا کہ حضور سیدِ عالم ﷺ باذنِ الہیٰ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کے مالک ہیں، دین و دنیا کی جو چیز چاہیں جسے چاہیں دیں بلکہ حضور ﷺ خدا کی مہربانی سے احکامِ شرعیہ کے بھی مالک ہیں، جو احکام چاہیں نافذ فرمائیں۔ چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو چھ ماہ کے بکرے کی قربانی کی اجازت فرمائی، حالانکہ متفقہ مسئلہ ہے کہ بکری کی ایک سال سے کم کی قربانی جائز نہیں، لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ان کو خصوصاً اجازت عنایت فرما دی۔
اسی طرح ایک صحابی جو کہ روزہ توڑ بیٹھےتھے اور ان پر کفارہ ضروری ہو گیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غلام آزاد کر دو۔ انہوں نے معذرت چاہی کہ میرے پاس غلام نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ساٹھ روزے رکھو۔ انہوں نے معذرت چاہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، اس پر بھی انہوں نے معذرت چاہی کہ میں طاقت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، وہ بیٹھ گۓ۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک آدمی کھجوروں کا ایک ٹوکرا لے کر حاضرِ خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے ان صحابی سے فرمایا کہ یہ ٹوکرا لو اور شہر کے محتاجوں میں تقسیم کر دو۔ انہوں نے کہا مدینہ طیبہ میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کھجوریں تو ہی لے جا اور تیرا کفارہ بھی ادا ہو گیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ احکامِ شرعیہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مُفَوَّضْ (سونپے گئے) ہیں ۔

Address

بندیال ڈسٹرکٹ خوشاب
Khushab
0454

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when استانہ عالیہ بندیال شریف posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share