Towards Spirtuality

Towards Spirtuality Welcome to the journey towards Spirtuality! Take the attitude of a student, never be too big to ask questions, never know too much to learn something new.

12/10/2025

نہ سليقہ مجھ ميں کليم کا نہ قرينہ تجھ ميں خليل کا
ميں ہلاک جادوئے سامری، تو قتيل شيوۂ آزری

ميں نوائے سوختہ در گلو ، تو پريدہ رنگ، رميدہ بو
ميں حکايت غم آرزو ، تو حديث ماتم دلبری

مرا عيش غم ،مرا شہد سم ، مری بود ہم نفس عدم
ترا دل حرم، گرو عجم ترا ديں خريدہ کافری

دم زندگی رم زندگی، غم زندگی سم زندگی
غم رم نہ کر، سم غم نہ کھا کہ يہی ہے شان قلندری
✨🌟

یُعرَفُ المُجرِمونَ بِسیمٰھُم"The criminals will be recognized by their marks."Explanation:This verse highlights a scene...
18/12/2024

یُعرَفُ المُجرِمونَ بِسیمٰھُم

"The criminals will be recognized by their marks."

Explanation:

This verse highlights a scene from the Day of Judgment when all human beings will stand before Allah for accountability. On that day, the sinners (mujrimoon) will not be able to conceal their crimes or wrongdoings because their faces and appearances will clearly reflect their guilt. The "marks" mentioned in the verse refer to visible signs that will distinguish the guilty from the righteous.

The faces of the guilty may appear darkened, humiliated, or ashamed, as mentioned in other parts of the Quran.

Their actions and deeds will manifest in ways that expose their guilt. They may carry an expression of fear, disgrace, or regret.

In the broader context of Surah Ar-Rahman, which repeatedly asks, "فَبِاَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ" ("So which of the favors of your Lord will you deny?"), this verse emphasizes the favor of justice, where no wrongdoer will escape punishment, and no righteous person will be wronged.

Thus, it reflects both the mercy and justice of Allah on the Day of Judgment.

14/12/2024

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں ۔ کہا گیا حضور کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں ۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں ۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو ۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔

جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صداترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میںاقبال کہتے ہیں کہ جب میں...
14/12/2024

جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

اقبال کہتے ہیں کہ جب میں نماز کے لیے سر زمین پر جھکاتا ہوں (یعنی عبادت کے دوران سجدہ کرتا ہوں)، تو زمین کی جانب سے ایک آواز آتی ہے، جو مجھ سے یہ کہتی ہے:

"تیرا دل تو بت پرستی میں مبتلا ہے (صنم آشنا ہے)" یعنی تیرا دل غیر اللہ کی محبت میں الجھا ہوا ہے۔
"تجھے نماز میں کیا ملے گا؟" یعنی ایسی نماز جس میں دل اللہ کی جانب حاضر نہ ہو، محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔

باطنی اخلاص اور روحانی کیفیت: علامہ اقبال یہاں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عبادت صرف ظاہری عمل نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں میں اللہ کی محبت اور اخلاص ضروری ہے۔ اگر دل غیر اللہ (صنم) سے وابستہ ہو، تو نماز بے روح ہو جاتی ہے۔

صنم پرستی کا مفہوم: یہاں "صنم" سے مراد مادی دنیا، خواہشات، یا ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی محبت سے ہٹ کر دل کو مشغول کر دے۔ اقبال تنبیہ کر رہے ہیں کہ اگر دل اللہ کی یاد میں محو نہ ہو تو عبادت بے اثر ہو جاتی ہے۔

نماز کی روحانی اہمیت: اقبال کے مطابق، سجدہ تبھی معنی خیز ہے جب انسان کے دل میں اللہ کی محبت ہو۔ ظاہری عبادات کا مقصد انسان کو اللہ سے جوڑنا ہے، نہ کہ یہ محض ایک جسمانی عمل ہو۔

خلاصہ:
علامہ اقبال اس شعر کے ذریعے حقیقی عبادت کی روحانی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اللہ کی عبادت میں دل کی پاکیزگی اور اللہ کی محبت کا ہونا لازمی ہے۔ اگر دل دنیاوی خواہشات اور مادی اشیاء کا غلام ہے تو نماز کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

اسلام میں خواتین کو نہایت عزت اور مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں کئی مقامات پر عورتوں کے حقوق اور ان کی اہمیت کا...
19/07/2024

اسلام میں خواتین کو نہایت عزت اور مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں کئی مقامات پر عورتوں کے حقوق اور ان کی اہمیت کا ذکر آیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "عورتیں مردوں کی برابر ہیں۔" (ترمذی) اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت اور مرد دونوں برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور دونوں کا احترام کرنا لازمی ہے۔

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

معانی: عورت کے لفظ کے معنی ہی چھپی ہوئی چیز کے ہیں ۔ اس لیے عورت ہو تو اس کا چھپا ہوا ہونا یا پردے میں ہونا لازمی ہے اگر ایسا نہیں تو دیکھنے میں عورت ہے حقیقت میں نہیں ۔
مطلب: شاعر نے اس شعر میں ایک حقیقت بیان کی ہے کہ دنیا کی تصویر اگر رنگین ہے تو صرف عورت کی موجودگی کی وجہ سے ہے ۔ عورت ایک ایسے ساز کی مانند ہے کہ جس میں سے ایسے نغمے نکلتے ہیں جس سے آدمی کی زندگی میں اندرونی سوز یا گرمی ہنگامہ پیدا ہوتی ہے ۔ اگر دنیا میں صرف مرد ہی ہوتے اور عورت نہ ہوتی تو یہ تصویر کائنات سراسر بے رنگ ہوتی ۔

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مُشتِ خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اس دُرج کا دُرِ مکنوں

معانی: شرف: برتری ۔ ثریا: ستاروں کا ایک جھرمٹ ۔ مشت خاک: مٹی کی مٹھی، یعنی آدمی ۔ درج: ڈبیا ۔ در مکنوں : چھپا ہوا موتی ۔
مطلب: عورت بظاہر مٹی کی ایک مٹھی ہے یعنی خاکی جسم رکھتی ہے لیکن وہ آسمان کی بلندی پر چمکتی ہوئی ثریا سے بھی بڑھ کر ہے ۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی برتری یا عزت نظر آتی ہے وہ اسی ڈبیا کا پوشیدہ موتی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ عورت ہی سب کی سربلندیوں اور عظمتوں کا سرچشمہ ہے ۔

مکالماتِ افلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارِ افلاطوں

معانی: مکالاتِ افلاطوں : افلاطون ایک یونانی فلسفی تھا جس کی ایک کتاب کا نام مکالمات یعنی آپس میں گفتگو کرنا ۔ شرار: چنگاری ۔
مطلب: اس سے پہلے شعر میں علامہ نے یہ اشارہ دیا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی باعزت اور برتری والے لوگ ہوئے ہیں وہ عورت ہی کے بطن سے پیدا ئے ہیں اور انھوں نے اسی کی گود میں تربیت پائی ہے ۔ اس اصول کو شاعر نے اس شعر میں ایک مثال دے کر سمجھایا ہے ۔ افلاطون ایک یونانی فلسفی تھا جس نے مکالمات کے نام سے ایک اہم فلسفیانہ کتاب لکھی ہے ۔ اگر عورت نہ ہوتی تو اس کے بطن سے افلاطون کی چنگاری پیدا نہ ہوتی ۔ اور اگر عورت بحیثیت ماں اس کی صحیح تربیت نہ کرتی تو وہ مکالمات جیسی کتاب لکھنے کے قابل نہ ہو سکتا ۔ یہ سچ ہے کہ ایسی کتاب وہ خود نہیں لکھ سکی لیکن ایسی کتاب لکھنے والے کو اس نے جنم بھی دیا ہے اور پرورش کر کے ایسی کتاب لکھنے کا اہل بھی بنایا ہے ۔

ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے عبَث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے...
11/02/2024

ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے
عبَث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟
تشریح:
دریا میں طوفان سے دل میں شوقِ جہاد یا اسلام کو دنیا میں سربلند کرنے کا جذبہ مراد ہے۔ اور یہ چیز صرف عشقِ رسول کی بدولت پیدا ہو سکتی ہے ۔ تیری خودی مسلمان کیوں نہیں ہے یعنی تو شریعت اسلامیہ کی اطاعت کیوں نہیں کرتا۔ واضح ہو کہ فلسفۂ اقبال کی رو سے محض ارکان ظاہری پر عمل کرنے سے خودی مسلمان نہیں ہو سکتی۔ مثلاً ایک شخص نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، زکوة دیتا ہے، حج بھی کرتا ہے تو دنیا کی نظر میں وہ مسلمان ہے لیکن بہت ممکن ہے کہ اس کی خودی ابھی تک مسلمان نہ ہوئی ہو۔ ہاں اگر ان ارکان ظاہری کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ اُس نے اتباعِ رسول ﷺ (کامل اطاعت) کی بدولت نفس امارہ کو بھی مغلوب کر لیا ہو تو اس کی خودی مسلمان ہو سکتی ہے۔
جب تک مسلمان نفس امارہ کو مغلوب نہ کرے، اس وقت تک اس کی خودی مسلمان نہیں ہو سکتی۔ اور نفس امارہ صحبتِ مرشد کے بغیر مغلوب نہیں ہو سکتا۔ مرشد کے زیر تربیت، مسلمان اپنے اختیار اور اپنی ہمت سے کام لیکر، نفس کے خلاف جہاد کرتا ہے تب جا کر یہ پانی قابو میں آتا ہے۔ اس بات کی تصدیق صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے بخوبی ہو سکتی ہے:-

اے بنت حوا ۔۔✨ہوس پرستی میں ڈوبے یہ مرد محبت کا رنگ چڑھا کر تمہیں جتنا بھی لبھائیں اپنا دامن بچا کر رکھنا۔۔۔۔تمہارے جذبا...
30/01/2024

اے بنت حوا ۔۔✨
ہوس پرستی میں ڈوبے یہ مرد محبت کا رنگ چڑھا کر تمہیں جتنا بھی لبھائیں اپنا دامن بچا کر رکھنا۔۔۔۔
تمہارے جذبات تمہارے احساسات کو چھین کراس گوشت کے ٹکڑے کی طرح چبائیں گے جو کتے کے آگے ڈالو تو ایک منٹ میں ہڑپ کر جاتا ہے
اے بنت حوا اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔
اس دھوکے کی دنیا سے اپنی عزت کی دھجیاں مت اڑا دینا یہ میٹھے لہجے یہ محبت کے موسم فقط تمہاری عزت سے کھیلنے تک کے ہیں اس کے بعد تم ایک زخمی پرندہ بن کر عمر بھر پھڑ پھڑ پھڑاتی رہو گی اور تمہیں کوئی سننے والا نہیں ہوگا سوائے اللّٰہ تعالیٰ کے ۔۔۔۔✨ .

*اللّٰہ سے بڑھ کر آپ سے* 🌸*محبت کوئی نہیں کر سکتا...!!😊**نہ اس کی طرح*🌺 *کوئی آپ کو سمجھ سکتا ہے...!!*🥹*نہ اس جیسی کسی ک...
28/01/2024

*اللّٰہ سے بڑھ کر آپ سے* 🌸
*محبت کوئی نہیں کر سکتا...!!😊*
*نہ اس کی طرح*🌺
*کوئی آپ کو سمجھ سکتا ہے...!!*🥹
*نہ اس جیسی کسی کی عطا ہے...!!*😍
*نہ اس جیسا کوئی*💫
*آپ کا مان بھرم رکھ سکتا ہے....!!*🥰
*اِس لیے اللہ کے فرمانبردار بندے بن جاؤ*🫀✨
*اللہ کے لاڈلے بن جاؤ....!!*💗
*یاد رکھو اللہ بڑے پیار سے اپنے*🦋
*لاڈلوں کو ہر راستہ عبور کرواتا ہے....!!*🌝🕊️🤍

28/01/2024

🪷ایک عورت کی تربیت کا امتحان بہو بننے کے بعد
اور اخلاق کا امتحان ساس بننے کے بعد ہوتا ہے۔۔۔۔۔❤
یاد رہے
جنہوں نے گھر بسانا ہو تو وہ چھوٹی چھوٹی باتیں،
سسرال کی غلطیاں
شوہر کی خامیاں اپنی ماں کو نہیں بتاتیں....

اور جو لڑکیاں شادی کے بعد میکے سے ٹیوشن لیتی رہتی ہیں

🔻 وہ طلاق جیسی ڈگری ضرور حاصل کرلیتی ہیں۔

Address

Nowsera
Khushab
41100

Telephone

+923025171519

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Towards Spirtuality posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Towards Spirtuality:

Share