11/12/2025
اس وقت ہم آخری دور سےگزر رہے ہیں جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کےمطابق فتنوں کادور ہے
قرب قیامت کی زیادہ تر نشانیاں ظہور پزیر ہوچکی ہیں
اور سب سے بڑےفتنہ دجال کی آمد باقی ہے
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک با ر نبی ﷺ کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ نے ہم سے فرمایا : دجال کے فتنے کے مقابل میں تم میں سے بعض کےفتنے سے مجھے زیادہ خوف ہے اور جو شخص بھی دجال کے پہلے کے فتنوں سے بچا رہا وہ دجال کے فتنے سے بھی بچ جائے گا ،اور جب سے دنیا قائم ہے جو بھی چھوٹا بڑا فتنہ ظاہر ہوا ہے وہ دجال کے فتنے کا پیش خیمہ ہے ۔ {مسند احمد : 5/389
متعدد احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے قبل بہت سے فتنے اس روئے زمین پر ظاہر ہونگے ۔ وہ فتنے مالی بھی ہونگے اور جانی بھی ،سیاسی فتنے ہونگے اور معاشرتی بھی، مادی فتنے ہونگے اور معنوی بھی،اللہ کے رسول ﷺ نے امت کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان فتنوں سے متعلق بہت ساری معلومات امت کو دی ہیں، فتنوں کا مصدر ومنبع بتلایا ہے، بعض فتنوں کے نام اور بہت سے عام وخاص فتنوں کی نشاندہی بھی کی ہے
اکیسویں صدی فتنوں کا دور ہے اور یہ فتنے پہلے ادوار کی بنسبت بہت خطرناک ہیں ابھی ایک فتنہ ختم ہوتا ہی نہیں کہ دوسرا سراٹھالیتاہے،گویا کہ آج کل دنیا ’’ دارالفتن ‘‘بن چکی ہے،ہمارے نبی اکرم ﷺ نے پہلے ہی اس امت کو ان فتنوں سے آگاہ کردیاتھا اور بتلادیا تھا کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ دنیامیں بس فتنہ ہی فتنہ باقی رہ جائے گا،جیسا کہ سیدنا معاویہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” لَمْ یَبْقَ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّابَلَاءٌ وَفِتْنَۃٌ “ (رواہ ابن ماجہ: 4035،وصححہ الالبانیؒ) دنیا میں صرف فتنہ اور آزمائش ہی باقی رہ جائے گی،اسی وجہ سے اللہ کے حبیب ﷺ نے ہمیں چودہ سوسال پہلے ہی حکم دے دیا ہے کہ اے مسلمانو سنو! ” بَادِرُوْابِالْأعْمَالِ فِتَنًاکَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤمِنًاوَیُمْسِیْ کَافِرًا،أوْیُمْسِیْ مُؤمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًایَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا “ فتنے تاریک رات کے حصوں کی طرح چھاجانے والے ہوں گے،ان سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو ان فتنوں میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا،یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، وہ دنیوی سازوسامان کے عوض اپنا دین بیچ دیں گے۔(مسلم:118)
فرمان نبوی پر غورکرنے سے یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ آج وہ دن آہی چکاہے،ہرطرف فتنوں اور آزمائشوں کا دور دورہ ہے،ہرچیز میں،ہرکام میں فتنہ پایاجاتاہے،کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں فتنہ نہ ہو گھر ہویابازار،مسجد ہو یاپھر مدرسہ ہرجگہ فتنہ،فتنہ،فتنہ!!!ہرچہارسوفتنہ جیساکہ فرمان نبوی ﷺ ” وَتَظْھَرُالْفِتَنُ “ اور ہرچہارجانب فتنوں کا ظہورہوگااتناہی نہیں بلکہ ہر گھر میں فتنہ ہوگا جیسا کہ فرمان نبوی ﷺ ہےاسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ کے محلات میں سے ایک محل پر چڑھے اور صحابۂ کرامؓ سے پوچھا کہ کیا تم وہ دیکھ رہے ہوجو میں دیکھ رہا ہوں؟صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” فَاِنِّیْ لَأرَی الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُیُوْتِکُمْ کَوَقْعِ الْقَطْرِ“ میں فتنوں کو تمہارے گھروں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتادیکھ رہاہوں۔ (بخاری:7060)اتناہی نہیں بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے لئے ہرگھرمیں فتنہ موجود رہے گا جیساکہ فرمان نبوی ﷺ ” فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِیْ أھْلِہِ وَمَالِہِ وَجَارِہِ “ انسان کے لئے اس کے اہل وعیال میں،اس کے مال میں اور اس کے آس پڑوس میں فتنہ وآزمائش ہے۔(بخاری:1895)
دور حاضر کے فتنوں میں اس وقت سب سے بڑا فتنہ
*سوشل میڈیا*
ہےجس میں عیاشی فحاشی ڈانس جھوٹ مذاق فن کو پروموٹ کیا جارہا ہے
علماۓ حق کے بیانات کاٹ کر ایڈیٹنگ کرکے اسلامی اقدار کے خلاف بنا کر لوگوں کو علماۓ حق سے دور کیا جارہا ہے
*سوشل میڈیا سے دین سیکھنا*
اسلام دشمنوں نے اسلام کے نام پر کئی ویب سائٹس اور پیجز بنارکھے ہیں جس میں وہ غیر محسوس طریقے سے دین میں تحریف کرتے جارہے ہیں اور نئی نسل ان سے دین سیکھ کر مرتد ہورہی ہے
*دجالی میڈیا*
زرائع ابلاغ پر چوروں ڈکیتوں بلیک میلرز کا قبضہ ہے جھوٹ کو سچ اور سچ کوجھوٹ ثابت کرنے کے لیے ان کو کروڑوں روپے کھلاۓ جاتے ہیں
*جھوٹ ایک فیشن*
جھوٹ فیشن بن چکا ہے اب تو لوگ ضرورتاً نہیں عادتاً جھوٹ بولتے ہیں اپنے من پسند سیاسی لیڈر کے حق میں اور مخالف سیاست دان کے خلاف
اپنے فرقہ کے حق میں اور مخالق فرقہ کے خلاف سارا سارا دن فضول کمپینیں چلا کر اپنی قبر میں کیڑوں کا اضافہ کررہے ہیں
*نالائق حکمران*
اسلامی ممالک میں عیاش حکمران مسلط ہوچکے ہیں جو اپنی عیاشیوں کے سامان کے لیے اسلام دشمن ممالک سے قرض لے کر قوم کو سودی قرض کے چنگل میں دھنساتے جارہے ہیں
*دین میں کھیل تماشے*
کھیل تماشوں اور فضول رسم و رواج کو دین کا حصہ بنادیا گیا ہے کوئی قوالی کو ثواب سمجھ کر سنتا ہے کوئی دھمال کو ثوب سمجھتا ہے کوئ پیروں کے قصیدوں کو ثواب سمجھ کر سنتا ہے
*فرقہ پرستی*
دین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے ہر مسجد میں ایک الگ ہی دین نظر آتا ہے جس کا جو دل کرتا ہے دین کا حصہ بناتا جارہا ہے
*اللہ غفورالرحیم ہے بخش دےگا*
جتنے مرضی گناہ کرلو اللہ بخش دے گا
جبکہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ نیکی ہویا گناہ میں زرے زرے کا حساب رکھوں گا
*رمضان شریف انشورنس*
علماء نے رمضان شریف کو اس انداز میں پیش کیا لوگ سمجھتے ہیں 70 گنا ثواب مل گیا پورا سال نماز پڑھنے کی ضرورت نہ رہی یہ نہ بتایا کہ ایک رکعت چھوڑنے پر کیا سزا ہے
*علماۓ حق خاموش ہوگئے*
جو عالم حق کی بات کہے اس کو کوئی سنتا ہی نہیں اس لیے واہ واہ اور بلے بلے کے لیے علما نے بھی لوگوں کو صرف وہ کچھ سنانا شروع کردیا جو وہ سننا چاہتے ہیں اور حق چھپانا شروع کردیا اور درج ذیل فتنوں کا شکار ہوگئے
مصلحت کے تحت حق چھپانا فتنہ
ہردلعزیز بننے کے چکر میں حقائق چھپانا فتنہ
میں جو کہوں وہ درست باقی سب غلط اپنی راۓ پر اصرار فتنہ
زیادہ سے زیادہ داد و تحسین کے نعرے بلند ہوں یہ حب شہرت کا فتنہ
عوام کو علماء سے نفرت دلانا فتنہ
دعوت وتبلیغ کے نام پربڑے بڑے سٹیج سجاکے لاکھوں خرچ کروانا فتنہ
زندگی بہت تھوڑی ہے ہم سب کو بہت جلد اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ان فتنوں سے بچ کر پیش ہوں گے تو جنت ہمارا مقدر اور ان فتنوں کا شکار ہوگئے تو دوزخ ہمارا مقدر ہوگئی
ان فتنوں سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنا