Darul Muslim Khushab

Darul Muslim Khushab زیر تعمیرمرکز دارالمسلم
بائی پاس روڈ نزد ایرڈ یونیورسٹی خوشاب
واٹس ایپ
03126530983
(1)

اس وقت ہم آخری دور سےگزر رہے ہیں جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کےمطابق فتنوں کادور ہے قرب قیامت کی زیا...
11/12/2025

اس وقت ہم آخری دور سےگزر رہے ہیں جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کےمطابق فتنوں کادور ہے
قرب قیامت کی زیادہ تر نشانیاں ظہور پزیر ہوچکی ہیں
اور سب سے بڑےفتنہ دجال کی آمد باقی ہے
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک با ر نبی ﷺ کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ نے ہم سے فرمایا : دجال کے فتنے کے مقابل میں تم میں سے بعض کےفتنے سے مجھے زیادہ خوف ہے اور جو شخص بھی دجال کے پہلے کے فتنوں سے بچا رہا وہ دجال کے فتنے سے بھی بچ جائے گا ،اور جب سے دنیا قائم ہے جو بھی چھوٹا بڑا فتنہ ظاہر ہوا ہے وہ دجال کے فتنے کا پیش خیمہ ہے ۔ {مسند احمد : 5/389
متعدد احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے قبل بہت سے فتنے اس روئے زمین پر ظاہر ہونگے ۔ وہ فتنے مالی بھی ہونگے اور جانی بھی ،سیاسی فتنے ہونگے اور معاشرتی بھی، مادی فتنے ہونگے اور معنوی بھی،اللہ کے رسول ﷺ نے امت کی خیرخواہی کرتے ہوئے ان فتنوں سے متعلق بہت ساری معلومات امت کو دی ہیں، فتنوں کا مصدر ومنبع بتلایا ہے، بعض فتنوں کے نام اور بہت سے عام وخاص فتنوں کی نشاندہی بھی کی ہے
اکیسویں صدی فتنوں کا دور ہے اور یہ فتنے پہلے ادوار کی بنسبت بہت خطرناک ہیں ابھی ایک فتنہ ختم ہوتا ہی نہیں کہ دوسرا سراٹھالیتاہے،گویا کہ آج کل دنیا ’’ دارالفتن ‘‘بن چکی ہے،ہمارے نبی اکرم ﷺ نے پہلے ہی اس امت کو ان فتنوں سے آگاہ کردیاتھا اور بتلادیا تھا کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ دنیامیں بس فتنہ ہی فتنہ باقی رہ جائے گا،جیسا کہ سیدنا معاویہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” لَمْ یَبْقَ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّابَلَاءٌ وَفِتْنَۃٌ “ (رواہ ابن ماجہ: 4035،وصححہ الالبانیؒ) دنیا میں صرف فتنہ اور آزمائش ہی باقی رہ جائے گی،اسی وجہ سے اللہ کے حبیب ﷺ نے ہمیں چودہ سوسال پہلے ہی حکم دے دیا ہے کہ اے مسلمانو سنو! ” بَادِرُوْابِالْأعْمَالِ فِتَنًاکَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤمِنًاوَیُمْسِیْ کَافِرًا،أوْیُمْسِیْ مُؤمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًایَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا “ فتنے تاریک رات کے حصوں کی طرح چھاجانے والے ہوں گے،ان سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو ان فتنوں میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا،یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، وہ دنیوی سازوسامان کے عوض اپنا دین بیچ دیں گے۔(مسلم:118)

فرمان نبوی پر غورکرنے سے یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ آج وہ دن آہی چکاہے،ہرطرف فتنوں اور آزمائشوں کا دور دورہ ہے،ہرچیز میں،ہرکام میں فتنہ پایاجاتاہے،کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں فتنہ نہ ہو گھر ہویابازار،مسجد ہو یاپھر مدرسہ ہرجگہ فتنہ،فتنہ،فتنہ!!!ہرچہارسوفتنہ جیساکہ فرمان نبوی ﷺ ” وَتَظْھَرُالْفِتَنُ “ اور ہرچہارجانب فتنوں کا ظہورہوگااتناہی نہیں بلکہ ہر گھر میں فتنہ ہوگا جیسا کہ فرمان نبوی ﷺ ہےاسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مدینہ کے محلات میں سے ایک محل پر چڑھے اور صحابۂ کرامؓ سے پوچھا کہ کیا تم وہ دیکھ رہے ہوجو میں دیکھ رہا ہوں؟صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” فَاِنِّیْ لَأرَی الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُیُوْتِکُمْ کَوَقْعِ الْقَطْرِ“ میں فتنوں کو تمہارے گھروں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتادیکھ رہاہوں۔ (بخاری:7060)اتناہی نہیں بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے لئے ہرگھرمیں فتنہ موجود رہے گا جیساکہ فرمان نبوی ﷺ ” فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِیْ أھْلِہِ وَمَالِہِ وَجَارِہِ “ انسان کے لئے اس کے اہل وعیال میں،اس کے مال میں اور اس کے آس پڑوس میں فتنہ وآزمائش ہے۔(بخاری:1895)
دور حاضر کے فتنوں میں اس وقت سب سے بڑا فتنہ
*سوشل میڈیا*
ہےجس میں عیاشی فحاشی ڈانس جھوٹ مذاق فن کو پروموٹ کیا جارہا ہے
علماۓ حق کے بیانات کاٹ کر ایڈیٹنگ کرکے اسلامی اقدار کے خلاف بنا کر لوگوں کو علماۓ حق سے دور کیا جارہا ہے
*سوشل میڈیا سے دین سیکھنا*
اسلام دشمنوں نے اسلام کے نام پر کئی ویب سائٹس اور پیجز بنارکھے ہیں جس میں وہ غیر محسوس طریقے سے دین میں تحریف کرتے جارہے ہیں اور نئی نسل ان سے دین سیکھ کر مرتد ہورہی ہے
*دجالی میڈیا*
زرائع ابلاغ پر چوروں ڈکیتوں بلیک میلرز کا قبضہ ہے جھوٹ کو سچ اور سچ کوجھوٹ ثابت کرنے کے لیے ان کو کروڑوں روپے کھلاۓ جاتے ہیں
*جھوٹ ایک فیشن*
جھوٹ فیشن بن چکا ہے اب تو لوگ ضرورتاً نہیں عادتاً جھوٹ بولتے ہیں اپنے من پسند سیاسی لیڈر کے حق میں اور مخالف سیاست دان کے خلاف
اپنے فرقہ کے حق میں اور مخالق فرقہ کے خلاف سارا سارا دن فضول کمپینیں چلا کر اپنی قبر میں کیڑوں کا اضافہ کررہے ہیں
*نالائق حکمران*
اسلامی ممالک میں عیاش حکمران مسلط ہوچکے ہیں جو اپنی عیاشیوں کے سامان کے لیے اسلام دشمن ممالک سے قرض لے کر قوم کو سودی قرض کے چنگل میں دھنساتے جارہے ہیں
*دین میں کھیل تماشے*
کھیل تماشوں اور فضول رسم و رواج کو دین کا حصہ بنادیا گیا ہے کوئی قوالی کو ثواب سمجھ کر سنتا ہے کوئی دھمال کو ثوب سمجھتا ہے کوئ پیروں کے قصیدوں کو ثواب سمجھ کر سنتا ہے
*فرقہ پرستی*
دین کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے ہر مسجد میں ایک الگ ہی دین نظر آتا ہے جس کا جو دل کرتا ہے دین کا حصہ بناتا جارہا ہے
*اللہ غفورالرحیم ہے بخش دےگا*
جتنے مرضی گناہ کرلو اللہ بخش دے گا
جبکہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ نیکی ہویا گناہ میں زرے زرے کا حساب رکھوں گا
*رمضان شریف انشورنس*
علماء نے رمضان شریف کو اس انداز میں پیش کیا لوگ سمجھتے ہیں 70 گنا ثواب مل گیا پورا سال نماز پڑھنے کی ضرورت نہ رہی یہ نہ بتایا کہ ایک رکعت چھوڑنے پر کیا سزا ہے
*علماۓ حق خاموش ہوگئے*
جو عالم حق کی بات کہے اس کو کوئی سنتا ہی نہیں اس لیے واہ واہ اور بلے بلے کے لیے علما نے بھی لوگوں کو صرف وہ کچھ سنانا شروع کردیا جو وہ سننا چاہتے ہیں اور حق چھپانا شروع کردیا اور درج ذیل فتنوں کا شکار ہوگئے
مصلحت کے تحت حق چھپانا فتنہ
ہردلعزیز بننے کے چکر میں حقائق چھپانا فتنہ
میں جو کہوں وہ درست باقی سب غلط اپنی راۓ پر اصرار فتنہ
زیادہ سے زیادہ داد و تحسین کے نعرے بلند ہوں یہ حب شہرت کا فتنہ
عوام کو علماء سے نفرت دلانا فتنہ
دعوت وتبلیغ کے نام پربڑے بڑے سٹیج سجاکے لاکھوں خرچ کروانا فتنہ
زندگی بہت تھوڑی ہے ہم سب کو بہت جلد اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ان فتنوں سے بچ کر پیش ہوں گے تو جنت ہمارا مقدر اور ان فتنوں کا شکار ہوگئے تو دوزخ ہمارا مقدر ہوگئی
ان فتنوں سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کرنا

**برطانیہ نے برصغیر کیوں چھوڑا؟ایک تاریخی، سیاسی اور عالمی تناظر پر مبنی جامع مضمون**دنیا کی تاریخ کا بڑا سوال یہ ہے کہ ...
06/12/2025

**برطانیہ نے برصغیر کیوں چھوڑا؟

ایک تاریخی، سیاسی اور عالمی تناظر پر مبنی جامع مضمون**

دنیا کی تاریخ کا بڑا سوال یہ ہے کہ طاقتور ریاستیں کیوں اپنی مفتوحہ اور مقبوضہ سلطنتیں چھوڑ دیتی ہیں؟ عام تصور ہے کہ سامراج اپنی مرضی سے کبھی کوئی خطہ نہیں چھوڑتا—لیکن جب حالات قابو سے باہر ہو جائیں تو انخلا ہی واحد راستہ بچتا ہے۔ 1947 میں برطانیہ کا برصغیر چھوڑنا بھی اسی قانون کا نتیجہ تھا۔ اس مضمون میں ان تمام عوامل کی وضاحت کی گئی ہے جنہوں نے برطانیہ کو مجبور کیا کہ وہ ایک ایسی سرزمین سے اپنا جھنڈا اتارے جسے وہ “تاج کا سب سے قیمتی ہار" کہتے تھے۔

---

1) دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانوی معیشت کا انہدام

دوسری جنگِ عظیم نے برطانیہ کی معیشت کی کمر توڑ دی۔

برطانوی خزانہ دیوالیہ ہو چکا تھا۔

ملک پر اربوں پاؤنڈ کے قرضے چڑھ چکے تھے۔

صنعت تباہ، برآمدات کم، دفاعی اخراجات آسمان پر۔

ہزاروں برطانوی فیکٹریاں جنگی پیداوار سے عام معیشت میں واپس آنے کی سکت نہیں رکھتی تھیں۔

ایسے میں ہندوستان جیسے وسیع خطے پر فوجی قبضہ برقرار رکھنا عملی طور پر ناممکن ہو چکا تھا۔
برطانیہ اگر چاہتا بھی تو اتنے بڑے خطے کو مزید کنٹرول کرنے کی مالی سکت نہیں رکھتا تھا۔

---

2) داخلی آزادی کی تحریکیں اور ناقابلِ برداشت عوامی مزاحمت

1920 سے 1947 تک ہندوستانی عوام نے جس منظم مزاحمت کا مظاہرہ کیا، اس نے برطانیہ کی بنیادیں ہلا دیں۔

عدم تعاون تحریک

سول نافرمانی تحریک

Quit India تحریک

کانگرس، مسلم لیگ، انقلابی جماعتوں اور مقامی مزاحمتی گروپوں کی مسلسل جدوجہد

1946 کی انڈین نیول ریبلین (Royal Indian Navy Mutiny) نے تو برطانوی حکومت کو خوف زدہ کر دیا۔
تقریباً 78 جہازوں کے ہزاروں بھارتی سیلرز نے بغاوت کردی، جو پورے ملک میں پھیل سکتی تھی۔

برطانوی کابینہ کی رپورٹس میں یہ جملہ موجود ہے:
"اگر ہم ابھی نہ نکلے تو ہمیں ہندوستان فوجی طاقت سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔"

---

3) برطانوی فوج کی کمزور حالت اور بغاوت کا حقیقی خوف

جنگِ عظیم کے بعد برطانوی فوج کا بڑا حصہ گھروں کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔
باقی رہ جانے والی فوج تھکی ہوئی، کمزور اور عدم استحکام کا شکار تھی۔

1945–47 کے دوران ہندوستان میں:

فوج میں بغاوت کے آثار

ریلوے ورکرز کی ہڑتال

ڈاک وائرلیس اسٹاف کے احتجاج

کسان بغاوتیں

کمیونسٹ تحریکوں کا ابھار

یہ سب مل کر برطانوی انتظامیہ کو اس نتیجے پر لے آئے کہ اگر راج برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی تو پورا خطہ آتش فشاں بن جائے گا۔

---

4) امریکہ (USA) کا کردار — سامراج دشمن عالمی بیانیہ

دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ عالمی طاقت بن چکا تھا، اور اس کا نظریہ واضح تھا:

“دنیا میں نوآبادیاتی نظام ختم ہونا چاہیے۔”

امریکہ برطانیہ کو معاشی طور پر بھی قرضے دے رہا تھا، اور اس کے بدلے میں اس نے دباؤ ڈالا کہ برطانوی سامراجی نظام خصوصاً ہندوستان سے دستبردار ہو۔

امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے چرچل سے کئی بار کہا:

“دنیا بدل رہی ہے، امپائر اب نہیں چل سکے گی۔”

"آپ کو اپنے نوآبادیاتی نظام ختم کرنے پڑیں گے۔"

امریکہ کو یہ بھی خوف تھا کہ اگر ہندوستان میں بغاوت بڑھی تو
کمیونزم (سوویت اثر) بڑھ جائے گا، جسے امریکہ روکنا چاہتا تھا۔
لہٰذا وہ ہندوستان کی جلد آزادی کا خواہشمند تھا۔

---

5) سوویت یونین (روس) کا کردار — سامراج دشمن دباؤ

روس اور خاص طور پر اسٹالن کی قیادت میں سوویت یونین، برطانیہ اور امریکہ دونوں کے مقابل ایک بڑی عالمی طاقت بن چکا تھا۔

روس سامراجی طاقتوں کے خلاف عالمی سطح پر نظریاتی دباؤ بڑھا رہا تھا۔

ہندوستان کے نوجوانوں اور مزدور تحریکوں پر کمیونسٹ اثر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔

1946 کی نیول ریبلین میں بھی کمیونسٹ تحریکوں کی سیاسی حمایت اہم تھی۔

برطانیہ کو خطرہ تھا کہ اگر وہ نہ نکلا تو ہندوستان میں کمیونسٹ انقلاب بھڑک سکتا ہے، جس سے پورا خطہ سوویت بلاک میں چلا جائے گا۔

---

6) ہندو–مسلم سیاسی کشمکش اور قتل عام کا خدشہ

1946–47 میں ہندو مسلم فسادات قابو سے باہر ہونے لگے۔

کلکتہ فسادات

نوآخالی

بہار

پنجاب کی ہنگامہ آرائیاں

برطانوی قیادت کو خوف تھا کہ اگر حالات بگڑے تو ذمہ داری براہِ راست ان پر آئے گی۔
لہٰذا “تقسیم اور انخلا” وہ حل سمجھا گیا جس سے وہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔

---

7) برطانیہ کا اپنا عوام سامراج سے تنگ آ چکا تھا

دو جنگوں کی تباہی کے بعد برطانوی عوام چاہتے تھے کہ حکومت اب

جنگی اخراجات کم کرے

بیرونی مسائل کے بجائے اندرونی تعمیرِ نو کرے

مہنگائی اور بیروزگاری ختم کرے

لہٰذا سیاسی طور پر بھی سامراج کو برقرار رکھنا برطانوی حکومت کے لیے نقصان دہ تھا۔

---

8) راج کے آخری تین سال (1945–47) — ٹائم لائن

1945

لیبر پارٹی حکومت آئی—سامراج مخالف۔

وزراء نے فیصلہ کیا کہ ہندوستان کو جلد آزاد کرنا ہے۔

1946

کیبنٹ مشن پلان ناکام۔

ملک گیر فسادات۔

رائل انڈین نیوی کی بغاوت۔

برطانیہ کو پہلی بار نظر آیا کہ فوج بھی ہاتھ سے نکل رہی ہے۔

1947

ماؤنٹ بیٹن کو “جلد از جلد انخلا” کا مشن ملا۔

15 اگست 1947 کو دونوں ریاستیں قائم ہوئیں۔

برطانیہ صرف 9 ماہ میں راج سمیٹ کر نکل گیا—جتنی جلدی کبھی تاریخ میں کسی سامراج نے خروج نہیں کیا۔

---

9) برطانیہ کی خفیہ رپورٹس (Secret British Intelligence Documents)

برطانوی انٹیلیجنس کی کئی رپورٹس 1970 سے 2000 کے درمیان ڈی کلاسیفائی ہوئیں۔ ان میں چند اہم نکات یہ ہیں:

• ہندوستان میں فوجی بغاوت کا حقیقی امکان موجود تھا۔

رپورٹس میں لکھا ہے کہ 1857 جیسی فضا دوبارہ پیدا ہو رہی تھی۔

• انتظامی مشینری مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی۔

ڈسٹرکٹ آفیسرز سے لے کر پولیس تک ہر سطح پر حکومتی رٹ کمزور پڑ چکی تھی۔

• معاشی خرچ برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

ایک رپورٹ میں لکھا ہے:
“ہم اس ملک پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے قرض لے کر اپنی فوج نہیں چلا سکتے۔”

• کمیونسٹ اثر خوفناک حد تک بڑھ چکا تھا۔

برطانوی رپورٹوں میں “Red Danger” (سرخ خطرہ) کا ذکر بار بار ملتا ہے۔

• ہندوستان چھوڑنے میں جلدی کی اصل وجہ فسادات اور انارکی کا خوف تھا۔

• اگر برطانیہ نہ نکلتا تو ایک بڑا خون خرابہ ہوتا اور دنیا کی انگلی براہِ راست لندن پر اٹھتی۔

---

نتیجہ — برطانیہ کی واپسی ایک “مجبوری” تھی، احسان نہیں

برطانیہ نے برصغیر محبت میں نہیں چھوڑا تھا۔
اسے چھوڑنا پڑا کیونکہ:

1. وہ مزید حکمرانی کر ہی نہیں سکتا تھا۔

2. معاشی طور پر تباہ ہو چکا تھا۔

3. فوج اس کے ہاتھ سے نکل رہی تھی۔

4. عالمی سیاست (امریکہ + روس) اس کے خلاف تھی۔

5. ہندوستان کی آزادی کی تحریک ناقابلِ شکست ہو چکی تھی۔

6. فسادات کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے انخلا ضروری تھا۔

یہ تمام محرکات مل کر اس تاریخ ساز فیصلے کا باعث بنے کہ 200 سال پرانی سلطنت آخرکار 1947 میں ڈھیر ہو گئی۔

**🌿 کاروبار میں برکت کے 7 سنہری اصول(قرآن و حدیث کی روشنی میں)**1️⃣ سچ بولنا — برکت کی بنیادنبی ﷺ نے فرمایا:"سچ بولنے وا...
05/12/2025

**🌿 کاروبار میں برکت کے 7 سنہری اصول

(قرآن و حدیث کی روشنی میں)**

1️⃣ سچ بولنا — برکت کی بنیاد

نبی ﷺ نے فرمایا:
"سچ بولنے والا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا"
(ترمذی)

---

2️⃣ تول اور لین دین میں انصاف

قرآن:
"ناب تول میں کمی نہ کرو"
(سورہ رحمن)
جو کاروبار میں انصاف رکھتا ہے، اللہ اس کے رزق میں کشادگی دیتا ہے۔

---

3️⃣ جھوٹے وعدے اور دھوکے سے بچنا

نبی ﷺ نے فرمایا:
"جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں"
(مسلم)

---

4️⃣ صبح جلدی کاروبار شروع کرنا

نبی ﷺ کی دعا:
"یا اللہ! میری امت کے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما"
سنّت کے مطابق صبح کام شروع کرنے میں ڈبل برکت ہوتی ہے۔

---

5️⃣ صدقہ — بند دروازوں کو کھولنے والی چابی

قرآن:
"جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اس کا بدلہ کئی گنا بڑھا دیتا ہے"
(البقرہ)

---

6️⃣ کاروبار میں نرمی اور حسنِ اخلاق

نبی ﷺ نے فرمایا:
"اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو خریدتے، بیچتے اور حق لیتے دیتے وقت آسانی پیدا کرے"
(بخاری)

---

7️⃣ حلال کمائی کی فکر اور حرام سے بچت

قرآن:
"اے ایمان والو! حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ"
(البقرہ)

---

💚 نتیجہ:

جتنا سچ، انصاف، نرمی، حلال کمائی اور صدقہ — اتنی ہی برکت، سکون اور ترقی۔

🌙 کیا زندگی سے سکون، چین اور برکت ختم ہوچکی ہے؟کیا آپ بھی محسوس کرتے ہیں کہ…دل بےچین ہے؟پریشانیاں گھیرے ہوئے ہیں؟جس کام ...
14/11/2025

🌙 کیا زندگی سے سکون، چین اور برکت ختم ہوچکی ہے؟

کیا آپ بھی محسوس کرتے ہیں کہ…
دل بےچین ہے؟
پریشانیاں گھیرے ہوئے ہیں؟
جس کام میں ہاتھ ڈالیں الٹا ہوجاتا ہے؟
گھر میں بیماری، مسئلے اور بےبرکتی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی؟
کاروبار جوں کا توں ہے بلکہ الٹا نیچے جارہا ہے؟
زندگی ایک بوجھ بن گئی ہے…؟

تو آئیے، ایک لمحہ رک کر سوچیں…
آخر یہ سب کیوں ہورہا ہے؟

وجہ صرف ایک ہے:
ہم نے دین سے دوری اختیار کرلی ہے۔
ہم اللہ کو بھول گئے…
اور جب بندہ اپنے رب کو بھول جائے…
تو پھر سکون، برکت اور راحت بھی اس سے دور ہوجاتے ہیں۔

✨ نماز چھوڑ دینا صرف گناہ نہیں… یہ وہ قرض ہے جو ہر حال میں ادا کرنا ہوتا ہے۔
نماز چھوڑ کر ہم دراصل اپنے رزق، اپنی صحت، اپنی اولاد، اپنے گھر کی حفاظت — سب کے دروازے خود بند کردیتے ہیں۔

لیکن خوشخبری یہ ہے کہ…
اللہ ناراض ضرور ہوتا ہے، مگر واپس آنے پر خوش بھی سب سے زیادہ وہی ہوتا ہے۔

آئیے…
آج اور ابھی عہد کریں:
✔️ آج سے کوئی نماز قضا نہیں ہوگی
✔️ دل سے توبہ کریں
✔️ قرآن سے ناتا جوڑیں
✔️ صبح شام کی دعاؤں کو معمول بنائیں
✔️ والدین کی خدمت میں نرمی اور محبت لائیں
✔️ حلال رزق اور سچائی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
✔️ شکر کرنا سیکھیں، کیونکہ شکر سے اللہ برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے

یاد رکھیں…
مسلمان اور غیر مسلم میں سب سے بڑا فرق نماز ہے۔
نماز صرف عبادت نہیں — یہ زندگی کا سکون ہے، رزق کی کنجی ہے، دل کا اطمینان ہے، گھروں کی رحمت ہے، دعاؤں کی قبولیت ہے۔

🌸 جب آپ اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہیں… اللہ آپ کی طرف دس قدم بڑھتا ہے۔
اپنے رب کو منانے کا تہیہ کریں… پھر دیکھیں کیسے
زندگی بدلتی ہے، نصیب کھلتے ہیں، برکتیں اترتی ہیں اور سکون دل میں اتر جاتا ہے۔

اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُ...
07/11/2025

اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ.

’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘

آل عمران، 3 : 103

مندرجہ بالا آیت دو حصوں پر مشتمل ہے : پہلا حصہ امر اور دوسرا نہی پر مبنی ہے۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، یہ مثبت حکم تھا لیکن اس کے بعد نہی کا حکم ہے کہ خبردار! تم باہمی تفرقہ اور انتشار کا شکار نہ ہونا۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرقہ پرستی کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

يَدُ اﷲِ مَعَ الجَمَاعَةِ، وَ مَنْ شَذَّ شَذَّ اِلَی النَّارِ.

’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘

ترمذی، السنن، کتاب الفتن عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، باب ما جاء فی لزوم الجماعة، 4 : 39 - 40، رقم : 2167

اسلام انسانیت کی بقاء، معاشرے میں امن و سلامتی، اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کا ضامن ہے۔ اس میں فرقہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ایک مقام پر فرمایا :

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ.

’’بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں۔‘‘

الانعام، 6 : 159

اس آیتِ کریمہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے کوئی سرو کار اور تعلق نہ رکھیں، جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنی جمعیت کا شیرازہ منتشر کر دیا۔ علاوہ ازیں ملی شیرازہ کو تفرقہ و انتشار کے ذریعے تباہ کرنے والوں کے لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی سخت احکامات صادر فرمائے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’جو شخص بھی تمہاری جماعت کی وحدت اور شیرازہ بندی کو منتشر کرنے کے لئے قدم اٹھائے اس کا سر قلم کر دو۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الامارة، باب حکم من فرق امر المسلمين و هو مجتمع، 3 : 478، رقم : 1852

گویا مذکورہ بالا قرآنی آیت اور حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام میں فرقہ بندی اور تفرقہ پرستی کی کوئی گنجائش نہیں

جب بھی آپ کسی پر ہاتھ اٹھانا چا ہو تو کچھ چیزیں ذھن میں رکھے۔قاتل بھی قتل ہی ہوتا ہے قاتل کی طبعی موت کسی نے کم ہی دیکھی...
01/09/2025

جب بھی آپ کسی پر ہاتھ اٹھانا چا ہو تو کچھ چیزیں ذھن میں رکھے۔
قاتل بھی قتل ہی ہوتا ہے قاتل کی طبعی موت کسی نے کم ہی دیکھی ہے اور پھر قصاص دیت نہ ہوئی تو دوزخ ابدی ٹھکانہ یہ بھی سوچیں
1: یہ کس کا بیٹا ہے؟
2: یہ کس کا بھائی ہے؟
3: یہ کس کا شوہر ہے؟
4: کیا اس کے بھی بچے ہیں؟
5: وہ کتنی محنت سے جوان ہوگیا ہے؟
ایک ماں نے اسے غربت میں کتنا پالا ہوگا؟
6: اگر کوئی مجھ پر ہاتھ اٹھائے تو میراخاندان کیا محسوس کرئےگا۔
7: اگر کوئی میرے بھائی کو مارے تو میری کیا احساسات ہوں گے۔
8-اس کے ورثاء میرا اور میرے خاندان کاکیا حشر کریں گے
9-اگر اس کے وارث مجھے ماردیں تو میرے والدین میرے بیوی بچوں کا کیا ہوگا
10-اگر اس کے ورثاء مجھے جیل بھیج دیں تو میرے بیوی بچے پیچھے اکیلے کیسے دنیا کی حوس کامقابلہ کریں گے اس وقت میری غیرت عزت کاکیاہوگا
11-میری بہنیں ماں بیوی جیل جیسے پراگندہ ماحول میں مجھے ملنے آئیں گی تواس وقت میری غیرت کہاں دفن ہوگی
12-جب میری ماں بہن بیوی بیٹیاں میری عزتیں میری جان بخشی کےلیے در در رحم کی بھیک مانگیں گی اور دلالوں کی بھوکی نظروں کا مقابلہ کریں گی اس وقت میری غیرت کاکیاہوگا
اور اس مارپیٹ کے بعد آپ کا کیا حال ہوگا،آپ کے خاندان پر کیا گزرے گی؟
ایک انسان کو دکھی کرنے کا عذاب خانہ کعبہ کے منہدم کرنے سے ذیادہ ہے۔ اپنی زندگی اچھی طرح سے گزاریں اور دوسروں سے زندگی کا حق نہ لیں۔
اتنا سوچ لیں جس کوآپ ماررہے ہیں اس کےوارث یاتوآپ کوماردیں گے یاباقی عمر آپ جیل میں گزاریں گے صلح بھی ہوگئی تو کبھی بھی اس کے کسی وارث اولاد کا خون کھولےگا صلح نامے سارے دھرے کےدھرے رہ جائیں گے
اگرآپ سمجھتے ہیں کہ کوئی آپ کاکچھ نہیں بگاڑسکتا تو قبرستان جائیں درجنوں پھنے خانوں کی قبریں ایسی بھی ملیں گی جنہیں یاتو کسی کمزور عورت نے قتل کیا یا کم سن بچے نے والد کا بدلہ لے کر اس پھنے خان کوابدی نیند سلایا
حرام موت سے بچناہے تو حلال زندگی جئیں بہت کم ایسا ہوتاہے کہ قاتل طبعی موت مرتاہو 99%قاتل بھی قتل ہی ہوتے ہیں
خدارا دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالی ہم سب لوگ کو اس شر سے محفوظ رکھے۔

🕌 امام سے پہلے رکوع یا قیام کرنے کا حکم — ایک اہم وضاحت 🕌فرقہ پرستی سے پاک اصل حکم شریعت نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں ا...
15/08/2025

🕌 امام سے پہلے رکوع یا قیام کرنے کا حکم — ایک اہم وضاحت 🕌
فرقہ پرستی سے پاک اصل حکم شریعت
نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں امام کی پیروی (اتباع) فرض ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

> "امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی کہو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔"
(صحیح بخاری: 733 — صحیح مسلم: 412)

---

⚠️ امام سے پہلے رکن ادا کرنے کا حکم

جو شخص امام سے پہلے کسی رکن (رکوع، سجود، قیام، قعدہ) میں آگے بڑھ جائے، اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے یا کم از کم سخت گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، کیونکہ یہ نہیِ نبوی کے خلاف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "کیا تم میں سے وہ شخص نہیں ڈرتا جو اپنا سر امام سے پہلے اٹھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کا نہ بنا دے یا اس کی شکل نہ بدل دے؟"
(صحیح بخاری: 691 — صحیح مسلم: 427)

---

🕌 مسئلہ: سجدے کے بعد دوسری رکعت کے لیے اٹھنا

اہل حدیث ائمہ جب پہلی رکعت کے بعد سجدے سے اٹھتے ہیں، تو جلسۂ استراحت (کچھ لمحے بیٹھنا) کرتے ہیں۔
یہ عمل نبی ﷺ سے ثابت ہے:

حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

> "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ پہلی رکعت سے کھڑے ہوتے تو کچھ دیر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے۔"
(صحیح بخاری: 823)

---

📌 دیگر مسالک کے بعض مقتدی کا مسئلہ

کچھ لوگ اس عمل سے ناواقف ہونے کی وجہ سے سجدے کے فوراً بعد کھڑے ہو جاتے ہیں، جبکہ امام ابھی بیٹھا ہوتا ہے۔
ایسا کرنے سے:

مقتدی امام سے آگے بڑھ جاتا ہے

یہ امام کی اقتداء کے خلاف ہے

حدیث کے مطابق یہ عمل نماز کے بطلان یا کم از کم اس کے ناقص ہونے کا سبب بن سکتا ہے

---

❓ کچھ لوگ کہتے ہیں "یہ جلسہ سنت نہیں رہا"

جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ جلسۂ استراحت سنت نہیں رہا یا یہ کسی خاص حالت کے ساتھ منسوخ ہو گیا ہے، ان کا استدلال کمزور ہے، کیونکہ:

1. بخاری شریف میں یہ عمل آخر عمر مبارک تک نبی ﷺ سے ثابت ہے۔

2. یہ قیام میں سہولت اور سنتِ فعلی دونوں پہلو رکھتا ہے۔

3. فقہ الحدیث کے اصول کے مطابق جب تک کوئی واضح ناسخ (منسوخ کرنے والی دلیل) نہ ہو، سنت باقی رہتی ہے۔

---
لیکن اس پوسٹ میں جلسہ استراحت پر بحث نہیں کی جارہی صرف کسی کی نماز خراب نہ ہو یہ اس پوسٹ کا مقصد ہے

✅ خلاصہ حکم

مقتدی کو چاہیے کہ امام سے پہلے نہ اٹھے، نہ رکوع کرے، نہ سجدہ کرے۔

اگر امام جلسۂ استراحت کرتا ہے تو مقتدی بھی کرے، چاہے اس کے اپنے مسلک میں یہ عام نہ ہو، کیونکہ نماز میں اصل حکم اتباعِ امام کا ہے۔
اگر جلسہ استراحت نہیں کرنا چاہتا تو کم ازکم آخری سجدہ تھوڑا لمبا کردے تاکہ اتنی دیر میں امام جلسہ استراحت مکمل کرکے قیام کے لیے کھڑا ہو جائے
اہلحدیث امام کو بھی چاہیے کہ وہ جلسہ استراحت بہت مختصر کرے تاکہ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے حنفیوں کی نماز برقرار رہے

---

📖 حوالہ جات:

صحیح بخاری، حدیث: 691، 733، 823

صحیح مسلم، حدیث: 412، 427

سنن ابی داؤد، حدیث: 730

فقہ السنہ، ج1، ص165

---

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں نماز میں سنتِ نبوی ﷺ اور امام کی صحیح پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🚫 گلی میں گھر کے آگے تھڑے بنانے کی ممانعت 🚫📜 قرآن کی روشنی میںاللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:> وَلَا تَعْثَوْا فِي ٱلۡأَرۡض...
15/08/2025

🚫 گلی میں گھر کے آگے تھڑے بنانے کی ممانعت 🚫

📜 قرآن کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

> وَلَا تَعْثَوْا فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
"اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ"
(سورۃ البقرۃ: 60)

گلی یا راستے میں تھڑا، سیڑھی یا کوئی بھی رکاوٹ ڈالنا دوسروں کے لیے تکلیف اور فساد کا باعث بنتا ہے۔

اور فرمایا:

> وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ بِغَيۡرِ مَا ٱكْتَسَبُواْ فَقَدِ ٱحۡتَمَلُواْ بُهۡتَـٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا
"اور جو لوگ ایمان والوں کو بلاوجہ تکلیف دیتے ہیں، انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا"
(سورۃ الاحزاب: 58)

---

📜 حدیث کی روشنی میں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> "راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا صدقہ ہے"
(صحیح بخاری، حدیث: 2472 — صحیح مسلم، حدیث: 1009)

اور فرمایا:

> "ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں... سب سے ادنیٰ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا ہے"
(صحیح مسلم، حدیث: 35)

جب راستے سے رکاوٹ ہٹانا صدقہ ہے، تو راستے میں رکاوٹ ڈالنا ظلم اور گناہ ہے۔

---

⚠️ تھڑے بنانے کے عملی نقصانات

1. راستہ تنگ ہونا — پیدل چلنے والے، موٹر سائیکل اور گاڑیاں مشکل سے گزرتی ہیں۔

2. حادثات کا خطرہ — تنگ گلیوں میں موٹر سائیکل یا رکشہ ٹکرا سکتا ہے۔

3. ایمرجنسی میں رکاوٹ — ایمبولینس یا فائر بریگیڈ بروقت نہیں پہنچ پاتی۔

4. پڑوسیوں میں جھگڑے — جگہ کم ہونے سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔

5. اونچے مکان کا چکر —

ایک شخص مکان اونچا بناتا ہے، چڑھنے کے لیے آگے تھڑا نکالتا ہے۔

اگلا پڑوسی بھی اونچا مکان بناتا ہے اور تھڑا نکالتا ہے۔

وقت کے ساتھ گلی کا فرش نیچے اور مکان اوپر ہوتے جاتے ہیں۔

نتیجہ: بارش کا پانی گلی میں کھڑا رہتا ہے، گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔

آخرکار سب کو اپنے مکان گرا کر دوبارہ بنانے پڑتے ہیں، جو مالی اور ذہنی نقصان کا سبب بنتا ہے۔

6. شرعی گناہ — یہ عمل ظلم ہے، اور نبی ﷺ نے فرمایا:

> "ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا"
(صحیح بخاری، حدیث: 2447 — صحیح مسلم، حدیث: 2582)

---

💡 نتیجہ:
گلی میں گھر کے آگے تھڑے بنانا شریعت میں ممنوع اور دنیاوی نقصان کا باعث ہے۔ یہ نہ صرف دوسروں کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ وقت کے ساتھ سب کو نقصان پہنچاتا ہے۔ بہتر ہے کہ راستے کو صاف اور کشادہ رکھا جائے تاکہ سب کے لیے آسانی ہو، اور اللہ کی رحمت حاصل ہو۔

حل

مکان جتنا مرضی اونچا بنائیں لیکن گیراج اور گیٹ کو گلی کے لیول پر رکھیں اور گیراج سے لونگ میں جانے کے لیے 3/4سٹیپ بنا دیں ساری زندگی نہ گلی اونچی کرنا پڑے گی نہ مکان
---

امام کےبالکل پیچھے ایسےافراد کو لازمی کھڑا ہونا چاہیے جو جماعت کروا سکتے ہوں تاکہ دوران باجماعت نماز اگر امام صاحب کا وض...
29/05/2025

امام کےبالکل پیچھے ایسےافراد کو لازمی کھڑا ہونا چاہیے جو جماعت کروا سکتے ہوں تاکہ دوران باجماعت نماز اگر امام صاحب کا وضو ٹوٹے یا نزع بیماری مدہوشی بے ہوشی کی کیفیت طاری ہو تو وہ امام کی جگہ لے کر جماعت مکمل کروا سکے
امام کو حواس میں کوئی شرعی عذر درپیش ہو تو وہ دوران جماعت پیچھے ہٹ جائے گا اوراپنے پیچھے کھڑے دوسرے شخص کو اپنی جگہ بطور امام کھڑا کرے گا
اگر امام کے پیچھے ایسے لوگ کھڑے ہوں جو جماعت نہیں کرواسکتے(حالانکہ ہر کسی کو آنی چاہیے )اور امام کی جگہ کوئی نہیں لیتا توامام کے ہٹنے کےبعد سب کی نمازٹوٹ جائے گی

ہائے میری نیکیاں کدھر گئیں یہ کون لوٹ کے جارہے ہیں میں نے تو 3 حج کیے تھے 14 عمرے کیے تھے آج تک کوئی نمازقضاء نہیں کی تھ...
04/03/2025

ہائے میری نیکیاں کدھر گئیں یہ کون لوٹ کے جارہے ہیں
میں نے تو 3 حج کیے تھے
14 عمرے کیے تھے
آج تک کوئی نمازقضاء نہیں کی تھی
کوئی روزہ نہ چھوڑا تھا قرآن کی تلاوت کرتا تھا
تہجد گزار تھا بڑے صدقات دیے خیرات دیے لنگر خانے بنائے
میں نے مساجد ومدارس بنوائے
میں نےغریبوں اور فقیروں کو بے تحاشہ پیسہ دیا
میں باقاعدگی سےزکوۃ بھی دیتا تھا میں عشر بھی دیتا تھا
میں نے مفت ہسپتال بنوائے
یتیم خانے بنوائے
ساری زندگی میں نے نیکیوں کے پہاڑ اکٹھے کیے
لیکن کون لوگ ہیں وہ جو آج میری نیکیوں کی بوریاں بھربھرکےلے کے جا رہے ہیں۔
اوہ اب میرے پاس ساری نیکیاں میری ختم ہو گئی ہیں وہ نیکیوں کے پہاڑوں کے پہاڑ لوگ مجھ سے چھین کےجا رہے ہیں
میرا پڑوسی کتنا ظالم نکلا میں نے اس کی فصل سے صرف ایک گنا توڑا تھا وہ آج بروز محشر سودے بازی پر اترآیاہے اور آج مجھ سے ایک ہزار نیکیاں لے کر تب مجھے معاف کیا
ارے میں نے تو ایک شخص کوصرف تھپڑ ہی تو مارا تھا آج وہ ایک لاکھ نیکیوں کے بدلے مجھے معاف کرگیا
میں نے تو پڑوسی کی صرف چند فٹ زمین ہتھیائی تھی یہ آج میری ساری حج اور عمرے کی نیکیاں لے کرمجھے معافی دینے پر مانا ہے
میں نےبہن کے حصے کی جائیداد ماری تھی آج بہن کا خون بھی سفید ہو گیا ہے آج کہتی ہے جتنی مساجد تم نے بنوائی ہیں ان سب کا ثواب مجھے دے دو تب میں معاف کرتی ہوں
میری نیکیوں کے پہاڑوں کے پہاڑ تو یہ سارے لوگ لے کر چلے گئے
اب اگر کوئی اور شخص آیاتو کیا ہوگا میرے پاس تو کوئی نیکی نہیں بچی جو اس کو دے کے میں اپنی جان چھڑواؤں گا
یہ مزدور ایک بورا بھر کے گناہوں کا لا رہا ہے اور میں نے صرف اس کی ایک دیہاڑی ماری تھی اور آج یہ پورا بورا گناہوں کا مجھے دیے کر معاف کررہا ہے
یہ کیا یہاں تو پوری لائن کھڑی ہے جن کے سروں پر گناہوں کی بوریاں موجود ہیں گناہوں کی وہ ساری بوریاں میرے نامہ اعمال میں ڈلوا کر اپنی جان چھڑائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ میں نے دنیا میں معمولی معمولی زیادتیاں کی تھیں کسی کا حق مارا کسی کو دھوکا دیا کسی کو بے عزت کیا کسی کو گالی دی کسی کی اجرت لیٹ کی تھی کسی کی اجرت مار لی تھی کسی کو سود پر پیسے دیے تھے آج یہ سارے لوگ بڑی بڑی گناہوں کی بوریاں اٹھا کر میرے کھاتے میں دینے کو آئے ہیں کہ یہ صرف اس صورت میں معاف کریں گے جب میں ان کے گناہ اپنے کھاتے لکھوا لوں گا
کاش میں دنیا میں صرف نیکییوں کے پیچھے نہ رہتا حقوق العباد کے بارے میں بھی سوچتا آج میری ساری نیکیاں لوگ نہ لے جاتے اور اپنے گناہوں کی بوریاں مجھے نہ دے جاتے
اب تو جہنم میں جلنا میرا مقدر ہے

جنت کا ٹکٹ مفت حاصل کریںآقا محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیا گیا ایسا تحفہ جوآپ کے لیے کنفرم جنتی ہونے کی بشارت ...
01/03/2025

جنت کا ٹکٹ مفت حاصل کریں
آقا محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیا گیا ایسا تحفہ جوآپ کے لیے کنفرم جنتی ہونے کی بشارت ہے
جنت کا یہ ٹکٹ مفت حاصل کرنےکےلیے ابھی "جنت"لکھیں

مرکز دارالمسلم خوشاب
واٹس ایپ 03126530983

20/01/2025

ظالموں نےمسجد کو بھی نہ بخشا
کل 19جنوری بروز اتوار رات 10:54 پر یہ دو نام نہاد موٹرسائیکل سوار چور مسجد دارالمسلم نزد ایرڈ یونیورسٹی خوشاب کا گلہ توڑ کر پیسے نکال کرلے گئے رات اور دھند کی وجہ سے فوٹیج کلیئر نہ آئی
پوسٹ شئیر کریں تاکہ حلیہ سے کوئی نہ کوئی ان بدبختوں کو پہچان لے

Address

Khushab

Opening Hours

09:00 - 18:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Muslim Khushab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Darul Muslim Khushab:

Share