19/09/2022
تعلیمی نظام میں عدم دلچسپی کی وجوہات۔۔۔
حالیہ طالب علموں کے آنیوالے نتاٸج پر والدین ,اساتذہ اور خود طالب علم اپنے نتاٸج پر پریشان حال ہیں اور سوشل میڈیا پر ناکامیوں کی پوسٹیں لگا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔لیکن اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کے لیے کوٸی تیار نہیں۔۔
موجودہ ناکامیوں کے اسباب اور اس کے حل۔۔
والدین کو اپنے بچوں پر کنٹرول نہیں ہے جو کہ والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔موجودہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔اب تقریبا ہر دوسرے نہیں تو تیسے طالب علم کے پاس موباٸل موجود ہے۔جس کا استعمال منفی یا مثبت کر رہا بچہ۔۔۔یہ والدین کو لازمی پتہ ہونا چاہیے اگر بڑا بھاٸی ہے تو اس کو اس کی خبر رکھنی چاہیے۔۔۔کوشش تو یہ کریں کہ بچوں کو مکمل وقت کے لیے سیل فون نا دیں۔۔
اس کے بعد اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے۔۔۔معلم کا مقام و مرتبہ جتنا اونچا ہے۔آج کے اکثر اساتذہ اس کی بے توقیری کرتے نظر آتے ہیں۔
استاد خود پاس بیٹھا کر بچے کو موباٸیل سے انٹرٹین کرتا ہے تو آپ خود سمجھ جاٸیں۔۔۔
اکثر بچوں سے سننے کو ملتا ہے اور دیکھا بھی ہے کہ اساتذہ کرام بچوں کے ساتھ پب جی اور اس طرح کی اور گیمز کھیلتے ہیں۔اب بچے احترام کیسے کریں گے۔۔بات یہاں ختم نہیں بلکہ سربراہ ادارہ یا ہیڈ ادارے کا اس کا اساتذہ پر کوٸی کنٹرول نہیں۔۔اور جیسا سربراہ ادارہ کا مقام ہونا چاہیے وہ بھی اس کو بھلاٸے ہوٸے ہیں۔۔
پیسے کی ہوس اور انسانی خواہشات کے ریلے نے بھی طالب علموں کے اذہان کو متاثر کیا ہے۔
بلکہ اب بچہ تھوڑا ہی بڑا ہوتا ہے تو اس کے منہ پر پیسہ کی رَٹ سجی ہوتی ہے۔۔
ہمارے شہر اور اڑوس پڑوس کے علاقوں میں ”ڈیلنگ“(فراڈ،دھوکہ) نے بھی سٹوڈنٹ کے مستقبل کو داٶ پر لگایا ہے۔کرونا کی چھٹیوں کے بعد جب سکول کھلنے لگے تو ڈیلر مافیا پریشان ہو گیا کہ اب ورکر کم ہو جاٸیں گے۔۔۔اور ڈیلنگ مافیا کی تحسین و اکرام میں والدین اور اساتذہ برابر کے شریک ہیں۔۔۔
بچوں میں حرام کمانا،نشہ اور غیر اخلاقی حرکتیں دیکھنے کو مسلسل مِل رہی ہیں۔۔کوٸی اس پر روکنے کو آگے نہیں آتا۔۔اور کہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ اس کا اپنا فعل ہے۔۔۔
قرآن میں ہمیں ”خیرِ اُمت“امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے کہا گیا ہے۔۔
اس لیے ہمیں اپنی اداٶں پر خود سمجھنے اور سمنبھلنے کی ضرورت ہے۔۔
از قلم۔۔۔معراج رسول بگھور