14/04/2026
*Surah Maryam (19), Ayat 77*
*Arabic:*
اَفَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوۡتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا ﴿ؕ۷﴾
*Urdu Translation:*
_کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی۔_
آیت کا پس منظر اور مطلب
یہ آیت کفار مکہ کے ایک سردار *عاص بن وائل سہمی* کے بارے میں نازل ہوئی۔ واقعہ یہ تھا کہ صحابی حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے عاص بن وائل سے اپنا قرض مانگا۔ اس نے جواب دیا:
"میں تمہارا قرض اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد ﷺ کا انکار نہ کر دو۔"
حضرت خباب نے کہا: "میں مر کر دوبارہ زندہ ہو جاؤں تب بھی محمد ﷺ کا انکار نہیں کروں گا۔"
اس پر عاص نے طنزیہ کہا: "اچھا! تو کیا میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جاؤں گا؟ اگر ایسا ہے تو وہاں بھی میرے پاس مال اور اولاد ہو گی، اور میں وہاں سے تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔"
اسی رویے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: *اَفَرَءَیۡتَ* "کیا تم نے اس شخص کو دیکھا" — یعنی اس کی جہالت اور تکبر پر غور کرو۔ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتا ہے، آخرت کو مذاق سمجھتا ہے، اور پھر بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو وہاں اسے مال و اولاد ضرور ملے گی۔
اگلی آیات میں اللہ کا جواب
اس کے فوراً بعد آیت 78-80 میں اللہ تعالیٰ اس کے دعوے کو رد کرتے ہیں:
*"کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے؟ یا اس نے رحمٰن سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟ ہرگز نہیں! ہم لکھ لیں گے جو کچھ وہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب کو بڑھاتے چلے جائیں گے۔ اور جو کچھ یہ کہتا ہے وہ سب ہم اس سے چھین لیں گے، اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔"* [19:78-80]
سبق
1. *تکبر اور دنیا پرستی*: کافر کا یہ گمان تھا کہ دنیا کی طرح آخرت میں بھی مال و اولاد اسے نجات دے دیں گے، حالانکہ وہاں صرف ایمان اور عمل کام آئیں گے۔
2. *آخرت کا انکار مذاق میں*: قیامت کو سنجیدہ نہ لینا اور اپنی خواہشات کو حقیقت سمجھ لینا کفر کی علامت ہے۔
3. *اللہ کے ہاں معیار*: وہاں نسب، مال، اولاد نہیں بلکہ تقویٰ اور ایمان دیکھا جائے گا۔