Online Quran Teacher Qari

Online Quran Teacher Qari If your child wants to learn the Quran, Qaida, or other Islamic studies.

Asalamalikum
Learn Quran Online with Us
We provide online Quran classes for children, especially for those living in other countries who do not have easy access to Quran education.

🕊️ توبہ کی طاقت - قاتل کی معافینبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک عجیب کہانی سنائی۔"بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھ...
14/03/2026

🕊️ توبہ کی طاقت -
قاتل کی معافی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک عجیب کہانی سنائی۔

"بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا تھا۔ وہ سب سے بڑا گناہگار تھا۔ لوگ اس کے نام سے کانپتے تھے۔"

ایک دن اس قاتل کے دل میں خیال آیا: "کیا میرے گناہ معاف ہو سکتے ہیں؟"

وہ ایک عابد کے پاس گیا اور پوچھا: "میں نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟"

عابد نے ڈر کر کہا: "نہیں! تو نے اتنے گناہ کیے ہیں کہ تیری معافی ممکن نہیں۔"

قاتل کو غصہ آیا اور اس نے عابد کو بھی قتل کر دیا۔ اب سو ہو گئے۔

لیکن اس کے دل میں ابھی بھی توبہ کی چنگاری تھی۔ وہ ایک عالم کے پاس گیا اور وہی سوال پوچھا۔

عالم نے کہا: "ہاں! اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ تو نے بڑے گناہ کیے ہیں لیکن اللہ معاف کرنے والا ہے۔ البتہ تجھے اس بری بستی کو چھوڑنا ہوگا اور ایک نیک بستی میں جانا ہوگا۔"

قاتل نے فوراً سفر شروع کر دیا۔ نیک بستی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں اس کی موت آ گئی۔

رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آئے۔ عذاب کے فرشتے کہنے لگے: "یہ سو لوگوں کا قاتل ہے۔" رحمت کے فرشتے کہنے لگے: "یہ توبہ کر کے نیک بستی جا رہا تھا۔"

اللہ نے حکم دیا: "ناپ لو کہ یہ کس بستی سے زیادہ قریب ہے۔"

اللہ نے نیک بستی کو حکم دیا کہ قریب آ جائے اور بری بستی کو دور ہو جائے۔ جب ناپا گیا تو وہ نیک بستی سے ایک بالشت قریب تھا۔

رحمت کے فرشتے اسے لے گئے۔ اللہ نے اسے معاف کر دیا۔

سبق: اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ سچی توبہ ہر گناہ مٹا دیتی ہے۔

🌙 قرآن کی برکت - ایک اندھے کی کہانیایک گاؤں میں ایک اندھا بڑھا رہتا تھا۔ وہ پیدائش سے اندھا تھا۔ اس نے کبھی سورج نہیں دی...
13/03/2026

🌙 قرآن کی برکت -
ایک اندھے کی کہانی
ایک گاؤں میں ایک اندھا بڑھا رہتا تھا۔ وہ پیدائش سے اندھا تھا۔ اس نے کبھی سورج نہیں دیکھا، کبھی چاند نہیں دیکھا، کبھی پھول نہیں دیکھے۔

لیکن اس بڑھے کے پاس ایک خزانہ تھا۔ اس نے پورا قرآن یاد کر رکھا تھا۔ وہ ہر روز گھنٹوں قرآن پڑھتا۔ رات کو اٹھ کر تہجد پڑھتا اور قرآن کی تلاوت کرتا۔

لوگ اسے کہتے: "بابا! آپ نے آنکھیں نہیں پائیں لیکن آپ کبھی غمگین نہیں ہوتے۔ کیا راز ہے؟"

بڑھا مسکراتا اور کہتا: "میری آنکھیں تو نہیں ہیں لیکن میرا دل قرآن سے روشن ہے۔ جب میں قرآن پڑھتا ہوں تو جنت کے باغ دیکھتا ہوں۔ جب سورة الرحمن پڑھتا ہوں تو اللہ کی نعمتیں گنتا ہوں۔"

ایک دن گاؤں میں طوفان آیا۔ بجلی کڑکی۔ بارش ہوئی۔ لوگ ڈر گئے۔ انہوں نے بڑھے کو بلایا اور کہا: "بابا! دعا کرو۔"

بڑھے نے قرآن پڑھنا شروع کیا۔ اس کی آواز میں سکون تھا۔ جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا، لوگوں کا ڈر کم ہوتا گیا۔ طوفان تھم گیا۔

جب بڑھا فوت ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر نور ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے سو رہا ہو۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔

لوگوں نے کہا: "اس نے دنیا کی روشنی نہیں دیکھی لیکن آخرت کی روشنی پا لی۔"

سبق: قرآن دلوں کی روشنی ہے۔ جو اسے اپنا ساتھی بنا لے، وہ کبھی اندھیرے میں نہیں رہتا۔

💎 امانتداری کا امتحان - ایک تاجر کی کہانیبغداد میں ایک امیر تاجر رہتا تھا۔ اس کا نام محمود تھا۔ وہ بہت ایماندار آدمی تھا...
12/03/2026

💎 امانتداری کا امتحان -
ایک تاجر کی کہانی
بغداد میں ایک امیر تاجر رہتا تھا۔ اس کا نام محمود تھا۔ وہ بہت ایماندار آدمی تھا۔ لوگ اس پر اعتماد کرتے تھے۔

ایک دن ایک غریب آدمی محمود کے پاس آیا۔ اس نے کہا: "میں حج پر جا رہا ہوں۔ میری ساری جمع پونجی یہ تھیلی ہے جس میں سو سونے کے سکے ہیں۔ کیا آپ اسے سنبھال کر رکھیں گے جب تک میں واپس آؤں؟"

محمود نے کہا: "ضرور۔ یہ میرے پاس محفوظ رہے گی۔"

غریب آدمی حج پر چلا گیا۔ مہینے گزر گئے۔ ایک سال گزر گیا۔ غریب آدمی واپس نہیں آیا۔ لوگوں نے سوچا شاید وہ راستے میں فوت ہو گیا۔

پانچ سال گزر گئے۔ محمود نے وہ تھیلی محفوظ رکھی۔ کبھی نہیں کھولی۔

ایک دن وہ غریب آدمی واپس آیا۔ وہ بیمار پڑ گیا تھا اور علاج کے لیے کہیں رکنا پڑا تھا۔

اس نے سوچا کہ اب تو محمود نے سارے پیسے خرچ کر دیے ہوں گے۔ پانچ سال ہو گئے۔ کون اتنی دیر امانت رکھتا ہے؟

لیکن جب وہ محمود کے پاس گیا تو محمود نے وہی تھیلی نکال کر اسے دے دی۔ سارے سو سکے موجود تھے۔

غریب آدمی رونے لگا: "آپ نے پانچ سال تک ایک غریب آدمی کی امانت رکھی؟"

محمود نے کہا: "امانت امانت ہوتی ہے۔ چاہے ایک دن کی ہو یا سو سال کی۔ اللہ سب دیکھ رہا ہے۔"

بعد میں اس غریب آدمی نے وہ ساری رقم محمود کو دے دی اور کہا: "آپ جیسے ایماندار کی امانت میں یہ پیسے بہتر ہیں۔ آپ اسے صدقہ میں دے دیں۔"

سبق: امانتداری کا مقام بہت بلند ہے۔ امانت میں خیانت کرنا منافقین کی علامت ہے۔

🌺 معاف کرنے والا یہودی بڑھامدینہ منورہ میں ایک یہودی بڑھا رہتا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ وہ ہ...
11/03/2026

🌺 معاف کرنے والا یہودی بڑھا
مدینہ منورہ میں ایک یہودی بڑھا رہتا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ وہ ہمیشہ آپ کو تکلیف دینے کی کوشش کرتا۔

ہر روز صبح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد جاتے، یہ بڑھا اپنے گھر کی چھت پر کھڑا ہو کر آپ پر کچرا پھینکتا۔ کبھی راکھ، کبھی گندگی، کبھی کانٹے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے کچرا جھاڑتے اور آگے بڑھ جاتے۔ کبھی ناراض نہ ہوتے، کبھی بددعا نہ کرتے۔

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اسی راستے سے گزرے تو کچرا نہیں پڑا۔ آپ نے اوپر دیکھا، بڑھا نہیں تھا۔

آپ نے لوگوں سے پوچھا: "وہ یہودی بڑھا کہاں ہے جو یہاں رہتا ہے؟"

لوگوں نے بتایا: "وہ بیمار ہے۔ کئی دنوں سے بستر پر ہے۔"

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے اس بڑھے کے گھر گئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے کمزور آواز آئی: "کون ہے؟"

"محمد ہوں۔ تمہاری عیادت کو آیا ہوں۔"

بڑھا حیران رہ گیا۔ جس پر وہ ہر روز کچرا پھینکتا تھا، وہ اسے دیکھنے آیا ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے، بڑھے کے پاس بیٹھے، اس کا حال پوچھا، اس کے لیے دعا کی۔

بڑھے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا: "میں نے آپ کو اتنا ستایا اور آپ میری عیادت کو آئے؟ یہ کیسا دین ہے جو دشمن کو بھی معاف کر دے؟"

اسی وقت اس بڑھے نے اسلام قبول کر لیا۔

سبق: برائی کا جواب بھلائی سے دینا چاہیے۔ نرمی اور محبت سے دل جیتے جاتے ہیں۔

⚔️ ننھے مجاہد - حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہبدر کی جنگ کا دن تھا۔ مسلمانوں کی چھوٹی سی فوج کفار کی بڑی فوج کا مقاب...
10/03/2026

⚔️ ننھے مجاہد -
حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
بدر کی جنگ کا دن تھا۔ مسلمانوں کی چھوٹی سی فوج کفار کی بڑی فوج کا مقابلہ کرنے والی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوج کا جائزہ لے رہے تھے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے چھوٹے بھائی عمیر کو چھپا رہے تھے۔ عمیر صرف سولہ سال کے تھے۔ وہ بہت چھوٹے اور دبلے پتلے تھے۔

سعد جانتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے بچوں کو جنگ کی اجازت نہیں دیتے۔ اس لیے وہ عمیر کو بڑے مجاہدین کے پیچھے چھپا رہے تھے۔

لیکن عمیر کو ڈر تھا کہ کہیں وہ پکڑے نہ جائیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ سعد نے پوچھا: "بھائی! تم رو کیوں رہے ہو؟"

عمیر نے کہا: "مجھے ڈر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ لیں گے اور گھر بھیج دیں گے۔ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ میں شہید ہونا چاہتا ہوں۔"

سعد کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ انہوں نے بھائی کو گلے لگایا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر کو دیکھ لیا۔ پہلے تو منع کرنا چاہا لیکن جب عمیر کے ایمان اور جذبے کو دیکھا تو اجازت دے دی۔

جنگ شروع ہوئی۔ عمیر نے بڑی بہادری سے لڑائی کی۔ ان کی تلوار چمکتی رہی۔ آخر کار ایک کافر کی تلوار نے انہیں شہید کر دیا۔

جب جنگ ختم ہوئی تو سعد اپنے بھائی کو ڈھونڈ رہے تھے۔ انہیں عمیر کا جسم ملا۔ چھوٹے سے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے اپنی آرزو پوری کر لی تھی۔

سبق: ایمان کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ جذبہ اور یقین عمر سے بڑا ہوتا ہے۔

🏠 مہمان نوازی کا اجر - حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہمدینہ منورہ میں قحط کا زمانہ تھا۔ لوگوں کے گھروں میں کھانے کو کچھ نہیں ت...
09/03/2026

🏠 مہمان نوازی کا اجر -
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ
مدینہ منورہ میں قحط کا زمانہ تھا۔ لوگوں کے گھروں میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ بھوک نے سب کو پریشان کر رکھا تھا۔

ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا۔ آپ نے اپنی ازواج مطہرات سے پوچھا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟ سب نے کہا کہ پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا: "کون اس مہمان کو لے جائے گا؟"

حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: "یا رسول اللہ! میں لے جاتا ہوں۔"

وہ مہمان کو لے کر گھر گئے۔ گھر پہنچ کر بیوی سے پوچھا: "کچھ کھانے کو ہے؟"

بیوی نے کہا: "صرف اتنا کھانا ہے جو بچوں کے لیے بچایا ہے۔"

حضرت ابوطلحہ نے کہا: "بچوں کو سلا دو اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ بجھا دینا۔ ہم دکھاوا کریں گے کہ ہم بھی کھا رہے ہیں۔"

بیوی نے ایسا ہی کیا۔ بچوں کو بھوکا سلا دیا۔ جب مہمان کھانے بیٹھا تو چراغ بجھا دیا۔ اندھیرے میں ابوطلحہ اور ان کی بیوی نے دکھایا کہ وہ کھا رہے ہیں، حالانکہ وہ بھوکے رہے۔

مہمان نے پیٹ بھر کر کھایا اور اطمینان سے سو گیا۔

اگلی صبح جب حضرت ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے تمہارے کام پر تعجب فرمایا ہے۔"

پھر یہ آیت نازل ہوئی: "وہ لوگ جو اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود محتاج ہوں۔"

سبق: ایثار اور قربانی اللہ کو بہت پسند ہے۔ دوسروں کی ضرورت اپنی ضرورت سے پہلے رکھنا عظیم نیکی ہے۔

💧 پیاسے کتے کی کہانیایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک پرانی کہانی سنائی۔"پرانے زمانے میں ایک گناہگار ...
08/03/2026

💧 پیاسے کتے کی کہانی
ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک پرانی کہانی سنائی۔

"پرانے زمانے میں ایک گناہگار عورت تھی جو بنی اسرائیل میں سے تھی۔ وہ بہت برے کام کیا کرتی تھی۔ لوگ اس سے نفرت کرتے تھے۔"

ایک دن گرمیوں میں وہ عورت کسی صحرائی علاقے سے گزر رہی تھی۔ سورج سر پر آگ برسا رہا تھا۔ اسے بہت پیاس لگی۔

چلتے چلتے اسے ایک کنواں نظر آیا۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ کنویں میں اتری اور خوب پانی پیا۔ جب وہ باہر آئی تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا کنویں کے پاس کھڑا ہے۔

کتا پیاس سے بے حال تھا۔ اس کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی۔ وہ گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں تکلیف جھلک رہی تھی۔

عورت نے سوچا: "یہ کتا بھی اسی طرح پیاسا ہے جیسے میں پیاسی تھی۔"

اس کے پاس کوئی برتن نہیں تھا۔ پھر اسے ایک خیال آیا۔ اس نے اپنا چمڑے کا موزہ اتارا اور دوبارہ کنویں میں اتری۔ موزے میں پانی بھرا اور باہر آئی۔

اس نے کتے کو پانی پلایا۔ کتے نے پانی پیا اور اس کی طرف شکریے سے دیکھا۔ کتے کی آنکھوں میں راحت آ گئی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ نے اس عورت کے اس ایک کام کی وجہ سے اس کے سارے گناہ معاف کر دیے اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔"

صحابہ نے حیران ہو کر پوچھا: "یا رسول اللہ! کیا جانوروں پر رحم کرنے میں بھی ثواب ہے؟"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر جاندار کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں ثواب ہے۔"

سبق: ہر مخلوق کے ساتھ رحم کرنا چاہیے۔ نیکی چاہے چھوٹی ہو، اللہ کے نزدیک بڑی قیمت رکھتی ہے۔

🌟 ماں کی محبت - حضرت اویس قرنی رحمہ اللہیمن کے ایک چھوٹے سے گاؤں قرن میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام اویس تھا۔ وہ بہت ...
07/03/2026

🌟 ماں کی محبت -
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ
یمن کے ایک چھوٹے سے گاؤں قرن میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام اویس تھا۔ وہ بہت نیک اور عبادت گزار تھا۔ اس کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔

اویس کی ایک بوڑھی ماں تھیں جو بیمار اور کمزور تھیں۔ وہ چل پھر نہیں سکتی تھیں اور ہر وقت اویس کی دیکھ بھال کی محتاج تھیں۔

اویس کا دل چاہتا تھا کہ مدینہ جائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرے۔ لیکن وہ اپنی ماں کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔

کئی سال گزر گئے۔ اویس ہر روز ماں کی خدمت کرتا، ان کو کھانا کھلاتا، ان کا علاج کرتا اور رات کو ان کے پاس بیٹھ کر سوتا۔

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: "یمن میں ایک شخص ہے جس کا نام اویس قرنی ہے۔ وہ اپنی ماں کی خدمت کی وجہ سے میرے پاس نہیں آ سکا۔ اس کے جسم پر سفید داغ تھے مگر اس نے دعا کی تو اللہ نے شفا دے دی صرف ایک چھوٹا سا داغ رہ گیا۔"

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم میں سے کوئی اویس سے ملے تو اس سے اپنے لیے دعا کروانا۔ اویس کی دعا قبول ہوتی ہے۔"

یہ سن کر صحابہ حیران رہ گئے کہ جس شخص نے نبی کو دیکھا بھی نہیں، اس کا اتنا مقام!

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں جب یمن سے لوگ آتے تو وہ پوچھتے: "کیا تم میں اویس قرنی ہے؟" بالآخر ایک دن اویس ملے۔ حضرت عمر نے ان سے دعا کروائی۔

اویس بہت سادہ انسان تھے۔ انہوں نے کہا: "اے عمر! آپ صحابی ہیں، آپ کی دعا مجھ سے بہتر ہے۔"

لیکن حضرت عمر نے کہا: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ آپ کی دعا قبول ہوتی ہے۔"

سبق: ماں کی خدمت کا مقام اللہ کے نزدیک بہت بلند ہے۔ والدین کی خدمت اللہ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

🕌 صبر کا پھل - حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی داستانحضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ کے رہنے والے تھے۔ وہ امیہ بن خلف کے غلام تھے۔...
06/03/2026

🕌 صبر کا پھل -
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی داستان
حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ کے رہنے والے تھے۔ وہ امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے مالک نے ان پر ظلم کی انتہا کر دی۔

مکہ کی تپتی ریت پر جب سورج آگ برساتا، امیہ بن خلف حضرت بلال کو لٹا دیتا۔ ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتا اور کہتا: "محمد کا ساتھ چھوڑ دو! لات اور عزیٰ کو مان لو!"

لیکن حضرت بلال صرف ایک لفظ کہتے: "اَحَد! اَحَد!" یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔

کبھی انہیں گرم ریت پر گھسیٹا جاتا، کبھی کوڑے مارے جاتے۔ لیکن وہ اپنے ایمان پر ڈٹے رہے۔ ان کا جسم زخموں سے چور ہو جاتا مگر زبان پر "اَحَد" کے سوا کچھ نہ آتا۔

ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا۔ انہوں نے یہ ظلم دیکھا تو ان کا دل بھر آیا۔ انہوں نے امیہ سے پوچھا: "اس غلام کی کیا قیمت ہے؟"

امیہ نے بہت زیادہ قیمت بتائی۔ حضرت ابوبکر نے فوراً وہ رقم ادا کر دی اور حضرت بلال کو آزاد کر دیا۔

جب حضرت بلال آزاد ہوئے تو وہ دوڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ ان کے زخم ابھی تازہ تھے مگر چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

بعد میں جب مدینہ میں پہلی مسجد بنی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو اسلام کا پہلا مؤذن بنایا۔ ان کی آواز اتنی پیاری تھی کہ لوگ سننے کے لیے دور دور سے آتے۔

فتح مکہ کے دن حضرت بلال نے کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دی۔ وہی مکہ جہاں انہیں تڑپایا گیا تھا، آج وہاں ان کی آواز گونج رہی تھی۔

سبق: صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔ مشکلات میں ایمان پر قائم رہنے والوں کو اللہ ضرور عزت دیتا ہے۔

🌙 سچائی کی طاقت - حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہبہت پہلے کی بات ہے جب مکہ مکرمہ میں اسلام کی روشنی پھیلنی شروع ہوئی ...
05/03/2026

🌙 سچائی کی طاقت -
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
بہت پہلے کی بات ہے جب مکہ مکرمہ میں اسلام کی روشنی پھیلنی شروع ہوئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک غریب چرواہے تھے جو عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں پیاس لگی تو انہوں نے ایک چھوٹے بچے کو دیکھا جو بکریاں چرا رہا تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "اے بچے! کیا تمہارے پاس دودھ ہے؟"

عبداللہ نے کہا: "جی ہاں، دودھ تو ہے لیکن یہ بکریاں میری نہیں ہیں۔ یہ امانت ہیں میرے مالک کی۔ میں آپ کو دودھ نہیں دے سکتا۔"

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جواب سن کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا: "کوئی ایسی بکری لاؤ جسے بچہ نہ ہوا ہو۔"

عبداللہ ایک ایسی بکری لے آئے جس نے کبھی بچہ نہیں دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا نام لیا اور اس بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا۔ فوراً دودھ نکلنا شروع ہو گیا۔

عبداللہ یہ معجزہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔

وہ بعد میں قرآن کے سب سے بڑے عالم بنے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو قرآن سیکھنا چاہے وہ ابن مسعود سے سیکھے۔"

سبق: امانت داری اور سچائی انسان کو عزت دلاتی ہے۔ ایمانداری سے بڑی کوئی دولت نہیں۔

Address

Keamari
Karachi
74200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online Quran Teacher Qari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share