14/03/2026
🕊️ توبہ کی طاقت -
قاتل کی معافی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک عجیب کہانی سنائی۔
"بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا جس نے ننانوے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا تھا۔ وہ سب سے بڑا گناہگار تھا۔ لوگ اس کے نام سے کانپتے تھے۔"
ایک دن اس قاتل کے دل میں خیال آیا: "کیا میرے گناہ معاف ہو سکتے ہیں؟"
وہ ایک عابد کے پاس گیا اور پوچھا: "میں نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟"
عابد نے ڈر کر کہا: "نہیں! تو نے اتنے گناہ کیے ہیں کہ تیری معافی ممکن نہیں۔"
قاتل کو غصہ آیا اور اس نے عابد کو بھی قتل کر دیا۔ اب سو ہو گئے۔
لیکن اس کے دل میں ابھی بھی توبہ کی چنگاری تھی۔ وہ ایک عالم کے پاس گیا اور وہی سوال پوچھا۔
عالم نے کہا: "ہاں! اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ تو نے بڑے گناہ کیے ہیں لیکن اللہ معاف کرنے والا ہے۔ البتہ تجھے اس بری بستی کو چھوڑنا ہوگا اور ایک نیک بستی میں جانا ہوگا۔"
قاتل نے فوراً سفر شروع کر دیا۔ نیک بستی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں اس کی موت آ گئی۔
رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آئے۔ عذاب کے فرشتے کہنے لگے: "یہ سو لوگوں کا قاتل ہے۔" رحمت کے فرشتے کہنے لگے: "یہ توبہ کر کے نیک بستی جا رہا تھا۔"
اللہ نے حکم دیا: "ناپ لو کہ یہ کس بستی سے زیادہ قریب ہے۔"
اللہ نے نیک بستی کو حکم دیا کہ قریب آ جائے اور بری بستی کو دور ہو جائے۔ جب ناپا گیا تو وہ نیک بستی سے ایک بالشت قریب تھا۔
رحمت کے فرشتے اسے لے گئے۔ اللہ نے اسے معاف کر دیا۔
سبق: اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ سچی توبہ ہر گناہ مٹا دیتی ہے۔