24/08/2026
عقدِ رسول اللہ خاتم الانبیاء حضرت مولا و آقا محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت بی بی خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیھا آپ تمام مؤمنین و مؤمنات کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارک ہو !
حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا اور مولا و آقا رسول اللہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عقد مبارک تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی اہم اور بابرکت واقعہ ہے۔ یہ نکاح نبوت سے تقریباً 15 سال قبل ( غالباً 9 ربیع الأول 595ء میں ) مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا۔
واقعات و پس منظر
* تجارتی شراکت:
حضرت خدیجہ { س } مکہ کی ایک انتہائی شریف، معزز اور دولتمند خاتون تھیں (جنہیں 'طاہرہ' کہا جاتا تھا)۔ انہوں نے آپ { ص } کی امانت و صداقت سے متاثر ہو کر اپنے تجارتی قافلے کی قیادت آپ ص کے سپرد کی۔
* بصیرت و مشاہدہ:
شام کے تجارتی سفر کے دوران حضرت خدیجہ { س } کے غلام 'میصرہ' نے آپ ص کے عالی شان اخلاق، صداقت اور برکات کا قریب سے مشاہدہ کیا اور واپسی پر تمام تفاصیل حضرت خدیجہ کو بتائیں۔
* رشتے کی پیشکش:
آپ ص کی سیرت پاک سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ { س } نے اپنی سہیلی (نفیسہ بنتِ منبہ) کے ذریعے آپ ص کو نکاح کا پیغام بھیجا، جسے آپ ص نے اپنے چچا حضرت ابو طالب علیہ السلآم سے مشورے کے بعد قبول فرمایا۔
خطبہ نکاح اور مہر
* سن و سال: عقد کے وقت رسول اللہ { ص } کی عمر مبارک 25 سال تھی، جبکہ حضرت خدیجہ { س } کی عمر 40 سال (بعض روایات کے مطابق 28 یا 35 سال) تھی۔
* سرپرستی و خطبہ:
نکاح کی تقریب میں آپ ص کے چچا حضرت ابو طالب { ع } ، حضرت حمزہ علیہ السلآم اور دیگر رؤسائے قریش شریک ہوئے۔ خطبہ نکاح حضرت ابو طالب { ع } نے پڑھا۔
* حق مہر:
حضرت خدیجہ { س } کا حق مہر 500 طلائی درہم (یا 20 اونٹ) مقرر ہوا، جس کی ادائیگی آپ { ص } نے کی۔
اہمیت و ثمرات :
یہ شادی بے حد مبارک اور مثالی ثابت ہوئی۔ حضرت خدیجہ { س } نے ہر مشکل وقت میں آپ { ص } کا ساتھ دیا، سب سے پہلے ایمان لائیں اور اپنا تمام مال اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ حضرت ابراہیم کے علاوہ، آپ { ص } کی تمام اولاد (حضرت فاطمہ زہرا مادر دوجہاں سلام اللہ علیہا ، حضرت زینب { س } ، حضرت رقیہ { س }، حضرت ام کلثوم { س } ، حضرت قاسم { ع }، اور حضرت عبداللہ ع ) حضرت خدیجہ { س } ہی کے بطن سے پیدا ہوئی۔
تحقیقات : عارف حسین مرادی