Moula Ali (a.s.) Mushkil Kusha

Moula Ali (a.s.) Mushkil Kusha مشکلوں کا شکریہ ہم پر عنایت ہو گئی یا علیؑ مشکل کشا کہنے

اشهد انك نعم الرّبّ و انّ محمّداً نعم الرّسول و انّ علیاً نعم الوصی و نعم الامام

ترجمہ: میں گواھی دیتا ھوں کے (اے اللہ) تو بھترین رب ھے اور محمد (ص) بھترین رسول ھیں اور علی علیہ السلام بھترین وصی اور بھترین امام ھیں

24/08/2026

عقدِ رسول اللہ خاتم الانبیاء حضرت مولا و آقا محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت بی بی خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیھا آپ تمام مؤمنین و مؤمنات کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارک ہو !

حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا اور مولا و آقا رسول اللہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عقد مبارک تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی اہم اور بابرکت واقعہ ہے۔ یہ نکاح نبوت سے تقریباً 15 سال قبل ( غالباً 9 ربیع الأول 595ء میں ) مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا۔

واقعات و پس منظر

* تجارتی شراکت:
حضرت خدیجہ { س } مکہ کی ایک انتہائی شریف، معزز اور دولتمند خاتون تھیں (جنہیں 'طاہرہ' کہا جاتا تھا)۔ انہوں نے آپ { ص } کی امانت و صداقت سے متاثر ہو کر اپنے تجارتی قافلے کی قیادت آپ ص کے سپرد کی۔

* بصیرت و مشاہدہ:
شام کے تجارتی سفر کے دوران حضرت خدیجہ { س } کے غلام 'میصرہ' نے آپ ص کے عالی شان اخلاق، صداقت اور برکات کا قریب سے مشاہدہ کیا اور واپسی پر تمام تفاصیل حضرت خدیجہ کو بتائیں۔

* رشتے کی پیشکش:
آپ ص کی سیرت پاک سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ { س } نے اپنی سہیلی (نفیسہ بنتِ منبہ) کے ذریعے آپ ص کو نکاح کا پیغام بھیجا، جسے آپ ص نے اپنے چچا حضرت ابو طالب علیہ السلآم سے مشورے کے بعد قبول فرمایا۔

خطبہ نکاح اور مہر
* سن و سال: عقد کے وقت رسول اللہ { ص } کی عمر مبارک 25 سال تھی، جبکہ حضرت خدیجہ { س } کی عمر 40 سال (بعض روایات کے مطابق 28 یا 35 سال) تھی۔

* سرپرستی و خطبہ:
نکاح کی تقریب میں آپ ص کے چچا حضرت ابو طالب { ع } ، حضرت حمزہ علیہ السلآم اور دیگر رؤسائے قریش شریک ہوئے۔ خطبہ نکاح حضرت ابو طالب { ع } نے پڑھا۔

* حق مہر:
حضرت خدیجہ { س } کا حق مہر 500 طلائی درہم (یا 20 اونٹ) مقرر ہوا، جس کی ادائیگی آپ { ص } نے کی۔

اہمیت و ثمرات :
یہ شادی بے حد مبارک اور مثالی ثابت ہوئی۔ حضرت خدیجہ { س } نے ہر مشکل وقت میں آپ { ص } کا ساتھ دیا، سب سے پہلے ایمان لائیں اور اپنا تمام مال اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ حضرت ابراہیم کے علاوہ، آپ { ص } کی تمام اولاد (حضرت فاطمہ زہرا مادر دوجہاں سلام اللہ علیہا ، حضرت زینب { س } ، حضرت رقیہ { س }، حضرت ام کلثوم { س } ، حضرت قاسم { ع }، اور حضرت عبداللہ ع ) حضرت خدیجہ { س } ہی کے بطن سے پیدا ہوئی۔

تحقیقات : عارف حسین مرادی

23/08/2026

عیدِ زہرا سلام اللہ علیہا کس عنوان سے منائی جائے؟

قارئینِ کرام!
سب سے پہلے اس پُر مسرت موقع پر تمام احباب کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم اس عید کے متعلق چند علمی نکات آپ کی خدمت میں رکھ رہے ہیں۔ امکان ہے کہ کچھ باتیں آپ کے لیے بالکل نئی ہوں، لیکن امید ہے کہ آپ سب چیزوں کو علمی و عقلی زاویے سے دیکھیں گے۔

اہلِ علم حضرات سے بھی گزارش ہے کہ اگر کہیں ہمیں خطا پر پائیں تو ضرور اصلاح فرمائیں۔

ایک شیعہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں اپنے اَئمہ ہدی علیہم السلام کی احادیث کو سامنے رکھ کر عمل کرے۔ اسی روش پر ہم بھی یہ کوشش کریں گے کہ اس عید کے بارے میں یہ واضح کریں کہ ہمارے اَئمہ ہدی علیہم السلام نے اس کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔

اس عید کے حوالے سے جو نظریات پائے جاتے ہیں اور جن بنیادوں پر عید منائی جاتی ہے، وہ درج ذیل ہیں:

عید منانے کے مختلف نظریات

۱: اس دن عمر بن سعد، عبیداللہ بن زیاد اور حرملہ لعنھم اللہ وغیرہ کا حضرتِ مختار کے ہاتھوں قتل ہونا۔
۲: یہ دن امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی امامت کا پہلا دن ہے۔
۳: اہلِ بیت علیہم السلام کا غم اس دن ختم ہوا اور ان کے سامنے دشمنانِ شہدائے کربلا علیہم السلام کے سروں کو پیش کیا گیا۔
۴: ایک منحرفِ خدا و اہلبیت علیہم السلام کے مرنے کا دن ہے۔

ہمارا مؤقف

ہمارے نزدیک پہلی تین وجوہات غیر ثابت ہیں، کیونکہ ان کا اَئمہ ہدیؑ کی احادیث میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ بلکہ بعض باتیں تو عقل کے بھی خلاف معلوم ہوتی ہیں۔
(اگر کسی اہلِ علم کے پاس ان کے بارے میں کوئی معتبر حدیث ہو تو ضرور مطلع کریں تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہو سکے۔)
وجہ اول

پہلی وجہ اس لیے درست نہیں کہ:

اولاً: ہمیں اس کا کوئی ثبوت اَئمہ ہدیٰ علیہم السلام کی احادیث میں نہیں ملتا۔

ثانیاً: حضرتِ مختار کا قیام ۱۴ ربیع الاول کو ہوا تھا، اور انتقام بعد میں لیا گیا۔ جیسا کہ محمد بن یعقوب مسکویہ
اپنی کتاب میں "خروج المختار" کے ذیل میں لکھتے ہیں:

"أن يخرجوا ليلة الخميس لأربع عشرة من ربيع الأول [١٨٧] سنة ستّ وستين، ووطّن على ذلك شيعتهم ومن أجابهم."
وہ (حضرتِ مختار) ۱۴ ربیع الاول ۶۶ ہجری کو جمعرات کی رات نکلے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں اور حامیوں کو اس کے لیے تیار کر لیا۔

حوالہ: تجارب الامم، جلد ۲، ص ۱۴۷، طبع دار سروش

چونکہ حضرت مختار کا قیام ۱۴ ربیع الاول کو ہوا تھا اور قیام و انتقام میں کافی دن لگ گئے تھے، لہٰذا یہ بات تاریخی اعتبار سے بھی درست نہیں کہ اس دن کو ۹ ربیع الاول کو عید کے طور پر منایا جائے۔ اگر اس بنیاد پر عید منائی جائے تو اسے ربیع الثانی کے بعد ہونا چاہیے، نہ کہ ۹ ربیع الاول کو۔

وجہ دوم
یہ نظریہ انتہائی خطرناک، غیر علمی اور خلافِ عقل ہے:

۱: اگر امام عصرؑ کی امامت کے پہلے دن خوشی منانا ضروری ہو تو پھر ہمیں تمام اَئمہ ہدی علیہم السلام کی امامت کے پہلے دن بھی عید منانی چاہیے، جبکہ ایسا کوئی شیعہ نہیں کرتا۔

۲: اگر امام عصرؑ کی امامت کا پہلا دن عید کے طور پر مناتے ہیں تو پہلا دن ۸ ربیع الاول ہوگا، نہ کہ ۹ ربیع الاول، کیونکہ شیعہ مسلمات میں سے ہے اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ امامت اسی لمحے شروع ہوگئی تھی جب امام حسن عسکریؑ کی شہادت ہوئی۔ زمین ایک لمحے کے لیے بھی حجتِ خدا کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، جیسا کہ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏ إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو إِلَّا وَ فِيهَا إِمَامٌ كَيْمَا
زمین حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی، اس میں ضرور ایک امام موجود ہوتا ہے۔
حوالہ: الکافی، کتاب الحجة

لہٰذا یہ تصور قائم کرنا کہ امام عصرؑ دوسرے دن یعنی ۹ ربیع الاول کو امام بنے، شیعہ مسلمات اور احادیثِ صریحہ کے خلاف ہے۔

۳: امام حسن عسکریؑ کی شہادت ۸ ربیع الاول کو فجر کے قریب ہوئی، جیسا کہ شیخ عباس قمیؒ نے سیرتِ معصومینؑ میں ذکر کیا ہے، اور چونکہ دن کی ابتدا فجر سے ہوتی ہے، لہٰذا امام عصرؑ کی امامت کا پہلا دن ۸ ربیع الاول ہی ہوگا، نہ کہ ۹ ربیع الاول۔
وجہ سوم

اس بات کا کوئی ثبوت کتبِ احادیث میں نہیں ملتا کہ اَئمہ ہدیؑ نے کربلا کے غم کے خاتمے کے عنوان سے اس عید کو منایا ہو۔ اگرچہ بعض علماء نے اس وجہ کو بیان کیا ہے، مگر انہوں نے اس سلسلے میں کسی معتبر حدیث کا حوالہ نہیں دیا۔
وجہ چہارم معتبر وجہ

ہمارے نزدیک سب سے معتبر وجہ یہ ہے کہ اس دن ایک منحرفِ خدا و اہلبیتؑ مرا تھا، اور احادیثِ اَئمہ ہدیؑ اور شیعہ محدثین و فقہاء کا عمل اسی پر رہا ہے۔
پہلی روایت
علامہ سلیمان بن محمد حلیؒ اپنی سند کے ساتھ ایک طویل روایت نقل کرتے ہیں۔ ہم اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

امام حسن عسکریؑ کے صحابی احمد بن اسحاقؒ کہتے ہیں:

الشیخ الفاضل علي بن مظاهر الواسطي عن محمد بن العلا الهمداني الواسطي ويحيى بن جريح البغدادي قال الخ۔۔

ہم امام حسن عسکریؑ کے گھر کے مہمان خانے میں بیٹھے تھے کہ امامؑ ہمارے پاس تشریف لائے۔ امامؑ نے گھر کے تمام خدام کو حکم دیا کہ جتنا ممکن ہو سکے نئے کپڑے پہن لیں۔ اس وقت امامؑ کے سامنے لوبان رکھا ہوا تھا، جس کی خوشبو سے محفل معطر تھی۔ ہم نے عرض کیا:

اے فرزندِ رسولؑ! کیا یہ اہلِ بیتؑ کے لیے نئی خوشی کا دن ہے؟

امامؑ نے فرمایا:
أَى يَومٍ أَعْظَمُ حُرْمَةٍ عِنْدَ أَهْلِ الْبِيْتِ مِنْ هَذَا الْيَوم ؟
"آج کے دن سے بڑھ کر اہلِ بیتؑ کے نزدیک عظیم حرمت والا دن بھلا کون سا ہے؟"

حوالہ: المحتضر، ص ۸۹ تا ۱۰۴، تحقیق سید علی اشرف؛ اردو ص ۱۷۳ تا ۱۹۲، طبع سبیلِ سکینہ پاکستان

محدثِ نوریؒ نے بھی یہ روایت مستدرک الوسائل (جلد ۲، ص ۵۲۲، طبع موسسہ آل البیتؑ) میں نقل کی ہے۔

شیخُ الفقہاء علامہ شیخ حسن نجفیؒ اسی روایت کے بعد لکھتے ہیں:

قلت : لكن المعروف الآن بين الشيعة انما هو يوم تاسع ربيع
"میں (مصنف) کہتا ہوں: شیعوں میں مشہور یہی ہے کہ یہ (مرگِ فلاں) ۹ ربیع الاول کا دن ہے۔"
حوالہ: جواہر الکلام، جلد ۵، ص ۷۴

دوسری روایت
سید ابنِ طاووسؒ نے ایک اور روایت شیخ صدوقؒ سے نقل کی ہے، اگرچہ حوالہ ذکر نہیں کیا۔ وہ لکھتے ہیں:

اعلم أن هذا اليوم وجدنا فيه رواية عظيم الشأن [عظيمة الشأن‌] و وجدنا جماعة من العجم و الإخوان يعظمون السرور فيه و يذكرون أنه يوم هلاك بعض من كان يهون بالله جل جلاله و رسوله ص و يعاديه...
جان لو کہ ہم نے اس دن (۹ ربیع الاول) کے بارے میں ایک عظیم الشان روایت پائی ہے، اور ہم نے عجمی بھائیوں کو دیکھا کہ وہ اس دن کو بڑی خوشی کے ساتھ مناتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں کہ یہ وہ دن ہے جس میں ایسا شخص ہلاک ہوا جو اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرتا تھا اور ان سے دشمنی رکھتا تھا۔
تاہم، میں نے جو کتب دیکھی ہیں، ان میں ابھی تک کوئی ایسی تصدیق نہیں ملی جس پر میں اعتماد کر سکوں، سوائے اس روایت کے جو ہم نے ابن بابویہ (شیخ صدوقؒ) سے روایت کی ہے۔ اگر کوئی اس دن کو اس وجہ سے منانا چاہے کہ اس میں کوئی چھپی ہوئی مصلحت ہے جو ظاہر نہیں، تو یہ روایت کی احتیاط کے طور پر شمار کی جا سکتی ہے، اور یہی اہلِ دانش کا طریقہ ہے۔

حوالہ: اقبال الاعمال، ص ۷۶، باب: فی اعمال بقیة شھر ربیع الاول

خلاصہ کلام
ہمیں یہ عید اسی انداز سے منانی چاہیے جس طرح اَئمہ ہدی علیہم السلام نے منائی ہے۔ یہ عید ان عام عیدوں کی طرح نہیں منائی جا سکتی، بلکہ اس میں ہمیں چاہیے کہ:

مومنین ایک دوسرے سے ملاقات کریں،

نیا لباس زیبِ تن کریں،

اپنے بچوں کو بغضِ فلاں کی تعلیم دیں۔

22/08/2026

خدارا اس بات کو سمجھئیے🙏🏼😭 مولا ع یتیمی کے بعد اس مسند پر آئے ہیں. مولا عج کے دکھی دل کو مزید دکھی نا کیجئیے.
ہم میں سے کسی کا باپ فوت ہو جائے تو کیا بیٹے کو دستار پہناتے وقت خوشی منائیں گے.؟؟؟ ہوش کریں عزادارو۔۔۔۔۔ اتنا تو کم سے کم اپنا شعور، عقل کا درجہ اتنا بلند رکھیں کہ سامنے والا یقین رکھے کے ہم باب العلم ع کے ماننے والے ہیں۔

معذرت نامہاگر ہم اگلے سال تک زندہ رہے تو پھر یہی غم منائیں گے، اور اگر مر گئے تو یہ ہمارا آخری سلام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ا...
22/08/2026

معذرت نامہ

اگر ہم اگلے سال تک زندہ رہے تو پھر یہی غم منائیں گے، اور اگر مر گئے تو یہ ہمارا آخری سلام ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ امام حسینؑ، آپ کی مصائب، آپ کے پاک بچوں کی شہادت، آپ کی بہنوں کی چھنی ہوئی چادروں کا دکھ، اور بازاروں و درباروں کے مظالم سن کر کم سے کم اتنا حق تو بنتا تھا کہ ہم اس غم میں مر جاتے۔ لیکن آپ کے غم کا حق تب بھی شاید ادا نہ ہوتا ۔ ہم شرمندہ ہیں کہ مولا عزا کا حق ادا نہ کر سکے اور اب بھی زندہ ہیں۔ دعا ہے کہ بی بی پاک ص ہماری یہ معذرت قبول فرمائیں، اور التجا ہے کہ جب بھی ہماری موت آئے، وہ غمِ حسینؑ میں ہی آئے🙏🙏🙏🙏

22/08/2026

صرف محرم میں غمِ حسینؑ نہیں ہے زندگی کا مقصد یاحسینؑ ہے
الوداع آپ ہوتے ہو حسینؑ الوداع نہیں ہوتا

زندگی بھر یاحسینؑ🙏🏻

22/08/2026

مر جاؤں تو پھر بھیجنا دنیا میں دوبارہ
لکھنا میری قسمت میں دوبارہ غمِ شبیر ع

😭😭

آج امام زمانہؐ کی یتیمی کا دن ہے ۔ دو امامؑ ایسے ہیں جن کی پوری زندگی قید میں گزری۔ ایک امام موسیٰ کاظمؑ اور امام حسن عس...
22/08/2026

آج امام زمانہؐ کی یتیمی کا دن ہے ۔ دو امامؑ ایسے ہیں جن کی پوری زندگی قید میں گزری۔ ایک امام موسیٰ کاظمؑ اور امام حسن عسکریؑ ۔ آج آٹھواں دن ہے امام عسکریؑ کو زہر سے تڑپتے ہوئے۔ یکم ربیع الاول کو زہر دیا ہے معتمد نے۔ غریبی کی انتہا ہے بیٹے کا جنازہ باپ اٹھائے، بیٹے کی قبر بنائے۔ کیسا غریب ہے میرا مولا حسینؑ ۔ اکبرؑ کی میت بھی اٹھائی۔ اصغرؑ کی قبر بھی بنائی. ایک اور غریب بتاتا ہوں۔ دنیا میں ایسا کوئی غریب نہیں ہوگا۔ سات اور آٹھ ربیع الاول کی درمیانی شب۔ عسکری مولاؑ کا گھر۔ مولاؑ درد سے تڑپ رہے۔ کلیجہ کٹ کٹ کر باہر آرہا ہے۔ معتمد کے مرد اور عورت سپاہی۔ گھر میں مہدیؑ کو تلاش کر رہے تھے۔ میرا مولاؑ تو عرش پہ تھا۔ کائنات کا پہلا اور آخری غریب ہے میرا مظلوم امامؑ۔ سپاہی گھر میں تلاشی لے رہے میرا امامؑ اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر خود کھود رہا تھا۔

شہادت حجت در حجت دوراں امام حسن عسکری علیہ السلام پہ اہل بیت ؑ خصوصاً امام زمانہؑ کو ان کی یتیمی پر اور تمام اہل عزا کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔

بر معتمد عباسی ملعون لعنت بیشمار


21/08/2026

*08 رَبِیـــــع الْأَوَل 1448ھ* 💔
*شہادت امام حسن عسکری علیہ الصلوات والسلام*

شب شھادت امام حسن عسکری علیہ السلام ہر خاص و عام کی توجہ امام کی طرف مرکوز تھی یہ حالات معتمد کیلئے قابل برداشت نہ تھے ا...
21/08/2026

شب شھادت امام حسن عسکری علیہ السلام
ہر خاص و عام کی توجہ امام کی طرف مرکوز تھی یہ حالات معتمد کیلئے قابل برداشت نہ تھے اس لیے اس نے آپ ع کو شہید کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ معتمد عباسی نے زہر آلود کھانا تیار کروا کر اپنے خادم کے ذریعہ امام ع تک بھجوایا اور حکم دیا کہ امام حسن عسکری ع کو یہ کھانا ضرور کھلایا جائے خادم نے آکر عرض کی: حضور یہ کھانا خاص طور پر آپ کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ امام ع نے فرمایا : جب میرے لیے ہی تیار کیا گیا ہے تو پھر میں ہی کھاؤں گا ، چنانچہ کھانا کھاتے ہی جسم اطہر پر زہر نے اثر دکھانا شروع کیا اور ادھر حکومت کو حالات کی خبر تھی اپنے قدیمی رویے اور مکر و فرویب کے تحت تیمار داری کا انتظام کروایا اور حکومت کے مخصوص طبیبوں کو بھیجا گیا تا کہ وہ نظر رکھیں کہ زہر کی شدت میں کمی کوئی نہ ہونے پائے، اسی پالیسی کے تحت سرکاری طبیبوں نے عمل کرتے ہوئے ان حالات سے لوگوں کو بے خبر رکھا تا کہ کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہ ملے اور یہ اعلان کرتے رہے کہ انہیں زہر نہیں دیا گیا بلکہ ویسے ہی طبیعت ناساز ہے، مسلسل علاج ہو رہا ہے امکان ہے جلد ہی صحت یاب ہو جائیں گے۔

امام بستر شہادت پر بہت ضعیف ہو چکے تھے عقید نامی غلام کا بیان ہے کہ حضرت امام حسن عسکری ع کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھ سے فرمایا مجھے زہر دیا گیا ہے اور میری شھادت کا وقت قریب ہے زہر کی شدت سے امام کی حالت دگرگوں ہوئی تو امام ع نے فورا پانی طلب کیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے پانی پیش کیا، آپ نے وضو کیا اور مصلی عبادت پر تشریف لے گئے۔ نماز ادا کی بارگاہ الہی میں راز و نیاز کی اس کے بعد بستر پر تشریف لائے پھر پانی طلب کیا مگر ہاتھوں میں اتنا رعشہ تھا کہ پانی پی نہ سکے ۔ پیالہ کنیز کے حوالے کر دیا اس کے بعد آپ خاموش ہو گئے۔

ابن حجر نے بھی نقل کیا ہے کہ امام حسن عسکری کی شہادت آٹھ ربیع الاول جمعہ کے دن بوقت نماز صبح ہوئی۔ جیسے ہی شہادت کی خبر پھیلی پورے سامراء میں کہرام برپا ہو گیا ہر طرف آو بکا کی آوازیں آرہی تھی، ماتم و فریاد سے سامراء کی گلیوں میں قیامت کا منظر تھا۔ایسے میں معتمد کے حکم سے عیسیٰ بن متوکل جو نماز جنازہ وغیرہ پڑھایا کرتا تھا آگے بڑھا اس نے کفن کو سر سے ہٹا کر بنی ہاشم اور سب کو چہرہ دکھایا اور کہا ائے لوگو! دیکھو یہ قضائے الہی سے اپنے بستر پر ہی فوت ہوئے ہیں۔

_سیرت امام حسن عسکری ع، ص 163-168

8ربیع الاول شہادت امام حسن عسکری ؀ «اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ اللّٰهِ وَابْنَ خُلَفَائِهِ وَأَبَا خَلِيفَتِهِ»ت...
21/08/2026

8ربیع الاول شہادت امام حسن عسکری ؀
«اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَلِيفَةَ اللّٰهِ وَابْنَ خُلَفَائِهِ وَأَبَا خَلِيفَتِهِ»
ترجمہ: سلام ہو آپؑ پر، اے اللہ کے خلیفہ، خلفائے الٰہی کے فرزند اور خلیفۂ خدا کے والد۔ 🥺💔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Moula Ali (a.s.) Mushkil Kusha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share