Modern Scholastic Philosophy of Islam علم الکلام جدید

Modern Scholastic Philosophy of Islam علم الکلام جدید Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Modern Scholastic Philosophy of Islam علم الکلام جدید, Religious organisation, Shah Rahe Faisal, Karachi.

21/02/2025

الحاد ، دہریت ، مغربیت اور محنت کا میدان

بظاہر یہ عنوانات یکسان دکھائی دیتے ہیں گو کہ ان میں ایک مستقل ربط اور تعلق موجود ہے اور یہ تینوں حلقے ایک دوسرے سے نکلتے ہیں لیکن جب ہم اکیڈمک سطح پر یا عملی میدان میں ان کے حوالے سے کوئی مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی بات کرتے ہیں تو یہ مستقل عنوانات ہیں ان کو الگ الگ شعبہ جات کے طور پر ہی لیا جانا چاہیے اور ان دائروں کے متکلمین و ماہرین بھی الگ الگ استعداد کے ماہر ہوں گے۔

سب سے پہلے تو ہم ان عنوانات کی بنیادی تفہیم سے آگاہی حاصل کرتے ہیں تاکہ اس کے بعد ان دائروں کے ماہرین کی تیاری اور اس تیاری کیلیے ضروری لوازمات حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

پہلا عنوان ہے الحاد : الحاد کا لغوی یا اصطلاحی معنیٰ راستے سے ہٹ جانا یا انحراف ہے موجودہ دور میں اسے دہریت یعنی atheism کے مترادف سمجھا جاتا ہے لیکن اصولی اعتبار سے ہر دو میں جوہری فرق ہے شریعت کی نگاہ میں الحاد ضروریات دین کا انکار ہے اگر کوئی عقائد و عبادات کی اس بنیادی روایت کہ جو ہمیں تواتر سے ملی ہے اس روایت کا انکاری ہے تو وہ ملحد شمار ہوگا۔

دوسرا عنوان ہے دہریت : دہریت درحقیقت atheism ہے یعنی خدا کا انکار یا خدا اور مذہب کا انکار اگر اس عنوان کی مزید وضاحت کی جائے تو عقل پرستی اور مادیت کی بنیاد پر مابعد الطبیعیات کا انکار دہریت ہے۔

تیسرا عنوان ہے مغربیت : مغربیت کے دو بنیادی دائرے ہیں اول فلسفہ مغرب ، دوم تہذیب مغرب اس سے مراد موجودہ دور میں اس عالمگیری نظریے اور ثقافت کا غلبہ ہے کہ جو بحیثیت مجموعی مذہب کے انکار کی طرف لے جاتی ہے۔

اگلی سطور میں ہم ان تین دائروں کے سدباب کے حوالے سے محنت کا میدان متعین کرنے کی کوشش کریں گے۔

الحاد کا دائرہ اور اس کے مقابل محنت کا میدان : الحاد کا دائرہ بہت وسیع ہے چونکہ یہ فکر بنیادی سطح پر مذہب سے متعلق اشکالات پیدا کرتی ہے اور اس سے انحراف کی راہ ہموار کرتی ہے اسلیے اس کے متعدد رخ سامنے آتے ہیں درج ذیل میں ہم ان عنوانات کا ایک بنیادی خاکہ پیش کرتے ہیں۔

اول تجدد پسندی : اس دائرے میں روایت یا خاص طور پر دین کی چلتی ہوئی روایت کا انکار کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے اہل علم کے درمیان متفق علیہ ہو یہ رویہ درحقیقت مغرب سے مستعار ہے اور اس کی جڑ جدت پسندی میں ہے جب مغرب سے استشراقی فکر مشرق میں آئی تو تجدد پسندانہ افکار پیدا کیے گئے۔

دوم علوم اسلامیہ کا انکار : جب بھی انکار حدیث ، انکار سنت یا مسلمانوں کی مجموعی فقہی روایت کا سرے سے انکار کیا جائے گا یا پھر اسلام کی تاریخی و فکری روایت کو یکسر رد کیا جائے گا تو یہ الحاد کا ابتدائیہ شمار ہوگا۔

سوم اسلامی شخصیات کا انکار : اس دائرے میں ناصبیت سے رافضیت تک یعنی اولین دور میں صحابہ رض یا اہل بیت علیہم السلام یا پھر خلافت راشدہ کی بابت سوالات اٹھائے جاتے ہیں یہاں تک یہ گروہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ہی سامنے آتا ہے بعد ازاں اس کی بدترین شکل خود انبیاء علیہم السلام کے حوالے سے اشکالات پیدا کرنا ہے لیکن اس دائرے کے لوگ مکمل دہریے ہوتے ہیں عام طور پر مشاجرات کے حوالے سے بات کرنے والے یا بعد کے ادوار میں اسلامی شخصیات یعنی فقہاء ، اولیاء یا مسلم فاتحین کو یکسر رد کرنے والے چند ایک کی بات نہیں یہاں گفتگو ہے یکسر رد کرنے والوں کی تو یہ گروہ بھی الحاد کی راہ ہی ہموار کرتا ہے۔

الحاد کے مقابل محنت کا میدان : الحاد کے مقابل محنت کا میدان درحقیقت علوم اسلامی ، اسلامی شخصیات اور اسلامی روایات کے دفاع کا نام ہے خاص اس دائرے میں انکار حدیث کے خلافت محنت ہو ، دفاع صحابہ رض و اہل بیت ہو ، مسلم فقہاء کا دفاع ہو ، ختم نبوت ﷺ کی محنت ہو یہ تمام شعبے درحقیت رد الحاد کے ہی شعبے ہیں اس شعبے کے ماہرین بھی مختلف دائروں میں منقسم ہوں گے۔

علوم القرآن اور تفسیر کا علم ، علوم الحدیث اور تاریخ حدیث میں مہارت ، مستشرقین کے اعتراضات کا علم ، مشاجرات صحابہ رض کے حوالے سے اہل سنت کے منہج فکر سے واقفیت ، سلف صالحین اور فقہاء کے منہج سے واقفیت ، تاریخ اسلامی کے گمراہ فرقوں کے حوالے سے معلومات کا حصول ، مسلم تہذیت و تاریخ سے واقفیت وغیرہ۔۔

دہریت کا دائرہ اور اس کے خلاف محنت کا میدان : دہریت کا دائرہ الحاد سے اوپر ہے یہ براہ راست مذہب اور مابعد الطبیعیات کے خلاف اعتراضات کھڑے کرتا ہے اس کا بنیادی جوہر عقل پرستی اور مادیت پرستی ہے اسلیے یہ کبھی معجزات کا انکار کرے گا اور کبھی دیگر معتقدات کا انکار کرے گا یہ مذہب پر مختلف دائروں میں سوالات اٹھائے گا۔
اول مذہب کے مافوق الفطرت امور ، دوم مذہب کی اخلاقی حیثیت ، سوم عصر حاضر میں مذہب کی ضرورت و اہمیت۔

دہریت کے خلاف محنت کا میدان : دہریت کے خلاف کام کرنے والے بنیادی سطح پر اسلامی علم الکلام کے حوالے سے مہارت حاصل کریں اس کے بعد منطق اور فلسفے کا علم بھی ضروری ہے اگر ان علوم پر مہارت نہیں تو پھر رد دہریت آپ کا میدان ہی نہیں ہے اس کے بعد معاصر دہریت کے عقلی اشکالات کا جواب منطقی استدلال کے دائرے میں ماہرین سے سیکھا جائے۔

مغربیت کا دائرہ : مغربیت کا دائرہ دو بنیادی عنوانات پر مشتمل ہے اور ہر دو عنوانات کا علم انتہائی ضروری ہے۔

اول فلسفہ و تاریخ مغرب : چاہے وہ جدیدیت ہو یا ابتدائی ہیومنزم ہو ، قدیم فلسفہ یونان سے متاثر مغرب کی تحریک تنویر ہو ، رومانویت ہو ، عقل پرستی ہو ، مادیت پرستی ہو یا پھر تشکیک و دہریت ہو ان تمام فلسفوں کو ان کی مکمل تاریخ کے ساتھ سمجھنا مغربیت کا میدان ہے اس میدان کے مزید دائرے ہیں۔

الف٭ سیاسی دائروں میں مغربی فکر کی جانچ جیسے نیشنلزم یا سیکولر ازم کو سمجھنا ، عالمگیرت کے مزاج کو سمجھنا ، استعمار و مابعد استعمار کے مزاج کو سمجھنا ، ٹوٹیلی ٹیرین فکر سے واقف ہونا۔

ب٭ معاشی دائروں میں مغربی فکر کی جانچ جیسے سرمایہ داریت یا اشتراکیت کے مزاج کو سمجھنا دنیا کو ایک عالمی منڈی بنا دینے والی فکر سے واقفیت وغیرہ ۔۔

ج٭ معاشرتی دائروں میں مغربیت کے مزاج کو سمجھنا جیسے لبرل ازم ، فیمینزم ، فریڈم آف سپیچ وغیرہ اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فکر۔

د٭ عقل پرستی اور سائنس پرستی کے مزاج کو سمجھنا اور اس کی بنیاد پر قائم مغربی فکر و فلسفے اور اس کے اثرات سے واقفیت۔

مغربی تہذیب کا بیان : مغربی تہذیب درحقیقت ان فلسفوں پر ہی قائم ہے کہ جو اوپر بیان ہوئے لیکن اب اس تہذیب کی باقاعدہ ثقافتی اور مذہبی بنیادیں بن چکی ہیں اس نے معاشروں کا ایک مخصوص مزاج بنا دیا ہے اور اس کے نتیجےمیں معاشرے بحیثیت مجموعی مذہب گریز ہو رہے ہیں ان کا دائرہ کار کھانے پینے کی سطح سے لیکر کر ڈیزائنر لباسوں ، برانڈز ، جدید تہذیبی تقریبات اور رسوم و رواج یہاں تک کہ مذہب کی ایک خالص مادیت پرستانہ شکل تک آ چکا ہے۔

مغربیت کی مذہبی شکل : مغربیت نے مذہب کا کلی انکار نہیں کیا بلکہ مذہب کے معاشرے میں سیاسی ، ثقافتی ، سماجی ، قانونی دائروں کا انکار کیا ہے مغربیت کو رقص و سرود سے کوئی مسئلہ نہیں اسے مسئلہ مذہب کی عملی تشکیل سے ہے بلکہ بہت سی جگہوں پر وہ مذہبی تقریبات کو پروموٹ کرتا ہے جیسے ایسٹر یا ہولی دیوالی وغیرہ یا پھر مسلم معاشروں کی بہت سی رسومات مغربیت کا ایک بڑا عنوان مستقبل قریب میں ایک نئے مذہب کی تشکیل ہے۔

عالمگیری مذہب یعنی وحدت ادیان اور مغربیت : مغرب ایک طویل عرصے سے عالمگیری مذہب کی آواز لگا رہا ہے گو کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں دین اکبری ہو ، بہائیت ہو ، بابیت ہو اس کی بہت سی شکلیں موجود رہی ہیں لیکن موجودہ دور میں اسے دین ابراہیمی کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے جس میں تمام مذاہب کے مشترکہ عبادت خانے ہوں اور ان کی مشترکہ تعلیمات کو ایک نئے عنوان کے تحت متعارف کروایا جائے۔

مغربیت کے رد کا میدان : یہ انتہائی اہم اور مشکل میدان ہے کیونکہ اس میدان میں آپ کا مقابلہ ایک غالب تہذیب سے ہے ایک ایسی تہذیب کہ جو عالمی سطح پر اپنے قدم جما چکی ہے یہ محنت انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی سطح تک ہر ہر دائرے میں کرنا ہوگی اس میں فرد کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح تک اور معاشرے کی اصلاح سے ریاست کی اصلاح تک اور ریاست کی اصلاح سے امت کی اصلاح تک ہر شعبے میں کام ہوگا۔

" یقین جانیے جب تک ہمارے مدارس ، ہماری خانقاہیں ، ہماری سیاسی و تحریکی جماعتیں ، ہمارے مبلغ ، ہمارے متکلم ، ہمارے مفکرین و فلاسفہ بحیثیت مجموعی مغربیت کے خلاف کام نہیں کریں گے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا "

اس کام کے مختلف عنوانات ہو سکتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

علمی دائرہ : علمی دائرے میں مغربی فکر و فلسفے سے واقفیت کے ساتھ ساتھ عوام کا تعلق ان کی تاریخ و روایت سے جوڑا جائے۔
سب سے پہلے سیرت النبی ﷺ کو تحریکی انداز میں عوام کے اندر متعارف کروایا جائے ، اس کے بعد حیات الصحابہ رض اور سیرت اہل بہت اطہار کا تعارف ہو اس کے بعد مسلم فقہا و مفکرین کا تعارف ہو مزید اسلامی سیاست ، اسلامی معاشرت ، اسلامی معیشت ، اسلامی نظام عدالت کے ماہرین تیار کیے جائیں۔

عملی میدان : اس میدان میں خانقاہیں تزکیہ نفس پر محنت کریں کہ جو ان کا اصل کام ہے ناکہ خود کو بدعات میں مبتلاء رکھیں ، تبلیغی جماعتیں مسلم معاشرت کے قیام پر کام کریں اور مسلم سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دائرے میں احیاء اسلام کی محنت کریں۔

کیا یہ سب ممکن ہے ؟

جی ہاں یہ سب ممکن ہے لیکن جب تک کام کا طریقہ اور اس کی جہات کا علم نہیں ہوگا اور ہمارا رخ درست سمت پر نہیں ہوگا اور ہم کامیابی کی جانب پہلا قدم بڑھانے سے بھی قاصر رہیں گے وقت جارہا ہے لیکن ابھی گیا نہیں ہے بلکہ یہ وہ وقت ہے کہ نتیجے سے بے پراہ ہوکر خود کو اس کام کیلیے وقت کردیا جائے افراد سازی سے لیکر معاشرے کی تشکیل تک یہ کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کام کو جاری رکھنے کیلیے ایسے رجال کار کی ضرورت ہے کہ جو خود کو دین کیلیے وقف کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔

ڈاکٹر حسیب احمد خان

26/11/2024

مذہبی (نوجوان) طبقے میں الحاد

یہ عنوان انتہائی عجیب اور تکلیف دہ ہے مگر کیا کیجیے، وہ الحاد کہ جو ایک دور میں مغرب تک محدود تھا مغرب سے نکل کر استعماری کاندھوں پر سوار مشرق میں آیا پہلے اس نے تجدد پسندی کا جال ڈالا کہیں پر اس نے نیچری طبقے کو پیدا کیا تو کہیں پر انکار حدیث کی آواز لگی اور بتدریج ہمارے معاشروں میں سیکولرزم نے پیر پھیلائے اس کے ساتھ ساتھ لبرل اپروچ نمودار ہوئی پھر لبرلزم کے ساتھ فیمینزم ، ہیومنزم اور دیگر لامذہبی افکار و نظریات نے اپنی جگہ بنائی بعد ازاں دور تشکیک آیا اور دور تشکیک کے آخر میں الحاد و دہریت کا اژدہا منہ کھولے اس ضعیف امت کے وجود کو نگلنے کیلیے تیار تھا۔

مگر یہ تو کبھی گمان میں بھی نہیں تھا کہ مذہبی طبقے میں الحاد جڑ پکڑ لے گا ہمارے مدارس سے ملحدوں کو کمک مل جائے گی ہر گزرتے روز کہیں سے کسی کی کال آتی ہے کہ فلاں مذہبی ادارے سے منسلک دہریت کی طرف چلے گئے ، فلاں طالب علم سیکولر ہوگیا ، فلاں صاحب الحاد سے متاثر ہوگئے اور ایسےدل جلا دینے والے اخبار ہر اس شخص کو موصول ہو رہے ہیں کہ جو اس شعبہ میں کسی نہ کسی درجے میں کام کررہا ہے۔

گزشتہ دنوں ایسی ہی کچھ خبریں شیخ یاسر ندیم الواجدی صاحب سے سننے کو ملیں شیخ صاحب رد الحاد کے شعبے کا ایک بڑا نام ہیں ، پھر اسی طرح کی بات ابو بکر قدوسی صاحب نے بیان فرمائی شیخ اہل حدیث مکتب فکر کی ایک بڑی شخصیت ہیں۔

غور کرنے کی بات ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟

ہم اپنی اس تحریر میں اختصار کے ساتھ ان وجوہات کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو مذہبی طبقے میں تشکیک ، الحاد اور دہریت کی ترویج کا سبب بن رہی ہیں۔

ایک زمانے میں الحاد و دہریت کا دائرہ اثر ادبی حلقوں اور یونیورسٹی کالج تک محدود تھا مگر ایسا کیا ہوا کہ یہ ہمارے گھروں اور ہمارے قلعوں تک آگیا۔

اگر یہ کہا جائے کہ مذہبی نوجوان خاص کر مذہبی اداروں سے پڑھ کر نکلنے والے نوجوان کو الحاد کی جانب سوشل میڈیا نے دھکیلا ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

جی ہاں سوشل میڈیا اس کی سب سے بڑی وجہ ہے ، مذہبی طبقے کو سوشل میڈٰیا سے متعارف ہوئے دس ایک سال گزرے ہیں اور اسی دس ایک سال کے دورانیے میں الحاد و دہریت نے اپنے پیر پھیلائے ہیں۔

سوشل میڈیا پر آنے والے مذہبی طبقے کو الحاد و دہریت نے کیسے جکڑ لیا
اگر اس بات پر غور کیا جائے تو دو بنیادی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔

اول اندرونی کمزوری۔
دوم بیرونی عوامل۔

اندرونی کمزوری سے کیا مراد ہے ؟

یہ ایک انتہائی مشکل عنوان ہے اپنی کمزوری کو پہچان لینا اور اس کے تدارک کی کوشش کرنا کچھ اتنا آسان بھی نہیں اور اگر کوئی اس حوالے سے تنبیہ کرے تو ہم رد عمل کا شکار ہو کر اس تنبیہ کرنے والے کے مخالف ہو جاتے ہیں لیکن اس کا نقصان خود ہمیں ہی ہوتا ہے۔

نمبر ایک مقصدیت کا فقدان

مذہبی اداروں کے طلباء سے تعلق اور ان اداروں میں محاضرات کی ترتیب مجھے انتہائی محبوب رہی ہے میری نگاہ میں یہی وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے دین کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا ہوا ہے اس میدان میں اس طبقے کی قربانیاں بے شمار ہیں دور استعمار سے لے کر آج تک ہر ہر میدان میں کہیں پر تحریک ریشمی رومال کی شکل میں ، کہیں تبلیغ کے راستے سے کہیں عقائد باطلہ کے رد کے میدان میں کہیں ختم نبوت ﷺ کی محنت میں مذہبی طقبے نے ہمیشہ صف اول میں جاکر اپنی جانوں کو قربانی کیلیے پیش کیا ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ ہم میں مقصدیت کا یہ فقدان کیسے پیدا ہوا؟

مختلف دینی اداروں میں دور جدید کے لامذہبی افکار کے حوالے سے محاضرات پیش کرتے ہوئے میں نے متعدد نوجوان علماء سے یہ سوال کیا کہ مستقبل میں آپ کو کیا بننا ہے۔

اور آپ کو حیرت ہوگی کہ کسی کو یوٹیوبر بننا تھا ، کسی کو کالم نگار بننا تھا ، کسی کو صحافی بننا تھا ، کوئی میڈٰیا پر آنا چاہتا تھا کسی کو فلسفی کسی کو ادیب کسی کو مفکر و مدبر بننا تھا مگر افسوس!

سوائے معدودے چند کسی کو متکلم ، کسی کو فقیہ ، کسی کو محدث ، کسی کو محقق ، کسی کو مفسر ، کسی کو مورخ ، کسی کو داعی ، کسی کو متصوف نہیں بننا تھا۔

ہم اپنے نوجوانوں کو علوم تو ضرور سکھا رہے ہیں مگر مقصدیت نہیں سکھا رہے۔

نمبر دو روحانیت کا فقدان

کسی زمانے میں ہر مدرسہ کسی نہ کسی بزرگ شخصیت سے منسلک تھا اور یہ ضروری نہیں کہ تصوف کے دائرے سے ہی منسلک ہو بلکہ ہر ادارے میں کچھ ایسے بڑے شیوخ ہوا کرتے تھے کہ جن کی صحبت میں رہ کر روحانی بالیدگی حاصل ہوا کرتی تھی اور انسان باطنی حوالوں سے ترقی کرتا تھا پھر بتدریج ایسی شخصیات دنیا سے جاتی چلی گئیں اور ان کے ساتھ روحانیت بھی جاتی رہی اور اس کی جگہ مادیت نے اپنے پیر پھیلانے شروع کردیے۔

نمبر تین دینی تعلیم کا ارزاں ہو جانا

ایک بہت بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو گیا کہ عالم بننا ہر کسی کی دسترس میں ہوگیا اور معیار قائم نہ رہا ، ہر سال ہزاروں علماء فارغ ہوتے ہیں اور معاشرے میں ان کی کھپت نہیں ہوتی اب وہ جائیں تو کہاں جائیں؟

ریاست اپنے اسلامی آئین کے باوجود بحیثیت مجموعی مذہبی نہیں نہ ہی معاشرہ بحیثیت مجموعی مذہبی ہے تو وہ مقام جو علماء کو ملنا چاہیے تھا آخر وہ کیسے حاصل ہو پاتا!

نوجوان علماء کی ایک بڑی تعداد اس مخمصے میں ہوتی ہے کہ معاش کہاں سے حاصل کریں گے معاشرے میں ہمارا کیا مقام ہوگا ہمیں کہاں پر جگہ ملے گی چونکہ مقابلہ انتہائی سخت ہے اسلیے بہت کم لوگوں کو جگہ مل پاتی ہے اور زیادہ صلاحیت والے یا پھر زیادہ تعلقات والے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

اب ہم جائزہ لیں گے بیرونی عوامل کا

بیرونی عوامل میں سب سے پہلے سوشل میڈیا ہے یہاں پر میں ایک اجمالی خاکہ پیش کرتا ہوں تاکہ صورتحال واضح ہو سکے۔

سوشل میڈیا خاص کر فیس بک کبھی میری دلچسپی کا میدان نہیں رہا اس جانب مجھے ایک عالم دین نے متوجہ کیا سوشل میڈیا سے باہر ادبی اور مذہبی ہر دو حلقوں میں میری بیٹھک تھی ان عالم کے متوجہ کرنے پر میں اس کوچے میں آیا اور مقصود ادبی حلقوں سے اٹھنے والی تحریک کے الحاد کا سامنا کرنا تھا۔

چونکہ میرا میدان شعر و ادب رہا ہے اسلیے سوشل میڈیا پر ان حلقوں تک آسانی سے رسائی ہوگئی اس دور میں چند اور احباب بھی اس حوالے سے کام کررہے تھے تو ان کے ساتھ مل کر کام شروع کیا ، مختلف گروپس میں ملحدوں اور دہریوں سے مکالمے و مناظرے ہوئے اور مذہب کا مقدمہ پیش کرنے کی سعادت ملی۔

یہاں پر مجھے یہ ادراک ہوا کہ سوشل میڈیا پر الحاد و دہریت کو باقاعدہ اور منظم طریقے سے پھیلایا جا رہا ہے اور اس کا ٹارگیٹ مسلم نوجوان ہے یہی وہ دور تھا کہ جب مذہبی طبقے خاص کر مدارس سے نکلنے والے نوجوان علماء کی سوشل میڈیا تک رسائی ہوئی اور براہ راست ان کا واسطہ ایک تشکیکی ذہن اور مغربی فکر سے پڑا ان کی اب تک کی تعلیم مذہبی دائروں میں فرق باطل کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے تھی لیکن الحاد و دہریت ان کیلیے ایک نئی چیز تھی اپنی مذہبی تعلیم کی بنیاد پر انہیں یہ مغالطہ ہوا کہ اس میدان میں بھی وہ کامیابی سے اپنے جھنڈے گاڑ دیں گے مگر

اَے بَسا آرْزُو کہ خاک شُدَہ

خود ان کا ایمان خطرے میں پڑ گیا اور ملحدوں سے مباحثہ کرتے کرتے وہ خود تشکیک کا شکار ہونے لگے۔

سوشل میڈیا آپ کو کیسے گھیرتا ہے اور الحاد کی طرف لے جاتا ہے ؟

اس کے مختلف دائرے ہیں سوشل میڈیا پر الحادی دوکانیں مختلف عنوانات کے تحت کھلی ہوئی تھیں کہیں پر ادب کا عنوان تھا تو کہیں کالم نگاری و صحافت کی ترغیب تھی کہیں پر فلسفی بننے کا شوق اور کہیں پر کوئی مالی مفاد یا پھر صرف شہرت کی طلب۔

یہ دنیا ہمارے نوجون علماء کیلیے ایک نئی دنیا تھی مدرسے کی بند دیواروں سے نکل کر اچانک آپ کے سامنے دولت و شہرت کے دروازے کھول دیے جائیں تو آپ پر اس کیا کیا نہیں اثر ہوگا!

سوشل میڈیا پر نوجوان علماء کو باقاعدہ ٹارگیٹ کیا گیا خاص کر ادب کی آڑ میں کہیں پر سیمینارز ہوئے کہیں کانفرنسوں کی ترتیب بنی شہرت کے ساتھ ساتھ مخلوط محافل صنف مخالف سے تعلق بننے کی اشتہاء و ترغیب ایک گروہ نے باقاعدہ با صلاحیت نوجوان علماء سے دوستیاں لگائیں ان کے ساتھ بیٹھکیں ہوئیں کہیں چائے کے ہوٹلوں پر تو کہیں یونیورسٹیوں کی غلام گرشوں میں کہیں پر ملکی و بیرونی ٹوورز کروائے گئے بتدریج اس محنت کو آگے بڑھایا گیا اور آہستہ آہستہ ذہن سازی کرکے ہمارے گھروں اور ہمارے اداروں میں نقب لگائی گئی۔

سوشل میڈیا کا دشت ویران اور شہرت کا سراب

سوشل میڈیا پر دو بڑے فتنے ہیں پہلا شہرت کے بازار حسن تک با آسانی رسائی اور دوسرا اظہار کی بے راہ رو آزادی۔

آپ کی دوستی فہرست میں گھر بیٹھے اچانک پانچ ہزار لوگوں کے شامل ہونے کی گنجائش بن جائے ، بہت سے لوگ آپ کو فالو کرنے والے ہوں ، کوئی آپ کو شیخ بنائے کوئی مرشد بنائے تعریف کی بے جا افراط کسی بھی انسان کو پٹٹری سے اتارنے کیلیے کافی ہوا کرتی ہے پھر مختلف چھوٹے اخباروں اور ویب سائٹوں تک رسائی ملی اس کے بعد بتدریج ٹک ٹاک آیا یوٹیوبر بننے کا خبط سوار ہوا تو کون تھا کہ اپنا دامن جلتی اس ہوئی آگ سے بچا پاتا۔

دوسرا فتنہ تھا اظہار کی بے راہ رو آزدی

جو چاہو بولو
جیسے چاہو بولو
جس کو چاہو بولو
جہاں چاہو بولو
جب چاہو بولو

ایسے میں سب سے پہلے ادب گیا

ابتدائی درجے میں اکابرین کا ادب گیا
پھر تاریخی شخصیات کا ادب گیا
پھر دینی تعبیرات اور شعائر کا ادب گیا
پھر مذہبی رسومات کا ادب گیا
پھر اسلامی کے بنیادی مصادر کا ادب گیا
اور آخر میں الحاد نے دلوں کو اپنے قبضے میں لے لیا
افسوس صد افسوس

اسی طرح مدرسے سے متنفر نوجوانوں کی ایک پود سامنے آئی ابتداء میں میں گمنام آئی ڈیوں سے یا قلمی ناموں سے ان لوگوں نے مدارس ، علماء اور پھر اسلام کا ہی مذاق اڑانا شروع کردیا یہ بدترین قسم کے ٹرول بن کر ابھرے کسی کی عزت کسی کا احترام کسی کی وقعت ان کے سامنے کچھ نہ تھی،
ایسے آوارہ گردوں کو ملحدوں کے ہرکاروں نے گھیرا ، ان کے ساتھ دوستیاں لگائیں ، ان سے ملاقاتیں کیں ، انہیں دلاسے دیے اور ایک عجیچ طوفان بدتمیزی کھڑا ہوگیا۔

لیکن یہ ایک عبوری دور تھا اس کے بعد یہ نوجوان کھل کر سامنے آنے لگے انہوں اس بات کی فکر نہ رہی کہ کوئی انہیں پہچان لے گا آہستہ آہستہ لباس بدلے ڈاڑھیاں صاف ہوئیں پھر افکار بدلے اطور بدلے اور آخر کار دل کی دنیا ہی بدل کر رہ گئی۔

ایک طبقہ کہ جو کچھ سنجیدہ تھا اسے ظاہری علمیت کے جھانسے میں کچھ فلسفہ زادوں نے متاثر کیا اور فلسفیانہ اوہام و افکار ان پر کچھ اس طرح مسلط ہوئے کہ معتزلہ جدید کی ایک پوری جماعت ابھر کر سامنے آگئی۔

یہ داستان بہت طویل ہے اور اس کا بیان انتہائی دلدوز اور غم انگیز ہے

تو اب کیا ، کیا جائے ؟

اپنی اصل کی جانب پلٹنے کی تحریک چلائی جائے ہم کون ہیں ، ہم کس لیے دین کا علم حاصل کررہے ہیں ، ہمیں کیا کرنا ہے!

سوشل میڈیا ہمارا گھر نہیں ہے ، یہ دوستیاں لگانے کی جگہ نہیں ہے ، یہ دعوت کا میدان ہے ، اظہار کی حدود متعین کیجیے ، اپنے نفس کو تنبیہ کیجیے اور اس میدان سے باہر کسی دینی جماعت اور ہیت کا حصہ بنیں اور اگر ممکن ہو تو اہل اللہ سے ربط قائم رکھیں، اپنے عقیدے ، اپنے علوم اور اپنے روایتی ورثے کی اہمیت کا ادراک کریں اس میں مہارت حاصل کریں اور خاص طور پر سوشل میڈیا کی آوارہ محافل دور رہیں ، اور اس میڈیم پر ہمیشہ اجنبی بن کر رہیں کہ اجنبیت میں ہی خیر ہے۔

حدیث رسول ﷺ ہے
بَدَأَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَاَ‘ فَطُوْبَی لِلْغُرَبَائِ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے آغاز اجنبی کی حیثیت سے ہوا اور عنقریب پھر اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، خوش بختی ہے اجنبیوں کے لیے۔“

ڈاکٹر حسیب احمد خان

محاضرات رد الحاد محاضرات رد الحاد کا سلسلہ جاری ہے ان شاءاللہ اگلا محاضرہ جامعہ باب الرحمت گلشن حدید میں منعقد ہوگا شائق...
12/11/2024

محاضرات رد الحاد

محاضرات رد الحاد کا سلسلہ جاری ہے ان شاءاللہ اگلا محاضرہ جامعہ باب الرحمت گلشن حدید میں منعقد ہوگا شائقین اپنی آسانی دیکھتے ہوئے شرکت فرما سکتے ہیں۔

جامعہ باب الرحمت گلشن حدید فیز 2 مختصر تعارف

الحمدللہ جامعہ باب الرحمت اکابر علماء کرام کے زیر سایہ اپنے تعلیمی و تبلیغی سفر پر گامزن ہے۔جامعہ کا قیام خالصتا تبلیغی و تعلیمی ادارے کی حیثیت سے 1992 میں عمل میں آیا اور اِس وقت ادارہ تقریبا 10 مختلف شعبہ جات میں عوام الناس اور علم دین کی طلب رکھنے والوں میں خدمات فراہم کررہاہے۔جس میں تحفیظ القرآن، درس نظامی،تعلیم بالغاں،شعبہ بنات،اسکول،مکاتب قرآنیہ،دارالافتاء و دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔ان شعبہ جات میں 85 کے قریب اساتذہ کرام و غیر تدریسی عملہ مختلف خدمات انجام دے رہا ہے۔جبکہ زیر تعلیم طلبہ کی تعداد تقریبا 1000 ہے،جن میں شعبہ کتب میں تقریبا 215 طلبہ ملک کے مختلف علاقوں سے طلب علم کے لیے رہائش پذیر ہیں۔

ڈاکٹر حسیب احمد خان

04/11/2024

شعبہ رد الحاد اور مذہبی طبقات کے مغالطے

رد الحاد اس وقت ایک معروف اور چلتا ہوا عنوان ہے آج سے دس ایک سال پہلے اس عنوان سے ہمارے دینی طبقات یکسر ناواقف تھے سوائے معدودے چند لیکن اب یہ گاؤں کی گفتگو بن چکا ہے خاص کر سوشل میڈیا کی آمد کے بعد یہ ایک معروف عنوان ہے۔

رد الحاد کے حوالے سے بنیادی سطح پر ہمیں دو طبقات دکھائی دیتے ہیں اور دونوں ہی مغالطو کا شکار ہیں سب سے پہلے ہم اس طبقے کے حوالے سے بات کرتے ہیں کہ جو اسے شعبہ سمجھتا ہی نہیں جی ہاں ایک طبقہ ایسا بھی موجود ہے کہ جس کے نزدیک یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں نہ ہی اس کے حوالے سے کوئی گفتگو ہونی چاہیے کیونکہ برائی کے ذکر سے برائی جنم لیتی ہے میرے خیال میں یہ طبقہ دس سال پیچھے جی رہا ہے اور اسے یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ آج کی دنیا میں مسلم معاشروں کو کون سے مسائل درپیش ہیں اور افسوس کی بات یہ کہ اس گروہ کا تعلق روایتی مذہبی طبقے سے ہے۔

دوسری جانب وہ طبقہ جو اس شعبے سے منسلک ہو چکا ہے ان میں سے اکثر حد درجہ غلو کا شکار دکھائی دیتے ہیں ان کی رائے میں شاید دین کی واحد محنت اسی شعبے سے منسلک ہے گو کہ یہ غلو کسی نہ کسی درجے میں مطلوب بھی ہوتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے لوگوں سے بات ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید تبلیغ ہی دین کو زندہ کرنے کا واحد راستہ ہے اسی طرح جماعت اسلامی کے احباب سے بات ہو تو ان کی نزدیک دین کا سیاسی غلبہ وہ بھی براستہ ووٹ ہی واحد راستہ ہے دوسری جانب تنظیمی و خلافتی احباب کی نگاہ میں حکومت اسلامی براستہ انقلاب ہی واحد راستہ ہے ایسے ہی حربی ، خانقاہی اور علمی حلقوں کے مغالطے ہیں گو کہ یہ تمام طبقات اپنی اپنی جگہ اہم اور ضروری ہیں لیکن محدود بھی ہیں یہی کچھ مغالطہ رد الحاد کی محنت کرنے والوں کو بھی لگتا ہے کہ آج کے دور میں شاید یہی ایک محنت ہے یا دین صرف اسی طریقے سے بچ سکتا ہے۔

اس دوسرے مغالطے کے نتیجے میں چند مسائل پیدا ہوتے ہیں اور یہ تمام مسائل قابل اصلاح ہیں۔

پہلا مسئلہ تو یہ ہوا کہ تمام لوگ یا علمی افراد کی کریم اسی شعبے میں جھونک دی جائے اور دین کے دیگر علمی کام پیچھے رہ جائیں۔
دوسرا مسئل یہ کہ رد الحاد کیلیے ہر طرح کی مسلکی شناخت سے خارج ہوکر یہ کام کیا جائے اور اس کے نتیجے میں اپنی کوئی حقیقی دینی شناخت ہی باقی نہ بچے اور مین سٹریم مسالک سے انحراف کا دروازہ کھل جائے۔
تیسرا مسئلہ یہ کہ ہر کوئی خود کو متکلم سمجھ کر کلامی اور اعتقادی مسائل میں رائے دینا شروع کردے اور غلطیاں کھائے۔
چوتھا مسئلہ یہ کہ الحادی سوالات کا جواب دینے کیلئے دینی مصادر کی وہ تاویلات شروع ہو جائیں کہ جو منہج سلف سے یکسر الگ ہوں اور تجدد پسندی ، سائنس پرستی اور انکار حدیث کا دروازہ کھل جائے۔
پانچواں مسئلہ یہ کہ میڈیا کے راستے کو ہی اصل راستہ سمجھ لیا جائے اور تمام تر محنت اسی دائرے پر لگا دی جائے جس سے شہرت پسندی کا دروازہ کھل جائے جو خود ایک بڑا فتنہ ہے۔
چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ براہ راست الحادی اعتراضات کا جواب دینے کا سلسلہ شروع ہو جائے جبکہ ان کی بنیاد میں موجود مغربی افکار و نظریات پر سرے سے عبور نہ ہو۔
ساتواں مسئل یہ کہ دعوت ایمان کہ کوشش ہی نہ کی جائے اور تمام تر محنت دفاعی پوزیشن سے ہو اور لوگوں کو الحاد کی طرف جانے سے روکنے کا کوئی نظم موجود نہ ہو۔
آٹھواں مسئلہ یہ کہ آج کے دور میں رد الحاد کے حوالے سے کام کرنے ولوں کو ہی حقیقی علماء سمجھا جائے اور اکابرین سے اعتماد ختم ہو جائے۔
نواں مسئلہ یہ ہے کہ فلسفے کا اس درجہ غلو پیدا ہو اور اصطلاحات کے جنگل میں اتنی دور چلے جائیں کہ براہ راست قرآن و سنت اور اقوال سلف سے تمسک پی باقی نہ رہے۔
دسواں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ رد الحاد کو صرف عقلی دلائل تک محدود سمجھا جائے اور روحانی اور اخلاقی تربیت اور کردار سازی کو اس عنوان سے خارج سمجھا جائے۔
گیارہواں مسئلہ پھکڑ پن ٹرولنگ اور غیر سنجیدہ اور بعض اوقات انتہائی غیر اخلاقی انداز میں اس کام کو کرنا ہے جس سے اس محنت کے ساتھ منسلک روحانیت نکل جاتی ہے۔

جب تک ہم ان تمام دائروں میں اپنی اصلاح نہیں کریں گے رد الحاد کے حوالے سے ہماری محنت مفید سے زیادہ مضر ثابت ہوگی رد الحاد کے حوالے سے کام کرنے والوں کو اس اعتبار سے خود پر محنت کرنا ہوگی اور اپنی اصلاح کیلیے تربیت و تزکیے کے مراحل سے گزرنا پڑے گا وگرنہ وہ خود اس اہم محنت کو نقصان پہنچانے کے مرتکب قرار پائیں گے۔

ڈاکٹر حسیب احمد خان

03/11/2024

مغالطہ لامذہبیت

لامذہبیت اپنی ذات میں ایک مغالطے سے کم نہیں یہ نظریہ خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا اسلیے اسے سہاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مذہب اپنی ذات میں عقائد و ایمانیات سے متعلق ہے جس کا دائرہ مابعدالطبیعیاتی حقائق سے منسلک ہے۔
اس کے بعد عبادات و رسومات ہیں جو تہذیب و ثقافت کو تشکیل دیتی ہیں۔
اس کے بعد اخلاقیات و روحانیات کا دائرہ ہے۔
لامذہبیت کے پاس ایسا کوئی دائرہ نہیں اسلیے اسے زندہ رہنے کیلئے ضرورت ہے ان فطری سہاروں کی اسی لیے لامذہبیت اپنی ایک مخصوص اعتقادی اپروچ اختیار کرتی ہے اور عصر حاضر کے لامذہبی فلسفی غیر مذہبی یا فلسفیانہ تصور خدا پیش کرتے ہیں جس کی تفصیل مستقل مضمون کی متقاضی ہے۔
اسی طرح لامذہبیت اپنی رسومات اور عبادات تخلیق کرتی ہے یا قدیم مذاہب سے انہیں مستعار لیتی ہے کرسمس ، ویلین ٹائن ڈے ، ہالووین وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔
اسی طرح لامذہبیت اپنی اخلاقی و روحانی شناخت متعین کرتی ہے گو کہ مغربی لامذہبیت نے یہ تصور بھی بڑی حد تک مسیحی اخلاقیات اور ہندو اور بودھ مت کی رہبانی روحانیت سے مستعار لیا ہے۔
اس طرح لامذہبیت اپنی ایک مستقل اعتقادی یا مابعد الطبیعیاتی ، رسمی و ثقافتی اور اخلاقی و روحانی راہ متعین کرتی ہے یعنی دین کے متوازی ایک مستقل دین جسے متوازی دین بھی کہ سکتے ہیں۔
لامذہبیت کا مستقبل دین ابراہیمی یا وحدت ادیان کی طرز پر کوئی عالمگیری مذہب ہے ماضی میں دین اکبری سے بہائیت و بابیت تک یہ تجربات ہو چکے ہیں اور آج یہ آواز مغرب سے بلند ہوکر مشرق کی جانب گونج رہی ہے۔
ہمیں لامذہبی مغالطوں کا رد کرتے ہوئے اس بنیادی سطح کی نظریاتی اپروچ کو ضرور سامنے رکھنا ہوگا تاکہ لامذہبیت کی ڈائینامکس کو سمجھ کر اس کے مغالطوں کا رد کیا جا سکے۔

ڈاکٹر حسیب احمد خان

26/07/2024

احادیث مبارکہ کا عوام میں بیان اور بعض مسائل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ دور ہر ہر حدیث عوام میں نقل کرنے کے خبط نے دور جدید میں انکار حدیث کے فتنے کو سب سے زیادہ مہمیز دی ہے بعض احباب کے یہاں یہ شوق حدیث کو عام کرنے کی خواہش میں پیدا ہوا کیا کیا نہ الزامات روایت پسند طبقات پر دھرے گئے ہمارے بعض سادہ لوح مخلص مسلمان بھی اس میں مبتلا ہوئے۔
بہرحال جب آپ نے بخاری و مسلم کے نسخے عامیوں کے ہاتھ میں تھما دیے تو آپ کو تو کیا فائدہ ہوتا انجینئر مرزا جیسے کرداروں نے خوب خوب فائدہ اٹھایا مزید یہ کہ ملحدین نے بھی اسے خوب استعمال کیا کیونکہ انہیں اس حوالے سے گھٹی مستشرقین سے ملی ہوئی تھی۔
جب کبھی روایتی علماء نے کہا کہ حضرت حدیث علماء سے سیکھی جاوے تو فتویٰ ان پر حدیث دشمنی کا لگایا گیا۔
بہر حال اس حوالے سے سلف صالحین کا مزاج کچھ اور تھا۔

جناب علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

بَابُ مَنْ خَصَّ بِالْعِلْمِ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ كَرَاهِيَةَ أَنْ لاَ يَفْهَمُوا
" حدثوا الناس بما يعرفون، اتحبون ان يكذب الله ورسوله".
( بخاری )

” لوگوں کی معرفت کے مطابق ان سے گفتگو کرو ( وگرنہ ) کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی جائے ۔ “

جناب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

قال ابنُ مسعودٍ: ما أنت بمحَدِّثٍ قَومًا حديثًا لا تبلُغُه عُقولُهم إلَّا كان لبَعضِهم فِتنةً

” اگر تم کسی قوم کی ذہنی استعداد سے بالا گفتگو کرو تو ان میں سے بعض فتنے میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ “

اور حضرت عمر فاروق رض کا عمل تو معروف ہے۔

فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي، أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ، مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا، فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَخَلِّهِمْ»

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے ابو ہریرہ!‘‘ اورمجھے اپنے نعلین (جوتے) عطا کیے اور ارشاد فرمایا: ’’میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس چار دیواری کی دوسری طرف تمہیں جو بھی ایسا آدمی ملے جو دل کے پورے یقین کے ساتھ لا اله الاالله کی شہادت دیتا ہو، اسے جنت کی خوش خبری سنا دو۔‘‘ سب سے پہلے میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے نے کہا: ابو ہریرہ! (تمہاری ہاتھ میں) یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کے نعلین (مبارک) ہیں۔ آپ نے مجھے یہ نعلین (جوتے) دے کر بھیجا ہے کہ جس کسی کو ملوں جو دل کے یقین کے ساتھ لا اله الاالله کی شہادت دیتا ہو، اسے جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نےمیرے سینے پر اپنے ہاتھ سے ایک ضرب لگائی جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا اور انہوں نے کہا: اے ابو ہریرہ! پیچھے لوٹو۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس عالم میں واپس آیا کہ مجھے رونا آرہا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ میرے پیچھے لگ کر چلتے آئے تو اچانک میرے عقب سے نمودار ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے (مجھ سے) کہا: ’’اے ابوہریرہ! تمہیں کیا ہوا؟‘‘ میں نے عرض کی: میں عمر سے ملا اور آپ نے مجھے جو پیغام دے کر بھیجا تھا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب لگائی ہے جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا، اور مجھ سے کہا کہ پیچھے لوٹو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’عمر! تم نے جو کیا اس کا سبب کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں! کیا آپ نے ابوہریرہ کو اس لیے نعلین دے کر بھیجا تھا کہ دل کے یقین کے ساتھ لا اله الا الله کی شہادت دینے والے جس کسی کو ملے، اسے جنت کی بشارت دے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ہاں۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: تو ایسا نہ کیجیے، مجھے ڈر ہے کہ لوگ بس اسی (شہادت) پر بھروسا کر بیٹھیں گے، انہیں چھوڑ دیں کہ وہ عمل کرتے رہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اچھا تو ان کو چھوڑ دو۔‘‘

لوگوں کو راغب کیجیے کہ احادیث علماء سے سیکھیں اور علماء کی تربیت کریں کی وہ مستشرقین ، منکرین حدیث ، تجدد پسندوں اور ملحدین کے اعتراضات کا جواب دے سکیں خدارا سلف کے طریقے پر واپس آئیں مگر عوام کی بابت بخاری و مسلم حوالے کرکے یہ سمجھ لینا کہ وہ محدث ہیں شاید مفید سے زیادہ مضر ثابت ہو۔

ڈاکٹر حسیب احمد خان

09/06/2024

مغربی افکار و نظریات، پاکستانی معاشرے پر اثرات اور ان کا سدباب

پاکستانی معاشرہ اس وقت مغربیت اور مذہبیت کی جنگ لڑ رہا ہے اور یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس جنگ میں دفاعی پوزیشن پر تو کجا پسپائی کے سفر کی جانب گامزن ہیں جہاں اس کی بہت سی دیگر وجوہات ہیں وہیں پر سب سے بڑی اور بنیادی وجہ مغربیت کی خرابی اس کا دنیا کی تباہی میں کردار اور ہم پر آپڑنے والی اس آفت سے نکلنے کے طریقوں سے یکسر ناواقفیت ہے سچ تو یہ ہے کہ ابھی تک ہم نے مغربیت کی خرابی کو جاننے تو کجا اس کی بابت سوچنے کی کوشش بھی نہیں کی بلکہ اس کے برعکس ہمارے یہاں مغربیت کی تعریف و توصیف کو بعض لوگوں نے اپنا وظیفہ بنا رکھا ہے۔

تو آئیے ہمارے ایک ایک علمی سفر پر کہ جس میں ہم جامعہ ہمدرد کے شعبہ اسلامیات کے تحت نوجوان علماء ، کلیہ اسلامیات کے عصری اداروں کے طالب علموں اور استاذہ کو مغرب اور مغربیت کی تاریخ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور ان کے اثرات سے آگاہ کریں گے اور ان کے سدباب کے طریقوں کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کریں گے ان شاء اللہ۔

کورس کے عنوانات درج ذیل ہیں :-
1۔ مغربی افکار و نظریات کا تاریخی پس منظر۔
2۔ بر صغیر میں مغربی افکار و نظریات کی آمد۔
3۔ استعمار ، استشراق ، تجدد پسندی اور ترقی پسند تحریک۔
4۔ الحاد جدید اور اس کے بنیادی عنوانات۔
5۔ مادیت پرستی ،ہیومنزم ،عقل پرستی ، سائنس پرستی اور مذہب کے مابعد الطبیعیاتی امور کے حوالے سے سوالات و اشکالات۔
6۔ سیکولرزم ، لبرلزم ، قوم پرستی ، اشتراکیت و سرمایہ داریت۔
7۔ خاندانی نظام ، فینینزم ، جینڈر رولز ، اسلامی قوانین کی جدت سازی۔
8۔ دور جدید میں میڈیا کا کردار ، اس کے نقصانات ، آزادی اظہار اور بے حیائی کے نقصانات۔

ڈاکٹر حسیب احمد خان
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامیات
جامعہ ہمدرد کراچی۔

نوٹ :- کورس کا رجسٹریشن لنک اور تفصیلات پہلے تبصرے میں۔

31/05/2024

کادیانی مسئلہ ، عدالتی فیصلے اور معاشرے کی ذمہ داری

ایک بات یاد رکھیے کہ ہمارا بنیادی اختلاف یہ ہے کہ کادیانی گروہ عام اقلیت نہیں ہے اول تو یہ گروہ خود کو اقلیت تسلیم ہی نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو اگر اس گروہ کو عام اقلیت یعنی پاکستانی مسیحیوں ، ہندو کمیونیٹی یا پھر دیگر مذاہب سے منسلک لوگوں کے مماثل نہیں سمجھا جا سکتا اگر ایسا سمجھا جاتا تو کبھی بھی امتناع کادیانیت قوانین لاگو نہ کیے جاتے یعنی اس گروہ پر اضافی پابندیاں لگائی گئیں تاکہ ان کی حدود کا تعین کیا جا سکے۔

عدالتی فیصلہ کچھ بھی ہو عوامی سطح پر علماء اور دین پسند طبقات کی یہ ذمہ داری ہے کہ عوام کو اس مسئلے کا تعارف کروائیں کہ یہ گروہ عام اقلیت نہیں ہے انہیں مسلمانوں کے شعائر ان کی عبادات اور علامات کھل کر اختیار کرنے کا حق نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں آج بھی یہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور حقیقی مسلمان کہتے ہیں اگر ان کو مسلمانوں والی عبادات و شعائر کا کھلے عام حق دیا گیا تو پھر حقیقی اسلام اور ان کے مذہب میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا۔

تو عوام کو یہ سمجھائیں کہ کادیانی گروہ عام اقلیت نہیں یہ عام اقلیتوں سے فرق ہیں اسی طرح ان کے ساتھ معاملات بھی فرق ہوں گے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس گروہ کا مکمل سوشل بائیکاٹ کیا جائے اور ان سے کسی بھی قسم کا معاشری تعلق نہ رکھا جائے۔

یاد رہے کہ یہ رائے کسی مولوی کی نہیں بلکہ علامہ اقبالؒ کی ہے بطور حوالہ :-

اس تاریخی حقیقت کے معلوم ہو جانے کے بعد کہ کادیانیت اپنی اصل میں کوئی مذہب ، مسلک ، مکتب فکر یا نظریہ ہے ہی نہیں اس بات کا ادراک بھی ضروری ہے کہ قادیانیت کی مخالفت صرف عرف عام میں مستعمل مولوی طبقے کی جانب سے ہی نہ ہوئی بلکہ پاکستان کی فکری اساس کے بانی ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم قادیانیت کے سب سے بڑے مخالفین میں سے تھے .
یہ بات ہے ١٩٣٦ کی کہ جب اقبال کا ایک خط پنڈت جواہر لال نہرو کے نام گیا خط کا متن کچھ یوں ہے

Response of Dr. Sir Muhammad Iqbal to the
Governor of India, Pandit Jawahar Lal Nehru
Regarding the Qadiani (Ahmadiyya) Cult
[From the Book: A Bunch of Old Letters, Asia Publishing House, Bombay, Calcutta, New Dehli, Madras]
Lahore
June 21, 1936
Dear Pandit Jawahar Lal,
Thank you so much for your letter which I received yesterday. At the time I wrote in reply to your articles, I believed that you had no idea of the political attitude of the Ahmadis. Indeed the main reason why I wrote a reply was to show, especially to you, how Muslim loyalty had originated and how eventually it had found a basis in Ahmadism. After the publication of my paper, I discovered, to my great surprise, that even the educated Muslims had no idea of the historical causes which had shaped the teachings of Ahmadism moreover. Your Muslims admirers in the Punjab and elsewhere felt perturbed over your articles as they thought you were in sympathy with Ahmadiyya movement. This was mainly due to the fact that the Ahmadis were jubilant over your articles. The Ahmadis Press was mainly responsible for this misunderstanding about you. However, I am glad to know that my impression was erroneous. I myself have little interest in theology, but had to dabble in it a bit in order to meet the Ahmadis on their own grounds. I assure you that my paper was written with the best of intentions for Islam and India. I have no doubt in my mind that the Ahmadis are traitors both to Islam and India.
I was extremely sorry to miss the opportunity of meeting you in Lahore. I was very ill in those days and could not leave my rooms. For the last two years, I have been living a life of practical retirement on account of continued illness. Do let me know when you come to the Punjab next. Did you receive my letter regarding your proposed Union for Civil Liberties? As you did not acknowledge it in your letter, I fear it never reached you.
Sincerely yours,
Mohammad Iqbal

Address

Shah Rahe Faisal
Karachi

Telephone

+923337705844

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Modern Scholastic Philosophy of Islam علم الکلام جدید posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Modern Scholastic Philosophy of Islam علم الکلام جدید:

Share