Taassur TV

Taassur TV Rah E Islah.. PAGE GUIDING PRINCIPLES

To love Almighty Allah and His beloved Messenger, Sayyiduna Rasulullah (sallal laahu alaihi wasallam).

Rah E Islah's mission is to spread his teachings to entire Muslim Ummah, his teachings are the true teaching of Sayyiduna Muhammad Salal La Ho Alai Hi Wasal’lam. To love those who love Almighty Allah and His beloved Messenger, Sayyiduna Muhammad Rasulullah (sallal laahu alaihi wasallam). To hate those who hate Almighty Allah and His beloved Messenger, Sayyiduna Muhammad Rasulullah (sallal laahu al

aihi wasallam). I believe in the Oneness of ALLAH [SubHanuhu wa Ta'ala], Muhammad [Sallallaho Alaihi wa Aalihi wa Sallam] is the last Prophet of ALLAH [SubHanuhu wa Ta'ala], Quran bestowed upon Muhammad [Sallallaho Alaihi wa Aalihi wa Sallam] is doubtless from Al-Hamd till Wannas, all the Sahabah [Radi ALLAHu Ta'ala Anho] were Mo'min, ALLAH [SubHanuhu wa Ta'ala] agreed with them and they with ALLAH [SubHanuhu wa Ta'ala], Ummahat-ul-Momineen [Radi ALLAHu Ta'ala Anho] are the wives of Prophet Muhammad [Sallallaho Alaihi wa Aalihi wa Sallam] and are the Noble Mothers of Muslims.

10/08/2020
سیدنا عثمان غنی آپکی عظمت کو سلام۔۔
08/08/2020

سیدنا عثمان غنی آپکی عظمت کو سلام۔۔

01/08/2020

May Allah bless with kindness, patience and love. Eid al-Adha Mubarak.

عزت بڑھتی ہے۔
28/07/2020

عزت بڑھتی ہے۔

26/07/2020

24/07/2020

درود اور سلام۔
23/07/2020

درود اور سلام۔

22/07/2020

✅ عورت کے لباس کی آٹھ شرائط

غير محرم مردوں كے سامنے جو لباس عورت پہن كر آسكتى ہے اس ميں آٹھ شروط كا ہونا ضرورى ہے، شروط درج ذيل ہيں:

✔ 1- وہ لباس سارے جسم كے ليے ساتر یعنی سارے جسم كو چھپانے والا ہو، جس ميں ہاتھ اور چہرہ بھى شامل ہيں.

✔ 2- وہ لباس كھلا اور واسع ہو، جو نہ تو جسم كے اعضاء كا حجم واضح كرتا ہو، اور نہ ہى جسم كے خد و خال واضح کرے۔

✔ 3- باريك نہ ہو كہ جلد كى رنگت واضح كرتا پھرے۔

✔ 4- وہ لباس خود بھی زينت کا باعث نہ ہو، مثلا اس پر كڑھائى اور كشيدہ كارى كى گئى ہو۔

✔ 5- اس لباس كو خوشبو نہ لگائى گئى ہو۔

✔ 6- وہ لباس مردوں كے لباس كى مشابہ نہ ہو۔

✔ 7- وہ لباس كافر عورتوں كے لباس سے مشابہ نہ ہو۔

✔ 8- لباس شہرت حاصل کرنے کا باعث نہ ہو۔

دیکھیں: "آداب الزفاف"از: البانى رحمہ اللہ ( 177 ) اور "حجاب المراۃ المسلمۃ" از: البانى رحمہ اللہ ( 19 - 111 ) اور "عودۃ الحجاب" ( 3 / 145 - 163 )۔

*اس بنا پر عورت كے ليے مردوں كے سامنے پينٹ ( پتلون ) يا پائجامہ پہن كر آنا جائز نہيں ہے*

(اس تحریر سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں)

ﻣﺎﮞ_ﻛﯽ_ﻓﺮﻳﺎﺩﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮ ---- ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﮯ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮﺍُﮐﮭﮍﯼ ﺍُﮐﮭﮍﯼ ﭼﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮﻣﺸﮑﻞ ﻣﺎﮦ ﻭ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮﺻﺒﺮ ﮐﺎ...
22/07/2020

ﻣﺎﮞ_ﻛﯽ_ﻓﺮﻳﺎﺩ

ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮ ----
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﮯ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺍُﮐﮭﮍﯼ ﺍُﮐﮭﮍﯼ ﭼﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﻣﺸﮑﻞ ﻣﺎﮦ ﻭ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺻﺒﺮ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ --- ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﮐﮍﻭﺍ ﮬﮯ ﯾﮧ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﭘﺮ ﭼﮑﮭﻨﺎ
ﺍُﻑ ﻧﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﻏﺼﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻭﺍﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﺮ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺳﮯ
ﮐﺎﻧﭗ ﺍﭨﮭﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮔﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻧﻔﺮﺕ ﺳﮯ ﻣﺖ ﺗﮑﻨﺎ
ﻟﮩﺠﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻥ ﮬﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺳﯿﮑﮭﺎ
ﺟﺐ ﺗﻢ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ
ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﻮﺳﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ
ﺩﯾﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﻭﮞ ﯾﺎ ﺗﮭﮏﺟﺎﺅﮞ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺳُﺴﺖ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﮨﻞ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ
ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﺘﻨﮯ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮕﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ؟
ﺍﮎ ﺍﮎ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺩﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﺪﻟﻮﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﻣﯿﺮﮮ ﯾﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻗﺪﻡ ﮔﺮ
ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﺍُﭨﮫ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﯿﮟ
ﻣﯿﺮﺍ ﮬﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻢ
ﺗﯿﺰ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﺎﺅﮞ
ﭼﻠﻨﺎ ﺳﯿﮑﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻠﻘﮯ ﻣﯿﮟ
ﮔﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺒﮭﻠﻨﺎ ﺳﯿﮑﮭﺎ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺭُﮎ ﺟﺎﺅﮞ
ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﮬﺮﺍﻭﮞ ﭨﻮﭨﺎ ﺭﺑﻂ ﭘﮑﮍ ﻧﮧ ﭘﺎﺅﮞ
ﯾﺎﺩِ _ ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺅﮞ
ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﭘﺎﺅﮞ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺖ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﺍُﻟﺠﮭﻨﺎ
ﺍﮐﺘﺎ ﮐﺮ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ
ﺩﻝ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﻮ ﭘﺘﮭﺮ ﻣﺎﺭ ﮐﮯ
ﮐﺮﭼﯽ ﮐﺮﭼﯽ ﺑﺎﻧﭧ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ
ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﺟﺐ ﺗﻢ ﻧﻨﮭﮯ
ﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﯾﮏ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻮ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺳﻨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﭼﺎﮬﺖ ﺳﮯ ﮬﺮ ﺑﺎﺭ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﮬﺮﺍﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ
ﻣﯿﮟ ﺩﮬﺮﺍﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﺍﮔﺮ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺳُﺴﺘﯽ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ
ﯾﮧ ﻧﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺑُﻮ ﺁﺗﯽ ﮬﮯ ﺍﻣﺎﮞ؟
ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﺟﺐ ﺗﻢ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭼﮍﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﻢ ﮐﻮ ﻧﮩﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ
ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺗﻢ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺣﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ
ﺁﻣﺎﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﭘﺎﺅﮞ
ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺅﮞ
ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﻣﺖ ﮨﻨﺴﻨﺎ
ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻘﺮﮦ ﻧﮧ ﮐﺴﻨﺎ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﮮ ﺩﯾﻨﺎ
ﺷﺎید ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﯿﮑﮫ ﺳﮑﻮﮞ؟
ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺮﺳﻮﮞ
ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺳﮑﮭﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ، ﭼﻠﻨﺎ ﭘﮭﺮﻧﺎ، ﻣﻠﻨﺎ ﺟﻠﻨﺎ، ﻟﮑﮭﻨﺎ ﭘﮍﮬﻨﺎ
ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ، ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﺎ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﺗﻢ
ﺳﻮﺗﮯ ﺳﻮﺗﮯ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﻮ ﺗﻮ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺟﮭﮍﮐﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ
ﯾﮧ ﻧﮧ ﮐﮩﻨﺎ، ﺟﺎﻧﮯ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﺭﮬﺘﯽ ﮬﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮐُﮭﻮﮞ ﮐﮭﻮﮞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺗﯽ ﺭﮬﺘﯽ ﮬﯿﮟ
ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ
ﭨﮩﻞ ﭨﮩﻞ ﮐﺮ ﮐﺎﭨﯽ ﮬﯿﮟ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻧﮧ ﮐﮭﺎﺅﮞ ﺗﻮ
ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﺟﺲ ﺷﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﭼﺎﮬﮯ ﻣﯿﺮﺍ
ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﭘﺮﮬﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﮌ ﻣﯿﮟ ﮬﺮ ﭘﻞ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺭﻧﺠﻮﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﺲ ﮐﺎ ﻓﺮﺽ ﮬﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﺳﮯ
ﺑﺤﺚ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﻧﮧ ﻟﮍﻧﺎ
ﺟﺲ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮬﻮ
ﺍﺱ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻧﮧ ﺩﮬﺮﻧﺎ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺩﻥ ﮐﮩﮧ ﺩﻭﮞ، ﺍﺏ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﻨﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮬﻮﮞ
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮬﻤﺮﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﮯ
ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮧ ﮬﻮﻧﺎ
ﺟﯿﻮﻥ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﺍﺯ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ
ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺟﯿﺘﮯ ﺟﯿﺘﮯ ﺁﺧﺮ
ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ
ﺟﺐ ﺟﯿﻮﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺗﻮ ﺭﺧﺼﺖ
ﮬﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ
ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯽ ﮈﻭﺭﯼ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﺷﺎﺋﺪ ﮐﻞ ﺗﻢ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﻮ ﮔﮯ
ﺍﺱ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺳﮑﻮ ﮔﮯ
ﮔﺮﭼﮧ ﺟﯿﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺩﻭﮌ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮬﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ
ﺗﻢ ﭘﺮ ﻭﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ ---- ﺗﻢ ﮐﻮ ﺳﭽﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ
ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﻭﺭ
ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺍُﭨﮭﺎ ﺩﯾﻨﺎ

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺭﺏ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ
ﺭﺣﻢ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﭘﺮ ﮐﺮ ﺩﮮ
ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ
ﮬﻢ ﮐﻤﺰﻭﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ"

ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ---- ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮ !
ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺗﮭﯽ ﺑﺎﻗﯽ؟
ﺧﻮﻥ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮌ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ
ﺩﻝ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮍﮎ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ
ﺧﯿﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﮬﺮ ﺍﮎ ﺳﺎﻧﺲ ﺩﻋﺎ ﺗﮭﺎ-

"ﺭَﺏِّ ﺍﺭْﺣَﻤْﻬُﻤَﺎ ﻛَﻤَﺎ ﺭَﺑَّﻴَﺎﻧِﻲ
ﺻَﻐِﻴﺮًﺍ" ﻗﺎﻝَ ﺍﻟﻠﻪُ ﺗﻌﺎﻟﯽ
ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﭼﮑﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﺮﻧﺎ۔
ﺍﮔﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺍُﻑ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮐﮩﻨﺎ،،❤

سلیمان الراجحی انتقال کرگئےانکا شمار دنیا کے 20 سخی / فیاض ترین افراد میں شمار ہوتا ہے۔۔۔سعودی عرب کے شہر "القصیم" میں و...
21/07/2020

سلیمان الراجحی انتقال کرگئے
انکا شمار دنیا کے 20 سخی / فیاض ترین افراد میں شمار ہوتا ہے۔۔۔

سعودی عرب کے شہر "القصیم" میں واقع کھجوروں کے ایک باغ میں کم و بیش کھجور کے 2 لاکھ درخت ھیں اور یہ باغ راہِ اللہ میں وقف ھے..
اِس باغ میں 45 قِسم کی کھجوریں ھوتی ھیں ، یہاں کی سالانہ پیداوار 10 ھزار ٹن کھجور ھے..
یہ باغ روئے زمین میں پایا جانے والا سب سے بڑا وقف ھے..
اِس باغ کی آمدنی سے دُنیا کے مختلف ممالک میں مساجد کی تعمیر ، خیراتی کام اور حرمین شریفین میں افطاری کے
دسترخوان لگائے جاتے ھیں..
یہ باغ سعودی عرب کے امیر ترین شخص "سلیمان الراجحي" نے اللہ کی راہ میں وقف کِیا ھے..
سلیمان الراجحي نے غُربت میں آنکھ کھولی ، وہ اسکول میں پڑھ رھے تھے کہ ایک دن اسکول اِنتظامیہ نے تفریحی ٹُوور تشکیل دِیا اور ھر طالب علم سے ایک ایک ریال جمع کروانے کو کہا ، یہ گھر میں جاتے ھیں مگر والدین کے پاس ایک ریال تک نہیں ھوتا ، یہ بہت روتا ھے ، ٹُوور کے لِئے جانے کی تاریخ قریب آتی ھے ، اِدھر اِن کے سہ ماھی اِمتحانات کا رزلٹ آتا ھے ، یہ کلاس میں پوزیشن لیتے ھیں اور ایک فلسطینی اُستاد بطورِ اِنعام اِنہیں 1 ریال دیتا ھے..
یہ دوڑتے ھوئے تفریحی پروگرام کے مسئول کے پاس جاتے ھیں اور 1 ریال جمع کراتے ھیں..
وقت کو جیسے پر لگ جاتے ھیں ، یہ اپنی تعلیم مکمل کر کے جدہ شہر میں ایک کمرے کو بنک کا نام دے کر کام شروع کرتے ھیں ، مختصر عرصے میں الراجحي کے نام سے بنکوں کا ایک جال پورے سعودی عرب میں پھیل جاتا ھے..
سلیمان الراجحي اپنے اِس فلسطینی اُستاد کی تلاش میں نِکلتے ھیں ، اُستاد سے ملاقات ھوتی ھے ، وہ ریٹائرڈ ھو چُکے ھیں ، معاشی حالات ایسے کہ گھر کا چولہا جلانا مُشکل ھوا پڑا ھے ، راجحی اپنے فلسطینی اُستاد کو گاڑی میں بِٹھاتے ھیں اور اُن سے کہتے ھیں کہ میرے اُوپر آپ کا قرض ھے..
اُستاد آگے سے کہتا ھے کہ مجھ مسکین کا کِس پر قرض ھو سکتا ھے ، راجحی اپنے اُستاد کو یاد کراتے ھیں کہ سالوں پہلے آپ نے مجھے 1 ریال اِنعام دِیا تھا ، اُستاد مُسکراتا ھے کہ آپ اب وہ ایک ریال مجھے واپس کرنا چاھتے ھیں؟..
راجحی ایک بنگلے کے سامنے گاڑی کھڑی کرتا ھے جِس کے سامنے ایک بیش قیمت گاڑی بھی کھڑی ھے ، راجحی اپنے اُستاد سے کہتا ھے یہ بنگلہ اور گاڑی اب سے آپ کے ھیں ، مزید آپ کے تمام اخراجات ھمارے ذِمہ ھوں گے..
فلسطینی اُستاد کی آنکھوں میں آنسو آتے ھیں اور کہتا ھے کہ یہ عالی شان بنگلہ یہ مہنگی گاڑی یہ تو بہت زیادہ ھے..
راجحی کہتا ھے اِس وقت آپ کی جو خوشی ھے اِس سے بڑھ کر میری خوشی کا عالم تھا جب آپ نے مجھے 1 ریال اِنعام دِیا تھا..
ایسے محسن شناس اِنسان کو اللہ ضائع نہیں کرتا..
سلیمان الراجحی نے 2010 میں اپنے بچوں ، بیگمات اور عزیز و اقارب کو بُلا کر اپنی دولت اُن سب میں تقسیم کر دی اور اپنے حِصے میں جو کچھ آیا وہ سب وقف کر دِیا..
اِس وقت سلیمان الراجحي کے وقف کی مالیت 60 ارب ریال سے زیادہ ھے..
یہ سعودی الوطنیہ کمپنی اور الراجحی بینک کے مالک ہیں، جنہوں نے کورونا وائرس کیلئے 170/ ملین ریال امداد کے طور پر دیا ہے، اور مکہ مکرمہ کے اندر دو ہوٹل وزارت صحت کے حوالے کردیا ہے۔
گنیز بک میں اب تک سب سے بڑے وقف کے طور پر یہ باغ ریکارڈ کے طور پر درج ہے۔۔
فوربس میگزین نے انہیں دنیا کے بیس عظیم فیاض لوگوں میں شمار کیا ہے۔ ان کی سوانح حیات پڑھنے کے لائق ہے۔ شاید سعودی عرب کا کوئی شہر ایسا نہیں ملے گا، جہاں الراجحی فیملی کی طرف سے مسجدیں نہ تعمیر کی گئی ہو، نیز دعوتی سینٹرز، مقراۃ قرانيۃ خیراتی جمعیت وغیرہ میں آپ کا بھر پور تعاون رہتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اپنے ملازمین کو ماہ ختم ہونے سے پہلے ان کی اجرت دے دیتے ہیں جن ملازمین کی تعداد ۱۵۰,۰۰۰ ڈیڑہ لاکھ سے ذیادہ ہے۔

اس عظیم ہستی کا انتقال ہوگیا ہے۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

یہ جو بِچھو ہے یہ بچے پیدا کرنے کے بعد اُن کو اپنی کمر پہ بِھٹا دیتا ہیںاور یہ بچے پر اپنی ماں کا گوشت کھاتے ہیںاور تب ت...
21/07/2020

یہ جو بِچھو ہے یہ بچے پیدا کرنے کے بعد اُن کو اپنی کمر پہ بِھٹا دیتا ہیں

اور یہ بچے پر اپنی ماں کا گوشت کھاتے ہیں

اور تب تک کھاتے ہے جب تک اِن کی ماں مر نہیں جاتی

جب یہ خود چلنے کے قابل ہو جاتے ہیں تب تک ان کی ماں بھی مر جاتی ہے

یعنی کہ یہ اپنے بچوں کو پالتے پالتے اپنی جان دے دیتی ہے اور پھر بچے اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں

بالکل اسی طرح آجکل کے انسان ہے

آج کل کے بچوں کیلئے اُن کی ماں اپنی ساری زندگی اُنکے ساتھ خواری کرتی ہے

پھر جب بچے بڑے ہوجاتے ہے اور شادی کرلیتے ہے

تب تک اُنکی ماں کمزور ہوچکی ہوتی ہے اور پھر یہی بچے اپنی ماں سے کہتے ہے کہ تم نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے اور اُسے بے یار و مدد گار چھوڑ دیتے ہے

‏زندگی میں کچھ بنو یا نہ بنو
لیکن بڑھاپے میں اپنے
ماں باپ کا سہارا ضرور بنو
اپنے والدین کا بہت بہت خیال رکھیں۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taassur TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Taassur TV:

Share