Idara Ahya e Deen e Muhammadi

Idara Ahya e Deen e  Muhammadi Islamic Education Movement Idara Ihyaauddin Muhammadi was founded by Allama Sheikh Muhammad Raheel Naqshbandi Mujaddidi Qadri during his student days in 2016.

Its purpose is to present the true essence of Deen Muhammadi, eradicate innovations and superstitions, revive the Sunnah, and especially train the younger generation. In all its departments, women, in addition to men, are serving society through separate departments. Alhamdulillah, the institution is currently serving in the following areas:

>> Courses on Islamic beliefs and obligatory knowledge

>> Dars-e-Nizami and Nazirah Quran
>> Tasawwuf, Tariqat, and training of seekers
>> Al-Falah Foundation Islamic Schooling System
>> Spiritual healing and financial assistance for the needy
>> Intellectual reform through writing, authorship, and articles

26/07/2026
حضرت مجدد الف ثانی کو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بشارت عنایت کی گئی کہ آپ علم الکلام کے مجتہدین میں سے ہیں....
20/07/2026

حضرت مجدد الف ثانی کو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بشارت عنایت کی گئی کہ آپ علم الکلام کے مجتہدین میں سے ہیں. (بحوالہ حضرات القدس)

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ ایک روز محو مراقبہ تھے کہ جان کائنات صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے اور بشارت دی گئ کہ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے ایک اجازت نامہ لکھوں جو آج تک کسی کے لیے نہیں لکھا (بحوالہ زبدۃ المقامات)

سالکینِ طریقت سے چند گزارشات✍️علامہ محمد راحیل نقشبندی اعظمی(خلیفہ مجاز سلطان الفقراء خواجہ ثانی سرکار)طریقت، تکوینی نظا...
14/07/2026

سالکینِ طریقت سے چند گزارشات

✍️علامہ محمد راحیل نقشبندی اعظمی
(خلیفہ مجاز سلطان الفقراء خواجہ ثانی سرکار)

طریقت، تکوینی نظامِ ولایت، اسرارِ سلوک اور مراتبِ ولایت جیسے دقیق اور لطیف موضوعات پر گفتگو ہر شخص کے لیے مناسب نہیں۔ جب وہ حضرات، جنہیں ان مقامات کا حال نصیب نہیں ہوا اور جن کی معلومات صرف کتبِ علماء و مشائخ کے مطالعہ تک محدود ہوں، ان مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہیں تو بسا اوقات اکابر اولیاء کے ارشادات کو صحیح طور پر سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ نتیجتاً ان کے کلام کے غلط معانی اخذ کیے جاتے ہیں، جس سے انتشار، افراط و تفریط اور بے جا مناقشات جنم لیتے ہیں۔

اس لیے طالبِ حق کے لیے مناسب یہی ہے کہ جن مقامات کا حال اسے نصیب نہ ہوا ہو، ان پر گفتگو سے احتراز کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ مشائخِ کاملین کے وسیلے سے ان مقامات کا فیض اور حال عطا فرمائے۔

کتبِ صوفیہ میں نظامِ باطن، مراتبِ ولایت اور روحانی تصرفات کا جو ذکر ملتا ہے، وہ درحقیقت بنیادی تعارف ہے، مکمل تفصیل نہیں۔ ان مقامات کے بے شمار مدارج، دقائق اور اسرار ایسے ہیں جن کا ادراک صرف اسی شخص کو حاصل ہوتا ہے جسے ان کا حال عطا ہو۔ محض مطالعہ ان حقائق تک رسائی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔

ولایت کے بے شمار مراتب ہیں جن پر سالک اللہ تعالیٰ کے فضل، اپنے شیخِ کامل کی تربیت اور اکابر اولیاء کی روحانی توجہ سے فائز ہوتا ہے، اگرچہ اکثر اسے اس کی کیفیت یا نسبت کا شعور نہیں ہوتا۔ روحانی فیوض و برکات کی اصل تقسیم بارگاہِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوتی ہے۔

ولایتِ صغریٰ، جسے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے ولایتِ صغریٰ سے تعبیر فرمایا ہے اور جو فنا فی اللہ کے مقام پر منتہی ہوتی ہے، اہلِ سلوک کے ہاں یہ معروف ہے کہ اس مقام کی تکمیل حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خصوصی روحانی توجہ و فیض سے ہوتی ہے۔ اسی بنا پر اکابرِ تصوف میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ "ہر ولی زیرِ قدمِ غوثِ اعظم ہے۔"

اسی طرح مرتبۂ غوثیت، جسے غوثِ وقت یا غوثُ الاغواث بھی کہا جاتا ہے، اس کی روحانی نسبت حضرت شیخ امام ابو الحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ کی توجہ و فیض سے بیان کی جاتی ہے۔ نیز مرتبۂ قطبُ الارشاد کی نسبت حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہٗ کی روحانی توجہ اور فیض سے منقول ہے۔ یہ تمام امور اہلِ سلوک کے ذوقی اور کشفی مباحث سے تعلق رکھتے ہیں، جن کا صحیح ادراک اہلِ حال ہی کو حاصل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی ولایت کے بے شمار مراتب، درجات اور روحانی خدمات ہیں جو اکابر اولیاء اللہ میں تقسیم ہیں، جن میں سے اکثر مقامات پردۂ خفا میں رہتے ہیں اور ہر شخص پر ظاہر نہیں کیے جاتے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی ولی کو بارگاہِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اویسی نسبت کے ذریعے براہِ راست فیض حاصل نہیں ہو سکتا، بلکہ نبوی ولایت کا باب تکوینی نظامِ ولایت سے جدا، نہایت وسیع اور بلند تر حقیقت رکھتا ہے۔

اہلِ سلوک کے ہاں یہ بات معروف ہے کہ ولایت کے بعض مراتب کے ساتھ اکابر اولیاء کی مخصوص روحانی نسبتیں اور توجہات وابستہ ہوتی ہیں۔ ان امور کی حقیقت ذوق و حال سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے انہیں محض عقل یا مطالعہ کی بنیاد پر پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔

ہر سالک اپنے سلسلۂ عالیہ کے اسباقِ سلوک اور وظائف ہی پر عمل کرتا ہے اور اپنے شیخِ کامل کی برکت سے فیوض و برکات حاصل کرتا ہے، لیکن یہ روحانی فیض کن ذرائع اور کن نسبتوں سے منتقل ہو رہا ہے، اس کی حقیقت اکثر سالک پر منکشف نہیں ہوتی۔

فقیر کو کچھ عرصہ قبل اپنے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ کے ایک مراقبہ کے دوران متعدد مرتبہ حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی روحانی توجہ اور معاونت کا مشاہدہ ہوا۔ ابتدا میں تعجب ہوا کہ یہ تو نقشبندیہ کا سبق ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بات منکشف ہوئی کہ اس مقام کی ایک خاص روحانی نسبت حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ہے، اسی لیے آپ کی روحانی توجہ ظاہر ہوئی۔ واللہ أعلم بالصواب۔

مقاماتِ ولایت اور منازلِ سلوک کا صحیح فہم صرف قال سے نہیں بلکہ حال سے حاصل ہوتا ہے۔ فقیر نے جب مقامِ قیومیت پر ایک رسالہ تحریر کیا تو مرشدِ کریم، سلطان الفقراء خواجہ ثانی سرکار دامت برکاتہم العالیہ نے ارشاد فرمایا کہ فی الحال اس کی اشاعت مؤخر رکھی جائے، یہاں تک کہ اس مقام کا حال بھی نصیب ہو جائے۔ ساتھ ہی یہ بشارت بھی عطا فرمائی کہ ان شاء اللہ تعالیٰ جلد اس مقام کا فیض بھی حاصل ہوگا۔ مرشدِ کریم کی اس نصیحت کے بعد فقیر نے ہمیشہ یہی کوشش کی کہ جن مقامات کا حال ابھی نصیب نہ ہوا ہو، ان کے بارے میں گفتگو سے اجتناب کیا جائے۔

فقیر نے مکتوباتِ امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر اولیاء کے ارشادات کا خلاصہ پیش کیا ہے تاکہ مخلص طالبانِ حق کو فائدہ پہنچ سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی بندے کو قبولیت عطا فرمائے تو وہ ان حقائق کو تحقیق، ذوق اور حال کے ساتھ سمجھنے کی توفیق پا لیتا ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ تمام اولیاء اللہ کا ادب و احترام لازم سمجھیں، اکابر میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دینے کے بجائے حسنِ ادب کو اختیار کریں۔ سالک کا اصل مقصود اللہ تعالیٰ کا قرب، معرفت اور رضائے الٰہی ہونی چاہیے، نہ کہ شخصیات یا سلاسل کا تعصب۔

جس سلسلۂ عالیہ سے آپ وابستہ ہوں، اگر آپ کو کسی شیخِ کامل کی صحبت نصیب ہو تو پوری اخلاص کے ساتھ ان سے وابستہ رہیں، اپنے آپ کو ان کی تربیت کے رنگ میں رنگیں، ان کے عطا کردہ اسباقِ سلوک پر استقامت کے ساتھ عمل کریں، اور دیگر سلاسلِ طریقت کے بارے میں ہمیشہ ادب اور حسنِ ظن کو ملحوظ رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، حسنِ ادب، صحیح فہمِ دین اور اپنے مقرب بندوں کی سچی اتباع نصیب فرمائے۔ آمین۔

محفلِ ذکرِ حضراتِ حسنینِ کریمین و اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعینبمقام: ادارہ احیاءِ دینِ محمدیبتاریخ: 5 جولائی ...
05/07/2026

محفلِ ذکرِ حضراتِ حسنینِ کریمین و اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین

بمقام: ادارہ احیاءِ دینِ محمدی
بتاریخ: 5 جولائی 2026 (اتوار)

الحمد للہ! ادارہ احیاءِ دینِ محمدی کے زیرِ اہتمام محفلِ ذکرِ حضراتِ حسنینِ کریمین و اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین نہایت روح پرور، بابرکت اور پُرنور ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں عقیدت مندوں اور محبانِ اہلِ بیت نے شرکت کی۔

محفل کا آغاز مدرسۃ الاسلامیہ مجددیہ کے طلباء کرام نے تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے کیا نیز حضرت شیخ محترم کے زیر تربیت سید مبسام علی نقشبندی صاحب اور سید محمد شاہق نقشبندی صاحب کے پرسوز انداز میں ثناء خوانی پیش کرنے سے محفل کے رنگ میں روحانی کیفیات پیدا ہوگئیں ۔ بعد ازاں شیخِ طریقت حضرت علامہ محمد راحیل نقشبندی اعظمی مدظلہ العالی نے خصوصی خطاب فرمایا۔

اپنے خطاب میں آپ نے محبتِ اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اہمیت، ذکرِ الٰہی کی فضیلت، تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن، اتباعِ سنت اور سلوک و طریقت کی حقیقت پر نہایت مدلل، فکر انگیز اور ایمان افروز گفتگو فرمائی۔ آپ نے حاضرین کو اخلاص، تقویٰ، ذکرِ الٰہی کی پابندی اور شریعتِ مطہرہ پر استقامت اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔

خصوصی خطاب کے بعد حاضرین نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ ذکرِ الٰہی میں شرکت کی، جس سے محفل روحانی انوار اور کیف و سرور سے معمور ہوگئی۔ بعد ازاں شجرۂ عالیۂ طریقت پڑھا گیا، جبکہ آخر میں امتِ مسلمہ، سالکین طریقت، حاضرینِ محفل، مرحومین کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

اللہ تعالیٰ اس بابرکت محفل کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اس کے روحانی فیوض و برکات کو عام فرمائے اور ہمیں ذکرِ الٰہی، محبتِ اہلِ بیتِ اطہار اور اتباعِ سنت پر ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔

🌹 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌹✨ محفلِ ذکرِ حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما ✨روحانی و تربیتی محفلتمام عاشقانِ اہلِ بیت اور محبان...
01/07/2026

🌹 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌹

✨ محفلِ ذکرِ حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما ✨
روحانی و تربیتی محفل

تمام عاشقانِ اہلِ بیت اور محبانِ دین کو نہایت ادب و احترام کے ساتھ اس بابرکت محفل میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں:

🌸 ذکرِ الٰہی اور درود و سلام
🌸 سیرتِ حضراتِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما
🌸 اصلاحِ نفس اور روحانی تربیت
🌸 دعائے خیر اور شجرہ طریقت

آپ کی شرکت ہمارے لیے باعثِ سعادت ہوگی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضراتِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی محبت، سیرت اور اخلاق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

منجانب:

---

ادارہ احیائے دین محمدی

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ایک عظیم مقصد اسلامی System of Khilafah کے حقیقی اصولوں، Justice، Truth اور Isla...
24/06/2026

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ایک عظیم مقصد اسلامی System of Khilafah کے حقیقی اصولوں، Justice، Truth اور Islamic Values کے تحفظ و احیاء کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے امتِ مسلمہ کو یہ واضح پیغام دیا کہ جب سنتِ نبوی ﷺ کو پسِ پشت ڈال دیا جائے، ظلم و ناانصافی عام ہوجائے اور باطل کو فروغ ملنے لگے تو اہلِ حق پر لازم ہے کہ وہ Courage، Sacrifice اور Steadfastness کے ساتھ حق کا ساتھ دیں، خواہ اس کے لیے جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

واقعۂ کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں Rule of Law، Social Justice، Human Rights اور Accountability کے اصولوں کو مضبوط بنایا جائے۔ جب ریاست اور معاشرہ اسلامی تعلیمات اور نظامِ خلافت کے بنیادی اصولوں کے مطابق چلیں تو امن (Peace)، عدل (Justice) اور عوامی فلاح (Public Welfare) کا قیام ممکن ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے افکار، نظریات اور سیاسی جماعتوں سے وابستگی اختیار نہ کریں جو اسلامی تعلیمات، دینی اقدار اور اسلامی نظامِ حیات کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہوں، بلکہ اپنی حمایت، تعاون اور جدوجہد کو ان امور کے لیے وقف کریں جو دینِ اسلام کی سربلندی، امت کے اتحاد، عدل و انصاف کے قیام اور معاشرے میں خیر و اصلاح کے فروغ کا ذریعہ بنیں۔

مزید برآں، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم Khatam-un-Nabiyyin اور The Final Prophet ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ اگر نبوت کا سلسلہ جاری رہنا ہوتا اور کسی نئے نبی کی آمد ممکن ہوتی تو امت کی اجتماعی و دینی قیادت کے لیے نظامِ خلافت کی اس قدر اہمیت نہ ہوتی۔ لیکن چونکہ نبوت آپ ﷺ پر مکمل ہوچکی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ اور نظامِ خلافت کے ذریعے امت کی رہنمائی کا انتظام فرمایا، تاکہ دین کی حفاظت، عدل کا قیام اور امت کی وحدت برقرار رہے۔

یہی وہ عظیم Mission ہے جس کے تحفظ اور بقا کے لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں بے مثال قربانی پیش کی اور حق و باطل کے درمیان ایک ایسا ابدی معیار قائم فرمایا جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

✍️ ابو الحسین محمد راحیل نقشبندی اعظمی
مسکن کراچی

اہل بیت کی محبت ایمان کا حصہ ہے اور ایمان پر خاتمے اور وقت نزع میں آسانی کا وسیلہ ہےاپنی مجلس اور نجی زندگی کو اہل بیت ک...
20/06/2026

اہل بیت کی محبت ایمان کا حصہ ہے اور ایمان پر خاتمے اور وقت نزع میں آسانی کا وسیلہ ہے

اپنی مجلس اور نجی زندگی کو اہل بیت کی محبت سے آراستہ کریں

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ مراٰۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: ”اہل بیت کے معنی ہے گھر والے ،اہل بیت رسول چند معنی میں آتا ہے

(1) جن پر زکوۃ لینا حرام ہے یعنی بنی ہاشم عباس ،علی ،جعفر ،عقیل ،حارث کی اولاد۔
(2)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پیدا ہونے والے یعنی اولاد۔
(3) حضور کے گھر میں رہنے والے جیسے ازواج پاک۔
(4) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آنے جانے والے جیسے حضرت زید ابن حارثہ اور جیسے اسامہ ابن زید۔رضی اللہ تعالی عنہم

خیال رہے کہ بیویوں کا اہل بیت ہونا قرآنی آیات سے ثابت ہے رب نے حضر ت سارہ کو جناب ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اہل بیت فرمایا(رحمۃ اللہ وبرکتہ علیکم اہل البیت) حضرت صفوراء کو جناب موسی علیہ الصلوۃ و السلام کا اہل فرمایا (اذقال لاھلہ امکثوا انی اٰنست نارا) حضرت عائشہ صدیقہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اہل بیت فرمایا(واذ غدوت من اھلک تبوی المومنین مقاعد للقتال)اور اولاد کا اہل بیت ہونا حدیث سے ثابت ہے،حضور نے جناب فاطمہ ،حسنین کریمین اور جناب علی کے متعلق فرمایا (اللھم ھولاء اھل بیتی)خدایا یہ لوگ بھی میرے اہل بیت ہیں ،لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج اولاد سب ہی اہل بیت ہیں رضی اللہ عنھم خلاصہ یہ ہے کہ بیت تین قسم کے ہیں بیت نسب ،بیت سکن ،بیت ولادت اس لئے اہل بھی تین قسم کے ہیں۔“

(مراٰۃ شرح مشکوۃ، جلد 8،صفحہ 396،مکتبہ اسلامیہ ،لاہور)

امام ربانی مجدد الف ثانی امام العارفین شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

’’ اب ہم اصل بات بیان کرتے ہیں کہ اہلِ بیت کی محبت کا نہ ہونا اہلِ سنت کے حق میں کس طرح گمان کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ محبت ان بزرگواروں کے نزدیک ایمان کا حصہ ہے اور خاتمہ کی سلامتی اس محبت کے راسخ ہونے پر وابسطہ ہے اس فقیر(مجدد الف ثانی)کے والد بزرگوار جو کہ ظاہری باطنی علوم کے عالم تھے اکثر اہلِ بیت کی محبت کیلئے ترغیب فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے اس محبت کو خاتمہ کی سلامتی میں بڑا دخل ہے اس کی بڑی رعایت کرنی چایئے،ان کے مرض الموت میں یہ فقیر حاضر تھا جب انکا معاملا انجام کو پہنچا اور اس جہاں کا شعور ختم ہوگیا تو اس وقت فقیر نے انکی بات(محبت اہل بیت) کو انھیں یاد دلایا اور اس محبت کے بارے میں ان سے دریافت کیا تو اس بیخودی کے عالم میں انھوں نے فرمایا میں اہل بیت کی محبت میں غرق ہوں،اس وقت میں اللہ کا شکر بجالایا۔

اہل بیت کی محبت اہلسنت و جماعت کا سرمایا ہے،مخالف لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں اور ان کی محبتِ متوسط (اعتدال بطور عقائد)سے جاہل ہیں،مخالفوں نے اپنی افراط (شدت )کی جانب کو اختیار کیا ہے افراط کے سوا کو تفریط خیال کرکے خروج کا حکم کیا ہے اور خوارج کا مذہب سمجھاہے،نہیں جانتے کہ افراط و تفریط کے درمیان حدِ وسط ہے جوحق کا مرکز اور صدق کا مطون ہے اور اہل سنت و جماعت شکراللہ سعیہم کو نصیب ہوا۔

(مکتوب 36: /،دفتر دوئم)

ادارہ احیاء دین محمدی

چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Vabtltw4tRrzscbiFz2Z

ان شاء اللہ تعالی ناد علی کی دعوتفی سبیل اللہ یکم محرم الحرام شریف سے ناد علی کی روحانی دعوت یعنی زکوۃ ادا کروائی جائے گ...
15/06/2026

ان شاء اللہ تعالی ناد علی کی دعوت

فی سبیل اللہ

یکم محرم الحرام شریف سے ناد علی کی روحانی دعوت یعنی زکوۃ ادا کروائی جائے گی جو گیارویں دن ختم ہوگی

اہل ذوق ضرور ادا کریں

ناد علی شریف ایک دعا ہے جس میں امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کا توسل اور فیض خاص شامل ہے

اس کی برکت سے سالکین طریقت مقامات سلوک اور روحانیت میں کمال حاصل کرتے آئے ہیں

اس کے ذیعے مشکلات کا حل ہونا

غیبی مدد حاصل ہونا

دعا قبول ہونا

جادو جنات وغیرہ کا روحانی علاج وغیرہ بھی کیا جاتا ہے اس مختصر دعا میں بہت تاثیر پائی جاتی ہے

ان شاء اللہ روحانی زکوۃ کی ادائیگی کے بعد اس کے عملیات کا ایک کورس بھی کروایا جائے گا جس کی معمولی فیس ہوگی تاکہ اس کی قدر ہو لیکن اس کی زکوۃ اور سلوک میں ترقی کے لیے پڑھنے یا روزانہ ورد میں رکھنے کے لیے اس کی کوئی فیس نہیں ہے اس کی فی سبیل اللہ اجازت دی جائے گی

یکم محرم شریف سے زکوۃ کی ادائیگی کے لیے فی سبیل اللہ اجازت حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر اپنا اور علاقے کا نام میسج کریں

احقر محمد راحیل نقشبندی
مسکن کراچی
واٹس ایپ
03131233732

تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باغی مدینہ پر اس طرح قابض نہیں تھے کہ صحابہ کرام  اور حضرت عثمان رضی اللہ ع...
04/06/2026

تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باغی مدینہ پر اس طرح قابض نہیں تھے کہ صحابہ کرام اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حامی بالکل بے بس ہو جاتے،بلکہ شہادت کے وقت مدینہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حامی صحابہ اور تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے ،وہ آپ کے دفاع پر پوری قدرت بھی رکھتے تھے،اور انہوں نے آپ کا دفاع کرنے کی بھر پور کوشش بھی کی،لیکن باغیوں کے خلاف اسبابِ قتال مہیا ہونے کے باوجود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو بذاتِ خود باغیوں سے قتال کرنے سے سختی سے منع فرمادیا تھا؛کیوں کہ آپ کسی کلمہ گو مسلمان پر تلوار اٹھانےکو گوارا نہیں کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ( قتال کی اجازت دینے کی صورت میں)مَیں رسول اللہ ﷺ کا وہ پہلانائب ہوں گا جو کسی مسلمان پر تلوار اٹھائے ؛اس لیے آپ نے کسی سےمدد نہیں چاہی اور ہمیشہ مدد کی اجازت کے لیے درخواست کرنے والوں کی درخواست کو رد کرتے رہے ۔

دراصل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا امتحان یہ تھا کہ حضور علیہ السلام نےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان حالات کے پیش آنے کی بابت پہلے ہی بتادیا تھا، اور اس موقع پر انہیں شورش پسندوں کے خلاف تلوار اٹھانے کی جگہ صبر و تحمل اور برداشت کا حکم دیا تھا،یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نے باغیوں کے خلاف مسلح کاروائی کی اجازت طلب کی،تو آپ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک وعدہ لے رکھا ہے،پس میں اپنے آپ کو اسی پر کار بند رکھتے ہوۓ صبر کروں گا۔

ممانعت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے حبیب ﷺ کے شہر کو کشت و خون کا مقام نہیں بنانا چاہتے تھے ،کیوں کہ آپ کو حضور ﷺ کا یہ ارشاد یاد تھا "مدینہ محترم سرزمین ہے نہ اس کا درخت کاٹا جاۓ ، نہ اس میں کسی شر انگیزی کا ارتکاب کیا جاۓ ،جو اس میں شر انگیزی کرے گا اس پر اللہ کی تمام فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہو"،نیز آپ رضی اللہ عنہ یہ بھی جان چکے تھے کہ باغیوں کا اصل ہدف آخر کارآپ کی ذات ہی ہے اس لیے ملت ِ اسلامیہ کے وسیع تر مفاد کےپیشِ نظر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو انتشار سے بچانے کے لیے نہ صرف یہ کہ ہر صعوبت اور اذیت کو برداشت کرکے حرم نبوی کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا بلکہ اس مقصد کے لیے بخوشی اپنی جان بھی دے دی ۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Idara Ahya e Deen e Muhammadi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Idara Ahya e Deen e Muhammadi:

Shortcuts

Share