True Tauheed

True Tauheed pure islamic Knowledge without any Editing or mixing

Ye page banany ka maqsad ksi k jazbat Ko Takleef dena ya Dil aazari karna nahi Is ka maqsad to sirf un chizon ko islam se alag karna hi jo zabardasti ISLAM ka hissa bane hue he. Islam ka matlab sirf ALLAH or us k Rasool HAZRAT MOHAMMAD (S.A.W) k ahkaam ko follow karna hi agar ksi ko koi cheez galat lage ya aap ki dil aazari ho to foran hame'n infrom kare'n


JazakAllah

https://youtu.be/1BzDkY1lljw
24/07/2023

https://youtu.be/1BzDkY1lljw

اہل حدیث اور شان اہل بیت رضی اللہ عنھم| فضیلة الشیخ ابوالاسجد محمد صدیق رضا حفظہ اللہSheikh Muhammad Siddique Raza HafizUllah is Public Orator, leader in Tea...

https://youtu.be/Tn7ArasNN6I
23/07/2023

https://youtu.be/Tn7ArasNN6I

72 Horon Ki Haqiqat | Sheikh Abul-Asjad Muhammad Siddique Raza.Sheikh Muhammad Siddique Raza HafizUllah is Public Orator, leader in Teaching and Researching ...

https://youtu.be/FvOVnSv7wTs
23/07/2023

https://youtu.be/FvOVnSv7wTs

اہلحدیث کیسے دھوکہ دیتے ہیں الیاس گھمن صاحب کے الزام کا جواب فضیلة الشیخ محمد صدیق رضا حفظہ اللہIlyas Ghumman Kay Ilzam Ka Jawab || Sheikh Abul-Asjad Muh...

https://youtu.be/_hMH9Rir0uY
23/07/2023

https://youtu.be/_hMH9Rir0uY

Witar Ki Namaz Kay Bary Main M***i Tariq Masood Sahb Ka AhlulHadees Par Ilzaam Aur Sheikh Abul-Asjad Muhammad Siddique Raza HafizaUllah Ka JawabSheikh Muhamm...

صحیح بخاری حدیث نمبر 2812. باغی گروہ کون؟ فضیلة الشیخ ابو الاسجد محمد صدیق رضا حفظہ اللہ
08/07/2023

صحیح بخاری حدیث نمبر 2812. باغی گروہ کون؟ فضیلة الشیخ ابو الاسجد محمد صدیق رضا حفظہ اللہ

صحیح بخاری حدیث نمبر 2812. باغی گروہ کون؟ فضیلة الشیخ ابو الاسجد محمد صدیق رضا حفظہ اللہSahi Bukhari Hadees Number 2812. Baaghi Ghroh Kon? Sheikh Abul-Asjad ...

Sayyiduna Ameer Muawia R.A Jannati (By M***i Atiq Ur Rahman Alvi)
07/08/2022

Sayyiduna Ameer Muawia R.A Jannati (By M***i Atiq Ur Rahman Alvi)

Video:- Sayyiduna Ameer Muawia R.A Jannati Hain By M***i Atiq Ur Rahman Alvi

06/08/2022
28/07/2022

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الحُبَابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ»

ترجمہ : ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ نے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن یسار ابو الحباب سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر وبھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر: 5645

کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں

باب: بیماری کے کفارہ ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساءمیں فرمایا جو کوئی برا کرے گا اس کو بدلہ ملے گا

22/07/2022

مساجد میں عورتوں کی نماز کے دلائل۔۔۔۔

مساجد میں مردوں کے پیچھے عورتوں کی نماز با جماعت کا جواز احادیثِ صحیحہ اور آثارِ سلف صالحین سے ثابت ہے، جس میں سے بعض دلائل درج ذیل ہیں:

سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

اگر تمھاری عورتیں تم سے رات کو مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انھیں اجازت دے دو۔

(صحیح بخاری: 865، صحیح مسلم: 442، ترقیم دارالسلام: 988)

حافظ ابن عبد البر نے فرمایا:

اس حدیث میں یہ فقہ ہے کہ عورت کے لئے رات کو مسجد جانا جائز ہے اور اس (کے عموم) میں ہر نماز داخل ہے۔ إلخ

(التمہید ج 24 ص 281)

ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانے میں جب عورتیں فرض نماز کا سلام پھیرتیں تو اُٹھ کھڑی ہوتی تھیں، رسول اللّٰہ ﷺ اور مرد (صحابہ) بیٹھے رہتے تھے پھر جب رسول اللّٰہ ﷺ کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہو جاتے تھے۔

(صحیح بخاری: 866)

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ صبح کی نماز پڑھاتے تو عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی جاتی تھیں، اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔

(صحیح بخاری: 867، صحیح مسلم: 645، موطأ امام مالک 1/ 5 ح 3، روایۃ ابن القاسم : 494)

اس حدیث سے ظاہر ہے کہ عورتوں کا مساجد میں نماز ادا کرنا جائز ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

عورتوں کو مسجدوں سے نہ روکو، اور انھیں بغیر خوشبو کے سادہ کپڑوں میں نکلنا چاہئے۔

سیدہ عائشہ (رضی اللّٰہ عنہا) نے فرمایا:

اگر آپ ﷺ آج کل کی عورتوں کا حال دیکھتے تو انھیں منع کر دیتے۔

(مسند احمد 6/69، 70 و سندہ حسن)

سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے ایک اور روایت میں آیا ہے کہ اگر رسول اللّٰہ ﷺ وہ کام دیکھتے جو عورتوں نے نکال لئے ہیں تو انھیں منع کر دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا۔

(صحیح بخاری: 869، صحیح مسلم: 445)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع والا حکم (جو کہ سابقہ شریعتوں میں تھا) منسوخ ہے۔ اب بنی اسرائیل کی منسوخ شریعت پر عمل نہیں بلکہ قیامت تک نبی کریم خاتم النبیین ﷺ کی شریعت پر ہی عمل ہو گا۔

سیدنا ابو قتادہ الانصاری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:

میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور لمبی نماز پڑھنا چاہتا ہوں پھر بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز مختصر کر دیتا ہوں تا کہ اُس کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔

(صحیح بخاری: 868)

سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اور لمبی نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اپنی نماز مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اُس کے رونے کی وجہ سے اُس کی ماں کو تکلیف ہو گی۔

(صحیح بخاری: 709، صحیح مسلم: 470 )

سیدہ زینب الثقفیہ رضی اللّٰہ عنہا (سیدنا ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کی بیوی) سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:

اگر تم عورتوں میں سے کوئی عورت عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہو تو خوشبو نہ لگائے۔

(صحیح مسلم: 443)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

عورتوں کو مسجدوں سے منع نہ کرو اور انھیں بغیر خوشبو کے سادہ کپڑوں میں جانا چاہئے۔

(مسند احمد 2/ 438 ح 9645 و سندہ حسن و اللفظ لہ، سنن ابی داود: 565 و صححہ ابن خزیمہ: 1679، و ابن حبان: 2214)

سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:

اے عورتو! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نظروں کی حفاظت کرو۔

(صحیح ابن خزیمہ : 1694، و سندہ صحیح، صحیح ابن حبان: 402 و صححہ الحاکم علیٰ شرط الشیخین 1 /191، 192، و وافقہ الذہبی)

یعنی مردوں کے تنگ تہبندوں کی وجہ سے کہیں تمھاری نظریں اُن کی شرمگاہ پر نہ پڑ جائیں۔

سیدنا سہل بن سعد رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانے میں عورتوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ مردوں سے پہلے (سجدے، رکوع سے) سر نہ اُٹھائیں۔ إلخ

(صحیح ابن خزیمہ: 1695، صحیح ابن حبان: 2216 و سندہ صحیح)

نیز دیکھئے صحیح بخاری (362، 814، 1215) اور صحیح مسلم (441)

سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:

اللّٰہ کی بندیوں (عورتوں) کو اللّٰہ کی مسجدوں سے منع نہ کرو، اور انھیں بغیر خوشبو کے سادہ لباس میں نکلنا چاہئے۔

(صحیح ابن حبان: 2208 و سندہ حسن، دوسرا نسخہ: 2211 و حسنہ الہیثمی فی مجمع الزوائد 2/ 33)

ان احادیث مذکورہ اور دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کے لئے مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں کیونکہ اُن پر نماز باجماعت فرض نہیں ہے۔

سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کی بیوی عشاء کی نماز مسجد میں پڑھنے کے لئے جاتی تھیں اور سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ انھیں منع نہیں کرتے تھے۔

دیکھئے صحیح بخاری (900)

سیدنا ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ تو اس مسئلے میں اتنی سختی کرتے تھے کہ جب اُن کے ایک بیٹے نے کہا:

’’ہم تو عورتوں کو (مسجد سے) منع کریں گے۔‘‘ تو انھوں نے اپنے بیٹے کو شدید الفاظ کے ساتھ ڈانٹا اور اُس کی پٹائی کر دی۔

دیکھئے صحیح مسلم (442)

ایک عورت نے نذر مانی تھی کہ اگر اُس کا شوہر جیل سے باہر آ گیا تو وہ بصرے کی ہر مسجد میں دو رکعتیں پڑھے گی۔ اس کے بارے میں حسن بصری (رحمہ اللّٰہ) نے فرمایا:

اسے اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنی چاہئے۔ الخ

دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (2/ 484 ح 7617 و سندہ صحیح)

یعنی اُسے تمام مسجدوں میں نہیں بلکہ صرف اپنی (محلے کی) مسجد میں نماز پڑھ کر یہ نذر پوری کر لینی چاہئے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:

عورتوں کی بہترین صف آخری صف ہے اور سب سے بُری صف پہلی صف ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ 2/ 385 ح 7623 و سندہ حسن)

عروہ بن الزبیر رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:

یہ کہا جاتا تھا کہ عورتوں کی بہترین صف آخری صف ہے اور سب سے بُری صف پہلی صف ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ 2/385 ح 7624 و سندہ صحیح)

امام ابو بکر محمد بن ابراہیم بن المنذر النیسابوری رحمہ اللّٰہ نے فرمایا:

اہلِ علم کا اس پر اجماع ہے کہ عورتوں پر جمعہ (ضروری) نہیں ہے اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر وہ حاضر ہو کر امام کے ساتھ نماز پڑھ لیں تو یہ اُن کی طرف سے کافی ( یعنی جائز) ہے۔

دیکھئے الاوسط (ج 4 ص16م 492، 493)

عینی حنفی نے امام شافعی رحمہ اللّٰہ سے نقل کیا کہ ’’یباح لھن الخروج‘‘ عورتوں کے لئے (مسجد کی طرف نماز کے لئے) خروج مباح (جائز) ہے۔

دیکھئے عمدۃ القاری (ج 6 ص 156 تحت ح 864)

احادیثِ صحیحہ اور آثارِ سلف صالحین سے ثابت ہوا کہ عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ آدابِ شرعیہ اور پردے وغیرہ کا بہت التزام کریں۔

جمعہ کے دن گھروں میں بیٹھے رہنے سے بہتر یہ ہے کہ وہ مسجد جا کر امام کے پیچھے نمازِ جمعہ پڑھیں اور خطبہ سنیں تا کہ دین کی باتیں سیکھ لیں۔

حیرت ہے اُن لوگوں پر جو عورتوں کی تبلیغی جماعتیں نکالتے ہیں اور پھر عورتوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں تا کہ وہ لا علم کی لا علم رہیں اور دینی تعلیم سے دُور رہیں۔

اگر یہ لوگ اپنی عورتوں کو مسجد حرام اور مسجد نبوی سے بھی دُور رکھیں گے تو پھر بے چاری عورتیں طواف اور فضائل الحرمین سے محروم رہیں گی بلکہ ارکانِ حج بھی ادا کرنے سے قاصر رہیں گی اور اس کا غلط ہونا ظاہر ہے۔۔۔۔۔

21/07/2022

کیا امیر معاویہ نے بغض علی رضی اللہ عنہ میں سنت رسول کو ترک کردیا؟-- Kia Ameer Mavia nay Bughz Ali me sunnat -e-Rasool ko tark kardia tha

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when True Tauheed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share