10/05/2026
داستان باب العلم (قسط نمبر 2)
سجاد نقوی
یہ نوچندی جمرات تھی، رات کا لگ بھگ کوئی 11 بج رہا ہوگا کہ اچانک پورا علاقہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ اس زمانے میں حالات ویسے ہی خراب تھے تو لگا شاید پھر کوئی سیاسی فساد ہو گیا ہے لیکن تھوڑی دیر میں والد کو تیزی سے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا، امی کے بتانے پر پتا چلا کہ باب العلم امام بارگاہ میں فائرنگ ہوئی ہے۔ میری عمر کوئی 6 سال تھی اور گھر باب العلم سے کافی قریب تھا۔ میں دڑ گیا کہ وہاں تو اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ خیر مجھے سلا دیا گیا۔ صبح اٹھے تو معلوم ہوا کہ امام بارگاہ کے اندر فائرنگ ہوئی ہے اور تین جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔
پچھلی تحریر کے بعد کافی لوگوں نے شہدا باب العلم کا ذکر نہ کرنے کا شکوہ کیا تھا۔ تلخ یادیں لکھنا مشکل کام ہوتا ہے۔ 6 سال کے بچے کو یہ سمجھنے میں بہت دیر لگی کہ ایسا کیوں ہوا، وہ جگہ کہ جہاں وہ بچہ اکثر اپنے والد کی انگلی پکڑ کے جاتا ہے، وہ جگہ کہ جہاں وہ بچہ کبھی نیاز کی ٹافی کھاتا ہے تو کبھی مٹھائی۔ وہ جگہ جو اسے اپنے گھر کی طرح لگتی ہے۔ وہاں فائرنگ کر کے کیوں لوگوں کو مارا گیا۔
خیر چند دن بعد باب العلم گئے تو صحن میں تین قبور کا اضافہ ہو چکا تھا۔ شہید سجاد، شہید شہنشاہ اور شہید زاہد۔ تینوں نے فائرنگ ہونے پر عزاداروں کو بچاتے ہوئے صحنِ مسجد میں جام شہادت نوش کیا۔
تب سے اب تک ایک روٹین بن چکا ہے کہ جب بھی امام بارگاہ جانا ہے تو زیارت کے بعد ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کرنی ہے، پھر چاہے وہ عید کا دن ہی کیوں نا ہو۔ ان کے بارے میں جو کچھ وہاں دیوار پر لکھا ہے وہ شاید مجھے زبانی یاد ہے کہ اتنی دفعہ پڑھ چکا ہوں، یقینا آپ میں سے بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا۔
کیا سچ کیا جھوٹ، لوگ کہتے ہیں کہ کئی لوگوں نے ان کو کربلا میں کسی سبیل پر پانی پلاتے دیکھا ہے۔ مولا کے کام مولا ہی جانیں۔ ہم بس اتنا کرسکتے ہیں کہ جب بھی جائیں ان شہدا کی قبور پر ضرور فاتحہ خوانی کریں کہ یہ شہدا باب العلم کا حق ہے۔