18/05/2026
❤️ *فاتح خارجیت و ناصبیت و قادیانییت تاج المناظرین حضرت مولانا علامہ تاج الدین حیدری اعلٰی اللہ مقامہ* ❤️
🌷 *مختصر تعارف* 🌷
👈 علامہ تاج الدین حیدری ولد حاجی میاں مہر الدین 1934 میں گجرانوالہ کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اس کے بعد آپ نے دینی تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی آپ کے سب سے پہلے استاد مولانا برکت علی حنفی تھے-
دوسرے استاد مولانا اللّٰہ دتہ امرتسری تھے جو کہ اہل حدیث تھے
اس کے بعد آپ نے مولانا مفتی بشیر حسین بریلوی آف گجرانوالہ سے استفادہ کیا اس کے بعد آپ نے مولانا پیر ابو العرفان عبد القادر گیلانی سے سلسلہ قادریہ میں بیعت کی-
پھر پیر صاحب کے ارشاد کے مطابق 373 چک چانواں تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مدرسے میں داخلہ لیا دو سال تک اسی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی
👈اس کے بعد دار العلوم محمدیہ بھکھی شیریف تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں داخل ہو گئے جہاں آپ کے اساتذہ میں
مولانا سید جلال الدین (عصر حاضر کے اہلسنت مناظر عرفان مشہدی کا ابا حضور)
مولانا محمد یوسف اور مولانا غلام قاسم شامل ہیں
درسیات کی تکمیل کے بعد بریلوی مکتب فکر کے مشہور عالم مولانا سردار احمد سے دورہ حدیث پڑھا-
پھر صحیح البخاری دیوبندی محدث مولانا سلطان محمود سے
اور جامع ترمذی اہل حدیث محدث مولانا حافظ محمد گوندلوی سے اس کے بعد مختلف بریلوی و حنفی مساجد میں خطیب رہے
👈اس زمانے میں مبلغ اعظم مولانا اسماعیل رح اور سیف المناظرین حافظ سیف اللہ کی تبلیغ سے کراچی میں ان گنت افراد مذہب حقہ شیعہ قبول کر رہے تھے اس لیے آپ ان کا زور توڑنے کےلیے کراچی تشریف لے گئے اور شیعوں کے خلاف انتہائی دل آزار تقاریر کیں- اور مختلف شہروں اور دیہاتوں میں جا کر شیعوں کے خلاف وعظ کرتے رہے
❤️بالآخر بخت بیدار ہوا محمد و آل محمد ع کی نظر کرم ہوئی
ایک دفعہ آپ بیمار ھوئےتورات مولا امام حسین ع نے اپنے بھائی حضرت غازی عباس ع سمیت خواب میں شرفِ زیارت بخشا اوریہ مسئلہ سمجھایا کہ کھاتے ھمارے صدقے ھو
جیتے ھمارے صدقے ھو اور وکالت ھمارے غیر کی کرتے ھو۔
حیدری صاحب فرمایا کرتے تھے صبح اٹھا تو بیماری سے بھی شفا مل گئی اور ھدایت بھی مِل گئی۔❤️
❤️اور اس طرح 1961 میں مذہب حقہ شیعہ کی حقانیت کا اعتراف کرتے ہوئے شیعت کا اعلان کردیااور رضوانی' نقشبندی ' قادری تینوں کو چھوڑ کر حیدری بن گئے❤️
👈اور پھر جامع المنتظر لاہور میں داخل ہو گئے جہاں تقریباً ایک سال تک رہے اور علامہ سید صفدر حسین نجفی مدظلہ سے استفادہ کیا اور کچھ عرصہ پندرہ روزہ المنتظر کے نگران بھی رہے
👈علامہ صاحب کی کچھ تصانیف:
البیان المعقول فی طہارت نسب رسول
ایمان ابو طالب علیہ السلام
توضیح المرام فی اثبات عزا الامام
مذہب شیعہ من کتب سنیہ
ایمان والد ابراہیم علیہ السلام
شہادت ثالثہ کا جواز در تشہد نماز
ایمان والد ابراہیم علیہ السلام کے عنوان سے آپ کے مضامین المنتظر لاہور میں شائع ہوتے رہے
👈 *مناظرے*
آپ نے دیوبندی٬ اہل حدیث٬ بریلوی علماء سے پچاس کے لگ بھگ مناظرے کیے جن میں سندھ ہائی کورٹ کا مناظرہ 1983
فیڈرل شریعت کورٹ اسلام آباد 1984 میں مرزائیوں کےخلاف
اور 1997 سپریم کورٹ اسلام آباد شامل ہیں اور اللّٰہ جل جلالہ کے فضل کرم سے ہمیشہ فاتح رہے اور ہزاروں افراد کو در اہلبیت ع پر جھکا دیا
👈اس کے علاؤہ آپ کا ایک بہت اہم مناظرہ جو سوہاوہ دلوانہ کنگ روڈ منڈی بہاوالدین میں 1974 میں ہوا تھا جس میں مد مقابل آپ کے اساتذہ بھی شامل تھے مولانا جلال الدین شاہ (عرفان مشہدی کے والد) مولانا عبد الرشید جھنگوی اور مولانا عنایت اللہ سانگلہ ہل وغیرہ شامل تھے اور یہ مناظرہ خلافت کے موضوع پر ہوا تھا
جسکی آڈیو ریکارڈنگ الحمدللہ آج بھی محفوظ ہے اور جس کے بعض کلپس یو ٹیوب پر بھی موجود ہیں-
👈اس مناظرہ میں عین موقع پر پچاس افراد نے مذہب حقہ شیعہ قبول کیا
👈اور پھر تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور 80 گھروں پر شہنشاہ وفا مولا عباس علیہ السلام کے علم مبارک خود علامہ تاج الدین حیدری صاحب نے اپنے دست مبارک سے نصب کیے-
اللّٰہ جل جلالہ سے دعا ہے کہ محمد و آل محمد ع کا صدقہ علامہ تاج الدین حیدری صاحب کے درجات بلند فرمائے اور مخدومہ کونین سیدہ سلام اللہ علیہا کی وکالت کا اجر عظیم عطا فرمائے آمین🤲
❤️ *فاتح خارجیت و ناصبیت و قادیانییت تاج المناظرین حضرت مولانا علامہ تاج الدین حیدری اعلٰی اللہ مقامہ* ❤️
🌷 *مختصر تعارف* 🌷
👈 علامہ تاج الدین حیدری ولد حاجی میاں مہر الدین 1934 میں گجرانوالہ کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اس کے بعد آپ نے دینی تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی آپ کے سب سے پہلے استاد مولانا برکت علی حنفی تھے-
دوسرے استاد مولانا اللّٰہ دتہ امرتسری تھے جو کہ اہل حدیث تھے
اس کے بعد آپ نے مولانا مفتی بشیر حسین بریلوی آف گجرانوالہ سے استفادہ کیا اس کے بعد آپ نے مولانا پیر ابو العرفان عبد القادر گیلانی سے سلسلہ قادریہ میں بیعت کی-
پھر پیر صاحب کے ارشاد کے مطابق 373 چک چانواں تحصیل ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مدرسے میں داخلہ لیا دو سال تک اسی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی
👈اس کے بعد دار العلوم محمدیہ بھکھی شیریف تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں داخل ہو گئے جہاں آپ کے اساتذہ میں
مولانا سید جلال الدین (عصر حاضر کے اہلسنت مناظر عرفان مشہدی کا ابا حضور)
مولانا محمد یوسف اور مولانا غلام قاسم شامل ہیں
درسیات کی تکمیل کے بعد بریلوی مکتب فکر کے مشہور عالم مولانا سردار احمد سے دورہ حدیث پڑھا-
پھر صحیح البخاری دیوبندی محدث مولانا سلطان محمود سے
اور جامع ترمذی اہل حدیث محدث مولانا حافظ محمد گوندلوی سے اس کے بعد مختلف بریلوی و حنفی مساجد میں خطیب رہے
👈اس زمانے میں مبلغ اعظم مولانا اسماعیل رح اور سیف المناظرین حافظ سیف اللہ کی تبلیغ سے کراچی میں ان گنت افراد مذہب حقہ شیعہ قبول کر رہے تھے اس لیے آپ ان کا زور توڑنے کےلیے کراچی تشریف لے گئے اور شیعوں کے خلاف انتہائی دل آزار تقاریر کیں- اور مختلف شہروں اور دیہاتوں میں جا کر شیعوں کے خلاف وعظ کرتے رہے
❤️بالآخر بخت بیدار ہوا محمد و آل محمد ع کی نظر کرم ہوئی
ایک دفعہ آپ بیمار ھوئےتورات مولا امام حسین ع نے اپنے بھائی حضرت غازی عباس ع سمیت خواب میں شرفِ زیارت بخشا اوریہ مسئلہ سمجھایا کہ کھاتے ھمارے صدقے ھو
جیتے ھمارے صدقے ھو اور وکالت ھمارے غیر کی کرتے ھو۔
حیدری صاحب فرمایا کرتے تھے صبح اٹھا تو بیماری سے بھی شفا مل گئی اور ھدایت بھی مِل گئی۔❤️
❤️اور اس طرح 1961 میں مذہب حقہ شیعہ کی حقانیت کا اعتراف کرتے ہوئے شیعت کا اعلان کردیااور رضوانی' نقشبندی ' قادری تینوں کو چھوڑ کر حیدری بن گئے❤️
👈اور پھر جامع المنتظر لاہور میں داخل ہو گئے جہاں تقریباً ایک سال تک رہے اور علامہ سید صفدر حسین نجفی مدظلہ سے استفادہ کیا اور کچھ عرصہ پندرہ روزہ المنتظر کے نگران بھی رہے
👈علامہ صاحب کی کچھ تصانیف:
البیان المعقول فی طہارت نسب رسول
ایمان ابو طالب علیہ السلام
توضیح المرام فی اثبات عزا الامام
مذہب شیعہ من کتب سنیہ
ایمان والد ابراہیم علیہ السلام
شہادت ثالثہ کا جواز در تشہد نماز
ایمان والد ابراہیم علیہ السلام کے عنوان سے آپ کے مضامین المنتظر لاہور میں شائع ہوتے رہے
👈 *مناظرے*
آپ نے دیوبندی٬ اہل حدیث٬ بریلوی علماء سے پچاس کے لگ بھگ مناظرے کیے جن میں سندھ ہائی کورٹ کا مناظرہ 1983
فیڈرل شریعت کورٹ اسلام آباد 1984 میں مرزائیوں کےخلاف
اور 1997 سپریم کورٹ اسلام آباد شامل ہیں اور اللّٰہ جل جلالہ کے فضل کرم سے ہمیشہ فاتح رہے اور ہزاروں افراد کو در اہلبیت ع پر جھکا دیا
👈اس کے علاؤہ آپ کا ایک بہت اہم مناظرہ جو سوہاوہ دلوانہ کنگ روڈ منڈی بہاوالدین میں 1974 میں ہوا تھا جس میں مد مقابل آپ کے اساتذہ بھی شامل تھے مولانا جلال الدین شاہ (عرفان مشہدی کے والد) مولانا عبد الرشید جھنگوی اور مولانا عنایت اللہ سانگلہ ہل وغیرہ شامل تھے اور یہ مناظرہ خلافت کے موضوع پر ہوا تھا
جسکی آڈیو ریکارڈنگ الحمدللہ آج بھی محفوظ ہے اور جس کے بعض کلپس یو ٹیوب پر بھی موجود ہیں-
👈اس مناظرہ میں عین موقع پر پچاس افراد نے مذہب حقہ شیعہ قبول کیا
👈اور پھر تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور 80 گھروں پر شہنشاہ وفا مولا عباس علیہ السلام کے علم مبارک خود علامہ تاج الدین حیدری صاحب نے اپنے دست مبارک سے نصب کیے-
اللّٰہ جل جلالہ سے دعا ہے کہ محمد و آل محمد ع کا صدقہ علامہ تاج الدین حیدری صاحب کے درجات بلند فرمائے اور مخدومہ کونین سیدہ سلام اللہ علیہا کی وکالت کا اجر عظیم عطا فرمائے