Al Madina Jame Masjid.

Al Madina Jame Masjid. Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Madina Jame Masjid., Landhi 37/D, Karachi.

اس نیک کام میں اپنے لیے اپنے مرحومین کے لیے صدقہ جاریہ کی نیت سے تعاون فرمائیں ۔ المدینہ جامع مسجد لانڈھی نمبر 2 کراچی ر...
29/05/2024

اس نیک کام میں اپنے لیے اپنے مرحومین کے لیے صدقہ جاریہ کی نیت سے تعاون فرمائیں ۔
المدینہ جامع مسجد لانڈھی نمبر 2 کراچی
رابطہ صغیر احمد بھائی موبائل نمبر : 03323303860
کے الیکٹرک کے ظالمانہ بلنگ سے نجات کا وقت آگیا ہے۔

03/09/2019

امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کی تابعیت

اس موضوع پر کچھ لکھنے سے پہلے تابعیت کی فضیلت اورتابعی کی تعریف جان لینا ضروری ہے ۔

تابعیت کی فضیلت: ’’والسٰبقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضواعنہ واعد لھم جنٰت تجری تحتھاالانھٰرخالدین فیھاابداذٰلک الفوزالعظیمo۔،،

ترجمہ: اورجولوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اورمددکرنے والے جونیکی کہ ساتھ ان کے پیروکار ہیں اللہ راضی ہو ان سے اوروہ راضی ہوئے اس سے ،تیار کررکھے ان کے واسطے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیںگے ،یہی بڑی کامیابی ہے۔

حدیث میں ہے : حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایاکہ سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر وہ جو ان سے پیوستہ ہیں پھر وہ جوان سے پیوستہ ہیں پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے کسی کی گو اہی اس کی قسم سے پہلے ہوگی اورکسی کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ۔اس آیت اورحدیث پر غور کیجیے سابقیت،مقربیت،رضاء الہی،وعدہ دخول جنت اوروہاں ھمیشہ ہمیشہ رہنا، فوز عظیم خیریت زمان۔ یہ وہ فضائل اور خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے شرف تابعیت انتہائی قدرومنزلت کی چیز بن گئی ہے ۔

تابعی کی تعریف: علامہ محی الدین النووی ’’تقریب‘‘ میں تابعی کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’قیل ھو من صحب الصحابی وقیل من لقیہ وھوالاظھر۔‘‘

ترجمہ: کہا گیا ہے تابعی وہ شخص ہے جس نے صحابی کی صحبت اٹھائی ہواوریہ بھی کہا گیا ہے کہ تابعی وہ ہے جس نے کسی صحابی سے ملاقات کی ہو اور یہی زیادہ ظاہر ہے ۔

تابعی کے تعریف کے متعلق اتنی بات کافی ہے اصول حدیث کے اس متعینہ فیصلہ کی روشنی میں اور تابعی کی اس مسلمہ تعریف کے مطابق آیاامام ابوحنیفہ شرف تابعیت کے حامل ہوسکتے ہیں کہ نہیں ؟ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے دوامور غورطلب ہیں: اول : یہ کہ امام اعظم نے صحابہ کازمانہ پایا کہ نہیں؟ دوم: یہ کہ انہوں نے کسی صحابی کودیکھانہیں؟ سب سے پہلے امام اعظم کی تاریخ پیدائش پر نظر ڈالنی چاہیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ آپ کی پیدائش کے وقت صحابہ اس دنیا میں موجود تھے یانہیں ؟

امام صاحب کی تاریخ پیدائش کے بارے علامہ خطیب بغدادی ،حافظ ابن حجر عسقلانی وغیرہ آپ کا سن پیدائش سن ۸۰ھ بتایا ہے بعض حضرات نے سن ۶۱ھ اوربعض نے سن ۷۰ھ بھی بتایا ہے علامہ زاہد الکوثری نے سن ۷۰ ھجری کی روایت کو ترجیح دی ہے ۔

یہ وہ زمانہ ہے جب بہت سارے صحابہ اس دنیا میں تشریف فرما تھے متعدد علماء نے ایسے تمام صحابہ کانام گنوایاہے جواس وقت بقید حیات تھے۔

علامہ ہاشم سندھی’’ اتحاف الاکابر‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’فمن الصحابۃالذین ادرکھم ابوحنیفۃ الکوفی ؓ،عبداللہ بن اوفی ؓو منھم انس بن مالکؓ خادم النبیﷺ منھم عمروبن حریث ؓ ومنھم عبداللہ بن الحارث بن جزالزبیدیؓ۔‘‘ …الخ

ترجمہ: چنانچہ ان صحابہ میں سے جن کو امام ابوحنیفہ ؒ نے پایا یہ ہیں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ، حضرت انس بن مالک ؓخادم رسول ﷺ ،حضرت عمروبن حریث ؓ، حضرت عبداللہ بن الحارث بن جزالزبیدی ؓ وغیرہ صحابہ ہیں۔

جن کو امام ابوحنیفہ نے پایا ہے اس لحاظ سے آپ ؒ درجہ تابعیت پر فائز ہیں اور تابعی کی فضیلت ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ سابقیت،مقربیت،رضاء الہی،وعدہ دخول جنت اوروہاں ھمیشہ ہمیشہ رہنا، فوز عظیم خیریت زمان۔ یہ ساری فضیلتیں امام ابو حنیفہ ؒکا حاصل ہیں ۔۔

..Imam e Azam Abu Hanifa Rh. Ka Fatiha Khalful Imam Par Ek Anokha Munazra..Ek Din Bahut Se Log Jama Hokar Aaye Ke Qirat ...
29/08/2019

..Imam e Azam Abu Hanifa Rh. Ka Fatiha Khalful Imam Par Ek Anokha Munazra..

Ek Din Bahut Se Log Jama Hokar Aaye Ke Qirat Khalful Imam Ke Masle Me Imam Sahaab Se Guftagu Kare.

Imam Sahaab Rh. Ne Kaha, "Itne Aadmiyo Se Mai Tanha Q Kar Bahez Kar Sakta Houn, Albatta Yeh Hosakta Hai Ke Aap Is Majme Me Se Kisi Koi Inteqaab Karle, Jo Sab Ki Taraf Se Is Khidmat Ka Kafeel Ho Aur Uski Taqreer Pure Majme Ki Taqreer Samjhi Jaaye”.

Logo Ne Is Baat Ko Manzoor Kar Liya.

Imam Sahaab Rh. Ne Kaha “Aap Ne Yeh Tasleem Kiya Toh Bahez Ka Khaatma Bhi Hogaya.

"Jis Tarah Ek Shaks Ko Sab Ki Taraf Se Bahez Ka Muqtaar Kardiya ( Yaani Ek Shaks Ki Bahez Poore Majme Ki Bahez Samjhi Jaayegi) Isi Tarah Hum Ne Namaz Me Bhi Ek Imaam Muqarar Kiya Hai Jiski Qirat Tamaam Muqtadiyo Ke Liye Kaafi Hai".

(Seerat E Noumaan: 70)

Yeh Misaal Thi Ab Hadees Sune Huzur Allaihi Salam Ne Farmaaya:

“Jo Shaks Imam Ke Peeche Namaz Padhe Toh Imam Ki Qirat Bhi Uski Qirat Hai”.

(Muw'tta Imam Muhammad [ موطأ الإمام مالك ]: Hadees No # 117)

18/05/2019

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ابو حنیفہ کیوں کہتے ہیں۔۔۔۔؟
کس واقعہ کے پیش آنے پر ان کو یہ لقب ملا؟

آپ کا لقب امام اعظم ہے، حضرت کی کنیت ابو حنیفہ ہے.

الجواب بعون الملک الوھاب

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بیٹی تھی ہی نہیں ایک ہی بیٹا تھا جسے اپنے شیخ حماد رحمہ اللہ کے ہم نام رکھا.
اگر کوئی ابو حنیفہ میں حنیفہ سے مراد امام صاحب کی بیٹی لیتا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کیا بکر ، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا نام ہے ابو ہریرہ میں کیا حضرت ابو ہریرہ کی بیٹی ہریرہ تھی، کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کہا جاتا ہے تو کیا تراب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی بیٹا تھا ہرگز نہیں -
کنیت دو طرح کی ہوتی ہیں
1. ایک نسبی ایک وصفی
2. دوسری نسبی
اگراپنی اولاد کی طرح نسبت ہوتو کنیت نسبی کہلاتی ہے. اگر کسی وصف کی طرف ہو تو وصفی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کنیت کی وجہ بکر کے معنی پہل کرنا، موسم کا پہلا پھل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہر چیزوں میں پہل کرنے والے تھے ایمان لانے میں مال خرچ کرنے میں وغیرہ پہلے ایمان لانے والے اسلام کا پہلا پھل کہا جاسکتا ہے. لوگ عبد اللہ بن ابو قحافہ نہیں جانتے ابوبکر سب جانتے ہیں.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ معنی لفظی بلی کا باپ بلی کے بچہ کو آستین میں لے کر آئے. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا،
ابوہریرہ بلی والے
یہ جملہ حضرت عبدالرحمن بن صخرہ کو پسند آیا اور لوگ عبد الرحمن بن صخرہ کوئی نہیں جانتا ابو ہریرہ سب جانتا ہے اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا ابی تراب اے مٹی والے
اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کا نام ہے نعمان بن ثابت مگر وصف سے مشہور ہوئے. حنیفہ کا ایک معنی دوات ابو حنیفہ دوات والا امام صاحب نے اتنا لکھا کہ نام ہی ہو گیا دوات والا یعنی ابو حنیفہ، حنیفہ کا دوسرا معنی خالص دین امام صاحب نے قرآن و حدیث سے پورے دین کو سب سے پہلے لکھوایا اسی بنا پر کہا گیا ابو حنیفہ خالص دین لکھوانےوالا

لما فی الخیرات الحسان ص۴۵
ان کنیة ابوحنیفہ مونث حنیف وھوالناسک اوالمسلم لان الحنیف المیل.والمسلم مائل الی الدین المحق قیل سبب تکنیة بذالک ملازمتہ للدواة حنفیة بلغة العراق وقيل كانت له بنت تسمي بذالك ورد بانه لايعلم له ولد ذكز ولا انثي غير حماد
ــــــــــــــــــــــــــــــ
نجم الفتاوی ۴۲۱/۱

واللہ اعلم بالصواب
ابو حنیفہ قاسمی
ریاض سعودی عرب

جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو احکام کے خداوندی پر مضبوطی سے جمے رہنے پر ملت ابراہیم حنیفا کہاں اسی طرہ حضرت رحمہ اللہ کو دین پر پختگی کی وجہ سے ابو حنیفہ کہا گیا.

واللہ اعلم باالصواب

02/05/2019

🌻 روزے کے مسائل 🌻

🌼 روزے کی نیت کے مسائل🌼
🌺 روزے کے لیے نیت کا حکم:
روزے کے لیے نیت فرض ہے،بغیر نیت کے روزہ نہیں ہوتا۔
(رد المحتار، مراقی الفلاح)

🌺 نیت کی حقیقت:
نیت دل کے ارادے اور عزم کا نام ہے کہ دل میں یہ نیت ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے روزہ رکھتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیت کا تعلق دل ہی کے ساتھ ہے اور حقیقی نیت دل ہی کی ہوا کرتی ہے، اس لیے دل میں نیت کرلی تو یہ بھی کافی ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بھی درست ہے لیکن ضروری نہیں۔ اگر کوئی شخص دل ہی میں نیت کرلیتا ہے اور زبان سے نیت کے الفاظ ادا نہیں کرتا تو یہ بالکل جائز ہے۔
(رد المحتار، ماہِ رمضان کے فضائل واحکام از مفتی محمد رضوان، فتاویٰ رحیمیہ)

🌺 عربی زبان میں نیت کرنے کا حکم:
نیت کے الفاظ ہر شخص اپنی اپنی زبان میں بھی ادا کرسکتا ہے، اسی طرح نیت عربی میں کرنا بھی درست ہے لیکن ضروری نہیں۔

🌺 عوام میں مشہور عربی نیت کا حکم:
آج کل عوام میں نیت کے یہ الفاظ مشہور ہیں:”وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَھْرِ رَمَضَانَ“، حتی کہ بعض لوگ تو اس کو سحری کی دعا سمجھتے ہیں بلکہ کیلینڈر اور دیگر چیزوں کے ذریعےاس کی اشاعت کا اہتمام بھی کرتے ہیں، یاد رہے کہ یہ سحری کی دعاتوہرگزنہیں، البتہ ان الفاظ کے ساتھ نیت کرنا درست تو ہے لیکن یہ الفاظ قرآن وسنت سے ثابت نہیں، اس لیے ان الفاظ کو سنت یا ضروری نہ سمجھا جائے۔ اسی طرح اس کی اشاعت کا اس قدر اہتمام بھی ایک بے بنیاد بات ہے، اس سے بڑی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، لوگ صحیح مسئلے سے ناواقف رہتے ہیں۔
(ماہِ رمضان کے فضائل واحکام)

🌺 نیت کب تک کی جاسکتی ہے؟
نصف النہار شرعی: ”نصف النہار“ کا معنٰی ہے: آدھا دن۔ صبح صادق سے لے کر سورج غروب ہونے تک پورے دن کا جتنا بھی وقت ہے اس کے آدھے وقت کو ”نصف النہار شرعی“ کہتے ہیں، یعنی شریعت کی نگاہ میں آدھا دن یہیں تک ہوتا ہے۔
(رد المحتار، ماہِ رمضان کے فضائل و احکام، المراقی)
رمضان کے روزے کی نیت رات سے بھی درست ہےاور سحری کے وقت یعنی صبح صادق سے پہلے بھی درست ہے، البتہ جس شخص نے سحری کے وقت بھی نیت نہیں کی یہاں تک کہ صبح صادق کا وقت داخل ہوگیا تو وہ ’’نصف النہار شرعی ‘‘ سے پہلے پہلے روزے کی نیت کرسکتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ صبح صادق طلوع ہونے کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ اسی طرح وہ حضرات جو سحری سے رہ جاتے ہوں اور صبح صادق کے بعد ہی بیدار ہوجاتے ہوں تو ان کے لیے بھی اتنی سہولت ہے کہ وہ ’’نصف النہار شرعی ‘‘ سے پہلے پہلے نیت کرکے روزہ رکھ لیا کریں اس شرط کے ساتھ کہ صبح صادق کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
(رد المحتار علی الدر المختار، فتاویٰ رحیمیہ، مراقی الفلاح مع نور الایضاح، بہشتی زیور)

🔅 جس شخص نے’’ نصف النہار شرعی‘‘ تک بھی نیت نہیں کی تو اس کے بعد اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں، اب اس کے ذمے اس روزے کی قضا رکھنا ضروری ہے، اور ایسا شخص اس دن دیگر روزہ داروں کی طرح افطار تک کچھ کھائے پیے گا بھی نہیں۔
(ماہِ رمضان کے فضائل و احکام)

🌺 مثال: رمضان 2019 میں کراچی پاکستان کے لیے’’نصف النہار شرعی‘‘ کا وقت:
اس سال (یعنی 2019ء/ 1440ھ کے) رمضان المبارک میں کراچی کے لیے ”نصف النہار شرعی“ کا وقت تقریبا پونے بارہ (11:45) بجے تک ہے، یعنی اس سے پہلے پہلے نیت کرسکتے ہیں۔
(یاد رہے کہ زوال کو ’’نصف النہارعرفی‘‘ کہتے ہیں، رمضان کے روزے کی نیت میں اس کا اعتبار نہیں بلکہ نصف النہار شرعی کا اعتبارہے۔)

🌺 نفلی، قضا اور کفارے کے روزوں کی نیت کب تک کی جاسکتی ہے؟
یہی حکم نفلی روزوں کا بھی ہے کہ اگر صبح صادق کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو تو نصف النہار شرعی سے پہلے تک ان کی نیت درست ہے، البتہ قضا اور کفارے کے روزوں کی نیت صبح صادق سے پہلے پہلے کرنی ضروری ہے، اگر کسی نے صبح صادق سے پہلے نیت نہیں کی تو صبح صادق کے بعد ان روزوں کی نیت معتبر نہیں۔
(بہشتی زیور، رد المحتار)

07/02/2019

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج پر آسمانوں میں دیگر انبیاء علیہ السلام سے ملاقاتیں
پہلے آسمان پر حضرت آدم عليه السلام سے ملاقات کی
دوسرے آسمان پر حضرت یحیی ، عیسی عليهم السلام سے ملاقات کی
تیسرے آسمان پر حضرت یوسف عليه السلام سے ملاقات کی
چوتھے آسمان پر حضرت ادریس عليه السلام سے ملاقات کی
پانچوے آسمان پر حضرت ہارون عليه السلام سے ملاقات کی
چھٹے آسمان پر حضرت موسی عليه السلام سے ملاقات کی
ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم عليه السلام سے ملاقات کی
(فتح الباری ، جلد : 7 ، صفحہ : 210 - 211)

06/02/2019

🚰 وضو کا طریقہ قرآن پاک سے 🚰

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ؕ
سورة المائدة ﴿6﴾
English Translation:
O ye who believe! When ye rise up for prayer, wash you faces, and your hands up to the elbows, and lightly rub your heads and (wash) your feet up to the ankles.
ترجمہ:
مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو)
سورة المائدة ﴿6﴾

🚰 وضو کے 4 فرائض ہیں 🚰
1- منہ دھونا ( پیشانی کے بالوں سے لیکر تھوڑی کے نیچے تک اور دونوں کان کی لو تک منہ دھونا )
2- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا ( اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اسطرح دھونا کے انگلیوں کے ناخنوں سے لیکر کہنیوں سمیت ایک بال بھی خشک نہ رہے )
3- چوتھائ سر کا مسح کرنا ( یعنی ہاتھ تر کرکے سرکے چوتھائ بالوں پر مسح کرنا )
4- دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا
اگران 4 فرضوں میں سے ایک بھی فرض رہ گیا تو وضو نہ ھوگا ، تو نماز بھی نہیں ھوگی--
اللہ پاک عمل کی توفیق دے دے..

05/02/2019

** نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطهرات كے اسم مبارك **

1- خدیجہ بنت خویلد بن اسد عبد عزی بن قصی
2- سودہ بنت زمعہ عامریہ
3- عائشہ بنت ابی بکر صدیق تیمیہ
4- حفصہ بنت عمر بن خطاب عدویہ
5- ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ امویہ
6- زینب بنت جحش اسدیہ
7- زینب بنت خزیمہ
8- ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ مخزومیہ
9- میمونہ بنت حارث ھلالیہ
10- جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار مصطلقیہ
11- صفیہ بنت حسیی بن اخطب نضریہ اسرائیلیہ ہارونیہ
12- ماریہ بنت شمعون قبطیہ مصریہ
13- ریحانہ بنت شمعون قرظیہ
رضی اللہ عنھن وارضاھن

28/01/2019

خبردار!
حدیث نہیں، من گھڑت بات۔
عالم كى نيند، جاہل كى عبادت سے افضل ہے-
يہ حدیث نہیں، ناہى كسى صحابى كا قول ہے -

26/01/2019

-- ايمان جيسى دولت صحابه رضى الله عنهم كے قدموں ميں ملتى هے --
** عظمت صحابه زنده باد **

Address

Landhi 37/D
Karachi
75550

Telephone

03341346898

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Madina Jame Masjid. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Al Madina Jame Masjid.:

Share