10/02/2026
ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جنت کو رمضان شریف کے لئے خوشبوؤں کی دھونی دی جاتی ہے اور شروع سال سے آخر سال تک رمضان کی خاطر آراستہ کیا جاتا ہے پس جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کا نام مثیرہ ہے ( جس کے جھونکوںکی وجہ سے ) جنت کے درختوں کے پتے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں جس سے ایسی دل آویز سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی پس خوشنما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنت کے بالا خانوں کے درمیان کھڑے ہو کر آواز دیتی ہیں کہ کوئی ہے اﷲ تعا لی بارگاہ میں ہم سے منگنی کرنیوالاتا کہ حق تعالی شانہ اس کو ہم سے جوڑ دیں پھر وہی حوریں جنت کے داروغہ رضوان سے پوچھتی ہیں کہ یہ کیسی رات ہے وہ لبیک کہ کر جواب دیتے ہیں کہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہے جنت کے دروازے محمد صلی الله علیہ والہ وسلم کی امت کے لییٔ جنت کے دروازے کھول دے اور مالک ( جہنم کے داروغہ) سے فرما دیتے ہیں کہ احمد صلی الله علیہ والہ وسلم کی امت کے روزہ داروں پر جہنم کے دروازے بند کر دے اور جبرئیل کو حکم ہوتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور سرکش شیاطین کو قید کرو ا ر گلے میں طوق ڈال کر دریا میں پھینک دو کہ میرے محبوب محمد صلی الله علیہ والہ وسلم کی امت کے روزوں کو خراب نہ کریں۔
نبی کریم صلی الله علیہ والہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ رمضان کی ہر رات میں ایک منادی کو حکم فرماتے ہیں کہ تین مرتبہ یہ آواز ہے کوئی مانگنے والاجس کو میں عطاکروں ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں،کوئی ہے مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفر ت کروں،کون ہے جو غنی کو قرض دے ایسا پورا پورا ادا کرنے والا جو ذرابھی کمی نہیں کرتا
حضور نے فرمایا کہ حق تعالی شانہ رمضان شریف میں روزانہ افطار کیوقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہو چکے تھے اور جب رمصان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جسقدر لوگ جہنم سے آزاد کئے گئے تھے ان کے برابر اس ایک دن میں آزادفرماتے ہیں اور جس رات شب قدر ہوتی ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہو چکے تھے اور جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدرلوگ جہنم سے آزاد کئے گئے تھے اُن کے برابر اُس ایک دن میں آزاد فرماتے ہیں اور جس رات شب قدر ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ حضرت جبرئیل کو حکم فرماتے ہیں وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اُترتے ہیں اُن کے ساتھ ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے جس کو کعبہ کے اوپر کھڑا کرتے ہیں اور حضرت جبرئیل کے سو بازو ہیں جن میں سے دو کو صرف اسی رات میں کھولتے ہیں جن کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ہیں پھر حضرت جبرئیل فرشتوں کو تقاضا فرماتے ہیں کہ جو مسلما ن آج کی رات کھڑا ہو یا بیٹھاہو، نماز پڑھ رہا ہو یا ذکر کر رہا ہو، اس کو سلام کریں اور مصافحہ کریں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہیں، صبح تک یہی حالت رہتی ہے،جب صبح ہو جاتی ہے تو جبرئیل آواز دیتے ہیں کہ فرشتوں کی جماعت اب کوچ کرو اور چلو۔ فرشتے حضرت جبرئیل سے پوچھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے احمد صلی الله علیہ والہ وسلم کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں کیامعاملہ فرمایاوہ کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر توجہ فرمائی اور چار شخصوں کے علاوہ سب کو معاف فرما دیا۔
صحابہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اﷲ وہ چار شخص کون ہیں۔
ارشاد ہواکہ ایک وہ شخص جو شراب کا عادی ہو دوسرا وہ شخص جو والدین کی نافرمانی کرنےوالا ہوتیسرا وہ شخص جو قطع رحمی کرنے والا ہواورناطہ توڑنے والا ہو، چوتھا وہ شخص جو کینہ رکھنے والا ہو اور آپس میں قطع تعلق کرنے والا ہو۔
پھر جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام( آسمانوں میں لیلۃ الجائزہ (انعام کی رات ) سے لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروںمیں بھیجتے ہیں۔وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو انسان اورجنات کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی الله علیہ والہ وسلم کی امت اس کریم رب کی(درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے، اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے۔
پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں، کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو، وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اسکا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری ادا کر دی جائے، تو حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے انکو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے بندو مجھ سے مانگو۔ میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گااور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گامیری عزت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا(اور اُنکو چھپاتا رہونگا)۔ میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم میں تمہیں مجرموں(اور کافروں) کے سامنے رُسوا اور فضیحت نہ کرونگا، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو، تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا۔ پس فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو افطار کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں اللہم اجعلنا منہم۔
فائدے میں شیخ رحمت الله لکھتے ہیں :
اس حدیث کے اکثر مضامین رسالہ کے گزشتہ اوراق میں بیان ہو چکے ہیں البتہ چند اُمور قابل غور ہیں جن میں سب سے اول اور اہم تو یہ ہے کہ بہت سے محروم رمضان کی مغفرتِ عامہ سے بھی مستثنیٰ تھے جیسا کہ پہلی روایات میں معلوم ہو چکا ہے اور وہ عید کی اس مغفرتِ عامہ سے بھی مستثنیٰ کر دیئے گئے، جن میں سے آپس کے لڑنے والے اور والدیں کی نافرمانی کرنے والے بھی ہیں۔ان سے کوئی پوچھے کہ تم نے اﷲ کو ناراض کر کے اپنے لئے کون سا ٹھکانا ڈھونڈ رکھا ہے افسوس تم پر بھی اور تمہاری اس عزت پر بھی جن کے حاصل کرنے کے غلط خیال میں تم رسول اﷲ کی بددعائیں برداشت کر رہے ہو، جبرئیل کی بددعائیں اُٹھا رہے ہو اور اﷲ کی رحمت و مغفرتِ عامہ سے بھی نکالے جا رہے ہو۔
میں پوچھتاہوں کہ آج تم نے اپنے مقابل کو زَک دے ہی دی، اپنی مونچھ اونچی کر ہی لی۔ وہ کتنے دن تمہارے ساتھ رہ سکتی ہے جبکہ اﷲ کا پیارا رسول تم پر لعنت کر رہا ہے، اﷲ کا مقرب فرشتہ تمہاری ہلاکت کی بددعا دے رہا ہے، اﷲ جل شانہ تمہیں اپنی مغفرت و رحمت سے نکال رہے ہیں۔ اﷲ کے واسطے سوچو اور بس کرو، صبح کا بھٹکا شام کو گھر واپس آجائے تو کچھ نہیں گیا۔
آج وقت ہے اور تلافی ممکن، اور کل جب ایسے حاکم کی پیشی میں جانا ہے جہاں نہ عزت و وجاہت کی پوچھ، نہ مال و متاع کارآمد، وہاں صرف تمہاری اعمال کی پوچھ ہے اور ہر ہرکت لکھی لکھائی سامنے ہے۔حق تعالیٰ شانہ اپنے حقوق میں در گزر فرماتے ہیں مگر بندوں کے آپس کے حقوق میں بغیر بدلہ دیئے نہیں چھوڑتے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کہ مفلس میری امت میں وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن نیک اعمال کے ساتھ آوے اور نماز روزہ صدقہ سب ہی کچھ لاوے، لیکن کسی کو گالی دے رکھی ہے، کسی کو تہمت لگا دی تھی، کسی کو مار پیٹ کی تھی، پس یہ سب دعویدار آویں گے اور اس کے نیک اعمال میں سے ان حرکتوں کا بدلہ وصول کر لیں گے اور جب اس کے پاس نیک اعمال ختم ہو جاویں گے تو اپنی برائیاں ان حرکتوں کے بدلہ میں اس پر ڈالتے رہیں گے اور پھر اس انبار کی بدولت وہ جہنم رسید ہو جائے گا اور اپنی کثرت اعمال کے باوجود جو حسرت و یاس اس کا عالم ہو گا وہ محتاجِ بیان نہیں:
وہ مایوسِ تمنا کیوں نہ سوئے آسماں دیکھے
کہ جو منزل بمنزل اپنی محنت رائیگاں دیکھے
دوسرا امر قابل غور یہ ہے کہ اس رسالہ میں چند مواقع مغفرت کے ذکر کئے گئے ہیں اور اُن کے علاوہ بھی نہت سے اُمور ایسے ہیں کہ وہ مغفرت کے سبب ہوتے ہیں اور گناہ ان سے معاف ہو جاتے ہیں۔ اس پر ایک اشکال ہوتا ہے وہ یہ کہ جب ایک مرتبہ گناہ معاف ہو چکے تو اسکے بعد دوسری دفعہ معافی کے کیا معانی۔ اسکا جواب یہ ہے کہ مغفرت کا قائدہ یہ ہے کہ جب وہ بندہ کی طرف متوجہ ہوتی ہے اگر اس پر کوئی گناہ ہوتا ہے تو اس کو مٹاتی ہے اور اگر اسکے اوپر کوئی گناہ نہیں ہوتا تو اس کے بقدر اس پر رحمت اور انعام کا اضافہ ہوجاتا ہے۔
تیسرا امر یہ ہے کہ سابقہ احادیث میں بھی بعض جگہ اور اس حدیث میں ابھی حق تعالیٰ شانہ نے اپنی مغفرت فرمانے پر فرشتوں کو گواہ بنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کی عدالت کے معاملات ضابطہ پر رکھے گئے ہیں۔ انبیاء ں سے انکی تبلیغ کے بارے میں بھی گواہ طلب کئے جائے گے۔چنانچہ احادیث کی کتابوں میں بہت سے مواقع پر نبی کریم صلی الله علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم سے میرے بارے میں سوال ہو گا لہٰذا تم گواہ رہو کہ میں پہنچا چکا ہوں بخاری وغیرہ میں روایت ہے کہ حضرت نوح قیامت کے دن بلائے جائیں گے۔ اُن سے دریافت کیا جائے گا کہ تم نے رسالت کا حق ادا کیا، ہمارے احکام پہنچائے وہ عرض کریں گے کہ پہنچائے تھے۔ پھر انکی اُمت سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں احکام پہنچائے تھے۔ وہ کہیں گے ۔ ماجاء نامن بشیر و لا نزیر۔ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیانہ ڈرانے والا تو حضرت نوح سے پوچھا جائے گا کہ اپنے گواہ پیش کرو۔ وہ محمد صلی الله علیہ والہ وسلم اور ان کی امت کو پیش کریں گے۔ امت محمدیہ بلائی جائے گی اور گواہی دے گی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان سے جرح کی جائے گی کہ تم کو کیا خبر کہ نوح نے اپنی امت کو احکام پہنچائے، یہ عرض کریں گے کہ ہمارے رسول صلی الله علیہ والہ وسلم نے خبر دی۔ ہمارے رسول پر جو سچی کتاب اتری اس میں خبر دی گئی۔ اسی طرح اور انبیاء کی امت کے ساتھ بھی پیش آئے گا۔ اسی کے متعلق ارشادِ خداوندی ہے :
وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس۔
امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں کہ قیامت میں گواہیاں چار طرح کی ہوں گی۔ ایک ملائکہ کی جس کے متعلق آیاتِ ذیل میں تذکرہ ہے امن وجاء ت کل نفس معھا سائق و شھیدہ ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید ط وان علیکم لحافظین ہ کراما کاتبین یعلمون ما تفعلون۔ دوسری گواہی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہو گی جس کے متعلق ارشاد ہے وکنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم ج فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید و جئنا بک علی ھولاء شھیدا تیسری امت محمدیہ کی گواہی ہو گی جس کے متعلق ارشاد ہے و جیئی بالنبین و الشھداء چوتھی آدمی کی اپنے اعضاء کی گواہی جس کے متعلق ارشاد ہے یوم تشہد علیھم السنتہم وایدیہم الایۃ اور الیوم نختم علی افواہہم و تکلمنا ایدیہم الا یۃ اختصار کی خیال میں ان آیات کا ترجمہ نہیں لکھا۔ سب آیات کا حاصل قیامت کے دن ان چیزوں کی گواہی دینے کا ذکر ہے جن کا بیان آیت کے شروع میں لکھ دیا گیا۔چوتھا امر حدیثِ بالا میں یہ ارشاد مبارک ہے کہ میں تم کو کفار کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا۔ یہ حق تعالیٰ شانہ کا غایت درجے کا لطف و کرم اور مسلمانوں کے حال پر غیرت ہے کہ اﷲ کی رضا کے ڈھونڈنے والوں کے لئے یہ بھی لطف و انعام ہے کہ ان کی لغزشوں اور سیئات سے وہاں بھی درگزر اور پردہ پوشی کی جاتی ہے۔
عبداﷲ بن عمرؓ حضور صلی الله علیہ والہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ قیامت کے دن حق تعالیٰ شانہ ایک مومن کو اپنے قریب بلا کر اس پر پردہ ڈال کر کہ کوئی دوسرا نہ دیکھے، اس کی لغزشوں اور سیئات یاد دلا کر اس سے ہر ہر گناہ کا اقرار کرائیں گے اور وہ اپنے گناہوں کی کثرت اور اقرار پر یہ سمجھے گا کہ اب ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ کو ارشاد ہو گا کہ میں نے دنیا مین تجھ پر ستاری فرمائی ہے تو آج بھی ان پر پردہ ہے اور معاف ہیں۔ اسکے بعد اسکے نیک اعمال کا دفتر اسکے حوالے کر دیا جائے گا۔
اور بھی سینکڑوں روایات سے یہ مضمون مستنبط ہوتا ہے کہ اﷲ کی رضا کے ڈھونڈنے والوں، اسکے احکام کی پابندی کرنے والوں کی لغزش سے درگزر کر دیا جاتا ہے اسلئے نہایت اہمیت کیساتھ ایک مضمون سمجھ لینا چاہیے کہ جو لوگ اﷲ والوں کی کوتاہیوں پر انکی غیبت میں مبتلا رہتے ہیں وہ اسکا لحاظ رکھیں کہ مبادا قیامت میں انکے نیک اعمال کی برکت سے انکی لغزشیں تو معاف کر دی جائیں اور پردہ پوشی فرمائی جائے لیکن تم لوگوں کے اعمال نامے غیبت کا دفتر بن کر ہلاکت کا سبب بنیں۔ اﷲ جل شانہ اپنے لطف سے ہم سب سے درگزر فرماویں۔
پانچواں امر ضروری یہ ہے کہ حدیثِ بالا میںعید کی رات کو انعام کی رات سے پکارا گیا۔ اس رات میں حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے اپنے بندوں کو انعام دیا جاتا ہے اس لئے بندوں کو بھی اس رات کی بیحد قدر کرنی چاہیے۔ بہت سے لوگ عوام کا تو پوچھنا ہی کیا ،خواص بھی رمضان کے تھکے ماندے اس رات میں میٹھی نیند سوتے ہیں۔ حالانکہ یہ رات بھی خصوصیت سے عبادت میں مشغول رہنے کی ہے۔ نبی کریم صلی الله علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ثواب کی نیت کرکے دونوں عیدوں میں جاگے ( اور عبادت میں مشغول رہے ) اس کا دل اُس دن نہ مرے گا جس دن سب کے دل مر جاویں گے ( یعنی فتنہ و فساد کے وقت جب لوگوں کے قلوب پر مردنی چھاتی ہے، اس کا دل زندہ رہے گا اور ممکن ہے کہ صور پھونکے جانے کا دن مراد ہو، کہ اس کی روح بیہوش نہ ہو گی۔
ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص پانچ راتوں میں ( عبادت کیلئے ) جاگے اسکے واسطے جنت واجب ہو جائے گی۔ لیلۃ الترویہ (آٹھ ذی الحجہ کی رات ) لیلۃ العرفہ ( ۹ ذی الحجہ کی رات) لیلۃ النحر( ۱۰ ذی الحجہ کی رات ) اور عید الفطر کی رات اور شب برأت یعنی ۱۵ شعبان کی رات۔
فقہاء نے بھی عیدین کی رات میں جاگنا مستحب لکھا ہے۔ ماثبت باسنتہ میں امام شافعی صاحب سے نقل کیا ہے کہ پانچ راتیں دعا کی قبولیت کی ہیں۔ جمعہ کی رات، عیدین کی راتیں، غرۃٔ رجب کی رات اور نصب شعبان کی رات۔
تنبیہ
بعض بزرگوں کا ارشاد ہے کہ رمضان المبارک میں جمعہ کی رات کا بھی خصوصیت سے اہتمام چاہیے کہ جمعہ اور اسکی رات بہت متبرک اوقات ہیں۔ احادیث میں انکی بہت فضیلت آئی ہے مگر چونکہ بعض روایات میں جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ مخصوص کرنے کی ممانعت بھی وارد ہوئی ہے اسلئے بہتر ہے کہ ایک دو رات کو اسکے ساتھ اور بھی شامل کر لے۔
آخر میں ناظرین سے لجاجت سے درخواست ہے کہ رمضان المبارک کے مخصوص اوقات میں جب آپ اپنے لئے دعا فرمائیں تو ایک سیہ کار کو بھی شامل فرمائیں، کیا بعید ہے، کہ کریم آقا تمہاری مخلصانہ دعا سے اس کو بھی اپنی رضا و محبت سے نواز دیں:۔
گرچہ میں بدکار و نالائق ہوں اے شاہ جہان
پر ترے درکو بتا اب چھوڑ کر جاؤں کہاں
کون ہے تیرے سوا مجھ بے نوا کے واسطے
کشمکش سے نا امیدی کی ہوا ہوں میں تباہ
دیکھ مت میرے عمل کر لطف پر اپنے نگاہ
یا رب اپنے رحم و احسان و عطا کے واسطے
چرخ عصیاں سر پہ ہے زیر قدم بحر الم
چار سو ہے فوج غم کر جلد اب بہر کرم
کچھ رہائی کا سبب اس مبتلا کے واسطے
گرچہ میںبد کارونالائق ہوں اے شاہ جہاں
پر ترے در کو بتا اب چھوڑ کر جاؤں کہاں
کون ہے تیرے سوا مجھ بے نوا کے واسطے
کشمکش سے ناامیدی کی ہوا ہوں میں تباہ
دیکھ مت میرے عمل ، کر لطف پر اپنے نگاہ
یارب اپنے رحم و احسان و عطا کے واسطے
چرغ عصیا ں سر پہ ہے زیر قدم بحر الم
چار سو ہے فوج غم کر جلد اب بہر کرم
کچھ رہائی کا سبب اس مبتلا کے واسطے
ہے عبادت کا سہارا عابدوں کے واسطے
اور زھدکا ہے زاھدوں کے واسطے
ہے عصائے آہ مجھ بے دست و پا کے واسطے
عقل و ہوش و فکر اور نعمائے دنیا بے شمار
کی عطا تُو نے مجھے، پر اب تو اے پروردگار
بخش وہ نعمت جو کام آئے سدا کے واسطے
حد سے ابتر ہو گیا ہے حال مجھ ناشاد کا
کر مری امداد اﷲ، وقت ہے امداد کا
اپنے لطف و رحمت بے انتہا کے واسطے
گو میں ہوں اک بندۂ عاصی غلام پر قصور
جرم میرا حوصلہ ہے، نام ہے تیرا غفور
تیرا کہلاتا ہوں میں جیسا ہوں اے رب شکور
یوم انت شاف انت کاف فی مھمات الامور
انت حسبی انت ربی انت لی نعم الوکیل
محمدزکریاکاندھلوی
مقیم مظاہرا لعلوم سہارنپور ( وارد بستی حضرت نظام الدین ؒ
دہلی ۲۷ شب رمضان المبارک ۱۳۴۹ھ)