02/08/2024
of 💫
سوره البقرہ آیت ۲۲:
الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾
وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کا فرش بچھایا ، آسمان کی چھت بنائی ، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمھارے لیے رزق بہم پہنچایا ۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ ۔
پچھلی آیت میں اللّه تعالیٰ نے تمام دنیا کے لوگو کو اللّه کی عبادت کا حکم دیا تھا اور ساتھ میں اپنی دو صفات رب اور خالق کی گنوائی تھیں کہ اس کی عبادت کرو جو نہ صرف رب ہے بلکہ خالق بھی ہے اور اسی کو تقویٰ کا ذریعہ بتایا تھا۔
اب اس آیت میں اللّه اپنی نعمتوں کا احساس دلا رہے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم بچوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے تمہارے لیے اتنا سب کچھ کیا اور کرہے ہیں پھر بھی تم ہماری بات نہ مانو گے؟
اللّه نے یہاں کچھ دلائل دے ہیں :
* ”الارض فراشا” زمین کا فرش
* "السماء بناء" آسمان کی چھت
* "السماء ماء" آسمان سے پانی / بارش
* "فاخرج بہ من الثمرات " اس پانی کے ذریعے سے پیداوار / رزق
یہ سب کچھ انسانی زندگی کی necessities ہیں ان کے بغیر انسانی زندگی کا servival نہی ہے ۔
اگر ہم اک لمحے کے لئے بھی imagine کریں کہ یہ زمین جس پر ہم کھڑے / بیٹھے / لیٹے ہیں یہ نہ رہے تو ہم اس کی کس گہرائی میں جاگرینگے؟یہ بلند و بلا عمارتیں اور سامانِ زندگی کس پاتال میں دھنس جائیگا؟ یا یہ صرف لمحے بھر کے لیے اپنی جگہ سے حل بھی جائے تو ہمارا کیا ہو ؟ جن لوگو کو زلزلے کا تجربہ ہوتا ہے وہ یہ بات اچھی طرح feel کرسکتے ہیں کہ زمین کی معمولی سی جنبش بھی انسان اور اس پورے نظام کو درہم برہم کردیتی ہے ۔
"الارض فراشا " کہنے میں تو صرف دو لفظ ہیں لیکن اگر ہم ان کی گہرائی میں جائیں تو اس میں اور بہت ساری چیزیں شامل ہیں:
پہاڑوں، وادیوں، میدانوں ، صحراؤں ، جنگلات، ندی نالوں ، چھوٹے اور بڑے سمندروں وغیرہ کے ساتھ اس کی ٹھوس پتھریلی سطح ہے۔ پانی زمین کی سطح کا 70 فیصد احاطہ کرتا ہے۔
پھر اللّه نے اس میں بہترین تناصب سے ہوا اور gasses رکھی ہیں۔ ہوا gasses کا پوشیدہ مرکب ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ ہوا میں اہم مادے ہوتے ہیں، جیسے آکسیجن اور نائٹروجن، جن پر زندگی کا دارومدار ہے ۔
تو الارض محض اک فرش نہی ہے بلکہ اگر یہ نہ ہو تو زندگی نہی ہے۔
اللّه نے قرآن اس طرح نازل کیا ہے کہ عرب کے بدو بھی اس کو آسان فہم انداز میں سمجھ سکتے تھے۔ اس لیے زیادہ تر چیزیں تمثیلی یا استعاراتی انداز میں اللّه نے فرمائی ہیں۔
الارض درحقیقت " radiations, heat waves, مختلف طرح کی gasses اور Electromagnetic waves" کے لیے ایک حد ہے تاکہ زمین پر انسانی زندگی برقرار رہے۔
"السماء بناء" sky building
"آسمان کو چھت بنایا " دراصل زمین کی تہوں اور اس کے تحفظ کی وضاحت کرنے کا ایک "metaphorical way" ہے۔
اس دنیا کے گرد 10,000 کلومیٹر کا ایک gaseous envelop ہے، جو آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ مختلف سائز کے لاکھوں شہاب ثاقب خلا سے ہماری دنیا کی سمت گرتے رہتے ہیں۔ اس کی شفاف ساخت کے باوجود، ہماری فضا فولادی ڈھال کی طرح اس شہاب ثاقب کی بمباری کے خلاف ایک جرات مندانہ مدافعت کرتی ہے۔
اگر "السماء بناء" نہ ہو تو زمین پر زندگی نہ ہوتی اور ہماری دنیا سوراخوں سے چھلنی ہوتی۔ شہابیوں کی بارشیں سطح سے ٹکراتی رہیں اور زیادہ حجم کے شہاب ثاقب چاند کے اندر گھس جاتے ہیں (they penetrated the curst of moon)، اس پر گہرے سوراخ ہو گئے۔ meteors مادے کے چھوٹے ذرات (a small body of matter from outer space) فضا میں موجود molecules پر بڑی رفتار سے حملہ کرتے ہیں اور پیدا ہونے والی حرارت انہیں ہوا میں غائب ہونے سے پہلے دھول کے ذرات میں بدل دیتی ہے۔
اب ذرا "الارض فراشا" اور " السماء بناء" کے بغیر زندگی کا تصور کیجئے۔ ہم ہر وقت اس زمین و آسمان کو دیکھتے رہتے ہیں تو یہ ہمارے لئے normal سا منظر ہوتا ہے اور قرآن پڑھتے وقت بھی ہم ان الفاظ پر سے یونہی تلاوت کرتے ہوۓ گزر جاتے ہیں مگر کیا یہ اتنی ہی معمولی چیزیں ہیں؟
" انزل من السماء ماء" آسمان سے پانی اتارا
بارش کا پورا نظام تو سب کو پتا ہے کہ کس طرح اللّه تعالیٰ یہ سسٹم چلا رہے ہیں۔
لیکن اک اور طرح کا پانی بھی اللّه نے آسمان سے اتآرا ہے۔
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کے موقع پر مجھے سدرۃ المنتہیٰ بھی دکھایا گیا، اس کے پھل ایسے تھے جیسے مقام ہجر کے مٹکے ہوتے ہیں اور پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان، اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی تھیں، دو نہریں تو باطنی تھیں اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ تو جنت میں ہیں اور دو ظاہری نہریں دنیا میں نیل اور فرات ہیں۔"
"فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم”
اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکالی۔
زمین کی پیداوار کے لیے پانی کا ایک پیچیدہ نظام ہے مختلف مراحل میں پانی فضا میں move کرتا ہے۔
جس میں بہت سے مختلف عمل شامل ہیں۔
*سورج کی شعاؤں سے بخارات بن کر اڑنا (Evapotranspiration)
* بادلوں میں جمع ہونا (Condensation)
* بارش (Participation)
* زمین پر ڈھالان کی طرف پانی کا بہاؤ (Surface runoff)
* زمین میں جذب ہونا (Infiltration & Percolation)
* زمین کی تہوں میں بیٹھ جانا / زمینی پانی ( Ground Water)
اب یہ زمینی پانی زمین کے نیچے move کرتا ہوا پودوں اور درختوں میں منتقل ہوتا ہے اور ان کی افزائش کرتا ہے۔
پھر جو پیداوار ہوتی ہے وہ "رزقا لکم" ہے یعنی تمہارے لیے رزق ہے ۔
اب اللّه تعالیٰ فرما رہے ہیں :
فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ ۔
یعنی جب یہ سب Systems ( زمین ، آسمان ، پانی، رزق) جب میں تمہارے سامنے دن رات چلا رہا ہوں اور تم خود ہر وقت میری نعمتوں سے فیضیاب ہورہے ہو تو کیا اب بھی تم میرے مقابلے میں دوسرے خدا بناتے ہو؟ ان کی عبادت کرتے ہو ؟ ان سے مدد مانگتے ہو؟
مطلب تم لوگ بجاۓ میرے شکر گزر ہونے اور میرے لیے اپنی بندگی خالص کرنے کے تم الٹا دوسروں کو میرے ساتھ خدائی میں شریک کرتے ہو؟
تمھیں چاہیۓ کہ تم اللّه وحدہ لا شریک کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، کسی کو اس کا ہمسر نہی بناؤ کیونکہ یہ سب چیزیں زندگی کی necessities ہیں یہ صرف میں تمھیں provide کرہا ہوں ۔ ان کے بغیر تم اک لمحہ بھی نہ زندہ رہ پاؤ ۔ اس سے پچھلی آیت میں اللّه اپنی دو صفات رب ہونا اور خالق ہونا بتاچکے ہیں۔
یعنی نہ صرف میں نے تم سب کو پیدا کیا بلکہ تمہاری زندگی کا دارومدار بھی میری ان نعمتوں پر ہے یہ اگر میں چھین لوں تو تم سب لمحے سے پہلے مر جاؤ پھر کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ ایسے رب کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟
بندہ جب ان نعمتوں پر غور کرتا ہے تو خود بہ خود دل سے اور زبان سے نکلتا ہے:
سبحان اللہِ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
یہ بظاھر چھوٹی سی آیت ہے اور ہم قرآن پڑھتے ہوۓ اس کو تیزی سے پڑھتے ہوۓ گزر جاتے ہیں لیکن اس آیت میں اللّه نے کتنی بڑی science کھول دی ہے پورا کا system زمین سے آسمان تک سمجھا دیا ۔ اب کوئی بہت ہی ناشکرا اور نافرمان ہی ہوگا جو یہ سب دیکھنے اور experience کرنے کے باوجود اللّه کی خدائی میں دوسروں کو شریک ٹھہراۓ۔
سبحان اللہِ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔