Codes Of Quran

Codes Of Quran We are decoding the comprehensive Code of Life "القرآن".

  of   💫سوره البقراہ آیت ۲۳:وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ م...
02/08/2024

of 💫

سوره البقراہ آیت ۲۳:

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳﴾

اور اگر تمھیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ، یہ ہماری ہے یا نہیں ، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو ، مدد لےلو ، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھاؤ ۔

اب اس آیت میں اللّه نے اک کھلا challenge تمام انسانوں کو دیا ہے کہ یہ جو کلام ہم اپنے بندے پر اتار رہے ہیں تم اس کو مانتے نہی ہو جب ہی اس سے کفر کرتے ہو تو یقیناً تمھیں اس کے من جانب اللّه ہونے پر شک ہے تو بنالاؤ اس جیسی اک سورت۔ تم پر واضح ہوجاے گا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہی ہے ورنہ اس کا بنانا تمہارے اختیار میں ہوتا ۔

"وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ" اور اگر تمھیں کوئی شک ہے۔
"رَیب" کے معنی ہیں کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم/ شک ہو مگر بعد میں اس توہم کا ازالہ ہوجائے۔

"مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا" جو کچھ نازل کیا ہم نے اپنے بندے پر ۔
یہاں بندے کی نسبت رسول ﷺ کی طرف ہے ۔

"فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ" پس لے آؤ اک سورت مانند اس کے ۔

اس سے پہلے مکّہ میں کئی بار یہ چیلنج دیا جا چکا تھا کہ اگر تم اس قرآن کو انسان کی تصنیف سمجھتے ہو ، تو اس کے مانند کوئی کلام تصنیف کر کے دکھاؤ ۔ اب مدینے پہنچ کر پھر اس کو remind کرایا جا رہا ہے۔

"وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ"
اور اللہ کے سوا اپنے شہداء (مددگاروں) کو بھی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔
شہداء شہید کی جمع ہے ‘ اس کے معنی ہے : حاضر ‘ گواہی دینے والا ‘ مددگار ‘ اور امام ۔
قرآن کی سورت کی مثل لانے کے لیے تم انسانوں ‘ جنوں اور خود ساختہ معبودوں کو بلاؤ اور ان سے مدد حاصل کرلو ‘ اللہ کے سوا اس کلام کی مثل اور کوئی نہیں لاسکتا یا اللہ کے سوا اور گواہوں کو بلاؤ جو یہ گواہی دیں کہ تمہارا بنایا ہوا کلام اللہ کے کلام کی مثل ہے ‘ یا شہداء سے مراد وہ غیر اللہ ہیں جن کو تم نے اپنا کارساز بنا کر رکھا ہے یا شہداء سے مراد وہ خود ساختہ معبود ہیں جن کے متعلق تمہارا عقیدہ ہے کہ وہ قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دیں گے۔

"ان کنتم صدقین " اگر تم سچے ہو۔

یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو بنالو اس caliber کی محض اک سورت ۔

قرآن کریم کا یہ چیلنج صرف رسول ﷺ کے زمانے کے لیے نہی تھا بلکہ یہ قیامت تک کے ان تمام انسانوں کے لیے اک کھلا چیلنج ہے جو اس کی صداقت اور اس کے مِن جانب اللّه ہونے پر شک کرتے ہیں۔ اور اس چیلنج کے بعد ان سب کے اس دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے جو وہ صرف رسول ﷺ کی دعوت سے لوگو کو بھٹکانے کے لیے کررہے تھے۔

مشرکین عرب یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک جن ہوا کرتا ہے جو اس کو شعر الہام کرتا ہے۔ چناچہ وہ قرآن کے متعلق بھی یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ بھی اسی قسم کے الہام کا کرشمہ ہے۔ ان کے انہی خیالات کی بنا پر ان سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر تم قرآن کو کسی انسان یا جن کی گھڑی ہوئی چیز سمجھتے ہو تو اپنے ان حمایتیوں کی مدد سے اس کے مانند ایک ہی سورة پیش کرو، اگر یہ تمہارے حمایتی اس نازک موقع پر بھی، جب کہ تمہارے آبائی دین کے ساتھ ساتھ خود ان کی خدائی بھی معرض خطر میں ہے، تمہاری مدد کے لیے نہ اٹھیں تو سمجھ لو کہ یہ قرآن خدائی کلام ہے اور تمہارے یہ سوارے دیوی دویتا بالکل بےحقیقت ہیں۔

اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ "
اس میں حرف شک " اِنْ: اگر" اظہار شک کے لئے نہیں ہے بلکہ بطور استہزاء ذکر کیا گیا ہے اور اس سے مراد ہے صرف لاجواب کر دینا اور الزام دینا۔ یہ اسی طرح سے ہے جیسے کوئی بچہ یا بڑا بہت بڑی بڑی ڈینگیں مار رہا ہو یا ایسے دعوے کرہا ہو جن کا reality سے کوئی تعلق نہی اور سننے والے کو اس کی سب باتوں کی حقیقت کا علم ہو پھر وہ اس کو کہے کہ اپنی بات کو ثابت کر کے دکھاؤ۔

اس آیت میں اک hidden prediction بھی ہے ۔ بظاھر تو سننے والوں کو چیلنج کیا گیا ہے اور ان کی سچائی کو استہزائیہ انداز میں جانچا بھی گیا ہے (کہ اگر وہ سچے ہیں تو یہ کام کر کے دکھائیں ) مگر prediction یہ ہے کہ تم لوگ کیا تمہارے بعد والے بھی (قیامت تک کے تمام لوگ) اس قابل کبھی نہی ہوسکتے کہ اس قرآن کے مانند اک سورت بھی بنا لائیں ۔ چاہے وہ کسی سے کتنی مدد ہی کیوں نہ لےلیں. یہ مستقبل کا منظرنامہ بھی ہے ۔

  of   💫سوره البقرہ آیت ۲۲:الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّم...
02/08/2024

of 💫

سوره البقرہ آیت ۲۲:

الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۲﴾

وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کا فرش بچھایا ، آسمان کی چھت بنائی ، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمھارے لیے رزق بہم پہنچایا ۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ ۔

پچھلی آیت میں اللّه تعالیٰ نے تمام دنیا کے لوگو کو اللّه کی عبادت کا حکم دیا تھا اور ساتھ میں اپنی دو صفات رب اور خالق کی گنوائی تھیں کہ اس کی عبادت کرو جو نہ صرف رب ہے بلکہ خالق بھی ہے اور اسی کو تقویٰ کا ذریعہ بتایا تھا۔
اب اس آیت میں اللّه اپنی نعمتوں کا احساس دلا رہے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم بچوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے تمہارے لیے اتنا سب کچھ کیا اور کرہے ہیں پھر بھی تم ہماری بات نہ مانو گے؟

اللّه نے یہاں کچھ دلائل دے ہیں :

* ”الارض فراشا” زمین کا فرش
* "السماء بناء" آسمان کی چھت
* "السماء ماء" آسمان سے پانی / بارش
* "فاخرج بہ من الثمرات " اس پانی کے ذریعے سے پیداوار / رزق

یہ سب کچھ انسانی زندگی کی necessities ہیں ان کے بغیر انسانی زندگی کا servival نہی ہے ۔

اگر ہم اک لمحے کے لئے بھی imagine کریں کہ یہ زمین جس پر ہم کھڑے / بیٹھے / لیٹے ہیں یہ نہ رہے تو ہم اس کی کس گہرائی میں جاگرینگے؟یہ بلند و بلا عمارتیں اور سامانِ زندگی کس پاتال میں دھنس جائیگا؟ یا یہ صرف لمحے بھر کے لیے اپنی جگہ سے حل بھی جائے تو ہمارا کیا ہو ؟ جن لوگو کو زلزلے کا تجربہ ہوتا ہے وہ یہ بات اچھی طرح feel کرسکتے ہیں کہ زمین کی معمولی سی جنبش بھی انسان اور اس پورے نظام کو درہم برہم کردیتی ہے ۔

"الارض فراشا " کہنے میں تو صرف دو لفظ ہیں لیکن اگر ہم ان کی گہرائی میں جائیں تو اس میں اور بہت ساری چیزیں شامل ہیں:
پہاڑوں، وادیوں، میدانوں ، صحراؤں ، جنگلات، ندی نالوں ، چھوٹے اور بڑے سمندروں وغیرہ کے ساتھ اس کی ٹھوس پتھریلی سطح ہے۔ پانی زمین کی سطح کا 70 فیصد احاطہ کرتا ہے۔
پھر اللّه نے اس میں بہترین تناصب سے ہوا اور gasses رکھی ہیں۔ ہوا gasses کا پوشیدہ مرکب ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے۔ ہوا میں اہم مادے ہوتے ہیں، جیسے آکسیجن اور نائٹروجن، جن پر زندگی کا دارومدار ہے ۔
تو الارض محض اک فرش نہی ہے بلکہ اگر یہ نہ ہو تو زندگی نہی ہے۔

اللّه نے قرآن اس طرح نازل کیا ہے کہ عرب کے بدو بھی اس کو آسان فہم انداز میں سمجھ سکتے تھے۔ اس لیے زیادہ تر چیزیں تمثیلی یا استعاراتی انداز میں اللّه نے فرمائی ہیں۔

الارض درحقیقت " radiations, heat waves, مختلف طرح کی gasses اور Electromagnetic waves" کے لیے ایک حد ہے تاکہ زمین پر انسانی زندگی برقرار رہے۔

"السماء بناء" sky building
"آسمان کو چھت بنایا " دراصل زمین کی تہوں اور اس کے تحفظ کی وضاحت کرنے کا ایک "metaphorical way" ہے۔

اس دنیا کے گرد 10,000 کلومیٹر کا ایک gaseous envelop ہے، جو آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ مختلف سائز کے لاکھوں شہاب ثاقب خلا سے ہماری دنیا کی سمت گرتے رہتے ہیں۔ اس کی شفاف ساخت کے باوجود، ہماری فضا فولادی ڈھال کی طرح اس شہاب ثاقب کی بمباری کے خلاف ایک جرات مندانہ مدافعت کرتی ہے۔

اگر "السماء بناء" نہ ہو تو زمین پر زندگی نہ ہوتی اور ہماری دنیا سوراخوں سے چھلنی ہوتی۔ شہابیوں کی بارشیں سطح سے ٹکراتی رہیں اور زیادہ حجم کے شہاب ثاقب چاند کے اندر گھس جاتے ہیں (they penetrated the curst of moon)، اس پر گہرے سوراخ ہو گئے۔ meteors مادے کے چھوٹے ذرات (a small body of matter from outer space) فضا میں موجود molecules پر بڑی رفتار سے حملہ کرتے ہیں اور پیدا ہونے والی حرارت انہیں ہوا میں غائب ہونے سے پہلے دھول کے ذرات میں بدل دیتی ہے۔

اب ذرا "الارض فراشا" اور " السماء بناء" کے بغیر زندگی کا تصور کیجئے۔ ہم ہر وقت اس زمین و آسمان کو دیکھتے رہتے ہیں تو یہ ہمارے لئے normal سا منظر ہوتا ہے اور قرآن پڑھتے وقت بھی ہم ان الفاظ پر سے یونہی تلاوت کرتے ہوۓ گزر جاتے ہیں مگر کیا یہ اتنی ہی معمولی چیزیں ہیں؟

" انزل من السماء ماء" آسمان سے پانی اتارا

بارش کا پورا نظام تو سب کو پتا ہے کہ کس طرح اللّه تعالیٰ یہ سسٹم چلا رہے ہیں۔
لیکن اک اور طرح کا پانی بھی اللّه نے آسمان سے اتآرا ہے۔

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کے موقع پر مجھے سدرۃ المنتہیٰ بھی دکھایا گیا، اس کے پھل ایسے تھے جیسے مقام ہجر کے مٹکے ہوتے ہیں اور پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان، اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی تھیں، دو نہریں تو باطنی تھیں اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ تو جنت میں ہیں اور دو ظاہری نہریں دنیا میں نیل اور فرات ہیں۔"

"فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم”
اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکالی۔

زمین کی پیداوار کے لیے پانی کا ایک پیچیدہ نظام ہے مختلف مراحل میں پانی فضا میں move کرتا ہے۔
جس میں بہت سے مختلف عمل شامل ہیں۔

*سورج کی شعاؤں سے بخارات بن کر اڑنا (Evapotranspiration)
* بادلوں میں جمع ہونا (Condensation)
* بارش (Participation)
* زمین پر ڈھالان کی طرف پانی کا بہاؤ (Surface runoff)
* زمین میں جذب ہونا (Infiltration & Percolation)
* زمین کی تہوں میں بیٹھ جانا / زمینی پانی ( Ground Water)

اب یہ زمینی پانی زمین کے نیچے move کرتا ہوا پودوں اور درختوں میں منتقل ہوتا ہے اور ان کی افزائش کرتا ہے۔
پھر جو پیداوار ہوتی ہے وہ "رزقا لکم" ہے یعنی تمہارے لیے رزق ہے ۔

اب اللّه تعالیٰ فرما رہے ہیں :

فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ
پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ ۔

یعنی جب یہ سب Systems ( زمین ، آسمان ، پانی، رزق) جب میں تمہارے سامنے دن رات چلا رہا ہوں اور تم خود ہر وقت میری نعمتوں سے فیضیاب ہورہے ہو تو کیا اب بھی تم میرے مقابلے میں دوسرے خدا بناتے ہو؟ ان کی عبادت کرتے ہو ؟ ان سے مدد مانگتے ہو؟
مطلب تم لوگ بجاۓ میرے شکر گزر ہونے اور میرے لیے اپنی بندگی خالص کرنے کے تم الٹا دوسروں کو میرے ساتھ خدائی میں شریک کرتے ہو؟

تمھیں چاہیۓ کہ تم اللّه وحدہ لا شریک کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، کسی کو اس کا ہمسر نہی بناؤ کیونکہ یہ سب چیزیں زندگی کی necessities ہیں یہ صرف میں تمھیں provide کرہا ہوں ۔ ان کے بغیر تم اک لمحہ بھی نہ زندہ رہ پاؤ ۔ اس سے پچھلی آیت میں اللّه اپنی دو صفات رب ہونا اور خالق ہونا بتاچکے ہیں۔
یعنی نہ صرف میں نے تم سب کو پیدا کیا بلکہ تمہاری زندگی کا دارومدار بھی میری ان نعمتوں پر ہے یہ اگر میں چھین لوں تو تم سب لمحے سے پہلے مر جاؤ پھر کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ ایسے رب کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟

بندہ جب ان نعمتوں پر غور کرتا ہے تو خود بہ خود دل سے اور زبان سے نکلتا ہے:

سبحان اللہِ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔

یہ بظاھر چھوٹی سی آیت ہے اور ہم قرآن پڑھتے ہوۓ اس کو تیزی سے پڑھتے ہوۓ گزر جاتے ہیں لیکن اس آیت میں اللّه نے کتنی بڑی science کھول دی ہے پورا کا system زمین سے آسمان تک سمجھا دیا ۔ اب کوئی بہت ہی ناشکرا اور نافرمان ہی ہوگا جو یہ سب دیکھنے اور experience کرنے کے باوجود اللّه کی خدائی میں دوسروں کو شریک ٹھہراۓ۔

سبحان اللہِ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔

  of   💫سوره البقرہ آیت ۲۱:یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ل...
02/08/2024

of 💫

سوره البقرہ آیت ۲۱:

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾

اے لوگوں اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا یہی تمہارا بچاؤ ہے ۔

سوره کے شروع میں تین قسم کے لوگ بتاۓ گئے:
*وہ لوگ جن کو ہدایت مل سکتی ہے یعنی اہل ایمان۔
* کفّار
*منافقین
پہلے انسانوں کے درمیان فرق کر کے واضح کر دیا گیا کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس قسم کے نہیں اٹھا سکتے ۔ اس کے بعد اب تمام نوعِ انسانی کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جاتی ہے جس کی طرف بلانے کے لیے قرآن آیا ہے ۔

اب اللہ تعالیٰ نے ان تمام گروہوں کو اے لوگو ! فرما کر خطاب کررہے ہیں تاکہ سننے والوں کا ذہن بیدار اور متوجہ رہے۔
"یایھا الناس" یعنی اے (تمام) لوگوں !
"اعبدوا ربکم الذی خلقکم" عبادت کرو اپنے اس رب کی جس نے تمھیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ۔

عبادت کا لفظ عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے : ﴿١﴾ پوجا اور پرستش - ﴿2﴾ اطاعت اور فرمانبرداری - ﴿3﴾ بندگی اور غلامی ۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں ۔

اپنا رب؟

رب کہتے ہیں مالک /ایڈمنسٹریٹر / سردار/ مینیجر۔
اللّه سبحانہ وتعالیٰ ہر معنی میں رب ہیں ۔ رب کا لفظ سوائے اللہ تعالٰی کے دوسرے پر نہیں کہا جا سکتا ۔

اَلْخَلْقُ: اصل میں خلق کے معنیٰ دو ہیں:
*کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا (to make something up to figure out completely) یعنی پوری طرح ناپ تول (measurement) کر کے بنانا۔

* کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید پیدا کرنا (To create something without substance and withoutِ imitation).

یعنی اس رب کی عبادت کرو( ظاہری اور باطنی ہر طرح سے ہمہ وقت completely) جس نے تم سب اور تم سے پہلے والوں کو تخلیق کیا۔

آیت کا آخری ٹکڑا ’’لَـعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘ عبادتِ ربّ کے انجام و نتیجہ کو بیان کر رہا ہے کہ اے بنی نوعِ انسان! تمہیں عبادتِ ربّ کی دعوت اس لیے دی جا رہی ہے ’’لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘تاکہ تم بچ جاؤ تاکہ تم تقویٰ کی روش پر گامزن ہوسکو!تقویٰ کا اصل مفہوم ہے ’’بچ جانا‘‘ یعنی اللہ کی نافرمانی سے بچنا اور نتیجتاً اس کی ناراضگی اور سزا سے بچ جانا. اسی مفہوم سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اللہ کی اطاعت میں انسان خوب مبالغہ کرے‘ آگے بڑھے‘ تفاصیل میں جا کر اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرے‘ اللہ کے احکام اور رسول اللہﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہو اور انہیں اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے. یہ بھی تقویٰ ہے‘ لیکن تقویٰ کا اصل بنیادی مفہوم ’’بچ جانا‘‘ ہے.

عربی لغت میں تقویٰ اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ انسان کسی خاردار جنگل میں سے گزرتے ہوئے جس طرح جھاڑ جھنکاڑ اور کانٹوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے کپڑوں کو سمیٹتا ہے کہ مبادا کسی کانٹے میں نہ الجھ جائیں‘ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے انسان سے یہی طرزِ عمل مطلوب ہے. یہاں جو فرمایا گیا ہے’’لَـعَلَّـکُمْ تَـتَّـقُوْنَ‘‘ تو وہ اصل میں لغت کے اعتبار سے ہے ’’تاکہ تم بچ جاؤ‘‘ یعنی عبادتِ ربّ کی دعوت قبول کر کے ہلاکت و بربادی اور دنیا میں افراط و تفریط کے دھکوں سے بچو گے. اور اگر عبادتِ ربّ کو اپنی زندگی میں اختیار نہ کیا‘ اپنی عقل کے پیچھے لگ گئے‘ اپنے مذمومہ خیالات و نظریات کا ساتھ دیا اپنی باگ ڈور اپنے نفس کے ہاتھ میں دے دی‘ یا زمانے کے چلن کے مطابق چلنا شروع کر دیا تو دھکے کھاؤ گے‘ کبھی ایک انتہا تک جاؤ گے اور پھر وہاں سے دھکا لگے گاتو دوسری انتہا تک جاؤ گے‘ اور اس طرح گیند کی طرح اِدھر اُدھر لڑھکتے رہو گے.

13/12/2023

It is dark here
no power
no internet
nothing to see
no one care
be quiet
move on
it is just Gaza!!!

حضرت عمرؓ نے بارہ سال میں سورہ بقرہ ختم کی ، لیکن سورت ختم کرنے سے محض اس کی تلاوت سیکھنا مراد نہیں ہے، بلکہ اس کے معنی ...
22/09/2023

حضرت عمرؓ نے بارہ سال میں سورہ بقرہ ختم کی ، لیکن سورت ختم کرنے سے محض اس کی تلاوت سیکھنا مراد نہیں ہے، بلکہ اس کے معنی و مفہوم کو اچھی طرح سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مراد ہے، کیونکہ روایت میں "تعلّم" یعنی سیکھنے کے الفاظ ہیں۔

یہ عمل دیگر صحابہ کرام کے بارے میں بھی منقول ہے کہ وہ حضرات جب تک قرآن مجید کی سیکھی ہوئی آیات مبارکہ کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد اس پر عمل نہ کرلیتے، تب تک مزید آیات نہ سیکھتے۔ چنانچہ ابو عبدالرحمن حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ "جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن مجید کی دس آیات سیکھتے تو جب تک جو کچھ اس میں ہے وہ نہ سیکھتے، تب تک مزید بعد والی دس آیات نہ سیکھتے۔"

آج ہم ہر مہینے ایک قرآن ختم کر رہے ہوتے ہیں اور رمضان میں 5-6 قرآن ختم کرنا عام بات ہے بلکہ بہت فخر کی بات سمجھی جاتی ہے ۔

بیشک یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ اللّه ہمیں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھنے کی توفیق دے بہت اجر و ثواب ہے اس کا بیشک ۔۔۔

مگر ۔۔۔۔

کیا قرآن صرف اجر و ثواب کی کتاب ہے؟ اور اس کا عمل سے کوئی تعلق نہی؟

آج کے مسلمان یہی کر رہے ہیں کہ جو عمل کی کتاب تھی اسے صرف ثواب کی اور وظائف کی کتاب بنا دیا جبھی امّت کا حال ایسا ہوگیا ہے کہ ؛

یہ مسلمان ہیں ! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

قرآن پر غور و فکر و تدبّر کیوں ضروری ہے؟ وہ piece of knowledge جس پر ہم غور و فکر کرتے ہیں ، اس کو گہرآئ میں جا کر تدبّر...
22/09/2023

قرآن پر غور و فکر و تدبّر کیوں ضروری ہے؟

وہ piece of knowledge جس پر ہم غور و فکر کرتے ہیں ، اس کو گہرآئ میں جا کر تدبّر کرتے وہ internalize ہوجاتا ہے یعنی ہمارے اندر اتر جاتا ہے اور ہمارے مزاج کا حصّہ بننا شروع ہوجاتا ہے ۔

جبکہ وہ content جس پر ہمیں غور و فکر کرنے کی توفیق نہی ہوتی اور ہم صرف اسے پڑھ لیتے ہیں وہ ہمارے فہم کا حصّہ تو ضرور بنتا ہے یعنی ہمیں سمجھ آجاتا ہے کہ بات کس بارے میں ہورہی ہے مگر وہ ہمارے مزاج کو influence کرنے میں ناکام رہتا ہے ۔

اور قرآن صرف پڑھ کر ثواب حاصل کرنے کی کتاب نہی ہے یہ اللّه کا کلام ہے اللّه کے الفاظ ہیں اس کی باتیں ہیں جس کو صرف پڑھنا کافی نہی ہے بلکہ انھیں دل میں اتارنا اور عمل میں ڈھالنا ضروری ہے۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!

سوره البقرہ آیت ۲۰:یَکَادُ الۡبَرۡقُ یَخۡطَفُ اَبۡصَارَہُمۡ ؕ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظ...
21/09/2023

سوره البقرہ آیت ۲۰:
یَکَادُ الۡبَرۡقُ یَخۡطَفُ اَبۡصَارَہُمۡ ؕ کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ٭ۙ وَ اِذَاۤ اَظۡلَمَ عَلَیۡہِمۡ قَامُوۡا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَذَہَبَ بِسَمۡعِہِمۡ وَ اَبۡصَارِہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ .

قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اچک لے جائے ، جب ان کے لئے روشنی کرتی ہے تو اس میں چلتے پھرتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کرتی ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر اللہ تعالٰی چاہے تو ان کے کانوں اور آنکھوں کو بیکار کر دے یقیناً اللہ تعالٰی ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔

منافقین نہ تو مکمل اندھیرے میں تھے(جہالت) اور نہ ہی پوری روشنی (اسلام) میں بلکہ وہ ان دونوں کے درمیان تھے اب انکو کوئی proper guideline تو تھی نہی ۔

مسلمانو نے تو فائدہ اٹھایا اسلام سے انکا راستہ تو صاف ہے نہ تو رکاوٹ ہے نہ ہی کوئی وعیدیں ہیں ان کے لیۓ بلکہ اللّه انھیں خشخبریاں سنا رہی ہیں۔
کافر پورے اندھیرے میں تھے اس لیے انکا معاملہ بھی اک سا تھا.
اب رہے یہ منافقین تو انکو کچھ سجھائی ہی نہی دیتا تھا:
یَکَادُ الۡبَرۡقُ یَخۡطَفُ اَبۡصَارَہُمۡ
قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اچک لے جائے
یَکَادُ نکلا ہے "کاد " سے جو کسی فعل کے قریب ہونے کو بیان کرنے کے لیے کیا آتا ہے۔
الۡبَرۡقُ: بادل کی چمک
خطف: چھین لے / اچک لے / to sn**ch
اَبۡصَارَہُمۡ: انکی نگاہیں
وہ قرآن کے دلائل سنتے اور نشانیاں دیکھتے تو چونک اٹھتے انہی نشانیوں کو یہاں بجلی کی چمک سے تعبیر کیا ہے۔
بعض دفعہ ایسی واضح نشانیاں ہوتی اور ایسی روشن دلیلیں ہوتیں کہ ان منافقین کی عقل دنگ رہ جاتی اور وہ حیران و پریشان رہ جاتے ۔ اس situation کو اللّه تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ قریب ہیں کہ وہ بجلی کی چمک انکی بصارت ہی لیجاۓ یعنی وہ ایسی نشانیاں دیکھ کر وہ گھبرا جاتے ہیں وہ سوچتے ہیں کہ انکا بنے گا کیا ؟ مگر دنیا کی محبت انکو اتنی زیادہ تھی کہ وہ دنیا کا نقصان نہی برداشت کرسکتے تھے اس لیۓ وہ پھر واپس انہی اندھیروں میں لوٹ جاتے ۔

سوره البقرہ آیت ۱۹:اَوۡ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیۡہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعۡدٌ وَّ بَرۡقٌ ۚ یَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَہُمۡ ف...
21/09/2023

سوره البقرہ آیت ۱۹:
اَوۡ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیۡہِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعۡدٌ وَّ بَرۡقٌ ۚ یَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ؕیَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ؕ وَ اللّٰہُ مُحِیۡطٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹﴾

یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ، یہ بجلی کے کڑاکے سن کے اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے ۔

اس آیت میں اللّه تعالیٰ نے ایک natural phenomenon سے بات سمجھآئ ہے ۔

کَصَیِّبٍ کا root word ہے صوب۔
صَوْبٌ : اس با رش کو کہتے ہیں جو صرف اسی قدر بر سے جس حد تک کہ مفید ہو ۔

ظُلُمٰتٌ: اندھیرا / تاریکی / darkness

کبھی ظُلْمَۃٌ کا لفظ بول کر جہالت، شرک اور فسق و فجور کے معنی مراد لیے جاتے ہیں جس طرح کہ نورٌ کا لفظ ان کی ضد ہے یعنی علم و ایمان اور عمل صالح پر بولا جاتا ہے۔

الرَعۡدٌ: بادل کی گرج

بَرۡقٌ: بادل کی چمک

"اَرْعَدَتْ وَاَبْرَقَتْ" دونوں لفظ ڈرانے اور دھمکانے کے معنیٰ میں استعمال ہوتے ہیں۔

یہاں اسلام کو ایک برستی ہوئی بارش سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس میں کفر وشرک کی خرابیوں کا جو بیان ہے اسے اندھیریوں سے اور اس میں کفر وشرک پر عذاب کی جو دھمکیاں دی گئی ہیں انہیں گرج سے تشبیہ دی گئی ہے۔

یَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ؕ

یَجۡعَلُوۡنَ کا root word ہے جَعَلَ: یہ لفظ ہر کام کرنے کے لیے بولا جاسکتا ہے۔

اَصَابِعَہُمۡ: اپنی انگلیاں

اٰذَانِہِمۡ نکلا ہے "اُذُن" سے جس کے معنی کان (ear) ہیں ۔

یعنی جب بادل کی گرج چمک ہوتی تو وہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ۔

الصَّوَاعِقِ نکلا ہے الصَّاعِقَہُ سے یعنی ہو لناک دھماکہ/ فضا میں سخت آواز ۔

صَاعِقَۃٌ تین قسم پر ہے ۔

* اول، موت اور ہلا کت

* دوم ، عذاب

* سوم، آگ (اور بجلی کی کڑک )

کبھی تو اس آواز سے صرف آگ ہی پیدا ہو تی ہے اور کبھی وہ آواز عذاب اور کبھی موت کا سبب بن جا تی ہے یعنی دراصل وہ ایک ہی چیز ہے اور یہ سب چیزیں اس کے آثار سے ہیں۔

الحَذَرُ: بچاؤ کرنا /خوفزدہ کرنے والی چیز سے دور رہنا / کسی امر سے محتاط رہنا

اَلْمَوْتُ: یہ حیات کی ضد ہے۔

موت کی کئی قسمیں ہیں:

١) قوتِ نامیہ (power) کے زوال (Decline of vitality) کو موت کہتے ہیں .

یہ انسان، حیوانات اور نباتات سب میں پائی جاتی ہے۔

٢) حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں۔

۳) قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا۔ اور اسی کا نام جہالت ہے۔

۴) غم: جو زندگی کی خوبصورتیوں اور رونقوں کو مانند کردیتا ہے۔

۵) نیند کو بھی موت کہتے ہیں ۔

اس آیت میں اَلْمَوْتُ سے مراد حقیقی موت ہے ۔

اس آیت کے متعلق حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں۔ اہل مدینہ سے دو منافق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے مشرکین کی طرف بھاگے تو ان کو اس بارش نے آلیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ‘ اس میں شور گرج اور کڑک تھی اور بجلی چمک رہی تھی اور جب بھی بجلی زور سے کڑکتی تو وہ موت کے ڈر سے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیتے اور جب بجلی چمکتی تو وہ اس کی روشنی میں چلتے اور جب اندھیرا چھا جاتا تو کھڑے رہ جاتے ‘ وہ کہنے لگے کہ کاش صبح ہوجائے تو ہم پھر (سیدنا حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جائیں ‘ پھر جب صبح ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئے اور خلوص دل سے اسلام لے آئے اور انہوں نے نیکی کے ساتھ اسلام کے احکام پر عمل کیا اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے منافقوں کی مثال ان دو منافقوں کے ساتھ دی ہے جو مدینہ سے نکلے تھے۔ منافق جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں حاضر ہوتے تو وہ اس خوف سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ مبادا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے متعلق کوئی کلام نازل ہوا ہو یا ان کی کوئی بات پکڑی گئی ہو اور ان کو قتل کرنے کا حکم دیا جائے ‘ جس طرح بارش میں گھرے ہوئے ان دو منافقوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی تھیں ۔

آگے اللّه تعالیٰ فرما رہے ہیں:

وَ اللّٰہُ مُحِیۡطٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ

مُحِیۡطٌۢ: گھیرنا / احاطہ کرنا

یہ لفظ ٢ معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

* حفاظت
* رکاوٹ

یہاں دوسرے معنی مراد ہیں یعنی اللّه انکو سب طرف سے گھیرے ہوۓ ہے ۔

یہ دراصل منافقین کے لیے remainder ہے کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر وہ اپنے آپ کو کچھ دیر کے لیے اس غلط فہمی میں تو ڈال سکتے ہیں کہ ہلاکت سے بچ جائیں گے مگر فی الواقع اس طرح وہ بچ نہیں سکتے ، کیونکہ اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان پر محیط ہے ۔

یہ وہ لوگ تھے جن کو میٹھا میٹھا اسلام تو قبول تھا یعنی وہ آسان آسان احکام تو پورے کرلیتے تھے مگر جب بات جان و مال سے جہاد یا دین کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی کی آتی یا وہ کسی آزمائش میں مبتلا ہوجاتے تو پھر وہ رک جاتے۔

واضح رہے کہ یہ منافقین دین کے basic احکام سب پورے کرتے تھے نماز، روزہ ، زکوۃ، حج ، صدقہ خیرات، عید تہوار سب کرتے تھے مگر پھر بھی یہ منافقین تھے کیونکہ یہ دین کے لیۓ قربانی نہی دیتے تھے ، جہاد سے بھاگتے تھے،دین کے راستے میں کوئی آزمائش نہی سہہ پاتے تھے ، وغیرہ ۔

آج ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو کیا ہمارا اور ارد گرد کے مسلمانو کا حال کچھ مختلف ہے؟ ہمیں بھی بس میٹھا میٹھا اسلام قبول ہے آسان آسان کام کرلینگے جہاں ذرا سی کھینچ پڑی وہیں سارا ایمان جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور جہاد تو خیر ہم نے چھوڑ ہی دیا ہے۔

سوره البقرہ آیت ۱۸:صُمٌّۢ  بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ۔(۱۸) بہرے گونگے اندھے ہیں ۔  پس وہ نہیں لوٹتے ۔  اَلصّ...
21/09/2023

سوره البقرہ آیت ۱۸:
صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ۔(۱۸)
بہرے گونگے اندھے ہیں ۔ پس وہ نہیں لوٹتے ۔
اَلصَّمَمُ کہتے ہیں سماعت ضائع ہوجانے کو۔
بکم کہتے ہیں یعنی بیدائشی گونگے کو۔
اَلْعَمٰی: یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لیے بولا جاتا ہے۔

یہ لوگ حق بات سننے کے لیے بہرے، حق گوئی کے لیے گونگے، اور حق بینی کے لیے اندھے تھے ۔
اللہ تعالیٰ نے کان اس لیے دئیے ہیں کہ وہ حق کو سنیں ‘ سو جس نے حق کو نہ سنا ‘ وہ خواہ کان رکھتا ہو اللہ کے نزدیک بہرا ہے اور زبان کلمہ حق بولنے کے لیے دی ہے ‘ سو جس نے کلمہ حق نہیں بولا وہ خواہ زبان رکھتا ہو وہ اللہ کے نزدیک گونگا ہے اور جس نے حق کو نہیں دیکھا وہ خواہ آنکھیں رکھتا ہے وہ اللہ کے نزدیک اندھا ہے۔

فَہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ۔
پس وہ رجوع نہیں کریں گے۔

رجع: کسی چیز کی حقیقت کی طرف پلٹنا ۔

یہ لوگ اب اس ہدایت کی طرف نہیں لوٹیں گے جس کو ضائع کرچکے ہیں اور اس گمراہی کو ترک نہیں کریں گے جس کو اختیار کرچکے ہیں۔

یہاں اس بات سے ضمناً اک پہلو اور نکلتا ہے کہ کیا کلمۂ حق نہ بولنے والا اللّه کے نزدیک گونگا ہے ؟

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے“

نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ انسان کا سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ وہ ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہے، کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ اس حق گوئی کی وجہ سے وہ بادشاہ کے انتقام اور ایذا کا شکار ہو جائے اور بادشاہ اسے تکلیف پہنچائے یا قتل کردے۔ جہاد ہاتھ سے کیا جاتا ہے جیسے کفار سے قتال کرنا اسی طرح جہاد زبان سے بھی کیا جاتا ہے جیسے کہ ظالموں پر نکیر کرنا نیز جہاد دل سے بھی کیا جاتا ہے جیسے نفس سے مجاہدہ کرنا۔

یہی "اَمْرِ بالمَعْروف وَ نَہی عن المُنْکر" ہے۔
" بالمعروف" یعنی معروف (حق) کا حکم دینا اور "نہی عن المنکر" یعنی منکر (کسی غلط/ حرام کام) سے روکنا ۔
جو یہ نہ کرے اللّه کے نزدیک وہ گونگا ہے بیشک اس کی زبان کتنی ہی گز بھر کی ہو۔

سوره البقرہ آیت ۱۷:مَثَلُہُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ۚ  فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَہٗ ذَہَبَ اللّٰہُ بِ...
21/09/2023

سوره البقرہ آیت ۱۷:
مَثَلُہُمۡ کَمَثَلِ الَّذِی اسۡتَوۡقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَہٗ ذَہَبَ اللّٰہُ بِنُوۡرِہِمۡ وَ تَرَکَہُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۷﴾

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا ، جو نہیں دیکھتے ۔

"مَثَلُہُمۡ" اور "کَمَثَلِ" دونوں کے root words ہیں "مثل" جس کے معنی ہیں مثال ۔

الَّذِی: وہ / جس نے

اسۡتَوۡقَدَ : جلانا / روشن کرنا
نَارًا : آگ

اب یہاں اک example سے بات سمجھائی جارہی ہے ؛ ایک ایسے بندے کا ذکر ہے جو آگ جلا کر اندھیرے میں روشنی کررہا ہے۔

فَلَمَّاۤ اَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَہٗ
پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں۔

اَضَآءَتۡ: روشن ہوجانا / lit up

حَوۡلَہٗ نکلا ہے "الحول" سے جس کے معنی ہیں : کسی چیز کو change / divert / تبدیل / ایک state سے دوسری state میں transfer / دوسری چیزوں سے الگ کرنا کے ہیں۔

یعنی جس بندے نے آگ جلائی تھی اس نے وہاں جو کچھ تھا سب کو (اندھیرے سے) اجالے میں تبدیل کردیا اب وہاں ہر چیز واضح اور روشن ہوگئی ہے یعنی سارا environment ہی بدل کر رکھ دیا اس نے۔

ذَہَبَ اللّٰہُ بِنُوۡرِہِمۡ وَ تَرَکَہُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ

کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا ، جو نہیں دیکھتے ۔

اب یہاں اشارہ منافقین کی طرف ہے۔

ذَہَبَ: لے جانا / دور کردینا

بِنُوۡرِہِمۡ: انکا نور
نور۔ سے مراد آنکھوں کا نور ہے ۔

یعنی ماحول تو بیشک سارا روشن ہوگیا تھا مگر اللّه نے انکی آنکھیں ہی بے نور کردیں وہ دیکھنے کے قابل ہی نہ رہے تھے پھر ماحول کتنا بھی روشن ہو انکے لیے تو وہ اندھیرا ہی تھا؟

وَ تَرَکَہُمۡ فِیۡ ظُلُمٰتٍ
اور چھوڑ دیا انھیں اندھیروں میں

تَرَکَہُمۡ: ترک کردیا انھیں / چھوڑ دیا انھیں

فی ظُلُمٰتٍ: اندھیرے میں

لَّا یُبۡصِرُوۡنَ : نہی وہ دیکھتے۔

ذرا imagine کریں اک جگہ ہے جہاں بہت روشنی ہورہی ہے پورا ماحول جگمگا رہا ہے بڑی بڑی lights جل رہی ہیں ان کی روشنی میں پورا منظر واضح ہوگیا ہے ہر چیز clear نظر آرہی ہے وہاں کے لوگ اس روشنی میں سہولت کے ساتھ ہر کام کررہے ہیں مگر وہاں ہی کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نابینا ہیں انھیں کچھ نظر ہی نہی آرہا وہ ادھر ادھر ٹکریں مارتے پھر رہے ہیں اور کوئی انکا ہاتھ پکڑنے والا ، سہارا دینے والا نہی ہے۔ باہر کتنی ہی روشنی ہے ان کے لیے تو بیكار ہے کیونکہ اندھیرے تو انکی ذات کے اندر ہیں انہیں باہر کی روشنی کیا فائدہ دیگی؟

یہی مثال ان منافقوں کی ہے جو اسلام کے واضح روشنی اور نور ِہدایت سامنے آنے کے باوجود نفاق کی گمراہی اور اندھیروں میں پھنسے رہے، اسلام کے واضح دلائل کو آگ کی روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح اس روشنی سے ماحول کی چیزیں صاف نظر آنے لگتی ہیں اسی طرح اسلام کے دلائل سے حقیقت ان پر واضح ہوگئی ؛ لیکن پھر ضد اور دشمنی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ روشنی ان سے چھین لیا اور وہ دیکھنے کی قوت سے محروم ہوگئے۔

جب ایک اللہ کے بندے نے روشنی پھیلائی اور حق کو باطل سے ، صحیح کو غلط سے ، راہِ راست کو گمراہیوں سے الگ کر کے بالکل نمایاں کر دیا ، تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے تھے ، ان پر تو ساری حقیقتیں روشن ہو گئیں ، مگر یہ منافق ، جو نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے ، ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا ۔

” اللہ نے نور بصارت سلب کر لیا “ کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ان کے تاریکی میں بھٹکنے کی ذمہ داری خود ان پر نہیں ہے ۔ اللہ نور بصارت اسی کا سلب کرتا ہے جو خود حق کا طالب نہیں ہوتا ، خود ہدایت کے بجائے گمراہی کو اپنے لیے پسند کرتا ہے ، خود صداقت کا روشن چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔ جب انہوں نے نور حق سے منہ پھیر کر ظلمتِ باطل ہی میں بھٹکنا چاہا تو اللہ نے انہیں اسی کی توفیق عطا فرما دی .

یہی اللّه کی سنّت ہے جو جس راستے پر چلنا چاہتا ہے اللّه اسے اسی کے حوالے کردیتا ہے اسی راہ میں اسے آسانیاں دیتا ہے اور رکاوٹیں دور کرتا ہے اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ خود کس طرف چلنا چاہتا ہے اللّه کسی کو زور زبردستی ھدایت نہی دیتے یہی ٹیسٹ ہے یہی امتحان ہے کہ سب بتادیا سب سمجھادیا قرآن و سنّت سے اب ہم کیا چاہتے ہیں کیا اختیار کرتے ہیں اللّه ہمیں اسی راستے پر ترقی دیگا ۔

Codes of Quran 💫سورہ البقرہ آیت ۱۶:اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالۡہُدٰی ۪  فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہ...
15/09/2023

Codes of Quran 💫

سورہ البقرہ آیت ۱۶:

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالۡہُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۶﴾

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا پس نہ تو ان کی تجارت نے ان کو فائدہ پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے ۔

اس آیت میں منافقین کے اس عظیم خسارے کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے نَفَاق کے نتیجے میں حاصل کیا تھا۔

اشۡتَرَاء کہتے ہیں خریدنے کو،

الضَّلٰلَۃَ یعنی گمراہی،

بالۡہُدٰی مطلب ساتھ ہدایت کے۔

یعنی خرید لی انہوں نے گمراہی بدلے ہدایت کے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گمراہی و ہدایت کوئی ایسی چیز ہے جس کی خرید و فروخت کی جاسکتی ہے ؟

اس جگہ خریدو فروخت کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں گمراہی کو اختیار کرلیا ‘ ان کے سامنے قرآن کریم اور رسول اللہ کی پیش کردہ ہدایت بھی تھی اور اس ک مقابلے میں کفر و نَفَاق کے عارضی منافع بھی تھے لیکن انہوں نے ہدایت کے بدلہ میں گمراہی کو اختیار کرلیا ‘ اس وجہ سے ان کی فطرت میں ہدایت کو قبول کرنے کی جو استعداد اور صلاحیت تھی وہ بھی ضائع ہوگئی۔

ان کے سامنے دو راستے تھے یا تو وہ دنیا (الضللۃ) اختیار کرلیں یا آخرت (الہدیٰ)۔

ان لوگوں نے دنیا اختیار کر لی جس کے نتیجے میں عارضی طور پر وہ ان مشکلات سے تو بچ گئے جو اہل ایمان پر آزمائشیں آرہی تھیں مگر انکے اس سودے کو اللّه تجارت سے تشبیہ دے کر آگے فرما رہے ہیں:

فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ
پس نہ فائدہ کیا انکی تجارت نے اور نہ تھے وہ ہدایت پانے والے۔

الربحُ : وہ فائدہ جو خریدو فروخت سے حاصل ہو۔

تِّجَارَتُہُمۡ: انکی تجارت

وما کَانُوۡا:اور نہ تھے وہ

مُہۡتَدِیۡنَ : ہدایت پانے والے۔

کوئی اگر کہیں سودا کرتا ہے تو اس کو کوئی فائدہ تو ہوتا ہے نہ مگر یہ (منافقین) ایسے بدنصیب تھے کہ نہ ہی ان کی اس سودے بازی نے انھیں (دنیا میں ) فائدہ پہنچایا اور نہ انھیں ھدایت مل سکی یعنی دنیا و آخرت دونوں جہانوں کا خسارہ۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Codes Of Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share