16/07/2021
بندوں کے حقوق صرف زبانی توبہ سے معاف نہیں ہوں گے، بلکہ مالی حقوق کی پائی پائی ادا کرنی ہوگی، اور جسمانی حقوق کے لئے متاثرہ فریق کو بدلہ لینے کا موقع دے یا معاف کروائے۔۔اوّل حقوق کی فہرست تیار کرلی جائے اور پھر ادائیگی کا آغاز کیا جائے۔۔حقوق العباد کی ادائیگی کا طریقہ۔۔
📌حقوق کی پہلی قسم بندوں کے حقوق ہیں، وہ بھی دو قسم کے ہیں. ایک مالی حقوق، جیسے کسی سے قرض لیا پھر ادا نہیں کیا، یا کسی کا کچھ مال کسی معاملہ یا معاہدہ کی وجہ سے اس پر لازم تھا وہ ادا نہیں کیا، کسی سے ناجائز طور پر مال چھین لیا، یا بطور رشوت کے لے لیا، اس طرح کے تمام حقوق کی بھی فہرست بنائے اور سب کو ادا کرے۔ اگر بیک وقت ادا نہیں کرسکتا تو اپنی وسعت کے مطابق ادا کرنا شروع کرے۔ یہ حقوق جن لوگوں کے ہیں اگر وہ زندہ ہیں اور ان کے پتے معلوم ہیں تو ادا کرنا آسان ہے۔ اگر وہ مرگئے تو ان کے وارثوں کو تلاش کرکے ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر تلاش کرنے کے باوجود ان کے پتے معلوم نہ ہوں تو ان کے حق کے مطابق رقم ان کی طرف سے صدقہ کردی جائے۔
📌دوسری قسم حقوق العباد کی جسمانی حقوق ہیں، جیسے کسی کو ہاتھ، یا زبان سے بلا وجہ شرعی کوئی ایذاء یا تکلیف پہنچائی ہو، کسی کو گالی دی ہو، کسی کی غیبت کی ہو تو اس سے معاف کرانا ضروری ہے۔ کسی کو مارا پیٹا ہو تو اس کا بدلہ دینے کے لئے تیار ہو کر اس سے کہنا ہے کہ تم کو اختیار ہے کہ مجھے مارکر بدلہ لے لو یا معاف کر دو۔
جب تک اس تفصیل مذکور کے ساتھ تمام مالی اور جسمانی حقوق العباد سے سبکدوشی حاصل نہ کرے، توبہ مکمل نہیں ہوسکتی اور بغیر تکمیل توبہ کے نفلی عبادات اور ذکروشغل میں کتنی بھی محنت عمر بھر کرتا رہے کبھی خدا تک نہ پہنچے گا، نہ سیدھا راستہ حاصل ہوگا۔
غرص تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد جو قابل ادائیگی ہیں ان کو ادا کرنا یا معاف کرانا توبہ کے لئے ضروری ہے. خصوصا حقوق العباد کا معاملہ زیادہ سنگین ہے کہ وہ جب تک صاحب حق معاف نہ کرے کسی طرح معاف
نہیں ہوسکتے، اسی لئے اللہ تعالی کی راہ میں قدم رکھنے والے کے لئے سب سے پہلا کام تکمیل توبہ ہے۔
(حقوق العباد، ص 241)
ملفوظات حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ