What Quran Says? قرآن کیا کہتا ہے

What Quran Says? قرآن کیا کہتا ہے Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from What Quran Says? قرآن کیا کہتا ہے, karachi, Karachi.

17/03/2026

تحریر و تحقیق
صدیوں کا بیٹا

روزہ اصل لفظ الصیام ۔۔۔۔
اصل حکم بنام الصیام ۔۔۔ ۔
گذشتہ سے پیوستہ
قسط نمبر 6

ڈٸیر ریڈر۔۔
پچھلے ارٹیکلز میں یہ واضع کر دیا گیا تھا کہ جس آیت کو بنیاد بنا کر بھوکا پیاسا رکھوایا جاتا ہے اسکا تو مطلب ہی کچھ اور نکلتا ہے اور ان دین کا دھندہ کرنے والوں نے اسکو بھوک ہڑتال بنا دیا ہے۔

یہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ الصوم کا مطلب تو رکنا ہے لیکن کس چیز سے رکنا ہے ۔ کیا یہ برائی سے ۔ گندے دھندوں سے رکنا ہے یا کھانے پینے سے ۔۔۔ پھر کیا اس بھوک والے جھوٹے ترجمہ سے تقوی مل رہا ہے ۔ کیا مسلم امہ متقی بن چکی ۔ اگر نہیں تو کیا قرآن غلط کہہ رہا ہے ۔

قارائین اکرام ۔۔۔
آئیے آپکو وہ باتیں بتاتے ہیں جو روزے سے متعلق ہمارے معاشرے میں بہت عام ہیں لیکن سب ایک جھوٹ سے زائد نہیں ۔ ۔۔۔ ۔
رمضان پر بولے جانے والے جھوٹ ۔۔۔

رمضان میں نعت پڑھنے سننے والے پر جنت واجب ۔۔۔۔
رمضان میں قرآن ختم کرنے والے کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ۔۔۔
صحابہ اور خلفاء راشدین رمضان میں چالیس قرآن پڑھتے تھے ۔۔۔۔
رمضان میں شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
رمضان میں ایک نیکی ستر نیکیوں کے برابر اور دس گناہ کرنے والے کو صرف ایک گناہ کی سزا ۔۔۔۔۔

رمضان میں درود شریف پڑھنے والے کے آگلے پچھلے سارے گناہ معاف اور جنت میں عالیشان محل ۔۔۔۔۔

جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلا ئے گا ، الله اس بندہ کو حوض سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی ۔۔۔۔۔

رمضان یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے ۔۔۔۔
اعتکاف میں بیٹھنے والے انسان کے سارے خاندان پر جنت واجب ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
جو کوئ بھی روزہ نہ رکھے اس نے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا ۔۔۔۔
روزہ چھوڑنے والے کافر اورمرتد ہیں ۔۔۔۔۔
جس نے بھی بغیر شرعی عذر اورمرض کے رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ ترک کیا تو وہ زانی اور شرابی سے بھی زيادہ برا اورشریر ہے ۔۔۔۔

رمضان شریف کا ایک روزہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یہ بہت بڑے اجر سے محرومی کا باعث ہے جس کا ازالہ عمر بھر کے روزے بھی نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔

جو رمضان میں مرا اس پر جنت واجب ہے

لیلہ القدر کا نزول رمضان میں ہوتا ہے جسکو تلاش کرنا پڑتا ہے ۔
شب القدر میں کتے نہیں بھوکتے کیونکہ ملائیکہ کا نزول ہوتا ہے ۔

ڈئیر ریڈرز ۔۔۔
الصیام کا اصل مطلب ۔۔۔۔ برے کاموں اور گناہوں سے خود کو روکنا ۔ اسکی تربیت حاصل کرنا کہ اپنے نفس کو کیسے قابو کر کے شیطانی کاموں سے روکا جاۓ ۔ یہی الصیام ہے ۔ اس کے لیے خصوصی پروگرامز ترتیب دینا الصیام کی ٹرینگ ہے اختیارات ۔ طاقت اور پیسہ رکھنے والوں کے لیے اسکی تیاری قرآن کا لفظ الصیام ہے ۔

چناچہ اب وہ کون سے احکامات ہیں جو ہر خاص و عام مرد و عورت کے لیے فرض ہیں ۔

تکبر ۔۔ جو ساری بیماریوں کی جڑ ہے
دکھاوا ۔۔ کیا آپ نے چھوڑ دیا
انا ۔۔ آپ نے ختم کرنی ہے
جاسوسی ۔ مت کریں ۔
ٹانگ کھچنا ۔ بند کر دیں ۔
جیلیسی ۔ کی آگ سے جان چھٹائیں ۔
بغض ۔ ایک دلی بیماری ہے ختم کر دیں ۔
عداوت ۔ کو آپ نے اندر سے مار دینا ہے ۔
جھوٹ آپ نے بلکل نہیں بولنا ۔
دھوکہ بلکل نہیں دینا ۔ چاہے کتنا نقصان ہو جاۓ ۔
ماں باپ کی عزت کرنا ہے ۔ ہر حال میں ۔۔۔
پڑوسیوں کا خیال کرنا ہے ۔
غریب کی جتنی ہو سکے مدد کرنی ہے ۔
کسی کا بھی مال ہڑپ کرنا بند کر دیں ۔
اپنے کام میں خیانت نہ کریں ۔
ایک ایک چیز کو خالص اللہ کے لیے کرنا ہے ۔
معاف کرنا سیکھنا ہے جو ایک بہت مشکل کام ہے ۔
رشوت نہیں کھانا ۔ چاہے نوکری کا خطرہ ہو۔
نوکری کے اوقات کی پابندی کرنا ہے ۔
چوکیدار مالی, موچی , ماسی, خانساماں, جمعدار یہ سب النساء میں آتے ہیں انکی عزت کرنا ہی دین ہے ۔ انکا حق دینا اصل دین ہے ۔
کاروبار میں ناجائز / بےجا منافع خوری بند کر دو یہی اصل سود ہے ۔
اپنے بچوں اور محلے کے بچوں , غریب کے بچے اور بھکاری کے بچے ۔ سب کو برابر سمجھو ۔ کیا آپکا ذہن اس بات کو مان لے گا نہیں ۔ اسی کی تیاری الصیام ہے ۔
کیا آپکے ذہن میں دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی عزت ہے یا آپ ہندو اور کرسچن کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ ذہن کو بناؤ اور عمل سے ثابت کرو یہی الصوم ہے ۔

کیا آپ بیوی کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتے ہیں اور بچوں کی بہترین تربیت وتعلیم کی کوشش کرتے ہیں ۔ قرآن کے اس احکام پر عمل کرو ۔
کیا آپکے بہن, بھائی آپ سے خوش ہیں ۔ نہیں ہیں تو کچھ ایسا کرو کہ خوش ہو جائیں ۔ تمہارا الصیام یہیں سے شروع ہوتا ہے
لین دین کے معاملات کو لکھو ۔
قرض دو اور اس کی ادائیگی پر سہولت دو۔
اصراف اور دکھاوے سے نفرت کرو ۔
اپنی زبان اور ہاتھ سے سب محفوظ کو محفوظ رکھو ۔

جو صاحب حثیت ہیں کیا انھوں نے کسی کے بھی روزگار کا بندوست کیا, اپنے پاس رکھ کر, کسی سے کہہ کر, یا مالی امداد کر کے ۔ پس اب کرو ۔

کتا, بلی سمیت سارے قسم کے جانوروں کے لیے دل میں پیار رکھو ۔

ڈئیر ریڈرز ۔۔۔۔
دیکھنے میں تو یہ بہت عام سی باتیں نظر آتی ہیں لیکن ان پہ عمل کرنا ایک بہت مشکل کام ہے یہی الصیام کی ٹرینگ ہے اختیارات اور طاقت رکھنے والوں کے لیے اسکی تیاری قرآن کا لفظ الصیام ہے ۔

اگر آپ ان چیزوں پر عمل نہیں کرتے تو پہلے یہ عمل کرنا شروع کریں روکیں خود کو ۔۔۔ یہی کوشش ۔ جدوجہد اور ٹرینگ الصیام ہے

باقی
کھل کر کھائیے پٸیے ۔ ہر مہینے میں ۔ کسی ماہ پر کوٸی پابندی نہیں ۔ کوٸی گناھ نہیں ۔ کوٸی پکڑ نہیں ۔ اللہ کو اپنے مومن طاقتور بندے پسند ہیں ۔ جو ہر وقت چاق و چوبند رہ کر اس کے احکامات پر مکمل طور پر خلوص دل سے عمل کریں ۔

جاری ہے ۔۔۔
لیلة القدر کیا ہے اور کیا سورة قدر رمضان کے آخری عشرہ میں ڈھونڈنی چاہیے ۔ ۔۔ ۔
سورة القدر کا علمی ترجمہ ۔۔۔
ارٹیکل 6 میں ۔۔
[03-17, 9:40 AM] : روزہ ایک جادو ۔۔ ۔۔
جس سے آپکے کئی کام آسان ۔۔
گذشتہ سے پیوستہ
ارٹیکل #7

ڈٸیر ریڈرز
آئیے ۔۔
آج آپ کو بتاتے ہیں ۔ روزہ ایک جادو ہے جس سے ہر مسئلہ پورا ہو سکتا ہے اور بڑے سے بڑا گناہ معاف ہو جاتا ہے حتی کہ قتل بھی ۔ ان کے بارے میں آپ کو کوئی نہ بتاۓ گا , صرف اس پیج پر ۔۔۔

1۔ ایک روزہ وہ ہے جو کہ رمضان کے مہینے میں پورا ماہ ہوتا ہے یہ مشق ہے بھوکے پیاسے رہنے کی ۔ تاکہ ہم صبر کرسکیں ۔ بھوکے رہ کر بھی محنت کر سکیں ہمیں پتہ چلے کہ غربت کیا ہوتی ہے . غریب کس طرح بلکتے ہیں؟ اسکو لوگ قرآن کی سورة البقرة سے ثابت کرتے ہیں

2۔ ایک چپ کا صوم ہوتا ہےجوکہ ہر وہ عورت جو درد زہ بچے کی پیدائش کے وقت جھیل رہی ہوتی ہے اور اسکو ہدایت دی جاتی ہے کہ اس نے کسی سے بات نہیں کرنی کیونکہ اس سے درد زیادہ ہوجاتا ہے لیکن وہ کھجور کھائے اور پانی پئے اور بچے کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے ۔ اسکو لوگ سورة مریم 26 کے جھوٹے ترجمہ سے ثابت کرتے ہیں ۔

3۔ فِدۡیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ کا روزہ قرآن کے جھوٹے ترجموں میں بیان ہوا ہے حج کے ارکان کسی بھی وجہ سے ادا نہ کرنے پر روزہ سے بدل کرنے کے لیے ۔ یہ ہے روزہ کا کمال ۔۔

4۔ لیجئے قتل کیجئے اور اگر آپ کے پاس خون بہا کے پیسے نہیں تو قتل کرنے پر اس کی سزا مسلمان غلام کا آزاد کرنا ہے اب یہ دور تو غلاموں کا نہیں تو پس جو نہ کر پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں ۔ سورة النساء 92 کا جھوٹا ترجمہ۔
دیکھا یہ ہے روزہ کی چمتکاری ۔۔۔
مذہبی پیشوائیت کی معاشرے پر ضرب کاری

5۔ اب ایک اور روزے کا جنتر منتر آپکے قسم کے کفارہ کو بھسم کر کے رکھ دے گا اور آپ پر قسم توڑنے کی آنچ تک نہ آۓ گی ۔ یہ تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفارہ جب کہ تم قسم کھا لو ۔ سورة المائدہ 89 کا جھوٹا ترجمہ ۔
جبکہ تم لوگ کفارے کے روزے تو رکھتے نہیں بلکہ قسمیں پانی کی طرح بہاتے ہو ۔ پکے مومن لگتے ہو ۔

6۔ سورة المائدہ 95 کے جھوٹے ترجمہ کے مطابق ۔۔ احرام کی حالت میں جانور مار دیا ۔ یہ بہت برا کیا ۔ اب فدیہ دینا پڑے گا ۔ اسی کے برابر کا جانور مسکین کو کعبہ میں نیاز کے طور پر دینا ہے ۔ یہ نہیں کر سکتے کوئی مسئلہ نہیں ۔ روزے کا جادو کب کام آۓ گا ۔ اس لئیے اس کے برابر روزے رکھ لئے جائیں تاکہ اپنے کئے کی شامت کا مزہ چکھے ۔ سبحان اللہ ۔۔

7۔ ایک وہ صوم ہے جب ایک میاں نے اپنی بیوی کو ماں کہہ دیا تو ایک گناہ کبیرہ کر ڈالا کہ اب سزا کے طور پر اسے ایک غلام آزاد کرنا ہے اب یہاں پر پھر ایک وہی مسئلہ کہ غلاموں کا دور ہی نہیں ہے تو اب یہ کام روزہ ہی کرے گا جو شخص یہ نہ کر پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگا تار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اسکو لوگ سورة المجادلہ 4 کے جھوٹے ترجمہ سے ثابت کرتے ہیں یُظٰہِرُوۡنَ کو ان لوگوں نے (جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں ) بنا دیا ۔

اب مذید آپکی سوچوں کو اس گھن چکر میں پھسانے اور آپکی ہر تعمیری سوچ کو قتل کرنے کے لیے اس میں مذید برانچیں پیدا کو دی , بس اسی میں پورے رہیں اور کچھ مت سوچیں ۔۔

1۔ فرضِ معیّن (ماہ رمضان کے روزے)
2۔ فرضِ غیر معیّن ( قضا شدہ روزے)
3۔ واجب معیّن (منت کا روزہ)
4۔ واجب غیر معیّن (کفارے، نذرِ اور توڑے گئے نفلی روزوں کی قضا)
5۔ سنت (محرم، عرفہ اور ایامِ بیض یعنی ہر قمری مہینے کی 13، 14 اور 15 کے روزے)
6۔ نفل (شوال کے چھ روزے، 15 شعبان، سوموار، جمعرات اور جمعہ کا روزہ)

قارئین اکرام ۔۔۔
اہل قرآن " الصیام " " الصلوۃ " الزکوۃ " عمرہ اور حج سمیت تمام قرآنی احکامات کی تشریح قرآنی نکتہ نگاہ سے کرتے ہیں وہ اس میں روایات اور تفاسیر کا بالکل سہارہ نہیں لیتے کیوں کہ قرآن دین کی ہر بات کے لیے کافی ہے اور جو بات قرآن میں نہیں وہ دین نہیں بلکہ گڑھا ہوا مذہب ہے ۔ یہی وجہ ہے مسلمانوں کا ایک بہت بڑا باشعور طبقہ یا گروپ ۔ خالص قرآن کے احکامات کو فالو کرتا ہے ۔
قرآن میں صوم کا اصل مطلب رک جانا ہے ۔ جو صوم کا اصل مطلب ہے ۔مختلف غلط کاموں سے اپنے آپ کو بچانا ہے ۔ اس کے لیے خود کو تیار کرنا قرآن میں یہی الصیام کا اصل مطلب ہے جسکو لوگ صوم ہی نہیں سمجھتے ۔

جاری ہے قسط نمبر 7
لیلہ القدر کی کہانی ۔۔۔
[03-17, 9:40 AM] روزے کے بارے میں بولے جانے والے جھوٹ ۔۔
ایک مکمل قرآنی جاٸزہ ۔۔
گذشتہ سے پیوستہ
ارٹیکل #8

قارائین اکرام ۔۔۔
آئیے آج آپکو روزے کے بارے میں وہ باتیں بتاتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں بہت عام ہیں ۔ لوگ ذوق و شوق سے انھیں بیان کرتے ہیں ثواب کی ماری ہماری قوم نے کبھی اس کے بارے میں نہ سوچا کہ کیا یہ سب ممکن ہے یا یہ سب ایک جھوٹ سے زائد نہیں ۔۔۔۔

رمضان میں نعت پڑھنے سننے والے پر جنت واجب ۔۔۔۔
رمضان میں قرآن ختم کرنے والے کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ۔۔۔
صحابہ اور خلفاء راشدین رمضان میں چالیس قرآن پڑھتے تھے ۔۔۔۔
رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے ۔

روزا دار کی منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے ۔

رمضان میں ایک نیکی ستر نیکیوں کے برابر اور دس گناہ کرنے والے کو صرف ایک گناہ کی سزا ۔۔۔۔۔

رمضان میں درود شریف پڑھنے والے کے آگلے پچھلے سارے گناہ معاف اور جنت میں عالیشان محل ۔۔۔۔۔

جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلا ئے گا ، الله اس بندہ کو حوض سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی ۔۔۔۔۔

جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک ندا دینے والا پکارتا ہے: اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے۔

رمضان یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے ۔۔۔۔

اس (مہینہ) میں ﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا ۔

اعتکاف میں بیٹھنے والے انسان کے سارے خاندان پر جنت واجب ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
جو کوئ بھی روزہ نہ رکھے اس نے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا ۔۔۔۔
روزہ چھوڑنے والے کافر اورمرتد ہیں ۔۔۔۔۔
جس نے بھی بغیر شرعی عذر اورمرض کے رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ ترک کیا تو وہ زانی اور شرابی سے بھی زيادہ برا اورشریر ہے ۔۔۔۔

رمضان کا ایک روزہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یہ بہت بڑے اجر سے محرومی کا باعث ہے جس کا ازالہ عمر بھر کے روزے بھی نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔

جو رمضان میں مرا اس پر جنت واجب ہے

لیلہ القدر کا نزول رمضان میں ہوتا ہے جسکو تلاش کرنا پڑتا ہے ۔
شب القدر میں کتے نہیں بھوکتے کیونکہ ملائیکہ کا نزول ہوتا ہے ۔

ڈئیر ریڈرز ۔۔۔
الصیام کا اصل مطلب ۔۔۔۔ برے کاموں اور گناہوں سے اپنے آپ کو روکنا ۔ جو قرآن کے احکامات ہیں ۔ سختی کے ساتھ ان چیزوں سے رکنا ۔ اسکی تربیت حاصل کرنا کہ اپنے نفس کو کیسے قابو کر کے شیطانی کاموں سے روکا جاۓ ۔ یہی الصیام ہے ۔

کھل کر کھائیے پٸیے ۔ ہر مہینے میں ۔ کسی ماہ پر کوٸی پابندی نہیں ۔ کوٸی گناھ نہیں ۔ کوٸی پکڑ نہیں ۔ اللہ کو اپنے مومن طاقتور بندے پسند ہیں ۔ جو ہر وقت چاق و چوبند رہ کر اس کے احکامات پر مکمل طور پر خلوص دل سے عمل کریں ۔

جاری ہے ۔۔۔
لیلہ القدر اگلے ارٹیکل میں ۔۔۔

12/03/2026

تحریر و تحقیق صدیوں کا بیٹا

رمضان نامی مہینہ کی اصل حقیقت ۔۔۔
نبیﷺ کے زمانے میں اس مہینہ کا کیا نام تھا؟
کیا رمضان اس مہینہ کا اصل نام ہے؟
اَیَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ کیا ایک مہینہ ہے یا صرف چند دن ؟

ان تمام سوالات کے جوابات آج کے ارٹیکل میں ۔۔
گذشتہ سے پیوستہ قسط نمبر 5

ڈئیر ریڈرز ۔۔
جیسا کہ پچھلے ارٹیکلز میں بتایا گیا ہے ۔

قرآن کی آیات ۔ یہ بات واضح کر دیتی ہے کہ الصوم بھوکا پیاسا اور سیکس سے رکنا نہیں ہے بلکہ الصیام انتظامیہ یعنی امن قائم کرنے والوں کو گناہ یا غلط کاموں سے خود کو روکنا ہے اور پرہیزگاری اختیار کرنا ہے ۔

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۔

اچھی طرح سے جانا جانے والا وہ ظلم وستم / خون خرابے کا دور جس میں قرآن نازل ہوا جو انسانوں کی ہدایت کے لیے اور رہنماٸی کے لیے کھلی وضاحتیں اور اچھے برے / صحیح و غلط کی تمیز رکھتا ہے ۔ پس تم میں سے جو اس جانے پہچانے دور میں موجود ہو ضرور اس سے بچے ۔

آج اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ پر مکمل بات کریں گے ۔

سورة البقرہ کی آیت 183 میں
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۳﴾ۙ
اے وہ لوگوں جو امن قاٸم کرتے ہو تم پر براٸی سے رکنا اور بھلاٸی کے کام کرنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا۔ تاکہ تم لوگ ان میں ہو جاؤ جو خلوص سے احکامات الہیہ پر عمل کرتے ہیں (تَتَّقُوۡنَ) ۔

یہاں پر یہ بات واضع کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ حکم عمومی نہیں بلکہ اٰمَنُوۡا کے ارکان کے ان افراد کی طرف ہے جو الصلاة قاٸم کرتے ہیں اور معاشرے میں امن لاتے ہیں انتظامیہ اور منجمنٹ کے اہلکار ۔ اور ساتھ ہی انکو مخلص ہو کر کام کرنے کا حکم بھی ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ کیا رمضان کا مہینہ ہے ۔ جی نہیں اس سے مراد ہرگز رمضان کا مہینہ نہیں بلکہ حکومتی ارکان کے ان افراد کی طرف ایک مخصوص وقت کی ٹرینگ ہے جس میں وہ زہد و تقوی حاصل کر کے اس پر آسانی سے عمل کر سکیں ۔

اگر اَیَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ رمضان کا مہینہ ہے تو پھر اس آیت کے ترجمہ میں اسے پورے مہینے کی جگہ چند دنوں میں کیوں تبدیل کیا گیا ۔۔۔

وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ۔۔ ۔۔۔ البقرة
روایتی ترجمہ :- اور اللہ تعالٰی کی یاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو ، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں ....

اور یہاں پر بھی کیوں پورا مہینہ نہ لیا گیا ۔۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ۪ وَ غَرَّہُمۡ فِیۡ دِیۡنِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾ آل عمران

روایتی ترجمہ:- اس کی وجہ ان کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں تو گنے چنے چند دن ہی آگ جلائے گی ، ان کی گھڑی گھڑائی باتوں نے انہیں ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔

اس دلیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ کا مطلب رمضان کا پورا مہینہ نہیں بلکہ چند دن ہیں جو دو بھی ہو سکتے ہیں ۔ اب چونکہ یہ رمضان تو پورے مہینہ کی کہانی بنا دی گئی ہے چناچہ قرآن کے حساب سے یہ آیت اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ کے اصولی مطلب کے حساب سے رمضان یا روزہ نہیں بلکہ یہ کچھ اور ہے ۔

بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ روایات کے بغیر بتایا جاۓ کہ رمضان کا مہینہ کب شروع ہوتا ہے ۔جس میں اللہ نے روزے رکھنے کا حکم دیا ۔ پہلا مہینہ کونسا ہے ۔ آخری مہنیہ کیا ہے ۔کون کون سے مہینہ مبارک ہے اسکی دلیل قرآن سے ھمیں درکار ہے؟ تو ان لوگوں کے لیے جواب حاضر ہے کہ قرآن میں کسی رمضان نامی مہینہ کا ذکر نہیں ۔ شہر کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے ۔ اسکا جھوٹا ترجمہ کر کے رمضان کو بھوکا پیاسا رہنے کا مہینہ بنا دیا گیا ہے اور پھر جھوٹ کو سچا ثابت کرنے کے لیے جھوٹی روایات گھڑی گئی ہیں ۔ اس پر لوگوں پھر یہ کہیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر تبدیلی ہو گئی ہو تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جاننے والے جانتے ہیں کہ جب 12 وفات نامی ماہ کو ربیع الاول کے پیدائش کے دن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تو رمضان کو بھوکا پیاسا رہنے والا مہینہ بنانے میں کیا مسئلہ ہے ۔
آپ بھی کیا یاد رکھیں گے ۔ مہینوں کے نام تو ہم آپ کو بتاتے ہیں جو معاشرے میں عام تھے ۔ جن کو بدل کر موجودہ مہینے کر دیا گیا ہے ۔

عاشورہ ۔ تیرہ تیزی ۔ بارہ وفات ۔ گیارہویں ۔ مدار ۔ خواجہ ۔ کونڈے ۔ شب برات ۔ رمضان ۔ عید ۔ خالق ۔ بقرعید ۔

یہ تو مہینوں کے وہ نام ہیں جو معاشرے میں رائج تھے ۔ کیا آپ کو پتہ ہے اسلامی مہینے تو کچھ اور تھے موجودہ رائج مہینے تو ابھی کی صدیوں کی پیدائش ہیں ۔
آئیے آج آپ کو بتاتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں مہینوں کے کیا نام تھے ۔

موتمر ۔۔۔۔۔ جسکو محرم بنا دیا گیا
ناجر ۔۔۔۔۔ جسکو صفر بنا دیا گیا
خوان ۔۔۔۔۔ جسکو ربیع الاول بنا دیا گیا
وفصان ۔۔۔۔۔ جسکو ربیع الثانی بنا دیا گیا
حنین ۔۔۔۔۔ جسکو جمادی الاول بنا دیا گیا
ربعہ ۔۔۔۔۔ جسکو جمادی الثانی بنا دیا گیا
الاصم ۔۔۔۔۔۔ جسکو رجب بنا دیا گیا
عاذل ۔۔۔۔۔۔ جسکو شعبان بنا دیا گیا
ناطق ۔۔۔۔۔ جسکو رمضان بنا دیا گیا
وعال ۔۔۔۔۔ جسکو شوال بنا دیا گیا
ورنہہ ۔۔۔۔۔ جسکو ذوالقعدہ بنا دیا گیا
بُرک ۔۔۔۔۔ جسکو ذوالحجہ بنا دیا گیا

الصیام کو روزہ بنانا اور رمضان کو مہینہ ۔۔
امت مسلمہ کے خلاف ایک عظیم اور بھیانک سازش
ارٹیکل 6 میں ۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔

09/03/2026

تحریر و تحقیق صدیوں کا بیٹا

کیا میں روزہ نہ رکھوں ؟
الصوم اور الصیام کی اصل حقیقت کیا ہے؟
گذشتہ سے پیوستہ قسط نمبر 4

سوال:-
آپ کے آرٹیکلز جو الصوم اور الصیام کے بارے میں ہیں انکو پڑھنے اور غور کرنے کے باوجود میرے ذہن سے یہ شک ابھی تک نہیں نکلا کہ کیا میں روزہ نہیں رکھوں مجھے اسکا گناھ تو نہیں ہو گا؟ میں سب گھر والوں کو کیا جواب دوں گا کہ میں روزہ کیوں نہیں رکھ رہا؟

جواب :
برادر عزیز روزہ کے بارے میں جو اصل تعلیم قرآن سے مل سکتی ہے اسکی تفصیلا وضاحت کر دی گئی ہے اور قرآن کا اصل پیغام آپ تک پہنچا دیا گیا ہے اور جب اصل قرآنی تعلیم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ الصوم خود کو کھانے پینے سے روکنا نہیں اور نہ ہی بھوکا رہنا ہے اور نہ ہی بیوی سے ملنا اور مباشرت منع ہے بلکہ یہ قرآن کی وہ ٹرم ہے جو پرہیزگاری اختیار کرنے کا حکم دیتی ہے تو پھر آپ پر کس بات کا گناھ ۔ چناچہ پچھلے 3 ارٹیکلز میں اھم قرآنی آیات کا علمی ترجمہ پیش کر دیا گیا ہے جس سے روزہ کی شکل میں قرآنی آیات پر لگایا گیا بدترین بھتان اور جھوٹ کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔
اب جہاں تک اس بات کا سوال ہے مذہبی رسموں اور جھوٹی عبادات میں ڈوبی اس قوم کو میں کیا جواب دوں گا کہ میرا روزہ کیوں نہیں ہے؟ تو تمام پڑھنے والوں سے میری درخواست ہے کہ آپ اپنے علم پر حکمت سے عمل کریں آہستہ آہستہ خود ترک کریں اور بعد میں اسکو گھر والوں اور دوستوں کو بتائیں اور کسی سے منوانا ہمارا کام نہیں بلکہ صرف بتا دینا ہے ۔ لیکن اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ آپ کی کوئی بات یا قدم مذہبی فرقہ پرستوں پاگلوں کو یہ موقع فراہم نہ کر سکیں کہ وہ آپ کو کوئی نقصان پہنچا سکے ۔ یہ بہت اہم بات ہے ۔ اس بات کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔

قارئین اکرام ۔۔۔
پچھلے آرٹیکل میں رمضان اور لیلہ اور صوم و الصیام پر قرآنی دلیل سے وضاحت کی گٸی تھی کہ قرآن کے مطابق اللہ تعالی کو آپ کو بھوکا رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ وہ آپ کو پورا دن بھوکا رکھ کر کمزور ناتواں اور ناکارہ بنانا چاہتا ہے بلکہ وہ آپکو اپنے اعمال میں متقی اور پرہیز گار بنانا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس نے ان گناہوں والے کام سے بچنے اور پرہیزگاری کرنے والے کو "صوم اور الصیام " کہا ہے
جیسا کہ پچھلے ارٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھی طرح سے جانا جانے والا وہ ظلم وستم / خون خرابے کا دور جس میں قرآن نازل ہوا جو انسانوں کی ہدایت کے لیے اور رہنماٸی کے لیے کھلی وضاحتیں اور اچھے برے / صحیح و غلط کی تمیز رکھتا ہے ۔ پس تم میں سے جو اس جانے پہچانے دور میں موجود ہو ضرور اس سے بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس آیت کے مطابق رمضان نہ تو مہینہ ہے اور نہ ہی اس میں بھوکا رہنا ہے بلکہ یہ رمضان ظلم و ستم کا وہ مشہور دور ہے جس میں قرآن کو ہدایت اور رہنماٸی کیلیے اتارا گیا ۔

اب بات کرتے ہیں شب القدر کی جو ہمارے ہاں بہت مقبول ہے ۔ اور اس پر بڑے بڑے پروگرام منعقد ہوتے ہیں ۔ آج صرف بنیادی بات ہوگی سورة القدر کا علمی ترجمہ اگلے ارٹیکل میں بیان کیا جائے گا

ہم نے اکثر سنا ہے کہ قرآن لیلۃ القدر میں اتارا گیا ہے اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾
سوال یہ ہے کہ
کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن کو ایک رات میں نازل کر دیا جاۓ اس پر تمام فرقہ پرست مختلف قسم کے حیلے بہانے کرتے ہیں کوئی کہتا ہے کہ شب القدر میں قرآن کی ابتدا ہوئی ۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ ایک دور تھا جو شب القدر کہلاتا ہے ۔ اور کوئی کچھ کہتا ہے

اصل میں سورہ القدر کا موجودہ ترجمہ ایک سفید جھوٹ پر مبنی ہے اس لئیے کہ نہ تو کوئی بھوکا رہنے والا مہینہ رمضان ہے اور نہ ہی کوٸی شب قدر ہے اور نہ ہی اس کا کوٸی تعلق رمضان نامی کسی جھوٹ سے ہے اور نہ ہی اسکی کوٸی فضیلیت ہے یہ سب روایات کا کھیلا گیا ایک جھوٹ ہے جسکا مقصد عوام کو دھوکہ میں مصروف رکھ کر خود کی گردنیں بچانا اور آرام سے اقتدار اور دولت کے مزے لوٹنا ہے ۔

آٸیے قرآن کے سچے اور علمی ترجمہ کی طرف ۔۔۔۔۔

لیل ۔۔۔۔۔ رات یا تاریکی یا اندھیرا
الیل۔۔۔۔۔ ایک خاص رات یا خاص تاریکی یا خاص قسم کا اندھیرا
لیلہ۔۔۔۔ ایک ظلم و جبریت کا دور یا ظلمت و جہالیت کا اندھیرا
القدر ۔۔۔ اخلاقی و معاشرتی قدر و معیار
صوم ۔۔۔۔ رک جانا ٹہر جانا
الصوم ۔۔۔۔۔ کسی خاص چیز سے رکنا بچنا یا پرہیز کرنا
الصیام ۔۔۔ پرہیزی اور تربیت کا نظام /
براٸی سے رکنا اور بھلاٸی کے کام کی تربیت
چناچہ
لیلہ القدر ۔۔۔ ایک خاص دور جس میں ہر اخلاقی و معاشرتی اقدار کا فقدان ہو یا وہ دور جس میں معاشرتی قدروں کا معیار ظلم و جبریت ہو ۔۔۔۔جیسا آج کل کا دور
اس حساب سے ۔۔۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾
بے شک ہم نے اس قرآن کو ایک تاریک (ظلم , ناانصافی, جبریت کے دور) لیلہ میں اتارا ہے جب کوٸی القدر (اصول ۔ پیمانہ ۔ معیار) نہ تھا

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ؕ﴿۲﴾
اور نہیں تم کو اس بات کا علم کہ اقدار کی عدم موجودگی کا یہ دور کیا ہے ۔

جاری ہے قسط 5
سورة القدر کا علمی ترجمہ
اگلے ارٹیکل میں ۔۔۔۔

26/02/2026

روزہ نامی رسم کے ناقابل تلافی نقصانات ۔۔
تحریر و تحقیق صدیوں کا بیٹا
گذشتہ سے پیوستہ ۔۔
قسط نمبر 3

امت کے ہر ایک فرد کو سوچنے اور سمجھنے کی دعوت چاہے وہ مرد ہو یا عورت / لڑکا یا لڑکی / اسٹوڈنٹ ہو کہ ڈاکٹر انجنئیر ۔۔۔
آئیے مل کر غور کرتے ہیں ۔۔۔

میرا سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی نے امیروں کو یا ایلیٹ کلاس میں کسی کو بھوکا یا روزہ رکھتے دیکھا ہے ۔ ذرا اپنے اگے پیچھے نظر تو دوڑائیں اور دیکھیں کہ کیا اپ کے فیکٹری کا مالک روزہ رکھتا ہے یا بزنس اونرز یا بڑے بڑے نام روزہ رکھتے ہیں ۔۔ اپ کو نام تو ملیں گے لیکن وہ سینکڑوں میں چند ہی ہوں گے اور اکثر کا جواب یہ ایا کہ یار میرے سے بھوک برداشت نہیں ہوتی ارے بھائی میرے کو شوگر ہے ۔ میں کیا کروں برادر اگر میں بھوکا رہتا ہوں تو میرا بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے ۔۔
یہ ریچول یا رسم صرف غریبوں کے لیے ڈالی گئی ہے اس بات کو جب آپ سمجھ لیں گے تو اس رسم سے توبہ کر لیں گے ۔ یہ اسلام نہیں ایک رسم ہے ۔ مذہبی رسم جس میں غریب کو ثواب کے چکر میں پورے ایک مہینے تک لاغر کر دیا جاتا ہے اور امیر مزے کرتا ہے ۔ دکھاوے کے لیے بڑی بڑی پارٹیاں کرتا ہے افطار پارٹیاں اور دعوتیں ہوتی ہیں ۔ کوئی اس باتوں کو تسلیم کرے یا نہیں کرے یہ ہمارے مسلم معاشرے کی ایک بھیانک تصویر ہے

آئیے اب اصل بات کرتے ہیں

abstained صوم کا مطلب ۔ پرہیز کرنا ۔ رکنا
صیام کا مطلب ۔ پرہیز کرنے کے لیے اقدام اٹھانا ۔ کھڑا ہونا
جب ال لگے گا اور الصیام بن جاۓ تو
الصیام ۔ خاص قسم کی پرہیز گاری کے لیے اقدام اٹھانا ۔ قرآن میں الصیام خود کو طاقت, پیسہ اور عہدہ حاصل ہونے کے بعد اس کے اثرات سے بچانے کی تربیت الصیام ہے ۔
جبکہ
روزہ : لفظ فارسی سے اخذ ہے
مطلب ہے "روز" "دن" "یوم"
لہذا یہ واضع ہو جاتا ہے کہ قرآن کا لفظ صوم اور الصیام آپ کا روزہ نہیں ۔

اس کا اصل مطلب سامنے آنے کے بعد اب اس بات پہ غور کرتے ہیں کہ جو عمومی باتیں معاشرے میں پھیلی ہوئی ہیں ان کا کیا جواب ہے ۔ یعنی کہ جو مقاصد مولوی ہمیں بتاتے ہیں اسکا عملی زندگی میں کتنا اثر ہے

1) یہ بات اکثر بولی جاتی ہے کہ روزے غریبوں کی حالت سے عملی طور پر باخبر رکھ کر انکی بھوک کا احساس دلاتا ہے ۔

جواب :-
بھوک کو محسوس کرنا ہے تو ان لوگوں کےساتھ جا کر رہیں جو بھوک کا شکار ہے انکی پریشانی کو سمجھیں اور مدد کریں ۔ خود بھوکا رہنے کو عبادت مت سمجھیں اللہ کو آپکے بھوکا رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں وہ تو آپ کے دلوں کے حالوں کو جانتا ہے بھوکا رکھا کر کیا کرے گا
اگر کوئی شخص بیمار ہے یا کچھ ماہ کے لیے وہیل چیر پر ہے تو اسکی تکلیف کا اندازہ کرنے کے لئے پورا مہینہ وہیل چئیر پر بیٹھ کر رہنا پڑے گا؟ تو کیا تب جا کر مجھے اسکا احساس ہو گا؟ یا ایک دانش مند ہونے کے ناطے مجھے اس بات کا احساس اسکو دیکھ کر فورًا ہو جانا چاہئے اور بجائے خود کو تکلیف میں رکھنے کے اسکی مدد کرنی چائیے! یا وہیل چئیر کا انتخاب مجھ کو عقل مند کہے گا ۔

2) اس بات کا بہت چرچہ ہے کہ روزے جسمانی صحت کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ اسے بڑھاتے ہیں ۔ بہت سوں نے تو اس کو کینسر کا علاج بھی قرار دے دیا ہے ۔ سب کہیں سبحان اللہ

جواب:-
بلکل بھی نہیں ۔ صحت بننے کے بجاۓ مذید بگڑتی ہے ۔ کیا اپ نے کبھی سنا کہ ایک مہینہ روزہ رکھ کے میری توند کم ہوگئی یا میرا 20 کلو وزن کم ہو گیا یا یار میں کتنا ہینڈسم ہو چکا ہوں یا یار میری یہ بیماری رمضان کی بدولت ختم ہو گئی ۔ اس کے بجاۓ سب سے زیادہ کمائی ڈاکٹر حضرات رمضان میں کرتے ہیں متلی، قے، الٹیاں ، بد ہضمی، چکر جبکہ افطاری کے وقت پیٹ کا درد اور سر پر بوجھ یا گیس تو ہر خاص و عام روزے دار کا مسئلہ ہوتا ہے ۔

3)روزوں سے انسان کو دماغی اور روحانی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔

جواب:-
سفید جھوٹ ہے سب سے زیادہ مومنین کا دماغ اس مہینے میں گرم رہتا ہے جبکہ جھگڑے لڑائیاں بھی اس با برکت مہنگائی والے مہینے میں ہوتے ہیں
خاص کر عصر کی نماز کے بعد تو ہر گلی میں بھارت و پاکستان کا جنگ جاری رہتا ہے ۔ بیوی کو ہاتھ نہ لگانا ۔ دن بھر نگاہ نیچے رکھنا ورنہ لعن و تعن کا ایک سلسلہ ہے جو جاری رہتا ہے اور ساتھ میں بھوک سے لاغر ہو کے کام پر جانا اور کیا کیا بتاؤں ۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ ساری فرسٹریشن اپنے اہل خانہ اور فیلو ورکرز پہ نکال دینا ۔ چھپ چھپ کے کھانے کھا لینا پانی پی لینا ایک لمبی لسٹ ہے ان نام نہاد روزوں میں نقصان کی ۔

3) مولوی کے مطابق روزہ مسلمان کو پستی و ذلت کے عمیق غار سے نکال کر، رفعت و عزت کے اوج کمال تک پہنچاتا ہے اور مسلمان کو پرہیز گار بناتا ہے اور ان میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے

جواب:- حقیقت میں متقی بننا تو دور کی بات ہم پر تو روزوں کا الٹا ہی اثر ہوتا ہے۔ روزوں میں ہماری بدنظمی، بد اخلاقی ، افطار کے وقت ٹریفک کے مسائل، ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ، ہر قسم کی دو نمبریاں ۔ بدکاریاں ۔ بچوں کے ساتھ زنا ۔ قتل ۔ جھوٹ و حرام کھانا جیسے بہت سارے واقعات ہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں سننے کو ملتے ہیں جن میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔یہ چند ایسی مثالیں ہیں جن سے ثابت ہو جاتا ہےکہ یہ مروجہ روزہ نہ تو متقی بناتا ہے اور نہ ہی اسکے کوئی مثبت اثرات ہیں . ملا جھوٹ بولتا ہے وہ تو زکوة اور مفتے کا سوداگر ہے سچی بات کیوں بتاۓ گا۔

4) روزہ کا ملازمت ,کاروبار اور بین الاقوامی معاملات پر گہرا اثر ۔۔۔

اس بات پہ غور کریں کہ پورے ایک مہینہ امت مسلمہ لاغر کمزور اور ناتوں رہتی ہے ۔ کام آدھا ہو جاتا ہے ۔ انٹرنیشنل لیول پہ تمام سفر ۔ میٹنگ ۔ ڈیلنگز ۔ کاروبار وغیرہ سب سسپینڈ رہتے ہیں ۔ ہر کوئی رمضان ختم ہونے کا انتظار کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا امپیکٹ ہے جو نا نظر آنے والا لیکن قوم کو ڈبونے والا ہے جس نے آہستہ آہستہ پوری امت مسلمہ کو ڈبو دیا ہے ۔

5) پیسوں کا بے جا ضائع اور دکھاوے کے ثواب کی جھوٹی طلب ۔۔

مذہبی پیشوائیت کا یہ ایک بہت اہم کاروباری مہینہ ہے اس مہینہ میں اور ذالحجہ میں یہ لوگ پورے سال کی کمائی کرتے ہیں آپ لوگوں کے دئیے ہوۓ زکوة, خیرات , کھال , قربانی, صدقہ اور افطاری کے نام پر دئیے گئے پیسوں پر انکے ایمپائرز چلتے ہیں ۔ کبھی سوچیں اور غور تو کریں ۔ جھوٹی روایات اور ملاؤں کے جھوٹے فتوی نے امت کو ایک گہری کھائی میں گرا دیا ہے ۔ مذہبی پیشوائیت ہر دور میں حکمرانوں کے لیے پریشر گروپ کا کام کرتی ہے اس لیے حکومتی ادارے ان کا ڈھکے چھپے ساتھ دیتے ہیں ۔ یہ مذہبی فرقہ پرست عوام کو فضول اور بے مقصد کاموں کے لیے پیسہ ضائع کرنے پر اکساتے ہیں اور انکو جنت اور ثواب کے لارے لپڑے دیتے ہیں ۔ اس مہینے میں عوام اپنا مال اور وقت کے ساتھ جان بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔ جبکہ اس سے معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی واقع نہیں ہوتی بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ کر دکھاوا اور مختلف مذہبی گروپوں میں کافی حد تک چڑھاوڑی ضرور نظر آتی ہے ۔

ایک بات اپ کو صاف طور پر بتا دیتے ہیں کہ جو چیز یا جس چیز کی بنیاد جھوٹ پر ہو وہ چیز کبھی بھی معاشرے کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتی ۔ ثواب کے اندھے چکر میں نظر آنے والی چیز اچھی لگتی ہے لیکن اس کے اثرات بہت بھیانک ہوتے ہیں ۔ کیا کبھی کسی ملا یا فرقہ پرست پیشوایت نے اپ کو ان پیسوں کے ذریعے کسی کی مدد کرنے کے لیے کہا یا کوئی کسی غریب کو کاروبار کروانے کے لیے کہا یا ہاسپٹل میں کسی بیمار کی مدد کرنے کے لیے کہا ۔ کبھی نہیں کہیں گے کیونکہ ان کا یہ کہا ان کے کاروبار کو بند کر دے گا ۔

دراصل الصیام نظام کو بدلنے کی ترغیب ہے ۔ شخصی تربیت ہے ۔ اس ارٹیکل میں اسی بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نظام الہیہ موجود ہے سحری اور افطار کا دکھاوا اور افطار پارٹیوں کی فضول خرچی چھوڑ کر معاشرے کے لیے عمل کرنا ضروری ہے اور اللہ سے صرف دعا کرنے سے اور ثواب کی جھوٹی طلب معاشرے کو نہیں بدل سکتی ۔ اس کے لیے عملی جدوجہد ضروری ہے

اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ۷۲﴾ الاحزاب
علمی ترجمہ:-
ہم نے اس نظام کو قائم / کھڑا کرکے بھروسہ / اعتماد پر پیش کیا ۔ ان ترقی یافتہ قوموں پر اور تنزلی میں ڈوبے انسانوں پر اور ان پر جنہوں نے اسکے خدوخال بناۓ ۔ پس ہمیں یہ پسند نہیں کہ یہ اسکا ذمہ ہم پر ڈالیں یا اسکو ہمارا دیا ہوا بوجھ سمجھیں اور کہ انسانوں کی غور / فکر متاثر ہو ۔ بے شک وہ تھے ناانصاف اور لاعلم لوگ ۔

ان باتوں پہ غور ضرور کیجئے گا ۔

جاری ہے ۔۔۔ ارٹیکل 4

22/02/2026

تحریر و تحقیق...
صدیوں کا بیٹا

روزہ کیا بھوکا رہنا ہے؟
ایک انکشاف سے بھرپور تحریر ۔۔
گذشتہ سے پیوستہ ۔۔۔۔۔۔
قسط نمبر 2 ۔۔

قارئین اکرام ۔۔۔
پچھلے آرٹیکل میں رمضان اور لیلہ اور صوم و الصیام پر قرآنی دلیل سے وضاحت کی گٸی تھی کہ قرآن کے مطابق اللہ تعالی کو آپ کو بھوکا رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ وہ آپ کو پورا دن بھوکا رکھ کر کمزور ناتواں اور ناکارہ بنانا چاہتا ہے بلکہ وہ آپکو اپنے اعمال میں متقی اور پرہیز گار بنانا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس نے ان گناہوں والے کام سے بچنے اور پرہیزگاری کرنے والے کو "صوم اور الصیام " کہا ہے
جیسا کہ پچھلے ارٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھی طرح سے جانے پہچانے والا (شَہۡرُ) وہ ظلم وستم / خون خرابے کا دور (رَمَضَانَ) جس کے لیے یہ قرآن نازل ہوا (اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ) جو انسانوں کی ہدایت کے لیے (ہُدًی لِّلنَّاسِ) اور کھلی وضاحتیں اور اچھے برے / صحیح و غلط کی تمیز رہنمائی کے لیے ۔ پس تم میں سے جو اس جانے پہچانے دور میں موجود ہو ضرور اس سے بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ہے اس آیت کا مطلب ۔۔ جسکو بھوکا رہنے والا مہینہ بنا دیا گیا ہے ۔ تاکہ لوگ اس ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے مزید بے حال رہیں ۔

اس آیت کے مطابق رمضان نہ تو مہینہ ہے اور نہ ہی اس میں بھوکا رہنا ہے بلکہ یہ رمضان ظلم و ستم کا وہ مشہور دور ہے جس میں قرآن کو ہدایت اور رہنماٸی کیلیے اتارا گیا

اس سے اگلا ٹاپک اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ کا ہے سورة البقرہ کی آیت 183 میں
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اےوہ لوگوں جو امن قاٸم کرتے ہو تم پر براٸی سے رکنا اور بھلاٸی کے کام کرنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
یہ بات حکومتی ارکان کے ان افراد کی طرف حکم ہے جو الصلاة قاٸم کرتے ہیں اور معاشرے میں امن لاتے ہیں ۔

چناچہ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ سے مراد ہرگز رمضان کا مہینہ نہیں بلکہ حکومتی ارکان کے ان افراد کی طرف ایک مخصوص وقت کی ٹرینگ ہے جس میں وہ زہد و تقوی حاصل کر کے اس پر آسانی سے عمل کر سکیں

اب اس آیت کی طرف آتے ہیں جس کے جھوٹے ترجمے نے امت کی دماغی سوچ کا شیرازہ بکھیر دیا ۔ جسکو مذہبی پیشوائیت نے حکومتی سر پرستی میں روزہ میں عورت سے ج**ع کرنے کے اصول میں تبدیل کر کے النساء پر ایک اور کاری ضرب لگا دی ۔ بتائیے
بَاشِرُوۡہُنَّ ۔۔۔ کیا یہ مباشرت ہے
کیا کسی نے s*x یا ج**ع یا in*******se کی عربی ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے یا سب آنکھیں بند کیے ان فرقہ پرستوں کے پیچھے ہیں ۔

مباشرت یعنی in*******se = عربی میں الج**ع

بَاشِرُوۡہُنَّ کے اصل مطلب میں تبدیلی لا کر کے امت کو ایسی چاشنی پلاٸی گٸی ہے جسکو زیر بحث لا کر اور اس پر بات کر کے بہت مزے آتے ہیں یہ طلب ہم قرآن کے اس جھوٹے ترجمے میں محسوس کر سکتے ہیں

اُحِلَّ لَکُمۡ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمۡ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَیۡکُمۡ وَ عَفَا عَنۡکُمۡ ۚ فَالۡئٰنَ بَاشِرُوۡہُنَّ وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ ۪ وَ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الۡخَیۡطُ الۡاَبۡیَضُ مِنَ الۡخَیۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَ اَنۡتُمۡ عٰکِفُوۡنَ ۙ فِی الۡمَسٰجِدِ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَقۡرَبُوۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾ البقرة

علمی ترجمہ :
جائز / حلال تھا تم لوگوں کے لیے(اُحِلَّ لَکُمۡ)
براٸی سے بچنے کے تاریک دور میں(لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ)
بدزبانی /بدتمیزی / جاہلانہ سلوک (الرَّفَثُ)
تم لوگوں کے کمزور طبقوں کی جانب (اِلٰی نِسَآئِکُمۡ)
جبکہ وہ آپکے لیے کور / غلاف ہیں اور آپ ان کے لیے کور / غلاف ہیں( ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ) قدرت الہیہ علم رکھتی ہے کہ تم لوگ ان میں ہو جو اپنے ہی لوگوں کا حق کھا رہے تھے پس اس نے تمہیں ایک اور موقع دیا اور تمہیں معاف کر دیا ۔ پس اب ان لوگوں سے براہِ راست رابطہ / ملاپ قائم کرو اور تلاش کرو جو قدرت کے فطری قوانین تم لوگوں کے لٸیے اور حکم الہیہ کا علم (وَكُلُوا) حاصل کرو اور اس کو جذب کرو / مکمل اختیار کرو (وَاشْرَبُوا) حتی کہ تم لوگوں پر واضح ہو جاۓ وہ خاص لکیر / حد ۔ سفید یعنی سچاٸی کی روشنی (الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ) اور کالک یعنی برائی کا اندھیرا (الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ) قرآن کی روشنی میں (مِنَ الْفَجْرِ) پھر مکمل ختم کرو (اتموا) اپنے اردگرد جہالت کے اندھیرے (الیل) گناہ سے رک کر / پرہیزگاری سے (الصِّيَامَ) اور جب تم لوگ احکام الٰہی کے نفاذ میں پالیسیوں کی تشکیل کے لیے(فِي الْمَسَاجِدِ) غور و فکر کے مرحلے میں ہوں(عَاكِفُونَ) تو اپنے عوام / کمزور طبقوں میں قبل از وقت اطلاع / رابطہ / اعلان (تباشروہن) نہ کرو یہ نظام الہیہ کی طرف سے مقرر کردہ حدود ہیں پس اسکی خلاف ورزی کے قریب نہ جانا ۔ نظام الہیہ تمہارے لیے یہ اس طرح واضح بیان کرتا ہے یہ اسکی فطری وضاحتیں ہیں انسانیت کے لیے تاکہ وہ لوگ ان میں ہوں جو احکام الہیہ پر مکمل اور پرہیز گاری سے عمل کرتے ہیں (یَتَّقُوۡنَ)

فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ۚ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المجادلة
"پس جو نہ کر سکے اس معاہدے کی پاسداری تو وہ پرہیزگاری کے دونوں رخوں یعنی اچھاٸی اور براٸی میں پرہیزگاری قاٸم رکھنے کی تربیت حاصل کرے قبل اسکے کہ وہ دوسری ج**عت سے ملے یا ملاقات کرے"

نہ تو عورت سے مباشرت کی بات ہے نا اور نہ ہی یہ آیت بھوکا رکھنے کے لیے کسی روشنی کا پھوٹنا ہے ۔ یہ آیت تو اس قوانین کو واضح کر رہی ہے جو کسی قوم کے آئین کے اصول و ضوابط کو تشکیل دیتا ہے

جاری ہے ارٹیکل 3

Address

Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when What Quran Says? قرآن کیا کہتا ہے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share