17/03/2026
تحریر و تحقیق
صدیوں کا بیٹا
روزہ اصل لفظ الصیام ۔۔۔۔
اصل حکم بنام الصیام ۔۔۔ ۔
گذشتہ سے پیوستہ
قسط نمبر 6
ڈٸیر ریڈر۔۔
پچھلے ارٹیکلز میں یہ واضع کر دیا گیا تھا کہ جس آیت کو بنیاد بنا کر بھوکا پیاسا رکھوایا جاتا ہے اسکا تو مطلب ہی کچھ اور نکلتا ہے اور ان دین کا دھندہ کرنے والوں نے اسکو بھوک ہڑتال بنا دیا ہے۔
یہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ الصوم کا مطلب تو رکنا ہے لیکن کس چیز سے رکنا ہے ۔ کیا یہ برائی سے ۔ گندے دھندوں سے رکنا ہے یا کھانے پینے سے ۔۔۔ پھر کیا اس بھوک والے جھوٹے ترجمہ سے تقوی مل رہا ہے ۔ کیا مسلم امہ متقی بن چکی ۔ اگر نہیں تو کیا قرآن غلط کہہ رہا ہے ۔
قارائین اکرام ۔۔۔
آئیے آپکو وہ باتیں بتاتے ہیں جو روزے سے متعلق ہمارے معاشرے میں بہت عام ہیں لیکن سب ایک جھوٹ سے زائد نہیں ۔ ۔۔۔ ۔
رمضان پر بولے جانے والے جھوٹ ۔۔۔
رمضان میں نعت پڑھنے سننے والے پر جنت واجب ۔۔۔۔
رمضان میں قرآن ختم کرنے والے کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ۔۔۔
صحابہ اور خلفاء راشدین رمضان میں چالیس قرآن پڑھتے تھے ۔۔۔۔
رمضان میں شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
رمضان میں ایک نیکی ستر نیکیوں کے برابر اور دس گناہ کرنے والے کو صرف ایک گناہ کی سزا ۔۔۔۔۔
رمضان میں درود شریف پڑھنے والے کے آگلے پچھلے سارے گناہ معاف اور جنت میں عالیشان محل ۔۔۔۔۔
جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلا ئے گا ، الله اس بندہ کو حوض سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی ۔۔۔۔۔
رمضان یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے ۔۔۔۔
اعتکاف میں بیٹھنے والے انسان کے سارے خاندان پر جنت واجب ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
جو کوئ بھی روزہ نہ رکھے اس نے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا ۔۔۔۔
روزہ چھوڑنے والے کافر اورمرتد ہیں ۔۔۔۔۔
جس نے بھی بغیر شرعی عذر اورمرض کے رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ ترک کیا تو وہ زانی اور شرابی سے بھی زيادہ برا اورشریر ہے ۔۔۔۔
رمضان شریف کا ایک روزہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یہ بہت بڑے اجر سے محرومی کا باعث ہے جس کا ازالہ عمر بھر کے روزے بھی نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔
جو رمضان میں مرا اس پر جنت واجب ہے
لیلہ القدر کا نزول رمضان میں ہوتا ہے جسکو تلاش کرنا پڑتا ہے ۔
شب القدر میں کتے نہیں بھوکتے کیونکہ ملائیکہ کا نزول ہوتا ہے ۔
ڈئیر ریڈرز ۔۔۔
الصیام کا اصل مطلب ۔۔۔۔ برے کاموں اور گناہوں سے خود کو روکنا ۔ اسکی تربیت حاصل کرنا کہ اپنے نفس کو کیسے قابو کر کے شیطانی کاموں سے روکا جاۓ ۔ یہی الصیام ہے ۔ اس کے لیے خصوصی پروگرامز ترتیب دینا الصیام کی ٹرینگ ہے اختیارات ۔ طاقت اور پیسہ رکھنے والوں کے لیے اسکی تیاری قرآن کا لفظ الصیام ہے ۔
چناچہ اب وہ کون سے احکامات ہیں جو ہر خاص و عام مرد و عورت کے لیے فرض ہیں ۔
تکبر ۔۔ جو ساری بیماریوں کی جڑ ہے
دکھاوا ۔۔ کیا آپ نے چھوڑ دیا
انا ۔۔ آپ نے ختم کرنی ہے
جاسوسی ۔ مت کریں ۔
ٹانگ کھچنا ۔ بند کر دیں ۔
جیلیسی ۔ کی آگ سے جان چھٹائیں ۔
بغض ۔ ایک دلی بیماری ہے ختم کر دیں ۔
عداوت ۔ کو آپ نے اندر سے مار دینا ہے ۔
جھوٹ آپ نے بلکل نہیں بولنا ۔
دھوکہ بلکل نہیں دینا ۔ چاہے کتنا نقصان ہو جاۓ ۔
ماں باپ کی عزت کرنا ہے ۔ ہر حال میں ۔۔۔
پڑوسیوں کا خیال کرنا ہے ۔
غریب کی جتنی ہو سکے مدد کرنی ہے ۔
کسی کا بھی مال ہڑپ کرنا بند کر دیں ۔
اپنے کام میں خیانت نہ کریں ۔
ایک ایک چیز کو خالص اللہ کے لیے کرنا ہے ۔
معاف کرنا سیکھنا ہے جو ایک بہت مشکل کام ہے ۔
رشوت نہیں کھانا ۔ چاہے نوکری کا خطرہ ہو۔
نوکری کے اوقات کی پابندی کرنا ہے ۔
چوکیدار مالی, موچی , ماسی, خانساماں, جمعدار یہ سب النساء میں آتے ہیں انکی عزت کرنا ہی دین ہے ۔ انکا حق دینا اصل دین ہے ۔
کاروبار میں ناجائز / بےجا منافع خوری بند کر دو یہی اصل سود ہے ۔
اپنے بچوں اور محلے کے بچوں , غریب کے بچے اور بھکاری کے بچے ۔ سب کو برابر سمجھو ۔ کیا آپکا ذہن اس بات کو مان لے گا نہیں ۔ اسی کی تیاری الصیام ہے ۔
کیا آپکے ذہن میں دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی عزت ہے یا آپ ہندو اور کرسچن کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ ذہن کو بناؤ اور عمل سے ثابت کرو یہی الصوم ہے ۔
کیا آپ بیوی کے ساتھ بہترین تعلقات رکھتے ہیں اور بچوں کی بہترین تربیت وتعلیم کی کوشش کرتے ہیں ۔ قرآن کے اس احکام پر عمل کرو ۔
کیا آپکے بہن, بھائی آپ سے خوش ہیں ۔ نہیں ہیں تو کچھ ایسا کرو کہ خوش ہو جائیں ۔ تمہارا الصیام یہیں سے شروع ہوتا ہے
لین دین کے معاملات کو لکھو ۔
قرض دو اور اس کی ادائیگی پر سہولت دو۔
اصراف اور دکھاوے سے نفرت کرو ۔
اپنی زبان اور ہاتھ سے سب محفوظ کو محفوظ رکھو ۔
جو صاحب حثیت ہیں کیا انھوں نے کسی کے بھی روزگار کا بندوست کیا, اپنے پاس رکھ کر, کسی سے کہہ کر, یا مالی امداد کر کے ۔ پس اب کرو ۔
کتا, بلی سمیت سارے قسم کے جانوروں کے لیے دل میں پیار رکھو ۔
ڈئیر ریڈرز ۔۔۔۔
دیکھنے میں تو یہ بہت عام سی باتیں نظر آتی ہیں لیکن ان پہ عمل کرنا ایک بہت مشکل کام ہے یہی الصیام کی ٹرینگ ہے اختیارات اور طاقت رکھنے والوں کے لیے اسکی تیاری قرآن کا لفظ الصیام ہے ۔
اگر آپ ان چیزوں پر عمل نہیں کرتے تو پہلے یہ عمل کرنا شروع کریں روکیں خود کو ۔۔۔ یہی کوشش ۔ جدوجہد اور ٹرینگ الصیام ہے
باقی
کھل کر کھائیے پٸیے ۔ ہر مہینے میں ۔ کسی ماہ پر کوٸی پابندی نہیں ۔ کوٸی گناھ نہیں ۔ کوٸی پکڑ نہیں ۔ اللہ کو اپنے مومن طاقتور بندے پسند ہیں ۔ جو ہر وقت چاق و چوبند رہ کر اس کے احکامات پر مکمل طور پر خلوص دل سے عمل کریں ۔
جاری ہے ۔۔۔
لیلة القدر کیا ہے اور کیا سورة قدر رمضان کے آخری عشرہ میں ڈھونڈنی چاہیے ۔ ۔۔ ۔
سورة القدر کا علمی ترجمہ ۔۔۔
ارٹیکل 6 میں ۔۔
[03-17, 9:40 AM] : روزہ ایک جادو ۔۔ ۔۔
جس سے آپکے کئی کام آسان ۔۔
گذشتہ سے پیوستہ
ارٹیکل #7
ڈٸیر ریڈرز
آئیے ۔۔
آج آپ کو بتاتے ہیں ۔ روزہ ایک جادو ہے جس سے ہر مسئلہ پورا ہو سکتا ہے اور بڑے سے بڑا گناہ معاف ہو جاتا ہے حتی کہ قتل بھی ۔ ان کے بارے میں آپ کو کوئی نہ بتاۓ گا , صرف اس پیج پر ۔۔۔
1۔ ایک روزہ وہ ہے جو کہ رمضان کے مہینے میں پورا ماہ ہوتا ہے یہ مشق ہے بھوکے پیاسے رہنے کی ۔ تاکہ ہم صبر کرسکیں ۔ بھوکے رہ کر بھی محنت کر سکیں ہمیں پتہ چلے کہ غربت کیا ہوتی ہے . غریب کس طرح بلکتے ہیں؟ اسکو لوگ قرآن کی سورة البقرة سے ثابت کرتے ہیں
2۔ ایک چپ کا صوم ہوتا ہےجوکہ ہر وہ عورت جو درد زہ بچے کی پیدائش کے وقت جھیل رہی ہوتی ہے اور اسکو ہدایت دی جاتی ہے کہ اس نے کسی سے بات نہیں کرنی کیونکہ اس سے درد زیادہ ہوجاتا ہے لیکن وہ کھجور کھائے اور پانی پئے اور بچے کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے ۔ اسکو لوگ سورة مریم 26 کے جھوٹے ترجمہ سے ثابت کرتے ہیں ۔
3۔ فِدۡیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ کا روزہ قرآن کے جھوٹے ترجموں میں بیان ہوا ہے حج کے ارکان کسی بھی وجہ سے ادا نہ کرنے پر روزہ سے بدل کرنے کے لیے ۔ یہ ہے روزہ کا کمال ۔۔
4۔ لیجئے قتل کیجئے اور اگر آپ کے پاس خون بہا کے پیسے نہیں تو قتل کرنے پر اس کی سزا مسلمان غلام کا آزاد کرنا ہے اب یہ دور تو غلاموں کا نہیں تو پس جو نہ کر پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں ۔ سورة النساء 92 کا جھوٹا ترجمہ۔
دیکھا یہ ہے روزہ کی چمتکاری ۔۔۔
مذہبی پیشوائیت کی معاشرے پر ضرب کاری
5۔ اب ایک اور روزے کا جنتر منتر آپکے قسم کے کفارہ کو بھسم کر کے رکھ دے گا اور آپ پر قسم توڑنے کی آنچ تک نہ آۓ گی ۔ یہ تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفارہ جب کہ تم قسم کھا لو ۔ سورة المائدہ 89 کا جھوٹا ترجمہ ۔
جبکہ تم لوگ کفارے کے روزے تو رکھتے نہیں بلکہ قسمیں پانی کی طرح بہاتے ہو ۔ پکے مومن لگتے ہو ۔
6۔ سورة المائدہ 95 کے جھوٹے ترجمہ کے مطابق ۔۔ احرام کی حالت میں جانور مار دیا ۔ یہ بہت برا کیا ۔ اب فدیہ دینا پڑے گا ۔ اسی کے برابر کا جانور مسکین کو کعبہ میں نیاز کے طور پر دینا ہے ۔ یہ نہیں کر سکتے کوئی مسئلہ نہیں ۔ روزے کا جادو کب کام آۓ گا ۔ اس لئیے اس کے برابر روزے رکھ لئے جائیں تاکہ اپنے کئے کی شامت کا مزہ چکھے ۔ سبحان اللہ ۔۔
7۔ ایک وہ صوم ہے جب ایک میاں نے اپنی بیوی کو ماں کہہ دیا تو ایک گناہ کبیرہ کر ڈالا کہ اب سزا کے طور پر اسے ایک غلام آزاد کرنا ہے اب یہاں پر پھر ایک وہی مسئلہ کہ غلاموں کا دور ہی نہیں ہے تو اب یہ کام روزہ ہی کرے گا جو شخص یہ نہ کر پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگا تار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اسکو لوگ سورة المجادلہ 4 کے جھوٹے ترجمہ سے ثابت کرتے ہیں یُظٰہِرُوۡنَ کو ان لوگوں نے (جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں ) بنا دیا ۔
اب مذید آپکی سوچوں کو اس گھن چکر میں پھسانے اور آپکی ہر تعمیری سوچ کو قتل کرنے کے لیے اس میں مذید برانچیں پیدا کو دی , بس اسی میں پورے رہیں اور کچھ مت سوچیں ۔۔
1۔ فرضِ معیّن (ماہ رمضان کے روزے)
2۔ فرضِ غیر معیّن ( قضا شدہ روزے)
3۔ واجب معیّن (منت کا روزہ)
4۔ واجب غیر معیّن (کفارے، نذرِ اور توڑے گئے نفلی روزوں کی قضا)
5۔ سنت (محرم، عرفہ اور ایامِ بیض یعنی ہر قمری مہینے کی 13، 14 اور 15 کے روزے)
6۔ نفل (شوال کے چھ روزے، 15 شعبان، سوموار، جمعرات اور جمعہ کا روزہ)
قارئین اکرام ۔۔۔
اہل قرآن " الصیام " " الصلوۃ " الزکوۃ " عمرہ اور حج سمیت تمام قرآنی احکامات کی تشریح قرآنی نکتہ نگاہ سے کرتے ہیں وہ اس میں روایات اور تفاسیر کا بالکل سہارہ نہیں لیتے کیوں کہ قرآن دین کی ہر بات کے لیے کافی ہے اور جو بات قرآن میں نہیں وہ دین نہیں بلکہ گڑھا ہوا مذہب ہے ۔ یہی وجہ ہے مسلمانوں کا ایک بہت بڑا باشعور طبقہ یا گروپ ۔ خالص قرآن کے احکامات کو فالو کرتا ہے ۔
قرآن میں صوم کا اصل مطلب رک جانا ہے ۔ جو صوم کا اصل مطلب ہے ۔مختلف غلط کاموں سے اپنے آپ کو بچانا ہے ۔ اس کے لیے خود کو تیار کرنا قرآن میں یہی الصیام کا اصل مطلب ہے جسکو لوگ صوم ہی نہیں سمجھتے ۔
جاری ہے قسط نمبر 7
لیلہ القدر کی کہانی ۔۔۔
[03-17, 9:40 AM] روزے کے بارے میں بولے جانے والے جھوٹ ۔۔
ایک مکمل قرآنی جاٸزہ ۔۔
گذشتہ سے پیوستہ
ارٹیکل #8
قارائین اکرام ۔۔۔
آئیے آج آپکو روزے کے بارے میں وہ باتیں بتاتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں بہت عام ہیں ۔ لوگ ذوق و شوق سے انھیں بیان کرتے ہیں ثواب کی ماری ہماری قوم نے کبھی اس کے بارے میں نہ سوچا کہ کیا یہ سب ممکن ہے یا یہ سب ایک جھوٹ سے زائد نہیں ۔۔۔۔
رمضان میں نعت پڑھنے سننے والے پر جنت واجب ۔۔۔۔
رمضان میں قرآن ختم کرنے والے کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ۔۔۔
صحابہ اور خلفاء راشدین رمضان میں چالیس قرآن پڑھتے تھے ۔۔۔۔
رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے ۔
روزا دار کی منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے ۔
رمضان میں ایک نیکی ستر نیکیوں کے برابر اور دس گناہ کرنے والے کو صرف ایک گناہ کی سزا ۔۔۔۔۔
رمضان میں درود شریف پڑھنے والے کے آگلے پچھلے سارے گناہ معاف اور جنت میں عالیشان محل ۔۔۔۔۔
جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلا ئے گا ، الله اس بندہ کو حوض سے ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی ۔۔۔۔۔
جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک ندا دینے والا پکارتا ہے: اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے۔
رمضان یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے ۔۔۔۔
اس (مہینہ) میں ﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا ۔
اعتکاف میں بیٹھنے والے انسان کے سارے خاندان پر جنت واجب ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
جو کوئ بھی روزہ نہ رکھے اس نے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا ۔۔۔۔
روزہ چھوڑنے والے کافر اورمرتد ہیں ۔۔۔۔۔
جس نے بھی بغیر شرعی عذر اورمرض کے رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ ترک کیا تو وہ زانی اور شرابی سے بھی زيادہ برا اورشریر ہے ۔۔۔۔
رمضان کا ایک روزہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یہ بہت بڑے اجر سے محرومی کا باعث ہے جس کا ازالہ عمر بھر کے روزے بھی نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔
جو رمضان میں مرا اس پر جنت واجب ہے
لیلہ القدر کا نزول رمضان میں ہوتا ہے جسکو تلاش کرنا پڑتا ہے ۔
شب القدر میں کتے نہیں بھوکتے کیونکہ ملائیکہ کا نزول ہوتا ہے ۔
ڈئیر ریڈرز ۔۔۔
الصیام کا اصل مطلب ۔۔۔۔ برے کاموں اور گناہوں سے اپنے آپ کو روکنا ۔ جو قرآن کے احکامات ہیں ۔ سختی کے ساتھ ان چیزوں سے رکنا ۔ اسکی تربیت حاصل کرنا کہ اپنے نفس کو کیسے قابو کر کے شیطانی کاموں سے روکا جاۓ ۔ یہی الصیام ہے ۔
کھل کر کھائیے پٸیے ۔ ہر مہینے میں ۔ کسی ماہ پر کوٸی پابندی نہیں ۔ کوٸی گناھ نہیں ۔ کوٸی پکڑ نہیں ۔ اللہ کو اپنے مومن طاقتور بندے پسند ہیں ۔ جو ہر وقت چاق و چوبند رہ کر اس کے احکامات پر مکمل طور پر خلوص دل سے عمل کریں ۔
جاری ہے ۔۔۔
لیلہ القدر اگلے ارٹیکل میں ۔۔۔