What Quran Says? قرآن کیا کہتا ہے

What Quran Says? قرآن کیا کہتا ہے Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from What Quran Says? قرآن کیا کہتا ہے, karachi, Karachi.

26/06/2026

( ان اہم.آیات کا اصل قرآنی رخ جس نے قرآن سے چار شادیاں لونڈیاں نکاح اور نہ جانے کیا کیا نکال لیا جس کی وجہ سے دوسرے لوگ ہم پر طنز کرتے ہیں کہ یہ ہے تمہارا اللہ؟؟
جب آیات کھلتی ہیں تو پورے سوشل سسٹم کی گاہیڈ لاین سامنے آتی ہے جہاں اپنے ماتحت اور نچلے طبقات کے ساتھ باقائدہ ایگریمنٹ کے ساتھ انکی عزت نفس کے ساتھ معاشرے کے دھارے میں شامل کرنا ہے....افسوس غیر ممالک نے اس پر لا شعوری عمل کر کے اہنا سوشل سسٹم کھڑا کر دیا جہاں تمام کے حقوق ریاست کے سامنے ہوتے ہیں اور وہ خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا اور ہم نے لونڈیاں چار شادیاں غلط ترجموں سے اپنا کر رال ٹپکا دی اور روایتوں میں پھر کیا کیا خرافات آئیں سب جانتے بغور پڑھئیے)

تحریر و تحقیق ڈاکٹر محمد اقبال

غلام اور لونڈیاں

بہت عرصہ سے لوگ مجھ سے اس کے بارے میں سوالات کررہے ہیں. میری گزشتہ گفتگو جو میں نے موسٰی کے چینل پر کی تھی وہاں بھی مجھ سے ایک صاحب نے اسپر سوال کیا تو میں نے جواب دینے کے بجائے ان سے درخواست کی وہ مجھے کچھ وقت دیں تا کہ میں اس پر ایک مضمون لکھ کر اپنے فھم سے آپکو آگاہ کر سکوں.- میں پوری کوشش کروں گا کہ اس اصطلاح پر قرآن میں کُل 15 آیتیں ہیں -اور میں ایک ایک آیت کو لکھ کر اسکی ترجمانی کروں گا.- میں جانتا ہوں کہ یہ کرتے وقت میرا مضمون بہت طویل ہو جائے گا جس کا مجھ پر الزام بھی ہے کہ ڈاکٹر صاحب آپکے مضمون بہت لمبے ہوتے ہیں.- مگر کیا کروں کہ بات کو سمجھاتے سمجھاتے اتنی طویل ہو جا تی کہ میرے بس میں نہیں ہوتا.- آپ لوگ اگر مجھے برداشت کریں اور تحمل سے کام لیں تو میں اس وضاحت کو شروع کرتا ہوں.

قران میں 15 بار یہ لفظ چار طریقوں سے آیا ہے.
1.ماملکت ایمانکم=اسکا ترجمہ - جو تم سب کی ملکیت ہو-غورسے دیکھیں- تم سب
33/50,30/28,24/58,24/33,4/36,4/25,4/24,4/3
2.ما ملکت یمنک=جو تیری ملکیت میں ہو.- غور سے دیکھیں واحد کاصیضہ ہے- تیری
33/52,33/50
3.ماملکت ایمانھمہ=جو ان سب کی ملکیت ہو. یہاں غائب کے ضمیر جمع کے صیغے میں ہے.- ان سب
6/30,23/70, 16/71
4.ما ملکت یمینھن=جو ان مونث کی ملکیت ہو.- یہاں غائب مونث جمع کی ضمیر ھُن ہے.- ان سب مونث کی.-
24/31،33/55
دیکھا آپ نے یہ لفظ 4 مختلف ضمیروں کے ساتھ آیا ہے اور ہم نےاس کا خیال رکھے بغیر اسکا صرف ایک ہی طریقے سے
ترجمہ کررہے ہیں اس طرح با ت الجھ رہی ہے.

آئیں بنیاد سے بات شروع کرتے ہیں.
لفظ او یہ حرف عطف ہے- ہمارے ترجموں میں اسکو OR یا and لکھا جاتا ہے.- یہ درست ہے کہ اسکے یہ دونوں ترجمے ہو سکتے ہیں- مگر اسکے دیگر ترجمے بھی ہیں جیسے کہ unless یہاں تک کہexcept سواۓ، that جو کہ- اگر آپ اسکے صرف ایک ترجمے پر اصرارا کریں گے تو جملے کا مطلب کہاں سے کہاں نکل جائے گا.- جب آپ اسکے دیگر ترجمے بھی کریں گے تو بات صبح بنے گی. میں اس لفظ پر تھوڑی سی روشنی ڈالتا ہوں کہ یہ لفظ کیسے کیسے استعمال ہوتا ہے.

1.جب کسی بات میں doubt ہو شک ہو.رجل اوامراۃ ( this or that- (man or woman

2جب کوئی بات vague ہو مبھم ہو
قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ قُلْ اللَّهُ وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى أَوْ فِي ضَلاَلٍ مُبِينٍ (سبأ: 24).
تو آیا ہم یا تم سیدھے راستے پر ہوں either we or whether you

3.جب کسی کو choice انتخاب دینا ہو مثلاً اکل السمکٔ اواشرب البن. Eat fish or drink milk

4.جب کسی ایک چیز کی دو خصوصیات بتائ ہوں.
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلاَ تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا (الإنسان: 24
کسی بد عمل اور ناشکرے کی باتوں میں نہ آنا.
یہاں ایک ہی شخص کی دو خصوصیات بتانے کے لئے لفظ او آیا ہے.

امید ہے ان وضاحتوں کے بعد آپکو لفظ او سمجھ آگیا ہو گا. آگے بڑھیں
ما اسم موسولہ(relative pronoun) ہے- یہاں اسکے لئے الفاظ ہیں something which /which /that/all that whatever اردو میں اسے جو کہ یا جو کوئی لیں تو مناسب ہوگا
ملکت-یہ لفظ ملک سے ہے غائب مونث واحد کا صیغہ
ملک کہتے ہیں to acquire /to take into possession /to possess power on something /to become owner of-کسی چیز کی ملکیت حاصل کرنا - کسی چیز کے مالک بن جانا.
ملکت-past tense فعل ماضی ہے. آئیں اسکی مثال قرآن سے دیکھیں

إِنِّي وَجَدتُّ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ (النمل: 23)
I found a woman(tamlakohum) ruling over them and she received everything and she had a great authority.
میں نے ایک خاتون کو ان پر حکومت کرتے پایا اسے بہت سے اسباب میسر ہیں اور اسکا تخت وتاج زبردست ہے.

ایمانکم یہ ایمان +کم ہے. ایمان یمن سے بنا ہے یمن (yamaan) کے دو معنی ہیں.
1. Physical طبعی یا. حقیقی = right side- دائیں طرف.
2. . symbolicعلامتی یا مجازی =power- طاقت یا اختیار
اب لفظ(yameen) یمین یمن سے ہی بنا ہے اسکے معنی oath-حلف کے ہوتے ہیں مثلاً
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمْ اقْرَءُوا كِتَابِي (الحاقة: 19).
As for those who is given his record in (yameen) right hand, he will say, here come and read this record.
تو جس کو ریکارڈ اسکے دائیں ہاتھ میں دیاجاۓ گا تو کہ اٹھے گا ادھر آؤ اور اس ریکارڈ کو پڑھو

وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلاَ تَنقُضُوا الأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلاً إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ (النحل: 91).
And fulfil your pledge to Allah when you pledge so and do not break the (Ayman) oath after making it for you have made Allah a sponsor over you. Allah is aware of what you do.
اور جب اللہ کے حوالے سے تم کوئی عہد کرو تو اسے پورا کرو اور اپنے حلف کو نہ توڑو جس کا تم یقین دلا چکے ہو اور جس پر تم نے اللہ کو اپنا ظامن بھی ٹھرایا ہے. بے شک اللہ سب جا نتے ہیں جو تم کرتے ہو.
یہ دوآیتیں میں نے پیش کی ہیں جو دونوں انداز سے لفظ یمن کی ترجمانی کر رہی ہیں- یوں تو آیتیں بہت ہیں مگر میں صرف دو پر اکتفا کرتا ہوں.

کم----یہ جمع مذکر حاضر کی ضمیر ہے جس کے معنی ہیں-- تمہاری.
مگر جیسا کہ میں اوپرلکھ چکا ہوں کہ یہ ضمیر کبھی کم، کبھی ھمہ، کبھی کٔ اور کبھی ھُنّ کی آرہی ہیں اور ہم اسی انداز سےرکھ کر اسکا ترجمہ کریں گے اور اسکو سمجھنے کی کوشش کریں گے

یہاں ایک وضاحت کرتا چلوں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ جن چیزوں کے مالک تم قرارا پاۓ ایک معاہدے کے تحت تو اسکا مطلب کیا ہو تا ہے.

ہم روزانہ اپنی زندگی میں دیکھتے ہیں، خاص کر مغربی ممالک میں تو یہ عام ہے کہ جب کبھی ہم کسی کو اپنا ملازم رکھتے ہیں،یا کسی سے کوئی تعلق قائم کرتے ہیں تو ہم ایک معاہدہ contract کو sign کرتے ہیں- جس میں اس کام کی تمام تفصیل ہوتی ہے- جس میں آپکی زمہ داریاں اور سہولتیں درج ہوتی ہیں اس contract کے بغیر تو یہاں Australia میں کوئی غسل خانوں کی صفائی کا بھی کام نہیں کرتا ہے.- اگر آپکے گھر کوئی TVیا Fridge ٹھیک کرنے والا آتا ہے تو سب سے پہلے وہ آپ سے ایک کاغذ پر دستخط کرواتا ہےجسمیں اسکی اجرت اور کام کی نوعیت درج ہوتی ہے یہاں تک کہ جب میں نے یہاں Australia میں انکی شادیاں attend کیں تو شوہر اور بیوی سب کے سامنے اپنے wows بیان کرتے ہیں- کہ وہ کس طرح آپس میں آنے والی زندگی کے ساتھی بن کر رہیں گے.- دونوں الگ الگ اپنی زمہ داریاں قبول کرتے ہیں اور جب وہ اسکا اعادہ کرتے ہیں تو priest ان دونوں کو husband and wife ہونے کا اعلان کرتا ہے- یہ ہے وہoath یا حلف جو وہ سب کے سامنے کرتے ہیں مگر ہمارے وطن عزیز میں نکاح کا یہ طریقہ ہے ہی نہیں کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کا حلف لیں.- اس طرح وہ دونوں برابری کا درجہ رکھتے ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے کو طلاق دینے کا حق ہوتا ہے کہ جب چاہیں وہ حالات کو دیکھ کر اس معاہدے کو توڑ دیں- اور اسطرح نہ ان میں کوئی دشمنی یا اختلافات پیدا ہوتے ہیں- اور یہ کام بھی وہ council میں یا court میں جا کر کرتے ہیں نہ کہ ہماری طرح کہ شوہر جب چاہے اسے kitchen میں کھڑے کھڑے طلاق دے کر گھر سے نکال دے- میں سمجھتا ہوں کہ ان مغربی ملکوں کے لوگوں نے اس اصطلاح کو بہت اچھی طرح سمجھا ہے اور اس پر عمل پیرا ہیں- جس کی وجہ سے یہاں اس قسم کے مسائل بہت کم ہیں.- ہم آنے والی آیتوں میں یہ ہی سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ اللہ ان آیتوں میں کن کن لوگوں کی بات کررہے جن سے ہم کسی معاہدے کے تحت پابند پوتے ہیں اور ان سے اسی بنیاد پرسلوک کرتے ہیں.

اب اس پوری اصطلاح کے معنی ہوۓ.
Your oath of possessing ownership
آپکی ملکیت کا حلف، یا جو کسی حلف کے تحت آپکی ملکیت بنے.

سب سے پہلے ہم ما ملکت ایمانھمہ والی 3 آیتیں لیتے ہیں جو۵/23, 30&2970/اور 71/16 ہیں
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (المؤمنون: 5).
إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (المؤمنون: 6).
سب سے پہلے اسکا روایتی ترجمہ
جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں.
سواۓ اپنی بیویوں یا اپنی لونڈیوں کے لئے تو ایسے لوگوں پر کوئی ملامت نہیں (ڈاکٹر اسرار)

جو اپنے رازوں /اپنی کمزوریوں /اپنی خفیہ پالیسیوں کی حفاظت کریں.
سواۓ انکے جو وہ فکری ساتھی جو کسی معاہدے کے تحت ہیں اس طرح کرنے پر انہیں کوئی ملامت نہیں ہے (اورنگزیب)

جو اپنی عصمتوں کے محافظ ہوتے ہیں. سواۓاپنے ازواج کہ جب وہ معاہدے کے تحت ان کے پابند ہوں جس کےلئے ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا (شوکت سلیم)

میں ذرا تفصیل سے آیت آپکے سامنے رکھتا ہوں اور اسکے ایک ایک الفاظ کو دیکھتے ہیں.

یہ آیت الذین سے شروع ہوتی ہے (وہ لوگ) اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں پھر ہے لفظ ھمہ جو ضمیر جمع متصل الذکورہے جسے they یا those کہیں گے. اردو میں جو یا وہ ( مرد وعورت) کہیں گے پھر لفظ لفروجھمہ ہے.
لِ ایک Preposition ہےجسے اردو میں ترجمہ کرتے ہیں. "کےلئے"

اب لفظ ف*ج پر آتے ہیں.
ف*ج کے بنیادی معنی open apart /breech /gap/split /cleavage ہیں جسے اردو میں دراڑ کہتے ہیں. یہ اس معنوں میں قرآن کی آیتوں میں آیا ہے. مثلاً

أَفَلَمْ يَنْظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوجٍ (ق: 6).
کہ انہیں اپنے اوپر آسمان نظر نہیں آتا کہ ہم نے اسے کس خوبی سے بنایا ہے اور ہم نے اسے سنوارا ہے اور اسمیں کوئی دراڑ نہیں ہے.

اسکے ایک معنی pudendum of a female /v***a عورت کا جنسی حصہ بھی ہے- اور سب ترجمہ کرنے والوں نے یہ ہی معنی اسکے لئے ہیں اس آیت میں یہ لفظ صرف عورت کے جنسی حصے کے لۓ بولا جا تا ہے کہ مردوں کے جنسی حصے میں کوئی split نہیں ہوتا. مگر اس آیت کو غور سے دیکھیں یہ تو الذین سے شروع ہو رہی اور پھر ھمہ ہے جو کہ ایک مذکر ہے الذین ھمہ کا ترجمہ ہو گا.

یہ ہی تووہ لوگ (مرد و عورت) ہیں تو ثابت ہوا کہ مرد کی بھی ف*ج ہوتی ہیں مگر مرد کی تو ف*ج ہوتی ہی نہیں کیونکہ یہ تو صرف عورت کے v***a کے لئے بولا جا تا ہے.

بہت سے ترجمہ کرنے والوں نے اسکا ترجمہ chastity عصمت یا عفت کیا ہے. میں نے تو کئی لغات دیکھی مگر کسی نے بھی اسکا ترجمہ chastity نہیں لکھا اور نہ ہی میں نے اسکا ترجمہ کبھی secrets (راز کی باتیں) دیکھا ہے.

میں نے دو مستند لغات میں اسکا معنی یہ دیکھا.
ف*ج عنہ (فعل) solace/relieve /comfort /drive away worries /dispel sorrows. کسی کی پریشانی دور کرنا. Lane لکھتا ہے -- ف*ج اللَّهُ عنکٔ. May God remove your sorrow. خدا تمہارے غموں یا پریشانیوں کو دور فرمائے.
تو لفروجھمہ ہو گا. ان کی پریشانی دور کرنے کے لئے --آگے چلیں.
حافظون لفظ حفظ سے ہے اسکے معنی protect /safeguard کے ہوتے ہیں بلکہ اسکو uphold برقرار رکھنا secure مامون کرنا اور vindicate ثابت کرنا بھی ہیں تو پوری آیت کا ترجمہ ہوا
Those are the ones who take care /uphold /secure /for driving away their worries.
یہ وہ لوگ ہیں جو انکی پریشانی دور کرنے کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں.

اب آیت 6 پر آتے ہیں.
إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (المؤمنون: 6).

غور سے دیکھیں اس آیت کی ابتدا ہورہی ہے الاعلی سے اور یہ صرف الا نہیں ہے..
لفظ الا کا ترجمہ except سواۓ ہوتا ہے مگر لفظ الا علی کا ترجمہ سواۓ ہوتا ہی نہیں

الاعلی کو but only /specially /exceptionally صرف و صرف ، خاص طور پر، ان کے علاوہ یا غیر معمولی طور پر لکھیں گے. قرآن میں یہ ایک منفرد pattern ہےجو کہ بہت سی آیات میں آیا ہے مثلاً
۵۱/11 /11/29,11/6, , ۲/143, 8/۷۲ 2/45, , 109-127-145/ 26 وغیرہ میں صرف ایک دو آیات لکھتا ہوں.

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِي إِلاَّ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ (الشعراء: 109).
I do not ask you for any reward. My reward is exceptionally with the sustainer of worlds.
میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگ رہا ہوں میرا معاوضہ تو صرف و صرف ان جہانوں کے رب کی جانب سے ہے.

وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (هود: 6).
There is no living creature on earth but only its sustenance depends on Allah.
زمین پر کوئی جاندار نہیں جن کی ضروریات زیست کی ذمہ داری صرف و صرف اللہ نے نہ کی ہو.

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ (البقرة: 45).
Seek help in steadfast patience and close following. This is indeed a great effort specially for those who are humbly committed.
حوصلے اور مستقل جڑے رہنے میں تمہاری مدد کا سامان ہے یہ بڑی عظیم کوشش ہے خاص کر ان کے لئے جو عاجزانہ طور پر پُرعزم ہوتے ہیں.

جی ہاں یہ چند آیتیں دیکھ لیں کہ ان میں صرف الا نہیں ہے الا علی ہے، جس کا ترجمہ میں نے اوپر کیا اسی طرح کے اور بھی pattern ہیں.
الاعلیھا-6/164
علینا الا-36/17
علیکٔ الا-42/48
ان patterns کو بھی ایک مخصوص طرح ترجمہ کرنا ہوگا

ازاجھمہ-انکے ساتھی people joined to them/ their mates
وہ لوگ جو انکے ہمعصر ہیں انکے ہم نشین ہیں ان سے جڑے ہوۓ ہیں

اوما ملکت ایمانھمہ - جن کے وہ مالک قرار پائے کسی معاہدے کے تحت غور سے دیکھیں یہاں ھمہ کا ترجمہ میں نے غائب انداز سے کیا --وہ سب

فانھمہ=ف+انّ+ھمہ
ف= پھر، تو پس--- انّ= بے شک،
ھمہ =پھر ایک غائب مذکر کی ضمیر ہے جس کو ترجمہ کرتے وقت سب نے اسکا رخ مومنین کی طرف موڑ دیا کیونکہ یہ آیت شروع قد افلح المومنین سے شروع ہوتی

اسکے بعد لفظ ہے غیر ملومین. آئیں پہلے اسکا روایتی ترجمہ دیکھتے ہیں
تو ایسے لوگوں پر کوئی ملامت نہیں (ڈاکٹر اسرار)
تو ان لوگوں پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا(شوکت سلیم)
For them they are free from all blame (Asad)

دراصل سب کے ذہنوں میں ایک ہی بات تھی کہ مومنین اپنی عصمتوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی وہ اپنی s*xual desires پر قابو رکھتے ہیں مگر صرف اپنی بیویوں کے ساتھ یا اپنی لونڈیوں کے ساتھ انکو جنسی تعلق قائم کرنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں اور اس کے لئے انہیں مورد الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا ہے-- میں یہاں ایک باریک نقطہ آپکے سامنے لانا چاہتا ہوں. یہ سورۃ شروع ہوتی ہے قد افلح المومنون سے کہ تمام مومن فلاح پاگۓ. لفظ مومن مذکر کا صیغہ ہے اور قرآن جب بھی خطاب مذکر کے صیغے میں کرتا ہے تو اس میں مونث ضرور شامل ہوتی ہیں. یعنی مومن مرد اور مومن عورتیں دونوں دونوں فلاح پاگۓ. اگر ہم اس بات کو مد نظر رکھیں تو آیت 6 میں تو صرف مردوں کو حکم ہورہا ہے کہ وہ صرف اپنی بیویوں کے ساتھ اور اپنی لونڈیوں کے ساتھ ج**ع کر سکتے ہیں اور یہ کرنے سے ان پر کوئی الزام نہیں ہو گا. یہ حکم تو مردوں کے لئے ہوگیا مگر مومنوں میں چونکہ عورتیں بھی شامل ہیں تو عورتوں کے لئے یہ حکم ہو گا کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ اور اپنے غلاموں کے ساتھ ج**ع کر سکتی ہیں اور ایسا کرنے سے ان پر کوئی الزام نہیں ہوگا.

ارے بھئی ڈاکٹر صاحب آپنے یہ کیا بول دیا قیامت آجائے گی- یہ کیا کر رہے ہیں عورت کو غلام سے s*xual relationship کروارہے ہیں یہ تو بہت گھٹیا بات ہے.
ہاں یہ بات گھٹیا نہیں کہ مرد بیوی اور لونڈی کے ساتھ s*xual relationship کرے اور ایسا کرنے پر اسے کوئی الزام بھی نہیں دینا ہے.

چونکہ اس کتاب کا ترجمہ کرنے والے صرف مرد تھے تو انھوں نے عورتوں کو جو کہ دنیا کی %50 آبادی ہے اسکو exclude کر دیا اور اپنے فعل کو الزام سے بچا لیا اور لونڈیوں سے s*x کا جواز نکال لیا- اگر میں لفظ لونڈی ہی رکھوں اور اسے غلام نہ بناؤں تو مومنین میں شامل عورتیں صرف اپنے ازواج (شوہر) یا لونڈی سے. S*x کر سکتی ہے یعنی ایک عورت کو عورت سے s*x کرنے پر کوئی الزام نہیں ہونا چاہیے- تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ قد افلح المومنون کا ترجمہ بدل دیتے ہیں کہ صرف مومن مرد ہی فلاح پاگۓ اور اسمیں عورتوں کی فلاح کی کوئی بات ہی نہیں ہورہی ہے- امید ہے آپ میری بات سمجھ گئے ہوں گے.

مگر ہماری یہ سیدھی سادھی عورتیں آواز بھی نہیں اٹھاتی ہیں، کہ اللہ مردوں کی خواہشات کا کتنا خیال رکھتا ہےاور عورتوں کوتو بلکل ہی بھلا دیا- اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام عورتیں ایسے ترجموں سے مطمئن بھی ہیں انکا خون جوش ہی نہیں کھاتا ہے اوراگر کسی کی آواز بھی اٹھتی ہے تو تمام مرد مل کر ایسی عورت کو ایسا دبوچ لیتے ہیں کہ اس کی آواز ہی بند ہو جاتی ہے. چلیں بات طویل ہو جاۓگی آیت پر آتے ہیں.

غیر کے بہت سے معنی ہیں اور سب سےعام فھم ہے other than اور یہ ہمیں سورۃ الفاتحہ میں صاف نظر آتا ہے
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ (الفاتحة: 7).
Other than those who are not the object of anger or have been astray.
نہ کہ وہ جو زیر عتاب ہوتے ہیں یا راستہ کھو بیٹھے ہوئے ہیں.

غیر کوexplainکرنے کے لئے in, un, dis, non انگریزی میں لگائیں تو ترجمہ نکھر آتا ہے.
1/7 غیر المغوب - unhappy ناخوش
10/23 غیر الحق - un truth جو سچ نہ ہو یعنی جھوٹ
5/3بغیر اللہ - unholy نامقدس
39/25 غیر ذی عوج- Un twisted ٹیڑھا نہ ہونا
11/109 غیر منقوص - inadequate ناکافی
6/144 بغیر علم - unknowingly انجانے میں
10 /39 بغیر حساب-uncalculated گنتی نہ کیا ہوا
اسکی میں ڈھیروں مثالیں دے سکتا ہوں

یہاں لفظ ہے غیر ملومین.
ملومین مادہ لوم = لوم کہتے ہیں blame worthy قابل الزام blameful قابل قصور answerable قابل جواب کو.
حاصل یہ ہوا کہ یہاں فانھمہ میں ھمہ کی ضمیر ازوجمھہ اور ماملکت ایمانھمہ پر جاۓ گی یعنی وہ لوگ جو تمہارے ماتحت یا ساتھی ہیں اور پھر ترجمہ ہو گا.
Indeed, those were unblamed worthy.
اسکے لئے وہ واقعی بے قصور تھے.
اگر میں اسکوun deserving غیر مستحق کہوں تو زیادہ بہتر لگے گا.

یہاں یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ جو تمہارے ساتھی (مردو عورت) یا ماتحت (مرد و عورت) کو اگر کوئی پریشانی آتی ہے جس میں انکا کوئی قصور نہیں ہوتا تو مومن (مرد و عورت) انکی پریشانی کا ازالہ کرتے ہیں انہیں اور ایسے کام کی وہ حفاظت کرتے ہیں (لفروجھمہ حافظون) یعنی اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں.

دیکھا آپ نے کتنا بڑا سبق ہے اس آیت میں کہ پریشانی ضروری نہیں ہے کہ کسی کے قصور کا نتیجہ ہو. میں مثال دیتا ہوں کہ ایک شخص اپکا ماتحت ہے اور اسکی ماں بیمار ہو جاتی ہے جس کے علاج کے لئے پیسہ درکار ہے جو اسکے پاس نہیں ہیں- اس میں آپ کے ماتحت کا کیا قصور ہے کہ اسکی ماں ایک موذی بیماری میں مبتلا ہوگی جس کا علاج کرنے کے وہ قابل ہی نہیں ہے- ایک مومن employer (مرد و عورت) جسکے ماتحت وہ کام کرتا ہے اسکی ایک صفت ہے. کہ وہ اسکی مدد کرتا ہے یا یوں کہ لیں ایسے مومن کو ترغیب دی جا رہی ہےکہ وہ اپنے ماتحت کی پریشانیوں کو دور کرنے والا بنے- ایسے کام کی حفاظت کرے اور یقیناً ایسا کرنے سے وہ فلاح پاجاۓ گا
اس طرح کے scenario ہم روز دیکھتے ہیں کہ مومن (مرد و عورت) کے ماتحت بھی مرد یا عورت دونوں ہو سکتے ہیں اور ہم عام دنیا میں اسی طرح انکے کام آنے کی پوری کوشش کرتے ہیں. مگر قربان جاؤں ہمارے علماء پر جن کے ذھنوں میں جنسی لذت کوٹ کوٹ بھری ہوتی ہے.

انھوں نے اس آیت سے مردوں کے لئے ایک جواز کے تحت جنسی لذت قائم کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا اور اپنے آپ کو الزام سے بھی پچا لیا کہ وہ یوں ہی تھوڑی منہ مار رہے ہیں یہ اللہ کا حکم ہے کہ 4 بیویوں اور لا تعداد لونڈیوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناؤں اور اس پر اللہ کی سند بھی حاصل کرلو- یہ ہی ہوا اسلام کے ساتھ بنو عباس کے دور میں جو آج تک ہمارے معا شرے میں اگرچہ ہوتا تو نہیں مگر ہم مرد وں کا ایسے کام کرنے کے لئے رال ضرور ٹپکتی ہے.
اب میں ان دونوں ترجمہ کرتا ہوں.
یہ ہی وہ لوگ ہیں ان کی پریشانی دور کرنے کے محافظ ہیں.
خاص کروہ جو انکے فکری ساتھی ہوں یا جو انکے ماتحت ہوں جسمیں انکا (ماتحت کا) کوئی قصور نہیں ہے.
Those are the ones who uphold to dispel sorrows
Specially those who are their companion or those who they possess through oath for which they were undeserving.

بہت طویل ہوگیا ان دو آیتوں کا ترجمہ اب میں اس سلسلے کی تیسری آیت کو پیش کرتا ہوں جہاں ازواجھمہ کی ضمیر ہے..

وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ (النحل: 71).
اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے تو نہیں ہے وہ لوگ جنہیں رزق میں فضیلت دی گئ ہےلوٹانے والے اپنا رزق اپنے غلاموں کو کہ وہ ہو جائیں ان میں برابر. تو کیا یہ لوگ اللَّهَ کی نعمت کا انکار کر رہے ہیں (ڈاکٹر اسرار).

دیکھا آپ نے ڈاکٹر صاحب نے یہاں ما ملکت ایمانھمہ کو فوراً غلام (مذکر) بنادیا جبکہ ڈاکٹر صاحب نے اسی لفظ کو 23/6 میں لونڈیاں لکھا تھا یہ کبھی اسے مذکر کبھی مونث ترجمہ کرتے ہیں- جبکہ عربی متن میں کوئی تبدیلی نہیں ہے یہ ہے ہمارے علماء کی سمجھ کہ جب چاہیں غلام جب چاہیں لونڈی نکال لیں قرآن سے.- یہ کام اس لئے ہورہا ہے کہ انھوں نے دیگرکتابوں میں اسی قسم کی باتیں پڑھ رکھی ہیں تو وہ ان روایتوں کو سچ ثابت کرنے کے لئے اللہ کی آیتوں میں ہیر پھیر کرتے رہتے ہیں کہ کہیں روایتیں جھوٹی نہ ہو جائیں (خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں)- اور ایسا کرتے ہوئے وہ اللہ سے بلکل بھی نہیں ڈرتے -اور دو دو گھنٹے کے lecture ہمیں اللہ کے خوف پر دیتے نظر آتے ہیں- اللہ ان کی خطاؤں کو معاف کرے- میں جانتا ہوں کہ انکے مقاصد بہت نیک تھے- بس اسے میں انکی علمی غلطی سمجھ کر آگے بڑھ جا تا ہوں اور انکی نیتوں پر بلکل شک نہیں کرتا ہوں اورایسا کرنے کا مجھے کوئی حق بھی نہیں ہے.- اب میں اسکا ترجمہ کرتا ہوں اور بلکل تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ میں یہ پہلے ہی بہت کر چکا ہوں.

Allah has provided some of you with more abundant means of sustenance than others, so those who are abundantly provided are often unwilling to share them with those whom they possess through an oath so that all might be equal in their respect, will they continue to make heaps of Allah blessing.
اللہ نے تم میں سے کچھ کو سامان رزق میں برتری دی ہے. دوسروں سے چنانچہ وہ جو فراوانی رزق میں ہیں ایسا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس رزق کو اپنے قانونی ماتحتوں پر خرچ کریں تا کہ وہ بھی اس سے برابری کا استفادہ حاصل کر سکیں کیا وہ اللہ کی نعمتوں کے ڈھیر لگائیں گے.

یہاں تک ما ملکت کی تین آیات ختم ہوتی ہیں میں آپ سب سے درخواست کروں گا کہ سورۃ مومنون کو غور سے پڑھیں کہ جہاں اللہ مومنون کی کچھ خصوصیات بیان کر رہے ہیں کہ جواپنے اردگردکے لوگوں کی فلاح اور بہبود کی طرف ہی گامزن رہے ہیں یہ موضوع سورۃ الذاريات میں حق معلوم کے ساتھ آتا ہے.
اور یہ ہی سورۃالمامون یدع یتیمہ کے بعد آتا ہے.

اللہ نے جب کھلے الفاظوں میں ہمیں وَلاَ تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلاً (الإسراء:32
کو لکھ دیا جو امر یعنی حکم command کے صیغے میں ہے. تو باربار عصمت کی حفاظت کی تاکید کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے- یہ تو ایسا ہی کوئی فوج کا کمانڈر اپنے سپاہیوں کو ایک سخت مرحلے میں داخل ہونے کا حکم دے اور ساتھ ساتھ اس مرحلے میں داخل ہونے کی نصیحتیں بھی کرے.- کمانڈر کا حکم ,حکم ہوتا ہے اسے نصیحت کی ضرورت نہیں ہوتی اور کسی سپاہی کی مجال نہیں ہوتی کہ اس حکم کی حکم عدولی کرے.- جب اللہ نے دونوں جنسوں کو غیر قانونی جنسی تعلقات سے مکمل منع فرما دیا ہے تو ہم سب پر یہ فرض کی حیثیت کا کام کرتا ہے پھر باربار درخواست کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی. اصل بات جو میرے فھم میں ہے. کہ ان روایتی ترجموں سے آپکی جیب پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے اور جو ترجمہ میں نے کیا ہے جو کہ اللہ نے لکھا ہے اس سے آپکےbank balance میں debit زیادہ اور credit کم ہوتا جا تا ہے اسی وجہ سے لوگوں نے اس ترجمے کا رُخ خرچ سے ہٹا کر جنسی لذت کی طرف موڑ دیا.

اب سلسلے کو آگے بڑھاتے اور آٹھ ( 8)ما ملکت ایمانکم والی آیتیں کرتے ہیں. جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ یہاں ضمیر کم کی استعمال ہوتی ہے تمہاری ملکیت یا تم سب کی ملکیت.

ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلاً مِنْ أَنْفُسِكُمْ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآياتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (الروم: 28).
سب سے پہلے مودودی صاحب اور پھر جناب شوکت صاحب کا ترجمہ لکھوں گا تا کہ آپکو سمجھ آسکے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ان ترجموں کو پڑھ کر اگر آپکی سمجھ میں بات آجائے تو مجھے ضرور مطلع کیجئے گا کیونکہ میں انکی بات کو سمجھ ہی نہیں سکا ہوں. پھر آخر میں اپنا ترجمہ کروں گا.
وہ تمہاری اپنی ذات سے ایک مثال دیتا ہے. کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیۓ ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں ہمسروں سے ڈرتے ہو. اس طرح ہم آیات کھول کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں. (مودودی).

سب سے پہلے یہ صاحب مالکت ایمانکم کو اب لونڈیاں نہیں بنا رہے ہیں- کسی جنسی تعلق سے بات ہوتی ہےتو یہ لونڈی لے آتے ہیں جہاں مال و دولت کی بات ہوتی ہے یہ غلام (مرد) لے آتے ہیں اور ایک ہی لفظ سے مختلف معنی اخذ کر رہے ہوتے ہیں.- تم اپنے غلاموں سے ڈرتے ہو جس طرح اپنے ہمسروں سے یہ کیا جملہ ہے.- بھلا کوئی اپنے غلام سے بھی ڈرتا ہے کوئی ایک واقعہ تو بتائیں کہ عرب کا کوئی رئیس سردار اپنے غلام سے اس طرح ڈرتا ہو جسطرح اپنے ہمسروں سے.- کیا ابو جھل بلال سے ڈرتا تھا جیسا کہ وہ عتبہ سے ڈرتا تھا .- نہ جا نےاس کے بعد اللہ کیا کھول کھول کر ہمیں بیان کررہے ہیں کہ ہم اس کھلے بیان کو سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں

تمہارے لئے تمہاری اپنی کیفیت کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے کہ تم اپنے زیردستوں کو اس طرح ہمارے دیۓہوۓ رزق (وسائل) میں شریک وشامل رکھتے ہو کہ وہ بھی اس میں تمہارے برابر حیثیت کے حامل ہوں اور تم ان سے اسی طرح گھبراتے رہتے ہو جس طرح وہ تم سے خوف زدہ رہتے ہیں ہم نے اپنی باتوں اور اصولوں کو عقل سے کام لینے والوں کے لئے واضح کر رکھا ہے(شوکت سلیم)
تم ان سے گھبراتے رہتے ہو جس طرح وہ تم سے خوف زدہ رہتے ہیں. یقین جانیں اس ترجمے کے لئے عربی متن میں الفاظ ہی نہیں ہیں. بھلا میں اپنے ملازموں سے کیوں گھبراؤں گا ان کا خوف زدہ رہنا تو سمجھ آتا ہے کہ میں جب چاہوں انکو نوکری سے نکا ل دوں انکی تنخواہ کاٹ لوں میں ان سے کیوں گھبراؤں گا- یہ ہیں باتیں تو مجھے سمجھ نہیں آتی ہیں.

چلیں میں اس آیت کا ترجمہ کرتا ہوں.
Allah gives you a counter example for you from your own selves. Do you expect among what your right hand possessed any partners in what we provided you of sustenance and thus (you proclaim that) you are in equal in it (sustenance) and you consider them like you consider about yourself? This is how Allah explain his principle for the people who reason.
اللہ تمہیں تمہارے اپنے معاملات میں سے ایک مثال پیش کرتے ہیں. کیا تم تسلیم کرتے ہو جو تمہارے ماتحت ہیں اور جو تمہارے شریک ہیں وہ اور تم رزق کے معاملے میں برابر ہو کیا؟- کیا تم انکے بارے میں وہی اندیشے رکھتے ہوں جو تم اپنے بارے میں رکھتے ہو. اس طرح اللہ تمہیں کھول کر اپنے اصول بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو استدلال سے کام لیتے ہیں.
سمجھ آئی اگر نہیں تو میں ایک مثال دیتا ہوں. اپکا کاروبار ہے اور آپ بیمار ہو جاتےہیں اور چھ دن کام پر نہیں آتے -مگر آپکے ملازم تند ہی سے آپکی عدم موجودگی اپکا کاروبار چلاتے رہتے ہیں اب اگر آپکا ملازم بیمار ہوجائے تو اسکے علاج کا خرچ کو درکنار آپ اسکی چھ دن کی تنخواہ ہی کاٹ لیتے ہیں، کہ وہ چھ دن غیر حاضر رہا.- یہ ہیں وہ اندیشے جو آپ اپنے بارے میں رکھتے ہیں مگر ماتحتوں کو اسمیں شامل نہیں کرتے.- یہ ہیں اللہ کے وہ اصول جو ہمیں ہمارے ماتحتوں میں برابری کا درس دے رہے ہیں مگر نہ جانے کیا کیا لکھا، کہ تم ان سے ڈرتے ہو تم ان سے گھبراتےہو- بھلا میں اپنے ملازم سے کیوں ڈروں گا. یا گھبراؤں گا میں تو انہیں ڈرا کر رکھتا ہوں - امید ہے اپکو میری بات سمجھ آگئی ہوگی.

اب جو آیتیں آنے والی ہیں میں اسکا روایتی ترجمہ نہیں لکھوں گا اور صرف اپنے فھم کے مطابق اسکا ترجمہ آپکے سامنے رکھوں گا. اگر کسی کو میری بات پر اعتراض ہو تو وہ علمی طور پر میرے ساتھ ان الفاظوں اور جملوں پر گفتگو کر سکتا ہے.

ان ترجموں کا جو میں اب ترجمہ کرنے جا رہا ہوں اگر آپ غور سے پڑھیں گے تو اپکو احادیث کے تمام ذخیروں سے دست بردار ہونا پڑے گا اور ایسا کرنے کو کچھ لوگ کفر جانتے اور مانتے ہیں- ان کے پاس ان غلط ترجموں کا جواب صرف و صرف حدیث کی کتابوں سے ہی ملتا ہے- کیا ستم ظریفی ہے کہ ہمارے علماء ان احادیث کا دفاع کرتے ہیں اور قرآن کے ترجموں کو احادیث کے مفہوم کے مطابق موڑ دیتے ہیں- اور کچھ لوگ اجکل کی دنیا میں social mediaپر ہم پر ہنستے ہیں- مگر کیا کریں کہ ایسا کرنے کا مواڈ ہم ہی نے انہیں فراہم کیا ہے- ان میں جرات ہی نہیں کہ وہ اس لٹریچر کا انکار کر سکیں جس سے کچھ لوگ مواد نکال نکال کر ہم پر کیچر اچھالتے ہیں- میں نے ان میں سے کسی سے بات کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے جید علماء سے کہو کہ وہ آپکے ترجمہ کی تصدیق کر دیں اور تمام حدیثوں کا انکار کر دیں تو ہم اپکا ترجمہ قبول کرنے کو تیار ہیں- مگر کیا ایسا ہوسکتا ہے- بلکل نہیں ہمارے رسول اور انکے صحابہ کا اسی طرح مذاق بنتا رہے گا.- ہم خاموش بیٹھے رہیں گے- ہمارے علماء کو شاید معلوم ہی نہیں ہے اور اگر معلوم بھی ہو تو انہیں اسکی پرواہ ہی نہیں ہے, کہ کس طرح ہماری نوجوان نسل ان ملحدوں کے اعتراضات کو سنتی ہے- جس کا جواب ہمارے علماء کے پاس ہے ہی نہیں اور کس تیزی سےہماری نوجوان نسل اسلام سے باہر آرہی ہے- ایک صاحب نے سورۃ عقل لکھ ڈالی جس میں انھوں نےفی الدین اللہ افواجاً کو فی الدین اللہ اخراجاً لکھ ڈالا. مگر کسی کے پاس ان لوگوں سے بحث کرنے کے لئے عقلی دلائل نہیں ہیں, کہ تمام احادیث عقلی دلائل سے ماروا ہیں اور ہم نے کبھی بھی ان حدیثوں کو چھوڑنا ہی نہیں ہے..

اب ہم آیت 4/3 کو لیتے ہیں جس سے سب نےچار شادیوں کا جواز یا لونڈیوں سے شادی کا جواز نکال لیا ہے..
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُوا (النساء: 3).
پوری آیت میں کہیں بھی نوجوان عورتوں کی بات ہی نہیں ہوئی ہے اور لفظ نساء جو کمزور طبقے کے لئے تھا اسکو سب نے خواتین بلکہ نوجوان خواتین بنا لیا ہے- کوئی بھی عمر رسیدہ یا بیوہ خاتون سے نکاح کرنے کو ترجیح ہی نہیں دیتا ہے اور مسلمان آج تک اس polygamy کا جواز دیتے دیتے تھک گئے ہیں- دنیا کے کسی بھی مہذب مغربی معاشرے میں ایک سے ذیادہ شادی ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے-اور پھر بھی وہاں ہر ایک کی ضرورت پوری ہوتی ہے اور خواتین کو بے سہارا نہیں چھوڑا جاتا ,کہ وہ state کی ذمہ داری ہوتی ہے -ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جاتا ہے جس کا میں Australia میں رہتے ہوئے عینی شاہد ہوں- مگر میرے وطن عزیز ،ایک مسلمان ملک میں ایک سے زیادہ بیوی کا رواج عام ہے اور ہر عورت جس کے شوہر نے دوسری شادی کی ہوئی ہوتی ہے، وہ اپنے شوہر کی غیر منصفانہ رویے کی شکایت ہی کرتی رہتی ہے -جسکو میں نے خود محسوس کیا جب میں پاکستان میں practice کرتا تھا- دراصل یہ اللہ کا طریقہ تھا ہی نہیں اور ہم نے اس آیت کو بھی اپنی جنسی لذت حاصل کرنے کا جواز بنایا ہوا ہے جو ہمیں اپنے معاشرے میں عام نظر آتا ہے اور اسکی بہت داستانیں میں نے اپنے ان دوستوں سے سن رکھی ہیں جو عرب ممالک میں بحیثیت ڈاکٹر کام کرتے ہیں- اور جو میرے دوست اور class fellows ہیں. جیسا کہ میں پہلے کہ چکا ہوں میں اب روایتی ترجمہ نہیں لکھوں گا اور direct اپنا فھم آپکے سامنے رکھوں گا.
And if you have a reason that you may not actually be doing Justice towards orphans then sponsor, whatever they feel suitable among you from their weaker segment in terms of double, triple or quadruple. And if you have reason, that you may not actually be doing justice to all them sponsor only one and that you should possess through an oath. This way it is more likely that you will not overburden yourself.
اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچوں کے معاملے میں انصاف نہ کر پاؤ تو معاشرے کے اس کمزور طبقے میں سے جو تمہیں موزوں سمجھیں دودو تین تین چار چار کو اپنی سرپرستی (کفالت تحویل) میں لے لو. اس صورت میں بھی تمہیں اندیشہ ہو پھر ایک ہی کو اپنی سرپرستی میں لو جو ایک معاہدہ کے تحت تمہاری تحویل میں آئیں. اس طرح تم ایک بڑے بو جھ کو اٹھانے سے بچ جاؤں گے.
یہاں جو سب سے اہم نکتہ ہے وہ دو الفاظ ہیں. پہلا انکحو, جس کے معنی ہیں تم سر پرستی میں لے لو اس میں انتمہ کی ضمیرچھپی ہوئی ہے - دوسرا لفظ ماطاب لکم ہے. میرےفھم کے مطابق طاب کا فائل اسمیں “ھو” چھپا ہوا ہے جو یتیم بچوں کی طرف جاۓ یعنی وہ یتیم بچے جس کو تمہارےمیں سے suitable پائیں- دیکھیں کسی بھی contract میں سامنے والی پارٹی کی اجازت یا رضامندی ضروری ہوتی ہے اور اسی لئے نکاح بھی ایک contract ہے کہ اس میں ایجاب و قبول دونوں ہوتے ہیں- بغیر ایجاب کے قبول تو ایک زبردستی ہوتی ہے اور ہم نے اس کو اسی طرح ترجمہ کیا کہ تم جسے چاہے اسے نکاح (custody) میں لو اور سامنے والے کی رضامندی کا بلکل احترام نہیں کیا- اس لئے یہ ان یتیم بچوں پر چھوڑا کہ وہ بھی اپنی رضامندی سے تمہیں قبول کریں.
خدا کی قسم اس آیت پر ہو بہو عمل یہاں Australia میں میں نے ہوتے دیکھا ہے اب Australia میں یتیم خانے orphanage canter’s نہیں ہیں- اور department of social welfare ایسے بچوں کو جو معاشرے میں بے سہارا ہوتے ہیں ان کو معاشرے کے ایک خاص طبقے کے گھروں میں منتقل کر دیتا ہے- جو انکے foster parents بن کر ان کی پرورش کرتے ہیں. میری ایک مریضہ نے خود تین بہن بھائیوں کو اپنی سرپرستی میں لیا ہوا ہے- اور خود مجھے اس ادارے کی طرف سے اس کام کی offer ہوئی ہے- یہاں بہت بڑی کاغذی کاروائی ہے. Foster parents کی میں خود ایسا کرنے والوں کی mental health کی تصدیق کرتا ہوں- تب جا کر میری تصدیق پر یہ لوگ بچوں کی کفالت کی پوری پوری نگرانی کرتےہیں- اور ہر دوسال بعد ان کا یہ معاہدہ renew کیا جاتا ہے شکایت کی صورت میں بچے ان سے واپس لے لئے جاتے ہیں اور کسی اور کو دے دیئے جاتے ہیں.
میں حیران ہوں اور سلام پیش کرتا ہوں اس انگریز قوم کو جو Australia کے باسی ہیں کہ کس طرح انھوں نے یتیم بچوں کی کفالت کا ایک پورا سسٹم system بنایا ہوا ہے. میں پوچھتا ہوں اس قوم کو یہ عقل کے ناخن کس نے دیئے- مگر افسوس کہ ہماری کتاب میں جو اصول لکھا تھا اسے ہم نے رد کردیا اور اسےاپنی جنسی لذت کا حصول بنا لیا - اور دیگر قوموں نے اس اصول کو لے کر ایک فلاحی معاشرہ تعمیر کر لیا- اسی لئے میں اپنی باتوں میں کہتا ہوں کہ Australiansکو قرآن پڑھنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے- کہ یہاں کے٪95 اصول خالص قرانی ہیں- یہ ذکر(remainder) تو ان قوموں کے لیے ہے جو ابھی تک ان اصولوں کو نہیں اپناۓ ہوۓ ہیں- مگر ہر گزایسا نہ ہوا- عمل کی یہ کتاب تھی مگر ہم نے اس کو جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنے سے جنت میں داخل کرنے والی کتاب بنا دیا. مگر عقل کے ان اندھوں کو کون سمجھائے-
میرا مضمون بہت طویل ہو گیا اس لئےاسے یہاں ختم کرتا ہوں اور باقی آئندہ دوسرے حصے کی شکل میں لکھوں گا -اب تک میں نے جو کچھ لکھا وہ میرا فھم ہے - میں نے اسپر بہت تحقیق کی ہے اور غلطی کا امکان ہروقت موجود رہتا ہے- اگر کوئی میری بات سے اختلاف کرے یا میری بات میں کمی یا اضافہ کرنا چاہے وہ یہ ضرور کرسکتا ہے- میں ایسے لوگوں کا انتہائی مشکور ہوں گا- اپنی اصلاح کرنے میں مجھے کوئی مضائقہ نہیں ہو گا ,بشرطیکہ وہ میرا دوست یا میرا استاد بن کر یہ کام کرے. اپنا بہت خیال رکھیے گا
وسلام!

Address

Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when What Quran Says? قرآن کیا کہتا ہے posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share