Gulshan-e-Aulia

Gulshan-e-Aulia Khanqah-e-Alia Qadria Mujaddidia Abadania Fareedia Mubarkia Azeemia Hassania Hussainia

عاشقان اؤلیاء سے شرکت کی درخواست ہے
27/02/2026

عاشقان اؤلیاء سے شرکت کی درخواست ہے

17/02/2026
اللہ کریم ہمیں صحیح سمجھ عطاء فرمائے۔ آمین
06/02/2026

اللہ کریم ہمیں صحیح سمجھ عطاء فرمائے۔ آمین

تمام عاشقان اؤلیاء سے شرکت کی درخواست ہے۔
27/01/2026

تمام عاشقان اؤلیاء سے شرکت کی درخواست ہے۔

قلبی بصیرت و‏قیامت کی ٹیکنالوجیسائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے. کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں...
16/01/2026

قلبی بصیرت و

‏قیامت کی ٹیکنالوجی
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے.



کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟

بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔

ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں

یعنی دماغ کے سیلز

سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔

اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو

قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا

"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"

(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)

(القرآن، الاعراف: 179)

ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے

آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے

جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔

یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں

اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔

اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔

اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔

اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟

یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟

انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔

حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔

اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔

نا جی

غلط! سراسر غلط!

میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا

آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا

رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے

"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"

(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)

(صحیح بخاری: 1)

ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا

لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔

عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔

نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔

ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔

جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔

اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔

ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔

خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں

قرآن کہتا ہے:

"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"

(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)

(القرآن، ق: 50:18)

اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:

"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"

(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)

(القرآن، الجاثیہ: 45:29)

یہ نَستنسِخ کا لفظ بہت اہم ہے۔

اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟ ‏قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا

"فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"

(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)

(القرآن، الزلزال)

یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔

کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔

آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟

وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔

یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا

اگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں

وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔

یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟

وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہے

یہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر لعنت بھیجتا ہوں

ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟

رٹہ سسٹم

ڈارون کا بندر

انگریز کی تاریخ

ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟

ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟

کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا

صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں

"یا ساریہ الجبل"

(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)

اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔

یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے

میرے مسلمان ساتھیو

آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے، وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔

ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔

اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔

اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔

قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔

اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے
منقول

فہم اور الہام وفرقان

غور فرمائیں ندا یا محمدﷺ پر تنقید کرنے والے ۔۔۔۔۔ !ہمارے آقا ﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ عیسیٰؑ میری قبر پر آئ...
02/01/2026

غور فرمائیں ندا یا محمدﷺ پر تنقید کرنے والے ۔۔۔۔۔ !
ہمارے آقا ﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ عیسیٰؑ میری قبر پر آئینگے اور کہیں گے یا محمد ﷺ اور میں جواب دونگا، وہ سلام کریں گے اور میں جواب دونگا۔ سبحان اللہ۔

تمام عاشقان اؤلیاء سے شرکت کی درخواست ہے
02/01/2026

تمام عاشقان اؤلیاء سے شرکت کی درخواست ہے

اولیاء سے ڈائریکٹ بلا واسطہ مدد مانگنا کیسا؟دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)سوال    کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع...
30/12/2025

اولیاء سے ڈائریکٹ بلا واسطہ مدد مانگنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلےکے بارے میں کہ اولیاء اللہ رحمہم اللہ کے مزارات پرجاکربعض لوگ انہیں ڈائریکٹ مخاطب کرکے اپنی حاجات بیان کرتے ہیں اوران سے مددمانگتے ہیں ۔ مثلاً یاولی اللہ ! میں فلاں بیماری میں مبتلاہوں ، مجھے شفاعطاکردیں ،یاداتاصاحب ! مجھے بیٹاعطاکردیں ۔ کیا شریعت مطہرہ میں ا س امرکی اجازت ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جی ہاں ! شریعت مطہرہ کی روشنی میں اللہ عزوجل کے اولیاء کو ڈائریکٹ مخاطب کرکے اپنی حاجت بیان کرنا اوران سے مدد مانگنا جائزہے۔ اللہ عزوجل کے نیک بندوں سے مدد مانگنے کے جوازپرقرآن واحادیث شاہد ہیں ۔

اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے: اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوۡنَ

یعنی: اے مسلمانو! تمہار ا مددگار نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور وہ ایمان والے جو نماز قائم رکھتے اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ رکوع کرنے والے ہیں

(سورۃ المائدۃ،آیت 55)

علامہ احمد بن محمد الصاوی علیہ الرحمۃ (متوفی 1241ھ) تفسیر صاوی میں آیت وَلا تَدْعُ مَعَ اللَّہِ اِلہاً آخَرَکے تحت لکھتے ہیں:

المراد بالدعاء العبادۃ وحینئذ فلیس فی الآیۃ دلیل علی ما زعمہ الخوارج من ان الطلب من الغیر حیا او میتا شرک فانہ جھل مرکب لان سوال الغیر من حیث اجراء اللہ النفع او الضرر علی یدہ قد یکون واجبا لانہ من التمسک بالاسباب ولا ینکر الاسباب الا جحود او جھول

ترجمہ: آیت میں پکارنے سے مراد عبادت کرنا ہے، لہٰذا اس آیت میں ان خارجیوں کی دلیل نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ غیر خدا سے خواہ زندہ ہو یا فوت شدہ کچھ مانگنا شرک ہے ،خارجیوں کی یہ بکواس جہل مرکب ہے ،کیونکہ غیر خدا سے مانگنا اس طرح کہ رب ان کے ذریعے سے نفع و نقصان دے، کبھی واجب بھی ہوتا ہے کہ یہ طلب اسباب ہے اور اسباب کا انکا ر نہ کرے گا مگر منکر یا جاہل ۔

(تفسیر صاوی،جلد4،صفحہ1550،مطبوعہ لاھور)

صحیح مسلم شریف وسنن ابی داود وسنن ابن ماجہ میں سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے:” كنت أبيت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتيته بوضوئه وحاجته فقال لي: «سل» فقلت: أسألك مرافقتك في الجنة. قال: «أو غير ذلك» قلت: هو ذاك. قال: «فأعني على نفسك بكثرة السجود“میں حضور پرنور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس رات کو حاضر رہتا ۔ ایک شب حضور کے لیے آب وضو وغیرہ ضروریات لایا(رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بحر رحمت جو ش میں آیا) ارشاد فرمایا : مانگ کیا مانگتا ہے کہ ہم تجھے عطا فرمائیں ۔ میں نے عرض کی : میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں اپنی رفاقت عطافرمائیں ۔ فرمایا : کچھ اور؟میں نے عرض کی : میری مراد تو صرف یہی ہے ۔ فرمایا : تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجود سے ۔

(صحیح مسلم ،کتاب الصلوۃ ،جلد1،صفحہ353، دار إحياء التراث العربي،بيروت)

اطلبوا الخیر والحوائج من حسان الوجوہ “بھلائی اور حاجتیں ان لوگوں سے مانگوجن کے چہرےعبادت الہٰی سے روشن ہیں ۔

(المعجم الکبیر،مجاھد عن ابن عباس،جلد11،صفحہ81،مطبوعہ القاھرۃ )

مسنداسحاق بن راہویہ،فضائل الصحابۃ لاحمدبن حنبل،مسندابی یعلی موصلی،المعجم الاوسط،الاسماء وا لصفاللبیہقی،شعب الایمان میں بھی یہ حدیث موجودہے ۔ المستدرك على الصحيحين للحاكم میں ہے:”حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اطلبوا المعروف من رحماء أمتي تعيشوا في أكنافهم “ترجمہ: میرے نرم دل امتیوں سے نیکی واحسان مانگو، ان کے ظل عنایت میں آرام کرو گے۔

المستدرك على الصحيحين للحاكم ،کتاب الرقاق،جلد4،صفحہ357، دار الكتب العلمية،بيروت)

مکارم الاخلاق للخرائطی،مسند الشہاب للقضاعی،ابن حبان،التاریخ للحاکم میں ہے:(واللفظ للاول ) اطلبوا الفضل عند الرحماء من أمتي تعيشوا في أكنافهم فإن فيهم رحمتي“ یعنی :فضل میرے رحم دل امتیوں کے پاس طلب کرو کہ ان کے سائے میں چین کرو گے کہ ان میں میری رحمت ہے۔

(المنتقى من كتاب مكارم الأخلاق ومعاليها،باب ما جاء في السخاء۔۔الخ،جلد1،صفحہ125،دار الفكر، دمشق سورية)

امام اہلسنت اعلی حضرت امام الشاہ احمدرضا خان رحمۃ الرحمن اس مضمون کی سترہ احادیث نقل کرنے کے بعدتحریرفرماتے ہیں : انصاف کی آنکھیں کہاں ہیں ؟ ذرا ایمان کی نگاہ سے دیکھیں یہ سولہ بلکہ سترہ حدیثیں کیسا صاف صاف واشگاف فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے نیک امتیوں سے استعانت کرنے ان سے حاجتیں مانگنے، ان سے خیر واحسان کرنے کاحکم دیا کہ وہ تمھاری حاجتیں بکشادہ پیشانی روا کریں گے، ان سے مانگو تو رزق پاؤ گے،مرادیں پاؤ گے، ان کے دامن حمایت میں چین کرو گے ان کے سایہ عنایت میں عیش اٹھاؤ گے۔یارب! مگر استعانت اور کس چیز کانام ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا صورت استعانت ہوگی، پھر حضرات اولیاء سے زیادہ کون سا امتی نیک ورحم دل ہوگا کہ ان سے استعانت شرک ٹھہرا کہ اس سے حاجتیں مانگنے کا حکم دیاجائے گا، الحمدللہ حق کا آفتاب بے پردہ وحجاب روشن ہوا۔

(فتاوی رضویہ،جلد21،صفحہ317،رضافا¬ؤنڈیشن،لاھور)

مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت ابان بن صالح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : إذا نفرت دابۃ أحد کم أو بعیرہ بفلاۃ من الأرض لا یری بھا أحدا، فلیقل: أعینونی عباد اللہ، فإنہ سیعان:ترجمہ: جب تم میں سے کسی کا جانور یا اونٹ بیابان جگہ پر بھاگ نکلے جہاں وہ کسی کو نہیں دیکھتا (جو اس کی مدد کرے ) تو وہ یہ کہے اے اللہ کے بندو میری مدد کرو۔ تو بے شک اس کی مدد کی جائے گی

(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، جلد6، صفحہ103، مطبوعہ الریاض)

المعجم الکبیرمیں ہے: حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا أضل أحدكم شيئا أو أراد أحدكم عونا وهو بأرض ليس بها أنيس، فليقل: يا عباد الله أغيثوني، يا عباد الله أغيثوني، فإن لله عبادا لا نراهم

ترجمہ: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کوگم کردے یااسے مددکی حاجت ہواوروہ ایسی جگہ ہو جہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہئے یوں پکارے :”اے اللہ کے بندو! میری مدد کرو، اے اللہ کے بندو ! میر ی مدد کرو کہ اللہ کے کچھ بندے ہیں جنھیں ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے ، ( وہ اس کی مدد کریں گے ۔ )

(المعجم الكبير للطبراني ،ما أسند عتبة بن غزوان،جلد17،صفحہ 117، مطبوعہ القاهرة)

حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:” إذا انفلتت دابة أحدكم بأرض فلاة فليناد: يا عباد الله احبسوا، يا عباد الله احبسوا، فإن لله حاضرا في الأرض سيحبسه“یعنی:جب جنگل میں جانورچھوٹ جائے تویوں نداکرے ،اے اللہ کےبندو!روک دو،اے اللہ کے بندو!روک دو،زمین پراللہ عزوجل کے کچھ بندے حاضررہتے ہیں ،وہ اس جانورکوروک دیں گے۔

(مسند أبي يعلى الموصلي ،جلد9،صفحہ177 ،دار المأمون للتراث ، دمشق)

امام اہلسنت امام احمدرضا خان علیہ الرحمۃ ان تین احادیث کونقل کرنے کے بعدتحریرفرماتے ہیں :”یہ حدیثیں کہ تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے روایت فرمائیں قدیم سے اکابر علمائے دین رحمہم اللہ تعالٰی کی مقبول ومعمول ومجرب ہیں ۔

(فتاوی رضویہ،جلد21،صفحہ318،رضافا¬ؤنڈیشن،لاھور)

مزیداللہ عزوجل کے نیک بندوں سے ڈائریکٹ مانگنے کے حوالے سے چند بزرگان دین کے اقوال ملاحظہ ہوں ۔ چنانچہ حضور پر نور حضورغوث اعظم رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:

من استغاث بی فی کربۃ کشف عنہ و من نادانی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ ومن توسل بی الی ﷲ فی حاجۃ قضیت لہ ومن صلی رکعتین یقرا فی کل رکعۃ بعد الفاتحۃ سورۃ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم یصلی ویسلم علی رسول ﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم بعد السلام ویذکر نی ثم یخطو الی جھۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ ویذکر اسمی ویذکر حاجتہ فانھا تقضی باذن ﷲ تعالی

ترجمہ: جو کسی مصیبت میں مجھ سے فریاد کرے وہ مصیبت دور ہو اور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دفع ہو اور جو اللہ عزوجل کی طرف کسی حاجت میں مجھ سے وسیلہ کرے وہ حاجت پوری ہو اور جو دورکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں بعد فاتحہ گیارہ بار سورہ اخلاص پڑھے پھرسلام پھیر کر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پردرود وسلام بھیجے اور مجھے یاد کرے، پھر بغداد شریف کی طرف گیارہ قدم چلے اور میرا نام لے اور اپنی حاجت کاذکر کرے تو بیشک اللہ تعالی کے حکم سے وہ حاجت روا ہو۔

(بھجۃ الاسرار ، ذکر فضل اصحابہ وبشراھم ،صفحہ102، مصر )

امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ ربانی تحریرفرماتے ہیں:”سیدی محمد غمری رضی اللہ تعالی عنہ کے ایک مرید بازار میں تشریف لیے جاتے تھے ۔ ان کے جانور کا پاؤں پھسلا، باآواز پکارا ”یا سیدی محمد یا غمری“ادھر ابن عمر حاکمِ صعید کو بحکم سلطان چقمق قید کیے لیے جاتے تھے، ابن عمر نے فقیر کا نداء کرنا سُنا ، پوچھا یہ سیدی محمد کون ہیں ؟ کہا :میرے شیخ، کہا: میں ذلیل بھی کہتا ہوں ، یا سیدی یا غمری لاحِظنی“اے میرے سردار! اے محمد غمری ! مجھ پر نظر عنایت کرو، ان کا یہ کہنا ہے کہ حضرت سیّدی محمد غمری رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے اور مدد فرمائی کہ بادشاہ اور اس کے لشکریوں کی جان پر بن گئی، مجبورانہ ابن عمر کو خلعت دے کر رخصت کیا ۔

(لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار، ترجمہ الشیخ محمد الغمری ،جلد2،صفحہ88، مصر )

لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار میں ہے: حضرت سیدی محمد شمس الدین حنفی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے مرضِ موت میں فرماتے تھے:

من کانت حاجۃ فلیأت الی قبری و یطلب حاجتہ اقضھا لہ فانّ مابینی وبینکم غیر ذراعٍ من تراب وکل رجل یحجبہ عن اصحٰبہ ذراع من تراب فلیس برجل

یعنی: جسے کوئی حاجت ہو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر حاجت مانگے میں رَوا فرمادوں گا کہ مجھ میں تم میں یہی ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کردے ، وہ مرد کا ہے کا۔

(لوا قح الانوار فی طبقات الاخیار، ترجمہ سیدنا ومولٰنا شمس الدین الحنفی، جلد2،صفحہ96،مصر)

شیخ الاسلام شہاب رملی انصاری کے فتاوی میں ہے:

سئل عما یقع من العامۃ من قولھم عند الشدائد یا شیخ فلان و نحو ذالک من الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والصالحین وھل للمشائخ اغاثۃ بعد موتھم ام لا ؟فاجاب بما نصہ ان الاستغاثۃ بالانبیاء والمرسلین والاولیاء والعلماء الصالحین جائزۃ وللانبیاء والرسل والاولیاء والصالحین اغاثۃ بعد موتھم

یعنی: ان سے استفتاء ہوا کہ عام لوگ جو سختیوں کے وقت انبیاء ومرسلین واولیاء و صالحین سے فریاد کرتے اور یاشیخ فلاں (یارسول اللہ ،یاعلی ،یا شیخ عبدالقادر جیلانی )اوران کی مثل کلمات کہتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں ؟اوراولیاء بعد انتقال کے بھی مدد فرماتے ہیں یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بے شک انبیاء و مرسلین واولیاء و علماء سے مدد مانگنی جائز ہے اور وہ بعد انتقال بھی امداد فرماتے ہیں ۔

(فتاوی رملی ،مسائل شتی ،تفضیل البشر علی الملائکہ، جلد4،صفحہ382،مکتبۃ الاسلامیہ)

مسلمان اللہ عزوجل کے نیک بندوں سےجو مددمانگتے ہیں، وہ ان کوواسطہ وصول فیض اوروسیلہ قضائے حاجات سمجھتے ہیں کہ اولیاء اللہ مانگنے والے اوررب عزوجل کے درمیان واسطہ ہیں ، وہ اللہ عزوجل کی مددکے مظہرہیں اوریہ قطعا یقینا درست ہے کہ اللہ عزوجل نے قرآن عظیم میں ﴿ وابتغوا الیہ الوسیلۃ ﴾ یعنی اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو کا حکم فرمایا ہے۔ حقیقی استعانت صرف اللہ عزوجل کے ساتھ خاص ہے کہ وہ قادر بالذات ومالک مستقل وغنی بے نیازہے۔ استعانت حقیقیہ کا اعتقاد اگر کوئی کسی ولی کے لیے رکھے، تویہ شرک ہے۔

بحمداللہ کوئی مسلمان بھی اس معنی کااعتقاد کسی ولی کے لیے نہیں رکھتا۔ چنانچہ امام اہلسنت اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں: استعانت حقیقیہ یہ کہ اسے قادر بالذات ومالک مستقل وغنی بے نیاز جانے کہ بے عطائے الٰہی وہ خود اپنی ذات سے اس کام کی قدرت رکھتاہے، اس معنی کا غیر خدا کے ساتھ اعتقاد ہر مسلمان کے نزدیک شرک ہے نہ ہر گز کوئی مسلمان غیر کے ساتھ اس معنی کا قصد کرتا ہے بلکہ واسطہ وصول فیض وذریعہ ووسیلہ قضائے حاجات جانتے ہیں اور یہ قطعا حق ہے۔ خود رب العزت تبارک وتعالی نے قرآن عظیم میں حکم فرمایا: ﴿ وابتغوا الیہ الوسیلۃ ﴾ اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔بایں معنی استعانت بالغیر ہر گز اس سے حصرایاک نستعین کے منافی نہیں۔

(فتاوی رضویہ،جلد21،صفحہ303،رضافاونڈیشن،لاھور)

فتاوی رضویہ میں ہے: استعانت بالغیروہی ناجائزہے کہ اس غیر کو مظہر عون الٰہی نہ جانے بلکہ اپنی ذات سے اعانت کا مالک جان کر اس پر بھروسا کرے، اور اگر مظہر عون الٰہی سمجھ کر استعانت بالغیر کرتاہے تو شرک وحرمت بالائے طاق، مقام معرفت کے بھی خلاف نہیں خود حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے ایسی استعانت بالغیر کی ہے

< ( فتاوی رضویہ،جلد21،صفحہ325،رضافاؤنڈیشن،لاھور)

اولیاء سے استعانت کااہل ایمان کیامعنی مرادلیتے ہیں ؟ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سیدی اعلی حضرت الشاہ احمدرضاخان علیہ الرحمن فرماتے ہیں: اہل استعانت سے پوچھو تو کہ تم انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلوۃ والثنا کو عیاذا باللہ خدا یا خدا کا ہمسر یا قادر بالذات یا معین مستقل جانتے ہو یا اللہ عزوجل کے مقبول بندے اس کی سرکار میں عزت ووجاہت والے اس کے حکم سے اس کی نعمتیں بانٹنے والے مانتے ہو؟ دیکھو تو تمھیں کیا جواب ملتاہے۔

امام علامہ خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین فقیہ محدث ناصر السنۃ ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رضی اللہ تعالی عنہ کتاب مستطاب ”شفاء السقام“ میں استمداد واستعانت کو بہت احادیث صریحہ سے ثابت کرکے ارشاد فرماتے ہیں:

لیس المراد نسبۃ النبي صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم إلی الخلق والاستقلال بالأفعال ھذا لا یقصدہ مسلم فصرف الکلام إلیہ ومنعہ من باب التلبیس في الدین والتشویش علی عوام الموحدین

یعنی: نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مددمانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور کو خالق اور فاعل مستقل ٹھہراتے ہوں۔

یہ تو اس معنی پر کلام کو ڈھال کر استعانت سے منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اور عوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے۔فقیہ محدث علامہ محقق عارف باللہ امام ابن حجر مکی قدس سرہ المکی کتاب افادت نصاب ”جوہر منظم“ میں حدیثوں سے استعانت کا ثبوت دے کر فرماتے ہیں:

فالتوجہ والاستغاثۃ بہ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم بغیرہ لیس لھما معنی في قلوب المسلمین غیر ذلک ولا یقصد بھما أحد منھم سواہ فمن لم ینشرح صدرہ لذلک فلیبکِ علی نفسہ نسأل ﷲ العافیۃ والمستغاث بہ في الحقیقۃ ھو ﷲ، والنبي صلی ﷲ تعالی علیہ واسطۃ بینہ وبین المستغیث فھو سبحانہ مستغاث بہ والغوث منہ خلقاً وإیجاداً والنبي صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم مستغاث والغوث منہ سبباً وکسباً

یعنی: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا حضور اقدس کے سوا اور انبیاء و اولیاء علیہم افضل الصلاة والثناء کی طرف توجہ اور ان سے فریاد کے یہی معنی مسلمانوں کے دل میں ہیں اس کے سوا کوئی مسلمان اور معنی نہیں سمجھتا ، نہ قصد کرتا ہے تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے وہ آپ اپنے حال پر روئے، ہم اللہ تبارک و تعالی سے عافیت مانگتے ہیں ۔ حقیقتا فریاد اللہ عزوجل کے حضور ہے اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے اور اس فریادی کے بیچ میں وسیلہ واسطہ ہیں، تو اللہ عزوجل کے حضور فریاد ہے اور اس کی فریاد رسی یوں ہے کہ مراد کو خلق و ایجاد کرے، اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حضور فریاد ہے اور حضور کی فریاد رسی یوں ہے کہ حاجت روائی کے سبب ہوں اور اپنی رحمت سے وہ کام کریں جس کے باعث اسکی حاجت روائی ہو۔ (فتاوی رضویه جلد 21، صفحه 331، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

مفست شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اولیاء اللہ اور انبیائے کرام سے مد مانگنا جائز ہے جبکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی یقی امداد تورب تعالی ہی کی ہے ہے یہ حضرات اس کے مظہر ہیں اور مسلمان کا یہ ہی عقیدہ ہوتا ہے، کوئی جاہل بھی کسی ولی کو خدا نہیں سمجھتا۔ (جاء الحق، صفحہ 464، مکتبه غوثیه کراچی)

والله اعلم عز وجل ورسوله اعلم صلى الله تعالیٰ علیه و آله وسلم عليه وسلم۔

مجیب:مفتی ہاشم صا حب مدظلہ العالی

فتوی نمبر: Lar-7061-b

تاریخ اجراء:22ربیع الاول1439ھ11دسمبر2017ء

دیوبند علمائے دین کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر بزرگوں کے وسیلے سے دعا کرنا کیسا ۔سوال:  کیا فرماتے ہیں علماء ...
30/12/2025

دیوبند علمائے دین کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر بزرگوں کے وسیلے سے دعا کرنا کیسا ۔

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگوں سے مانگنا تو بلاشبہ نا جائز ہے، البتہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر بزرگوں کے وسیلہ سے مانگا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب
توسل (وسیلے سے دعا کرنا) کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:

(1) توسل بالاعمال: یعنی اپنے کسی نیک عمل کے وسیلے سے یوں دعا کرنا کہ اے اللہ! فلاں نیک عمل کی برکت سے میری فلاں حاجت پوری فرما۔ یہ صورت بالاتفاق وبلااختلاف جائز ہے، اور اس کی دلیل وہ مشہور اور صحیح حدیث ہے جس میں تین افراد ایک غار میں پھنس گئے تھے اور تینوں نے اپنے نیک عمل کے وسیلے سے دعا کی تو اللہ تعالی نے اس مصیبت سے انہیں نجات عطا فرمائی۔ (بخاری 1 / 493 قدیمی)

(2) توسل بالذوات: یعنی اللہ سے کسی نبی علیہ السلام، صحابی رضی اللہ عنہ یا کسی ولی سے اپنے تعلق کا واسطہ دے کر دعا کرنا۔ یہ صورت بھی جمہور اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہے، چنانچہ قرآن کریم کی آیت سے ثابت ہے کہ بنوقریظہ اور بنونضیر کے یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ کے وسیلے سے فتح ونصرت کی دعا کیا کرتے تھے۔ [البقرۃ:89] خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فقراء ومہاجرین کے توسل سے دعا فرماتے تھے۔ (مشکاۃ : 2 / 447 قدیمی)

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ قحط سالی کے سال حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو اس وقت حیات تھے) کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے۔ ( نیل الاوطار : 4 / 8 طبع مصر)

صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه کان إذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبدالمطلب رضي الله عنه فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إلیك بنبینا صلی الله عليه وسلم فتسقینا، وإنا نتوسل إلیك بعم نبینا فاسقنا! قال: فیسقون.

(صحیح البخاري، کتاب العیدین، أبواب الاستسقاء، باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، (1/137) و کتاب المناقب، ذکر عباس بن عبدالمطلب، (1/526) ط: قدیمي)

ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے، چنانچہ یوں کہتے تھے: اے اللہ ہم آپ سے اپنے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعاکرکے بارش طلب کرتے تھے، اب آپ ﷺ کے چچا کے وسیلے سے آپ سے بارش کی دعا کرتے ہیں، چناں چہ بارش ہوجاتی۔

نیز رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نے اپنی تکلیف کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اسے اہتمام سے وضو کرکے دو رکعت پڑھنے کے ساتھ اپنے وسیلے سے دعا کرنے کے الفاظ تلقین فرمائے، چنانچہ اسی مجلس میں اس کی بینائی لوٹ آئی۔ (جامع ترمذی، معجم کبیر للطبرانی)

بہرحال انبیاء، اولیاء یا نیک اعمال کے توسل سے دعا کرنا جائز بلکہ قبولیت دعا میں موٴثر ہے، دعا میں توسل کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔

عن عثمان بن حنیف، أن رجلاً ضریر البصر أتی النبي صلی الله علیه وسلم فقال: ادع الله أن یعافیني قال: إن شئت دعوت، وإن شئت صبرت فهو خیر لك، قال: فادعه، قال: فأمره أن یتوضأ فیحسن وضوئه ویدعو بهذا الدعاء: اللهم إني أسألك وأتوجه إلیك بنبیك محمد نبي الرحمة، إني توجهت بك إلی ربي في حاجتي هذه لتقضي لي، اللهم فشفعه في. قال الترمذي: هذا حدیث حسن صحیح غریب. وزاد الحاکم في هذه الواقعة: ”فدعا بهذا الدعاء فقام وقد أبصر“. (۱/۳۱۳، ۵۱۹، ۵۲۶)

أخرج الإمام أحمد وغيره بسند صحيح عن عثمان بن حنيف أن رجلاً ضرير البصر أتى النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال : ادع الله أن يعافيني . فقال صلى الله عليه وسلم : (إن شئت دعوت لك ، وإن شئت أخّرتُ ذاك ، فهو خير لك. [وفي رواية : (وإن شئتَ صبرتَ فهو خير لك)] ، فقال : ادعهُ. فأمره أن يتوضأ ، فيحسن وضوءه ، فيصلي ركعتين، ويدعو بهذا الدعاء : اللهم إني أسألك ، وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة ، يا محمد إني توجهتُ بك إلى ربي في حاجتي هذه ، فتقضى لي ، اللهم فشفّعه فيَّ وشفّعني فيه) . قال : ففعل الرجل فبرأ.

شفاء السقام للسبكي (ص: ٣٥٨)میں ہے:

إن التوسل بالنبي صلي الله عليه وسلم جائز في كل حال قبل خلقه و بعد خلقه في مدة حياته في الدنيا و بعد موته في مدة البرزخ.

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا توسل ہر حال میں جائز ہے، چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق سے پہلے ہو یا تخلیق کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی زندگی میں ہو یا وصال کے بعد حیاتِ برزخی میں ہو۔

حجة الله البالغة میں ہے:

و من أدب الدعاء تقديم الثناء إلى الله و التوسل بنبي الله ليستجاب. (٢/ ٦)

ترجمہ: دعا کے آداب میں سے یہ ہے کہ پہلے اللہ کی حمد و ستائش کی جائے، اور اللہ کے نبی کے وسیلہ سے دعا کی جائے؛ تاکہ قبولیت کا شرف حاصل ہو۔

البتہ کسی نبی یا ولی سے حاجت مانگنا شرک ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ کی کتاب "اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم" اور فتاوی بینات کی جلد دوم)

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ توسل بالاعمال اور توسل بالذوات دونوں علمائے دیوبند سمیت جمہور اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہیں، قرآنِ کریم واحادیثِ مبارکہ اور کتبِ فقہ میں اس کی تصریحات موجود ہیں، علمائے دیوبند کی کتاب "المہند علی المفند " میں بھی واضح طور پر یہی عقیدہ مذکور ہے، لہذا توسل کا کلی طور پر انکار یا نبی اور ولی میں فرق کرنا درست نہیں، تاہم دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ واجب یا ضروری نہیں، توسل کا انکار کیے بغیر بلاوسیلہ دعا مانگنا بھی جائز ہے، اور توسل والی دعا کی قبولیت کا اللہ کے ذمے لازم سمجھنا بھی درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144111201138

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Address

Markaz-e-Roohaniat, Gulshan-e-Aulia Hussainia, Gulshan-e-Surjani Phase-II, 52 Patti, Surjani Town, Near Khuda Ki Basti Karachi
Karachi
75700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gulshan-e-Aulia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Gulshan-e-Aulia:

Share