Islam the religion of peace

Islam the religion of peace Guidance to Humenity This is Book In it is Guidance sure with out doubt To those Who fear ALLAH.

صرف 2500 روپےایک خاندان (پانچ افراد) کے ایک وقت کے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔آج ہی اپنی زکوٰۃ اور صدقات سے فلسطین کے ض...
22/07/2025

صرف 2500 روپے
ایک خاندان (پانچ افراد) کے ایک وقت کے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔

آج ہی اپنی زکوٰۃ اور صدقات سے فلسطین کے ضرورت مندون کے پیٹ بھرنے کا ذریعہ بنیں۔

ادائیگی کے ذرائع:
Easypaisa / JazzCash / Raast ID
📱 0301 2001200
👤 محمد علی

17/10/2022

.


23/04/2022
23/04/2022
06/01/2022
12/09/2019

کائنات حیران ہے💚
فرشتے حیران ہیں❤
اہلِ ایمان حیران ہیں💚
کہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں شادی ہوئی میکے جاتے اتنی بڑی چادر لپیٹتی تھیں کہ سیدہ ام المومنین عائشہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ چال سے پتہ چلتا تھا کہ کون تشریف لا رہی ہیں ،چال سرکار دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملتی تھی ،والد کا بے پناہ پیار ملا، ماں بچپن میں چل بسی، حیا اتنا کہ یہودی اور عیسائي بھی سر جھکا لیتے کم عمری میں شادی، کم عمری میں اولاد، جوانی میں وفات قرآن کی حافظہ تھیں، ہر رات قرآن ختم فرماتیں، اور روتیں
یا اللہ تو نے راتیں چھوٹی کیوں بنائیں میری عبادت پوری نہیں ہوتی، والی کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لاڈلی بیٹی، چکی پیستے ہاتھوں پر چھالے غربت آخری درجے کی، حسنین کریمین (رضی اللہ عنہما) کی عمروں میں بہت کم فرق
دنیا میں جنت کی بشارت
نہ صرف بشارت
بلکہ فرمایا ،آپ جنت میں عورتوں کی سردارنی ہونگی
جنت میں تمام عورتوں کی سردارنی بشمول ام الناس حوا (سلام اللہ علیہا)
سیدہ حاجرہ، سارہ، سیدہ مریم اور امہات المومنین (سلام اللہ علیھم)
اتنا رتبہ جتنا کائنات میں کسی کا نہیں
لیکن کبھی نہیں کہا، میں چکی نہیں پیستی
کھانا، علی خود بنا لو اور مجھے پکا کر کھلاؤ آخر سردارنی ہوں
بہشت بریں کی اور جنت الفردوس کی
بچوں کو سنمبھالو، کپڑے خود دھو لو
میں فاطمۃ الزہرہ، امام الانبیاء (علیہ السلام) کی بیٹی ہوں، میری ماں خدیجۃ الکبری ہے
میں حسنین کریمین کی ماں ہوں، میرا باپ وجہ کائنات ہے، خاتم النبیین ہے
میرے لخت جگر جنت کے جوانوں کے سردار ہیں
میں علی مرتضی (رضی اللہ عنہ) کی بیوی ہوں
ساری زندگی ایک یمنی چادر میں گزاری
جتنے غرور ممکن ہیں عورت کیلئے صرف جگر گوشہ رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو سجتے ہیں
لیکن بظاہر انکی پیروکار کہلانے والی عورتیں کس کی پیروکار ہیں
کونسے حقوق
کونسی عورت
کونسا تحفظ
وہ معاشرہ جہاں عورت کو بولنے کا حق نہیں تھا، مقام کیا پایا الفاظ نہیں ہیں۔❤❤
کروڑوں سلام بی بی فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا پر کروڑوں درود آپ کے بابا جناب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر ❤💚
الهم صلي الله محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد 💚
الهم بارك الله محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد ❤

19/07/2019
19/07/2019

ماچس کی ڈبیاں اس وقت ایک روپے کی چار آتی تھیں لیکن چولہا جلانے کے لیے دادی گتے کی چھپٹیوں کا استعمال کرتی تھیں۔ چھپٹی کہہ لیجیے کہ جیسے چائے کا ڈبا ہے ، اس کے باریک اور لمبے بہت سے ٹکڑے کاٹ لیں، آئس کریم سٹک کی طرح سے ، تو وہ ایک ٹکڑا ایک چھپٹی کہلاتا ہے۔ اب سین یہ ہوتا تھا کہ صبح جو پہلا چولہا جلتا وہ ماچس سے جلایا جاتا، اس کے بعد دوسرا اور تیسرا چولہا جلانے کے لیے وہی چھپٹی پہلے چولہے سے جلا کر باقی دونوں کو دکھا دیتیں اور یوں ماچس کی دو تیلیوں کی بچت ہو جاتی۔ وہ سب گتے کے باریک ٹکڑے یا چھپٹیاں چولہے کے برابر کسی بھی ڈبے میں رکھی ہوتی تھیں۔ دادی جب تک زندہ تھیں ان کا استعمال ہوتا رہا۔ جب تک نظر ٹھیک تھی تو فارغ وقت میں وہ سوئیٹر وغیرہ بن لیتی تھیں، نظر کمزور ہو گئی تو اسی طرح کے چھوٹے موٹے بہت سے کام انہوں نے خود اپنے ذمے لے لیے ۔ ماچس کی بچت آج کون سوچ سکتا ہے ؟ یعنی ایک تیلی جس کی وقعت آج بھی شاید دو پیسے ہو گی دادی اس کے استعمال میں کفایت کرتی تھیں، فضول خرچی نام کی چڑیا کبھی اڑتی ہی نہیں دیکھی۔

قلفی والا آتا، دور سے ہی گھنٹی بجنے کی آواز آنا شروع ہو جاتی، ابھی لکھتے لکھتے بھی منہ میں پانی آ گیا، کیا ہی قلفی ہوتی تھی! وہ گھنٹی جب بجتی اور بچے دادی سے پیسے مانگتے تو جتنے چاہیے ہوتے اتنے ہی وہ دیتیں لیکن کہتیں، چندا منہ ہی میٹھا کرنا ہے نا، تین روپے والی کھاؤ یا ایک روپے والی، پیٹ کبھی نہیں بھر سکو گے، ایک والی کھاؤ گے تو باقی دو روپوں سے شام میں کچھ کھا لینا۔ لیکن شام کون دیکھے ، اور شام میں کچھ بجوگ پڑ بھی گیا تو دادی کا بنک پھر دوبارہ کام آ جاتا تھا۔ یہ بات بھی اب سمجھ میں آتی ہے ۔ جو بھی کھا لیجیے ، جتنا بھی کھا لیجیے ، بھوک ہر حال میں دوبارہ لگنی ہی لگنی ہے ، تو کیوں نہ حساب سے کھایا جائے اور چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے جائیں۔

ایک نعمت خانہ ہوتا تھا۔ نعمت خانہ اس زمانے کا فریج تھا۔ چار فٹ لمبائی، تین فٹ چوڑائی اور تین فٹ ہی گہرائی کی ایک الماری جس میں چاروں طرف لکڑی کے فریم کے اندر جالی لگی ہوتی تھی۔ یعنی بس ایک ہوادار سی الماری تھی جو باورچی خانے میں ایک کونا سنبھالے ہوتی تھی۔ دودھ ابالا، اسی میں رکھ دیا، سالن بنایا اس میں رکھ دیا، نچلے خانوں میں مصالحے وغیرہ بھی پڑے رہتے ، چائے کے لوازمات بھی وہیں دھرے ہیں، ماں کے لیے جو ڈرائے فروٹ نانا بھیجتے تھے وہ بھی وہیں سے چرا کر کتنی دفعہ کھایا، تو نعمت خانہ بڑی مزے کی چیز تھا۔ اسے ہرگز یہ دعویٰ نہیں تھا کہ میں پانچویں دن بھی آپ کو تازہ سالن کھلا سکتا ہوں، وہ سکھلاتا تھا کہ بھئی اتنا پکاؤ جتنا رات تک ختم ہو جائے ، کل کی فکر کل ہی کرنا!

ایک کام اور بھی دادی کا بڑا زبردست تھا۔ کبھی کوئی چیز ضائع نہیں کرتی تھیں۔ اپنے کپڑوں کی سلائی میں سے بچی کترنیں، دھاگوں کے چھوٹے بڑے گچھے ، مختلف رنگوں کے بٹن، سر میں لگانے والی سیاہ پن (بوبی پن)، سوئٹروں کی سلائی سے بچی اون، ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانے ، پانچ پیسے کا وہ چوکور سکہ، دس پیسے والے کنگری دار سکے یا چونی اٹھنی جو بھی بچتا وہ سب کا سب پاندان میں ان کے پاس سنبھلا رہتا تھا۔ ضرورت کے وقت نکل بھی آتا تھا۔ ایک فٹ کا پاندان گھر داری کی ضرورتیں بھی پوری کرتا تھا۔

اس وقت ایک انسان کے پاس جیب میں پانچ دس نوٹ ہوتے تھے اور اگر وہ سگریٹ پینے والا ہوتا تو ساتھ ایک ڈبی اور ماچس بھی ہوتی، زندگی یہیں تک تھی اور پھر بھی حسین تھی۔ آج آپ نے گھڑی بھی لازمی باندھنی ہے ، سالم بٹوہ جیب میں ہونا لازم ہے ، موبائل تو امت پر فرض ہو چکا ہے ، اس کی بیٹری کمزور ہے تو پاور بینک بھی ہاتھ میں رکھنا ہے ، سواری کی چابیاں بھی ساتھ ہیں، سگریٹ پیتے ہیں تو وہ، اس کا لائٹر، بندہ دو جیبوں میں کتنا کچھ رکھ سکتا ہے ؟ جیبوں میں ضرورت سے زیادہ سامان بھر لینا اور پھر اس کے پیچھے جیبیں خالی کرتے جانا دورِ جدید کی عطا ہے ۔

اے سی، فریج، ٹیلی فون، رنگین ٹی وی، وی سی آر، شاور، مسلم شاور، ٹائلوں والے باتھ روم، ماربل اور چپس والے فرش، ایلومینیم کی کھڑکیاں، ہر بندے کی اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی، یہ سب ابھی بیس پچیس برس پہلے تک نوے فی صد لوگوں کے لیے ایک خواب ہوتا تھا، کون مان سکتا ہے ؟ ماموں گیارہویں سال گرہ پر آئے تو لال رنگ کی ایک سائیکل لائے تھے ، اس سے آج تک نیچے نہیں اترا، خوشی بس یہ ہوتی تھی!

خواب پورے کرنے کے لیے قیمت چکانا پڑتی ہے ۔ بجلی کے بلوں پر چیخنے سے پہلے گھر کے اندر اے سی گن لیجیے ۔ گیس کے بل پر بلبلانے سے پہلے گیزر چیک کیجیے ، کتنے ماہ سے بند نہیں ہوا؟ پیٹرول کے بڑھتے ریٹ پر احتجاج کرنے سے پہلے یاد کیجیے کہ سائیکل سے اترتے ہوئے کندھے ٹانگیں اور کمر کیا احتجاج کرتے تھے ۔ ذرا وہ لال اینٹوں کے صحن اور سیمنٹ والے باتھ روم یاد کیجیے جن میں بالٹی سے ڈونگے بھر بھر کے نہانا ہوتا تھا اور اب شاور کے مزے دیکھ لیجیے کہ جس کے نیچے سے ہٹنے کا دل نہیں چاہتا۔ موبائل کمپنیوں کی دھاندلی کا رونا روتے ہوئے تصور کیجیے کہ ماں بہنوں کو فون سننے چھ گھر پار جانا پڑے تو کیسا لگتا ہو گا۔ انٹرنیٹ ری چارج کرواتے ہوئے سوچیے کہ یہ جو مفت میں گھنٹوں پردیسیوں سے بات ہوتی ہے ، یہ کیا دو منٹ کو بھی ممکن تھی؟ جو بہت زیادہ افورڈ کر سکتے تھے وہ مکمل ویڈیو کیسٹ ریکارڈ کروا کے گھر بھیجتے تھے ، پورا گھر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر انہیں دیکھتا تھا اور ماں رو بھی نہیں سکتی تھی کہ باپ کا دل کمزور نہ پڑ جائے ، باپ تو ویسے ہی “مرد” بننے پر مجبور ہوتا تھا۔ ہما شما آڈیو کیسٹ پر آواز سن کر دوپٹے کے کونے بھگو لیتے تھے اور غریب غربوں کا آسرا وہی خط ہوتا تھا جو آج بھی نصف ملاقات سمجھا جاتا ہے لیکن ایس ایم ایس اور ای میل جسے دفن کر چکے ہیں۔

تو یہ قیمت چکاتے چکاتے راستہ وہاں لے جاتا ہے جہاں نئے خواب منتظر ہوتے ہیں۔ سستے موبائل والا مہنگا موبائل لے گا۔ سائیکل والا موٹر سائیکل لے گا، موٹر سائیکل والا چھوٹی گاڑی لے گا، چھوٹی گاڑی کے بعد بڑی کا خواب دیکھا جائے گا، بڑی سے اور بڑی اور پھر اور بڑی۔ یہی معاملہ کچے گھروں سے نکلنے والوں کو دو کنال کے بنگلے میں بھی چین نہیں لینے دیتا اور اسی طرح کا حال ٹیکنالوجی کے مارے ہوؤں کا ہوتا ہے ۔ لیپ ٹاپ، موبائل، ٹیبلٹ، ہر چار سے چھ ماہ بعد ان کے نئے ماڈل دستیاب ہوتے ہیں اور انہیں ساتھ رکھنا سٹیٹس کی نشانی، انسان کتنا اپ ٹو ڈیٹ رہ سکتا ہے ؟ یارو، ایک لاکھ کے موبائل پر چڑھ کے گھر سے بندہ صدر تک تو جا نہیں سکتا، فائدہ کیا ایسی اندھی ریس میں پڑنے کا، بھٹ پڑے وہ سونا جس سے ٹوٹیں کان!

ابا کہتے ہیں عرب شہزادے بھی اے سی کی وہی ٹھنڈک لیتے ہیں جو آپ کے پاس ہے ، معدے ان کے بھی آپ جتنے ہیں، گھڑی پر وقت وہ بھی ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے آپ دیکھتے ہیں، سبزہ انہیں بھی ویسی ہی فرحت دیتا ہو گا جیسے آپ کسی باغ میں جا کر محسوس کرتے ہیں، آئی فون سے مہنگا کوئی فون ان کے پاس بھی نہیں ہو سکتا، گاڑیاں ان کی واقعی بہت آرام دہ ہوتی ہیں لیکن بنیادی ضرورت کی تمام چیزیں اگر آپ کے پاس ہیں تو آپ میں اور عرب شہزادوں میں کوئی فرق نہیں۔ بس چادر کا حساب رکھیے تو آپ خود ایک جیتے جاگتے شہزادے ہیں۔
رب کا شکر ادا کریں

اردو ادب😍😍

27/05/2018

‏﷽...
قُلْ أَعُوذُ بِرَبّ النَّاسِ ۝ مَلِكِ النَّاسِ ۝ إِلَٰـــهِ النَّاسِ
۝ مِن شَرّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۝ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ۝ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۝

📚 114 سورہ الناس

27/05/2018

‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :-

جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی دارازی چاہتا ہو تو اسے چاہئیے کہ صلہ رحمی کرے۔

(صحیح بخاری حدیث # ٢٠٦٧)

26/05/2018

‏قران کریم میں اللہﷻ نے اپنے تقرّب کی جتنی راہیں بھی دکھائی ہیں، اُن میں سجدے کے علاوہ سب راہیں مخلوق سے محبت کی راہیں ہیں...!!

واصف علی واصف___

Address

Thana Mor Kamalia
Kamalia

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam the religion of peace posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islam the religion of peace:

Share