21/08/2026
#میلادمصطفٰیﷺ
بارھویں صدی کے مفسّر امام احمد صاوی المالکی علیہ الرحمہ قرآن پاک کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”إِنَّ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، لَمَّا فَرَغَ مِنْ بِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، عَزَمَ عَلَى الْخُرُوجِ إِلَى أَرْضِ الْحَرَمِ، فَتَجَهَّزَ لِلْمَسِيرِ وَاسْتَصْحَبَ جُنُودَهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ وَالْوَحْشِ فَحَمَلَتْهُمُ الرِّيحُ، فَلَمَّا وَافَى الْحَرَمَ، أَقَامَ مَا شَاءَ اللَّهُ...
وَكَانَ يَنْحَرُ فِي كُلِّ يَوْمٍ طُولَ مُقَامِهِ خَمْسَةَ آلَافِ نَاقَةٍ، وَيَذْبَحُ خَمْسَةَ آلَافِ ثَوْرٍ، وَعِشْرِينَ أَلْفَ شَاةٍ،
وَقَالَ لِمَنْ حَضَرَهُ مِنْ أَشْرَافِ قَوْمِهِ:
إِنَّ هَذَا الْمَكَانَ يَخْرُجُ مِنْهُ نَبِيٌّ عَرَبِيٌّ، صِفَتُهُ كَذَا وَكَذَا، وَيُعْطَى النَّصْرَ عَلَى جَمِيعِ مَنْ عَادَاهُ، وَتَبْلُغُ هَيْبَتُهُ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ عِنْدَهُ فِي الْحَقِّ سَوَاءٌ، لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ.
قَالُوا: بِأَيِّ دِينٍ يَدِينُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟
قَالَ: بِدِينِ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةِ، فَطُوبَى لِمَنْ أَدْرَكَهُ وَآمَنَ بِهِ.
قَالُوا: كَمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خُرُوجِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟
قَالَ: مِقْدَارُ أَلْفِ سَنَةٍ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ سَيِّدُ الْأَنْبِيَاءِ وَخَاتَمُ الرُّسُلِ.“
یعنی: جب سلیمان علیہ السلام بیت المقدس کی عمارت (بنیاد) بنا کر فارغ ہوئے تو حرم کی زمین کی طرف جانے کا ارادہ کیا ، سفر کا سامان تیار کیا ، اور اپنے لشکر میں سے جنوں ، انسانوں ، پرندوں اور درندوں کو ساتھ لے لیا ، پس ہوا نے انکے تخت کو اٹھا لیا جب حرم پہچنے تو جب تک اللہ نے چاہا قیام کیا۔ تو وسیع قیام کے دوران ہر دن پانچ ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بیل اور بیس ہزار بکریاں ذبح کرتے تھے۔ اور سلیمان علیہ السلام کے پاس جو بھی قوم کا معزز شخص آتا اس سے فرماتے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے نبی (محمدِ) عربی نکلیں گے۔ اور انکی یہ یہ شانیں ہونگی۔ اور اللہ انکی ہر دشمن کے مقابلے میں مدد فرمائے گا ۔ اور انکی ھیبت ایک مہینے کی مسافت تک پہنچی ہو گی ۔ قریب اور دور والے سب لوگ حق کے معاملے میں انکے نزدیک برابرا ہوں گے۔ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والی کی ملامت کا خوف نہ رکھیں گے۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی (سلیمان علیہ السلام) وہ کس دین پر ہونگے؟ فرمایا: کہ وہ اللہ کے دین ، دینِ حنیف پر ہونگے ، پس خوشخبری ہے اسکے لئے جس نے انکا زمانہ پایا اور ان پر ایمان لایا۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی (سلیمان) ہمارے اور انکے زمانے کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ فرمایا : ایک ہزار سال کا فاصلہ ، پس جو یہاں موجود ہے ، اسے چاہئے کہ یہ باتیں ان تک پہنچا دے جو موجود نہیں۔ بیشک وہ انبیاء کے سرادر ہونگے اور خاتم الرُسُل ہونگے۔“
[حاشیة الصاوی علی جلالین، جلد2، صفحہ 1491، سورة النمل ،تحت الآیة 21، مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ اردو بازار لاھور]
سبحان اللہ....!! میرے مصطفٰی کریم ﷺ کی ولادت سے پہلے بھی آپکی آمد کے تذکرے انبیاء سابقین کرتے رہے۔ اور ہزاروں کی تعداد میں جانور ذبح کرتے رہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام فرماتے تھے کہ آئیں گے۔ اور یہ یہ شانیں ہوں گی۔
ہم کہتے ہیں کہ آ گئے اور واقعی بڑی شانیں ہیں جنکا احاطہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔
اگر رسول اللہ ﷺ کی دنیا میں آمد سے ایک ہزار سال قبل آپکا میلاد و آمد بیان کرنا جائز ہے۔
تو آمد کے بعد بھی آپکا میلاد و تشریف آوری بیان کرنا نہ صرف جائز بلکہ سنتِ انبیاء ہے۔
یہ بھی پتہ چلا کہ انبیاء سابقین نہ صرف اپنی امت میں رسول اللہ کا میلاد بیان فرماتے بلکہ آپ ﷺ کی ختمِ نبوت کا اعلان بھی فرماتے۔