Soz e saqib

Soz e saqib _الفاظ چابیوں کی_
_مانند ہیں ان کا صحیح_
_استعمال کر کے لوگوں_
_کے منہ بند یا دل کھولے_
_جا سکتے ہیں_

Jo by ronaq kar don chehron ko main dhool nahi saqib
,
,
mehkta hy mujh sy zamana mujhy phool kehty hain

10/09/2025

سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے

باغِ خلیل کا گلِ زیبا کہوں تجھے

حرماں نصیب ہوں تجھے اُمید گہ کہوں

جانِ مراد و کانِ تمنا کہوں تجھے

گلزارِ قدس کا گل رنگیں ادا کہوں

درمانِ دردِ بلبلِ شیدا کہوں تجھے

صبح وطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شرف

بیکس نواز گیسوؤں والا کہوں تجھے

اللہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں

اے جانِ جاں میں جانِ تجلا کہوں تجھے

بے داغ لالہ یا قمر بے کلف کہوں

بے خار گلبنِ چمن آراء کہوں تجھے

مجرم ہوں اپنے عفو کا ساماں کروں شہا

یعنی شفیع روزِ جزا کا کہوں تجھے

اس مردہ دل کو مژدہ حیات ابد کا دوں

تاب و توانِ جانِ مسیحا کہوں تجھے

تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری

حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

کہہ لے کی سب کچھ انکے ثناء خواں کی خامشی

چپ ہو رہا ہے کہہ کہ میں کیا کیا کہوں تجھے

لیکن رضؔا نے ختم سخن اس پہ کر دیا

خالق کا بندہ خلق کا آقا کہوں تجھے

سارے پڑھو درود  اج سرکار  آ گئے ﷺدنیا تے دو جہاناں دے سردار آ گئے ﷺ گھر آمنہ دے ہو گئی آمد حضور  دیویکھن فرشتے آپ  دا رخ...
06/09/2025

سارے پڑھو درود اج سرکار آ گئے ﷺ
دنیا تے دو جہاناں دے سردار آ گئے ﷺ

گھر آمنہ دے ہو گئی آمد حضور دی
ویکھن فرشتے آپ دا رخسار آ گئے

مائی حلیمہ جاگ اٹھے تیرے بڑے نصیب
گودی وچ تیری نبیاں دے سردار آ گئے

سارے گنہگاراں دی اج عید ہو گئی
بخشش دلاون اُمت دے غمخوار آ گئے

خوشیاں دا ویلا آ گیا غم دور ہو گئے
رب دے پیارے امت دے غمخوار آ گئے

بھر لو کرم نال جھولیاں آ جاؤ منگتیو
برکت لٹاون دو جگ دے مختار آ گئے

الصلوةوالسلام علیک یارسول اللہ
وعلیٰ الک واصحابک یاحبیب اللہ

عیدِ عیداں، سببِ خوشیاں، جانِ ایماں 🥹🌹🫶🏻*عیدِ ولادتِ سرورِ کل جہاں*صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم 💐تمام اہلِ سنت...
06/09/2025

عیدِ عیداں، سببِ خوشیاں، جانِ ایماں 🥹🌹🫶🏻
*عیدِ ولادتِ سرورِ کل جہاں*
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم 💐

تمام اہلِ سنت کو
مبارک، صد مبارک، بےحد مبارک
*تمام عالمِ اسلام کو 1500واں جشنِ عیدِ میلادالنبیﷺ بہت بہت مبارک ہو*
دعا میں یاد رکھیے گا.......................
کمال نرم دل ﷺ، انتہائی شفیق ﷺ، بےحدّ مہرباں ﷺ، پیار کرنے والے ﷺ، لطف و کرم فرمانے والے ﷺ، غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کے والی ﷺ، سوہنے لجپال ﷺ، کریم آقا ﷺ۔۔!!
(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)🌹❤️

·
تمام عالم اسلام کو پندرہ سو سالہ جشنِ عید میلادالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مبارک ہو ❤️
سبھی یہ مژدہ سنا رہے ہیں، حضور تشریف لا رہے ہیں
ترانے میلاد، گا رہے ہیں، حضور تشریف لا رہے ہیں
فلک زمیں بوس ہوکے بولا ، اے فرش والوں تمہیں مبارک
کہ عرش کے چاند آ رہے ہیں ،حضور تشریف لا رہے ہیں
خیال اُن کا ہوا مؤذن ، دلوں کی محراب جگمگائی
نظر کو سجدہ سکھا رہے ہیں ،حضور تشریف لا رہے ہیں
حضور پر تم درود بھیجو ،سجا کے نعتِ نبی کی محفل
سلیقہ سب کو سِکھا رہے ہیں، حضور تشریف لا رہے ہیں
نقوشِ ظلمات مٹ گئے ہیں شعورِ حق کو جِلا ملی ہے
ضمیر کو ہم جگا رہے ہیں حضور تشریف لا رہے ہیں
سحر کی آنکھوں میں نور آیا،قمر نے ظلمت کو مات دی ہے
ستارے بھی جِھلملا رہے ہیں ،حضور تشریف لا رہے ہیں
خزاں کا موسم ہے بدلا بدلا ، چمن میں خوشبو رچی بسی ہے
بہار گلشن کھِلا رہے ہیں حضور تشریف لا رہے ہیں
کرم ہے ان کا ہم اہل دل پر ، جو عشقِ آقا میں مست ہوکر
وفا کی محفل سجا رہے ہیں ، حضور تشریف لا رہے ہیں
نگاہِ لطف و کرم کی سرخی،ہمارے ماتھے پہ جگمگائی
ہم ان کی برکات پا رہے ہیں حضور تشریف لا رہے ہیں
قلم کی قسمت سنور گئی ہے ،قصیدۂِ آقا لکھ رہے ہیں
سخن کا ہم لطف اٹھا رہے ہیں حضور تشریف لا رہے ہیں
قلم، زباں، دل، خیال، سب کچھ، عنایہ رضوی ، ثنائے آقا
کی بارشوں میں ، نہا رہے ہیں ، حضور تشریف لا رہے ہیں
*کُلِ انبیاء سے افضل اعلیٰ مقام ہیں محمد ﷺ،*
*اللہ بھیجتا ہے خود جن پر سلام ہیں محمد ﷺ*
•||🥰🫀🦋||√
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم -💚
اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ نُورِ الرَّحْمَةِ، وَسَبَبِ النِّعْمَةِ، وَشَافِعِ الْأُمَّةِ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ.
یہ درود شریف عید میلاد النبی ﷺ کی مناسبت سے نہایت موزوں ہے کیونکہ اس میں آپ ﷺ کو نورِ رحمت، سببِ نعمت اور شافعِ امت کہا گیا ہے۔
اللهم صل وسلم وبارك على اشرف الخلق سيدنا وشفيعنا و مولانا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين
سبحان اللہ سبحان اللہ ۔ سبحان اللہ ۔ ماشاءاللہ ماشاءاللہ ۔ الحمدللہ الحمدللہ ۔ اللہ اکبر اللہ اکبر ❤️ اللہ اکبر کبیرا ❤
اللّٰھُمَّ صَلِ عَلٰی رُوْحِ سیدنا مُحَمَّدٍ فِی الْاَرْوَاحِ وَ عَلٰی جَسَدِہ فِی الْاَجْسَادِ و عَلٰی قَبْرِ مُحَمَّدٍ فِی الْقُبُوْرِ فی کل وقت وحین صلوۃً وَّسلامًا کثیرا کثیرا دائماً ابدا
درودِ خضری ◀
📿صلى الله على حبيبه محمد واله واصحابه وبارك وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللّٰھُمَّ صَلِ عَلٰی رُوْحِ سیدنا مُحَمَّدٍ فِی الْاَرْوَاحِ وَ عَلٰی جَسَدِہ فِی الْاَجْسَادِ و عَلٰی قَبْرِ مُحَمَّدٍ فِی الْقُبُوْرِ فی کل وقت وحین صلوۃً وَّسلامًا کثیرا کثیرا دائماً

"شبِ میلاد، شبِ قدر سے افضل ہے" "حضور نبی اکرم ﷺ کی شبِ میلاد کی فضیلت اور عظمت"امام قسطلانی اپنی مشہور تصنیف ’المواہب ا...
05/09/2025

"شبِ میلاد، شبِ قدر سے افضل ہے"

"حضور نبی اکرم ﷺ کی شبِ میلاد کی فضیلت اور عظمت"

امام قسطلانی اپنی مشہور تصنیف ’المواہب اللدنیہ‘ میں فرماتے ہیں کہ جب ہم یہ کہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ رات کے وقت پیدا ہوئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شبِ میلادِ رسول ﷺ افضل ہے یا شبِ قدر؟ میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ ﷺ کی میلاد کی رات تین وجوہ کی بناء پر شبِ قدر سے افضل ہے:
* . آپ ﷺ کا ظہور شبِ میلاد میں ہوا جب کہ شبِ قدر آپ ﷺ کو عطا کی گئی، لہٰذا وہ رات جس کو آپ ﷺ کے ظہور کا شرف ملا اُس رات سے زیادہ شرف والی ہوگی جسے اِس رات میں تشریف لانے والی ہستی کے سبب سے شرف ملا، اور اِس میں کوئی نزاع نہیں۔ لہٰذا اِس اِعتبار سے شبِ میلاد شبِ قدر سے افضل ہوئی۔
* اگر لیلۃ القدر کی عظمت اِس بناء پر ہے کہ اِس میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے تو شبِ ولادت کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کائنات میں جلوہ فرما ہوئے۔ جمہور اہلِ سنت کے قول کے مطابق شبِ میلاد کو جس ہستی (یعنی حضور ﷺ ) نے شرف بخشا وہ شبِ قدر کو شرف بخشنے والی ہستیوں (یعنی فرشتوں) سے کہیں بلند و برتر اور عظمت والی ہے۔ لہٰذا شبِ ولادت ہی افضل ہے۔
* شبِ قدر کے باعث اُمتِ محمدیہ کو فضیلت بخشی گئی اور شبِ میلاد کے ذریعے جمیع موجودات کو فضیلت سے نوازا گیا۔ پس حضور ﷺ ہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا، اور اِس طرح نعمتِ رحمت جمیع کائنات کے لیے عام کر دی گئی۔ لہٰذا شبِ ولادت نفع رسانی میں کہیں زیادہ ہے، اور اِس اعتبار سے بھی یہ لیلۃ القدر سے افضل ٹھہری۔
(ذکرہ القسطلانی فی المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، 1/145، وعبد الحق الدہلوی فی ما ثبت مِن السنة فی أیّام السنة/59-60، والزرقانی فی شرح المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ، 1/ 255-256، والنبهانی فی جواہر البحار فی فضائل النبی المختار صلی الله علیه وآله وسلم، 3/424.)
مختلف فقہی ائمہ کی آراء
امام طحاوی بعض شوافع سے نقل کرتے ہیں کہ راتوں میں سے افضل ترین شبِ میلادِ رسول ﷺ ہے، پھر شبِ قدر، پھر شبِ اِسراء و معراج، پھر شبِ عرفہ، پھر شبِ جمعہ، پھر شعبان کی پندرہویں شب اور پھر شبِ عید ہے۔
(ذکرہ ابن عابدین فی رد المحتار علی در المختار علی تنویر الأبصار، 2/511، والشروانی فی حاشیة علی تحفة المحتاج بشرح المنہاج، 2/405، والنبهانی فی جواہر البحار فی فضائل النبی المختار صلی الله علیه وآله وسلم، 3/426.)
عظیم المرتبت ہستی کی شبِ ولادت
امام نبہانی اپنی مشہور تصنیف ’الأنوار المحمدیة من المواہب اللدنیة (ص: 28)‘ میں لکھتے ہیں: اور شبِ میلادِ رسول ﷺ شبِ قدر سے افضل ہے۔
(ماخوذ از میلادالنبی ﷺ مولف ڈاکٹر محمد طاہرالقادری)

❤جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضورﷺ جانتے ہیں❤❤تیری عطا سے خدایا حضورﷺ جانتے ہیں❤💚یہ ہرن کہنے لگی چھوڑ دے مجھے صیاد💚💚میں لوٹ آؤں ...
31/08/2025

❤جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضورﷺ جانتے ہیں❤
❤تیری عطا سے خدایا حضورﷺ جانتے ہیں❤

💚یہ ہرن کہنے لگی چھوڑ دے مجھے صیاد💚
💚میں لوٹ آؤں گی واللہ حضورﷺ جانتے ہیں💚

❤ہرن نے اونٹ نے چڑیوں نے کی یہ فریاد❤
❤ان کے غم کا مداوں حضورﷺ جانتے ہیں❤

💚کہاں مریں گے ابوجہل و عتبہ و شیبہ💚
💚کہ جنگ بدر کا نقشہ حضورﷺ جانتے ہیں💚

❤وہ مومنوں کی تو جانوں سے بھی قریب ہوئے❤
❤کہاں سے کس نے پکارا حضورﷺ جانتے ہیں❤

💚بروز حشر شفاعت کریں چن چن کہ💚
💚ہر اک غلام کا چہرہ حضورﷺ جانتے ہیں💚

💚وہ کتنا فاصلہ تھا کلام تھا کیسا؟💚
💚او ادنی او حی حضورﷺ جانتے ہیں💚

❤ملے تھے راہ میں نو بار کس لیے موسیٰ ؑ❤
❤یہ دید حق کا بہانہ حضورﷺ جانتے ہیں❤

💚اسی لیے تو سلایا ہے اپنے پہلو میں💚
💚یار غار کا رتبہ حضور ﷺ جانتے ہیں💚

❤عمرؓ تن سے جدا کر دیا تھا سر جس کا❤
❤وہ اپنا تھا کہ پرایا حضور ﷺ جانتے ہیں❤

💚نبی ﷺ کا فیصلہ نہ مان کر وہ جان سے گیا💚
💚مزاج عمر ؓ کا ہے کیسا حضور ﷺ جانتے ہیں💚

❤وہی ہیں پیکر شرم حیاء ذونورین ؓ❤
❤مقام ان کی حیاء کا حضور ﷺ جانتے ہیں❤

💚وہ خود شہید ہیں بیٹے نواسے پوتے شہید💚
💚علیؓ کی شان یگانہ حضور ﷺ جانتے ہیں💚

❤ہے جس کے مولا حضور ﷺ علیؓ ہیں اس کے مولا
❤ابو تراب ؓ کا رتبہ حضور ﷺ جانتے ہیں❤

💚میں ان کی بات کروں یہ کہاں میری اوقات💚
💚کہ شان فاطمہ زہرا ؓ حضور ﷺ جانتے ہیں💚

❤علی کون ہیں سردار ہیں نوجوانوں کے❤
❤حسن ؓ حسین ؓ کے نانا حضور ﷺ جانتے ہیں❤

💚صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم💚

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ❤
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد💚

وُلِدَ فِي مَكَّةَ فَأَصْبَحَتْ مُكَرَّمَةً،وہ مکہ میں پیدا ہوئے، تو مکہ معظم اور باعزت بن گیا۔وَعَاشَ فِي المَدِينَةِ ف...
30/08/2025

وُلِدَ فِي مَكَّةَ فَأَصْبَحَتْ مُكَرَّمَةً،
وہ مکہ میں پیدا ہوئے، تو مکہ معظم اور باعزت بن گیا۔

وَعَاشَ فِي المَدِينَةِ فَأَصْبَحَتْ مُنَوَّرَةً،
اور مدینہ میں زندگی گزاری، تو مدینہ روشن و منور ہو گیا۔

وَدَخَلَ قُلُوبَنَا فَأَصْبَحَتْ مُطَهَّرَةً.
اور جب وہ ہمارے دلوں میں اُترے، تو دل پاکیزہ ہو گئے...!!

محمّد صلی اللہ علیہ وسلم❤️

*ہر صدی میں میلاد النبی ﷺ*   حضور خیر الانام ﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پر مسرت وشادمانی کا اظہار کرنا جائز و مستحسن ہے،...
28/08/2025

*ہر صدی میں میلاد النبی ﷺ*
حضور خیر الانام ﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پر مسرت وشادمانی کا اظہار کرنا جائز و مستحسن ہے، عشاق مصطفی ﷺ اسی کو جشن میلاد سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ مبارک عمل قرآنی آیات و احادیث نبویہ اور افعال صحابہ وسلف صالحین سے ثابت ہے۔ ہر صدی کے علمائے کرام و مشائخ عظام، مفسرین و محدثین اور تمام عوام و خواص میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کا جشن مناتے رہے ہیں اور اس مبارک و مسعود موقع پر خوشی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ آنے والی سطروں میں قرآن و سنت اور ہر صدی کے جلیل القدر علماء و مشائخ کے ان اقوال و افعال کا ذکر کیا جاتا ہے جو میلاد النبی ﷺکے جواز اور اس پر اظہارفرح و مسرت کے واضح دلائل ہیں۔
قرآنی دلیل: اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
"قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا-" (پ۱۱، سورۃ يونس:۵۸)
ترجمہ: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔(کنز الایمان)
اس آیت مقدسہ میں ہمارا رب عز وجل ہمیں اپنے فضل اور رحمت پر خوشی کے اظہار کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمارے محبوب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی رحمت ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "وما ارسلناک إلا رحمۃ للعالمین"۔
لہذا اس صغری و کبری کو ملا کر نتیجہ "لیفرح المسلمون برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لأنہ رحمۃ من اللہ" نکلے گا۔ یعنی مسلمانوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشی منانا چاہیے کیونکہ آپ اللہ کی رحمت ہیں۔
اللہ سبحانہ و تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
’’وَافْعَلُوا الْخَیْرَلَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘۔ (سورۃ الحج: ۷۷)
ترجمہ: اور بھلے کام کرو اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو۔ (کنر الایمان)
اس آیت مقدسہ میں ہمارا رب عز و جل ہم کو بھلے کام کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ اور اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ پیارے آقا ﷺ کی ولادت پر خوشی منانا، اور حضور ﷺ کی آمد پر مسرت کا اظہار کرنا ، بھلا کام ہے، اس کو قلب سلیم رکھنے والا اچھا کام ہی کہے گا، اور اس کو برا وہی گردانے گا جس کو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہو۔
حدیث میں میلاد کا ذکر:
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
"وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج على حلقة من أصحابه فقال: ما أجلسكم؟ قالوا: جلسنا نذكر الله ونحمده على ما هدانا للإسلام ومنّ بک علينا، قال: آلله ما أجلسكم إلا ذاك؟ قالوا: آلله ما أجلسنا إلا ذاك، قال: أما إني لم أستحلفكم تهمة لكم، ولكنه أتاني جبريل فأخبرني أن الله يباهي بكم الملائكة" (سنن نسائی شریف، حدیث نمبر: ۵۴۴۱)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ جلسہ کیسا ہے؟ صحابۂ کرام نے عرض کی: ہم اللہ کا ذکر کر رہے تھے اور اس بات پر اللہ کی حمد و ثنا کر رہے تھے کہ اس نے ہمیں اسلام کی دولت سے نوازا اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی قسم لیکر صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم ہم اسی لیے (آپ کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے) بیٹھے ہیں۔ پھر پیارے آقا نے ارشاد فرمایا: میں نے تم سے کسی شک کی وجہ قسم نہیں لی، لیکن میرے پاس جبرئیل آئے اور مجھے خبر دی کہ اللہ رب العزت تمہارے اس عمل پر فرشتوں کے درمیان فخر فرما رہا ہے۔
اس حدیث پاک سے صاف طور پر واضح ہو گیا کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر مسجد نبوی شریف میں ذکر الہی کی محفل کا انعقاد کیا اور خوشی کا اظہار کیا، بلا شبہ یہ سب میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔ پھر مزید یہ کہ سرکار علیہ السلام نے اس مبارک عمل سے منع نہ فرمایا بلکہ قسم لیکر اس بات کو مؤکد فرما کر قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے میلاد کے جواز کی سند عطا فرما دی۔

پہلی صدی میں میلاد:
مذکورہ حدیث بھی پہلی صدی ہجری میں میلاد النبی کی واضح دلیل ہے، ایک دلیل اور پیش کی جاتی ہے، حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ (وفات: ۵۱؍ھ) روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نے ان سے بیان کیا:
شھدت آمنۃ رضی اللہ عنھا لما ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فلما ضربها المخاض نظرت إلی النجوم تدلي حتی إني لأقول: إنها لتقعن عليّ، فلما ولدت خرج منھا نور أضاء البیت الذي نحن فيه والدار، فما شيء أنظر إليه إلا نور۔ (البدایۃ والنھایۃ، ج:۲، ص:۲۶۴، بحوالہ میلاد رسول و عقائد صحابہ و اکابر، ص: ۵۳)

جب ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت آیا تو میں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر تھی، میں دیکھ رہی تھی کہ ستارے آسمان سے ڈھلک کر زمین سے قریب ہو رہے ہیں ، یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے اوپر گر پڑیں گے۔ پھر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاک ہوئی تو سیدہ آمنہ سے ایسا نور نکلا جس سے وہ پورا گھر جس میں ہم تھے اور حویلی جگمگ کرنے لگی اور مجھے ہر ایک چیز میں نور ہی نور نظر آیا۔
حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ سے ان کی والدہ کا پہلی صدی ہجری میں مصطفی کریم ﷺکی ولادت با سعادت کے مناظر کا تذکرہ کرنا ، ذکر میلاد ہی ہے، اور اسی ذکر کو چودہ صدیوں بعد بھی اہل سنت برقرار رکھے ہوئے ہیں، یعنی اہل سنت کا یہ عمل اتباع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہے، بدعت نہیں۔
دوسری صدی میں میلاد:
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ (وفات: ۱۵۰ھ) قصیدۂ نعمانیہ کے شعر نمبر :۴/۵/۱۲؍میں میلاد کا یوں ذکر فرماتے ہیں:
أنـت الـــذي لـــولاك مـــا خــلـــق امــــرا
كـــــلا ولا خـــلـــق الـــورى لـــولا كــــا
أنـت الــذي مــن نــورك الــبــدر اكـتـسـى
والــشــمـــس مـشــرقـة بـنــور بـهـاكــــا
وبـــك الـــمســيـح أتـي بـشـيــرا مـخبـرا
بـصـفـات حــســنــك مــادحـا بـعـلاكــا
ترجمہ:
یا رسول اللہﷺ! آپ ہی وہ ذات ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا، اور آپ پیدا نہ ہوتے تو کچھ بھی پیدا نہ کیا جاتا۔
آپ وہ ہیں جن کے نور سے چودہویں کا چاند منور ہے، اور آپ ہی کے نور سے سورج روشن ہے۔
اور حضرت عیسی علیہ السلام آپ کی خوشخبری سنانے آئے اور آپ کی حسن صفات کی خبر لیکر آئے۔
(قصیدۂ نعمانیہ،شعر نمبر۴:/۵/۱۲)
حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ عنہ (وفات: ۲۰۴ھ) اپنے ایک عربی شعر میں میلاد النبیﷺ کا ذکر یوں کرتے ہیں:
واهــتـــزت الأرض إجـــلالاً لـمــولــده
شــبــيــهــةً بــعــروس هــزّهــا الــطـرب
ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے احترام میں زمین ایسے جھومنے لگی، جیسے دلہن خوشی سے جھومتی ہے۔
تیسری صدی میں میلاد:
حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ (وفات: ۲۴۱ھ) فرماتے ہیں:
’’شب جمعہ، شب قدر سے افضل ہے کیونکہ جمعہ کی رات سرکار علیہ السلام کا وہ نور پاک اپنی والدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہما کے مبارک رحم میں منتقل ہوا جو دنیا و آخرت میں ایسی برکات کا سبب ہے جو کسی گنتی و شمار میں نہیں آ سکتیں۔(اشعتہ اللمعات، بحوالہ میلاد رسول و عقائد صحابہ و اکابر، ص: ۶۶)
تیسری صدی ہجری میں حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کا مصطفی کریمﷺ کے نور پاک کا ذکر کرنا، یہ میلاد مصطفی ﷺ کی ایک صورت ہے۔
چھوتھی صدی میں میلاد:
حضرت امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۳۱۰ھ) اپنی کتاب تاریخ الطبری (تاریخ الرسل والملوک) میں لکھتے ہیں:
’’عن عمر رحمہ اللہ أنہ قال للنبي ﷺ : یا نبي اللہ! صوم الإثنین؟ ذلک یوم ولدت فیہ ، و یوم أنزلت علي فیہ النبوۃ‘‘۔ (تاریخ الطبری، ج: ۲، ص: ۴۳)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے پیارے آقاﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کا سبب دریافیت کیا تو سرکار ﷺ نے فرمایا: اس دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر اللہ رب العزت نے وحی نازل فرمائی ہے۔
امام طبری رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۳۱۰ھ) کا اس روایت کو ذکر کرنا اس بات پر دال ہے کہ مصطفی کریم ﷺ اپنی ولادت کی خوشی میں رب تبارک و تعالی کا شکر کرنے کے لیے روزہ رکھتے۔ یہ اگرچہ ذکر حدیث رسول ﷺ کا ہو رہا ہے، مگر یہ ذکر امام طبری چوتھی صدی ہجری میں کر رہے ہیں، اور اس حدیث کو ذکر کرکے چوتھی صدی میں میلاد مصطفی ﷺ منا رہے ہیں۔
پانچویں صدی میں میلاد:
حضرت امام حافظ ابو نعیم احمد بن عبد اللہ مہرانی اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۴۳۰ھ) اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں لکھتے ہیں:
’’عن حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ قال: واللہ إنی لغلام یفعۃ ابن ثمان سنین،أعقل ما سمعت ، إذ سمعت یھودیا یصرخ علی أطمۃ یثرب: یا معشر الیھود! حتی اجتمعوا إلیہ، فقالوا لہ : ویلک ما لک؟ قال: طلع اللیلۃ نجم أحمد الذي ولد بہ‘‘۔
(دلائل النبوۃ لأبي نعیم الأصفہانی، ص: ۷۵، دار النفائس بیروت)
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں: میں آٹھ سال کا نو خیز لڑکا تھا، ان دنوں میں جو بات سن لیتا اسے یاد رکھتا تھا۔ ایک روز میں نے ایک یہودی کو مدینے کے قلعہ پر چڑھ کر یہ چیخ و پکار کرتے سنا۔ اے یہود! اے یہود! لوگ اس کے پاس جمع ہو گئے اور کہنے لگے تیری خرابی ہو تجھے کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا: آ ج رات وہ ستارہ طلوع ہو گیا ہے جسے احمد (ﷺ) کی ولادت پر طلوع ہونا تھا۔

اس روایت میں امام حافظ ابو نعیم احمد بن عبد اللہ مہرانی اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۴۳۰)نے میلاد مصطفی ﷺ کا ذکر کیا ہے اور میلاد مصطفی ﷺ پر ایک یہودی کی خوشی کا تذکرہ کیا ہے،جب ایک یہودی مصطفی کریمﷺ کے میلاد پر خوشی منا سکتا ہے تو سرکار ﷺ کا امتی بدرجۂ اولی میلاد پر خوشی کا اظہار کر سکتا ہے۔ یہ روایت بھی اگرچہ عہد ماضی کی ایک حکایت کو بیان کر رہی ہے،مگر اس روایت کو امام اصفہانی پانچویں صدی میں بیان کرکے میلاد مصطفی ﷺ منا رہے ہیں، یہی تو ہم سنی کرتے ہیں کہ سرکار ﷺ کے احوال بیان کرتے ہیں، سرکار ﷺ کی نعتیں پڑھتے ہیں اور جن احادیث میں حضور ﷺ کی آمد کا تذکرہ ہے ان کوبیان کرکے میلاد مناتے ہیں۔

چھٹی صدی میں میلاد:
حجۃ الدین امام ابو عبد اﷲ محمد بن عبد اﷲ بن ظفر المکی (وفات: ۵۶۵ھ) کہتے ہیں کہ الدر المنتظم میں ہے :
وقد عمل المحبون للنبي صلي الله عليه وآله وسلم فرحاً بمولده الولائم، فمن ذلک ما عمله بالقاهرة المعزّية من الولائم الکبار الشيخ أبو الحسن المعروف بابن قُفل قدّس اﷲ تعالي سره، شيخ شيخنا أبي عبد اﷲ محمد بن النعمان، وعمل ذلک قبلُ جمال الدين العجمي الهمذاني. وممن عمل ذلک علي قدر وسعه يوسف الحجّار بمصر، وقد رأي النبي صلي الله عليه وآله وسلم وهو يحرّض يوسف المذکور علي عمل ذلک۔
’’اہلِ محبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی میں دعوتِ طعام منعقد کرتے آئے ہیں۔ قاہرہ کے جن اَصحابِ محبت نے بڑی بڑی ضیافتوں کا انعقاد کیا ان میں شیخ ابو الحسن بھی ہیں جو کہ ابن قفل قدس اﷲ تعالیٰ سرہ کے نام سے مشہور ہیں اور ہمارے شیخ ابو عبد اللہ محمد بن نعمان کے شیخ ہیں۔ یہ عمل مبارک جمال الدین عجمی ہمذانی نے بھی کیا اور مصر میں سے یوسف حجار نے اسے بہ قدرِ وسعت منعقد کیا اور پھر انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (خواب میں) دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوسف حجار کو عملِ مذکور کی ترغیب دے رہے تھے۔‘‘
(سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ،ج:۱ ، ص: ۳۶۳)
ساتویں صدی میں میلاد:
حضرت امام حافظ شمس الدین محمد بن عبد اﷲ الجزری الشافعی (وفات: ۶۶۰ھ) اپنی تصنیف ’’عرف التعریف بالمولد الشریف‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ فقال : في النار، إلا أنه يخفّف عني کل ليلة اثنين، وأمص من بين أصبعي هاتين ماء بقدر هذا. وأشار برأس إصبعه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عند ما بشرتني بولادة النبي صلي الله عليه وآله وسلم و بإرضاعها له۔
نکتۃ: فإذا کان أبولهب الکافر الذي نزل القرآن بذمه جوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم به، فما حال المسلم الموحد من أمة النبي صلي الله عليه وآله وسلم يسر بمولده، وبذل ما تصل إليه قدرته في محبته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري إنما يکون جزاؤه من اﷲ الکريم أن يدخله بفضله جنات النعيم۔
(عرف التعریف بالمولد الشریف،ص: ۹؍۱۰)
’’ابولہب کو مرنے کے بعد خواب ميں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ کہنے لگا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن میرے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ اُنگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ (ہر پیر کو) میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے جسے میں پی لیتا ہوں اور یہ تخفیفِ عذاب میرے لیے اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ کو دودھ بھی پلایا تھا۔
نکتہ: ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں اُس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت میں قرآن حکیم میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمت محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائے گا۔‘‘
آٹھویں صدی میں میلاد:
حضرت امام تقی الدین ابو الحسن علی بن عبد الکافی السبکی (وفات: ۷۵۵ھ) کے بارے میں شیخ اِسماعیل حقی (وفات: ۱۱۳۷ھ) فرماتے ہیں:
وقد اجتمع عند الإمام تقي الدين السبکي جمع کثير من علماء عصره، فأنشد منشد قول الصرصري في مدحه عليه السلام :
قليل لمدح المصطفي الخط بالذهب
علي ورق من خط أحسن من کتب
وإن تنهض الأشراف عند سماعه
قياما صفوفا أو جثيا علي الرکب
( تفسير روح البيان، ج:۹، ص: ۵۶)

’’اِمام تقی الدین سبکی کے ہاں اُن کے معاصر علما کا ایک کثیر گروہ جمع ہوتا اور وہ سب مل کر مدحِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اِمام صرصری حنبلی کے درج ذیل اشعار پڑھتے :
(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں چاندی کے ورق پر سونے کے پانی سے اچھے خوش نویس کے ہاتھ سے نہایت خوبصورت انداز میں لکھنا بھی کم ہے، اور یہ بھی کم ہے کہ دینی شرف والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر جمیل کے وقت صفیں بنا کر کھڑے ہوجائیں یا گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں۔)
نویں صدی میں میلاد:
حضرت علامہ حافظ اِبن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۸۵۲) کا استدلال نقل کرتے ہوئے امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
وقد سئل شيخ الإسلام حافظ العصر أبوالفضل ابن حجر عن عمل المولد، فأجاب بما نصه : قال :وقد ظهر لي تخريجها علي أصل ثابت، وهو ما ثبت في الصحيحين من : ’’أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قدم المدينة، فوجد اليهود يصومون يوم عاشوراء، فسألهم، فقالوا : هو يوم أغرق اﷲ فيه فرعون، ونجي موسي، فنحن نصومه شکرًا ﷲ تعالي۔ فيستفاد منه فعل الشکر ﷲ تعالي علي ما منَّ به في يوم معين من إسداء نعمة، أو دفع نقمة، ويعاد ذلک في نظير ذلک اليوم من کل سنة۔ والشکر ﷲ تعالي يحصل بأنواع العبادات کالسجود والصيام والصدقة والتلاوة، وأيّ نعمة أعظم من النعمة ببروز هذا النبي صلي الله عليه وآله وسلم الذي هو نبي الرحمة في ذلک اليوم۔ وعلي هذا فينبغي أن يتحري اليوم بعينه، حتي يطابق قصة موسي عليه السلام في يوم عاشوراء۔ ومن لم يلاحظ ذلک لا يبالي بعمل المولد في أيّ يوم في الشهر، بل توسَّع قوم حتي نقلوه إلي يوم من السنة۔ وفيه ما فيه. فهذا ما يتعلق بأصل عمل المولد۔ وأما ما يُعمل فيه فينبغي أن يقتصر فيه علي ما يفهم الشکر ﷲ تعالي من نحو ما تقدم ذکره من التلاوة، والإطعام، والصدقة، وإنشاد شيء من المدائح النبوية والزهدية المحرکة للقلوب إلي فعل الخيرات والعمل للآخرة۔(حسن المقصد فی عمل المولد، ص: ۶۳؍ ۶۴)
شیخ الاسلام حافظ العصر ابو الفضل ابن حجر سے میلاد شریف کے عمل کے حوالے سے پوچھا گیا تو آپ نے اس کا جواب کچھ یوں دیا : ’’مجھے میلاد شریف کے بارے میں اصل تخریج کا پتہ چلا ہے۔ ’’صحیحین‘‘ سے ثابت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس پر وہ عرض کناں ہوئے کہ اس دن اﷲ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی، سو ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر بجا لانے کے لیے اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کسی اِحسان و اِنعام کے عطا ہونے یا کسی مصیبت کے ٹل جانے پر کسی معین دن میں اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لانا اور ہر سال اس دن کی یاد تازہ کرنا مناسب تر ہے۔
اﷲ تعالیٰ کا شکر نماز و سجدہ، روزہ، صدقہ اور تلاوتِ قرآن و دیگر عبادات کے ذریعہ بجا لایا جا سکتا ہے اور حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے بڑھ کر اﷲ کی نعمتوں میں سے کون سی نعمت ہے؟ اس لیے اس دن ضرور شکرانہ بجا لانا چاہیے۔اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسی معین دن کو منایا جائے تاکہ یومِ عاشوراء کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے مطابقت ہو۔
اور اگر کوئی اس چیز کو ملحوظ نہ رکھے تو میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کو ماہ کے کسی بھی دن منانے میں حرج نہیں بلکہ بعض نے تو اسے یہاں تک وسیع کیا ہے کہ سال میں سے کوئی دن بھی منا لیا جائے۔ پس یہی ہے جو کہ عملِ مولد کی اصل سے متعلق ہے۔ جب کہ وہ چیزیں جن پر عمل کیا جاتا ہے ضروری ہے کہ ان پر اکتفا کیا جائے جس سے شکرِ خداوندی سمجھ آئے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ (ان میں) ذکر، تلاوت، ضیافت، صدقہ، نعتیں، صوفیانہ کلام جو کہ دلوں کو اچھے کاموں کی طرف راغب کرے اور آخرت کی یاد دلائے (وغیرہ جیسے اُمور شامل ہیں)۔
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ الرحمن (وفات: ۹۱۱ھ)اپنی کتاب ’’حسن المقصد فی عمل المولد‘‘ میں ایک مقام پر آپ یوں ارشاد رفرماتے ہیں:
وظهر لي تخريجه علي أصلٍ آخر، وهو ما أخرجه البيهقي، عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم عقّ عن نفسه بعد النبوة. مع أنه قد ورد أن جده عبد المطلب عقّ عنه في سابع ولادته، والعقيقة لا تعاد مرة ثانية، فيحمل ذلک علي أن الذي فعله النبي صلي الله عليه وآله وسلم إظهارًا للشکر علي إيجاد اﷲ تعالي إياه، رحمة للعالمين وتشريفًا لأمته، کما کان يصلي علي نفسه، لذلک فيستحب لنا أيضًا إظهار الشکر بمولده باجتماع الإخوان، وإطعام الطعام، ونحو ذلک من وجوه القربات، وإظهار المسرات۔

’’يوم میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے حوالے سے ایک اور دلیل جو مجھ پر ظاہر ہوئی ہے وہ ہے جو امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ کیا باوُجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبد المطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ کر چکے تھے۔ اور عقیقہ دو (۲) بار نہیں کیا جاتا۔ پس یہ واقعہ اِسی چیز پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ اپنا عقیقہ کرنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکرانے کا اِظہار تھا اس بات پر کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کے شرف کا باعث بنایا۔ اسی طرح ہمارے لیے مستحب ہے کہ ہم بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت پر خوشی کا اِظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات بجا لائیں اور خوشی کا اظہار کریں۔‘‘ ( حسن المقصد في عمل المولد، ص:۶۴؍۶۵ )
دسویں صدی میں میلاد:
حضرت علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۱۰۱۴ھ) نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک گراں قدر کتاب ’’المورد الروي فی مولد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ونسبہ الطاھر‘‘ مرتب کی ہے۔ اس کتاب میں ایک مقام پر آپ لکھتے ہیں :
’’و في قوله تعالي : لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْل،إشعار بذلک وإيماء إلي تعظيم وقت مجيئه إلي هنالک. قال : وعلي هذا فينبغي أن يقتصر فيه علي ما يفهم الشکر ﷲ تعالي من نحو ما ذکر، وأما ما يتبعه من السماع واللهو وغيرهما فينبغي أن يقال ما کان من ذلک مباحًا بحيث يعين علي السرور بذلک اليوم فلا بأس بإلحاقه، وما کان حرامًا أو مکروها فيمنع. وکذا ما کان فيه خلاف، بل نحسن في أيام الشهر کلها و لياليه يعني کما جاء عن ابن جماعة تمنيه فقد اتصل بناأن الزاهد القدوة المعمر أبا إسحاق إبراهيم بن عبد الرحيم بن إبراهيم بن جماعة لما کان بالمدينة النبوية علي ساکنها أفضل الصلاة وأکمل التحيّة کان يعمل طعامًا في المولد النبوي ويطعم الناس ويقول : لو تمکنت عملت بطول الشهر کل يوم مولدًا۔
قلت : وأنا لما عجزت عن الضيافة الصورية کتبت هذه الأوراق لتصير ضيافة معنوية نورية مستمرة علي صفحات الدهر غير مختصة بالسنة والشهر وسميته : بالمورد الروي في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ۔( المورد الروي في مولد النبيﷺونسبه الطاهر : ۱۷)
’’فرمانِ باری تعالی۔ بے شک تمہارے پاس (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ میں یہی خبر و اشارہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت کی تعظیم بجا لائی جائے اور اس لیے ضروری ہے کہ اظہارِ تشکر میں مذکورہ صورتوں پر اکتفا کیا جائے۔ جہاں تک سماع اور کھیل کود کا تعلق ہے تو کہنا چاہیے کہ اس میں سے جو مباح اور جائز ہے اور اس دن کی خوشی میں ممدو معاون ہے تو اُسے میلاد کا حصہ بنانے میں کوئی حرج نہیں اور جو حرام اور مکروہ ہے اس سے منع کیا جائے۔ یونہی جس میں اختلاف ہے بلکہ ہم تو اس مہینے میں تمام شب و روز میں یہ عمل جاری رکھتے ہیں جیسا کہ ابن جماعہ نے فرمایا۔ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ زاہد، قدوہ، معمر ابو اسحاق ابراہیم بن عبدالرحیم بن ابراہیم بن جماعہ جب مدینۃ النبی۔ اُس کے ساکن پر افضل ترین درود اور کامل ترین سلام ہو۔ میں تھے تو میلادِ نبوی کے موقع پر کھانا تیار کرکے لوگوں کو کھلاتے اور فرماتے : اگر میرے بس میں ہوتا تو پورا مہینہ ہر روز محفلِ میلاد کا اہتمام کرتا۔
’’میں کہتا ہوں : جب میں ظاہری دعوت و ضیافت سے عاجز ہوں تو یہ اَوراق میں نے لکھ دیے تاکہ میری طرف سے یہ معنوی و نوری ضیافت ہو جائے جو زمانہ کے صفحات پر ہمیشہ باقی رہے، محض کسی سال یا مہینے کے ساتھ ہی خاص نہ ہو۔ اور میں نے اس کتاب کا نام ’’المورد الروي في مولد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ رکھا ہے۔‘‘
گیارہویں صدی میں میلاد:
امام ربانی ، مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۱۰۳۴ھ) مکتوبات شریف میں میلاد النبی ﷺ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’نفس قرآن خواند بصوت حسن و در قصائد و منقبت چہ مضائقہ است‘‘۔
اچھی آواز کے ساتھ قرآن مجید، قصیدے، نعت شریف اور فضائل بیان کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟۔
حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۱۰۵۲ھ) لکھتے ہیں:
’’ومما جرّب من خواصه أنه أمان في ذلک العام وبشري عاجل بنيل البغية والمرام، فرحم اﷲ امرأ اتخذ ليالي شهر مولده المبارک أعياداً ليکون أشد غلبة علي من في قلبه مرض وعناد۔‘‘ ( ما ثَبَت مِن السُّنّة في أيّام السَّنَة ، ص: ۶۰)
𝒩𝒶𝒶𝓉 𝒜𝒸𝒶𝒹ℯ𝓂𝓎

میلاد شریف منانے کے خصوصی تجربات میں محفلِ میلاد منعقد کرنے والے سال بھر امن و عافیت میں رہتے ہیں اور یہ مبارک عمل ہر نیک مقصد میں جلد کامیابی کی بشارت کا سبب بنتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اُس پر رحمتیں نازل فرماتا ہے جو میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب بہ طور عید مناتا ہے، اور جس (بدبخت) کے دل میں عناد اور دشمنی کی بیماری ہے وہ اپنی دشمنی میں اور زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔‘‘
بارہویں صدی میں میلاد:
امام محمد زرقانی علیہ الرحمہ (وفات: ۱۱۲۲ھ) ’’شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’يهتمون بشهر مولده عليه الصلوة والسلام ويعملون الولائم ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور به، ويزيدون في المبرات ويعتنون بقراء ة قصة مولده الکريم ويظهر عليهم من برکاته کل فضل عميم۔‘‘( شرح المواہب اللدنيۃ بالمنح المحمديۃ، ج:۱؍، ص: ۲۶۲)
لوگ (آج بھی) ماہِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اجتماعات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور اس کی راتوں میں طرح طرح کے صدقات و خیرات دیتے ہیں اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کثرت کے ساتھ نیکیاں کرتے ہیں اور مولود شریف کے واقعات پڑھنے کا اِہتمام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی خصوصی برکات اور بے پناہ فضل و کرم اُن پر ظاہر ہوتا ہے۔
تیرہویں صدی میں میلاد:
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ (وفات: ۱۲۳۹ھ) فرماتے ہیں:
’’ وبرکة ربيع الأول بمولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيه ابتداء وبنشر برکاته صلي الله عليه وآله وسلم علي الأمة حسب ما يبلغ عليه من هدايا الصلٰوة والإطعامات معا۔
اور ماہِ ربیع الاول کی برکت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میلاد شریف کی وجہ سے ہے۔ جتنا اُمت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیۂ درود و سلام اور طعاموں کا نذرانہ پیش کیا جائے اُتنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکتوں کا اُن پر نزول ہوتا ہے۔‘‘ (فتاوی عزیزی، ج: ۱، ص: ۱۶۳)
چودہویں صدی میں میلاد:
امام اہل سنت، اعلی حضرت، امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان (وفات: ۱۳۴۰ھ) میلاد النبی ﷺ کے متعلق اپنی ایک ایمان افروز تقریر میں فرماتے ہیں:
’’یہ مجلس (مجلس میلاد النبی ﷺ) آج سے نہیں، حضرت آدم علیہ السلام نے خود کی اور کرتے رہے اور ان کی اولاد میں برابر ہوتی رہی۔ ‘‘ اور فرماتے ہیں: ’’جب ولادت شریف کا زمانہ قریب آیا، تمام ملک و ملکوت میںمحفل میلادتھی، عرش پر محفل میلاد، فرش پر محفل میلاد، اور ملائکہ میں مجلس میلاد ہو رہی تھی۔‘‘ اور فرماتے ہیں: شیاطین کو اس وقت جلن ہوئی اور اب بھی جو شیاطین ہیں جلتے ہیں اور جلتے رہیں گے۔
(ماخوذ از:المیلاد النبویۃ فی الالفاظ الرضویۃ، مطبوعہ رضا اکیڈمی، سن اشاعت ۱۴۱۸ھ)
امام اہل سنت اپنے اشعار میں بھی میلاد النبی ﷺ کا جا بجا ذکر فرماتے ہیں:شعر؎
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولی کی دھوم
مثل فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
اور فرماتے ہیں:
مثل فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکر آیات ولادت کیجیے
حضور صدر الافاضل، علامہ سید محمد نعیم الدین محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ (وفات: ۱۳۶۷ھ) فرماتے ہیں:
’’حضور اکرم ﷺ کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار و فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے۔ (خزائن العرفان، تحت آیت : ۱۴، سورۃ المائدۃ)
پندرہویں اور موجودہ صدی میں میلاد:
پندرہویں صدی ہجری یعنی موجودہ صدی میں ہمارا مشاہدہ ہے کہ بڑے بڑے علمائے اہل سنت محافل میلاد مصطفی ﷺ کا انعقاد کرتے ہیں، جلوس محمدی میں شرکت کرتے ہیں اورفرح و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔اور یہ جشن صرف بر صغیر ہی میں نہیں منایا جاتا بلکہ یمن،ترکی،مصر،شام،برطانیہ و دیگر عربی و انگلش ممالک میں بھی خوب دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، مزید یہ کہ اس موضوع پر ہر شہر کے علما کی تصانیف،مقالات یا تقاریر موجود ہیں، جو اس بات پر دال ہیں کہ موجودہ صدی کے جملہ علمائے اہل سنت کے نزدیک بالاتفاق جشن میلاد النبیﷺ منانا جائز و مستحسن اور کار ثواب اور سعادت دارین کے حصول کا سبب ہے۔

الانتباہ: مذکورہ تمام دلائل و براہین سے ثابت ہوا کہ ہر صدی میں عشاق مصطفی ﷺ میلاد پر خوشی مناتے رہے ہیں،اور یہ جشن منانا شریعت مطہرہ کے عین مطابق ہے، اور منشائے الہی یہی ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ کی آمد کے چرچے کرے جائیں، سرکار ﷺ کی آمد پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا جائے۔ اور جو اسے بدعت و نا جائز کہے وہ امت کے تمام اکابر کے طریقے پر نہیں ہے بلکہ ابلیس کے نقش قدم پر چل رہا ہے، اس کے لیے بس یہی کہوں گا:
نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول
سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں

Address

Jhang Sadar

Telephone

+923455189069

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Soz e saqib posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share