The Simple Path

The Simple Path Sharing reminders, Quran, Hadith, and beneficial knowledge to strengthen our Imaan and live a better Islamic life.

Empowering others to understand the true, simple path of Islam through the Quran and Sunnah.

28/08/2026
28/08/2026

*برکت کیا ہے؟* 🌧️

*برکت کا مطلب صرف "زیادہ ہونا" نہیں ہے۔*

*برکت کی اصل تعریف:*
*"تھوڑے میں بہت کا مزہ آ جانا"*
*"اللہ کا وہ نور جو چیز میں ڈال دے تو وہ نفع دینے لگ جائے"*

*برکت کی 5 نشانیاں:*

1. *وقت میں برکت*
کام کم ہو، لیکن دن میں اتنا سکون اور کام ہو جائے جتنا پہلے 2 دن میں نہیں ہوتا تھا۔ نماز، ذکر، فیملی سب کے لیے وقت نکل آتا ہے۔

2. *رزق میں برکت*
تنخواہ وہی ہے، لیکن مہینہ پورا گزر جاتا ہے۔ گھر میں سکون ہے، قرض نہیں، بیماریاں کم ہیں۔ 10 ہزار میں وہ سکون جو 1 لاکھ میں بھی نہیں تھا۔

3. *علم میں برکت*
1 آیت پڑھو تو دل بدل جائے۔ 1 بات سنو تو زندگی کا رخ مڑ جائے۔ رٹا نہیں، سمجھ اور عمل آ جائے۔

4. *اولاد میں برکت*
بچے فرمانبردار، مہذب اور والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنیں۔ شور کم، دعائیں زیادہ۔

5. *دل میں برکت*
حسد، غصہ، بےچینی ختم۔ دل میں اللہ کی رضا اور شکر آ جائے۔ نیند سکون کی آئے۔

*برکت کیسے آتی ہے؟*

برکت لانے والے کام برکت چھیننے والے کام
**حلال رزق** کھانا حرام کمائی
**نماز وقت پر** نماز میں سستی
**والدین کی خدمت** والدین کو اف کرنا
**صدقہ دینا** بخل کرنا
**شکر کرنا** شکایت کرنا
**صبح جلدی اٹھنا** رات دیر تک جاگنا

*سب سے بڑی بات:*
*برکت پیسے سے نہیں ناپی جاتی۔*
ایک غریب کا گھر جس میں محبت، عزت اور سکون ہے وہ لاکھوں والے محل سے زیادہ "بابرکت" ہے۔

*دعا:* _اللھم بارک لنا فی ما رزقتنا_
"اے اللہ! جو تو نے ہمیں دیا ہے اس میں برکت عطا فرما" 🤲

اللہ ہمارے وقت، رزق، صحت اور تعلقات سب میں برکت ڈال دے۔ آمین

28/08/2026

حبیب بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ کا تڑپا دینے والا واقعہ جسے پڑھ کر آنکھوں سے آنسو جاری جائیں۔👇😓
دل ہلا دینے والا واقعہ
مسیلمہ کذاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا
میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات
ظاہری " میں ہیں ، آپ نبی ہیں ۔ جب آپکا وصال ہوجائے تو میں نبی یا یہ معاہدہ کر لیں کہ آدھے عرب کے آپ نبی --- آدھے عرب کا معاذ اللہ میں نبی
اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے جھوٹا ہے
جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے کون لے " .. "کے جائے گا یہ خط اس کتاب کے دربار میں
آپ اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے ۔ ایک صحابی تھے چابڑی فروش سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے - - - گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کچھور کھا رہے تھے فتافت اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا
حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاونگا " جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ایک صحابی کہنے لگے اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے " . بڑی جلدی ہے تجھے " " بولنے کی
مسکرا کے کہنے لگے اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گئی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے " ... (اللہ اکبر)
حضور ﷺ نے اپنا نیزہ دیا گھوڑا دیا اور فرمایا ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر " وہ صحابی عقیدت سے ناظرین چھکا کہنے لگے محبوب خدا ! آپ فکر ہی نا کریں
صحابہ کہتے ہے وہ اس طرح نکلا جیسے کوئی جرنیل نکلتا ہے اسکا انداز ہی بدل گیا اس کے طور طریقے بدل گئے وہ یوں نکلے جیسے کوئی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گئے، وہاں ایک شخص جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے
وہ صحابی جن کا نام حضرت حبیب بن زید " تھا جب وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا
مسلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے ۔ کون بو "
آپ نے غراتے ہوئے فرمانے لگے تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا " نوکر ہو، ہمارے تو چہرے بتاتے ہے کہ نبی ﷺوالے ہے ، تجھے پتہ نہیں چلا
میں کون ہوں
" مسلمہ کہنے لگا .. کیسے آئے ہو ؟
بے نیازی سے فرمایا یہ تیرے خط کا جواب لے کے آیا ہوں" ۔
بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے. ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ ۔ " پڑھو " . جب اس نے خط پڑھا تو اسمیں یہ بھی لکھا تھا : " تو کذاب ہے
یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی حضرت حبیب بن زید تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے اٹھا اور کہنے لگا وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگئیں سامنے
تیرے نبی نے مجھے کذاب " کہا ہے تیرا کیا خیال ہے " ؟؟ حبيب بن زيد مسكرا کے فرمانے لگے
خیال والی بات ہی کوئی نہیں جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے۔ تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا
مسلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا تو پیچھے پلٹ کے دیکھ ، سارے میرے سیاہی میرے پہرے دار " تلواریں نیزے خنجر تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں
حضرت حبیب بن زید رض فرمانے لگے
میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہے جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا میں جب رسول اللہ ﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں جو جی میں آتا ہے کر غلام محمد ﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے
مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا اب بول اب تیرا کیا خیال ہے ؟؟؟ " آپ فرمانے لگے
تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک " سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا
مسلمہ نے پھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیا کہنے لگا میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا " آپ فرمانے لگے
تو بڑا نادان ہے ، ان کو ڈراتا ہے جو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی " دعا بی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے
مسلمہ کذاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا " میں تیری گردن کاٹ دونگا " حبیب بن زید فرمانے لگے
" کانٹتا کیوں نہیں
روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانیے تھے ۔
تلوار چلایی گردن کٹ گئی ، ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آئے ، صحابہ کرام رض نے پوچھا " یا رسول اللہ کیا ہوا
فرمایا
میرا حبیب شہید ہو گیا ہے اور رب کریم نے اس کے لئے " "جنت کے سارے دروازے کھول دئے ہیں

28/08/2026

النَّمِيمَةُ — وہ بات جو رشتوں میں آگ لگا دیتی ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کبھی انسان کسی کو مارے بغیر، کوئی نقصان پہنچائے بغیر، صرف چند الفاظ سے دو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دیتا ہے۔

ایک جملہ بولا جاتا ہے، بات ایک شخص سے دوسرے تک پہنچتی ہے، اور پھر دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔

قرآن و سنت کی زبان میں اس خطرناک عمل کو النَّمِيمَةُ یعنی چغلی کہا جاتا ہے۔

چغلی صرف کسی کی بات دوسرے تک پہنچانے کا نام نہیں۔ جب کسی کی بات اس مقصد سے دوسرے شخص تک پہنچائی جائے کہ ان کے درمیان جھگڑا، نفرت یا دوری پیدا ہو، تو یہ نمیمہ ہے۔

ایک چھوٹی سی بات، بڑا نقصان

فرض کریں دو بھائی بہت محبت سے رہتے ہیں۔

ایک دن کوئی شخص ایک بھائی کے پاس جا کر کہتا ہے:

“تمہیں پتا ہے، تمہارا بھائی تمہارے بارے میں یہ کہہ رہا تھا…”

بس، اتنی سی بات۔

اب اس بھائی کے دل میں شک پیدا ہو گیا۔

وہ سوچنے لگا:

“کیا واقعی میرے بھائی نے ایسا کہا ہے؟”

پھر بات بڑھتی ہے، ناراضی پیدا ہوتی ہے اور رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔

ممکن ہے جس بات کو لے کر جھگڑا ہوا، وہ پوری بات ہی نہ ہو۔ ممکن ہے الفاظ بدل دیے گئے ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ بات سچی ہو، لیکن اسے پہنچانے کا مقصد صرف فساد پیدا کرنا ہو۔

اسی لیے زبان سے نکلی ہوئی بات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

قرآن نے چغلی کرنے والے کو سخت الفاظ میں بیان کیا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ

یعنی ایسا شخص جو عیب نکالتا اور چغلی لے کر پھرتا ہے۔

(سورۃ القلم: 11)

غور کریں، قرآن نے صرف یہ نہیں کہا کہ وہ کبھی چغلی کرتا ہے، بلکہ فرمایا:

مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ

یعنی وہ چغلی لے کر چلتا پھرتا ہے۔

ایک جگہ سے بات سنتا ہے، دوسری جگہ پہنچاتا ہے، پھر وہاں کی بات کسی اور تک پہنچاتا ہے۔

یوں وہ لوگوں کے درمیان شک اور نفرت پھیلاتا رہتا ہے۔

غیبت اور نمیمہ میں فرق

یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔

غیبت یہ ہے کہ کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی ایسی بات بیان کی جائے جو اسے بری لگے۔

جبکہ نمیمہ میں ایک شخص کی بات دوسرے شخص تک اس طرح پہنچانا شامل ہے کہ ان دونوں کے درمیان فساد یا دشمنی پیدا ہو۔

مثلاً:

“فلاں شخص تمہارے بارے میں یہ کہہ رہا تھا…”

اگر اس بات کا مقصد دونوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا ہے تو یہ نمیمہ ہے۔

نبی ﷺ نے اس گناہ سے خبردار فرمایا

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے۔

ان میں سے ایک شخص نمیمہ کیا کرتا تھا۔

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جس کام کو ہم کبھی معمولی سمجھ لیتے ہیں، اللہ کے ہاں وہ بہت سنگین ہو سکتا ہے۔

اس لیے یہ سوچنا درست نہیں:

“میں نے تو صرف بات ہی کی تھی۔”

کبھی ایک بات انسان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔

آج نمیمہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہے

پہلے چغلی ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچتی تھی۔

آج ہمارے ہاتھ میں موبائل ہے۔

واٹس ایپ، فیس بک، گروپس، وائس میسجز، اسکرین شاٹس اور فارورڈ میسجز نے بات پھیلانا بہت آسان کر دیا ہے۔

کسی نے ایک بات لکھی۔

آپ نے بغیر تحقیق کیے آگے بھیج دی۔

پھر وہ بات دس لوگوں تک پہنچی۔

اور چند منٹ بعد سینکڑوں لوگ اسے جانتے ہیں۔

اس لیے آج کے دور میں نمیمہ صرف زبان سے نہیں، انگلیوں سے بھی ہو سکتی ہے۔

ہر سچی بات آگے پہنچانا ضروری نہیں

یہ بہت اہم بات ہے۔

کبھی بات سچی بھی ہوتی ہے، لیکن اسے آگے پہنچانا درست نہیں ہوتا۔

مثلاً کسی نے کسی کی ذاتی بات آپ کو اعتماد سے بتائی۔

آپ نے وہ بات دوسرے لوگوں کو بتا دی۔

آپ کہہ سکتے ہیں:

“لیکن میں نے تو سچ بتایا تھا!”

لیکن سوال یہ ہے:

کیا وہ بات بتانا ضروری تھا؟

اگر مقصد اصلاح، کسی ظلم سے بچانا یا کسی حقیقی نقصان کو روکنا ہو تو معاملہ الگ ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر مقصد کسی کو لڑانا، بدگمانی پیدا کرنا یا رشتہ توڑنا ہو تو سچی بات بھی فساد کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

“میں تو آپ کا خیرخواہ ہوں…”

کبھی کوئی شخص آ کر کہتا ہے:

“میں تو آپ کو اپنا سمجھ کر بتا رہا ہوں…”

پھر کہتا ہے:

“کسی کو بتانا نہیں…”

اور آخر میں:

“فلاں آپ کے بارے میں یہ کہہ رہا تھا…”

ایسے وقت میں فوراً یقین نہ کریں۔

اپنے آپ سے پوچھیں:

“اس بات کو سننے سے کیا فائدہ ہوگا؟ کیا اس سے کوئی مسئلہ حل ہوگا یا صرف دل خراب ہوگا؟”

اگر صرف نفرت پیدا ہونی ہے تو بات کو وہیں روک دینا بہتر ہے۔

نمیمہ انسان کے دل میں شک پیدا کرتی ہے

چغلی کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کی سوچ بدل دیتی ہے۔

کسی نے کہہ دیا:

“وہ تم سے حسد کرتا ہے۔”

اب اس کی ہر بات حسد لگنے لگتی ہے۔

کسی نے کہا:

“وہ تمہیں پسند نہیں کرتا۔”

اب اس کی خاموشی بھی نفرت لگتی ہے۔

کسی نے کہا:

“وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔”

اب اس کا ہر مشورہ سازش لگتا ہے۔

یعنی نمیمہ صرف ایک بات نہیں پھیلاتی۔

یہ دل میں شک پیدا کرتی ہے۔

قرآن کا اصول: تحقیق کرو

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَتَبَيَّنُوا

یعنی تحقیق کر لیا کرو۔

(سورۃ الحجرات: 6)

اس لیے جب کوئی شخص آپ کے پاس کسی دوسرے کے بارے میں کوئی بات لے کر آئے تو فوراً یقین نہ کریں۔

ممکن ہے بات غلط ہو۔

ممکن ہے بات آدھی ہو۔

ممکن ہے سیاق و سباق بدل گیا ہو۔

اور ممکن ہے بات پہنچانے والا خود غلط سمجھ رہا ہو۔

اس لیے فیصلہ کرنے سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔

سوشل میڈیا پر نمیمہ

آج نمیمہ کی کئی نئی شکلیں ہیں:

کسی کی ذاتی چیٹ کا اسکرین شاٹ دوسروں کو بھیج دینا۔

کسی کی وائس ریکارڈنگ آگے پھیلا دینا۔

کسی کی پوسٹ کا ایک جملہ کاٹ کر دوسرے گروپ میں ڈال دینا۔

کسی کی نجی بات دوستوں میں پھیلا دینا۔

پھر کہنا:

“میں نے تو صرف سچ دکھایا ہے!”

یاد رکھیں:

ہر سچی بات ہر شخص کو بتانا ضروری نہیں۔

کچھ باتیں امانت ہوتی ہیں۔

اور امانت کو پھیلانا خیانت بن سکتا ہے۔

اگر کوئی آپ کے پاس چغلی لے کر آئے؟

اس وقت آپ کا ردعمل بہت اہم ہے۔

آپ نرمی سے کہہ سکتے ہیں:

“اگر یہ بات کسی کی اصلاح کے لیے ہے تو ٹھیک، ورنہ مجھے کسی کے بارے میں ایسی بات نہ بتائیں جس سے ہمارے دل میں اس کے لیے نفرت پیدا ہو۔”

یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے، لیکن شاید کسی بڑے جھگڑے کو روک دے۔

نمیمہ سے بچنے کے چند آسان اصول

پہلا: ہر سنی ہوئی بات آگے نہ پہنچائیں۔

دوسرا: کسی کے بارے میں بات سن کر فوراً یقین نہ کریں۔

تیسرا: اہم معاملہ ہو تو متعلقہ شخص سے براہِ راست پوچھیں۔

چوتھا: کسی کی عزت کے بارے میں غیر یقینی بات کو پھیلانے کے بجائے روک دیں۔

پانچواں: اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی بات سے دو لوگوں میں لڑائی ہوگی تو خاموش رہیں۔

چھٹا: کسی کی ذاتی بات، چیٹ یا وائس میسج بغیر اجازت دوسروں کو نہ دکھائیں۔

ایک اصول ہمیشہ یاد رکھیں

جب کوئی آپ کے پاس کسی تیسرے شخص کی بات لے کر آئے تو فوراً یہ نہ کہیں:

“اچھا! پھر کیا کہا؟”

بلکہ اپنے دل سے پوچھیں:

“اگر وہ شخص میرے سامنے بیٹھا ہوتا تو کیا میں یہی بات اسی طرح کہہ سکتا تھا؟”

اگر جواب “نہیں” ہے تو بہتر ہے کہ بات وہیں ختم کر دی جائے۔

خاموشی بھی نیکی ہو سکتی ہے

کبھی ہمیں لگتا ہے کہ خاموش رہنے سے ہم نے کچھ نہیں کیا۔

لیکن حقیقت میں خاموشی بہت بڑا کام ہو سکتی ہے۔

آپ نے ایک بات آگے نہیں پہنچائی۔

شاید ایک بھائی اپنے بھائی سے ناراض ہونے سے بچ گیا۔

شاید ایک دوست کی دوستی بچ گئی۔

شاید ایک گھر میں جھگڑا نہ ہوا۔

شاید ایک ماں اور بیٹے کے درمیان محبت قائم رہی۔

اور شاید کسی انسان کا دل ٹوٹنے سے بچ گیا۔

اس لیے ہر بات بولنا عقل مندی نہیں۔

کبھی خاموش رہنا ہی سمجھ داری ہے۔

آخر میں ایک سوال

اگر آج کوئی شخص آپ کے پاس ایسی بات لے کر آئے جس سے دو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا ہو سکتی ہو، تو آپ کیا کریں گے؟

بات آگے پہنچائیں گے؟

یا

اس بات کو اپنے پاس ہی روک لیں گے؟

یاد رکھیں:

آپ کی زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ کسی کا دل توڑ سکتا ہے۔

آپ کا ایک فارورڈ کسی گھر میں جھگڑا پیدا کر سکتا ہے۔

اور آپ کی ایک خاموشی کسی رشتے کو بچا سکتی ہے۔

النَّمِيمَةُ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے۔

کبھی وہ رشتے جوڑتے ہیں۔

کبھی دل توڑتے ہیں۔

اور کبھی دو دلوں کے درمیان ایسی آگ لگا دیتے ہیں جس کا دھواں بہت دیر تک باقی رہتا ہے۔

🕋 *یہ وہ سرزمین ہے… جہاں قرآن اترتا تھا*  *مکہ مکرمہ* کی گلیوں میں چلتے ہوئے دل پر ایک *عجیب کیفیت* اترتی ہے۔ *یہ محض ای...
28/08/2026

🕋 *یہ وہ سرزمین ہے… جہاں قرآن اترتا تھا*

*مکہ مکرمہ* کی گلیوں میں چلتے ہوئے دل پر ایک *عجیب کیفیت* اترتی ہے۔

*یہ محض ایک شہر نہیں… یہ وہ سرزمین ہے جسے ربِّ کعبہ نے اپنی قسم کے لیے منتخب فرمایا* ۔

*﴿لَا أُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۝ وَأَنْتَ حِلٌّ بِهٰذَا الْبَلَدِ﴾*

“میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں، جبکہ آپ بھی ﷺ اسی شہر میں تشریف فرما ہیں۔”
(سورۃ البلد: 1–2)

یہ وہی *مکہ مکرمہ* ہے جہاں *﴿اقْرَأْ﴾* کی پہلی صدا اتری، جہاں وحی کے الفاظ گونجے، اور جہاں رسول اللہ ﷺ نے *آزمائش* ، *دعوت* ، *صبر* اور *وفا* کے عظیم ترین سال گزارے۔

*مکہ مکرمہ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی کیا محبت تھی! ہجرت کے وقت جب آپ ﷺ کو اس محبوب شہر سے جدا ہونا پڑا تو دل میں فراق کی کسک بھی تھی اور محبت کی گہرائی بھی۔ مکہ مکرمہ آپ ﷺ کے لیے صرف وطن نہ تھا، یہ یادوں، نسبتوں اور ربانی تاریخ کا شہر تھا* ۔

آج مکہ مکرمہ میں چلتے ہوئے کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کتابوں میں نہیں، زمین پر بکھری ہوئی ہے۔ *انہی راستوں سے رسول اللہ ﷺ گزرے ہوں گے، انہی وادیوں میں صحابۂ کرامؓ نے قرآن سنا ہوگا، اور انہی راتوں میں کسی دل نے ایک آیت سن کر اپنی پوری زندگی بدل دی ہوگی* ۔

پھر انسان قرآن کو دیکھتا ہے اور دل لرز جاتا ہے…
یہ وہی *کلام* ہے
جو کبھی مکہ مکرمہ کے پہاڑوں کے درمیان آسمان سے اترتا تھا،
اور آج ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

*مکہ مکرمہ* انسان کو صرف *کعبہ مشرفہ* سے محبت نہیں سکھاتا؛
مکہ مکرمہ *قرآن* ، *رسول اللہ* ﷺ اور *اس پوری نسبتِ ایمان* سے محبت جگاتا ہے۔
اور دل بے اختیار دعا کرتا ہے:

*اے اللہ! جس قرآن نے مکہ مکرمہ کی وادیوں کو نور سے بھر دیا تھا* ،
*اسی قرآن سے ہمارے دلوں کو بھی زندہ کر دے* ۔ 🤍📖🕋

28/08/2026

اپنے رب سے اچھا گمان رکھیے

انسان جب زندگی کے آخری کنارے پر پہنچتا ہے تو اس کے سامنے دو چیزیں نمایاں ہوجاتی ہیں: اپنے اعمال کی کمزوری اور اپنے رب کی رحمت کی وسعت۔

ایک طرف اسے اپنی لغزشیں یاد آتی ہیں، اپنی کوتاہیاں دکھائی دیتی ہیں، اپنی غفلتیں یاد آتی ہیں؛ اور دوسری طرف وہ رب یاد آتا ہے جس نے ساری زندگی اسے رزق دیا، سنبھالا، ڈھانپا، مہلت دی، توبہ کے دروازے کھولے اور بار بار اپنی طرف بلایا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مومن کا دل اپنے رب کے بارے میں حسنِ ظن سے بھر جاتا ہے۔

ایک خوبصورت حکایت منقول ہے کہ ایک شخص سے کہا گیا:

"تمہیں مرنا ہے۔"

اس نے پوچھا:

"پھر کہاں جاؤں گا؟"

کہا گیا:

"اللہ کے پاس۔"

وہ مسکرایا اور کہنے لگا:

"آج تک جو خیر بھی مجھے ملی، اسی کے پاس سے ملی ہے؛ پھر جس کے پاس سے زندگی بھر خیر ملتی رہی، اس سے ملاقات سے کیوں ڈروں؟"

یہ محض ایک خوبصورت جملہ نہیں؛ یہ اللہ کے ساتھ ایک زندہ تعلق کی علامت ہے۔

جس رب کو انسان نے زندگی بھر اپنا محسن پایا ہو، جس کے احسانات کو شمار نہ کرسکتا ہو، اس کی طرف واپسی کو صرف خوف کی نظر سے کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟

ہاں، مومن اپنے گناہوں سے ڈرتا ہے۔

وہ اپنے اعمال پر ناز نہیں کرتا۔

وہ حساب کے دن کو معمولی نہیں سمجھتا۔

لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا رب اس کے اعمال سے کہیں زیادہ رحمت والا ہے۔

قرآن اعلان کرتا ہے:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

"کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ یقیناً وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"

(الزمر: 53)

غور کیجیے!

یہ خطاب ان لوگوں سے نہیں جو کبھی گناہ ہی نہ کرتے ہوں۔

یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔

پھر بھی اللہ انہیں "میرے بندو" کہتا ہے۔

بندہ گناہ کرکے دور چلا جاتا ہے، مگر رب اسے اپنی رحمت کی طرف واپس بلاتا ہے۔

یہی حسنِ ظن کی پہلی بنیاد ہے:

میں اپنے گناہوں سے بڑا نہیں، لیکن میرا رب میرے گناہوں سے کہیں بڑا ہے۔

ایک خوبصورت قول منقول ہے کہ ایک بزرگ سے پوچھا گیا:

"کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں؟"

انہوں نے جواب دیا:

"میں ایسے شخص کو نہیں جانتا، لیکن میں اسے ضرور جانتا ہوں جو دعائیں قبول کرتا ہے۔"

کتنی گہری بات ہے!

ہم کبھی اپنی دعا کی قوت پر اعتماد کرنے لگتے ہیں اور کبھی دعا کے پورا نہ ہونے پر مایوس ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اصل اعتماد دعا مانگنے والے کی طاقت پر نہیں، دعا سننے والے کی قدرت پر ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ

"اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"

(غافر: 60)

تمہاری زبان کمزور ہوسکتی ہے۔

تمہاری حالت بے بسی کی ہوسکتی ہے۔

تمہارے وسائل ختم ہوسکتے ہیں۔

لیکن جس رب کو تم پکار رہے ہو، اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔

اور اگر دعا کی قبولیت میں تاخیر ہوجائے تو مومن اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا۔

وہ جانتا ہے:

میں صرف مانگتا ہوں، وہ فیصلہ کرتا ہے۔

میں صرف ایک لمحہ دیکھتا ہوں، وہ پوری زندگی دیکھتا ہے۔

میں صرف اپنی خواہش جانتا ہوں، وہ میرے انجام کو جانتا ہے۔

قرآن کہتا ہے:

وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

"اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔"

(البقرۃ: 216)

یہ چند الفاظ مومن کے دل کو کتنا بڑا سہارا دیتے ہیں!

ہر وہ چیز جو تمہیں نہیں ملی، ضروری نہیں کہ وہ تمہارے لیے خیر تھی۔

ہر وہ دروازہ جو بند ہوگیا، ضروری نہیں کہ وہ تمہاری منزل تھی۔

ہر وہ دعا جس میں تاخیر ہوئی، ضروری نہیں کہ وہ رد ہوگئی۔

کبھی اللہ عطا کرکے آزماتا ہے، کبھی روک کر بچاتا ہے، کبھی انتظار کرا کے سنوارتا ہے۔

مومن کا حسنِ ظن یہ ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے کو اپنی محدود نظر سے نہیں پرکھتا۔

اسی طرح جب انسان اپنی موت کے قریب پہنچتا ہے تو اسے اپنے رب کے بارے میں سب سے زیادہ محتاط اور سب سے زیادہ پُرامید ہونا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ»

"تم میں سے کوئی شخص ہرگز نہ مرے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو۔"

یہ حدیث حضرت جابرؓ سے مروی ہے اور صحیح مسلم میں موجود ہے؛ روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرمایا۔

یہ حسنِ ظن گناہوں پر دلیر ہونے کا نام نہیں۔

یہ اس شخص کی کیفیت ہے جو اپنی کمزوری کو جانتا ہے، اپنے گناہوں پر شرمندہ ہے، توبہ کی طرف پلٹتا ہے، مگر اپنے رب کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتا۔

وہ اپنے اعمال سے ڈرتا ہے، مگر اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا۔

یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔

بے خوفی ایمان نہیں۔

اور مایوسی بھی ایمان نہیں۔

ایمان تو اس درمیانی راستے کا نام ہے جہاں خوف انسان کو گناہ سے روکتا ہے اور امید اسے اللہ سے جوڑے رکھتی ہے۔

اسی لیے مومن مصیبت میں روتا ہے، مگر ٹوٹتا نہیں۔

وہ درد محسوس کرتا ہے، مگر رب سے بدگمان نہیں ہوتا۔

وہ دعا میں ہاتھ اٹھاتا ہے، مگر اللہ کو اپنی خواہش کا پابند نہیں سمجھتا۔

وہ کہتا ہے:

یا اللہ! میں نہیں جانتا، آپ جانتے ہیں۔
میں کمزور ہوں، آپ قادر ہیں۔
میں اپنی بھلائی نہیں جانتا، آپ سب کچھ جانتے ہیں۔
اس لیے میرے لیے وہی فیصلہ کیجیے جس میں میری حقیقی خیر ہے۔

اور پھر قرآن قیامت کے اس عظیم منظر کو بیان کرتا ہے جسے پڑھ کر انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے:

وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا

"اور اس دن رحمان کے سامنے سب آوازیں پست ہوجائیں گی، پس تم صرف سرگوشی کی آواز سنو گے۔"

(طٰہٰ: 108)

غور کیجیے!

قیامت کا منظر ہے۔

زمین و آسمان کی ہیبت ہے۔

انسان اپنے انجام کے بارے میں فکر مند ہے۔

اور قرآن اس منظر میں بھی ہمیں کس کے سامنے کھڑا دکھاتا ہے؟

الرحمٰن کے سامنے۔

وہ صرف جلال والا نہیں؛ وہ رحمان بھی ہے۔

وہ صرف حساب لینے والا نہیں؛ وہ غفور و رحیم بھی ہے۔

وہ صرف اقتدار والا نہیں؛ وہ ارحم الراحمین ہے۔

یہی قرآن کا تربیتی حسن ہے: وہ انسان کو اللہ کے جلال سے بھی آگاہ کرتا ہے اور اس کی رحمت سے بھی وابستہ رکھتا ہے۔

اس لیے اگر آج تم گناہوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہو تو یہ مت سمجھو کہ واپسی کا راستہ بند ہوگیا ہے۔

اگر تم سے بار بار لغزش ہوئی ہے تو یہ مت سمجھو کہ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے نہیں۔

اگر تمہاری دعا دیر سے قبول ہورہی ہے تو یہ مت سمجھو کہ تمہیں بھلا دیا گیا ہے۔

اگر زندگی میں کوئی دروازہ بند ہوگیا ہے تو یہ مت سمجھو کہ اللہ کی رحمت کے دروازے بھی بند ہوگئے ہیں۔

پلٹ آؤ۔

اسی کے پاس۔

جس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔

اسی کے سامنے۔

جس سے چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

اور اسی سے امید رکھو۔

جس کی رحمت سے بڑھ کر کوئی پناہ نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ

"اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔"

(الأعراف: 156)

پس اپنے رب سے اچھا گمان رکھیے۔

مگر اس حسنِ ظن کو عمل سے جدا نہ کیجیے۔

گناہ چھوڑ دیجیے۔

توبہ کیجیے۔

اپنی اصلاح کیجیے۔

لوگوں کے حقوق ادا کیجیے۔

اور پھر بھی اگر دل اپنے ماضی کو دیکھ کر کانپ اٹھے تو اسے اپنے رب کی رحمت یاد دلائیے۔

کہیے:

میں اپنے اعمال پر بھروسا نہیں کرتا،
میں اپنے رب کی رحمت پر بھروسا کرتا ہوں۔

اور جب زندگی کی آخری شام آجائے، جب دنیا کے سارے سہارے پیچھے رہ جائیں، جب آنکھیں بند ہونے لگیں، تو دل میں یہ یقین زندہ رہے:

میں کسی اجنبی کے پاس نہیں جا رہا؛
میں اپنے رب کے پاس جا رہا ہوں۔

وہی رب جس نے مجھے پیدا کیا۔

وہی جس نے مجھے رزق دیا۔

وہی جس نے میری بے شمار لغزشوں کے باوجود مجھے مہلت دی۔

وہی جس نے میری کتنی دعائیں ان الفاظ کے بغیر بھی سن لیں جو میں کہہ نہ سکا۔

وہی جس نے کتنی مصیبتیں مجھ سے دور کردیں جن کا مجھے علم بھی نہیں۔

اور وہی جس نے آخری سانس تک توبہ کا دروازہ کھلا رکھا۔

تو پھر اپنے رب سے اچھا گمان کیوں نہ رکھا جائے؟

اپنے اعمال کو دیکھ کر جھکیے، مگر اپنے رب کی رحمت کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوں۔

کیونکہ مومن کی امید اپنے اعمال کی کثرت سے نہیں، اپنے رب کی رحمت کی وسعت سے وابستہ ہوتی ہے۔

اور شاید حسنِ ظن باللہ کی سب سے خوبصورت حقیقت یہی ہے:

بندہ اپنے آپ کو جان کر اللہ سے ڈرتا ہے،
اور اللہ کو جان کر اسی سے امید باندھ لیتا ہے۔

27/08/2026

🕋 *وہ لمحہ۔۔۔ جب نگاہ کعبہ پر ٹھہر جاتی ہے۔۔۔۔*

*کعبۂ مشرفہ* کے بالکل سامنے کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت *ٹھہر* گیا ہو، دنیا *سمٹ* گئی ہو اور *پوری کائنات* پسِ منظر میں کہیں *معدوم* ہوگئی ہو۔

سامنے *بیت اللہ* ہو تو اس کا *پُرجلال حسن* نگاہ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ آنکھ *چاہ* کر بھی ہٹ نہیں پا رہی ہوتی، زبان پر *الفاظ* آکر رک جاتے ہیں، دل پر ایک عجیب سی *ہیبت و عظمت* طاری ہوتی ہے اور *پورے وجود* کے اندر کہیں *لرزہ* سا اترنے لگتا ہے۔

پھر اچانک *آنکھیں* بھیگنے لگتی ہیں…

اپنے *گناہ* یاد آتے ہیں، دل کی *سیاہی* دکھائی دینے لگتی ہے، *نعمتوں* کے مقابلے میں اپنی *ناشکریاں* سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔

ایک طرف *رب کائنات* کی *بے پایاں عظمت* ، *رحمت* اور *کرم* کا *احساس* ہوتا ہے اور دوسری طرف اپنی *بے بسی، کم مائیگی اور تہی دامنی* کا *استحضار* ۔۔۔

اس لمحے دنیا کے *ہنگامے، فکریں، خواہشیں، کامیابیاں اور محرومیاں* سب کتنی *چھوٹی* معلوم ہونے لگتی ہیں!!!

بس ایک *گھر* سامنے ہوتا ہے…
ایک *رب* یاد ہوتا ہے…
ایک *بندہ* ہوتا ہے…
اور آنکھوں میں *بے اختیار اترتے ہوئے آنسو* ۔

دل کی گہرائیوں سے صرف یہی *صدا* اٹھتی ہے:

*اے میرے رب! میں تیرے در تک تو پہنچ گیا ہوں* …

*اب مجھے اپنے قرب تک بھی پہنچا دے۔* 🤍🕋

26/08/2026

عشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم، محبت محبوب خدا، اطاعت رحمت اللعالمین کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ کے احکامات کی پیروی کی جائے،
آپ کی سیرت مبارکہ کو زندہ کیا جائے، اور اس پر ہو بہو عمل کیا جائے
آپ پر بہت بہت درود و سلام بھیجا جائے،
آپ نے جس سے محبت کی ، اس سے محبت کی جائے، اور جس سے نفرت کی اس سے نفرت کی جائے (چاہے وہ کوئ عمل ہو یا انسان)۔
آپ کے دین کی سربلندی کیلئے محنت کی جائے۔
۔
اللہم صل علی سیدنا و نبینا و شفیعنا و طبیبنا و سندنا و حبیبنا و حبیبک و مولانا محمد و علی آلہ و بارک وسلم ۔

26/08/2026

*12 ربیع الأول اور مدینہ طیبہ کا منظر*
*حضرت ابو ذُؤَیب ہُذلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:*
«*قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَلِأَهْلِهَا ضَجِيجٌ بِالْبُكَاءِ كَضَجِيجِ الْحَجِيجِ إِذَا أَهَلُّوا جَمِيعًا بِالْإِحْرَامِ، فَقُلْتُ: مَهْ؟ فَقَالُوا: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ»*

🌿 *میں مدینہ آیا تو دیکھا کہ اہلِ مدینہ کے رونے کی ہر طرف ایسی آواز تھی جیسے تمام حاجی احرام باندھ کر ایک ساتھ تلبیہ پکار رہے ہوں۔ میں نے پوچھا: کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے ہیں۔‘‘*

📚 حوالہ:
ابن حجر عسقلانی، الإصابة في تمييز الصحابة، ترجمہ: أبو ذؤيب الهذلي، ج 7، ص 373۔

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Simple Path posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share