Mufti Syed Farrukh Shah Al Husaini

Mufti Syed Farrukh Shah Al Husaini Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mufti Syed Farrukh Shah Al Husaini, Religious organisation, Bani Gala Islamabad, Islamabad.

*یومِ تشکر: معرکہِ ختمِ نبوت میں حق کی فتح اور باطل کی رسوائی*آج کا دن تمام *مسلمانانِ عالم* اور بالخصوص *مجاہدینِ ختمِ ...
30/04/2026

*یومِ تشکر: معرکہِ ختمِ نبوت میں حق کی فتح اور باطل کی رسوائی*
آج کا دن تمام *مسلمانانِ عالم* اور بالخصوص *مجاہدینِ ختمِ نبوت* کے لیے انتہائی اہمیت اور مسرت کا حامل ہے۔ آج *دل خوشی سے لبریز ہے* کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص نصرت سے ہمیں وہ کامیابی بخشی ہے جس نے تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔
*تاریخ ساز بالمشافہ گفتگو: دلائلِ قاطع کا معرکہ*
تقریباً *5 سے 6 گھنٹے* پر محیط اس طویل اور تاریخی بالمشافہ گفتگو میں رفقائے ختمِ نبوت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ *مدلل اور ٹھوس حقائق* پیش کیے جن کے سامنے باطل ٹھہر نہ سکا۔ ایک طرف ایمان کا نور اور قرآن و سنت کے ناقابلِ تردید ثبوت تھے، تو دوسری طرف وہی پرانی من گھڑت تاویلیں اور قادیانیوں کا روایتی *دجل و فریب* تھا۔ مخالفین کے پاس علمی بنیاد پر کہنے کو کچھ نہ تھا اور وہ صرف "آئیں بائیں شائیں" کرتے رہ گئے۔
*ہمارے اکابرین: اخلاص اور رعبِ ایمانی کا سنگم*
اس عظیم الشان معرکے کو سرانجام دینے میں ہمارے اساتذہ کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے:
* *حضرت مولانا سہیل باوا (دامت برکاتہم):* آپ کی پوری زندگی اس عظیم مقصد کے لیے وقف ہے۔ اس گفتگو کے دوران آپ جسمانی طور پر موجود نہ ہونے کے باوجود مخالفین کے حواس پر چھائے رہے۔ یہ آپ کے اخلاص کا رعب اور دبدبہ ہے کہ وہ ہر وقت آپ ہی کا تذکرہ کرتے رہے۔
* *حضرت عبد الرحمٰن باوا (دامت برکاتہم):* یہ درحقیقت ان کی زندگی بھر کی محنت کا فیض ہے کہ اللہ پاک نے ان کے فرزندِ ارجمند اور رفقاء سے وہی کام لیا جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کی تھی۔
* *بھائی عدنان رشید اور بھائی محمد امتیاز احمد:* ان نوجوانوں نے اپنے رفقاء کے ہمراہ وہ معرکہ سرانجام دیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔
*تین دہائیوں بعد اتمامِ حجت*
آج تین دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد رفقائے ختمِ نبوت کی جانب سے *حجت تمام* کر دی گئی ہے۔ پیغامِ حق کو واضح کر کے *دعوتِ حق* دے دی گئی ہے۔ اب ہدایت دینا اللہ پاک کا کام ہے، ہمارا فرض صرف پیغام پہنچانا تھا جو بحمد اللہ مکمل ہوا۔
*اللہ کے شیروں کو خراجِ تحسین*
ان غازیوں اور مجاہدینِ ختمِ نبوت کے لیے بس یہی کہا جا سکتا ہے:
> *باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم*
> *سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا*

اور ان کی ایمانی ہیبت کے لیے علامہ اقبال کے یہ الفاظ:
> *یہ غازی، یہ تیرے پُراسرار بندے*
> *جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی*
> *دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا*
> *سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی*

آج کا یہ یومِ تشکر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب تک ناموسِ رسالت ﷺ کے یہ پہرے دار بیدار ہیں، کوئی فتنہ امتِ مسلمہ کے ایمان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ اور ان تمام رفقاء کی اس کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔
*تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ زندہ باد!*
*رفقائے ختمِ نبوت زندہ باد!*
*وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلٰغُ*

از قلم
رابعہ بصری

19/04/2026

خاتون خانہ پریشان تھیں۔ رات کو گھر میں
دعوت تھی۔ پیزا بنانا چاہ رہی تھیں۔ سارا سامان لے
آئی تھیں لیکن مشرومز لانا بھول گئی تھیں۔ رہتی بھی شہر سے دور تھیں۔ قریب کی مارکیٹ میں مشرومز دستیاب بھی نہ تھے۔
صاحب کو مسئلہ بیان کیا تو ٹی- وی سے نظریں ہٹائے بغیر بولے؛ " میں شہر نہیں جاسکتا۔ اگر مشرومز نہیں ڈلے تو بھی پیزا بن جائے گا۔ اور اگر نہیں گزارا ہو تو پچھلی طرف جھاڑیوں میں اُگے ہوئے ہیں جنگلی مشرومز توڑ لو"۔
خاتون خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ’’میں نے سنا ہے جنگلی مشرومز زہریلے ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو فوڈ پوائزننگ ہوگئی تو؟"
صاحب بولے؛ ’’دعوت میں سارے شادی شدہ آرہے ہیں۔ زیریلی باتیں سننے کے عادی ہیں۔ زہریلے مشرومز بھی ان پہ اثر نہیں کریں گے۔‘‘
خاتون گئیں اور جنگلی مشرومز توڑ لائیں۔ مگر چونکہ خاتون تھیں اس لیے دماغ استعمال کیا اور کچھ مشرومز پہلے اپنے کتے موتی کو ڈال دیے۔ موتی نے مشرومز کھائے اور مزے سے مست کھیلتا رہا۔ چار گھنٹے بعد خاتون نے پیزا بنانا شروع کیا اور اچھی طرح سے دھو کر مشرومز کو پیزا اور سلاد میں ڈال دئے۔
دعوت شاندار رہی۔ مہمانوں کو کھانا بے حد پسند آیا۔ خاتون خانہ کچن میں برتن سمیٹنے کے بعد مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی تھیں تو اچانک ان کی بیٹی کچن میں داخل ہوئی اور کہا؛
" امی ہمارا موتی مر گیا۔۔۔۔"
خاتون کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔ مگر چونکہ خاتون سمجھدار تھیں اس لیے بالکل نہیں گھبرائیں۔ جلدی سے ہسپتال فون کیا اور ڈاکٹر سے بات کی۔ ڈاکٹر نے کہا؛ ’’چونکہ کھانا ابھی ہی کھایا گیا ہے اس لیے بچت ہوجائے گی۔ تمام لوگ جنہوں نے مشرومز کھائے ہیں ان کو انیمیا دینا پڑے گا اور معدہ بھی صاف کرنا پڑے گا۔‘‘
تھوڑی ہی دیر میں میڈیکل اسٹاف پہنچ گیا۔ سب لوگوں کا معدہ صاف کیا گیا۔
رات تین بجے جب میڈیکل اسٹاف رخصت ہوا تو سارے مہمان ِلِونگ روم میں آڑے ترچھے بےدَم پڑے ہوئے تھے۔
اتنے میں خاتون کی بیٹی جس نے مشرومز نہیں کھائے تھے اور اس ساری اذیت سے بچی ہوئی تھی سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ماں کے پاس بیٹھ گئی۔ ماں کے کاندھے پہ سر رکھ کر بولی؛
"امی! لوگ کتنے ظالم ہوتے ہیں۔ جس ڈرائیور نے اپنی گاڑی کے نیچے موتی کو کچل کر مار ڈالا وہ ایک سیکنڈ کے لیے رکا بھی نہیں۔ اف کتنا پتھر دل آدمی تھا۔ ہائے میرا موتی"۔
تو معزز خواتین۔۔۔!!! آپ خود کو کتنا بھی ذہین، سمجھدار، معاملہ فہم اور ہوشیار سمجھیں، پوری بات سن لینے میں کوئی حرج نہیں ہوتا۔

ڈاکر ندیم رضوی نے شیعہ مذہب چھوڑ کر دین اسلام قبول کر لیا  تعلق کراچی سے ہے وہ ایم۔کیو ایم کے کارکن ہونے کے ساتھ شیعہ مذ...
17/04/2026

ڈاکر ندیم رضوی نے شیعہ مذہب چھوڑ کر دین اسلام قبول کر لیا
تعلق کراچی سے ہے وہ ایم۔کیو ایم کے کارکن ہونے کے ساتھ شیعہ مذہبی پس منظر ھی رکھتے تھے والد مشہور شیعہ زاکر تھے ۔
یاد رہے ڈاکٹر ندیم رضوی امریکہ میں ڈاکٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ کافی تحقیق کے بعد میں نے یہ فصلہ کیا ہے اور حق کو پا لیا ہے
۔ بے شک اللہ جسے چاہیے ہدایت دیتا ہے

10/04/2026

کراچی میں ایک دینی مدرسے کا طالب علم تھا جس کا سوات سے تعلق تھا۔۔۔
جمعرات کو وہ مدنی مسجد کے آگے خوشبو، مسواک ٹوپیاں وغیرہ بیچتا تھا اور جمعہ کی نماز میں وہ گلشن اقبال بلاک 6 میں ایک جامع مساجد کے آگے ٹھیہ لگاتا تھا۔۔۔
اولیٰ سے لے کر دورہ حدیث تک گلشن کے ایک ہی مدرسہ میں پڑھا اور ہر جمعرات جمعہ کو وہ ٹھیہ لگا کر کچھ پیسے کما لیتا تھا گھر والوں کو بھی باقاعدگی سے رقم بھیجتا تھا۔۔۔

ایک بار مدنی مسجد کے سامنے ٹھیہ پر شب جمعہ کے بیان کے بعد ایک شخص آتا ہے جو کافی ساری ٹوپیاں، مسواک، خوشبو، تسبیح وغیرہ خرید کر چلا جاتا ہے۔۔۔
دوسرے دن وہ طالب علم جب گلشن میں مسجد کے سامنے ٹھیہ لگاتا ہے سامان سیٹ کرتا ہے تو ٹوپیوں کے بنڈل میں سے ایک بڑے سائز کا وائلٹ ملتا ہے جس میں آئی ڈی کارڈ، امریکہ کا ڈرائیونگ لائسنس اور سیٹیزن کارڈ کچھ ڈاکومینٹس اور ساتھ ہی بزنس کارڈ بھی ہوتے ہیں۔۔۔
وہ طالب علم فوراً اس بزنس کارڈ والے نمبر پرا رابطہ کرتا ہے لیکن کال نہیں ہو پاتی پھر وہ واٹس اپ پر کال کرتا ہے تو آگے سے جو بندہ کال اٹھاتا ہے وہ جیسے ایک دم اچھل جاتا ہے اور انتہائی خوشی اور جذبات سے اس طالب علم کو بتاتا ہے کہ پوری رات سب گھر والے سو نہیں پائے رات کسی وقت گھر پہنچ کر جب وائلٹ دیکھا تو ندارد گاڑی میں بسیار تلاش کیا پھر کافی دور سے دوبارہ مدنی مسجد آیا لیکن رات کافی زیادہ ہوچکی تھی۔۔۔
خیر اس طالب علم نے اپنا ایڈریس دیا اور تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ بندہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ آتا ہے طالب علم سے اپنا وائلٹ لیتا ہے تو اس میں سب چیزیں موجود ہوتی ہیں وائلٹ میں کچھ ڈالرز اور پاکستانی کرنسی بھی جوں کی توں موجود ہوتی ہے سب سے اہم چیز کچھ کارڈز اور ڈاکومینٹس ہوتے ہیں جس پر وہ شخص کہتا ہے کہ اگر یہ وائلٹ نہ ملتا تو شائد میرا ہارٹ اٹیک ہوجاتا اس میں کافی قیمتی کچھ اشیاء تھی۔۔۔
وہ شخص اور اس کی فیملی اس طالب علم کو انعام کے طور پر موٹی رقم دینا چاہتے ہیں لیکن وہ انکار کر دیتا ہے کہ کسی صورت نہیں لوں گا خیر وہ بندہ اس طالب علم سے نمبر لیتا ہے اور چلا جاتا ہے لیکن مسلسل واٹس اپ اور کال پر رابطہ رکھتا ہے چند دن بعد وہ شخص دوبارہ اس طالب علم سے ملنے کی خواہش کرتا ہے ایک ہوٹل پر ملاقات ہوتی ہے تو وہ شخص بتاتا ہے کہ امریکہ ٹیکساس میں اس کا اپنا بزنس ہے فیملی سمیت ادھر موجود ہے بچے وغیرہ سب امریکہ کے سیٹیزن ہیں۔۔۔
وہ بندہ خود اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ جائیں وہاں میرے بزنس میں معاونت کریں میرے ساتھ مل جل کر ترتیب بنائیں مجھے ویسے بھی ایک ایماندار بندے کی تلاش تھی لیکن وہ طالب علم تعلیم کی وجہ سے عذر کرتا ہے لیکن اس شخص کا مسلسل اصرار ہوتا ہے کہ میں آپ کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں آپ بس حامی بھریں یہاں تعلیم مکمل کریں لیکن اپنے گھر والوں سے مجھے ملائیں وہ طالب علم بتاتا ہے کہ میرے والدین تو سوات میں ہیں وہ بندہ اس کے والد اور بھائی کا نمبر لے کر انہیں کراچی آنے کا بولتا ہے۔۔۔
مختصر یہ کہ وہ بندہ اس طالب علم سے اس حد تک متاثر ہوتا ہے کہ اس کے والدین کو یہ کہہ دیتا ہے کہ میں اس بچے کو اپنی بچی کا رشتہ دینا چاہتا ہوں اور اسے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں بس آپ لوگ حامی بھریں خیر والدین مان جاتے ہیں اور اس طرح وہ لڑکا دو سال بعد تعلیم مکمل کرتا ہے اور پھر شادی بھی ہوتی ہے اور کچھ ٹائم بعد امریکہ چلا جاتا ہے اس وقت وہ طالب علم ٹیکساس میں ایک اسلامک سینٹر میں امام بھی ہے ساتھ بچوں کی کلاسز ہیں اور اپنے سسر کا بزنس بھی دیکھتا ہے۔۔۔
یہ صرف ایک واقعہ ہے ورنہ بہت سے لوگ ایمانداری کی وجہ سے اپنی لائف سنوار چکے ہیں بہت سے آن لائن ٹیچرز ہیں جنہوں نے بچوں کو قرآن پڑھایا ایمانداری لگن سے جس اکیڈمی سے پڑھایا ان سے بھی وفا کی پڑھنے والوں سے بھی وفا کی اور پھر والدین نے متاثر ہو کر ان کو ادھر ہی بلا لیا۔۔۔
انسان کے اندر اگر ایمانداری، صداقت اور سچائی ہو تو اللہ رب العزت آخرت میں تو اس کا اجر دے گا ہی لیکن دنیا میں بھی اس کی زندگی سنور جاتی ہے ایسے کئی واقعات موجود ہیں کہ صرف ایمانداری کا اس دنیا میں بھی اچھا صلہ ملا بے شک ایمانداری اور دیانتداری کا صلہ دیر سویر سے ملے لیکن ملتا ضرور ہے۔۔۔
ایمانداری، صدق و دیانتداری اور سچائی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور خاص کر ایک مسلمان کی شان اور پہچان ہے جیسے حلال کمانا مشکل ہوتا ہے لیکن اس میں سکون ہوتا ہے برکت ہوتی ہے اور حلال اپنا اثر نسلوں تک برقرار رکھتا ہے اسی طرح سچائی اور ایمانداری کا کا پھل بھی دنیا میں مل کر رہتا ہے اللہ رب العزت ہم سب کو ایمانداری، سچائی، صدق و دیانتداری کے ساتھ ہر کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے لئے اس میں برکتیں کامیابیاں اور عزتیں نصیب فرمائے آمین
تحریر حامد حسن

عید الفطر کا 100 سالہ کیلنڈر: حقیقت کیا ہے؟ 🌙ہر سال رمضان المبارک میں ایک کیلنڈر گردش کرتا ہے جس میں عید الفطر کی ممکنہ ...
18/03/2026

عید الفطر کا 100 سالہ کیلنڈر: حقیقت کیا ہے؟ 🌙
ہر سال رمضان المبارک میں ایک کیلنڈر گردش کرتا ہے جس میں عید الفطر کی ممکنہ عیسوی تاریخیں درج ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ "جب سے یہ کیلنڈر بنا ہے آج تک ایک بار بھی عید اس سے مختلف نہیں ہوئی"۔
❓کیا یہ دعویٰ درست ہے؟
📢 جی نہیں! یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

اصل حقیقت کیا ہے؟
تحقیق کے مطابق یہ کیلنڈر 1893ء میں لکھی گئی ایک پرانی کتاب "التوفيقات الإلهامية" (مصنف: محمد مختار پاشاالمصری) سے لیا گیا ہے جس میں ایک ہجری سے 1500 ہجری تک تمام ہجری مہینوں کی عیسوی تاریخیں لکھی ہوئی ہیں۔ (کمنٹ میں اس کا لنک موجود ہے)

اس میں غلطی کیوں ہوتی ہے؟
✅محض ایک فارمولا: یہ کیلنڈر چاند کو دیکھ کر یا جدید سائنسی حسابات سے نہیں بنایا گیا، بلکہ یہ قدیم "ریاضیاتی فارمولے" پر مبنی ہے جس میں ماضی کی تاریخ(History) کو سامنے رکھ کر آئندہ آنے والے سالوں کی ایک خاص ترتیب سے مہینوں کے دن (30 اور 29) حسابی طور پر طے کر دیے گئے ہیں۔ اس حسابی ترتیب کو "دور صغیر اور دور کبیر" کہا جاتا ہے۔
✅اعداد و شمار کی گواہی: دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ کبھی غلط نہیں ہوا، لیکن ریکارڈ بتاتا ہے کہ گزشتہ 25 سالوں میں 9 مرتبہ عید اس کیلنڈر کی تاریخ سے ہٹ کر ہوئی۔ (تفصیل نیچے تصویر میں موجود ٹیبل میں دیکھیں)۔

📍موجودہ سال (2026ء/1447ھ): اس کیلنڈر میں امسال عید الفطر کی تاریخ 20 مارچ بروز جمعہ لکھی ہوئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف جدید فلکیاتی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ 19 مارچ کو پاکستان سمیت دنیا کے اکثر حصوں میں چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔ یعنی قوی امکان ہے کہ اس سال بھی عید اس کیلنڈر کی پیش گوئی کے برخلاف ہوگی۔

💎 ایک پرانے اور فرضی ریاضیاتی فارمولے کو بنیاد بنا کر شرعی رویت یا جدید سائنسی معیارات کو جھٹلانا درست نہیں ہے۔ اصل فیصلہ چاند دیکھ کر ہی ہوگا۔

Address

Bani Gala Islamabad
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Syed Farrukh Shah Al Husaini posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share