22/04/2026
حضرت حکیم الا مت اشرف علی تھانوی کے ایک مرید تھے، انھوں نے ایک دفعہ حضرت تھانوی کے پاس خط لکھا کہ حضرت! میرے اندر غصہ بہت زیادہ ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ میری اصلاح ہوجائے: لہذا اس کے لئے کوئی نسخہ تجویز فرمادیں۔ وہ صاحب لکھنؤ سےقریب رہنے والے تھے، حضرت نے ان کو جواب لکھا کہ لکھنو میں میرے خلیفہ فلاں حکیم صاحب ریتے ہیں، فلاں جگہ پر ان کا مطب، کلینک ہے، تم ان سے اجازت لے کر ان کے پاس بیٹھ جایا کرو ، وہ تو اپنے کام میں مشغول رہیں گے، لیکن تم ان کے پاس جاکر بیٹھ جایا کرو اور یہ بھی لکھا کہ پندرہ دن تک بیٹھنے کے بعد مجھے خط لکھنا کہ کیا اثر ہوا ؟ چنانچہ وہ صاحب پتہ تلاش کرتے ہوئے حکیم صاحب کے کلینک پہ پہنچ گئے، اور ان سے اجازت لیکر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ حکیم صاحب تو اپنے کام میں مشغول رہتے، بیماروں کی نبض دیکھتے، اور دوائیاں تجویز کرتے تھے۔ اور یہ صاحب ان کے پاس بیٹھے رہتے تھے، پندرہ دن بعد انھوں نے حضرت تھانوی کو خط لکھا کہ اللہ کا فضل ہے کہ غصہ بلکل کافور ہوگیا، انھوں نے اسی کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ حضرت! غصہ تو میرا کافور ہوگیا ، لیکن ایک سوال ذہن میں آگیا ہے کہ حکیم صاحب نے نہ مجھے کچھ کہا اور نہ میں نے ان سے کچھ کہا، صرف ان کے پاس بیٹھنے سے میرا غصہ کیسے ختم ہوگیا ؟ یہ فلسفہ میری سمجھ میں نہیں آیا حضرت کے پاس خط آیا تو اس کا جواب لکھا کہ جی, نہ انہوں نے کچھ کہا اور نہ تم نے کچھ پوچھا ، لیکن ان کے دل میں جو حلم کا مادہ ہے، صحبت کی تاثیر سے وہ منتقل ہوکر تمہارے دل میں آگیا - اللہ اکبر! یہ ہے تاثیر صحبت اولیاء کی - نیک لوگوں کی مصاحبت و مجالست بہت ضروری ہے، مجالست ایک بڑا ذریعہ ہے اللہ کی معرفت کو پانے کا، اللہ کی محبت کو پانے کا - اللہ تعالی ہم سب کو نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العلمین۔
مفتی محمد امجد مردانوی
راقتنی فنقلتہا