06/01/2026
مولانا علی میاں ( ندوی ) ایک نامور عالم دین، ایک بلند پایہ مصنف و دانشور اور ایک صاحب طرز ادیب، ایک سحر انگیز خطیب، ایک منفرد مؤرخ اور سیرت نگار تھے، لیکن سب سے بڑھ کر وہ ایک داعی، ایک مصلح اور ایک صاحب دل مزکی اور مربی تھے، ان تمام اوصاف کے اجتماع نے ان کو بیسویں صدی کے اسلامی احیاء کے معماروں میں ایک درخشندہ مقام پر متمکن کیا۔ ان کے یہاں علامہ اقبال کا سوز و گداز، مولانا مودودی کی عقلیت اور تصورِ دین کی جامعیت، علامہ شبلی اور مولانا سید سلیمان ندوی کا ذوقِ تاریخ اور مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا الیاس، مولانا عبدالقادر رائے پوری اور مولانا زکریا کی روحانیت کا امتزاج نظر آتا ہے، علی میاں کے یہاں یہ سب ایک دوسرے کے نقیض نہیں، ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جسے ناقدین علم و فن نے نظر انداز کر دیا ہے۔ مولانا علی میاں کا اصل میدان تاریخ و دعوت ہے، سیرت اور انسان سازی ہے، روح کی بیداری اور امت کی ترقی کے لئے اسلاف کے نمونہ کا احیاء ہے، ان کے یہاں خانقاہ اور جہاد، اور تزکیہ اور انقلاب دونوں دھارے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں ..!
پروفیسر خورشید احمد
ایڈیٹر ’ ترجمان القرآن ‘ ، پاکستان