Deen دین

Deen دین خدا کی شریعت بے لاگ ہے. اس میں گنجائش نہیں ہے کہ کسی کے مرتبے کا لحاظ کرکے ہم غلط کو صحیح بنانے کی کوشش کریں

06/01/2026

مولانا علی میاں ( ندوی ) ایک نامور عالم دین، ایک بلند پایہ مصنف و دانشور اور ایک صاحب طرز ادیب، ایک سحر انگیز خطیب، ایک منفرد مؤرخ اور سیرت نگار تھے، لیکن سب سے بڑھ کر وہ ایک داعی، ایک مصلح اور ایک صاحب دل مزکی اور مربی تھے، ان تمام اوصاف کے اجتماع نے ان کو بیسویں صدی کے اسلامی احیاء کے معماروں میں ایک درخشندہ مقام پر متمکن کیا۔ ان کے یہاں علامہ اقبال کا سوز و گداز، مولانا مودودی کی عقلیت اور تصورِ دین کی جامعیت، علامہ شبلی اور مولانا سید سلیمان ندوی کا ذوقِ تاریخ اور مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا الیاس، مولانا عبدالقادر رائے پوری اور مولانا زکریا کی روحانیت کا امتزاج نظر آتا ہے، علی میاں کے یہاں یہ سب ایک دوسرے کے نقیض نہیں، ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جسے ناقدین علم و فن نے نظر انداز کر دیا ہے۔ مولانا علی میاں کا اصل میدان تاریخ و دعوت ہے، سیرت اور انسان سازی ہے، روح کی بیداری اور امت کی ترقی کے لئے اسلاف کے نمونہ کا احیاء ہے، ان کے یہاں خانقاہ اور جہاد، اور تزکیہ اور انقلاب دونوں دھارے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں ..!

پروفیسر خورشید احمد
ایڈیٹر ’ ترجمان القرآن ‘ ، پاکستان

16/10/2025

شہید یحییٰ سنوارؒ – اُمت کا عظیم مجاہد

آج کا دن ہم سب کے لیے ایک یادگار دن ہے۔ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے، اُمت مسلمہ نے اپنا ایک بہادر سپاہی، ایک سچا مجاہد، اور ایک نڈر قائد کھو دیا۔ شہید یحییٰ سنوارؒ نے نہ صرف مظلوموں کی آواز بن کر ظلم و ستم کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا، بلکہ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ شہادت کا راستہ ہی عزت و عظمت کا راستہ ہے۔

وہ نہ صرف فلسطین کے بیٹے تھے، بلکہ پوری اُمت مسلمہ کے لیے حریت، حوصلے اور قربانی کی ایک عظیم مثال تھے۔ ان کی زندگی جہاد، استقامت، اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی شہادت نے دشمن کے دلوں میں خوف اور مسلمانوں کے دلوں میں جوش و جذبہ پیدا کیا۔

یحییٰ سنوارؒ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ان کی قربانی ہم سب کے لیے ایک پیغام ہے کہ جب تک ظلم باقی ہے، تب تک یحییٰ سنوار جیسے مجاہد پیدا ہوتے رہیں گے۔ ان کی شہادت نے یہ ثابت کر دیا کہ حق کی آواز کو گولیوں سے دبایا نہیں جا سکتا۔

اللہ تعالیٰ شہید کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق دے۔

شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے۔

30/08/2025
30/08/2025

جب پھانسی کا پھندا ٹوٹ گرا!

سید قطب کو ظالمانہ طور پر پھانسی کے لیے لے جایا گیا!
شہر کے درمیان بڑے میدان میں بہت خاص قسم کا مجمع ہے!
بڑے بڑے سرکاری افسران اور بڑے بڑے فوجی عہدیداران!
بھاری سیکورٹی اور بڑے انتظامات!
سید قطب کو پھانسی کے تختے پر لایا گیا!
گلے میں پھندا ڈالا گیا!
اور پھانسی کا اشارہ دے دیا گیا!
اتفاق ایسا تھا کہ پھانسی کا پھندا ٹوٹ پڑا!
اور سید قطب وہیں گر پڑے!

تصور کریں،
اس وقت کس کے ذہن میں کیا خیال آرہا ہوگا!
سرکاری افسران الگ حیران ہوں گے!
فوجی عہدیداران کی پریشانی کا حال دیکھنے کا ہوگا!
پھانسی سے متعلق عملے کی کیفیت بالکل ہی الگ ہوگی!
اور وہاں موجود ہر فرد اس واقعے کو اپنے اپنے انداز سے دیکھ رہا ہوگا!

لیکن، پھانسی کے تختے سے گر جانے والا شخص کوئی عام انسان نہیں تھا!
یہ تو سید قطب تھا!
اسلامی فکر کا وہ امام جس نے ہر آزمائش کو قبول کرلیا، لیکن باطل کے سامنے ایک لمحہ کے لیے بھی جھکنے کو تیار نہ ہوا!
اسلامی فکر کا وہ ترجمان جس کی رگ وپے میں اسلام کی ترجمانی سرایت کی ہوئی تھی!
اللہ کا یہ بندہ اٹھ کھڑا ہوا!
مجمع کی طرف سر اٹھا کر دیکھا!
سمجھنے والے سمجھ رہے تھے کہ اب گھٹنے ٹیک دے گا!
اب معذرت کے دو بول ادا کرکے اپنی جان بچانے کی کوشش کرے گا!
لیکن، وہ تو سید قطب تھا!
گرج دار آواز سنی گئی!
اسلامی فکر کا یہ عظیم ترجمان اس نازک اور صبرآزما گھڑی میں بھی ببانگ دہل اعلان کررہا تھا؛
“سن لو!
تمہاری تمام جاہلیت ردّی اور بے کار ہے!
بالکل اسی طرح جس طرح تمہاری یہ رسی ردّی اور بے کار ہے!
یاد رکھو، تم لوگ جس جاہلیت میں پڑے ہوئے ہو وہ بالکل اسی طرح ردّی اور بے کار ہے!”

سید قطب شہید پر تنقید کرنے والے تنقید کرتے رہیں گے!
ان کے افکار اور عقائد کو نشانہ بنانے والے نشانہ بناتے رہیں گے!
لیکن، دنیا جانتی ہے،
کہ یہ اسلامی فکر کا وہ امام اور ترجمان ہے،
جو تمام جھوٹ اور بہتان کے باوجود،
جو تمام پروپیگنڈوں اور پابندیوں کے باوجود،
دنیا بھر میں آج بھی،
اسلامی فکر کا سب سے مضبوط اور سب سے طاقتور ترجمان مانا جاتا ہے!

اللہ کی رحمتیں ہوں سید قطب پر!
کروٹ کروٹ جنت ملے سید قطب کو!
شہداء اور صالحین کی امامت ملے سید قطب کو!
اور ہمیشہ نام روشن، اور فکر بلند رہے سید قطب کا!
آمین یا رب العالمین

29/08/2025

یہ وہی کتاب ہے جس پر دنیا میں پابندی لگی ہوئی ہے خاص طور پر عرب ممالک میں اور مغربی طاقتیں جیسے امریکہ وغیرہ دنیا میں سید قطب شہید (رح) کے اسٹوڈنٹس ڈھونڈتی پھر رہی ہیں اس وقت اور یہ وہی کتاب ہے جس کو بنیاد بنا کر سید قطب کو سزائے موت دے کر شہید کیا گیا لیکن انہوں نے اپنے موقف میں تبدیلی نہیں لائی اور اپنے 2 ساتھیوں سمیت تختہ دار پر شہید کر دیئے گئے، آپ نے شاید سید قطب شہید (رح) کا نام ہی پہلی بار سنا ہو وہ اس وجہ سے کہ اگر کوئی TV پر آکر عالم دین انکو پڑھنے کا کہہ دے تو اسکے بعد شاید وہ عالم دین آپ کو دوبارہ نظر ہی نہ آئے۔

29/08/2025

آج شہیدِ اسلام سیّد قطب کا یومِ شہادت ہے. انکی کُل فکر اس ایک دعوت سے تعبیر ہے کہ : جب مسلمانوں سے خلافت کی آخری نام نہاد میراث بھی چِھن گئی تو چہار دانگ عالَم میں مسلمان زُعماء و مُصلحین نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ دوبارہ اپنی اجتماعیت قائم کریں ورنہ استعمار آپ کے حصے بخرے کر کے چِھیتھڑے اڑا دے گا. یہ دعوت اخوان نہیں تمام مسلمان قیادت کی تھی البتہ سید اس قافلے میں
شامل ہوئے جس نے اپنا ھمّ و غم اسی دعوت کو بنا لیا تھا.

اب ذرا رک کر غور کریں.

کیا یہ دعوت دینا تکفیر ہے ؟ نہیں.
کیا یہ خروج اور بغاوت ہے ؟ نہیں.
کیا یہ انحراف ہے ؟ نہیں.
کیا یہ جذباتیت ہے ؟ نہیں.
کیا یہ دورِ حاضر کی بدعت ہے ؟ نہیں.

پھر یہ کیا ہے ؟ یہ اہلِ اسلام کی اوّلین ضرورت ہے کہ انہیں خود مختاری حاصل ہو. ہمارے غز.ہ تا کابل سب مصائب کا بڑا سبب یہی ہے کہ ہم نے نفاذ شریعت سے آنکھ چرائی. استعمار کو جگہ دی اور اپنی خود مختاری کھو دی.

28/08/2025

مولانا اسحاق فرمایا کرتے تھے:
"میرے جنازے پر لکھ دینا کہ میں نے کبھی کسی مسلمان کو کافر نہیں کہا۔"

یہ جملہ ان کی پوری زندگی اور فکر کا خلاصہ ہے۔ ان کے نزدیک امت کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ ہم نے اختلاف کو دشمنی اور نفرت میں بدل دیا ہے۔ وہ سمجھاتے کہ اگر کسی بھائی کے عقیدے یا عمل میں غلطی ہو تو اسے خیرخواہی اور دلیل سے سمجھاؤ، نہ کہ کفر کے فتوے لگا کر اسلام سے خارج کر دو۔

28/08/2025

ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

28/08/2025

وہ شخص جسے دیکھو تو اللّٰہ یاد آئے ۔
شیخ الاسلام مولانا اسحاق رح ❤️‍🩹🥺آپ جاچکے ہیں مگر میرا دل آپ کو یاد کرتا ہے۔ایک تازہ زخم ہے یہ جس سے خون رستا ہے ۔یارب علمائے حق کی خطاؤں سے درگزر فرمائیے اور جو کچھ وہ آپ کی رضا کی خاطر کر چکے اس کو قبول کیجئے ۔اور ان کو اور ہمیں اس سخت دن کی رسوائی سے بچا لیجئے گا ، ہم ان لوگوں سے بری ہیں جو علما کی خطاؤں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اس کو نشر کرتے ہیں اور ان کے متعلق ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ اپنے کسی کافر دشمن کے متعلق بول رہے ہوں ۔

27/08/2025

28 اگست 2013 شیخ الاسلام مولانا محمد اسحاق ؒ کا یومِ وفات۔

Address

Islamabad
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deen دین posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share