متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان

متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان تمام سادات کوایک پیلٹ فام پرلاناہمارےاولین ترجیح ہے

16/07/2022

تینوں کوہستان (اپر لوٸر اور کے پی کوہستان ) کے سادات بھاٸیوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ انشااللہ کل بروز اتوار ١٧/٠٧/٢٠٢٢ کو متحدہ سادات قومی مومنٹ کی انتظامیہ نے میٹنگ کا انعقاد کیا ہے
تمام سادات کو دعوت شرکت دی جاتی ہے
میٹنگ دوپہر ٢:٠٠ بجے دوبیر بازار پیر جمعہ شاہ کے حجرے میں ہوگی
وقت کی پابندی ضروری ہے

سید جمعہ شاہ جلالی

(جلبل)

تاریخ : 26/12/2021روز: اتوارآج متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی وضلعی کابینہ کے ارکان لورین  بٹیڑہ  بالا  میں مت...
26/12/2021

تاریخ : 26/12/2021
روز: اتوار

آج متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی وضلعی کابینہ کے ارکان لورین بٹیڑہ بالا میں متحدہ سادات قومی موومنٹ بٹیڑہ کے جنرل سیکرٹری پرنس تاج محمد شاہ (مرحوم) کے فاتحہ خوانی کے لئے ان کے رہائش گاہ گئے ان کے والد محترم سید مسکین شاہ سے تعزیت کی اور مرحوم کی ایصال ثواب کے لۓ فاتحہ خوانی کی۔

اس تعزیتی بھیٹک میں علاقائی دیگر افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ پرنس تاج محمد شاہ کو حالیہ دنوں میں شہید کیا گیا تھا

جلبل

اطلاع عاممتحدہ سادات قومی مومنٹ کے  تمام ممبران اور ارکان کواطلاع دی جاتی ہے کہ  کمیٹی کے شوری نے فیصلہ کیا ہے کہ 26 دسم...
24/12/2021

اطلاع عام

متحدہ سادات قومی مومنٹ کے تمام ممبران اور ارکان کواطلاع دی جاتی ہے کہ کمیٹی کے شوری نے فیصلہ کیا ہے کہ 26 دسمبر بروز اتوار لورین بٹیڑہ بالا kp کوہستان محترم مسکین شاہ صاحب کے گھر پر تاج محمد مرحوم کے ناروا قتل کے سلسلے میں تعزیتی اجلاس ہوگی

اتحاد بین السادات پر تفصیلی بات ہوگی اور کوٸی نیا لاٸحہ عمل طے ہوگا

تمام سادات اپنی شرکت کو یقینی بناٸیں

وقت صبح 10:00بجے
رہاٸش گاہ محترم مسکین شاہ
لورین بٹیڑہ بالا
کے پی کوہستان

نوٹ : وقت کی پابندی مہذب اقوام کا شیوہ ہے

جلبل

31/10/2021

محقق سادات ترمذی فخر سادات سید ممتاز شاہ ترمذی کے والدہ محترمہ کے انتقال پر متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان کے سنئیر نائب صدر پیر سید جمعہ شاہ جلالی کا اظہار تعزیت

تعارف سیّد علی تِرمذی المعروف پیر بابا(رح)مدفن بونیر خیبر پختونخواہ!پیدائش:908ھ بمطابق 1502 میں ہوئی-مقام ولادت: شہر فرغ...
18/09/2021

تعارف سیّد علی تِرمذی المعروف پیر بابا(رح)مدفن بونیر خیبر پختونخواہ!

پیدائش:908ھ بمطابق 1502 میں ہوئی-
مقام ولادت: شہر فرغانہ ترمذ جو آج کل ملک ازبکستان کا حصہ ہے۔
آپ کا خاندان سادات حسینی کی ایک ذیلی شاخ ہے،امام حسین(رض) کی نسبت سے حسینی اور امام نقی رحمۃ اللّٰہ کی نسبت سے نقوی سید ہے۔
پدری نسبت کے حوالے سے پیر بابا اور ان کی اولاد نقوی سادات ہیں اور بلدی یعنی شہری نسبت کے حوالے سے پیر بابا اور انکی اولاد ترمذی سادات ہیں۔

پیر بابا رحمۃ اللّٰہ علیہ کے جد امجد سید احمد بیغم بخارا سے ترمذ ہجرت کرگئے تھے

آپ کے القابات:غوث سرحد،پیر خراسان اور آپ کے اجداد خراسان اور ما وراءالنہر میں رہنے کی وجہ سے آپ کو شہنشاہ خراسان بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی والدہ مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کی پھوپھی تھی۔
والد کا نام سید قنبر علی ہے وہ فرغانہ کے چیف بھی رہے ہیں جسکی وجہ سے انہیں چیف آف فرغانہ بھی کہا جاتا ہے۔
ابتدائی تعلیم:اپنے دادا بزرگوار امام المسلمین سید احمد نور رحمۃ اللّٰہ سے حاصل کی،نحو کی مشہور کتاب شرح ملا جامی ان سے پڑھی اور انہوں نے مرض الوفات میں سلسلہ کبرویہ میں انہیں خلافت بھی دی،یہ سلسلہ انکے پاس اپنی کئی پشتوں سے تھا۔
بچپن میں پیر بابا رحمۃ اللّٰہ ریاضت،عبادت اور تقوی کی طرف مائل تھے،کھیل،کود جو بچوں کا مشغلہ ہوتا ہے ان سے دور رہتے،دادا کی رحلت کے بعد انتہائی افسردہ رہتے،والد بزرگوار سید قنبر علی دلجوئی کے لئے ظہیرالدین بابر کے شاہی محل لے جاتے "چونکہ ان کے والد بزرگوار کو شاہی محل میں ایک امتیازی حیثیت حاصل تھی،وہ بابر کے ساتھ فوجی مشیر تھے" تاکہ ان کا غم کم ہو لیکن پیر بابا کو دنیاوی جاہ و جلال سے کوئی غرض نہیں تھی۔

ہند میں آمد:ظہیر الدین بابر جب کابل کے بادشاہ تھے اس نے ہند پر حملہ کا ارادہ کیا تب پیر بابا کے والد قندوز کے گورنر تھے،بابر نے سید قنبر علی کو حملے میں شمولیت کی دعوت دی تو سید قنبر علی نے پیر بابا رحمۃ اللّٰہ کو اپنے ساتھ لیکر ہند روانہ ہوئے،جہاں ابراہیم لودھی کی حکومت تھی،لودھی کو شکست ہوئی،جب پیر بابا نے بادشاہت کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہوتے دیکھا تو دنیا کی عظمت انکے دل مزید دور ہوتی گئی،پیر بابا قلب کے لئے پانی پت میں سپاہیانہ میں گشت کرتے رہے،گشت کے دوران قطب عالم شیخ شرف الدین بوعلی قلندر پانی پتی کا مزار نظر انہیں نظر آیا،مزار کی طرف روانہ ہوئے،دربار کے دروازے پر وردی،گھوڑا اور تمام سامان خادم کے حوالہ کردیا،دربار پر فیوضات اور برکات دیکھ کر دنیا سے مکمل طور پر کنارہ کشی کا عزم مصمم کرلیا۔
مراقبے سے فارغ ہوکر مزار کے دوسرے دروازے سے نکل گئے،ایک بیابان میں عبادت الٰہی میں مشغول ہوگئے،والد ماجد کو علم ہوجانے پر اسے ڈھونڈنے لگے طویل تلاش بسیار کے بعد ایک ویرانے میں ملے،بہت منت سماجت کے بعد بھی والد کے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوئے،والد نے مجبور ہوکر اجازت دیدی۔

مانک پور میں قیام:والد سے رخصتی کے بعد شیخ سیلونہ جو شیخ بہاءالدین کے مرید تھے،انکی خدمت میں حاضر ہوئے،ان نحو کی کتاب کافیہ اور فقہ احناف کی مشہور کتاب ہدایہ ان سے پڑھی،جب پیر بابا نے ان سے طریقت میں بیعت ہونے کی استدعا کی تو انہوں نے شیخ عطاءاللّٰہ سالار رومی کے ہاں حاضر ہونے کا حکم دیا۔

اجمیر میں آمد:پیر بابا رحمۃ اللّٰہ شیخ سیلونہ کا سفارشی خط انہیں دیکھایا تو انہوں شفقت فرماتے ہوئے اسباق مکمل ہونے پر خلافت سے نوازتے ہوئے پیر بابا رحمۃ اللّٰہ کو ارشاد و ہدایت کی اجازت دی۔
شیخ عطاءاللّٰہ سالار رومی کی طرف سے خلافت دینے کے بعد پیر بابا اس قدر مشہور و معروف ہوئے کہ لوگوں کا ہجوم انکے حلقہ ارادت میں شامل ہوا،انکے حلقہ مریدین میں پشاور سے تعلق رکھنے والے ملک گدائی اور حاجی سیف اللّٰہ گگیانی بھی شامل تھے،چنانچہ شیخ سالار رومی نے پیر بابا کو کوہستان کی طرف چلنے کا حکم دیا،وہاں جاکر دعوت و ارشاد کا سلسلہ شروع کریں۔

گجرات پنجاب میں آمد:اپنے مرشد سے اجازت کے بعد حضرت پیر بابا(رح)دعوت دین کے سلسلے میں اجمیر شریف سے پشاور کے لئے روانہ ہوئے،جب آپ گجرات کے نواح گاؤں جسکا نام داؤد پنڈ ہے کے قریب پہنچے تو وہاں موجود ایک شخص جسکا نام کیلاش تھا شور مچاتے ہوئے گاؤں کی طرف بھاگتے ہوئے کہنے لگے جس آدمی کو میں نے خواب میں دیکھا تھا وہ گاؤں کے قریب آرہے ہیں،سب نکل کر انکا استقبال کریں،جن کے پاس ہماری نجات کا سامان ہے،ایک بڑا ہجوم نکل کر انکے استقبال کے لئے نکل پڑے،پیر بابا (رح)نے جم غفیر دیکھ کر پوچھا کیا قصہ ہے؟سب کہنے لگے کیلاش نے کچھ دن پہلے ایک خواب دیکھا تھا،خواب میں آپکے ہو بہو بندہ دیکھا تھا کہ اس ہستی کے ہاتھ پر تمام گاؤں والے مسلمان ہونگے،یاد رہے کہ اس گاؤں سے مذہب کے لحاظ سے ہندو تھے،خواب دیکھنے کے بعد اس نے ہم سے بیان کیا،جن نشانات اور حلیوں کا ذکر کیا تھا وہ سب کے سب آپکے اندر موجود ہیں،جس پر حضرت پیر بابا نے کہنے لگے وہ میں نہیں کوئی اور ہوں گے جس پر سب کہنے لگے وہ آپ ہی ہیں،اسکے بعد پیر بابا انکے ساتھ گاؤں کی طرچ چل کر انہیں کلمہ شہادٹ پڑھاکر ایک سال تک انکے درمیان میں رہ کر دین کے زریں اصول سے انہیں واقف کیا،
والد گرامی سے دوبارہ ملاقات:حضرت پیر بابا اسی گاؤں میں ہی تھے کہ ہمایوں نے شیرشاہ سوری سے شکست کھانے کے بعد سندھ کے راستے سے قندہار چلے گئے،پیر بابا کے والد سید قنبر علی جو ہمایوں فوج میں تھے پنجاب کے راستے سے قندوز جا رہے تھے اسی گاؤں میں پیر بابا سے ملاقات ہوئی،گرم جوشی سے ملے،والد بزرگوار کہنے لگے بیٹے تم نے صحیح راستہ اختیار کیا ہے،آؤ دونوں گاؤں کی طرف چلتے ہیں لیکن پیر بابا نے انکار کیا،والد نے اشرفیوں کے تھیلے پیر بابا کو دی جسے لینے سے پیر بابا نے انکار کیا والد کے اصرار پر لیکر غرباء میں تقسیم کردیا،والد کی رخصتی کے بعد دل میں داعیہ پیدا ہوا کہ اجمیر شریف جاکر اپنے پیر و مرشد سے ملاقات کرو،یاد رہے کہ پیر بابا کی اپنے سے یہ آخری ملاقات تھی۔
دوبارہ اجمیر شریف کی طرف سفر:حضرت پیر بابا کے پاس ایک ہجوم رہتا لیکن وہ ہجوم سے گھبراتے تو انہوں نے سوچا کہ اجمیر شریف جاکر اپنے پیر و مرشد سے استدعا کرکے کہوں گا کہ مجھ یہ ہجوم سنبھالا نہیں نہیں جاتا،لہذا مجھے اجازت دیکر تاکہ صرف گوشہ نیشینی اختیار کرنے دیں،اس غرض سے وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ پیر و مرشد اس دنیا میں نہیں رہے،فاتحہ کی نیت سے انکے گھر گئے اپنے شیخ کے بیٹے شیخ حسین کو مراقبے میں پایا،مراقبے کے بعد پیر بابا نے ان سے تعزیت کی،شیخ کے بیٹے نے کہا کہ والد بزرگوار نے وصیت کی ابھی جو مہمان آپکے پاس آرہے ہیں میرے دو خرقوں میں ایک تمام مریدین میں تقسیم کریں اور ایک جو ابھی مہمان قریب سے آرہے ہیں انہیں دیں،ساتھ یہ بھی کہا کہ والد نے حکم کیا ہے کہ سید علی ترمذی سے کہا جائے کہ کوہستان کی طرف جاکر وہاں دعوت و ارشاد کا کام کریں،کسی خاص کوہستان کا نام ذکر نہیں کیا تھا کیوں کہ ایک آباسین کوہستان ہے،ایک دیر کوہستان ہے اور ایک سوات کا کوہستان ہے جبکہ افغانستان میں بھی کوہستان ہے،پیر بابا رحمۃ اللّٰہ کندوز کی نیت سے چند دن اجمیر میں گزارنے کے بعد روانہ ہوئے،آرام کی نیت سے پشاور میں ٹھہرے،اسی دوران ملک گدائی اور سیف اللّٰہ گیگانی سے انکی ملاقات ہوئے،یہ دونوں حضرات پیر بابا کے مرید تھے،شدید اصرار پر پیر بابا کو اپنے علاقہ دو آبہ جو پشاور کے قریب ہے لیکر گئے،تاکہ وہاں ہماری اولاد،عزیز و اقارب انکے فیض سے مستفید ہو،پیر بابا ایک سال انکے ہاں رہے،جب کندوز جانے کی اچازت چاہی تو انکا دل ابھی تک بھرا نہیں تھا،انہوں نے درخواست کی کہ علاقہ یوسفزئی میں جعلی پیروں کا بھرمار ہے،لوگوں کو گمراہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں لہذا آپکا وہاں جانا انتہائی ضروری ہے،پیر بابا علاقہ یوسفزئی میں انکا بیان ہے کہ مجھے جتنے معلومات تھے دین کے بارے میں سب سے انہیں آگاہ کیا۔
*علاقہ سدوم میں آمد اور شادی*:شہباز گڑھ سدوم یہ مردان کے علاقہ رستم کے قریب ایک گاؤں ہے جسکا نام آج پیر بابا کے نام سے علی یا الی ہے،جعلی پیروں کے خلاف اصلاحی کامیاب تحریک کے بعد پیر بابا نے واپس کندوز جانے کا ارادہ کیا لیکن یہاں کے رواج کے مطابق جنکے ساتھ عقیدت ہوتی ہے تو یہاں انکی شادی کراتے تاکہ یہ ہمیشہ کے لئے ہمارے ہاں،ملک دولت خان نے اپنی بہن کا نکاح پیر بابا سے کرانے ارادہ کیا لیکن حضرت پیر بابا نے انکار کیا،جرگہ شدید اصرار پر شادی پر راضی ہوئے،یہ وہی علاقہ ہے جس میں اخوند درویزہ پیر بابا سے ملکر انکے مریدین میں شامل ہوگئے رتھے،ایک عرصہ پیر بابا یہاں رہیں،والدین کی ملاقات کی غرض سے قندوز روانہ ہوئے وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ والد ماجد دار بقا کی طرف کوچ کر گئے ہیں،والدہ ماجدہ سے اپنی شادی اور بچوں کے بارے میں آگاہ کیا،انہوں نے کہا اگر آپکے بچے یہاں آنا چاہے تو ٹھیک ہے ورنہ میری طرف سے آپکو اجازت ہے اپنے بچوں کے ساتھ وہاں رہیں۔
بونیر میں آمد:والدہ رخصتی کے بعد سدوم آئے،کچھ عرصہ یہاں رہیں،پھر وہاں سے بونیر کے تحصیل گدیزئی پاچا کلی تشریف لیکر گئے،تا حیات وہی رہیں،انکا مزار بھی آج وہاں واقع ہے جو مرجع خلائق ہے۔
وفات:1583 کو آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے،
اولاد:آپ کے دو بیٹے تھے
سید مصطفیٰ
سید حبیب۔
سید حبیب آپکی زندگی میں بچپن ہی میں وفات پائے تھے،آپ کی اولاد کا سلسلہ سید مصطفیٰ بابا سے چلا آرہا ہے۔
حوالہ جات:تذکرہ سادات ترمذی،کتاب العبرہ،صوفیائے سرحد،علماء و مشائخ عظام سرحد۔
نوٹ:یاد رہے کہ صرف پیر بابا کی تاریخ کا مختصر نقشہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے،بہت ساری چیزیں طوالت سے بچنے کے لئے چھوڑ چکا ہوں،یہ بھی ممکن ہے کہ اختصار سے کام لیتے وقت جا بجا غلطیاں بھی کر چکا ہوں۔

راقم الحروف:
حافظ سیّد عاقب شاہ ترمذی

16/09/2021

متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان
شئیر ضرور کریں شکریہ

21/08/2021

ضرور اطلاع
متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان ضلع کولئ پالس کوہستان کے صدر سید منہاج الدین شاہ کے والدہ محترمہ کےوفات پر کل بروزاتواربوقت 10 بجےبمقام محیب اللہ ہاؤس گاؤں کولئی ضلع کولئی پالس کوہستان میں تعزیتی میٹنگ ہےتمام سادات سے شرکت کی اپیل ہے

بٹگرام متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان کےمرکزی سنئیرنائب صدر پیر سید جمعہ شاہ جلالی اورضلع کولئی پالس کوہستان کےفناس سیک...
09/08/2021

بٹگرام
متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان کےمرکزی سنئیرنائب صدر پیر سید جمعہ شاہ جلالی اورضلع کولئی پالس کوہستان کےفناس سیکرٹری سید نعیم شاہ السیفی نےپیرھاڑی بٹگرام میں سادات سماجی تحریک کےبانی وچئیرمین سید لعل بادشاہ الحسینی کےفاتحہ خوانی کئےاورسید لعل بادشاہ الحسینی کےقبر پرپھول چڑھائے اورسید لعل بادشاہ الحسینی کوخراج عقیدت پیش کئے
پیرسید جمعہ شاہ جلالی نےکہاکہ سیدلعل بادشاہ الحسینی کےسادات کیلئے بہت بڑی خدمت ہیں جوہمیشہ سنہری الفاظ میں لکھی جائے گی شاہ صاحب جیسے لوگ صدیومیں پیداہوتے ہیں حقیقت میں سادات برادری ایک حقیقی ترجمان سے محروم ہوگئے اس کےبعد حسینی صاحب کےبیٹاشاہ فہد اورحسینی صاحب کے والد محترم سےتفصیلی نشست کی اس موقعے پرسادات سماجی تحریک کےسنئیر رہنماء سید تواب شاہ بھی موجود تھے

"جاگ سادات جاگ"اس افسوس ناک واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،کل سوات میں سیر و سیاحت کے لئےے جانے والے سید فضل احمد جنکا...
02/08/2021

"جاگ سادات جاگ"
اس افسوس ناک واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،کل سوات میں سیر و سیاحت کے لئےے جانے والے سید فضل احمد جنکا تعلق بیدارہ تحصیل مٹہ ضلع سوات سےہے،کل سیر و تفریح کی غرض سے مشہور سیاحتی مقام کالام چلے گئے جہاں تھوڑی سی تکرار پر اس پر فائر کھول کر شہید کردیا،دیگر ساتھیوں کو یرغمال بنایا،ایک معمولی بات پر کسی انسان کی جان لینا سمجھ سے بالاتر ہے،قاتل تا حال گرفتار نہیں ہوئے ہیں،ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہماری امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھی جائے،ہم ہر حال میں اس قاتل کی گرفتاری چاہتے ہیں،ڈی پی او سوات قاتلوں کی گرفتاری فی الفور عمل میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے،بصورت دیگر ملک بھر کے سادات انصاف ملنے تک سڑکوں پر رہیں گے،تمام سادات بھائی اس حوالے سے مل کر اواز اٹھائیں۔

انتہائی افسوسناک خبر استادالعلماء شیخ الحدیث فخرسادات حضرت علامہ مولاناسید غلام نبی شاہ اس دنیا سے رحلت فر ما گئے ہیں شا...
03/07/2021

انتہائی افسوسناک خبر
استادالعلماء شیخ الحدیث فخرسادات حضرت علامہ مولاناسید غلام نبی شاہ اس دنیا سے رحلت فر ما گئے ہیں شاہ صاحب کےموت کےخبرسن کرانتہائےدکھ ہوا
اورسادات کاایک اورستارہ ڈوب گیا پاکستان ایک اور ہستی سے محروم ہوگئے مصیبت کےاس گھڑی میں غم سےنڈھال خاندان کے ساتھ متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان برابر شریک ہیں
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شاہ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور لواحقین سمیت ہم سب کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین ثم آمین

متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان کےمرکزسنئیرنائب صدر سیدجمعہ شاہ جلالی کو اج بی ایچ یو دوبیر خاص ضلع کوہستان لوئر  میں کر...
27/06/2021

متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان کےمرکزسنئیرنائب صدر سیدجمعہ شاہ جلالی کو اج بی ایچ یو دوبیر خاص ضلع کوہستان لوئر میں کروناویکسین لگوایا گیا اس موقعے پر نائب تحصیلدار زبور خان بھی موجود تھے
سید جمعہ شاہ جلالی نےعوام کوپیغام دیتے ہوئے کہا کہ کرونا ویکسینشن ضرور کروائیں کیونکہ کروناایک موذی مرض ہےاس لئے ویکسین لگوانالازمی ہے

Address

Islamabad

Telephone

+923313008445

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when متحدہ سادات قومی موومنٹ پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share