15/05/2024
حضرت علیؓ کا ایک عجیب فیصلہ
حضرت علیؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تھا۔ وہاں کے لوگ شیر کا شکار کرنے کے لئے گڑھا کھودا کرتے تھے اور مختلف تدبیروں سے شیر کو اس گڑھے میں گرا کر اس کا شکار کرتے تھے، ایک دن انہوں نے ایسا ہی ایک گڑھا کھودا اور شیر کو اسمیں گرا لیا۔ آس پاس کے لوگ تماشا دیکھنے کے لئے گڑھے کے ارد گرد جمع ہو گئے اور اتنی دھکا پیل ہوئی کہ ایک آودی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور گڑھے میں گرنے لگا۔ گرتے گرتے اس نے سنبھلنے کے لئے ایک پاس کھڑے ہوئے آدمی کا ہاتھ پکڑا اس سے دوسرے آدمی کے بھی پاؤں اکھر گئے اور وہ بھی کرنے لگا اس نے سنبھلنے کے لئے ایک تیسرے آدمی کا ہاتھ پکڑا اور تیرے نے چوتھے کا یہاں تک کہ چاروں گھڑے میں آرہے ، شیرا ابھی زندہ تھا۔ اس نے چاروں کو اتنا زخمی کیا کہ وہیں ان کی موت واقع ہو گئی۔ اب مرنے والوں کے رشتہ داروں میں جھگڑا شروع ہوا کہ ان کا خوں بہا کون دے ؟ گفتگو میں تیزی آگئی یہاں تک کہ تلواریں تک نکل آئیں اور خونریزی ہوتے ہوتے بچی۔ حضرت علیؓ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ان چاروں کی دیت (خون بہا) گڑھا کھودنے والے پر ہے۔ لیکن اس ترتیب سے کہ پہلے کو چوتھائی دیت دوسرے کو تھائی دیت، تیسرے کو آدھی دیت اور چوتھے کو پوری دیت ملے گی۔ بعد میں یہ قصه آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے اس کی تصویب فرمائی۔ علامہ قرطبی تحریر فرماتے ہیں کہ اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ چاروں خطاء قتل ہوئے
تھے اور گڑھا کھودنے والا ان کی دیت کا ذمہ دار تھا، لیکن پہلا شخص مقتول ہونے کے ساتھ ساتھ تین آدمیوں کو کھینچنے کی وجہ سے ان کا قاتل بھی تھا، لہذا جو دیت اس کو ملتی اس کے تین حصے ہر مقتول پر تقسیم ہو کر اس کیلئے صرف چوتھائی حصہ بچا اسی طرح دوسرا شخص دو آدمیوں کا قاتل ہے اس لئے اس کی دیت کے دو تہائی حصے اس کے دو مقتولوں کو اور ایک حصہ خود اس کو ملے گا تیسرا شخص ایک آدمی کا قاتل تھا اس لئے آدھی دیت اس کے مقتول کی اور آدھی دیت خود اس کی ہوگی اور چوتھے نے کسی کو نہیں کھینچا اس لئے اسے پوری دیت ملے گی۔ ۔
تفسیر القرطبی ص ۲۲۳ ج ۱۵ تغير و اتيناه الحكمة وفصل الخطاب )