مبلغ اسلام

مبلغ اسلام Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from مبلغ اسلام, Religious organisation, Islamabad.

TheUlema-e-Pakistan Forum
We teach holy Quran and providing different islamic service with tajweed rule and Tafseer.Lesson
and different languages courses as well
Beneficial for children and adults trying to learn the Quran for the first time.

حضرت علیؓ کا ایک عجیب فیصلہحضرت علیؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تھا۔ وہاں کے لوگ شیر کا شکار کرنے کے لئے ...
15/05/2024

حضرت علیؓ کا ایک عجیب فیصلہ

حضرت علیؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تھا۔ وہاں کے لوگ شیر کا شکار کرنے کے لئے گڑھا کھودا کرتے تھے اور مختلف تدبیروں سے شیر کو اس گڑھے میں گرا کر اس کا شکار کرتے تھے، ایک دن انہوں نے ایسا ہی ایک گڑھا کھودا اور شیر کو اسمیں گرا لیا۔ آس پاس کے لوگ تماشا دیکھنے کے لئے گڑھے کے ارد گرد جمع ہو گئے اور اتنی دھکا پیل ہوئی کہ ایک آودی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور گڑھے میں گرنے لگا۔ گرتے گرتے اس نے سنبھلنے کے لئے ایک پاس کھڑے ہوئے آدمی کا ہاتھ پکڑا اس سے دوسرے آدمی کے بھی پاؤں اکھر گئے اور وہ بھی کرنے لگا اس نے سنبھلنے کے لئے ایک تیسرے آدمی کا ہاتھ پکڑا اور تیرے نے چوتھے کا یہاں تک کہ چاروں گھڑے میں آرہے ، شیرا ابھی زندہ تھا۔ اس نے چاروں کو اتنا زخمی کیا کہ وہیں ان کی موت واقع ہو گئی۔ اب مرنے والوں کے رشتہ داروں میں جھگڑا شروع ہوا کہ ان کا خوں بہا کون دے ؟ گفتگو میں تیزی آگئی یہاں تک کہ تلواریں تک نکل آئیں اور خونریزی ہوتے ہوتے بچی۔ حضرت علیؓ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ان چاروں کی دیت (خون بہا) گڑھا کھودنے والے پر ہے۔ لیکن اس ترتیب سے کہ پہلے کو چوتھائی دیت دوسرے کو تھائی دیت، تیسرے کو آدھی دیت اور چوتھے کو پوری دیت ملے گی۔ بعد میں یہ قصه آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے اس کی تصویب فرمائی۔ علامہ قرطبی تحریر فرماتے ہیں کہ اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ چاروں خطاء قتل ہوئے

تھے اور گڑھا کھودنے والا ان کی دیت کا ذمہ دار تھا، لیکن پہلا شخص مقتول ہونے کے ساتھ ساتھ تین آدمیوں کو کھینچنے کی وجہ سے ان کا قاتل بھی تھا، لہذا جو دیت اس کو ملتی اس کے تین حصے ہر مقتول پر تقسیم ہو کر اس کیلئے صرف چوتھائی حصہ بچا اسی طرح دوسرا شخص دو آدمیوں کا قاتل ہے اس لئے اس کی دیت کے دو تہائی حصے اس کے دو مقتولوں کو اور ایک حصہ خود اس کو ملے گا تیسرا شخص ایک آدمی کا قاتل تھا اس لئے آدھی دیت اس کے مقتول کی اور آدھی دیت خود اس کی ہوگی اور چوتھے نے کسی کو نہیں کھینچا اس لئے اسے پوری دیت ملے گی۔ ۔

تفسیر القرطبی ص ۲۲۳ ج ۱۵ تغير و اتيناه الحكمة وفصل الخطاب )

کچھ تعلقات چھینک کی طرح ہوتے ہیں ختم ہوتے ہی شکر الحمد للہ کہنے کا دل کرتا ہے
03/05/2024

کچھ تعلقات چھینک کی طرح ہوتے ہیں ختم ہوتے ہی شکر الحمد للہ کہنے کا دل کرتا ہے

سوال : کیا بچوں کے کھیل کا سامان، مثلاً چینی کی گولیاں،تاش،ربڑ کی چڑیاں اور لڑکیوں کے لیے گڑیاں وغیرہ فروخت کرنا جائز ہے...
02/05/2024

سوال : کیا بچوں کے کھیل کا سامان، مثلاً چینی کی گولیاں،تاش،ربڑ کی چڑیاں اور لڑکیوں کے لیے گڑیاں وغیرہ فروخت کرنا جائز ہے،نیز ہندوئوں کی ضرورت کی گڑیاں بھی کیا بیچی جاسکتی ہیں؟

جواب: بچوں کے کھلونے بیچنا بجائے خود ناجائز نہیں ہے اِلّایہ کہ کسی خاص کھلونے یا کھیل کے سامان میں کوئی شرعی قباحت ہو۔رہے جانوروں اور آدمیوں کے مجسّمے، توان کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ پوری باریکی سے تمام خدوخال کے ساتھ انھیں بنایا گیا ہو۔دوسرے یہ کہ محض ایک سرسری سا ڈھانچا کسی جان دار کا ہو، جیسے لکڑی کے گھوڑے اور کپڑے کی گڑیاں۔ پہلی قسم کے مجسّموں کی فروخت جائز نہیں ہے۔البتہ دوسری قسم کے کھلونے آپ بیچ سکتے ہیں۔ رہیں ہندوئوں کی ضرورت کی گڑیاں، تو اگر وہ مشرکانہ تخیلات کی نمائندہ ہوں،مثلاًکشن جی کی مورتی یا رام چندر جی کا مجسمہ وغیرہ،تو ان کی فروخت حرام ہے۔

سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ

ایک جہاد میں دو صحابہ کی دعائیںامام بغوی حضرت سعد بن ابی وقاص سے نقل کرتے ہیں کہ غزوہ اُحد کے دوران حضرت عبداللہ بن جحش ...
01/05/2024

ایک جہاد میں دو صحابہ کی دعائیں

امام بغوی حضرت سعد بن ابی وقاص سے نقل کرتے ہیں کہ غزوہ اُحد کے دوران حضرت عبداللہ بن جحش نے مجھ سے کہا کہ "آئیے مل کر دعا کریں۔ " میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ ہم ایک گوشے میں چلے گئے، وہاں میں نے تو یہ دعا کی کہ : پروردگار ! جب کل دشمن سے ہماری جنگ شروع ہو تو میرا مقابلہ کسی ایسے شخص سے کرائے جو بڑا طاقتور اور ہٹا کٹا ہو میں اس سے خالص آپ کی خوشنودی کی خاطر لڑوں اور پھر آپ مجھے اس پر فتح نصیب فرمائیں " حضرت عبداللہ بن جحش نے اس دعا پر آمین کی ، پھر خودان کی دعا کی باری تھی ، اب انہوں نے ان الفاظ سے دعا فرمائی "یا اللہ ! مجھے کل کوئی ایسا طاقت ور شخص نصیب فرما جس سے میں آپ کی خوشنودی کی خاطر لڑوں یہاں تک کہ وہ مجھے پکڑ کر میرے ناک کان کاٹے اور پھر جب میں قیامت کے دن آپ سے ملوں تو عرض کروں کہ میرے ساتھ یہ سلوک آپ کی اور آپ کے رسول کی راہ میں ہوا۔ اور آپ جواب میں میری تصدیق فرمائیں " حضرت سعد فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن جحش کی دعا میری دعا سے بہتر تھی، چنانچہ اسی روز جب دن ڈھلا تو میں نے دیکھا کہ ان کی ناک اور کان ایک دھاگے میں لٹکے ہوئے ہیں۔ (الاصابہ ص

۲۷۸- ج ۲)

اشعب لالچیاہل عرب میں اشعب نامی ایک صاحب (متوفی ۱۵۴ھ ) لالچی ہونے میں بہت مشہور تھے، یہاں تک کہ ان کا لقب "طامع" (لالچی)...
01/05/2024

اشعب لالچی

اہل عرب میں اشعب نامی ایک صاحب (متوفی ۱۵۴ھ ) لالچی ہونے میں بہت مشہور تھے، یہاں تک کہ ان کا لقب "طامع" (لالچی) مشہور ہو گیا اور وہ حرص و طمع کے معاملہ میں ضرب المثل بن گئے ہیں۔ جب کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ وہ بہت لالچی ہے تو کہتے ہیں کہ وہ تو اپنے وقت کا اشعب ہے " یا " یہ تو اشعب سے بھی بڑھ گیا۔ " عربی زبان کے یہ جملے بہت سنے تھے۔ آج خطیب کی تاریخ بغداد میں ان کے کچھ واقعات نظر پڑ گئے ، ضیافت

طبع کے لئے حاضر ہیں۔

(1) اصمعی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ بچے اشعب کے پیچھے لگ گئے اور اسے طرح طرح

سے ستانے لگے ، اشعب عاجز آ گیا تو اس نے بچوں سے کہا : ارے جاؤ سالم بن عبداللہ کھجوریں بانٹ رہے ہیں۔"
بچے یہ سن کر حضرت سالم کے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ اشعب نے یہ دیکھا تو خود بھی بچوں کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا کہ کیا خبر یہ بات سچ ہی ہو اور سالم واقعی کھجوریں بانٹ رہے

ہوں۔" (۲) ضحاک کہتے ہیں کہ اشعب طماع کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو (فروخت کرنے کے

لئے) تھال بنا رہے تھے اشعب نے ان سے کہا :

آئے۔"

ذرا بڑے بڑے بناؤ۔"

وہ کیوں؟ انہوں نے پوچھا ہو سکتا ہے کوئی شخص کبھی انہی تھالوں میں سے میرے واسطے کوئی تحفہ ہدیہ لے کر

(۳) اشعب خود کہتے ہیں کہ "جب بھی میں کسی جنازہ میں شریک ہوا اور وہاں دو آدمیوں کو سرگوشی کرتے دیکھا تو ہمیشہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ شاید مرنے والا میرے لئے کوئی وصیت کر کے گیا ہے اور اس کے سلسلے میں بات کر رہے ہیں۔" (تاریخ بغداد للخطیب ص ۴۳٬۴۲
ج اے)

امام ش*ذ کونی رحمہ اللّٰہ کی مغفرتحافظ شمس الدین سخاوی تحریر فرماتے ہیں کہ مشہور محدث امام ابو ایوب سلیمان بن داؤد شاز ک...
29/04/2024

امام ش*ذ کونی رحمہ اللّٰہ کی مغفرت

حافظ شمس الدین سخاوی تحریر فرماتے ہیں کہ مشہور محدث امام ابو ایوب سلیمان بن داؤد شاز کوئی (متوفی ۲۳۴ھ) کو کسی نے ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ : اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟" انہوں نے جواب دیا کہ اللہ نے میری مغفرت فرمادی۔ پوچھا کہ "کس عمل کی بنا پر ؟" انہوں نے جواب میں فرمایا کہ : ایک روز میں اصفهان جا رہا تھا، راستہ میں زور کی بارش شروع ہوئی، مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ میرے ساتھ کچھ کتابیں ہیں ، اگر وہ ضائع ہو گئیں تو میری ساری پونجی لٹ جائیگی قریب میں کوئی ایسا سائبان یا چھت نہ تھی جس کے نیچے پناہ لی جا سکے، چنانچہ میں نے اپنے جسم کو دوہرا کر کے کتابوں پر سایہ کر دیا، تاکہ وہ حتی الامکان بارش سے محفوظ رہیں، بارش ساری رات جاری رہی اور میں ساری رات اسی حالت میں بیٹھا رہا۔ صبح کے وقت بارش رکی اور میں سیدھا ہوا اللہ تعالی نے اس عمل کی وجہ سے میری مغفرت فرمادی۔ ( صفحات من عبر العلماء على شدائد التحصيل، للشيخ عبد الفتاح ابي غدة ص ۷۶ بحوالہ فتح المغيث للمحاوی ص ۱۵۷)

23/04/2024

چوری کے اسکول

لندن کے ایک تجارتی فرم کے سراغرساں مسٹرہا تھ نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں بچوں کو چوری کرنے کی تربیت دینے کے متعدد اسکول موجود ہیں۔ جن میں ہونہار طالب علموں کو اس فن" کے خاص شعبوں مثلا نقب زنی دکانوں سے اشیاء چرانے اور آہنی سیف توڑنے کی خصوصی اور اعلیٰ تربیت فراہم کرنے کا انتظام موجود ہے، انھوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے اس دور میں جہاں قومی پیداوار کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی ہے، چوروں کی تعداد میں بھی مناسب اضافہ ہوا ہے۔

مسٹر ہا تھ نے بتایا کہ میں جس اسٹور میں ملازم ہوں اس میں ۱۹۵۶ء تک ہر پندرہ گھنٹے کے بعد چوری کی ایک واردات ہوتی تھی ، اب گیارہ گھنٹے کے بعد اسٹور سے کوئی نہ کوئی چیز غائب ہو جاتی ہے، جن اسٹوروں میں نگرانی کا انتظام قدرے ناقص ہے، وہاں ہر پانچ گھٹے کے بعد ایک واردات ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۵۶ء میں ان کی فرم کے سراغرسانوں نے دو ہزار تین سو تریسٹھ افراد کو دکانوں سے چیزیں چرانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ۱۹۶۱ء میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد تقریباً دگنی رہی اور ہم نے تقریباً پچیس ہزار روپے کی مالیت کا مسروقه مال برآمد کیا۔ گرفتار شدگان میں ۷۶۶۹ فی صد عورتیں ۲۳۶۴ فیصد مرد تھے ان میں کم عمر لڑکے لڑکیوں کا تناسب ۴۷ فی صد تھا ، گرفتار شدگان میں سے ۶۶ فیصد کو اسٹور کے مالکوں نے ڈانٹ پھٹکار کر چھوڑ دیا، صرف ۳۴ فی صد کو عدالت سے سزا ہوئی، سزا پانے والوں میں دس فیصد عورتیں تھیں۔ (ماخوذ روزنامہ مشرق کراچی ۱۹ اپریل ۱۹۶۷ء ، صفحہ ۲)

امام ابو حنیفہ کی ذہانتعلامہ ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص کے گھر میں رات کو چور گھس آئے مالک مکان کو گرفتار کر لیا ...
18/04/2024

امام ابو حنیفہ کی ذہانت

علامہ ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص کے گھر میں رات کو چور گھس آئے مالک مکان کو گرفتار کر لیا اور اس کا سارا سامان سمیٹ کر لیجانے لگے جانے سے پہلے انہوں نے مالک مکان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن ان کے سردار نے کہا کہ " اس کا سامان تو سارا لیجاؤ مگر اسے زندہ چھوڑ دو اور قرآن اس کے ہاتھ پر رکھ کر اسے قسم دو کہ میں کسی شخص کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ چور کون تھے ؟ اور اگر میں نے کسی کو بتایا تو میری بیوی کو تین طلاق"

مالک مکان نے جان بچانے کی خاطر یہ قسم کھالی، لیکن بعد میں بڑا پریشان ہوا، صبح کو بازار میں گیا تو دیکھا کہ وہی چور چوری کا مال بڑے دھڑتے سے فروخت کر رہے ہیں اور یہ بیوی پر طلاق کے خوف سے زبان بھی نہیں کھول سکتا عاجز آکر یہ امام ابو حنیفہ " کے پاس پہنچا اور ان سے بتایا کہ رات اس اس طرح کچھ چور میرے گھر میں گھس آئے تھے اور

انہوں نے مجھے ایسی قسم دی اب میں ان کا نام ظاہر نہیں کر سکتا کیا کروں؟

امام صاحب نے کہا کہ تم اپنے محلہ کے معزز افراد کو جمع کرو میں ان سے ایک بات کہوں گا۔ اس شخص نے لوگوں کو جمع کر لیا امام صاحب نے وہاں پہنچ کر ان سے کہا کہ : کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس شخص کو اس کا مال واپس مل جائے؟" ہاں چاہتے ہیں۔ ان سب نے کہا۔
امام صاحب نے فرمایا : " پھر ایسا کیجئے کہ اپنے ہاں کے سارے غنڈوں کو جامع مسجد میں جمع کیجئے اور پھر ایک ایک کر کے انہیں باہر نکالئے۔ جب کوئی باہر نکلے تو آپ اس شخص سے پوچھئے کہ : کیا یہی وہ چور ہے؟ اگر وہ چور نہ ہو تو یہ انکار کردے اور اگر وہی چور ہو تو خاموش رہے نہ ہاں کے نہ نہیں ، اس موقع پر آپ سمجھ جائیے کہ یہی وہ چور ہے اس طرح چور کا پتہ بھی لگ جائے گا اور اس کی بیوی پر طلاق بھی نہ ہو گی۔"

سب نے اس تجویز پر عمل کیا ، چور پکڑا گیا اور اس بیچارے کو اپنا مال بھی واپس مل گیا۔ ( تقی الدین حموی، ثمرات الاوراق على المستطرف ص ۱۴۶ ۱۴۷ ج ۱)

Address

Islamabad
44000

Telephone

+923219300515

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مبلغ اسلام posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to مبلغ اسلام:

Share