الجنة تحت أقدام الأمهات Jannah under mother's feet

الجنة تحت أقدام الأمهات Jannah under mother's feet Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from الجنة تحت أقدام الأمهات Jannah under mother's feet, Islamabad.

18/05/2026

*ایک جادوگر نے اپنی توبہ کے بعد ایک عجیب حقیقت بیان کی۔وہ کہتا ہے*
میں جنات کو لوگوں پر جادو کرنے کے لیے بھیجا کرتا تھا۔ کچھ لوگ ایسے تھے جن پر جادو فوراً اثر کر جاتا، لیکن کچھ کے بارے میں جنات واپس آکر کہتے

*"ہم نے اس کی آواز سنی مگر اسے دیکھا نہیں۔"*

کچھ کے بارے میں وہ کہتے

*"ہم نے اسے دور سے دیکھا لیکن وہ ہماری نگاہوں سے غائب ہوگیا۔"*

اور کچھ کے پاس جا کر وہ یوں لوٹتے

*"ہمیں وہ کہیں نہیں ملا۔"*

پھر میں نے *مَرَدہ (طاقتور جنات)* کو بھیجا، مگر وہ بھی ناکام ہو کر پلٹ آتے اور کہتے

*"ہم نے اسے پایا ہی نہیں۔"*

آخرکار میں نے *عفریتوں* کو بھیجا، جو سب سے *زیادہ قوی اور خطرناک جنات* ہوتے ہیں، لیکن وہ بھی کہنے لگے

*"ہم نے مشرق و مغرب کی سرزمین چھان ماری، مگر اس شخص کو نہیں ڈھونڈ سکے۔"*

میں حیران ہو کر کہتا

*"وہ تو اپنے گھر یا اپنی دکان پر ہے، پھر تمہیں کیوں نہیں ملا؟"*

تو وہ جواب دیتے

*"ہم وہاں گئے مگر وہ ہمیں نظر نہیں آیا۔"*

*اصل راز کیا ہے؟*

جادوگر کہتا ہے

جب میں نے توبہ کی تو حقیقت کھلی کہ انسان ایک دوسرے سے اپنی تحصین (روحانی حفاظت)، *ذکر اللہ، اور نماز کی پابندی میں مختلف ہوتے ہیں۔*

جو لوگ بالکل حصار نہیں کرتے، ان کا شکار کرنا آسان ہوتا ہے۔

جو لوگ کبھی کرتے ہیں مگر غفلت یا نماز میں کوتاہی کرتے ہیں، ان کے بارے میں جنات کہتے *"ہم نے آواز تو سنی مگر دیکھ نہ سکے۔"*

*اور جو لوگ ہمیشہ ذکر و اذکار اور نماز کے حصار میں رہتے ہیں،* ان کے متعلق جنات کہتے

*"ہم نے پوری زمین چھان ماری مگر اسے نہ ڈھونڈ سکے۔"*

یہاں تک کہ اگر وہ ان کے بیچ رہتے ہوں تب بھی انہیں دکھائی نہیں دیتے۔

*قرآن کی گواہی*

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

*وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا*

(بنی اسرائیل: 45)

*"اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے ہیں۔"*

اصل حفاظت تعویذ یا دنیاوی تدبیروں میں نہیں بلکہ

الله کی یاد،

قرآن کی تلاوت

اور نماز کی پابندی میں ہے۔

*جو الله کے ذکر میں جیتا ہے، وہ شیطان اور اسکے لشکر کے لیے گویا غائب ہو جاتا ہے۔*

Copied

19/02/2026
10/01/2026

رب تمہاری تب تک مدد کرتا ہے، جب تک تم اپنے بھائی کی مدد کرتے رہتے ہو"
(صحیح مسلم، حدیث 2699)۔
اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد میں لگا رہتا ہے جب بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگ جائے، ایک دوسرے کے کام آئے، پریشانی میں سہارا بنے، اور نیکی و پرہیزگاری میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، تو اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور اسے اپنی خاص مدد سے نوازتا ہے. ):

نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ:
یہ قول رسولِ اکرم ﷺ کا ہے، جو کہ صحیح مسلم میں موجود ہے.

22/11/2025

Copied
"دینو مسجد میں داخل ہوا تو مولوی صاحب خطبہ دے رہے تھے. وہ چپ چاپ سنتا رہا معمولی پڑھا لکھا تھا کچھ سمجھ آیا کچھ نہ آیا لیکن جب مولوی صاحب نے بتایا کہ ہمیں چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے اور کچھ ایسے واقعات بھی سنائے جب کسی معمولی سے عمل کی بنیاد پر اللہ نے بےحساب اجر دیا تو اس نے سوچا کہ یہ کوشش تو میں بھی کر سکتا ہوں. بس جناب نماز ختم ہوتے ہی وہ مولوی صاحب کے پاس پہنچا اور ان سے کوئی آسان سی کتاب مانگی جس پر عمل کر کے وہ بھی ثواب کما سکے. انہوں نے اسکا شوق دیکھتے ہوئے اسے ایک آسان سی حدیث کی باترجمہ کتاب تھما دی.

دینو کو نیا مشغلہ مل گیا تھا روز کھیتی کے کام سےفارغ ہو کر کتاب پکڑتا اور ہجے کر کر کے پڑھتا. سردیوں کے دن تھے. اسکے بیوی بچے اپنے میکے برابر والے گاؤں میں گئے ہؤے تھےاس نے باہر جھانکا. ہر طرف خاموشی تھی کبھی کبھی کبھی کسی چرند پرند کی آواز سنائی دے جاتی یا کوئی اکا دکا دیہاتی گزرتا نظر آ جاتا.وہ اپنے بستر پر بیٹھ گیا اور مولوی صاحب کی دی ہوئی کتاب 📙 نکال کر پڑھنے لگا.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

قیامت کے دن اللہ عز و جل ایک شخص سے فرمائیں گے اے ابن آدم، میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی۔

دینو چونک گیا اور حیرت کے عالم میں آگے پڑھنے لگا.

اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔

دینو مزید پریشان ہو گیا اسے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ اللہ کو بھی یہ سب چاہیے ہوتا ہے. اس نے اٹک اٹک کر آگے پڑھنا شروع کیا.

اے ابن آدم، میں نے تم سے پانی مانگا تھا تم نے مجھے پانی نہیں پلایا.

دینو کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے. اس نے کتاب بند کر دی.

سب سے پہلے تو اس نے رو رو کر اللہ سے اپنی لا علمی کی معافی مانگی اور پھر مولوی صاحب کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دعا مانگنی شروع کر دی.

اور اللہ سے التجا کی کہ وہ اسے توفیق دے کہ وہ اس کے گھر پہنچ سکے یا اللہ کو جب ضرورت ہو خود اسکے گھر آئے وہ اسے کھانا بھی دیگا اور اسکی پوری دیکھ بھال بھی کریگا.

اگلے دن دینو صبح سویرے اٹھ گیا. اور جلدی جلدی گھر صاف کرنے لگا اسے بہت امید تھی کہ اللہ نے اسکی التجا سن لی ہو گی اور وہ ضرور اس کے گھر آ کر اسے خدمت کا موقع دیگا.

تب ہی اسے باہر کسی کے کھانسنے کی آواز سنائی دی. اس نے جلدی سے دروازہ کھول کر باہر جھانکا لیکن.... باہر تو رحمت چاچا کھڑا تھا. وہ موچی تھا پورے گاؤں کے جوتے وہی بناتا تھا. دینو نے اس سے علیک سلیک کرنا چاہی مگر وہ کچھ بجھا بجھا نظر آرہا تھا.

" کیا بات ہے تمہاری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی" . دینو اسے گھر کے اندر لے آیا

بےچارہ رحمت بخار میں پھنک رہا تھا. دینو نے جلدی سے اسے چائے بنا کر پلائ اور اس سے علاج کے بارے میں پوچھا.

"چھوڑو بھی کیا دوا لینی ہے کب سے ایسے ہی چل رہا ہے. خود ہی ٹھیک ہو جائے گا". رحمت نے بے زاری سےجواب دیا.

دینو سمجھ گیا کہ رحمت کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہیں. وہ اندر گیا اور کچھ رقم اسے زبردستی تھما دی. اپنا علاج ٹھیک سے کرواؤ اور اگر مزید ضرورت ہو تو مجھے بتا ضرور دینا.

رحمت ہکا بکارہ گیا اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے. وہ اسے دعائیں دیتا ہوا رخصت ہو گیا.

دوپہر ہوچکی تھی دینو نے جلدی جلدی کھانے کی تیاری شروع کی. اس نے کھانے کی مقدار زیادہ رکھی تھی تاکہ جب اللہ آئے تو کھانا کافی ہو جائے. وہ بار بار باہر جھانکتا لیکن اللہ کہیں نظر نہیں آیا.

وہ تقریباً مایوس ہو چکا تھا کہ اسے کریم نظر آیا جو صبح سے شام تک مزدوری کرتا تھا.

"کریم نے اسے بتایا کہ اسے کئی دن سے مزدوری نہیں ملی گھر میں اس کے بچے بھوکے ہیں اور وہ آج بھی مایوس گھر جا رہا ہے. "

دینو کو یہ سب سن کر سخت افسوس ہوا اس نے کریم کو اپنے کھانے میں شامل کر لیا اور جب وہ جانے لگا تو راشن اور کھانے کا پارسل بنا کر اسے تھما دیا.

کریم اسے تشکر بھری نظروں سے دیکھتا اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا.

دینو کو رحمت اور کریم کی مدد کر کے بہت اچھا لگ رہا تھا لیکن اندر ہی اندر وہ کچھ اداس اور مایوس بھی تھا پورے دن انتظار کے بعد بھی اللہ اسکے پاس نہیں آیا کہیں اللہ اس سے ناراض تو نہیں. یہ سوچ کر وہ کچھ پریشان سا ہو گیا. اس نے جلدی سے اپنی حدیث کی کتاب نکالی پہلے پچھلا سبق دہرایا اور پھر آگے پڑھنا شروع کیا.

وہ شخص حیران ہو کر کہے گا کہ اے میرے رب، میں آپ کی عیادت کیسے کرتا حالانکہ آپ تو رب العالمین ہیں.

"اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔"

دینو کی آنکھوں کے سامنے یکدم رحمت کا زرد چہرہ گھوم گیا. اس نے اگلی سطر پڑھی.

وہ شخص کہے گا۔ اے میرے رب میں آپ کو کھانا کیسے کھلاتا آپ تو دو جہان کے پالن ہار ہیں۔

"اللہ فرمائیں گے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا تم اگر اس کو کھانا کھلاتے تو تم مجھے اس کے پاس پاتے۔"

پھر وہ شخص کہے گا۔ اے میرے رب، میں آپ کو کیسے پانی پلاتا. آپ تو دو عالم کے مالک ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے فلاں بندہ نے تم سے پانی مانگا تھا اگر تم اس کو پلاتے تو تم مجھے اس کے پاس پاتے۔

دینو کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کے تصور میں کریم اور رحمت جگمگا رہے تھے. وہ اپنا سبق نہ صرف سمجھ چکا تھا بلکہ اس میں کامیاب بھی ہو چکا تھا.

04/05/2025

‏*40 تا 60 سال کے لوگوں کے لیے نصیحت*
copied #

نصیحت ان لوگوں کو کرتا ہںوں جو 40، 50، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، حتی کہ 80 سال کی عمر تک بھی !
اللہ آپ کو فرمانبرداری، صحت، اور عافیت عطا فرمائے۔

1. *پہلی نصیحت:*
ہر سال حجامہ کروائیں ، چاہںے آپ بیمار نہ ہںوں یا کوئی مرض نہ ہںو ۔

2. *دوسری نصیحت:*
ہمیشہ پانی پیئیں ، چاہںے پیاس نہ لگے ۔ بہت سی صحت کے مسائل جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہںوتے ہیں ۔

3. *تیسری نصیحت:*
جسمانی سرگرمی کریں ، چاہںے آپ مصروف ہںوں ۔ اپنے جسم کو حرکت دیں ، چاہںے وہ صرف چلنا ہںو یا تیراکی کرنا ہںو ۔

4. *چوتھی نصیحت:*
کھانے میں کمی کریں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا،
*"آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔"*
زیادہ کھانے سے پرہیز کریں؛ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہںے ۔

5. *پانچویں نصیحت:*
جتنا ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ ضرورت نہ ہںو ۔ اپنے مقامات تک پیدل چل کر جائیں ، جیسے مسجد ، دکان ، یا کسی سے ملنے ۔

6. *چھٹی نصیحت:*
غصے کو پیچھے چھوڑ دیں ...
غصہ اور فکر آپ کی صحت کو ختم کرتے ہیں اور آپ کی روح کو کمزور کرتے ہیں ۔
اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ رکھیں جو آپ کو سکون دیتے ہیں۔

7. *ساتویں نصیحت:*
جیسا کہ کہا جاتا ہںے ، "اپنے پیسے کو دھوپ میں رکھو اور خود سایہ میں بیٹھو۔" یعنی حتیٰ الوسع پیسے کو استعمال میں لائیں اور سہولیات حاصل کریں یہ نہیں کہ پیسے بچائیں اور خود مشقت اٹھائیں ۔ اپنے آپ کو یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو محروم نہ رکھیں ، پیسہ زندگی کو سہارا دینے کے لیے ہںے ، خود زندگی نہیں ہںے ۔

8. *آٹھویں نصیحت:*
اپنی روح کو کسی کے لیے ، کسی ایسی چیز کے لیے جسے آپ حاصل نہیں کر سکتے ، یا کسی ایسی چیز کے لیے جو آپ حاصل نہیں کر سکے ، افسوس میں نہ ڈوبنے دیں ۔ اسے بھول جائیں —
اگر یہ آپ کے لیے مقدر ہںوتا ، تو یہ آپ کے پاس آ جاتا ۔

9. *نویں نصیحت:*
عاجزی اختیار کریں ، کیونکہ دولت ، مرتبہ ، طاقت ، اور اثر و رسوخ سب غرور کے ساتھ زوال پذیر ہںو جاتے ہیں ۔ عاجزی آپ کو لوگوں کے قریب لاتی ہںے اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کو بلند کرتی ہںے ۔

10. *دسویں نصیحت:*
اگر آپ کے بال سفید ہںو گئے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ختم ہںو گئی ہںے ۔ یہ ایک نشانی ہںے کہ زندگی کا بہترین حصہ ابھی شروع ہںو رہا ہںے ۔
پر امید رہیں ، اللہ کی یاد کے ساتھ جئیں ، سفر کریں ، اور حلال طریقوں سے لطف اندوز ہںوں ۔

**آخری اور سب سے اہم نصیحت:**
کبھی بھی نماز نہ چھوڑیں ، یہ آپ کے جیتنے کا کارڈ ہںے اس زندگی میں اور اس دن میں جب نہ دولت کام آئے گی اور نہ اولاد ۔

اگر آپ کو یہ مفید لگے ، تو اسے پھیلائیں ، اور دوسروں کو محروم نہ کریں جو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں !!!
*حضور خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ " لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے نفع بخش اور فائدہ مند ہو "* !!!
اس لیے دوسروں کیلئے ہر طرح نفع مند ثابت ہوں !!!!
#کاپی #پیسٹ #

22/11/2024

مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں

(1) : "جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)

(2) : "اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)

(3) : "اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)

(4) : "اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)

(5) : "نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)

(6) : "اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)

(7) : "ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)

(8) : "دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)

(9) : "تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)

(10) : "ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)

(11) : "اپنے دماغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)

(12) : "خود پسندی "ج ہ ل ت" کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)

(13) : "وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)

(14) : "اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

(15) : "اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)

(16) : "پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)

(17) : "انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)

(18) : "میرے خاندان نے مجھے بولنا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)

(19) : "جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)

(20) : "غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)

(21) : "جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)

(22) : "بڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)

(23) : "اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)

(24) : "زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)

(25) : "ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)

(26) : "اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)

(27) : "انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)

(28) : "محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)

(29) : "جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)

(30) : "پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)

(31) : "اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)

(32) : "محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

(33) : "جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

(34) : "جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)

(35) : "جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

(36) : "جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)

(37) : "جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، بھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)
منقول

22/10/2024

سماجی واسطوں کے ذریعے پہچنے والی دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں:

"جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)

"اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)

"اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)

"اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)

"نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)

"اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)

"ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)

"دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)

"تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)

"ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)

"اپنے دماغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)

"خود پسندی جہالت کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)

"وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)

"اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

"اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)

"پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)

"انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)

"میرے خاندان نے مجھے بولنا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)

"جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)

"غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)

"جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)

"بڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)

"اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)

"زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)

"ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)

"اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)

"انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)

"محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)

"جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)

"پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)

"اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)

"محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

"جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

"جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)

"جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

"جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)

"جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، بھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)

14/10/2024

" پاگل ٹیکسی ڈرائیور "
وہ ایک خستہ حال بیہوش عورت کو لیکر ہسپتال کی ایمرجینسی وارڈ میں داخل ہوا ۔ جسکے ساتھ دو نو عمر بچے تھے ۔ شکل و شباہت سے بھکاری لگ رہے تھے ۔ ڈاکٹر نے مریضہ کو دیکھا اور بولا ۔
" اس بی بی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔ اگر فوری امداد نہ دی گئی تو یہ مر جائیگی ۔ فوری علاج کیلئے خاصی رقم کی ضرورت ہے " سنتے ہی بچوں نے چیخنا شروع کر دیا ۔ وہ شخص کبھی ڈاکٹر کو دیکھتا ، کبھی مریضہ کو اور کبھی بچوں کو ۔
" کیا لگتی ہیں یہ آپ کی ؟ " ڈاکٹر نے اس شخص کو تذبذب میں دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
" کچھ نہیں ۔ میں ٹیکسی چلاتا ہوں ۔ اسے سڑک پہ لیٹے دیکھا ، اسکے پاس بیٹھے یہ دونوں بچے رو رہے تھے ۔ میں ہمدردی میں یہاں لے آیا ہوں ۔ میری جیب جو ہے ، دے دیتا ہوں " اس نے جیب سے جمع پونجی نکال کر میز پر رکھ دی ۔ ڈاکٹر نے پیسوں کیطرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا ۔
" بابا جی ! یہ بہت تھوڑے پیسے ہیں ۔ ڈھیر سارے پیسے چاہئیں " وہ بے بسی میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ۔ کبھی آسمان کیطرف دیکھتا کبھی دیواروں کیطرف ۔ اچانک ایک چمک سی اسکے چہرے پر عیاں ہوئی ۔
" ڈاکٹر صاحب ! آپ اسکی جان بچائیں ۔ یہ میری گاڑی کے کاغذات ضمانت ہیں ۔ میں ابھی پیسے لیکر آتا ہوں "
وہ چلا گیا ۔ ڈاکٹر نے ابتدائی طبی امداد شروع کر دی ۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ دو لوگوں کے ساتھ واپس آیا ۔
" ڈاکٹر صاحب! میں نے ٹیکسی بیچ دی ہے ۔ آپ پیسوں کی فکر نہ کریں " اس نے گاڑی کے کاغذات ساتھ آنے والوں کو دیتے ہوئے کہا ۔ صورت حال کو بھانپتے ہوئے ، قریب کھڑا ایک خوش باش نوجوان پوچھنے لگا ۔
" کیا لگتی ہیں یہ خاتون آپکی "
" میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہیں ۔ مگر کوئی رشتہ ضرور ہے جو مجھے اسکی زندگی اپنے روزگار سے زیادہ اہم لگی ہے ۔ ٹیکسی کا کیا ہے ، میں کرائے پہ لیکر چلا لوں گا ۔ اگر یہ مر گئی تو یہ بچے بھی جیتے جی مر جائیں گے ۔ قیامت کے روز اللہ کو کیا منہ دکھاوں گا کہ مجھے ایک انسان کی زندگی سے زیادہ اپنی ٹیکسی عزیز تھی "
ساتھ آنے والے پیسے گن رہے تھے اور ساری کہانی بھی سن رہے تھے ۔
" آپ اپنے پیسے واپس رکھ لیں ، اسکی ٹیکسی اسی کے پاس رہنے دیں ۔ علاج کے پیسے میں ادا کر دیتا ہوں "
نوجوان بولا ۔
" نہیں بابو ! سودا ہو گیا ہے ۔ ہم ٹیکسی بھی نہیں لے جارہے اور پیسے بھی دے رہے ہیں ۔ ٹیکسی کے لئے نہیں علاج کے لئے "
دونوں شخص یک زبان بولے ۔
" یہ بڈھا تو پاگل ہو گیا ہے ۔ اس عمر میں کون اسے کرائے پر ٹیکسی دے گا ۔ ہم تو کمانے آئے تھے ۔ یی آدھی قیمت پر ٹیکسی بیچ رہا تھا ۔ ہمیں دگنا منافع تھا ۔ اب ہم ستر گنا منافع کمائیں گے ۔ پیسے نہیں تو نہ سہی ، ایک نیکی ہی سہی "
وہ پیسے میز پر رکھتے ہوئے اٹھے ۔
" ڈاکٹر صاحب ! اور ضرورت پڑے تو ہمیں اس نمبر پر کال کر دینا ۔ " اپنا کارڈ ڈاکٹر کو دیتے ہوئے ہسپتال سے باہر نکل گئے ۔ ٹیکسی والا زار و قطار روئے جا رہا تھا ۔
" بابو ! اللہ کو میری ٹیکسی پسند نہیں آئی ۔ پیسے والے نیکی لے گئے ۔ میں غریب پھر خالی ہاتھ رہ گیا

08/09/2024

ایک گاؤں میں ایک عورت نے اپنے گھر کے باہر تین بوڑھے آدمیوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ وہ کافی دیر سے وہاں موجود تھے۔ عورت ان کے پاس گئی اور کہا:

"میں آپ کو نہیں جانتی، مگر آپ کو کافی دیر سے یہاں بیٹھے دیکھ رہی ہوں، آپ بھوکے ہوں گے۔ براہ کرم اندر آ کر کچھ کھا لیجئے۔"

ان میں سے ایک نے پوچھا:
"کیا گھر کا مرد اندر موجود ہے؟"

عورت نے جواب دیا: "نہیں۔"

بوڑھے نے کہا:
"تو پھر ہم اندر نہیں آ سکتے۔"

عورت واپس اندر چلی گئی۔ شام کو جب اس کا شوہر گھر آیا تو اس نے اسے ان لوگوں کے بارے میں بتایا اور سارا واقعہ سنایا۔ شوہر نے کہا:
"جاؤ اور ان بوڑھے آدمیوں کو بلاؤ اور کہو کہ وہ اندر آ کر ہمارے ساتھ کھانا کھائیں۔"

عورت باہر گئی اور ان بوڑھوں سے کہا:
"میرے شوہر گھر آ گئے ہیں۔ وہ آپ کو اندر مدعو کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کھانا کھائیں۔"

وہ بولے:
"ہم اکٹھے کسی گھر میں نہیں جا سکتے۔"

عورت نے حیران ہو کر وجہ پوچھی تو ایک بوڑھے نے کہا:
"ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"اس کا نام دولت ہے۔ اگر یہ آپ کے ساتھ جائے گا تو آپ کا گھر دولت سے بھر جائے گا۔"
پھر دوسرے بوڑھے کی طرف اشارہ کیا اور کہا:
"یہ کامیابی ہے۔ اگر یہ آپ کے ساتھ گیا تو آپ کو ہر کام میں کامیابی ملے گی۔"
پھر اپنے بارے میں کہا:
"میرا نام محبت ہے۔ اگر میں آپ کے ساتھ گیا تو آپ کا گھر ہمیشہ محبت سے بھرا رہے گا۔"

بوڑھے نے مزید کہا:
"جا کر اپنے شوہر سے مشورہ کریں کہ وہ ان میں سے کس کو اپنے گھر بلانا چاہتے ہیں۔"

عورت نے اندر جا کر یہ بات بتائی تو شوہر خوش ہو گیا اور بولا:
"چلو، دولت کو بلاتے ہیں تاکہ ہمارا گھر دولت سے بھر جائے۔"

عورت نے کہا:
"نہیں، کیوں نہ ہم کامیابی کو بلائیں؟"

ان کی بہو بھی یہ باتیں سن رہی تھی۔ اس نے مشورہ دیا:
"کیوں نہ ہم محبت کو اپنے گھر بلائیں؟ ہمارا گھر ہمیشہ محبت سے بھرپور رہے گا۔"

شوہر اور بیوی نے بہو کی بات مان لی۔ عورت باہر گئی اور پوچھا:
"آپ میں سے محبت کون ہے؟ برائے مہربانی اندر آئیے اور ہمارے مہمان بنیں۔"

محبت اٹھا اور گھر کی طرف بڑھنے لگا۔ اچانک باقی دونوں بھی اس کے پیچھے چل پڑے۔ عورت نے حیران ہو کر پوچھا:
"آپ نے تو کہا تھا کہ آپ تینوں اکٹھے نہیں جا سکتے۔ میں نے صرف محبت کو مدعو کیا تھا، پھر آپ سب کیوں آ رہے ہیں؟"

بوڑھوں نے جواب دیا:
"اگر آپ نے دولت یا کامیابی کو بلایا ہوتا تو باقی دو باہر ہی رہتے، مگر چونکہ آپ نے محبت کو بلایا ہے، جہاں محبت ہو، وہاں دولت اور کامیابی خود بخود چلی آتی ہیں۔"

جہاں محبت ہو، وہاں دولت اور کامیابی خود بخود پیچھے پیچھے چلی آتی ہیں۔
copied

21/07/2024

*دنیا بھر میں کمپیوٹر سسٹم کیوں متاثر ہوئے اور مسئلہ کیا تھا؟*

پاکستان سمیت دنیا بھر میں 19 جولائی کو بینکوں، ہوائی اڈوں، ہسپتالوں، ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنز، سرکاری دفاتر، ٹیکنالوجی فرمز اور ہوٹلوں سمیت دیگر اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز متاثر ہوئے، جس سے کئی گھنٹوں تک کام ٹھپ ہوکر رہ گیا۔

بی بی سی کے مطابق کمپیوٹر سسٹمز میں خرابی کی وجہ سے دنیا بھر میں کم سے کم 3300 پروازیں منسوخ ہوئیں اور مسلسل پروازوں کے منسوخ ہونے کے امکانات بڑھ گئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپیوٹر سسٹمز میں خرابی کی وجہ سے برطانوی ٹی وی چینل اسکائے نیوز اپنی براہ راست نشریات دکھانے سے بھی محروم رہا۔

اسکائے نیوز کے دفتر کے تقریبا تمام کمپیوٹرز متاثر ہوئے، جس وجہ سے وہاں صحافی نہ صرف اپنا کام کر سکے بلکہ ٹی وی چینل کی نشریات میں بھی خلل پڑا۔

اسی طرح امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک میں ایمرجنسی سروسز اور ہسپتالوں کی سروسز بھی متاثر ہوئیں جب کہ کاروباری اداروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان میں قدرے کم مشکلات ہوئیں، تاہم اس باوجود ملک بھر میں بینکوں، ایئرپورٹس، ہسپتالوں اور دیگر اداروں میں آن لائن خدمات فراہم کرنے میں مشکلات رہیں۔

مسئلہ کیا تھا اور کیوں پیش آیا؟
لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ مسئلہ کیوں درپیش آیا؟ اور کیا یہ کوئی سائبر سیکیورٹی حملہ تھا؟

رائٹرز کے مطابق کمپیوٹرز کے کام نہ کرنے کا معاملہ سائبر سیکیورٹی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کراؤڈ اسٹرائیک کی جانب سے مائیکروسافٹ سسٹم پر بھیجی گئی سیکیورٹی اپڈیٹ کے بعد پیش آیا۔
کراؤڈ اسٹرائیک کمپیوٹرز کو سائبر حملوں سمیت دیگر مسائل سے بچانے کے لیے وقتا بوقتا سیکیورٹی اپڈیٹس بھیجتی رہتی ہے، یہ اپڈیٹس ایسے ہی آتی ہیں، جیسے کسی موبائل میں سافٹ ویئر اپڈیٹس موصول ہوتی ہیں۔

کراؤڈ اسٹرائیک کی جانب سے مائیکرو سافٹ میں اپڈیٹس بھیجے جانے کے بعد دنیا بھر میں ونڈوز 10 میں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز زیادہ تر خرابی کا نشانہ بنے، تاہم دیگر ونڈوز پر چلنے والے کمپیوٹرز بھی خرابی کا نشانہ بنے۔

دنیا بھر میں صرف مائیکرو سافٹ پر چلنے والے کمپیوٹرز ہی خرابی کا نشانہ بنے لیکن ہر جگہ اسی سافٹ ویئر پر ہی زیادہ تر کمپیوٹر چلتے ہیں، اس لیے دنیا بھر میں مسئلہ ہوا۔

کراؤڈ اسٹرائیک کمپنی نے واضح کیا کہ مذکورہ خرابی کوئی سائبر سیکیورٹی حملہ نہیں تھا اور خرابی سے کسی کا کوئی ڈیٹا لیک یا ہیک نہیں ہوا اور مسئلے کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ابتدائی طور پر یہ بھی سمجھا جا رہا تھا کہ شاید مائیکرو سافٹ سروسز میں خرابی ہے لیکن بعد ازاں کمپنیوں نے وضاحت کی کہ خرابی کراؤڈ اسٹرائیک کی جانب سے سافٹ ویئر اپڈیٹس بھیجنے کے بعد ہوئی اور اس میں مائیکرو سافٹ کا کوئی قصور نہیں۔

خرابی کس طرح کی تھی؟
کراؤڈ اسٹرائیک کی جانب سے اپڈیٹس بھیجے جانے کے بعد دنیا بھر کے کمپیوٹرز کی اسکرین بلیو ہوگئی اور اسکرین پر متعدد لائنیں نظر آنے لگیں۔

کمپیوٹرز کی اسکرین بلیو ہونے کے بعد ان پر کام کرنا ممکن نہ رہا، اس قدر کمپیوٹر سسٹمز خراب ہوگئے، جس طرح ونڈوز کے اڑ جانے سے سسٹمز خراب ہوجاتے ہیں۔

اب کیا ہوگا؟
ممکنہ طور پر کراؤڈ اسٹرائیک کمپنی سافٹ ویئر اپڈیٹ کے ذریعے مسئلے کو حل کرے گی، تاہم زیادہ ٹیکنالوجی ماہرین کا خیال ہے کہ مسئلے کو مینوئل حل کرنا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق شاید کراؤڈ اسٹرائیک کی اپڈیٹس سے مسئلہ حل نہ ہو اور شاید ہر ادارے کو مینوئل کمپیوٹرز سسٹمز میں دوبارہ ونڈوز انسٹال کرنی پڑے، تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ خرابی کو سافٹ ویئر اپڈیٹس سے حل کیا جا سکتا ہے۔

کراؤڈ اسٹرائیک اور مائیکرو سافٹ نے بھی مشترکہ طور پر کہا ہے کہ وہ خرابی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ copied

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الجنة تحت أقدام الأمهات Jannah under mother's feet posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share