Rohani ELAJ GHA

Rohani ELAJ GHA Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rohani ELAJ GHA, Religious organisation, street 05 A sector G-7/2 Isbd, Islamabad.

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
*تمہیں دفن کر دیا جائے گا خواہ تمہاری کتنی ہی اہمیت ہواور تمہیں یوں بھلا دیا جائے گا گویا کہ تم کبھی تھے ہی نہیں*
*اب ہم خود سوچیں یہ نفرتیں، غرور، دھوکہ، اکڑ کس کام کی؟؟*
سوچیں ضرور کہیں دیر نہ ہو جاے ۔

یہ عمل بہت ہی کارامد ہے ۔
28/09/2024

یہ عمل بہت ہی کارامد ہے ۔

27/09/2024
03/02/2024

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا تو اس نے فاقے کی شکایت کی، پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے رہزنی کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ عدی! کیا تو نے حیرہ دیکھا ہے؟ اگر تیری عمر دراز ہوئی تو تم دیکھو گے عورت حیرہ (کوفے کے پاس ایک بستی) سے ہودج میں سوار ہو کر آئے گی اور وہ کعبہ کا طواف کرے گی، اسے اس دوران اللہ کے سوا کسی کا ڈر خوف نہیں ہو گا۔ اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم پر کسریٰ کے خزانے کھول دیے جائیں گے، اور اگر تم کچھ اور دنوں تک زندہ رہے تو تم دیکھو گے کہ آدمی ہاتھ میں سونا یا چاندی لے کر ایسے آدمی کی تلاش میں نکلے گا جو اسے قبول کر لے لیکن اسے ایسا کوئی آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے، اور تم میں سے ہر ایک قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا جو کہ اس کی ترجمانی کر سکے، وہ فرمائے گا: کیا میں نے تیری طرف رسول نہیں بھیجے تھے کہ وہ تیری طرف میرا پیغام پہنچائے؟ وہ شخص کہے گا، کیوں نہیں ضرور آئے تھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور میں نے تجھے فضیلت عطا نہیں کی تھی؟ وہ عرض کرے گا: کیوں نہیں، ضرور عطا کی تھی، وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی، پھر وہ اپنے بائیں دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی۔ جہنم سے بچ جاؤ، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو، چنانچہ جو شخص یہ بھی نہ پائے تو وہ اچھی بات کے ذریعے (آگ سے بچ جائے)۔‘‘ عدی ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے ہودج میں سوار عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے آئی اور اس نے کعبہ کا طواف کیا، اور اسے اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر خوف نہیں تھا، اور جن کے لیے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھولے گئے میں بھی ان میں موجود تھا، اور اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم وہ کچھ ضرور دیکھو گے، جس کی ابوالقاسم ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ’’ ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونا اور چاندی لے کر نکلے گا۔‘‘ رواہ البخاری۔

09/09/2023

*اگر آپکا کیس میڈیکل سائینس سے بالاتر ہے تو خالصتًا اللہ کی ذات سے ایسی دعا مانگیں جو عرش کو ہلا دے*
::::::::::::::::::::::::::
جب کسی جوڑے کی اولاد نہ ہو رہی ہو تو وہ فوری طور پر ڈاکٹرز سے رجوع کرتا ہے جو دونوں کے میڈیکل ٹیسٹ کرکے دیکھتے ہیں کہ یہ طبی لحاظ سے بچہ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ بعض کیسز میں یہ سامنے آجاتا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کی بنیادی اہلیت تو رکھتے ہیں مگر اس کی راہ میں کچھ عارضی رکاوٹیں حائل ہیں۔ چنانچہ وہ علاج کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کردیتے ہیں اور یوں اس جوڑے کے ہاں بچے کی ولادت ہو جاتی ہے۔ بعض کیسز میں رپورٹس یہ بتا دیتی ہیں کہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بالکل ہی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس صلاحیت کے نہ ہونے کے سبب اس جوڑے کی فی الحال اولاد نہیں ہوسکتی۔ اس طرح کے کیسز میں میڈیکل سائنس بالکل درست کہتی ہے لیکن جو اگلی گزارش کرنے جا رہا ہوں اس پر آپ دوستوں سے غور کی درخواست ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ جسے ہم چاہتے ہیں صاحب اولاد بنا دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں بانجھ پیدا کر دیتے ہیں۔ اب جوں ہی آپ پر میڈیکل سائنس انکشاف کرتی ہے کہ آپ تو بانجھ ہیں تو آپ کچھ دن کا سوگ منا کر بے اولادی قبول کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ اس بات پر غور ہی نہیں کرتے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ اور بھی بیان فرما رکھا ہے۔ مثلا پیدائش کے باب میں فطری قاعدہ یہی ہے کہ اولاد ماں اور باپ کے ملاپ سے وجود میں آتی ہے لیکن اسی پیدائش والے باب میں ہم قدرت کے چار مظاہر دیکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کے وجود میں باپ کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ماں کا، وہ کسی کی اولاد نہیں ہیں۔ حضرت حوا کی تخلیق میں مرد یعنی حضرت آدم کا کردار تو ہے لیکن عورت کا کوئی کردار نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا فرمایا یعنی ان کی تخلیق میں عورت کا کردار تو ہے لیکن باپ کا کوئی کردار نہیں۔ انسان کے وجود میں آنے کے یہ تینوں عظیم الشان نمونے خاص ہیں جو ان تین مواقع کے علاوہ کہیں نظر آئے ہیں اور نہ ہی نظر آ سکیں گے لیکن انسان کی پیدائش کے معاملے میں سورہ مریم کا آغاز ہی ایک چوتھی طرح کا معاملہ پیش کرتا ہے جو اس لحاظ سے تو خاص ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام بڑھاپے کی انتہاء میں اللہ سے اولاد مانگتے نظر آ رہے ہیں اور جواب میں بشارت بھی حضرت یحیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی مل رہی ہے لیکن اس لحاظ سے عام ہے کہ آج بھی بہت سے افراد کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بڑھاپے میں اولاد سے نواز دیتے ہیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے میں قابل غور بات یہ ہے کہ بڑھاپے میں اللہ سے اولاد مانگنے کا خیال انہیں حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر آیا اور انہوں نے سوچا کہ جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ حضرت مریم کو بے موسم پھل دے رہے ہیں ویسے ہی مجھے بڑھاپے والے خشک سالی موسم میں اولاد بھی تو دے سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے اپنے رب کے آگے دعاء پیش کردی اور دعاء بھی یوں کہ کوئی اور سن نہ سکے۔

كهيعص (1) ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (2) إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (3) قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6) يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا (7) قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (8) قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9)

اس پس منظر کے ساتھ گزارش یہ ہے کہ میڈیکل رپورٹس دیکھ کر ہمت مت ہارا کیجئے بلکہ حضرت زکریا علیہ السلام کی طرح سوچ کر اللہ سے مانگنے کا اہتمام فرمایا کیجئے۔ یہ تو ایمان کا کیس ہے اور سوال بس یہ ہے کہ آپ کا اللہ پر ایمان و یقین کتنا پختہ ہے۔ یہ جن حضرات کے ہاں پندرہ اور بیس سال بعد پہلی اولاد ہوتی ہے یہ پختہ ایمان والے کیسز ہی تو ہیں۔ صلوۃ الحاجت بہت کام کی چیز ہے لیکن اس میں تھوڑا سا اہتمام کر لیا جائے تو اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اہتمام یہ ہے کہ آپ رات کے پچھلے پہر غسل فرما کر تازہ کپڑے پہنئے، اچھی سی خوش بو لگایئے اور چار رکعت صلوۃ الحاجت پڑھئے پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھئے۔ سلام پھیر کر دو رکعت مزید پڑھئے جس کی رکعتوں میں آخری دونوں قل پڑھئے۔ سلام پھر کر عصر اور فجر والی تسبیح پڑھ لیں اور دس مرتبہ درود شریف پڑھ لیجئے۔ اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے اس طرح مانگئے جس طرح آپ بچپن میں ماں سے چمٹ کر کوئی چیز مانگا کرتے تھے اور تب تک نہیں چھوڑتے تھے جب تک لے نہ لیتے تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق پیش آتا ہوں تو دوستو اپنے رب سے اچھا گمان قائم رکھا کیجئے اور مایوس نہ ہوا کیجئے۔ اگر آپ کی رپورٹس نیگٹو آجاتی ہیں تو اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ میڈیکل سائنس اس کیس میں فی الحال آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی، آپ کا کیس خالصتا اللہ کے دربار کا کیس ہے۔ آپ میڈیکل رپورٹس پر اللہ کے دربار کو بھی چھوڑ دیتے ہیں، کیوں ؟ سائنس اللہ کی قدرت کی نفی تو نہیں۔ ایک بار مانگ کر تو دیکھئے وہ دعاء جو عرش کو ہلا دے !

Address

Street 05 A Sector G-7/2 Isbd
Islamabad
44000

Telephone

+923075055559

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rohani ELAJ GHA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Rohani ELAJ GHA:

Share