نمبـــرون معــلومات

نمبـــرون معــلومات This Page is about ISLAM. Those who search for ISLAMIC Page on FB. Please like it.
اِس پیج پ?

انسانی صحت کا راز قرآن مجید کی تین آیات میں :انسانی تاریخ کی سب سے سنسنی خیز تحقیق جسے پڑھ کر ہم ہر بیماری سے بچ سکتے ہی...
24/10/2024

انسانی صحت کا راز قرآن مجید کی تین آیات میں :انسانی تاریخ کی سب سے سنسنی خیز تحقیق جسے پڑھ کر ہم ہر بیماری سے بچ سکتے ہیں . مصر کے ڈاکٹر عماد فہمی جو کہ ایک ماہر غذائیات (Nuitritionist) اور موٹاپے کے معالج Bariatric consultant ہیں . نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ بتایا : کہ انسانی صحت ‏کا راز قرآن کی تین آیات میں پنہاں ہے :
1۔ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۝۰ۚ " الاعراف آیت 31 " کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو . اس کی تشریح میں ڈاکٹر فہمی کہتے ہیں : کہ اکثر ڈاکٹر نشاستہ carbohydrates اور چکنائی ( fats) سے منع کرتے ہیں . حالانکہ یہ دونوں چیزیں انسانی ‏صحت کے لئے بنیادی ( اہمیت کی حامل ہیں
اصل چیز جس سے منع کیا جانا چاہئے . وہ حد سے تجاوز ہے .
2 ۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ ° " الانبياء آیت 30" اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی . پیاس لگے یا نہ لگے پانی ضرور پیجئے . طبی معیار کے مطابق ہر شخص اپنے وزن کے ‏ہر ایک کلو پر 30 ملی گرام پانی پیئے . مثلاً اگر کسی کا 70 کلو وزن ہو تو وہ 70 × 30 یعنی 2100 ملی گرام یعنی 2 لیٹر اور 100 گرام (تقریباً) 8 گلاس پانی روزانہ پیئے . یہ جگر، گردوں اور دل کی اچھی کاکردگی کے لئے بہت ضروری ہے .
3 : وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا ۝۱۰ۙ ‏وَّ جَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا۝۱۱ "النباء آیت 10-11 " اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا . ڈاکٹر فہمی کہتے ہیں : کہ رات کو جلدی سویا جائے . اور صبح جلدی اٹھا جائے .یہ سب سے بہترین نسخہ ہے .جو آپ کو نہ موٹا کرے گا اور نہ بیمار کرے گا!!!! اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو صحت کاملہ عطاء فرمائے . آمین ثمہ آمین "

www.youtube.com/

تین بار بار آقا ﷺ کے کہنے کے باوجود کوئی نہ اٹھا۔آقا ﷺ اپنے خیمے میں گئے۔سیّدہ ام سلمہ ؓ خیمے کے پردے کی اوٹ میں سب دیکھ...
19/10/2024

تین بار بار آقا ﷺ کے کہنے کے باوجود کوئی نہ اٹھا۔
آقا ﷺ اپنے خیمے میں گئے۔
سیّدہ ام سلمہ ؓ خیمے کے پردے کی اوٹ میں سب دیکھ رہی تھیں۔
آقا ﷺ سے عرض کرنے لگی، مسلمان ابھی افسردہ ہیں۔
شکستہ خاطر ہیں۔
آپ ﷺ کسی کو کچھ کیے بغیر چپ چاپ اپنا جانور ذبح کریں، حجام کو بلا کر سر منڈائیے،
سب خود بہ خود اتباع کریں گے۔
ایسا ہی ہوا۔
ادھر آقا ﷺ نے اپنا نشان لگا اونٹ قربان کیا۔ادھر سب اپنے اپنے قربانی کے اونٹوں کو پکڑ کے قربان کرنے لگے۔
آقا ﷺ نے قربانی کا جو اونٹ چنا تھا، وہ ابو جہل کا تھا۔اس کے ناک میں ابو جہل نے چاندی کا چھلہ ڈالا ہوا تھا۔ابو جہل تو بدر میں مارا گیا، اس کا اونٹ اس سے خوش نصیب نکلا ، آقا ﷺ کے ہاتھوں اللّٰہ کے نام پہ قربان ہوا۔
آقا ﷺ کی دیکھا دیکھی قربانی کے بعد لوگ سر منڈوانے لگے۔
آقا ﷺ نے خود خراش ؓ بن امیہ بن فضل خزاعی سے سر منڈوایا۔اور ہر سر منڈوانے والے کے لیے تین بار مغفرت کی دعا کی۔بالوں کو کتروا کے چھوٹا کرنے والوں کے لیے ایک بار۔
حدیبیہ میں۔ دو ہفتے قیام کیا۔
واپسی میں مدینے کی راہ میں آسمان سے سورۃ فتح نازل ہوئی۔
اللّٰہ نے اس صلح نامے کو "فتح مبین" قرار دیا۔
اللّٰہ نے ہزاروں سال پہلے اپنا گھر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے ہاتھوں بنواتے سمے حدود کعبہ کی ایک اہم حدیبیہ شاید اسی بیعت رضوان اور فتح مبین کہے جانے والی صلح حدیبیہ کو لکھ کے لکھوائی تھی۔بتائی تھی۔
کیونکہ قلم اس کا وہ سارے واقعات پہلے لکھتا ہے جو ایک ایک کر کے اسے ہویدا کرنے ہوتے ہیں۔
دکھانے ہوتے ہیں۔
منوانے ہوتے ہیں۔
بس ایک دعا کے لیے اس کا قلم ہر وقت کھلا ہے۔
جب چاہے
جہاں چاہے وہ ترمیم یا اضافہ کر دیتا ہے۔
اپنے لکھے میں بھی کچھ لکھنا اسے آتا ہے۔
یونہی تو نہیں اس نے قلم اور قلم کے لکھے لفظوں کی قسمیں کھائیں، جہاں اس نے سورۃ فتح میں مومنوں سے راضی ہونے کی نوید سنائی، وہیں ایک قریبی فتح کی خوشخبری بھی دی۔
ایک مہینے بعد وہ گھڑی بھی آ گئی۔

ابو بصیر ؓ
قریبی فتح کے آنے سے پہلے مکہ سے بھاگ کے ابو بصیر ؓ آ گیا۔
صلح حدیبیہ کی شرائط لکھتے سمے جیسے ابو جندل ؓ کو مکہ سے بیڑیوں سے گھسیٹتے ہوئے واپس مکہ جانے پہ مجبور کر دیا تھا، ویسی ہی ایک صورت پھر بن گئی۔
مسلمان ابو بصیر ؓ کے مکہ کی قید سے بھاگ آنے پہ خوش ہوئے۔
خوشی سے اس سے گلے ملنے لگے۔
اندر سے ڈریں کہ دیکھیں آقا ﷺ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔اتنے میں مکہ کی طرف سے دو آدمی ابو بصیر ؓ کو لینے پہنچ گئے۔وہ سیدھے مسجد نبوی میں آقا ﷺ کے حضور پہنچے۔
لوگ ڈر گئے۔
آقا ﷺ تو ہر معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں۔
وہی ہوا۔
مکے سے ابو بصیر ؓ کو لینے آئے دونوں مشرک بولے۔معاہدے کے مطابق یہ یہاں نہیں رہ سکتا۔
آقا ﷺ نے کہا، درست کہتے ہو۔لے جاؤ اسے۔
ابو بصیر ؓ کو مشرکوں کے حوالے کر دیا۔
وہ بہت رویا۔
پیٹا، چیخا۔
بلبلایا۔
مگر مجبور تھا۔
آقا ﷺ نے اسے تسلی دی اور صبر کی تلقین کی۔فرمایا:
"امید رکھو عنقریب اللّٰہ تمہارے لیے کشادگی اور نجات کی راہ پیدا کر دے گا۔"
ابو بصیر ؓ دکھی دل کے ساتھ لینے آئے دونوں کے ساتھ چلا گیا۔
دل اس کا ٹوٹا ہوا۔
آنکھیں لال۔
اندر میں اگ۔
راہ، مدینے سے ذرا باہر، ذوالحلیفہ کے مقام پر وہ تینوں رکے۔دو لینے آئے بیٹھ کے مدینے سے ملی کھجوریں کھانے لگے۔
ابو بصیر ؓ نے انہیں باتوں میں الجھایا۔
ایک سے بولا۔
واہ، تیری تلوار کیسی شاندار ہے۔
کہاں سے بنوائی؟
وہ کھجوروں کے مزے میں لگا تھا۔
شیخیاں بگھارنے لگا، میری جیسی تلوار رکھ کون سکتا ہے۔
کیا بات ہے۔
واقعی
ذرا دکھاؤ۔
ابو بصیر ؓ نے تلوار ہاتھوں میں لے کر خوب اس کی تعریف کی۔اس کی تیز دھار پہ انگلی پھیری۔اس کی لچک لہرا کے اسے سراہا اور پھر گھما کے ایک وار کیا۔مشرک کا گلہ کھجوریں حلق میں لیے، کھجور کی گٹھلی سمیت کٹ گیا۔
دوسرا مکے کا قریشی خوف سے لرزا اور بھاگ کھڑا ہوا۔
اب ابو بصیر ؓ تلوار پکڑے،دوسرے کے پیچھے۔
دوسرا آگے۔
مکہ دور تھا۔
وہ پناہ کے لیے مدینے آ گیا۔
اسے پتہ تھا، مدینے کا آقا ﷺ ظلم نہیں ہونے دیتا۔
ہر پناہ مانگنے والے کو پناہ دیتا ہے۔
تھرتھراتا کانپتا وہ مشرک آقا ﷺ کے حضور پہنچ گیا۔
ساری کہانی سنائی۔
بولا، حضور جان بخشی کروائیے۔یہ مجھے بھی مار دے گا۔
ابو بصیر ؓ بولے، آقا ﷺ آپ نے معاہدے کے مطابق عمل کیا۔
مجھے لوٹا دیا۔
اب اللّٰہ نے مجھے نجات دی۔
آپ ﷺ کی دعا سے۔
اب نہ مجھے لوٹائیے۔
آقا ﷺ حیران
فرمایا:
"اسے اگر کوئی ساتھی مل جائے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا سکتا ہے۔"
ابو بصیر ؓ اشارہ سمجھ گیا۔
اسے پتہ تھا، معاہدے کی خلاف ورزی آقا ﷺ کبھی نہیں کریں گے۔ اللّٰہ کی زمین وسیع ہے اور ساتھی اب ضروری ہیں۔
ابو بصیر ؓ مدینے سے نکل گیا۔
تلوار ساتھ، وہ بھی شاندار،
مکے نہیں گیا۔
مکہ اور مدینہ کے درمیان ساحلی تجارتی راستے پہ جا بیٹھا۔چند دوست اور ساتھ مل گئے۔
مکہ میں قید، میں صلح حدیبیہ کے وقت گھسیٹ کے، لیے جانے والے ابو جندل ؓ کو بھی خبر ہو گئی۔
ابو جندل ؓ بھی ابو بصیر ؓ کے پاس ساحل پہ پہنچ گیا۔
تھوڑے دنوں میں وہاں ستر کے لگ بھگ مسلمان جمع ہو گئے۔
وہ اب ایک قوت تھے۔

*ﮔﺴﺘﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ....**ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ....**ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ* " ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ " ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ...
21/09/2024

*ﮔﺴﺘﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ....*
*ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ....*

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ "
ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳
ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ رسول ﷺ*
" ﺑﺸﺮ ﻣﻨﺎﻓﻖ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
ﺍﺭﻭﮦ ( ﺍﺑﻮ ﻟﮩﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ )
ﮐﺎ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮯ ﮔﻼ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺩﯾﺎ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ " ﺩﻭ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﻭﮞ
ﻣﻌﺎذ ﻭ ﻣﻌﻮﺫ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔
رضی اللہ عنہ

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺍﻣﯿﮧ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ "
ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻧﺼﺮ ﺑﻦ ﺣﺎﺭﺙ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻋﺼﻤﺎ ( ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﻮﺭﺕ )"
1 ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﯿﺮ ﺑﻦ ﻋﺪﯼ
رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﯽ

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺍﺑﻮ ﻋﻔﮏ " ﺣﻀﺮﺕ ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ
رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﮐﻌﺐ ﺑﻦ ﺍﺷﺮﻑ " ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻧﺎﺋﻠﮧ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ*
" ﺍﺑﻮ ﺭﺍﻓﻊ " ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ
رضی اللہ عنہ
ﮐﮯﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺍﺑﻮﻋﺰﮦ ﺟﻤﻊ " ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ
رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻃﻼﻝ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻋﻘﺒﮧ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻣﻌﯿﻂ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺍﺑﻦ ﺧﻄﻞ "
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﺮﺯﮦ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺣﻮﯾﺮﺙ ﻧﻘﯿﺪ "
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻗﺮﯾﺒﮧ ( ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺑﺎﻧﺪﯼ )"
ﻓﺘﺢ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔

1 ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺷﺨﺺ ( ﻧﺎﻡ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ) ﺧﻠﯿﻔﮧﮨﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺭﯾﺠﯽ ﻓﺎﻟﮉ ( ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮ )"
ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﯾﻮﺑﯽ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*گستاخ رسول ﷺ*
" ﯾﻮﻟﻮ ﺟﯿﺌﺲ ﭘﺎﺩﺭﯼ "
ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺭﺍﺟﭙﺎﻝ "
ﻏﺎﺯﯼ ﻋﻠﻢ ﺩﯾﻦ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻧﺘﮭﻮﺭﺍﻡ "
ﻏﺎﺯﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺭﺍﻡ ﮔﻮﭘﺎﻝ "
ﻏﺎﺯﯼ ﻣﺮﯾﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۶ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﭼﺮﻥ ﺩﺍﺱ "
ﻣﯿﺎﮞ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۷ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ*ؐ
" ﺷﺮﺩﮬﺎ ﻧﻨﺪ "
ﻏﺎﺯﯼ ﻗﺎﺿﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺷﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۲۶ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﭼﻨﭽﻞ ﺳﻨﮕﮫ "
ﺻﻮﻓﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۸ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻣﯿﺠﺮ ﮨﺮﺩﯾﺎﻝ ﺳﻨﮕﮫ "
ﺑﺎﺑﻮ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺩﯾﻦ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۲ ﻣﯿﮟﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ "
ﺣﺎﺟﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺎﻧﮏ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۶۷ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ -

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﺑﮭﻮﺷﻦ ﻋﺮﻑ ﺑﮭﻮﺷﻮ "
ﺑﺎﺑﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻨﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۷ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﮐﮭﯿﻢ ﭼﻨﺪ "
ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﮩﯿﺪ
ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۱ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻧﯿﻨﻮ ﻣﮩﺎﺭﺍﺝ "
ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺨﺎﻟﻖ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۶ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

*ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻟﯿﮑﮭﺮﺍﻡ ﺁﺭﯾﮧ ﺳﻤﺎﺟﯽ "
ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ

*ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
" ﻭﯾﺮ ﺑﮭﺎﻥ " ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۵ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ

*ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ*
ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﻣﻠﻌﻮﻥ ﮐﻮ ﻏﺎﺯﯼ ﺍﺳﻼﻡ
ﻋﺎﺷﻖ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ
ﻣﻠﮏ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﺣﺴﯿﻦ ﻗﺎﺩﺭﯼ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ
ﻭﺍﺻﻞ ﺟﮭﻨﻢ ﮐﯿﺎ

*گستاخ رسول ﷺ*
ایک قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا
جسے حال ہی میں
غازی تنویر قادری نے قتل کیا
ايک گستاخ کو غازي خالد ني قتل کيا
حال ھي مين ايک گستاخ کو غازي سيد خان سرحدي ني قتل کيا
اب ميرپور خاص عمر کوٽ مين پوليس والون ني گستاخ رسول شاھنواز ڪنڀر کو جھنم واصل کيا

*ﯾﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺩﻭﺭﺍﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮬﮯ ﮔﯽ.*

*بتلا دو گستاخ ِ نبی ﷺ کو*
*غیرتِ مسلم زندہ ہے.....*
*دین پہ مر مٹنے کا جزبہ*
*کل بھی تھا اور آج بھی ہے.....*
*ہم فیس بک انتظامیہ کو بتانا* *چاہتے ہیں کہ پاکستانی*
*ایسی فیس بک کو کبھی قبول* *نہیں کرسکتے جس پر*
*نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی* *گستاخی ہو*
*گستاخانہ مواد ڈلیٹ نہ کیا گیا تو ہم فیس بک کو بند*
*کرنے پر خوش ہونگے ــــــــــ !*
*اس پوسٹ کو شیئر کرکے غیرت کا مظاہرہ کریں*
*امید ہے شائد ہی کوئی بدقسمت* *ہوگا ایسا جو اس پوسٹ*
*کو شیئر نہیں کریگا*

تصویر میں: ایک شخص نے اپنے ذاتی نقطہ نظر سے اپنا "منصفانہ" حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اور اس عمل میں دوسروں کے حصے کو برباد ...
20/09/2024

تصویر میں: ایک شخص نے اپنے ذاتی نقطہ نظر سے اپنا "منصفانہ" حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اور اس عمل میں دوسروں کے حصے کو برباد کر دیا... یہ شخص آپ کو قسم دے کر کہے گا کہ اس نے صرف اپنا حق لیا ہے، اور وہ واقعی سچ بول رہا ہو گا، لیکن وہ ان لوگوں میں سے ہے جو فساد پھیلاتے ہیں۔

آپ کو اپنا حق لینے کا پورا حق ہے...
لیکن آپ کو یہ حق نہیں کہ اسے اس طریقے سے لیں جو آپ کے نزدیک منصفانہ ہو اور دوسروں کے حقوق کو نقصان پہنچائے۔

یہی حق کے استعمال میں زیادتی ہے!

ایک خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں، بولی اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟ شو...
19/09/2024

ایک خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں، بولی اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟
شوہر نے جواب دیا ! میں اس کو تمام روزمرہ زندگی کی روایات سکھاؤں گا، کھیل، ریاضی، لوگوں کی عزت اور وغیرہ وغیرہ۔ خاتون نے پھر پوچھا، اگر بیٹی ہوئی تو؟ شوہر نے جواب دیا، میں اسے کچھ نہیں سکھاؤں گا، بلکہ میں اس سے خود سیکھوں گا۔
میں غیرمشروط محبت سیکھوں گا، میری بیٹی یہ کوشش کرے گی کہ وہ میری پرورش اپنے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے کرے، بالوں کی کنگھی کرنے سے لیکر ڈریسنگ سینس، ابتداءِ گفتگو سے لیکر انتہاءِ گفتگو تک، نیز کہ وہ میرے ہر کام کو اپنی زاویہ نظر سے تربیت کرے گی۔ وہ میرے لیے دوسروں سے لڑے گی، مباحثہ کرے گی، اس کی خوشی اور غم میری طبیعت پہ منحصر ہوں گے۔
خاتون نے پھر پوچھا ! کیا بیٹا یہ سب کچھ نہیں سکھائے گا آپ کو؟
شوہر نے جواب دیا ! بیٹے میں یہ ساری خصوصیات ڈالی جاتی ہے، لیکن بیٹی ان خصوصیات کیساتھ پیدا ہوتی ہے۔
خاتون نے پوچھا ! لیکن بیٹی تو ہمارے ساتھ ہمیشہ نہیں رہے گی؟
شوہر نے جواب دیا ! بیٹی ہمارے ساتھ جسمانی طور پر نہیں رہے گی، لیکن روحانی طور پروہ ہرلمحہ ہمارے ساتھ ہوگی۔ یہ بات کہہ کر شوہر نے اپنے مکالمے کوختم کیا کہ بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا، لیکن بیٹا زندگی کے کسی بھی موڑ پہ ہمیں چھوڑ سکتا ہے..!

کاش میں سانسیں بھی خرید سکتاسام سانگ کے مالک کی عبرت ناک کہانی25 اکتوبر 2020ء کا دن تھا۔ ڈاکٹر نے مریض کا بازو سیدھا کیا...
09/09/2024

کاش میں سانسیں بھی خرید سکتا
سام سانگ کے مالک کی عبرت ناک کہانی

25 اکتوبر 2020ء کا دن تھا۔ ڈاکٹر نے مریض کا بازو سیدھا کیا اور مایوسی سے سر ہلا دیا‘ بیٹے نے آہستہ آواز میں پوچھا ”کیا کوئی چانس نہیں“ ڈاکٹر نے جواب دیا ”سر اب نہیں‘ ہمیں وینٹی لیٹر بند کرنا ہوگا“ بیٹے نے سر نیچے کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ مریض مئی 2014ء سے کومے میں تھا۔

مریض کی کہانی 1940ء میں شروع ہوئی تھی‘ اس کے والد نے جنوبی کوریا کے شہرٹائیگومیں چھوٹی سی کمپنی بنائی‘ کوریائی زبان میں تین ستاروں کو ”سام سنگ“ کہتے ہیں‘ قدیم روایات کے مطابق اکٹھے طلوع ہونے والے تین ستارے کبھی غروب نہیں ہوتے۔

والد لی بیونگ چل نے خوش شگونی کے لیے کمپنی کا نام سام سنگ رکھ دیا‘ یہ لوگ شروع میں فروٹ اور فروزن فش ایکسپورٹ کرتے تھے‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد تعمیر

نو شروع ہوئی تو سام سنگ خوراک سے کنسٹرکش انڈسٹری میں آگئی اور اس نے دھڑا دھڑ عمارتیں‘ پل اور سڑکیں بنانا شروع کر دیں‘ لی بیونگ چل نے ان ٹھیکوں میں کروڑوں روپے کمائے‘ یہ سمجھ دار انسان تھے‘ یہ جانتے تھے انسان کو اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہییں چناں چہ یہ کنسٹرکشن کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل‘ فیشن اور الیکٹرانکس کے کاروبار میں بھی آ گئے‘ گروپ بڑا ہوتا چلا گیا‘
Lee Kun-hee
لی کن ہی لی بیونگ چل کے تیسرے بیٹے تھے‘ یہ کند ذہن اور لاابالی مزاج کے لڑکے تھے‘ پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا لیکن والد انہیں ہرحال میں پڑھانا چاہتے تھے‘ لی کن ہی نے وسیڈا یونیورسٹی سے اکنامکس کی ڈگری لی اور بزنس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکا میں داخلہ لے لیا‘ جارج واشنگٹن کا دورلی کی زندگی کا فضول اور ناقابل بیان زمانہ تھا‘ یہ اپنی ڈگری تک مکمل نہ کر سکے‘ والد نے انہیں واپس بلایا اور کنسٹرکشن اور ٹریڈنگ کے کام میں لگا دیا‘ یہ گرتے پڑتے یہ کام کرتے رہے‘ والد ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے‘ ان کا خیال تھا یہ پوری کمپنی کو ڈبو دیں گے‘ والد 1987ء میں انتقال کر گئے اور لی کو مجبوراً کمپنی سنبھالنا پڑ گئی‘ کمپنی اس وقت 34 مختلف شعبوں میں کام کر رہی تھی۔
لی کے لیے اگلے پانچ سال بہت مشکل تھے‘ یہ ایک دفتر سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کی طرف دوڑتے رہتے تھے یہاں تک کہ 1993ء آ گیا‘ لی کو اچانک محسوس ہوا ہم بہت زیادہ مصنوعات بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم کوالٹی میں مار کھا رہے ہیں جب کہ ہمارے حریف صرف ایک ایک کام کرتے ہیں اور ان کی مصنوعات کی کوالٹی سام سنگ سے بہت بہتر ہے‘ لی کو محسوس ہوا ہم نے اگر اپنے حریفوں کو کوالٹی میں مار نہ دی تو ہم پٹ جائیں گے ۔

چناں چہ اس نے ایک دن اپنے تمام ایگزیکٹوز کو جمع کیا اور ان سے کہا ”ہم آج سے اپنی بیوی اور بچوں کے علاوہ سب کچھ بدل رہے ہیں‘ تم لوگ نقصان کی پرواہ نہ کرو‘ ہم اگر فٹ پاتھ پر بھی آ جائیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں‘ آپ بس صرف اور صرف کوالٹی پر توجہ دیں‘ ہماری پراڈکٹس ہر صورت مارکیٹ میں نمبر ون ہونی چاہییں‘ سام سنگ کے لوگو کو گارنٹی ہونا چاہیے“ یہ میجر شفٹنگ تھی‘ کمپنی کی انتظامیہ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ڈٹے رہے۔

وہ ہر قسم کا نقصان برداشت کرنے کے لیے بھی تیار تھے‘ ایگزیکٹوز نے ہار مان لی اور تعداد کی بجائے معیار پر چلے گئے‘ شروع کے سال بہت مشکل تھے‘ کمپنی کے گودام کباڑ خانہ بن گئے‘ مارکیٹ میں سام سنگ کا انبار لگ گیا‘ لوگ اس کے سائن بورڈز کے قریب سے بھی نہیں گزرتے تھے‘ ڈسٹری بیوٹرز تک بھاگ گئے مگر یہ پیچھے نہ ہٹے‘ 1995ء میں ایک طرف کمپنی کا بیڑہ غرق ہو گیا اور دوسری طرف لی کن ہی پر جنوبی کوریا کے صدر روح تائے ووہ کو30 ملین ڈالر رشوت دینے کا الزام لگ گیا۔

یہ تفتیش‘ انکوائریاں اور عدالتی مقدمات کا سامنا بھی کرنے لگے‘ وہ دور مشکل تھا مگر اس دور نے انہیں پگھلا کر کندن بنا دیا‘ یہ نکھرتے چلے گئے‘ سام سنگ اس دوران ٹیلی ویژن کی انڈسٹری میں آگیااور اس کا ٹی وی دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ لیڈر بن گیا اور یہ چند ماہ میں پیداوار‘ معیار اور فروخت میں سونی کو بہت پیچھے چھوڑ گیا یوں کمپنی 2006ء میں اعلیٰ معیار کا گارنٹی کارڈ بن گئی‘ یہ ہر گھر تک پہنچ گئی‘ لی کن ہی نے 1998ء میں سمارٹ فونز کا یونٹ بھی لگا لیا۔

یہ یونٹ گلیکسی کہلاتا تھا‘ گلیکسی مارکیٹ میں آ یا اور اس نے کشتے کے پشتے لگا دیے‘ یہ بھی دیکھتے ہی دیکھتے عالمی برینڈ بن گیا جس کے بعد سام سنگ 350 بلین ڈالر کی کمپنی بن گئی‘ لی کن ہی کو فوربس نے 2014ء میں دنیا کے100 بااثر ترین لوگوں کی لسٹ میں بھی شامل کر لیااور یہ کوریا کا امیر ترین شخص بھی بن گیا‘ یہ سٹیٹ سے بھی امیر ہو گیا۔لی کن ہی کی کام یابی کا پہلا ستون ٹیکنالوجی تھی‘سام سنگ کا آر اینڈ ڈی بہت مضبوط ہے۔

اس نے اہل ترین سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر انجینئرز بھرتی کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے یہ گروپ پچھلے دس برسوں سے مارکیٹ کو لیڈ کر رہا ہے‘ دوسرا یہ گروپ معیار پر کمپرومائز نہیں کرتا‘ آپ ان کی کوئی پراڈکٹ اٹھا کر دیکھ لیں‘ پیکنگ سے لے کر سائز تک آپ کو اس کا معیار حیران کر دے گا اور تیسرا لی کن ہی خریدوفروخت کا ایکسپرٹ تھا‘ یہ راستے کی ہر رکاوٹ کو خرید کر یا گرا کر آگے نکل جاتا تھا‘ یہ جنوبی کوریا کے قوانین تک بدل دیتا تھا۔

یہ اپنی مرضی کی حکومتیں بھی لے آتا تھا اور اعلیٰ عدالتوں کے جج بھی بدل دیتا تھا چناں چہ یہ سٹیٹ کے اندر ایک سٹیٹ بن گیا اور یہ سٹیٹ اصل سٹیٹ سے بڑی اور مضبوط تھی‘ آپ جنوبی کوریا کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو ملک کے ہر سیاسی اتار چڑھاؤ کے پیچھے سام سنگ اور لی کن ہی ملے گا‘ یہ درجنوں مرتبہ انکوائریوں‘ تفتیشوں اور مقدمات کا ہدف بنا‘ اس پر صدور کو رشوت دینے کے الزام بھی لگے اور اسے سیاسی خریدوفروخت کا بیوپاری بھی کہا گیا‘ 2008ء میں اس پر ٹیکس چوری کے الزامات ثابت ہو گئے۔

اسے سزا بھی ہوئی لیکن اس نے عدالت اور حکومت دونوں کو خرید لیا‘ سزا معاف ہو گئی تاہم اسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا عہدہ واپس کرنا پڑ گیا‘ یہ پورے کوریا میں بدنام تھا مگر اسے کوئی ندامت‘ کوئی پریشانی نہیں تھی‘ یہ میدان میں ڈٹا رہتا تھا‘ یہ خود اپنے منہ سے کہتا تھا آپ اگر دولت سے آسانیاں نہیں خرید سکتے تو پھر آپ کو دولت مند ہونے کا کوئی فائدہ نہیں چناں چہ یہ سامنے موجود ہر شخص کو چند لمحوں میں خرید لیا کرتا تھا‘ اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ اس نے آخر میں زندگی کو بھی خریدنے کی کوشش شروع کر دی۔

چیئرمین لی کن ہی کو 2014ء میں ہارٹ اٹیک ہوا اور یہ کوما میں چلا گیا‘ اس کی وصیت کے مطابق اسے وینٹی لیٹر پر شفٹ کر دیا گیا اور اس کے لیے نئی ادویات کی ایجاد کا کام شروع کر دیا گیا‘ سام سنگ نے درجنوں ریسرچ اداروں کو فنڈنگ کی‘ بڑے سے بڑے ڈاکٹر کا بندوبست کیا اور قیمتی سے قیمتی ترین ادویات بنوائی گئیں مگر لی کن ہی کومے سے باہر نہ آ سکا‘ اس کے بیٹے لی جائے یونگ نے کمپنی کی عنان سنبھال لی‘ یہ اپنے والد کو ایک بار اپنے پاؤں پر کھڑا دیکھنا چاہتا تھا۔اس کی شدید خواہش تھی یہ ایک بار اپنے منہ سے بولیں

یہ اپنے ہاتھ سے کھائیں اور ایک بار!جی ہاں ایک بار اپنی کھلی آنکھوں سے سام سنگ کی نئی سکرین دیکھیں لیکن لی جائے یونگ کی کوئی کوشش بارآور نہ ہوسکی اور یوں 25 اکتوبر 2020ء کی وہ شام آ گئی جب ڈاکٹروں نے مایوسی کا اعلان کر دیا‘ لی کن ہی کومے کے عالم میں انتقال کر گیا اور اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا‘ ڈاکٹر نے اس کا بازو سائیڈ پر رکھا اور مایوسی میں سر ہلا دیا‘ سام سنگ کا مالک مر چکا تھا لیکن مرنے کے باوجود اس کے اکاؤنٹ میں 20 بلین ڈالرز تھے اور یہ 350 بلین ڈالرز کی کمپنی کا مالک تھا مگر 350 بلین ڈالرز کی کمپنی اور 20 بلین ڈالرز کے اکاؤنٹس موت کا مقابلہ نہ کر سکے‘ مسافر چھ سال کی طویل نیند کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہو گیا۔

لی کن ہی کی موت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا انسان دنیا میں دولت کے ذریعے سب کچھ خرید سکتا ہے لیکن یہ کتنا ہی بڑا بیوپاری کیوں نہ ہو جائے یہ ایک بھی اضافی سانس نہیں خرید سکتااور اس کے پاس قدرت کے سامنے ہارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ کہتے ہیں انسان اگر زندگی خرید سکتا تو ہم آج بھی نمرود اور فرعون کی خدائی میں سانس لے رہے ہوتے‘ موت وہ امر ربی ہے جس کے ذریعے اللہ لی کن ہی جیسے لوگوں کو یہ پیغام دیتا ہے‘ جاؤ تم جتنا بھاگ سکتے ہو بھاگ لو لیکن تم نے آخر میں میرے پاس ہی آنا ہے‘

میں تمہیں کائنات کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دوں گا اور یہ چھپنے دیتا بھی نہیں‘ تاریخ انسانی خداؤں کا قبرستان ہے‘ آپ کسی دن تاریخ کے قبرستان میں جھانک کر دیکھیں‘آپ کو ہر قبر میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص لیٹا ملے گا جو خود کو ناگزیر بھی سمجھتا تھا اور ناقابل شکست بھی لیکن پھر کیا ہوا؟سن کنگ سے لے کر مون کوئین تک دنیا کے ہر ناگزیر کے لیے مٹی آخری لحاف ثابت ہوئی‘ اللہ کی اس دنیا میں لی کن ہی جیسا شخص بھی چھ چھ سال ہسپتال میں بستر پر لیٹ کر آنکھ نہیں کھول پاتا

اوراس سے امیر تیمور اور ہٹلر جیسا شخص بھی خالی ہاتھ واپس جاتا ہے لیکن ہم اس قبرستان میں پوری زندگی ”میں میں“ کی آوازیں لگاتے رہتے ہیں اور ہمیں شرم بھی نہیں آتی‘ بھائی میرے! اپنی اوقات دیکھ کر بولو‘ تم کورونا کا مقابلہ تو کر نہیں سکتے‘ زندگی اور موت دینے والے کا کیا خاک مقابلہ کرو گے‘ مٹی کی مٹھی ہو‘ مٹی بن کر رہو‘ خدا نہ بنو کیوں کہ خدا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں رہنے دیتا۔☝️🙏

منقول

جنجا زومبیہم_بھول_جاتےمغرب_نہیں_بھولتازومبی کا کردار جسے ہالی ووڈ اپنی فلموں میں ایک خوفناک کردار کے طور پر پیش کرتا ہے....
04/09/2024

جنجا زومبی
ہم_بھول_جاتے
مغرب_نہیں_بھولتا
زومبی کا کردار جسے ہالی ووڈ
اپنی فلموں میں ایک خوفناک
کردار کے طور پر پیش کرتا ہے.
ھارر موویز میں ان کو چلتی
پھرتی خون آشام لاشیں
دیکھایا جاتا ہے.
آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی
کہ زومبی کا یہ کردار بگڑا ہوا
ضرور ہے مگر گھڑا ہوا ہرگز نہیں
اور آپ کو مزید حیرت اس بات
پر ہونی چاہیئے کہ یہ کردار کسی
اور کا نہیں مسلمان بادشاہ جنجا
زومبی کا ہے جسے مغرب خون
آشام کے طور پر پیش کرتا ہے
قصہ 1539 سے شروع ہوتا ہے
جب پرتگیزیوں نے برازیل پر
قبضہ کیا اور یہاں کے سیاہ فام
باشندوں کو پکڑ کر غلام بنانے
بیچنے اور زبردستی مسیح بنانے
کا کام شروع کیا۔ ظلم کا یہ راج
1775 تک چلتا رہا حتی کہ جنجا
کا ظہور ہوا جس نے ان ضابطوں
کو ماننے سے انکار کردیا۔ ایک
طرف وہ استبداد کے سامنے ڈٹ
کر کھڑا ہوا تو دوسری طرف اس
نے اپنے لوگوں کو اسلامی طرز
حیات اپنانے اور ﷲ کی
وحدانیت کی طرف بلانا
شروع کیا۔
جنجا کو لوگ "شجاع الاسود"
" سیاہ بہادر" کہہ کر جاننے لگے۔
پرتگیزیوں پر اُن کا ایسا رعب
و دبدبہ تھا کہ وہ ان سے خوف
کھاتے تھے۔ جنجا کا دور پچاس
سال پر محیط رہا اور وہ آخرکار
ایک معرکے میں مارے گئے۔ اس
کی لاش کا مثلہ کیا گیا سر تن
سے جدا ہوا حصے بخرے کیے
گئے اور لوگوں کو جنجا کا
تماشہ بنا کر پیش کیا گیا۔
ہم تاریخ بھولتے ہیں مغرب نہیں
جنجا کی وفات کے دن کو وہ
ایک تہوار کے طور پر مناتے ہیں
جس میں خوفناک کپڑے پہنے
اور منہ پر دہشتناک خ*ل چڑھائے
جاتے ہیں تاکہ لوگوں لوگوں کو
باور کرایا جا سکے کہ زومبی
ایسے خون آشام بھیڑیئے ہوتے
ہیں جن کا انسانیت سے کوئی
واسطہ نہیں ہوتا-

1830 ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ 1861 ﮐﻮ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﺳﺮﻭﺱ ﮐﮯ ﺁﻏﺎﺯ ﻧﮯﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﺑﺮﭘﺎ ﮐﺮﺩﯾﺎ . ﺩﺭﮦ ﺑﻮﻻﻥ ﮐﯽ ﺑﻞ ﮐﻬﺎﺗﯽ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﻻ...
29/08/2024

1830 ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ 1861 ﮐﻮ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﺳﺮﻭﺱ ﮐﮯ ﺁﻏﺎﺯ ﻧﮯﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﻘﻼﺏ ﺑﺮﭘﺎ ﮐﺮﺩﯾﺎ . ﺩﺭﮦ ﺑﻮﻻﻥ ﮐﯽ ﺑﻞ ﮐﻬﺎﺗﯽ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﻻﺋﻦ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺍﻧﺘﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ 1886 ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺩﻭ ﮐﺮﻭﮌ 85 ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﻻﮔﺖ ﺁﺋﯽ ﺗﻬﯽ . ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﺳﺮﻭﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﺎ ﻃﺮﺯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻬﮯ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﮐﯽ، ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺑﻬﯽ ﻋﺠﻮﺑﮯ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﻬﺘﺎ ﮨﮯ .
بلوچستان کے ریلوے نظام میں سرفہرست بولان سیکشن اور کوئٹہ سے چمن جاتے ہوئے خوجک ٹنل قابل ذکر ہیں۔ کوئٹہ تا سبی ریلوے لائن کی تعمیر کے لیے بولان کے پتھریلے پہاڑوں میں 20 سرنگیں کھودنا اور ندیوں پر 396 لوہے کے مضبوط پل تعمیر کئے گئے ۔ اس وقت کے برصغیر میں لوہے کی کوئی فیکٹری موجود نہیں تھی۔ تمام ریلوے لائن اور پلوں کے لیے لوہا ships کے زریعے برطانیہ سے لایا گیا۔ بغیر کسی قرضے اور بیرونی امداد کے یہ ریل کا نظام بنا۔
جو ایک صدی سے زیادہ عرصہ بیت جانے کے باوجود آج بھی اس ریلوے لائن کو سنبھالے ہوئے ہے جہاں دن میں کئی مال بردار اور مسافر ٹرینیں گزر کر اپنی منزل کو پہنچتی ہیں۔
بلوچستان کے بلند وبالا پہاڑوں اور سخت موسم میں ریل کی پٹری بچھانا ایک صدی قبل بلا شبہ انجئنئیرز اور لیبر کے لیےایک چیلینج رہا ہوگا جس میں موسم کی شدت اور سہولیات کی کمی کے باوجود بلوچستان میں ریل کا نظام لایا گیا جو آج تک صوبے کے عوام کو بہترین سفری سہولیات فراہم کر رہا ہے۔۔
ﺁﺏ ﮔﻢ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﺳﻄﺢ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺳﮯ 2157 ﻓﭧ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺻﺮﻑ 22 ﻣﯿﻞ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﻝ ﭘﻮﺭ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﻠﻨﺪﯼ 5600 ﻓﭧ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﺩﻭ ﺍﻧﺠﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍ ﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﯿﻦ ﺍﻧﺠﻦ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻬﮯ . ﯾﮧ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭼﮍﮨﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺗﺮﺍﺋﯽ ﭘﺮ ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﻠﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﺮﯾﻦ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﺎﺭ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﺁﺏ ﮔﻢ ،ﺩﻭﺯﺍﻥ،ﮨﺮﮎ ﺍﻭﺭ ﻣچھ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﻻﺋﻦ ﺑﭽﻬﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﺑﻠﻨﺪﯼ ﭘﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ . ﺟﺴﮯ ﺗﮑﻨﯿﮑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﭻ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﺟﺒﮑﮧ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﮐﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺍﺳﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﻻﺋﻦ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﭨﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻓﯿﻞ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﻻﺋﻦ ﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎﮨﮯ
کئی ﻋﺠﻮﺑﮧ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﭨﺮﯾﮑﺲ ﺗﻮ ﮐﺐ ﮐﮯﻣﺮﺣﻮﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ . ﮐﻮﺋﭩﮧ ﺳﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﮑﺐ ﺁﺑﺎﺩ ﺭﻭﭨﺲ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺻﻮﺑﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﭨﺮﯾﮑﺲ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯾﺎﮞ ﺧﺴﺘﮧ ﺣﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﺍﺳﭩﯿﺸﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﮩﻮﻟﯿﺎﺕ ﻧﺎﮐﺎﻓﯽ ﮨﯿﮟ . ﺍﻥ ﺭﻭﭨﺲ ﮐﻮ ﺑﻬﯽ ﮐﺌﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ . ﺻﻮﺑﮯ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺭﻭ ﭘﯿﭧ ﭼﮑﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﺳﺮﻭﺱ ﮐﻮ ﮐﻢ ﺍﺯﮐﻢ ﺩﯾﮕﺮ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺘﺠﺎﺋﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ . ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﺟﻮ ﮨﯿﮟ۔

منقول

زندگی گزارنے کے کچھ اہم ترین اصول!1- کسی بھی انسان کی عادت نہ ڈالیں ..!2- یہاں کوئی بھی آپ کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہنے والا!...
24/08/2024

زندگی گزارنے کے کچھ اہم ترین اصول!

1- کسی بھی انسان کی عادت نہ ڈالیں ..!
2- یہاں کوئی بھی آپ کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہنے والا!
3- آج جو آپ کا دوست ہے وہ کل آپ کا دشمن بن جائے گا !
4- آپ کے راز وہ گولیاں ہیں جو اگر آپ دوسروں کو دیں گے تو ایک دن وہ ان گولیوں کو پستول میں بھر کر آپ پر چلا دیں گے، اور آپ کو مار ڈالیں گے!
5- صرف تین چیزیں ایسی ہیں جن پر آپ ہمیشہ بھروسہ کر سکتے ہیں اور یہ آپ کو مایوس نہیں کریں گی... آپ کی جیب ، آپ کی صحت اور سب سے بڑھ کر آپ کا خدا !
6- اپنی ضروریات ہمیشہ دوسروں سے خفیہ رکھیں!
7- آپ سے مسکرا کر بات کرنے والا ہر شخص آپ سے محبت نہیں کرتا!
8- ہر وہ شخص جو آپ سے کہتا ہے؛ "ڈئیر، پیارے، عزیز "، آپ سے سچی محبت نہیں کرتا (ٹی وی اینکرز روزانہ ہمیں "پیارے سامعین" کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور ہم میں سے کسی کو بھی نہیں جانتے، نہ ہم سے محبت کرتے ہیں )!
9- اپنی کئیر کریں ... اپنے ذہن اوردل کو اپنی خوشی کا ذریعہ بنائیں.. آپ کو کبھی افسوس نہیں ہوگا!
10- تھوڑے دیوانے بن کر زندگی سے لطف اندوز ہوں کیونکہ عقلمند لوگ جلدی مر جاتے ہیں!
11- اپنے چھوٹے چھوٹے مشاغل اور شوق پایہ تکمیل تک پہنچائیں ، چاہے وہ دوسروں کو معمولی ہی لگیں!
12- اپنے لیے کبھی بھی سہارا تلاش نہ کریں.!
13- آپ دوسروں کے ساتھ ہمدرد اور مہربان ہیں تو کبھی بھی یہ مت سوچیں کہ بدلے میں دنیا بھی آپ کے ساتھ حسن سلوک کرے گی !
14- ایک دن آپ کو احساس ہوگا کہ آپ اپنے سوچ سے سے زیادہ پریشان رہتے تھے... اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہر اس چیز کا بہترین بندوبست کردیا ہے، اور وہ چیزیں آپ کو دیں، جن کی آپ نے کبھی امید اور خواہش بھی نہ کی تھی!

غریب ندیم ارشدجھوٹی افواہیں:مشہور ھوا ھے ندیم ارشد میڈل جیتنے ست قبل بہت غریب تھاارشد ندیم کو غریب، لاواث ہیرو بنا کر پی...
12/08/2024

غریب ندیم ارشد
جھوٹی افواہیں:
مشہور ھوا ھے ندیم ارشد میڈل جیتنے ست قبل بہت غریب تھا
ارشد ندیم کو غریب، لاواث ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ھے جبکہ معاملہ اس کے الٹ ھے
جو کہ سرا سر جھوٹ ھے
آئیں آپ کو اس تفصیل بتاتے ہیں
ارشد ندیم یکم جولائی 2015 سے واپڈا میں ملازم ھے اور 18-2017 سے واپڈا میں 18 گریڈ کا آفیسر ھے اور اب لیسکو گریڈ 19 میں ترقی دینے جا رھا ھے
آپ کو بتاتا چلوں کہ اسسٹنٹ کمشنر 17 گریڈ کا آفیسر ھوتا ھے
واپڈا کی طرف سے کھلاڑیوں کے کوٹہ میں ملازم بھرتی ھوا

2016 میں حکومتی خرچہ پر ساؤتھ ایشین گیمز میں حصہ لیا Bronze Medal جیتا۔
اس وجہ سے اسے World Athletics سکالرشپ ملا اور ساتھ ہی Maritius میں واقع بہترین ٹریننگ سنٹر IAAF High Performance Training Centre میں ٹریننگ حاصل کرنے کا موقع ملا۔

2016 میں ہی 17th Junior Asian Games جو کہ ویت نام کے شہر Ho Chi Min میں منعقد ھوئی
گورنمنٹ کے خرچے پر شرکت کی اور میڈل جیتا

ایسے ہی 2017, 2018, 2019 میں باکو، آسٹریلیا، جکارتہ، دوہا مختلف گیمز میں گورنمنٹ سپانسر پر شرکت کی اور مختلف میڈلز جیتے۔

2022 میں ورلڈ چیمپئین شپ سے سٹارٹ ہونے سے پہلے ساؤتھ افریقہ میں Terseus Liebenberg جو کے دنیا کے بہترین کوچ ہیں ان سے ٹریننگ حاصل کرنا شروع کر چکے تھے۔

2022 میں انکی کہنی اور گھٹنے کی Injury ھوئی اور Athletics Federation of Pakistan نے حکومتی خرچے پر انکا علاج کیلئے Spire Cambridge Lea Hospital England میں بندوبست کیا۔
(انکے علاج اور ساؤتھ افریقہ کی ٹریننگ کا خرچہ 2 کروڑ سے زائد تھا)

پوسٹ کا مقصد کوئی تنقید نہیں بلکہ حقائق بتانا اور یہ بتانا ہے کہ ہماری قوم کو اوتار/کرشماتی قسم سے ہیرو گھڑنے کی عادت ھے۔ ارشد ندیم کی جیت کے پیچھے اسکی محنت، ہر حکومت کی انوسٹمنٹ اور قدرتی صلاحیت تینوں چیزوں کا ہاتھ ھے

صرف دودھ لسی کی طاقتوں سے اتنے بڑے مقابلے نہی جیتے جاتے
ایسے مقابلے بڑے اداروں، حکومتی سپورٹ اور بہترین ٹریننگ سے ہی جتنا ممکن ہوتا ہے، کوئی پیدائشی سپرمین نہیں ھوتا کہ پنڈ میں تھرو پھیکنتا پھیکنتا اولمپکس جیت لے۔

2021 میں انکی والد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انکے پاس پریکٹس کرنے کیلئے گراونڈ یا باقی سہولتیں میسر نہیں اور حالیہ ویڈیوز مین اسکے بھائی کے بیانات بھی ایسے ہی ہیں جن سے یہی تاثر جاتا ہے کہ غریب لوگ ہیں اور ٹریننگ بھی خود ہی کی۔
صاف الفاظ استعمال نہیں کیے گئے کیونکہ سوشل میڈیا کا دور ہے حقائق چند منٹس میں باہر آجاتے ہیں۔
اور جہاں تک تعلق ھے اس کی رہائش، رہن سہن کا تو
میاں چنوں کی مہنگی سوسائٹی رحیم گارڈن میں ایک اچھا گھر اور اچھی گاڑی اس کی ملکیت ھے
شہباز شریف نے اس کی مدد کی
عثمان بزدار نے اس کو چیک دیے
عمران خان نے اس کو بلایا اور ہر ممکنہ مدد کی یقین دھانی کروائی
اب اس دور حکومت میں کیا یہ اپنے خرچے پہ پیرس گیا ھے؟
مانتا ھوں کہ جو کھلاڑیوں کو سہولیات دینی چاھیئں وہ پاکستان میں نہیں دی جاتی ہیں
لیکن اس کا یہ بھی ہر گز مطلب نہیں کہ اس کو کوئی سہولت نا ملی اور یہ میاں چنوں کے گاوں سے سیدھا خود پیرس پہنچ گیا اور جیت آیا۔۔
حقیقت کو جان کر جییں شکریہ۔۔
زاہد مشرف

کیا بنگلادش کے محمد یونس ٹائپ کا بندہ پاکستان میں ھے۔ آخر کون ہے یہ ڈاکٹر یونس ؟؟بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے عبوری حکومت کے...
08/08/2024

کیا بنگلادش کے محمد یونس ٹائپ کا بندہ پاکستان میں ھے۔ آخر کون ہے یہ ڈاکٹر یونس ؟؟
بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے عبوری حکومت کے لئے جس ایک شخص کا مطالبہ یا یوں کہیے شرط رکھی ہے اسی سے انکی وطن سے محبت ، ہوشمندی اور مستقبل سنوارنے کا عزم اور میرٹ کا انتخاب دیکھائی دے رہا ہے

ڈاکٹر محمد یونس بنگلادیش میں موجود گرامین بینک کے بانی ہیں جنہیں 2006ء مائیکرو فنانس بینک کے ذریعے لوگوں کو غربت سے نکالنے پر نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

بات ہے 73-1972 کی ۔ جب چٹا گانگ یونیورسٹی کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر محمد یونس نے غریب عوام خصوصاً خواتین کو خط غربت سے نکالنے کے لئے چھوٹے قرضوں ( مائیکرو فنانسنگ) کا ایک اچھوتا پروجیکٹ پیش کیا ۔ نام تھا گرامین بنک ، مطلب دیہاتی بنک ۔
محمد یونس اپنا پروجکٹ لئے ہر حکومتی دروازے تک گیا ، ہر بنک اور بنکار سے مدد مانگی لیکن کسی نے حامی نہ بھری ۔

تب محمد یونس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی کسی ایک گاؤں سے اس پروجیکٹ کا آغاز کرے گا ۔ اپنی جیب سے 800 ٹکہ اور دوستوں کی مدد سے 3 ہزار ٹکہ جمع کر کے 1974 میں گرامین بنک کی بنیاد رکھی ۔ جسکی نہ کوئی عمارت ، نہ ملازمین ۔ بس ایک قلم اور رجسٹر اور 3 ہزار ٹکہ۔
یونس نے چٹا گانگ کے ایک قریبی گاؤں سے آغازکیا ۔ 5 خواتین کو ایسے چھوٹے کاروبار کے لئے قرضہ دیا جن کے بارے خود خواتین نے فیصلہ کیا کہ وہ بہتر کر سکتی ہیں ۔ مثلآ

پٹ سن سے کپڑا بنانا
ٹوکری/ روٹی والے خوبصورت ڈبے بنانا
مرغی اور بطخ بانی اور انڈے کا کاروبار
کپڑوں کی سلائی اور ان پر کڑھائی
ڈیزائن والی چٹاٹی بنانا

قرضے پر سود بھی تھا ۔ جس نے سو ٹکہ لیا وہ ایک سو دس ٹکہ دے گا ۔ لیکن کاروبار شروع ہو جانے پر اور وہ بھی روزانہ کی بنیاد پر ۔ کم از کم ایک ٹکہ روزانہ ، یا جو آسانی سے دے سکو ۔۔
سائیکل پر ایک بنک آفیسر روزانہ ان خواتیں کے گھر جاتا اور نہ صرف ایک ٹکہ لے آتا ۔ بلکہ مال بیچنے میں ان کی مدد بھی کرتا ۔ قرض پر سود دراصل اسی سائیکل والے بنک آفیسر کی تنخواہ تھی ۔

جب اتنی رقم واپس ا جاتی کہ اگلے گھر کو قرضہ دیا جا سکے تو چھٹا گھر شامل ہو جاتا۔
اس طرح قرضے کے منتظر گھر بھی خیال رکھتے کہ پہلوں کے کاروبار کامیاب ہوں ۔ بروقت قرض واپس ملے تاکہ وہ بھی شامل ہو سکیں ۔
قرض کی شرائط بھی انوکھی تھیں

@ قرض لینے والا بچوں خصوصاً بچیوں کو سکول بھیجنے گا
@ چھوٹی عمر کے بچوں کی شادی نہیں کرے گا
@ شادی پر جہیز لینے یا دینے والوں کا قرضہ منسوخ کر دیا جائے گا
@ قرض لینے والا 10 درخت لگائے گا جس میں پھل دار درخت بھی شامل ہوں ۔
@ گھر ، رسوئی اور باتھ روم کی صفائی لازم ہو گی ۔ ہاتھ دھوئے بغیر کھانے نہیں کھائیں گے ۔ خواتیں ماہواری کے دوران صفائی کا خاص خیال رکھیں گی ۔
@ عورت یا بچوں کو مار پیٹ کرنے والے مرد کو قرضہ نہیں ملے گا

محظ دو سال کے بعد اس گاؤں میں آئی معاشی خوشحالی کی شہرت پھیلنے لگے ۔ مزید چند سالوں میں گرامین بنک درجنوں دیہاتوں میں پہنچ چکا تھا ۔ میڈیا پر چرچے ہونے لگے تو حکومت بھی متوجہ ہوئی ۔
1984 میں حکومت نے گرامین بنک کو ریگولر بنک کا سٹیٹس دے دیا ۔
بین الاقوامی شہرت ملی تو بڑھے ادارے دیکھنے پہنچ گئے ۔ ورلڈ بنک نے اس ماڈل کو گود لے لیا اور 64'ممالک میں اس ماڈل کو نافد کرنے کے پلان پر عمل شروع کیا ۔

اسی گرامین بنک سے مستفید خواتیں نے بنگہ دیش کی صنعتی ترقی میں اہم ریسورس کا کردار ادا کرتے ہوئے صنعتی انقلاب کی داغ بیل ڈالی ۔
آج دنیا کی تقریباً ہر بڑی یونیورسٹی میں گرامین بنک کو بطور کیس سٹڈی پڑھایا جاتا ہے ۔
2006 میں پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کو مائیکرو فنانسنگ کے ایسے شاندار ماڈل پر نوبل انعام سے نوازا کیا ۔

ڈاکٹر یونس صرف گرامین بنک تک نہیں رکے ۔ انہیں نے لگ بھگ 50 مزید ادارے اور صنعتیں بنگلہ دیش کا معاشی ستون بنائے ۔
کیونکہ ڈاکٹر محمد یونس شیخ حسینہ کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے تو شیخ حسینہ نے ڈاکٹر یونس کو بھی نہ بخشا ۔ ان کے خلاف کیس بنائے گئے ۔ ہراساں کیا گیا ۔ جس پر ڈاکٹر یونس ملک چھوڑ گئے ۔

آج بنگلہ دیش میں گرامین بنک کی 2656 برانچیں ہیں اور یہی ڈاکٹر محمد یونس آج کے بنگلہ دیشی یوتھ کی پہلی ترجیح ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں، جن میں سے ایک اہم نعمت بینائی ہے۔ بینائی کی نعمت کی قدر کرنے کے لیے ہ...
02/08/2024

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں، جن میں سے ایک اہم نعمت بینائی ہے۔ بینائی کی نعمت کی قدر کرنے کے لیے ہمیں ان لوگوں کی حالت پر غور کرنا چاہیے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ انسان نے جب سے جدید دور میں قدم رکھا ہے تب سے وہ اس کوشش میں بھی ہیں کہ کیسے قدرتی یا حادثاتی طور پر محروم لوگوں کی جسمانی کمی کو پورا کرنا ہے تاکہ وہ بھی نارمل زندگی گزار سکے اور اب تک بہت کچھ ایجاد بھی کیا جا چکا ہے۔
چونکہ بینائی کے بغیر انسان ادھورہ ہے اس لیے بہت سے ممالک اس کوشش میں ہے کے کیسے نابینا انسان کو بینائی دی جا سکتی ہے اور خوشی کی بات یہ کہ اس وقت دنیا بھر میں مختلف آرٹیفیشل آنکھ کی ٹیکنالوجیز کی آزمائش کی جا چکی ہے۔ وہی پر آسٹریلین یونیورسٹی نے ایسی بایونک آنکھ متعارف کرائی ہے جو اندھے انسان کو دیکھنے کی صلاحیت دیتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کی بڑی کامیابوں میں سے ایک ہے۔
What is bionic eye.?
بایونک آنکھ عام طور پر ایک الیکٹرانک ڈیوائس ہوتی ہے جو بصری معلومات کو پروسیس کر کے دماغ تک پہنچاتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے، لیکن بنیادی طور پر یہ تین اہم حصے پر مشتمل ہوتی ہے:
1.کیمرا۔:ایک چھوٹا کیمرا ہوتا ہے جو عینک یا چشمے کے فریم میں نصب ہوتا ہے۔ یہ کیمرا ماحول سے بصری معلومات کو پکڑتا ہے۔
2.پروسیسنگ یونٹ: کیمرا سے حاصل شدہ معلومات کو ایک پروسیسنگ یونٹ میں بھیجا جاتا ہے جو ان معلومات کو ڈیجیٹل سگنلز میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ سگنلز بینائی سے متعلقہ معلومات کو دماغ تک پہنچانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
3.الیکٹروڈز یا امپلانٹس: پروسیسنگ یونٹ سے سگنلز کو الیکٹروڈز میں بھیجا جاتا ہے جو آنکھ کے نیٹ ورک میں نصب ہوتے ہیں، یا آنکھ کی رٹینا میں امپلانٹ کیے جاتے ہیں۔ یہ الیکٹروڈز یا امپلانٹس سگنلز کو بصری معلومات میں تبدیل کرتے ہیں جو دماغ تک پہنچ جاتی ہیں، اور اس طرح بصارت بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نوٹ:
آسٹریلیائی محققین نے بایونک آنکھ کی ترقی میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تاہم، یہ کہنا کہ یہ پوری طرح سے بینائی کو بحال کر دے گا، ابھی تک درست نہیں ہے۔ بایونک آنکھ کچھ مخصوص حالات میں بینائی فراہم کر سکتی ہے، لیکن ہر صورت میں مکمل بصارت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اسے "دنیا کی پہلی" اور "ہر کسی کی بینائی مکمل طور پر بحال کرنے" کے طور پر بیان کرنا شاید ابھی تھوڑا جلدبازی ہو۔
Follow for more facts Facts korner

Address

Blue Area
Islamabad
27000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نمبـــرون معــلومات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to نمبـــرون معــلومات:

Share