Islam Is The Truth

Contact the place of worship

Islam Is The Truth Can you handle the truth??? The truth is that Islam is the way of life given to mankind by God Almighty.

.                           خلق کی ابتدا — Part 6            🌹 PROJECT SIRR-UL-ASRAR✨ آدم علیہ السلام سے پہلے — نورِ مصط...
22/09/2026

. خلق کی ابتدا — Part 6
🌹 PROJECT SIRR-UL-ASRAR

✨ آدم علیہ السلام سے پہلے — نورِ مصطفیٰ ﷺ کی حقیقت
Before Adam عليه السلام — The Primordial Reality of Muhammad ﷺ
🇵🇰 اردو

پچھلے حصے میں ہم نے *حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ* کے ذریعے اس روحانی حقیقت کا مطالعہ شروع کیا کہ:

*اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے نورِ نبی ﷺ کو پیدا فرمایا۔*

اب ایک اور نہایت اہم سوال ہمارے سامنے آتا ہے:

حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت کب مقرر ہوئی؟

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟

“یا رسول اللہ ﷺ! آپ کے لیے نبوت کب مقرر ہوئی؟”

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

*«وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ»*

“اس وقت، جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔”

📖 *جامع الترمذی، حدیث 3609*

امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا:

> *هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ*

یعنی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ([Mohaddis][1])

🌙 اس حدیث کا روحانی پہلو

یہاں ایک نہایت خوبصورت حقیقت سامنے آتی ہے۔

آدم علیہ السلام کی ظاہری تخلیق کا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا، لیکن *حضور ﷺ کی نبوت اللہ تعالیٰ کے علم و تقدیر میں پہلے ہی مقرر تھی۔*

یہ ہمیں حضور ﷺ کی *تقدمِ نبوت اور بلند مقام* کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اور جب ہم اسے Part 5 میں بیان ہونے والی نورِ محمدی ﷺ کی روایت کے ساتھ رکھتے ہیں، تو *سِرّ الاسرار* کی روحانی تعلیم کا ایک مربوط تصور سامنے آتا ہے:

*نور → روح → نبوت → ظہورِ محمدی ﷺ*

یہی وہ روحانی سفر ہے جسے *سِرّ الاسرار* سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔

🌟 ایک اور عظیم روایت

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> *«إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ»*

*ترجمہ:*

“بے شک میں اللہ کے ہاں اُمّ الکتاب میں خاتم النبیین تھا، جبکہ آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں تھے۔”

مسند احمد میں یہ روایت حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ اس کے طرق کے بارے میں محدثین نے مختلف کلام کیا ہے؛ بعض اہلِ علم نے اسے شواہد کی بنا پر تقویت دی ہے۔ ([Hadith Prophet][2])

یہ روایت آگے حضور ﷺ کی ولادتِ مبارکہ سے متعلق *نور کے ظہور* کا بھی ذکر کرتی ہے:

> *“میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔”* ([Hadith Prophet][2])

💚 دو روایات — ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ

اب ہمارے سامنے دو اہم بیانات ہیں:

① حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

*“وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ”*

حضور ﷺ کی نبوت کا تعلق آدم علیہ السلام کی ظاہری تخلیق سے پہلے کے مرحلے سے بیان ہوتا ہے۔ ([Mohaddis][1])

② حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ

*“وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ”*

حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں خاتم النبیین کی حیثیت سے اس وقت بیان کیا گیا جب آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں تھے۔ ([Hadith Prophet][2])

اور پھر Part 5 کی روایت:

③ حضرت جابر رضی اللہ عنہ

*“خَلَقَ قَبْلَ الْأَشْيَاءِ نُورَ نَبِيِّكَ”*

یعنی نورِ نبی ﷺ کو تمام اشیاء سے پہلے پیدا کیے جانے کا بیان۔ ([Wikisource][3])

🌹 Sirr-ul-Asrar کی روشنی میں

ان شواہد کو *سِرّ الاسرار* کے روحانی بیان کے ساتھ پڑھیں تو ایک نہایت گہرا تصور سامنے آتا ہے:

> *حضور نبی کریم ﷺ کا مقام صرف ظاہری دنیا میں آپ ﷺ کی ولادت سے شروع نہیں ہوتا۔*

بلکہ کتاب ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ:

*روحِ محمد ﷺ — نورِ محمد ﷺ — نبوتِ محمد ﷺ — حقیقتِ محمدیہ ﷺ*

ان سب کا تعلق تخلیق کے ابتدائی رازوں سے ہے۔

اسی لیے *سِرّ الاسرار* انسان کی تخلیق اور اس کی اصل منزل کے بیان کو *حقیقتِ محمدیہ ﷺ* سے جوڑتا ہے۔

🇬🇧 ENGLISH

*Before Adam — The Primordial Reality of Muhammad ﷺ*

In the previous part, we explored the narration associated with Sayyiduna Jabir رضي الله عنه concerning the creation of the *Light of the Prophet ﷺ before other things*.

Now we ask another profound question:

When was the Prophethood of Muhammad ﷺ established?

Sayyiduna Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Companions asked:

> *“O Messenger of Allah ﷺ, when was Prophethood established for you?”*

The Prophet ﷺ replied:

> “When Adam was between the stage of spirit and body.”

📖 *Jami‘ al-Tirmidhi 3609*

Imam al-Tirmidhi described the narration as *hasan sahih gharib*. ([Mohaddis][1])

This points toward the precedence of the Prophetic reality in Allah's knowledge and decree, before the completion of Adam's physical creation.

Another narration from Sayyiduna al-‘Irbad ibn Sariyah رضي الله عنه states:

> *“I was, with Allah, the Seal of the Prophets in the Mother of the Book, while Adam was still being formed from clay.”* ([Hadith Prophet][2])

✨ A Deeper Connection

When these narrations are studied alongside the teaching presented in *Sirr-ul-Asrar*, a profound spiritual sequence emerges:

*LIGHT → SPIRIT → PROPHETHOOD → MUHAMMAD ﷺ*

The purpose of this series is to contemplate these meanings and understand the spiritual teachings presented in *Sirr-ul-Asrar*.

🌹 اگلا حصہ — Part 7

اب ہم اس سلسلے کی ایک نہایت اہم روایت کی طرف بڑھیں گے:

*“کُنْتُ نُورًا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّي…”*

*“I was a light before my Lord…”*

اور اس کے ساتھ *چودہ ہزار سال* کا ذکر، حضرت علی بن الحسین رحمہ اللہ کی روایت، *المواهب اللدنية*، *السيرة الحلبية* اور *شرح المواهب* میں اس کی نقل اور اس روایت کے روحانی مفہوم کا مطالعہ کریں گے۔ ([Wikisource][3])

یہ حصہ *نورِ محمدی ﷺ کے تصور کو مزید گہرائی* دے گا۔

*READ • RESEARCH • REFLECT • UNDERSTAND*

*پڑھیں • تحقیق کریں • غور کریں • سمجھیں*

مکمل پوسٹ پڑھیں اور ہمارے ساتھ حقیقتِ محمدیہ ﷺ کے اس روحانی سفر میں شامل ہوں۔ 🌹

*PROJECT SIRR-UL-ASRAR*
*The Secrets of Secrets*

20/09/2026
20/09/2026

Copied...

۔۔                     خلق کی ابتدا — Part 5                🌹 PROJECT SIRR-UL-ASRAR           ✨ نورِ محمدی ﷺ — تخلیق کا ...
19/09/2026

۔۔ خلق کی ابتدا — Part 5
🌹 PROJECT SIRR-UL-ASRAR

✨ نورِ محمدی ﷺ — تخلیق کا اولین نور

The Light of Muhammad ﷺ — The Primordial Light of Creation

🇵🇰 اردو

محترم قارئینِ کرام!

گزشتہ حصوں میں ہم نے *سِرّ الاسرار* کے اس عظیم روحانی بیان کو سمجھنے کی کوشش کی کہ:

> اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے پہلے روحِ محمد ﷺ کو اپنے نورِ جمال سے پیدا فرمایا۔

اب ہم اس دعوے کے اہم ترین شواہد میں سے ایک کی طرف آتے ہیں — حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ

حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم ﷺ سے سب سے پہلی تخلیق کے بارے میں سوال کیا۔

روایت میں حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب الفاظ آتے ہیں:

> «يَا جَابِرُ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى خَلَقَ قَبْلَ الْأَشْيَاءِ نُورَ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ»

ترجمہ:
“اے جابر! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے پہلے تمہارے نبی ﷺ کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا۔”

یہی وہ بنیادی بیان ہے جس کے ذریعے *نورِ محمدی ﷺ* کو تخلیق کے آغاز سے مربوط کیا جاتا ہے۔

*مواهب لدنية* میں اس روایت کا حوالہ الجزء المفقود من الجزء الأول من المصنف، ص 63، حدیث 18 کی طرف دیا گیا ہے، اور *مواهب لدنية* جلد اول، صفحہ 36 میں بھی اس کا ذکر آتا ہے۔

🌙 اس روایت میں ایک نہایت اہم بات

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا سوال ہی “سب سے پہلی تخلیق” کے بارے میں تھا۔

اور جواب میں حضور ﷺ کی طرف منسوب روایت نورِ نبی ﷺ کو تمام مخلوقات سے پہلے بیان کرتی ہے۔

یعنی یہاں گفتگو صرف حضور ﷺ کے ظاہری جمال یا چہرۂ انور کی روشنی کی نہیں، بلکہ وجودِ نورِ محمدی ﷺ اور آغازِ تخلیق کے تعلق کی ہے۔

اسی لیے *سِرّ الاسرار* کی تعلیم میں یہ تصور بنیادی مقام رکھتا ہے۔

🌹 نور سے روحِ محمد ﷺ

*سِرّ الاسرار* کے بیان میں یہ حقیقت مزید آگے بڑھتی ہے کہ:

> اللہ تبارک نے اپنے نورِ جمال سے سب سے پہلے روحِ محمد ﷺ کو پیدا فرمایا۔

پس یہاں نورِ محمدی ﷺ، روحِ محمد ﷺ اور حقیقتِ محمدیہ ﷺ ایک گہری روحانی بحث کے مختلف پہلو بن جاتے ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں ظاہری آنکھ سے نظر آنے والے انسانی وجود سے آگے بڑھ کر روح اور حقیقت کی طرف توجہ ہوتی ہے۔

✨ نور اور بشر — کیا دونوں جمع ہوسکتے ہیں؟

بالکل۔

قرآنِ کریم حضرت جبریل علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:

> فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا
> *(مریم: 17)*

یعنی جبریل علیہ السلام حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے سامنے بشری صورت میں ظاہر ہوئے۔

لہٰذا نور اور بشری صورت کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا ضروری نہیں۔

آپ ﷺ کی شان میں بھی نورانی حقیقت اور بشری ظہور کو ایک ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔

آپ کے فراہم کردہ مواد میں اسی کو “نورانی بشریت” کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔

🌟 صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مشاہدات

یہ موضوع صرف تخلیق کے آغاز تک محدود نہیں رہتا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حضور ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ گفتگو فرماتے تو مبارک دانتوں کے درمیان سے ,نور دکھائی دیتا تھا.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بھی حضور ﷺ کے چہرۂ انور کی روشنی کے حوالے سے روایت منقول ہے۔

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور ﷺ کی مسکراہٹ کے نورانی اثر کا بیان منقول ہے۔

یہ تمام شواہد مل کر ہمیں **نورِ مصطفیٰ ﷺ** کے تصور کو سمجھنے کا ایک وسیع روحانی تناظر فراہم کرتے ہیں۔

🇬🇧 ENGLISH

The Light of Muhammad ﷺ — The Primordial Light

In the previous parts, we explored the central teaching presented in *Sirr-ul-Asrar*:

> Allah Almighty created the Spirit of Muhammad ﷺ first, from the Light of His Divine Beauty.

Now we turn to one of the most important narrations associated with this teaching — the narration of Sayyiduna Jabir رضي الله عنه.

It is reported that Jabir رضي الله عنه asked the Prophet Muhammad ﷺ about the first creation.

The narration presents these words:

“O Jabir! Indeed, Allah created the Light of your Prophet before all things, from His Light.”

This narration is cited in later works including *al-Mawahib al-Ladunniyyah*, with reference to the lost portion of the first volume of Musannaf ‘Abd al-Razzaq, page 63, narration 18.

Why is this narration important to our study?

Because the question concerns the beginning of creation, while the answer places the Light of the Prophet ﷺ before the other created things.

This is precisely why the concept occupies such an important position in the spiritual teachings presented in *Sirr-ul-Asrar*.

The discussion then moves beyond physical form toward:

The Light of Muhammad ﷺ → The Spirit of Muhammad ﷺ → The Muhammadan Reality (الحقيقة المحمدية).

---

🌙 A Deeper Reflection

The purpose of this study is not merely to collect quotations.

It is to understand what *Sirr-ul-Asrar* is teaching about:

Creation → Light → Spirit → Prophetic Reality → The human journey back toward Allah.

And this gives us a beautiful connection to the next stages of our study.

❤️ ہماری اگلی منزل

اب اگلے Part میں ہم ایک اور نہایت اہم روایت کی طرف جائیں گے:

“میں آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے نبی تھا…”

اور پھر حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے منقول وہ روایت جس میں آدم علیہ السلام کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے نور کا ذکر آتا ہے۔ آپ کے فراہم کردہ مواد میں یہ روایت *مواهب لدنية* جلد اول، صفحہ 39 کے حوالے سے موجود ہے۔

یوں ہم نورِ محمدی ﷺ → روحِ محمد ﷺ → آدم علیہ السلام سے پہلے حضور ﷺ کی نبوی حقیقت کو مرحلہ وار سمجھیں گے۔

READ • RESEARCH • REFLECT • UNDERSTAND

پڑھیں • تحقیق کریں • غور کریں • سمجھیں

مکمل پوسٹ پڑھیں اور ہمارے ساتھ اس علمی و روحانی سفر میں شامل ہوں۔ 🌹

PROJECT SIRR-UL-ASRAR
*The Secrets of Secrets*

.                      خلق کی ابتدا — PART 4               🔐 PROJECT SIRR-UL-ASRAR                    روایت نمبر 1 — تحق...
09/09/2026

. خلق کی ابتدا — PART 4
🔐 PROJECT SIRR-UL-ASRAR

روایت نمبر 1 — تحقیق کا آغاز

The Beginning of the Investigation

---

🌙 ایک مشہور عبارت — ایک اہم سوال

اردو 🇵🇰

یہ عبارت:

> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ نُورِي
> “سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرا نور پیدا فرمایا۔”

ایک مشہور حدیث کے طور پر بیان کی جاتی ہے اور عام طور پر اسے “حدیثِ جابر” کہا جاتا ہے۔

لیکن Project Sirr-ul-Asrar میں ہمارا مقصد صرف یہ دیکھنا نہیں کہ کوئی روایت کتنی مشہور ہے۔

ہم یہ جاننا چاہتے ہیں:

یہ عبارت اصل میں کہاں سے آئی؟
اس کا اصل ماخذ کیا ہے؟
اس کی سند کیا ہے؟
محدثین نے اسے کیا حکم دیا؟
اور یہ روایت حقیقتاً کیا ثابت کرتی ہے؟

English 🇬🇧

The statement:

> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ نُورِي
>“The first thing Allah created was my light.”

is widely circulated as a hadith and is commonly referred to as “Hadith of Jabir.”

But in Project Sirr-ul-Asrar, our purpose is not simply to repeat what is famous.

We want to investigate:

Where does this wording actually come from?
What is its original source?
What is its chain of transmission?
How did hadith scholars evaluate it?
And what does the narration actually establish?

---

📜 حدیث کی استنادی حیثیت

The Hadith’s Authenticity Status

اردو 🇵🇰

علمائے حدیث اور محققین کے ہاں:

> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ نُورِي

کی استنادی حیثیت پر اہم بحث موجود ہے۔

متعدد محدثین اور محققین نے اس مخصوص عبارت کو معتبر حدیثی سند سے ثابت نہیں مانا، جبکہ بعض اہلِ علم نے اسے “لا أصل له” یعنی بے اصل، اور بعض نے موضوع قرار دیا ہے۔

لہٰذا اس تحقیق کے مرحلے پر ہم اس عبارت کو صحیح حدیث قرار نہیں دیں گے جب تک اس کا معتبر اصل ماخذ اور سند ثابت نہ ہو جائے۔

English 🇬🇧

Hadith scholars and researchers have extensively discussed the authenticity of:

> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ نُورِي

A number of scholars have not accepted this specific wording as an established Prophetic hadith with a reliable chain. Some have described it as “لا أصل له” (having no established basis)**, while others have classified it as fabricated (موضوع).

Therefore, at this stage of our investigation, we will not declare it an authentic hadith unless its original source and chain can be established.

---

⚖️ مفہوم اور حدیث — دونوں کو الگ سمجھنا ہوگا

Meaning and Hadith Authenticity Must Be Distinguished

اردو 🇵🇰

یہاں ایک نہایت اہم علمی فرق ہے۔

کسی عبارت کا روحانی یا عرفانی مفہوم قابلِ بحث ہو سکتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ عبارت رسول اللہ ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ حدیث بھی ثابت ہو۔

بعض صوفیاء اور علماء نے نورِ محمدی ﷺ، روحِ محمدی ﷺ اور حقیقتِ محمدیہ کے حوالے سے گہری روحانی تشریحات پیش کی ہیں۔

ہم ان تشریحات کا بھی مطالعہ کریں گے۔

لیکن:

> روحانی مفہوم ≠ حدیث کی صحت

English 🇬🇧

This distinction is extremely important.

A particular statement may have a spiritual or mystical interpretation, but that does not automatically mean that the exact wording is an authentic Prophetic hadith.

Some Sufi scholars and Islamic thinkers have presented profound spiritual explanations concerning the Light of Muhammad ﷺ, the Spirit of Muhammad ﷺ, and the concept of al-Haqiqah al-Muhammadiyyah (the Muhammadan Reality).

We will study these interpretations as well.

But:

> Spiritual meaning ≠ Hadith authenticity

---

📖 صحیح احادیث میں “قلم” کا ذکر

The Pen in Authentic Hadith

اردو 🇵🇰

دوسری طرف صحیح و معتبر حدیثی روایات میں تخلیق کے آغاز کے حوالے سے قلم کا ذکر بھی ملتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے:

> إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمُ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ

یعنی:

> “بے شک اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا، پھر اس سے فرمایا: لکھ۔”

یہ روایت جامع ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہے اور محدثین نے اس کے طرق پر بحث کی ہے۔

English 🇬🇧

On the other hand, authentic hadith literature contains narrations concerning the Pen and the beginning of creation.

The Prophet ﷺ is reported to have said:

> إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمُ، فَقَالَ لَهُ: اكْتُبْ

Meaning:

> “Indeed, the first thing Allah created was the Pen, and He said to it: Write.”

This narration is found in Jami‘ al-Tirmidhi and other hadith collections, and its various chains have been discussed by hadith scholars.

---

💧 عرش اور پانی

The Throne and the Water

اردو 🇵🇰

صحیح بخاری کی روایت میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ...

یعنی:

> “اللہ تعالیٰ تھا اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی، اور اس کا عرش پانی پر تھا...”

یہ روایت تخلیق کے ابتدائی مراحل کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نص ہے۔

English 🇬🇧

In Sahih al-Bukhari, a narration from ‘Imran ibn Husayn رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said:

> كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ...

Meaning:

> “Allah existed and there was nothing before Him, and His Throne was upon the water...”

This narration is important when examining the early stages of creation.

---

🌙 سِرّ الاسرار کا منفرد روحانی بیان

The Unique Spiritual Presentation of Sirr-ul-Asrar

اردو 🇵🇰

اب ہم واپس آتے ہیں سِرّ الاسرار کی طرف۔

کتاب میں:

> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ رُوحِي
> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ نُورِي
> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ الْقَلَمَ
> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ الْعَقْلَ

جیسے بیانات کو ایک خاص روحانی اور عرفانی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔

کتاب کے بیان میں روح، نور، عقل اور قلم کو تخلیق کے اولین حقائق کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے، اور انہیں حقیقتِ محمدیہ کے مختلف اوصاف/تعبیروں کے تناظر میں سمجھایا جاتا ہے۔

یہ *سِرّ الاسرار* کے فلسفۂ تخلیق کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

English 🇬🇧

Now we return to Sirr-ul-Asrar.

The book presents expressions such as:

> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ رُوحِي
> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ نُورِي
> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ الْقَلَمَ
> أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ الْعَقْلَ

within a particular spiritual and mystical framework.

In the book's presentation, Spirit, Light, Intellect and Pen are connected with the primordial realities of creation and understood in relation to the concept of al-Haqiqah al-Muhammadiyyah — the Muhammadan Reality.

Understanding this framework is essential to understanding the philosophy of creation presented in Sirr-ul-Asrar.

---

🔎 اب اصل تحقیق شروع ہوتی ہے

Now the Real Investigation Begins

اردو 🇵🇰

ہم ہر روایت کو الگ الگ investigate کریں گے:

① اصل الفاظ

روایت کے exact words کیا ہیں؟

② اصل ماخذ

یہ روایت کس کتاب میں سب سے پہلے ملتی ہے؟

③ سند

اس کی chain of transmission کیا ہے؟

④ راوی

سند میں موجود راویوں کے بارے میں محدثین کا کیا موقف ہے؟

⑤ حکمِ حدیث

محدثین نے اسے صحیح، حسن، ضعیف، منکر یا موضوع کیا قرار دیا؟

⑥ مفہوم

اگر روایت ثابت ہو تو وہ حقیقتاً کیا ثابت کرتی ہے؟

⑦ سِرّ الاسرار

اور آخر میں:

سِرّ الاسرار اس روایت سے کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے؟

English 🇬🇧

We will investigate every narration individually:

① Exact wording

What are the original words?

② Original source

Where is the narration actually found?

③ Chain of transmission

What is its isnad?

④ Narrators

What did hadith scholars say about the narrators?

⑤ Hadith grading

Was it classified as Sahih, Hasan, Da‘if, Munkar or Mawdu‘?

⑥ What does it prove?

If established, what does the narration actually prove?

⑦ Sirr-ul-Asrar

Finally:

What conclusion does *Sirr-ul-Asrar* derive from it?

---

🧭 ہمارا اصول

Our Principle

اردو 🇵🇰

ہم نہ اندھی تقلید کریں گے، نہ جلد بازی میں انکار۔

ہم پڑھیں گے، تحقیق کریں گے، دلائل دیکھیں گے، محدثین کی آراء سمجھیں گے، اور پھر نتیجہ اخذ کریں گے۔

کیونکہ ہمارا مقصد کسی موقف کو زبردستی ثابت کرنا نہیں، بلکہ حق کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔

English 🇬🇧

We will neither accept blindly nor reject hastily.

We will read, investigate, examine the evidence, study the opinions of hadith scholars, and then reach a conclusion.

Our purpose is not to force a particular position, but to seek a sincere understanding of the truth.

---

🔐 PART 4 — ابتدائی نتیجہ

Part 4 — Preliminary Conclusion

اردو 🇵🇰

اب تک کی تحقیق کی روشنی میں:

“أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ نُورِي”
ایک مشہور عبارت ہے، لیکن اسے صحیح حدیث قرار دینے سے پہلے اس کے اصل ماخذ اور سند کی مکمل تحقیق ضروری ہے۔

اسی طرح:

“أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ رُوحِي”

کے بارے میں بھی ہم حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک اس کے اصل ماخذ اور سند کو مکمل طور پر trace نہ کر لیں۔

اور یہی اس Project کی خوبصورتی ہے:

> ہم نتیجہ پہلے نہیں بنائیں گے؛
> ہم تحقیق کے بعد نتیجہ اخذ کریں گے۔

English 🇬🇧

Based on our investigation so far:

“أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ نُورِي”
is a famous statement, but before calling it an authentic hadith, its original source and chain must be thoroughly investigated.

Likewise, regarding:

“أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ رُوحِي”

we will not issue a final judgment until its original source and chain have been properly traced.

And this is what makes this Project meaningful:

> We will not decide the conclusion first;
> we will reach the conclusion through investigation.

---
🔜 NEXT — PART 5

روایت نمبر 2 — **أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰهُ رُوحِي

Narration No. 2 — “The First Thing Allah Created Was My Spirit”

اگلے حصے میں ہم اس روایت کو اصل ماخذ سے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے اور دیکھیں گے:

یہ الفاظ کہاں ملتے ہیں؟
کس نے روایت کیے؟
اس کی سند کیا ہے؟
محدثین نے کیا حکم لگایا؟
اور کیا یہ روایت واقعی “اولین تخلیق” ثابت کرتی ہے؟

In Part 5, we will trace this narration to its sources and investigate:

Where is this wording found?
Who transmitted it?
What is its chain?
How did hadith scholars grade it?
And does it actually establish the “first creation”?

---

🌙 پڑھیں، تحقیق کریں، غور کریں، سمجھیں

READ • RESEARCH • REFLECT • UNDERSTAND

مکمل پوسٹ پڑھیں اور ہمارے ساتھ اس علمی و روحانی سفر میں شامل ہوں۔

Read the full post and join us as we explore the deeper dimensions of this fascinating subject.

#تحقیق #سرالاسرار

06/09/2026

۔۔ 🌙 خلق کی ابتدا — PART 3
🔐 PROJECT SIRR-UL-ASRAR

اس بیان کے دلائل
*Examining the Evidences Presented in Sirr-ul-Asrar*

🇵🇰 اردو

🔎 روحِ محمد ﷺ کی تخلیق، کتاب کیا دلیل پیش کرتی ہے؟

پچھلے دو حصوں میں ہم نے *سِرُّ الاسرار* میں بیان کیے گئے اس تصور کو سمجھا:

> اللہ تبارک نے اپنے نورِ جمال سے سب سے پہلے روحِ محمد ﷺ کو پیدا فرمایا۔

لیکن ایک سنجیدہ طالبِ علم کے لیے صرف دعویٰ جان لینا کافی نہیں۔

اصل سوال یہ ہے: اس کے دلائل کیا ہیں؟

*سِرُّ الاسرار* میں اس موضوع کو مختلف روایات، آیاتِ قرآنی اور حوالہ جات کے ذریعے بیان اور تقویت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کے متعلقہ مباحث میں متعدد روایات کے حوالے درج کیے گئے ہیں۔

ان دلائل میں ایک اہم تصور یہ ہے کہ روحِ محمد ﷺ کو تخلیق کے آغاز سے متعلق ایک خصوصی مقام حاصل ہے۔

کتاب میں اسی مفہوم کے تحت یہ عبارت پیش کی جاتی ہے:

> لما خلق الله تعالى روح محمد ﷺ أولا من نور جماله

یعنی:

> “جب اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے روحِ محمد ﷺ کو اپنے نورِ جمال سے پیدا فرمایا…”

یہی وہ بنیادی بیان ہے جس کے گرد اس پورے موضوع کی روحانی تشریح آگے بڑھتی ہے۔

📖 لیکن یہاں رک کر ایک اہم سوال کرنا ضروری ہے

کسی روایت یا قول کا کسی کتاب میں موجود ہونا اس کے صحیح ہونے کا خودکار ثبوت نہیں۔

اسی لیے ہمارے Project میں ہم ہر دلیل کو الگ الگ دیکھیں گے:

1️⃣ روایت کیا کہتی ہے؟
2️⃣ اس کا اصل ماخذ کیا ہے؟
3️⃣ اس کی سند کیا ہے؟
4️⃣ محدثین نے اس کے بارے میں کیا حکم دیا؟
5️⃣ *سِرُّ الاسرار* اس روایت سے کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے؟

یہ فرق بہت اہم ہے۔

⚖️ عقیدت بھی، تحقیق بھی

رسول اللہ ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا عظیم حصہ ہے۔

لیکن محبت کے ساتھ علم اور تحقیق بھی ضروری ہے۔

اس لیے ہم نہ کسی بات کو صرف اس لیے قبول کریں گے کہ وہ مشہور ہے، اور نہ صرف اس لیے رد کریں گے کہ وہ ہماری سمجھ سے مختلف ہے۔

ہم دلیل کو دیکھیں گے۔

🌙 ایک اور اہم پہلو

“نورِ محمد ﷺ” کے بیان کو سمجھتے وقت اللہ تعالیٰ کے نور اور مخلوق کے نور کے درمیان فرق بھی واضح رکھنا ضروری ہے۔

ایک ماخذ جو *سِرُّ الاسرار* کے اسی بیان کو نقل کرتا ہے، اس میں بھی یہ وضاحت ملتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نور کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا حصہ یا عینِ ذات سمجھنا درست نہیں؛ نورِ نبوی ﷺ کو مخلوق کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

یہ distinction ہمارے Project کے لیے بہت اہم ہے۔

🔐 لہٰذا ہمارا اگلا مرحلہ ہوگا:

کیا یہ روایات واقعی ثابت ہیں؟

اور اگر ہیں، تو:

وہ کس معنی میں اس دعوے کی دلیل بنتی ہیں؟

یہی ہوگا ہمارے اگلے حصے کا موضوع۔
🌙 جاری ہے…

Part 4

📚 روایات کی تحقیق

*Examining the Authenticity of the Narrations*

---

🇬🇧 ENGLISH

🔎 The Creation of the Spirit of Muhammad ﷺ — What Evidence Does the Book Present?

In the first two parts, we introduced the teaching presented in *Sirr-ul-Asrar*:

> “Allah, the Blessed and Exalted, first created the Spirit of Muhammad ﷺ from the Light of His Beauty.”

But for anyone approaching a subject seriously, knowing the statement is not enough.

The real question is: What evidence is presented for it?

In its discussion of creation, *Sirr-ul-Asrar* brings together narrations, Qur'anic references and other citations in support of its spiritual presentation. The relevant section contains multiple referenced reports.

One important formulation associated with the book is:

> “When Allah, Most High, first created the Spirit of Muhammad ﷺ from the Light of His Beauty…”

This statement forms an important foundation for the spiritual explanation that follows.

📖 But we must pause here and ask an important question

The fact that a narration or statement appears in a book **does not automatically establish its authenticity.

Therefore, throughout **Project Sirr-ul-Asrar**, we will examine each piece of evidence separately:

1️⃣ What does the narration actually say?
2️⃣ What is its original source?
3️⃣ What is its chain of transmission?
4️⃣ What have hadith scholars said about it?
5️⃣ What conclusion does *Sirr-ul-Asrar* derive from it?

That distinction is essential.

⚖️ Reverence AND investigation

Our love for the Messenger of Allah ﷺ is precious.

But sincere love should also lead us toward knowledge, accuracy and careful examination.

Therefore, we will neither accept something merely because it is famous, nor reject it simply because it is unfamiliar.

We will examine the evidence.

🌙 One more important distinction

When discussing the *“Muhammadan Light”*, we must also distinguish between the Light of Allah and the light of a created being.

A source reproducing the *Sirr-ul-Asrar* discussion specifically emphasizes that the Prophet's ﷺ نور should not be understood as a part of Allah's Essence or as Allah's Essence itself; it is to be understood as created.

This distinction is extremely important for our project.

🔐 So where do we go from here?

Are these narrations actually authentic?

And if a narration is authentic:

In what sense does it establish the claim being made?

That will be the subject of our next stage.

🌙 To be continued…

Part 4

📚 Investigating the Narrations

Examining Their Authenticity*

---

🔐 PROJECT SIRR-UL-ASRAR

Read • Reflect • Question • Understand

ایک کتاب — ایک سفر — دلیل کی تلاش

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam Is The Truth posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islam Is The Truth:

Shortcuts

Share