تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان

تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے عملی میدان میں سرگرم خوش نصیب افراد کے لئے ایک پلیٹ فارم۔۔۔

07/10/2026
18/09/2026

حکمرانوں کے ناک کے نیچے اسلام آباد میں بیٹھ کر کچھ خواتین نے ناموس رسالتؐ کے قانون کو نعوذ باللّٰہ "کالا قانون" کہا۔۔۔

کیا یہ دہشتگردی نہیں ہے؟؟؟کیا یہ مسلمانوں کے اعتقادات پر حملہ نہیں ہے؟؟؟کیا یہ مسلمانوں کے اعتقادات کے خلاف جارحیت نہیں ہے؟؟؟

کیا ان جملوں میں تمہیں کوئی دہشتگردی نظر نہیں آتی؟؟؟لیکن جب ردعمل آتا ہے تو اس ردعمل کو تم دہشتگردی کہتے ہو۔۔۔

14/09/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 14 ستمبر 2026۔
***
***
***
*قانون توہین رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی۔پولیس کا اندراج مقدمہ کے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی لینے کا فیصلہ*

*ایس پی کمپلینٹس اسلام آباد نے رپورٹ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جمع کروا دی۔سرکاری وکیل کا مذکورہ رپورٹ سے اختلاف*

*اندراج مقدمہ کے لئے دی گئی درخواست سے واضح ہے کہ نیشنل پریس کلب میں کی گئی متنازع پریس کانفرنس قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے*

*قانونی طور پر ایس ایچ او اندراج مقدمہ کرنے کا پابند ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے نہیں لی جاسکتی۔سرکاری وکیل کی جانب سے اندراج مقدمہ کی حمایت*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)نیشنل پریس کلب میں متنازع پریس کانفرنس کے دوران قانون توہین رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کے معاملے پر اندراج مقدمہ کے حوالے سے رہنمائی کے لئے پولیس نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اس متعلق ایس پی کمپلینٹس اسلام آباد نے رپورٹ سیشن کورٹ اسلام آباد میں جمع کروا دی۔سرکاری وکیل نے پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ سے اختلاف کرتے ہوئے نیشنل پریس کلب میں متنازع پریس کانفرنس کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دیتے ہوئے مذکورہ پریس کانفرنس کرنے والوں کے خلاف اندراج مقدمہ کی حمایت کر دی۔فاضل عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق نیشنل پریس کلب میں متنازع پریس کانفرنس کے دوران توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی اور گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق بے بنیاد پراپیگنڈہ کرکے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے،عدلیہ اور مذکورہ ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے مدعیان کے کردار کو مشکوک بناکر ان کے خلاف عوام میں نفرت پیداء کرنے اور مذکورہ اقدامات کے ذریعے ملک میں انتشار و بدامنی پیداء کرنے کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم دینے کے لئے جنرل سیکریٹری تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان حافظ احتشام احمد کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت فاضل ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد عرفان اکرم نے کی۔پٹیشنر کی جانب سے راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ فاضل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالتی طلبی پر سرکاری وکیل سارہ عمران بھی فاضل عدالت کی معاونت کے لئے پیش ہوئیں۔ایس پی کمپلینٹس اسلام آباد نے مذکورہ معاملے کے متعلق تاحال اندراج مقدمہ نہ کرنے کے حوالے رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ"پٹیشنر کی جانب سے اندراج مقدمہ کی درخواست بذریعہ ڈاک ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو موصول ہوئی.درخواست میں اٹھایا گیا معاملہ انتہائی حساس مذہبی نوعیت کا ہے.معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جارہا ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کی روشنی میں پٹیشنر کی درخواست پر کاروائی کی جائے گی"۔پٹیشنر کے وکیل نے پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ"پولیس نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا کہ معاملہ انتہائی حساس مذہبی نوعیت کا ہے۔معاملے کی انتہائی حساسیت سے آگاہ ہونے کے باوجود پولیس لیت و لعل سے کام لے رہی ہے.معاملے کی حساسیت اس بات کی متقاضی ہے کہ فوری طور پر قانونی کاروائی کی جائے.متنازع پریس کانفرنس میں شرانگیز گفتگو کی وجہ سے ملک بھر میں شدید اشتعال ہے.ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے متنازع پریس کانفرنس کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے.مذہبی جماعتوں اور شخصیات کی جانب سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے.پاکستان کے تمام مکاتب فکر و شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے مذکورہ شرانگیز پریس کانفرنس کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا.پولیس معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیج کر لٹکانا چاہتی ہے.ماضی میں بھی ایک اعلیٰ منصب پر فائز شخص نے اسی نوعیت کے جرم کا ارتکاب کیا تھا.اس شخص کے خلاف بھی قانونی کاروائی کی کوشش کی گئی تھی.اس شخص کے خلاف بھی قانونی کاروائی کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا تھا.نتیجتاً اس شخص کو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے قتل کر دیا گیا.اس واقعہ کی وجہ سے ملک کو کتنا نقصان ہوا،یہ سب کے سامنے ہے.پولیس اب بھی قانونی کاروائی میں تاخیر کرکے کیا یہ چاہتی ہے کہ پھر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونماء ہو۔ہم کسی بھی شخص کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لینے کے مخالف ہیں۔اسی لئے ہم نے قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔پولیس کو اپنی قانونی ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کرکے لاقانونیت کی راہ نہیں ہموار کرنی چاہئیے۔اگر پولیس ایسا کررہی ہے تو فاضل عدالت کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہئیے۔اسلامی نظریاتی کونسل کا یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ فوجداری معاملے کے متعلق کوئی رائے دے۔اس متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ نہ تو پولیس اور تفتیشی ادارے کسی فوجداری مقدمہ کے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لے سکتے ہیں اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل فوجداری مقدمہ کے متعلق رائے دے سکتی ہے۔پولیس کی جانب سے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کرنا آئین اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے خلاف عمل ہے"۔پٹیشنر کے وکیل نے مزید مواد اختیار کیا کہ"مذکورہ متنازع پریس کانفرنس سوچے سمجھے سازشی منصوبے کے تحت کی گئی۔مذکورہ پریس کانفرنس کا مقصد قانون کا سامنا کرنے والے مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین کے مرتکب ملزمان کو تحفظ فراہم کرنا،مذکورہ ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کے عمل کا حصہ عدالتوں،اداروں اور شخصیات کے کردار کو متنازع بنانا،ان کے خلاف عوام میں نفرت پیداء کرنا اور پاکستان میں انتشار و بدامنی پیداء کرنا تھا۔مذکورہ پریس کانفرنس کرنے والے گزشتہ تقریباً دو سالوں سے ایک مذموم ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ان کی سہولت کاری بیرونی عناصر کررہے ہیں"۔پٹیشنر کے وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ"پٹیشنر کی جانب سے مذکورہ متنازع پریس کانفرنس کرنے والوں کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست سے واضح ہے کہ قابل دست اندازی پولیس جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ موجود ہے کہ قابل دست اندازی پولیس جرم ہونے کی صورت میں بلاتاخیر اندراج مقدمہ ضروری ہے۔سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کی روشنی میں اندراج مقدمہ میں تاخیر کے ذمہ دار ایس ایچ او کے خلاف بھی قانونی کاروائی ضروری ہے۔فاضل عدالت ہماری پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو فوری طور پر اندراج مقدمہ کا حکم صادر فرمائے"۔اس موقع پر فاضل عدالت نے سرکار کا موقف جاننے اور معاونت کے لئے سرکاری وکیل اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سارہ عمران کو طلب کیا۔جس پر مذکورہ سرکاری وکیل نے فاضل عدالت کے روبرو پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ"پٹیشنر کی جانب سے ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو دی گئی درخواست کے متن سے واضح ہے کہ مذکورہ پریس کانفرنس کرنے والوں نے قابل دست اندازی پولیس جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔قانونی طور پر ایس ایچ او تھانہ کوہسار مذکورہ درخواست پر اندراج مقدمہ کرنے کے پابند ہیں۔ایس پی کمپلینٹس اسلام آباد کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ سے اتفاق نہیں کرتی۔مذکورہ معاملے کے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کرنا درست نہیں ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کا دائرہ اختیار آئین میں واضح ہے۔پولیس اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب نہیں کر سکتی اور نہ ہی اسلامی نظریاتی کونسل مذکورہ معاملے کے متعلق آئینی طور پر رائے دینے کی مجاز ہے۔فاضل عدالت پولیس کو پٹیشنر کی درخواست کی روشنی میں اندراج مقدمہ کا حکم صادر کر سکتی ہے"۔فاضل عدالت نے پٹیشنر کے وکیل اور سرکاری وکیل کے دلائل سننے کے بعد مذکورہ پٹیشن پر فیصلہ محفوظ کر لیا

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

06/09/2026

*دفعہ 295C کو کالا قانون کہنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی نہ کرنا انتہاء پسندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے*۔۔۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نیشنل پریس کلب میں بیٹھ کر دفعہ 295C کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری طور پر قانون کو حرکت میں لائیں۔۔۔

ہم لاقانونیت اور انتہاء پسندی کے قائل نہیں ہیں،،،ہم قانون کی عملداری کے قائل ہیں،،،اسی لئے قانون کو ہی ایسے سیاہ عناصر کے خلاف حرکت میں لانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔۔۔

05/09/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 04 ستمبر 2026۔
***
***
***
*داخلی و عدالتی معاملات میں مداخلت۔یورپی یونین کے سفیر کے خلاف قانونی و سفارتی کاروائی کے لئے وفاقی وزارتِ خارجہ کو درخواست*

*سفیر نے چند روز قبل یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں بلاسفیمی کے مقدمات،ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل،قادیانیوں کے نام نہاد حقوق وغیرہ کے متعلق اظہار خیال کیا تھا*

*یورپی یونین کے سفیر کا انٹرویو ملکی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی،پاکستان کی آزادی،خودمختاری اور پاکستان کے عدالتی نظام کی آزادی کے متعلق سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے*

*پاکستان کے داخلی و عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے پر یورپی یونین کے سفیر رائمنڈاس کاروبلس کے خلاف قانونی و سفارتی کاروائی کی جائے۔تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان کی جانب سے وفاقی وزارتِ خارجہ کو درخواست*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)توہین مذہب و توہین رسالت کے مقدمات کے متعلق یورپی یونین کے سفیر رائمنڈاس کاروبلس کے بیان کو پاکستان کے داخلی و عدالتی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان نے وفاقی وزارت خارجہ کو ان کے خلاف قانونی و سفارتی کاروائی کرنے کے لئے درخواست دے دی۔تفصیلات کے مطابق 31 اگست 2026 کو پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر رائمنڈاس کاروبلس نے عاصمہ جہانگیر لیگل ایڈ سیل کے زیر انتظام چلنے والے یوٹیوب چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق بالخصوص اور ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل،قادیانیوں کے نام نہاد حقوق اور صحافتی آزادی پر نام نہاد قدغن کے متعلق اظہار خیال کیا تھا۔اس معاملے پر تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان نے گزشتہ روز وفاقی سیکریٹری خارجہ کو دی گئی درخواست میں یورپی یونین کے سفیر کے مذکورہ انٹرویو کو پاکستان کے داخلی و عدالتی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی و سفارتی کاروائی کرنے کی استدعا کی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ"یورپی یونین کے سفیر کا مذکورہ انٹرویو نہ صرف یہ کہ ملکی و بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے پاکستان کی آزادی،خودمختاری اور پاکستان کے عدالتی نظام کی آزادی کے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔یورپی یونین کے سفیر نے مذکورہ انٹرویو میں اپنے بیان کے ذریعے نہ صرف یہ کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے حق میں بے بنیاد،من گھڑت اور حقائق کے برعکس پراپیگنڈہ کو تقویت دینے کی کوشش کی بلکہ مذکورہ ملزمان کے خلاف پاکستان کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ویانا کنونشن کے آرٹیکل 41 کے تحت غیر ملکی سفیر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ جس ملک میں تعینات ہوں،اس ملک کے قوانین کی پاسداری کریں اور اس ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کریں"۔درخواست میں مزید یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ"گزشتہ سال سپریم کورٹ میں ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج مقدمات کے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران ناروے کے سفیر کی سپریم کورٹ آمد کو وفاقی وزارت خارجہ نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ناروے کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے ڈیمارش جاری کیا تھا۔ناروے کے سفیر صرف عدالتی کاروائی کو دیکھنے کے لئے سپریم کورٹ آئے تھے۔اس موقع پر انہوں نے مذکورہ کیس کے متعلق کوئی بیان نہیں دیا تھا۔مگر پھر بھی ان کے خلاف وفاقی وزارت خارجہ کا اقدام یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت پاکستان ملکی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے عمل میں غیر ملکی سفیروں کی مداخلت کو ویانا کنونشن کے خلاف سمجھتی ہے۔یورپی یونین کے سفیر نے تو کھل کر پاکستان کی عدالتوں میں زیر سماعت مذکورہ مقدمات کے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔لہذا ان کے خلاف قانونی و سفارتی کاروائی ناگزیر ہے"۔مذکورہ درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ یورپی یونین کے سفیر کی جانب سے مذکورہ انٹرویو میں پاکستان کے داخلے و عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے پر قانونی و سفارتی کاروائی کی جائے اور اس متعلق کی جانے والی کاروائی سے درخواست گزار کو قانون اور سفارتی تقاضوں کے حد میں رہتے ہوئے آگاہ بھی کیا جائے۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

04/09/2026

"اگر تمہیں ناموس رسالت ﷺ برداشت نہیں تو ہم گستاخ رسالت ﷺ کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟؟؟

اگر تم ناموس رسالت ﷺ کی توہین میں انتہاء پسندی کا مظاہرہ کرو گے تو ہمیں بھی یہ حق ہے کہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے ہم تم سے بڑھ کر انتہاء پسندی کا مظاہرہ کریں گے"۔۔۔

*قانون توہین رسالت!ہرزہ سرائیاں اور سازشیں*کالم نگار:علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی۔روزنامہ اوصاف، مورخہ 02 ستمبر 2026۔لنک:...
02/09/2026

*قانون توہین رسالت!ہرزہ سرائیاں اور سازشیں*

کالم نگار:
علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی۔

روزنامہ اوصاف،
مورخہ 02 ستمبر 2026۔

لنک: https://share.google/RGtoQnTbArzdrtkwi
***
***
***
جمیعت علمائے اسلام اسلام آباد کے امیر مفتی اویس عزیز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ"رسول معظم حضور خاتم النبیین ﷺ کے گستاخوں کے سہولت کاروں کی جانب سے اسلام آباد میں دفعہ 295 سی کے خاتمے کا ناپاک مطالبہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ان قوانین کو کالا کہنا آئین سے انحراف اور غداری ہے۔ریاست بیرونی این جی اوز کی ان پروردہ خواتین کو لگام دے۔وطن عزیز میں بسنے والے عاشقان رسول اکرم ﷺ اپنی جان قربان کر دیں گے مگر ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کیلئے بنے قوانین کا دفاع ہر قیمت پر کریں گے"۔اس نوعیت کا ردعمل دیگر مذہبی جماعتوں و شخصیات کی جانب سے بھی آرہا ہے۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتؐ کی اپیل پر جمعہ کو ملک بھر کی مساجد میں مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔جس میں توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر قانون کو حرکت میں لانے کا مطالبہ کیا گیا۔مزید یہ کہ ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے بھی شدید ردعمل کا اظہار سامنے آرہا ہے۔
ملک کے طول و عرض میں قانون توہین رسالت کے معاملے پر پائی جانے والی شدید تشویش،اشتعال،اضطراب،غم و غصہ کی وجہ یہ ہے کہ مورخہ 22 اگست 2026 بروز ہفتہ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی۔مذکورہ پریس کانفرنس سے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں و شعائر اسلام بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کی راولپنڈی و اسلام آباد کی عدالتوں میں وکالت کرنے والے وکیل عثمان وڑائچ،فرحت اللّٰہ بابر،یونس عالم عرف فرنود عالم،طاہرہ عبداللّٰہ اور فرزانہ باری نے خطاب کیا۔مذکورہ پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد تو سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے حق میں اسی پراپیگنڈہ کو دوہرانا تھا کہ جو بے بنیاد،من گھڑت اور حقائق کے برعکس پراپیگنڈہ گزشتہ تقریباً دو سال سے ایسے عناصر کی جانب سے کیا جارہا ہے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ ان عناصر کی جانب سے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری قانونی کاروائی کے عمل کو متنازع بنانے کے لئے تقریباً دو سال قبل جب پراپیگنڈہ کا آغاز کیا گیا تھا،اس کے بعد خاکسار نے اپنے متعدد کالموں میں یہ بات لکھی تھی کہ"بلاسفیمی بزنس گینگ کے عنوان سے جو بے بنیاد و من گھڑت پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے،اس کے پس پردہ اصل مقصد توہین رسالت کے قانون کو متنازع بناکر اسے ختم کرنا یا کم سے کم اس میں ترمیم کروانا ہے"۔
مورخہ 22 اگست کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں بلاسفیمی پروٹیکشن گروپ کے موم بتی مافیا عناصر کا اصل مقصد ایسے دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا کہ"میرا جسم میری مرضی"جیسے بیہودہ نظریہ اور کئی لغویات کو پروان چڑھانے والی فرزانہ باری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توہین شعائر اسلام و توہین مقدسات کے متعلق قانون بالخصوص توہین رسالت کے متعلق قانون کو"کالا قانون"قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔یہی وہ وجہ ہے کہ ملک بھر کے مسلمانوں میں اس وقت اضطراب اور غم و غصہ کی ایک لہر موجود ہے۔ماضی میں سابق گورنر سلمان تاثیر نے بھی توہین رسالت کے قانون کے متعلق اسی نوعیت کے الفاظ کہے تھے۔پھر اس کے بعد ملک میں جو کچھ ہوا،وہ پاکستانی قوم کے ذہنوں میں آج بھی نقش ہے۔خوش آئند بات ہے کہ اس دفعہ توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف قانون کے دروازے پر دستک دی جارہی ہے۔اس حوالے سے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار سمیت نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے اسلام آباد و لاہور سرکلز میں مختلف درخواست گزاروں کی جانب سے درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔جس میں توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے اور اس کی سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں و شعائر اسلام بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے حق میں تقریباً دو سال قبل جب"بلاسفیمی بزنس گینگ"کے عنوان سے پراپیگنڈہ شروع کیا گیا تھا تو اس خاکسار نے اپنے کالموں میں یہ بات لکھی تھی کہ"افراد بہانہ ہیں۔قانون توہین رسالت نشانہ ہے"۔عالمی صلیبی،صیہونی طاقتوں بالخصوص قادیانیوں کے ایجنٹوں نے گزشتہ تقریباً دو سال تک بے بنیاد،من گھڑت اور حقائق کے برعکس پراپیگنڈہ کے پیچھے چھپ کر قانون توہین رسالت کو نشانہ بنانے کی گھناؤنی کوششیں کیں۔اس مقصد کے لئے انہوں نے آئینی و قانونی منصبوں/عہدوں پر براجمان اپنے ہم خیال و ہم نظریات عناصر کو بھی اپنے گھناؤنے مقصد میں کامیابی کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی۔قوم نے یہ منظر بھی دیکھا تھا کہ ایک شخص کہ جس نے آئین و قانون کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا تھا،اس شخص نے بھی چھ ماہ تک کیمروں کے سامنے ایک تماشہ لگائے رکھا۔اس تماشے کے دوران اس شخص نے بھی قانون توہین رسالت کو دبے لفظوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔مگر جب ان تمام کوششوں کے باوجود وہ اپنے گھناؤنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہ ہوسکے تو بالآخر حواس باختہ ہوکر انہوں نے اب سرعام قانون توہین رسالت کو"کالا قانون"کہہ کر اسے ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔اچھا ہوا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی۔اب ان کے مقصد میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔اب ان کا مقصد کھل کر عوام کے سامنے آچکا ہے۔اب ایک طرف عالمی صلیبی،صیہونی طاقتوں بالخصوص قادیانیوں کے یہ ایجنٹ ہیں۔دوسری طرف پاکستان کے کروڑوں عاشقان مصطفٰی ﷺ ہیں۔اسلام دشمن قوتوں کے ایجنٹ بند کمروں میں بیٹھ کر صرف قانون توہین رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کر سکتے ہیں مگر دوسری طرف جو حضور ﷺ کے غلام موجود ہیں،ان کی تاریخ ہے کہ وہ اپنا خون دیکر بھی حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے بنے قانون کا تحفظ کرنے کو بھی اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔اس لئے کہ توہین رسالت کے خلاف قانون انسانوں کا بنایا ہوا قانون نہیں ہے بلکہ یہ عظیم الشان قانون"قانون شرعی"ہے۔
قانون توہین رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں نے اس عالی مرتبت قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کی بنیاد یہ بنا رکھی ہے کہ"اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے"۔ان شیطان صفت عناصر کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ"توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ٹریپ کرکے توہین رسالت کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان سے مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے"۔خاکسار نے پہلے بھی یہ چیلنج کیا تھا اور آج بھی خاکسار کا یہ چیلنج ہے کہ عالمی صلیبی و صیہونی طاقتوں کے ٹکروں پر پلنے والے توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے عناصر جب سے توہین رسالت کا یہ قانون بنا،تب سے لیکر آج تک کوئی ایک ایسا عدالتی فیصلہ سامنے لے آئیں کہ جس میں عدالت نے توہین رسالت کے کسی ایک مقدمے کو بھی جھوٹا،بے بنیاد،من گھڑت قرار دیکر توہین رسالت کے کسی ملزم کو "باعزت بری" کیا ہو۔کوئی ایک ایسا عدالتی فیصلہ نہیں ملے گا،تو پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے؟اگر آج تک توہین رسالت کے مقدمے میں کسی ملزم کو سزاء نہیں ہوئی یا کوئی ملزم توہین رسالت کے کسی مقدمے سے بری ہوا تو وہ اس لئے نہیں کہ اس کے خلاف مقدمہ جھوٹا تھا۔بلکہ اس لئے کہ ہمارا ملک کا نظام بالخصوص"نظام انصاف"آج بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔اس لئے ان مقدمات میں اسلام دشمن قوتوں کے دباؤ کی وجہ سے ان ملزمان کو ریلیف دینے کے لئے راستے نکالے جاتے ہیں۔کیونکہ یہ قانون ہے کہ فوجداری مقدمات بالخصوص ان مقدمات میں کہ جن میں سزاء"سزائے موت"ہو تو شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ان مقدمات میں نام نہاد شک پیداء کرکے ہی ہمیشہ ملزمان کو ریلیف فراہم کیا گیا۔"شک کے فائدے"کی بنیاد پر ریلیف کا یہ مطلب نہیں کہ ملزم بے گناہ تھا یا اس کے خلاف مقدمہ جھوٹا تھا۔
دوسری طرف قتل،دہشتگردی،منشیات،عصمت دری جیسے جرائم کے خلاف قوانین کا غلط استعمال ثابت ہے۔ان جرائم کے متعلق درج کئی مقدمات میں نچلی عدالتوں سے لیکر اعلیٰ عدلیہ تک یہ فیصلے آتے رہے ہیں کہ ان قوانین کا استعمال ذاتی رنجش کے لئے یا ذاتی فوائد کے حصول کے لئے کیا گیا۔مگر ان قوانین کو تو آج تک"کالے قوانین"نہیں کہا گیا۔ان قوانین کو تو ختم کرنے کے مطالبے سامنے نہیں آتے۔آخر توہین رسالت کا قانون ہی کیوں ہمیشہ نشانے پر ہوتا ہے؟اس سوال کا جواب میری باشعور قوم اچھی طرح جانتی ہے۔
آخر میں میری ارباب اختیار سے دست بستہ گزارش ہے کہ اب جبکہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق بے بنیاد و من گھڑت پراپیگنڈہ کے پیچھے اصل مقصد قانون توہین رسالت کو نشانہ بناکر وطن عزیز پاکستان کے کروڑوں مسلمان شہریوں کے جذبات کو مجروح کرکے ملک میں انتشار و اشتعال پیداء کرنا ہے،تو ان عناصر کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے میں مزید کوئی تاخیر نہ کی جائے۔اب قانون کو پوری قوت کے ساتھ ان شریر و شرپسند عناصر کے خلاف حرکت میں آنا چاہئیے۔اگر قانون بروقت حرکت میں نہ آئے تو پھر لاقانونیت جنم لیتی ہے۔ہمارا ملک لاقانونیت کا متحمل نہیں۔

23/08/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 23 اگست 2026۔
***
***
***
*توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے۔تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان*

*گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے حق میں مہم جوئی کرنے والوں کا اصل ایجنڈا واضح ہو گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے قانون کو ختم کروانا چاہتے ہیں*

*توہین رسالت کے قانون کے خلاف کوئی سازش نہ تو پہلے کبھی کامیاب ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہوگی۔یہ قانون اسی طرح رہے گا اور توہین رسالت کے مرتکب مجرمان اپنے انجام کو پہنچتے رہیں گے*

*مذکورہ ملزمان کے حق میں پراپیگنڈہ کرنے والے اپنے الزامات کی تائید میں کوئی ایک ثبوت بھی لے آئیں تو ہم تمام مقدمات کے متعلق انکوائری کمیشن کے قیام کے مطالبے کی حمایت کر دیں گے۔تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کا چیلنج*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان نے کہا ہے کہ مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے حق میں مہم جوئی کرنے والوں کا اصل ایجنڈا دنیا کے سامنے واضح ہوگیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے متعلق قانون کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔تاہم ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ان کا یہ مذموم ایجنڈا کسی طور پر بھی کامیاب نہیں ہوگا۔توہین رسالت کا قانون بھی ہمیشہ اسی طرح رہے گا اور توہین رسالت کے مرتکب مجرمان بھی اسی قانون کے تحت اپنے عبرتناک منطقی انجام کو پہنچتے رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان نے گزشتہ روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے حمایتیوں اور سہولت کاروں کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ پریس کانفرنس کو توہین رسالت کے قانون کے خلاف مذموم ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔تحریک کے مرکزی صدر علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی اور جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ"مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے حق میں گزشتہ تقریباً دو سالوں سے بے بنیاد،من گھڑت اور حقائق کے برعکس مہم چلانے والوں کا اصل ایجنڈا گزشتہ روز دنیا کے سامنے واضح ہوگیا ہے کہ وہ مذکورہ مہم کی آڑ میں دراصل توہین رسالت کے قانون کو متنازع بناکر اسے ختم کروانا چاہتے ہیں۔جس کا اظہار مذکورہ ملزمان کے حمایتیوں اور سہولت کاروں کی جانب سے گزشتہ روز کی جانے والی پریس کانفرنس میں کھل کر کیا گیا۔مذکورہ پریس کانفرنس میں نہ صرف یہ کہ توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے مذکورہ قانون کو کالا قانون قرار دیکر مسلمانان پاکستان کے مذہبی جذبات کو شدید مجروح کرکے ملک میں انتشار پیداء کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ مذکورہ پریس کانفرنس کے شرکاء نے کھل کر توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے یا کم سے کم اس میں ترمیم کرکے اسے غیر مؤثر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔یہ ملک ہمارا ہے۔اس ملک کی امن و سلامتی ہمیں عزیز ہے۔اس لئے جہاں ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ ہم اس ملک میں انتشار پیداء کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے،وہاں ہم یہ بھی دو ٹوک اعلان کررہے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی اور مہم جوئی کرنے والوں کا بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور محاسبہ کیا جائے گا"۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ"توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے یا اس میں ترمیم کرکے اسے غیر مؤثر کرنے کی سازش نئی نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی یہ سازشیں ہوتی رہی ہیں۔مگر مسلمانان پاکستان نے نہ تو پہلے اس متعلق کسی سازش کو کامیاب ہونے دیا اور نہ ہی آئندہ کبھی یہ مذموم ایجنڈا پایہ تکمیل کو پہنچ سکے گا۔یہ قانون ہمیشہ اسی طرح رہے گا اور اس قانون کے تحت توہین رسالت کے مرتکب مجرمان اپنے عبرتناک منطقی انجام کو بھی پہنچتے رہیں گے"۔تحریک کے رہنماؤں نے اپنے بیان میں مزید یہ بھی کہا ہے کہ"گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے حمایتی و سہولت کار گزشتہ دو سالوں سے مذکورہ مقدمات کے متعلق جو بے بنیاد،من گھڑت اور حقائق کے برعکس پراپیگنڈہ کررہے ہیں،اس متعلق آج تک وہ کوئی ایک ثبوت بھی پیش نہیں کرسکے۔ہم چیلنج کرتے ہیں کہ مذکورہ بدترین جرائم میں ملوث اب تک حراست میں لئے جانے والے ساڑھے چار سو ملزمان میں سے کسی ایک ملزم کے خلاف درج مقدمے کے متعلق بھی وہ کسی بھی متعلقہ فورم پر کوئی ایک ایسا ثبوت پیش کر دیں کہ جس سے ان کے ان الزامات کی تائید و تصدیق ہوتی ہو کہ جو الزامات وہ گزشتہ تقریباً دو سالوں سے عائد کرتے چلے آرہے ہیں تو پھر ہم آئین و قانون میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود بھی ان کے مطالبے کے مطابق تمام ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق انکوائری کمیشن کے قیام کے مطالبے کی حمایت کر دیں گے۔مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔اس لئے کہ ان کی جانب سے جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی کی گئی اس عمارت کا اصل مقصد توہین رسالت کے قانون کو متنازع بنانا،مذکورہ سنگین ترین جرائم میں ملوث ملزمان کو تحفظ فراہم کرنا اور ملک میں انتشار پیداء کرنا ہے۔لہذا ان کے اس مقصد کو تو کسی قیمت پر پورا نہیں ہونے دیا جائے گا"۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

حکومت پنجاب کا اہم و قابل تحسین اقدام۔۔۔
29/07/2026

حکومت پنجاب کا اہم و قابل تحسین اقدام۔۔۔

Address

House No. 96, Street No. 40, Sector I-8/2
Islamabad
44790

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share