تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان

تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے عملی میدان میں سرگرم خوش نصیب افراد کے لئے ایک پلیٹ فارم۔۔۔

حکومت پنجاب کا اہم و قابل تحسین اقدام۔۔۔
29/07/2026

حکومت پنجاب کا اہم و قابل تحسین اقدام۔۔۔

26/07/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 26 جولائی 2026۔
***
***
***
*گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کی درخواست ضمانت کو مسلسل خلاف آئین و قانون اور غیر منصفانہ فیصلوں کے ذریعے منظور کئے جانے پر شدید اظہار تشویش*

*جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان عدالتی نظام انصاف کی ساکھ کو مجروح اور ملک میں انتشار و اشتعال کی فضاء پیداء کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ*

*چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے کردار پر بھی سوال۔قوم پوچھ رہی ہے کہ آخر کیوں جسٹس سردار اعجاز اسحاق جیسے متنازع جج کے روبرو مذکورہ ملزمان کی درخواست ضمانت کو سماعت کے لئے مقرر کیا جا رہا ہے؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی جانب سے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کی درخواست ضمانت کو مسلسل غیر آئینی و غیر قانونی فیصلوں کے ذریعے منظور کئے جانے پر شدید اظہار تشویش کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے کردار پر بھی سوال اٹھا دیا۔تفصیلات کے مطابق تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی جانب سے گزشتہ تقریباً دو ہفتوں کے دوران دس ایسے ملزمان کی درخواست ضمانت کو منظور کرنے پر شدید اظہار تشویش کیا ہے کہ جو ملزمان مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث تھے اور جن کے خلاف ریکارڈ پر ناقابلِ تردید شواہد بھی موجود ہیں۔اس حوالے سے تحریک کے مرکزی صدر علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی اور جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ"اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان خلاف آئین،خلاف قانون اور غیر منصفانہ فیصلوں کے ذریعے مذکورہ بدترین جرائم میں ملوث ملزمان کی درخواست ضمانت کو مسلسل منظور کرکے عدالتی نظام انصاف کی ساکھ کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں انتشار و اشتعال کی فضاء پیداء کرنے کی گھناؤنی کوشش کررہے ہیں۔پوری قوم نے دیکھ رکھا ہے کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان مذکورہ بدترین جرائم میں ملوث ملزمان کے لئے نہ صرف یہ کہ ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ انہوں نے مذکورہ بدترین جرائم میں ملوث ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی کھلم کھلا کوشش کرکے اپنے منصب کا ناجائز استعمال کیا ہے۔جس پر ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی زیر سماعت ہے"۔بیان میں فاضل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ"قوم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے یہ سوال کررہی ہے کہ آخر کیوں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان جیسے متنازع جج کے روبرو مذکورہ ملزمان کی درخواست ضمانت کو سماعت کے لئے مقرر کیا جا رہا ہے،جبکہ مذکورہ ملزمان کے خلاف مقدمات کے مدعیان نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو دی گئی تحریری درخواست میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر اظہارِ عدم اعتماد کرتے ہوئے یہ استدعا کی تھی کہ ان کی عدالت میں مذکورہ ملزمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق کسی بھی قسم کی کوئی درخواست سماعت کے لئے مقرر نہ کی جائے"۔بیان میں فاضل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ"جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت سے فوری طور پر مذکورہ بدترین جرائم میں ملوث دیگر زیر حراست ملزمان کی درخواست ضمانت کو واپس لیکر کسی اور فاضل جج کے روبرو سماعت کے لئے مقرر کیا جائے"۔بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ"جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی جانب سے مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام بالخصوص حضور ﷺ کی بدترین توہین کے مرتکب ملزمان کی درخواست ضمانت کو ماورائے آئین و قانون اور غیر منصفانہ فیصلوں کے ذریعے منظور کئے جانے کے خلاف تمام آئینی و قانونی آپشنز کو استعمال کیا جائے گا"۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

05/07/2026

صدر تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی صاحب کی صدر اہلسنت والجماعت علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب سے ملاقات۔۔۔

03/07/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 03 جولائی 2026۔
***
***
***
*مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین کے مرتکب ملزمان کے خلاف مقدمات کے فیصلے جلد از جلد قانون کے مطابق ہونے چاہئیے۔سربراہ جے یو آئی*

*سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن سے صدر تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ علامہ نوید مسعود ہاشمی کی ملاقات۔تحفظ ناموس رسالتؐ کے متعلق امور پر تبادلہ خیال*

*گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف ملک بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات اے ڈی لیگل این سی سی آئی اے کے عہدے خالی ہونے کی وجہ سے التواء کا شکار ہیں۔صدر تحریک علامہ نوید مسعود ہاشمی کی گفتگو*

*مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس اور شعائر اسلام کے تقدس و عظمت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے ان تمام رکاوٹوں کو دور کریں کہ جن کی وجہ سے گستاخوں کے خلاف قانونی کاروائی کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کراچی)سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین پر مبنی مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمات کے فیصلے جلد از جلد قانون کے مطابق ہونے چاہئیے۔مذکورہ ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کے عمل میں کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہئیے۔تفصیلات کے مطابق جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے صدر تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی نے گزشتہ روز کراچی میں ملاقات کی۔اس دوران تحفظ ناموس رسالتؐ بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری قانونی کاروائی کے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔تحریک کے صدر نے سربراہ جے یو آئی کو بتایا کہ"سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف ملک بھر کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات اس لئے التواء کا شکار ہیں کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لیگل کو کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے پر فارغ کئے جانے کے بعد نئی تعیناتیاں تاحال نہیں کی گئیں۔ان مقدمات میں سرکاری پراسیکیوٹر این سی سی آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل ہی ہوتے ہیں۔ان کی عدم موجودگی میں کسی بھی ملزم کے ٹرائل کو جاری نہیں رکھا جا سکتا"۔اس پر سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ"مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کے عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔اس امر کو یقینی بنانے کے لئے کہ مذکورہ سنگین ترین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمات کے فیصلے جلد از جلد ہوں،وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ایسی تمام رکاوٹوں کو دور کرنا چاہئیے کہ جن کی وجہ سے مذکورہ ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کے عمل میں کسی بھی قسم کی کوئی تاخیر پیداء ہو رہی ہے۔مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس اور شعائر اسلام کے تقدس و عظمت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا"۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

*کراچی:*مورخہ 01 جولائی 2026.*********سربراہ جے یو آئی حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ سے صدر تحریک تحفظ...
01/07/2026

*کراچی:*
مورخہ 01 جولائی 2026.
***
***
***
سربراہ جے یو آئی حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ سے صدر تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی صاحب حفظہ اللّٰہ تعالیٰ کی ملاقات۔۔۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

29/06/2026
*پریس ریلیز*مورخہ 28 جون 2026۔**********جیو نیوز نے حضور ﷺ کے خاکے نشر کرکے مسلمانوں کے دلوں پر وار کیا ہے۔تحریک تحفظ نا...
28/06/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 28 جون 2026۔
***
***
***
*جیو نیوز نے حضور ﷺ کے خاکے نشر کرکے مسلمانوں کے دلوں پر وار کیا ہے۔تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان*

*تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ نے جیو نیوز کے مذکورہ سنگین ترین عمل کے خلاف پیمرا کے اقدام پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیئے*

*پیمرا کی جانب سے جیو نیوز کی نشریات کو صرف 15 دنوں کے لئے معطل کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے جیو نیوز کے لائسنس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں*

*مذکورہ سنگین ترین جرم کے خلاف فوری طور پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کرکے اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے،جو تمام اصل ذمہ داروں کا تعین کرے۔تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان نے جیو نیوز کی جانب سے نعوذ باللّٰہ حضور ﷺ کے خاکے نشر کئے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جرم ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول ہے۔جیو نیوز نے مذکورہ عمل کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں پر وار کیا ہے پیمرا کی جانب سے جیو نیوز کی نشریات کو صرف 15 دنوں کے لئے معطل کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر جیو نیوز کے لائسنس کو منسوخ اور ذمہ داروں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ بھی درج کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق دس محرم الحرام کو جیو نیوز کے پروگرام سفر عشق میں نعوذ باللّٰہ حضور ﷺ کے خاکے نشر کئے جانے کے خلاف لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے مرکزی صدر تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ پاکستان علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تحریک کے رہنماؤں سمیت قانونی ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس میں جیو نیوز کی مذکورہ قبیح جسارت کے خلاف پیمرا کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامہ پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد تحریک کے صدر علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی اور جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ"جیو نیوز نے دس محرم الحرام کو نشر کئے گئے پروگرام سفر عشق میں حضور ﷺ کے خاکے نشر کرکے مسلمانوں کے دلوں پر وار کیا ہے۔جیو نیوز کا مذکورہ عمل انتہائی تکلیف دہ اور بے غیرتی پر مبنی ہے۔جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔اس سے قبل بھی کئی مواقعوں پر جیو نیوز نہ صرف یہ کہ اسلام،نظریہ پاکستان،ریاستی اداروں پر حملہ آور ہوتا رہا ہے بلکہ وہ مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین کے مرتکب مجرمان کی بھی کھلم کھلا سہولت کاری اور وکالت کرتا رہا ہے۔اگر ان جرائم پر جیو نیوز کا قانون کے مطابق محاسبہ کیا جاتا تو وہ اب حضور ﷺ کے خاکے نشر کرکے سرخ لکیر کو عبور کرنے کی جسارت نہ کرتا"۔بیان میں جیو نیوز کے خلاف پیمرا کی کاروائی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ"جیو نیوز کا مذکورہ جرم سنگین ترین جرم ہے۔اس جرم کی پاداش میں جیو نیوز کی نشریات پر صرف پندرہ دن کے لئے پابندی عائد کرنے کے پیمرا کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔اس حوالے سے پیمرا کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پیمرا نے جیو نیوز کی نشریات کو صرف پندرہ دن کے لئے معطل کرکے جیو نیوز کے خلاف مذکورہ سنگین ترین جرم پر پائے جانے والے عوامی غم و غصہ کی لہر کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔پیمرا نے اپنے مذکورہ حکم نامہ میں جیو نیوز کے خلاف مزید کاروائی کے لئے معاملہ کونسل آف کمپلینٹس کو بھیجا ہے جبکہ 17 فروری 2026 کو کونسل آف کمپلینٹس اپنی قانونی مدت ختم ہونے کی وجہ سے تحلیل ہو گئی تھی۔جس کے بعد سے اب تک نئی کونسل آف کمپلینٹس تشکیل ہی نہیں دی گئی۔جب کونسل آف کمپلینٹس کا اس وقت تک کوئی وجود ہی نہیں ہے تو پھر اسے معاملہ بھیجنا پیمرا کے کردار کو مشکوک بنا رہا ہے۔مزید یہ کہ پیمرا نے اپنے مذکورہ حکم نامہ میں جیو نیوز کو ہی یہ ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی داخلی انکوائری کمیٹی بناکر مذکورہ معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کرے۔جس نے جرم کیا ہے،اسے ہی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری دینا نہ صرف یہ کہ پیمرا کے کردار کو مزید مشکوک بنا رہا ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ سنگین ترین جرم کے اصل ذمہ داروں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے"۔بیان میں تحریک کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ"مذکورہ حساس ترین معاملے کو گمراہ کن اقدامات کے ذریعے دبانے کی کوشش کرنے کے بجائے جیو نیوز کے لائسنس کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔جس قدر سنگین جرم کا ارتکاب جیو نیوز کی جانب سے کیا گیا ہے،اس کے بعد جیو نیوز کے لائسنس کی منسوخی سے کم پیمرا کا کوئی بھی اقدام قابلِ قبول نہیں۔مزید یہ کہ مذکورہ سنگین ترین جرم کے خلاف فوری طور پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کرکے اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔تاکہ مذکورہ سنگین ترین جرم کے تمام اصل ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی کی جاسکے"۔بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ"ناموس رسالتؐ کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور ناموس رسالتؐ پر حملہ آور ہونے والے کسی بھی شخص یا گروہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔انہیں قانون کے تحت منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی"۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

19/06/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 19 جون 2026۔
***
***
***
*توہین رسالت کے مرتکب سزاء یافتہ مجرمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا*

*مجرمان قیصر ایوب اور امون ایوب کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے مذکورہ اپیلوں کی سماعت سے معذرت کر لی*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث سزاء یافتہ مجرمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے لئے تشکیل دیا گیا سپریم کورٹ کا تین رکنی نیا بینچ ٹوٹ گیا۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام بالخصوص حضور ﷺ کی بدترین توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث دو سزاء یافتہ مجرمان قیصر ایوب اور امون ایوب کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت آج(جمعہ کو) فاضل جسٹس صلاح الدین پنہور کی سربراہی میں جسٹس شکیل احمد اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے آغاز پر ہی مذکورہ بینچ کے سربراہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے مذکورہ اپیلوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل ہونے سے معذرت کرتے ہوئے مذکورہ اپیلوں کی سماعت ملتوی کر دی۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

16/06/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 16 جون 2026۔
***
***
***
*سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے 35 سال قبل کے فیصلے کی روشنی میں توہین رسالت کے قانون کے متعلق اہم سوال اٹھا دیا*

*1990 میں وفاقی شرعی عدالت نے دفعہ 295C میں عمر قید کی سزاء کو خلاف شریعت قرار دیکر اسے قانون سازی کے ذریعے حذف کرنے کا حکم دیا تھا*

*آئینی طور پر عدالتیں اور ایگزیکٹو وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہیں۔پھر قانون سازی کیوں نہیں کی گئی۔توہین رسالت کے مرتکب مجرمان کی اپیلوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس*

*ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد اپیل کی سماعت کے مرحلے پر ذہنی مریض ہونے کے متعلق میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر سزاء یافتہ شخص کو ریلیف دیا گیا تو ان جیسے دوسرے لوگوں کو بھی توہین رسالت کا جرم کرنے کا لائسنس مل جائے گا*

*توہین رسالت کے مقدمات میں ملزمان کے خلاف پیش ہونے والے وکیل کو گینگ کہا جاتا ہے تو جو وکیل ہمیشہ ایسے ملزمان کے حق میں پیش ہوتے ہیں،وہ کیا ہیں؟سپریم کورٹ نے گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمات کی پیروی کرنے والوں کو گینگ کہنے پر بھی سوال اٹھا دیا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ توہین رسالت کے مقدمات میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد اپیلوں کی سماعت کے مرحلے پر مجرمان کے ذہنی مریض ہونے کے متعلق جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر اگر مجرمان کو ریلیف دیا گیا تو اس سے ان جیسے دوسرے لوگوں کو بھی توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کرنے کا لائسنس مل جائے گا۔توہین رسالت کے مرتکب سزاء یافتہ چار مجرمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی سے توہین رسالت کے مرتکب مجرم کو صرف سزائے موت دینے اور عمر قید کی سزاء کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کی جانب سے مذکورہ دفعہ سے عمر قید کی سزاء کو حذف کرنے کے متعلق کوئی قانون سازی نہ کرنے اور توہین رسالت کے ملزمان کے خلاف مقدمات کی پیروی کرنے والوں کو گینگ کہنے پر بھی اہم سوالات اٹھا دیئے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین رسالت کے مرتکب سزاء یافتہ مجرمان عمر دراز،ذاکر،قیصر ایوب اور امون ایوب کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت فاضل جسٹس ملک شہزاد احمد خان،جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی فاضل بینچ نے کی۔مذکورہ مجرمان کی جانب سے عبدالحمید خان رانا ایڈووکیٹ جبکہ مدعیان مقدمہ کی جانب سے غلام مصطفیٰ چوہدری ایڈووکیٹ فاضل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔دوران سماعت مذکورہ مجرمان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ میڈیکل بورڈ نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی ہے کہ عمر دراز اور ذاکر کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔اس پر فاضل بینچ کے رکن جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے کہ"ہم نے مقدمے کا ریکارڈ دیکھا ہے۔مذکورہ دو مجرمان کا ٹرائل کے دوران بھی میڈیکل کروایا گیا تھا۔ٹرائل کورٹ میں میڈیکل بورڈ کی جانب سے جو رپورٹ جمع کرائی گئی تھی،اس کے مطابق مذکورہ مجرمان ذہنی طور پر بالکل فٹ تھے۔میڈیکل بورڈ کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اب مجرمان کی ذہنی حالت کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ جرم کرتے ہوئے مجرمان کی ذہنی حالت کیا تھی۔اگر وقوعہ کے وقت کوئی شخص ذہنی مریض ہو تو اسے رعایت دی جا سکتی ہے لیکن اگر کوئی ذہنی طور پر فٹ شخص توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اسے ضرور وہ سزاء ملنی چاہئیے،جو قانون میں ہے۔ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد اپیلوں کی سماعت کے مرحلے پر سزاء یافتہ شخص کو ذہنی مریض قرار دینے کے متعلق جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر اگر مجرمان کو ریلیف دیا گیا تو اس سے ان جیسے دوسرے لوگوں کو بھی توہین رسالت کے جرم کے ارتکاب کا لائسنس مل جائے گا۔یہ تو بڑا آسان ہو جائے گا کہ پہلے توہین رسالت کرو اور اگر سزاء ہو جائے تو پھر ذہنی مریض ہونے کے متعلق کوئی میڈیکل رپورٹ لاکر ریلیف حاصل کر لو"۔اس پر مذکورہ مجرمان کے وکیل نے کہا کہ"ٹرائل کورٹ میں میڈیکل بورڈ کی جانب سے جب رپورٹ جمع کرائی گئی تھی،اس وقت ڈاکٹرز نے یہ کہا تھا کہ ہمارے پاس کسی شخص کی مکمل ذہنی حالت کو جانچنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے"۔جس پر فاضل جسٹس عقیل احمد عباسی نے مذکورہ مجرمان کے وکیل سے استفسار کیا کہ"ہمیں دکھائیں کہ کہاں ڈاکٹرز نے وہ کہا،جو آپ بیان کررہے ہیں"۔اس پر مذکورہ مجرمان کے وکیل فائل کو پرکھنے لگ گئے۔جس پر فاضل جسٹس عقیل احمد عباسی نے مذکورہ مجرمان کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ"آپ کیوں عدالت میں غلط بیانی کرتے ہیں؟پہلے بھی آپ نے ایک عدالتی نظیر کا حوالہ دیکر اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔جب ہم نے وہ عدالتی نظیر دیکھی تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی،جیسا آپ نے بیان کیا۔اب پھر آپ نے غلط بات کی ہے اور اب ہمارے سامنے کھڑے ہوکر فائل کو ایسے دیکھ رہے ہیں کہ جیسے ہمارے سامنے کوئی ایسا نوجوان وکیل کھڑا ہے،جس نے نئی نئی وکالت شروع کی ہے۔یہ کیسا روئیہ ہے آپ کا؟"۔اس موقع پر فاضل بینچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے استفسار کیا کہ"کیا توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزاء بھی دی جاسکتی ہے؟"۔اس پر مدعی مقدمہ کے وکیل غلام مصطفیٰ چوہدری نے جواب دیا کہ"توہین رسالت کی سزاء کے متعلق جب تعزیرات پاکستان میں دفعہ 295 سی کا اضافہ کیا گیا تھا تو اس وقت اس قانون میں سزائے موت اور عمر قید دونوں سزائیں شامل تھیں۔مگر عمر قید کی سزاء کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا اور PLD 1991 FSC 10 میں وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا کہ توہین رسالت کے جرم کے مرتکب مجرم کو صرف سزائے موت دی جا سکتی ہے۔توہین رسالت کے مرتکب مجرم کو عمر قید کی سزاء دینا قرآن و سنت کے خلاف ہے۔لہذا وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ فیصلے کے بعد توہین رسالت کی سزاء صرف سزائے موت ہے"۔اس پر فاضل بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ"وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ فیصلے کے بعد کیا ایگزیکٹو نے پارلیمنٹ کے ذریعے کوئی قانون سازی کرکے دفعہ 295 سی سے عمر قید کی سزاء کو ختم کیا؟"۔جس پر مدعی مقدمہ کے وکیل نے جواب دیا کہ"وفاقی شرعی عدالت نے اپنے مذکورہ فیصلے میں وفاقی حکومت کو دفعہ 295 سی سے عمر قید کو ختم کرنے کے لئے ایک مقرر مدت دی تھی۔وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اگر وفاقی حکومت نے مقررہ مدت کے دوران قانون سازی کے ذریعے دفعہ 295 سی سے عمر قید کی سزاء کو حذف نہ کیا تو مقررہ مدت گزر جانے کے بعد عمر قید کی سزاء مذکورہ دفعہ سے حذف تصور ہو گی۔وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ فیصلے کے خلاف اپیل کو سپریم کورٹ کے ایپلٹ بینچ نے خارج کر دیا تھا اور حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے کوئی قانون سازی کرکے دفعہ 295 سی سے عمر قید کی سزاء کو حذف نہیں کیا۔اس لئے وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے قانون سازی کے ذریعے عمر قید کی سزاء کو حذف کرنے کے لئے دی گئی مدت گزر جانے کے بعد وفاقی شرعی عدالت کا مذکورہ فیصلہ حتمی ہوگیا ہے اور مذکورہ دفعہ سے عمر قید کی سزاء حذف تصور ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب مجرم کو عدالتوں کی جانب سے صرف سزائے موت ہی دی جاتی ہے"۔اس موقع پر فاضل بینچ کے رکن جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے کہ"آئینی طور پر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا سپریم کورٹ،ہائیکورٹس سمیت تمام عدالتوں اور ایگزیکٹو پر لازم ہے۔جب وفاقی شرعی عدالت نے یہ کہہ دیا تھا کہ ایگزیکٹو پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرکے دفعہ 295 سی سے عمر قید کی سزاء کو حذف کرے تو پھر کوئی قانون سازی کیوں نہیں کی گئی؟پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی قانون کی کتابوں میں دفعہ 295 سی میں سزائے موت اور عمر قید دونوں سزائیں لکھی ہوئی ہیں"۔اس مرحلے پر مذکورہ مجرمان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ"وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں جب تک پارلیمنٹ قانون سازی کے ذریعے دفعہ 295 سی سے عمر قید کی سزاء کو حذف نہیں کرتی،اس وقت تک دفعہ 295 سی کے تحت عمر قید کی سزاء بھی دی جاسکتی ہے"۔اس پر فاضل بینچ کے سربراہ نے مذکورہ مجرمان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ"ہم دو نکتوں پر اس کیس کی سماعت کو ملتوی کررہے ہیں۔پہلا نکتہ یہ کہ آپ عدالت کی معاونت کریں کہ اپیل کے مرحلے پر سزاء یافتہ شخص کی ذہنی حالت ٹھیک نہ ہونے کے متعلق جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر سزاء یافتہ شخص کو کیسے ریلیف دیا جاسکتا ہے؟دوسرا نکتہ یہ کہ عدالت میں کوئی ایسے عدالتی نظائر پیش کریں کہ وفاقی شرعی عدالت نے کسی قانون کو شریعت کے خلاف ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دیا ہو اور اس کے باوجود بھی ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے کالعدم قرار دیئے گئے قانون کے مطابق ہی کوئی فیصلہ صرف اس لئے کیا ہو کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ نے قانون سازی کرکے اس قانون کو کالعدم قرار نہیں دیا،جسے وفاقی شرعی عدالت نے کالعدم قرار دیا ہے"۔اس موقع پر مذکورہ مجرمان کے وکیل نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ سزاء یافتہ مجرمان قیصر ایوب اور امون ایوب کی اپیلوں کی سماعت نہ ملتوی کریں۔ان کی اپیلوں پر آج دلائل سن لیں۔ان کے مقدمے کے حقائق و واقعات پہلے دو مجرمان کے مقدمے سے مختلف ہیں۔اس پر فاضل بینچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیئے کہ"پہلی بات یہ کہ اگر ہم دوسرے دو مجرمان کی اپیلوں پر آج دلائل سنتے ہیں اور آخر میں جاکر آپ پھر یہی نکتہ اٹھا دیں کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے تو پھر آج سماعت کرنے کا کیا فائدہ؟اس لئے پہلے تو آپ اس نکتے کو کلیئر کریں کہ دفعہ 295 سی کے تحت اب بھی عمر قید کی سزاء دی جا سکتی ہے۔دوسری بات یہ کہ دوسرے دو مجرمان کے خلاف مقدمہ پہلے دو مجرمان کے خلاف مقدمے سے زیادہ خطرناک ہے۔اس مقدمے میں یہ شواہد موجود ہیں کہ ان دو مجرمان نے توہین رسالت کا ارتکاب اس لئے کیا،تاکہ وہ غیر ملکی شہریت لے سکیں۔ایک طرف انہوں نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تھا اور دوسری طرف انہوں نے باہر جانے کے لئے ٹکٹ وغیرہ بھی کنفرم کروائے ہوئے تھے۔آپ اپنے کلائنٹس کی بے گناہی کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ہم انہیں بری کر دیں گے۔اگر آپ اپنے کلائنٹس کو بے گناہ ثابت نہ کر سکے اور دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت کے متبادل کسی سزاء کی گنجائش نہیں تو پھر ہمارے پاس ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہوگا۔لہذا آپ اس نکتے پر تیاری کرکے آئیں،جو نکتہ ہم نے آپ کے سامنے اٹھایا ہے"۔بعدازاں مذکورہ مجرمان کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی گئی۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے مذکورہ بینچ نے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف مقدمات کی پیروی کرنے والوں کو گینگ کہنے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اہم ریمارکس دیئے۔فاضل بینچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے مذکورہ مجرمان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ"رانا صاحب!آپ ہمیشہ اس طرح کے کیس میں ملزمان کی طرف سے پیش ہوتے ہیں تو کیا آپ بھی کوئی گینگ ہیں؟جو وکیل اس طرح کے کیس میں ملزمان کے خلاف پیش ہوتے ہیں،انہیں گینگ کہا جاتا ہے.اگر ہمیشہ ملزمان کے خلاف پیش ہونے والے وکیل گینگ ہیں تو پھر آپ کیا ہیں؟"۔جس پر مذکورہ مجرمان کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ"میں تو ایک سادہ سا وکیل ہوں۔جنہیں گینگ کہا جاتا ہے،ان کے خلاف رپورٹ ہے"۔اس پر فاضل بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ"چھوڑیں رپورٹ کو۔جنہیں گینگ کہا جاتا ہے،وہ تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے اعزاز ہے"۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

09/06/2026

*پریس ریلیز*
مورخہ 09 جون 2026۔
***
***
***
*سپریم کورٹ نے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزم ثاقب شمس کی درخواست ضمانت خارج جبکہ ملزم اویس کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے*

*سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانے والے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گیارہ ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں کی سماعت 18 جون تک ملتوی*

*توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث دو مجرمان قیصر ایوب اور امون ایوب کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دی گئی*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد)سپریم کورٹ آف پاکستان نے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ایک ملزم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی۔جبکہ سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانے والے گیارہ ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت 18 جون تک ملتوی کرتے ہوئے مذکورہ گیارہ ملزمان میں سے ایک ملزم کی سپریم کورٹ کے روبرو عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیئے۔علاوہ ازیں توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث دو سزاء یافتہ مجرمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دی گئی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے فاضل جسٹس ملک شہزاد احمد،جسٹس عقیل عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں اور شعائر اسلام کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزم ثاقب شمس کی جانب سے دائر درخواست ضمانت بعد از گرفتاری کو خارج کر دیا۔دوران سماعت ملزم کے وکیل عمران حیدر نے فاضل عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ ملزم دو سال سے زائد عرصے سے جیل میں ہے مگر ملزم کا ٹرائل ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔لہذا وہ ضمانت پر رہائی کا مستحق ہے۔اس پر مذکورہ ملزم کے خلاف مقدمے کے مدعی کے وکیل عادل عزیز قاضی نے فاضل عدالت کی توجہ ٹرائل کورٹ کے آرڈر شیٹس کی طرف مبذول کرواتے ہوئے بتایا کہ ٹرائل میں تاخیر ملزم کی جانب سے ہے۔ملزم کے وکلاء گواہوں پر مختلف حیلے بہانوں سے جرح نہیں کررہے۔اس پر فاضل بینچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد احمد نے مذکورہ ملزم کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہونے دے رہے؟آپ گواہوں پر جرح کیوں نہیں کررہے؟ٹرائل میں تاخیر آپ کی طرف سے ہے۔آپ اپنی درخواست ضمانت واپس لیں گے یا ہم میرٹ پر فیصلہ کریں۔اس پر ملزم کے وکیل نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ آپ ٹرائل کورٹ کو مقدمے کا فیصلہ کرنے کے متعلق ہدایت جاری کرتے ہوئے میرے مؤکل کی درخواست ضمانت منظور کر لیں۔جس پر فاضل بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم ٹرائل کورٹ کو کوئی ہدایت جاری نہیں کریں گے۔اب تو فیصلہ بھی آچکا ہے کہ ہم ذیلی عدالتوں کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتے۔بعدازاں فاضل عدالت نے مذکورہ ملزم کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔دوسری طرف سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانے والے گیارہ ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے مذکورہ فاضل بینچ نے ملزمان کے وکلاء کی جانب سے التواء کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے 18 جون تک ملتوی کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ اب مزید کوئی التواء نہیں دیا جائے گا۔اس موقع پر سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانے والے گیارہ ملزمان میں سے دس ملزمان سپریم کورٹ کراچی رجسٹری سے وڈیو لنک کے ذریعے مذکورہ فاضل بینچ کے روبرو پیش ہوئے جبکہ ایک ملزم اویس کی عدم حاضری پر سپریم کورٹ نے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔دوسری طرف توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث دو سزاء یافتہ مجرمان قیصر ایوب اور امون ایوب کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت سپریم کورٹ کے مذکورہ فاضل بینچ نے بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دی۔سانحہ بلدیہ فیکٹری میں ملوث سزاء یافتہ مجرمان کی جانب سے دائر اپیلوں کی طویل سماعت کی وجہ سے عدالتی وقت ختم ہونے پر مذکورہ ملزمان کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت بغیر کسی کاروائی کے ملتوی کی گئی۔

منجانب:
تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان۔
برائے رابطہ:
0334-5908335

Address

House No. 96, Street No. 40, Sector I-8/2
Islamabad
44790

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share