شرعی مسائل ،احکام و فتاویٰ جات

Website

شرعی مسائل ،احکام و فتاویٰ جات صرف اور صرف شرعی مسائل

04/04/2025

عنوان:کثرت مال کی وجہ سے اندازہ سے زکات نکالنا
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید کی بہت بڑی دکان ہے جس میں بہت کپڑا موجود ہے جو تھان اور پیس کی صورت میں ہے کثرتِ مال کی وجہ سے کیا زید اندازہ سے اپنی زکات نکال سکتا ہے جبکہ تھان کو کھول کھول ناپنے کی صورت میں تھان خراب بھی ہوتا ہے اور مشقت بھی ہوتی ہے اسی طرح ہر ایک پیس کو گن کر زکات نکال نے میں بہت مشقت ہوتی ہے تو کیا اندازہ سے زکات نکال سکتا ہے؟
جواب:چاہیے تو یہی کہ تمام اموال کا واقعی حساب کرکے زکات ادا کی جائے ؛ لیکن اگر مال زیادہ ہونے نیزمتنوع ہونے کی وجہ سے حساب لگانا متعذر ہو تو قیمت کا اندازہ لگا کربھی زکات ادا کرنے کی گنجائش ہے ؛ بس اندازہ کچھ زیادہ لگایا جائے تاکہ زکات میں کمی نہ رہے؛ کیونکہ اگراندازہ واقعی مقدار سے کم لگایا گیا تو اتنے مال کی زکات ذمے میں باقی رہے گی۔

03/04/2025

شرعی مسائل و فتاویٰ جات کے لیے اس پیج کو لائیک کریں

03/04/2025

مردہ مرغی سے انڈہ نکلے تو اس کے کھانے کا حکم
سوال
مردہ مرغی سے انڈہ نکلے اور وہ صحیح سالم ہو تو اس کا کھانا درست ہے یا نہیں ؟

جواب
مردہ مرغی سے صحیح سالم انڈہ نکلےتواس کا کھانا درست ہے۔

مبسوط سرخسی ميں ہے:

"لو ‌ماتت ‌دجاجة، فوجد في بطنها بيضة، فلا بأس بأكل البيضة عندنا."

(كتاب الأشربة، ج :24، ص: 28، ط: دار المعرفة)

المحیط البرھانی میں ہے:

"إذا ‌ماتت ‌دجاجة وخرج منها بيضة؛ جاز أكلها عند أبي حنيفة رضي الله عنه اشتد قشرها أو لم يشتد."

(كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الثاني عشر في الكراهية في الأكل، 353/5، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

18/08/2024

*حَیلولہ ، قَیلولہ اور عَیلولہ کیا ہیں؟*

*یہ معلومات مدارس و یونیورسٹیز کے طلباء،بزنس مین اور افسران بالا کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہیں*

*1: حیلولہ کا معنی ہے:* نماز فجر کے بعد یا (نماز فجر کے وقت کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے) سوئے رہنا۔اس سونے کو عربی میں "حیلولہ" اس لیے کہتے ہیں کہ یہ آپ اور آپ کے رزق کے درمیان رکاوٹ بنتا ہے۔یہ وقت اللہ کی طرف سے رزق کی برسات اور تقسیم کا ہوتا ہے۔ترمذی شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے صبح کے اوقات میں برکت کی دعا ان الفاظ کے ساتھ فرمائی ہے: اللھم بارک لامتی فی بکورھاحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت محو استراحت تھیں،سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:یَا بُنِیَّةَ! قُوۡمِیۡ،اِشۡهَدِیۡ رِزۡقَ رَبِّكِ وَلاَتَكُوۡنِیۡ مِنَ الۡغَافِلِیۡنَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ یُقَسِّمُ أَرۡزَاقَ النَّاسِ مَا بَیۡنَ طُلُوۡعِ الۡفَجۡرِ اِلیٰ طُلُوِۡعِ الشَّمۡسِ
دخترعزیزم! اٹھ جائیے،اپنے رب کا رزق حاصل کیجیے!غافل لوگوں میں سے نہ بنیے! اللہ کریم طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک بندوں کا رزق تقسیم فرماتے ہیں۔

*2: قیلولہ* نماز ظہر کے بعد یا اسے پہلے آدھے گھنٹے (یا کم و بیش) کے لیے آرام کرنا کہلاتا ہے۔یہ عبادت بھی ہے،خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت بھی ہے اور صحت بھی ہے۔امام بیہقی رحمہ اللہ شعب الایمان میں روایت لائے ہیں کہ دن کو سونے کے ذریعے رات کو عبادت کی طاقت حاصل کیجیے! شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم نور اللہ مرقدہ فرماتے تھے کہ" عام دنوں میں نماز ظہر سے پہلے کھانا اور قیلولہ ہونا چاہیے۔جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد کھانا اور آرام ہونا چاہیے۔فرماتے تھے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ قول امام بخاری نے نقل کیاہے: مَا كُنَّا نَقِیۡلُ وَ نَتَغَدّٰی اِلاَّ بَعۡدَ الۡجُمُعَةِ نماز جمعہ کے ہم بعد سوتے تھے اور کھانا کھاتے تھے۔شیخ مکرم رحمہ اللہ کا ہمیشہ یہی معمول مجھے دیکھنے کو ملا ہے۔کبھی مہمانوں کی آمد یا کوئی اور سبب بن گیا تو الگ بات ہے۔

*3: عیلولہ* کا مفہوم "عصر کی نماز کے بعد آرام کے لیے لیٹنا" کا ہے یہ جسم و سانس کی بیماری اور سینہ کی تنگی کا سبب بنتا ہے۔اس وقت سیر و تفریح اور ہلکے پھلکے کام کیے جائیں ذکر و فکر اور دعا بھی کرنی چاہیے۔شیخ مکرم اس کی اہمیت پہ زور دیتے ہوئے فرماتے تھے کہ حدیث کے مطابق " یہ دونوں قسم کے فرشتوں کے اجتماع کا وقت ہوتا ہے۔رات والے فرشتے آتے اور دن والے روانہ ہوجاتے ہیں۔ (بخاری و مسلم) ان فرشتوں نے اللہ میاں کو رپورٹ دینی ہوتی ہے کہ ہم تیرے بندوں کو آپ کی عبادت میں مشغول چھوڑ کے آئے ہیں۔ہمیں اپنا نظام الاوقات ترتیب دینا چاہیے!جس میں کھانے پینے،سونے جاگنے،ملنے ملانے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے سمیت تمام معاملات ایک نظم اور ترتیب کے ساتھ کرنے چاہیں۔بے وقت سوئیے نہیں! رات کی نیند پوریں کریں۔موبائل کو اپنا سب کچھ نہ سمجھیں۔یہ ایک ضرورت ہے،اسے ضرورت کی حد تک رکھیں۔رات عشاء کی نماز سے پہلے نہ سوئیے اور رات عشاء کے بعد زیادہ تک فضول گوئی میں نیند کا وقت ضائع نہیں کیجیے!
عربی کا مقولہ ہے: طاب نومکم طاب یومک۔تمہاری نیند اچھی،تمہارا دن اچھا۔

12/08/2024

عورت کے لئے شریعت میں دوران عدت کے اندر کیا کیا پابندیاں ھیں...اور کیا کیا اجازت ھے ....براہ کرم جلد جواب دیدیں.....
جواب نمبر: 58558
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 351-316/Sn=6/1436-U عدت دو طرح کی ہوتی ہے، عدت وفات، عدت طلاق،طلاق رجعی کی عدت میں عورت پر کوئی پابندی نہیں، البتہ طلاق بائنہ یا مغلظہ اور وفات کی عدت میں عورت پر ضروری ہے کہ درج ذیل امور سے اجتناب کرے، بناوٴ سنگھار نہ کرے، چوڑیاں یادیگر زیورات نہ پہنے، خوشبو نہ لگائے، پان کھاکر منھ لال نہ کرے، مہندی نہ لگائے، ریشمی، رنگے ہوئے اور پھول دار اچھے کپڑے نہ پہنے، بلاضرورت محض زینت کے لیے سر میں تیل نہ ڈالے، سرمہ نہ لگائے، چھوٹے دندانوں کی کنگھی نہ کرے، اسی طرح عدت میں عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز نہیں، ہاں اگر کوئی شرعی ضرورت درپیش ہو مثلاً سخت بیمار ہو تو ڈاکٹر یا طبیب کو دکھانے کے لیے جاسکتی ہے، اس حکم میں عدتِ وفات اور عدتِ طلاق دونوں مساوی ہیں، وفاتِ زوج کی عدت گذارنے والی عورت کو اگر وہ غریب ہو اور اس کے پاس گذر بسر کے لیے کوئی انتظام نہ ہو تو کسب معاش کی غرض سے دن میں نکلنے کی گنجائش ہے، لیکن رات بہرحال گھر میں آکر گذارے، مطلقہ کو کسب معاش کے لیے بھی نکلنے اجازت نہیں ہے، کیونکہ مطلقہ کے دورانِ عدت کا خرچہ شوہر کے ذمہ ہوتا ہے۔ علی المبتوتة والمتوفی عنہا زوجہا إذا کانت بالغة مسلمة الحدادُ في عدتہا، والحداد: الاجتناب عن الطیب، والدّہن والکحل، والحناء والخضاب․․․ إلخ (الفتاوی الہندیة: ۱/۵۸۵ ط: اتحاد، دیوبند) ومعتدة موت تخرج في الجدیدین وتبیت أکثر اللیل في منزلہا؛ لأن نفقتہا علیہا فتحتاج للخروج (الدر مع الشامي: ۵/ ۱۸۰ ط: دار الکتاب، دیوبند) إن امتشطت بالطرف الذي أسنانہ منفرجة لا بأس بہ وإنما یکرہ الامتشاط بالطرف الآخر؛ لأن ذلک یکون للزینة․․․․ وإنما یلزمہا الاجتناب في حالة الاختیار، أما في حالة الاضطراب فلا بأس بہا، إن اشتکت رأسَہا أو عینہا فصبت علیہا الدہن أو اکتحلت لأجل المعالجة فلا بأس بہ․ (الفتاوی الہندیة: ۱/ ۵۸۶ ط: اتحاد)

12/08/2024

عورت کا قبر پر جانا
سوال
عورت کا قبر پر جانا جائز ہے؟ میری بیوی کہتی ہے: کوئی حدیث نہیں جس میں منع کیا گیا ہو عورت کو۔

جواب
عورتوں کے قبرستان میں جانے سے اگر غم تازہ ہو اور وہ بلند آواز سے روئیں تو ان کے لیے قبرستان جانا گناہ ہے؛ کیوں کہ حدیث میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے جو قبرستان جائیں؛ تاکہ غم تازہ ہو ۔ چوں کہ ان میں صبر کم ہوتا ہے، اس لیے گھر ہی سے ایصال ثواب کرنا چاہیے۔ نیز عورتوں کے لیے جب مساجد میں جماعت سے نماز کے لیے جانا مکروہِ تحریمی ہے تو قبرستان کی زیارت کے لیے گھر سے نکلنے میں بدرجہ اولیٰ کراہت ہوگی، کیوں کہ یہ ضرورتِ شرعیہ نہیں ہے جس کی بنا پر ان کے لیے خروج کو بلاکراہت جائز قرار دیا جاسکے۔

"عن ابن عباس، قال: ’’لعن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم زائرات القبور، والمتخذین علیها المساجد والسرج.‘‘ (سنن أبي داؤد، ۳/۲۱۸، أخرجه الترمذي، ۲/۳۶ (۳۲۰) وقال: حدیث حسن)
ترجمہ: ’’حضرت عبد اللہ بن عباسr فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی لعنت فرمائی ہے جو قبروں کو سجدہ گاہ بنائیں اور وہاں چراغ رکھیں۔‘‘
اسی حدیث کے پیشِ نظر عورتوں کے قبروں پر جانے کے بارے میں اکثر اہلِ علم حضرات کی رائے یہ ہے کہ یہ ناجائز ہے، کیوں کہ عورتیں ایک تو شرعی مسائل سے کم واقف ہوتی ہیں، دوسرے ان میں صبر، حوصلہ اور برداشت کم ہوتا ہے، ان کے حق میں غالب اندیشہ یہی ہے کہ وہ قبرستان جاکر جزع وفزع کریں گی یا کوئی بدعت کریں گی، اسی لیے انہیں قبرستان جانے سے منع کردیاگیا ۔

البتہ اگر کوئی بوڑھی عورت عبرت اور تذکرہ آخرت کے لیے قبرستان جائے تو اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ وہ جزع فزع نہ کرے، اور جوان عورت کے لیے جانے میں بہر حال کراہت ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 210):
"(قوله: وقيل: تحرم على النساء إلخ) قال الرملي: أما النساء إذا أردن زيارة القبور إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلاتجوز لهن الزيارة، وعليه حمل الحديث: «لعن الله زائرات القبور»، وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز، ويكره إذا كن شواب، كحضور الجماعة في المساجد". فقط واللہ اعلم

14/07/2024

Follow this link to join my WhatsApp group: https://chat.whatsapp.com/Bv67GzPymmP9uPxNFtCXKO

*صرف عاشوراء کا ایک روزہ رکھنے کا حکم*

سوال

صرف عاشورہ کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے کہ آئندہ سال زندہ رہا تو دو روزے رکھوں گا؟ اب تو یہود روزہ نہیں رکھتے؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں!

جواب
محرم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے، رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں، اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، صرف دسویں محرم کا روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عاشوراء کے دن قریش جاہلیت کے زمانے میں روزہ رکھتے تھے اور آپ ﷺ بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بھی عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض کردیے گئے تو اب وہی فرض ہیں، اور عاشوراء کے روزے کی فرضیت چھوڑ دی گئی، اب جو چاہے رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ (حدیث صحیح، جامع الترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی الرخصۃ فی ترک صوم یوم عاشوراء، (1/158) ط: قدیمی)

مذکورہ حدیث سے معلوم ہواکہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے (سنہ 2 ہجری) سے پہلے مکی دور میں بھی رسول اللہ ﷺ اہتمام سے عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور مدینہ منورہ آنے کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بھی بہت اہتمام سے اس کا حکم دیا، بہت سے فقہاء کے مطابق اس وقت عاشوراء کا روزہ فرض تھا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کے روزے کی حیثیت استحباب کی رہ گئی۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے اور اس کی ترغیب دیتے تھے اور اس دن ہمیں نصیحت کرنے کا اہتمام فرماتے تھے، پھر جب رمضان فرض کردیا گیا تو آپ ﷺ نے ہمیں نہ تو عاشوراء کے روزے کا حکم دیا نہ اس سے روکا اور نہ اس دن نصیحت کا اہتمام فرمایا۔ (مسلم، بحوالہ مشکاۃ)

آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مدنی دور کے آغاز سے ہی عاشوراء کا روزہ رکھا، اور ابتدا میں آپ ﷺ ہر عمل میں اہلِ کتاب کی مخالفت نہیں کرتے تھے، بلکہ ابتداءِ اسلام میں بہت سے اعمال میں تالیفِ قلوب کے لیے نرمی کی گئی، مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس مقرر کیا گیا وغیرہ۔ مدینہ منورہ آنے کے بعد آپ ﷺ اور صحابہ کرام تو اسلام کے حکم کے مطابق عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، جب آپ ﷺ نے یہود کو عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے اس کے متعلق ان سے دریافت کیا، چناں چہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: یہ کیسا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ یہود نے کہا: یہ بڑا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی تھی، اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تھا، اس کے شکر میں موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا، ہم بھی اسی لیے روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم موسی علیہ السلام کے طریقے کی پیروی اور اتباع کے زیادہ حق دار اور ان سے قریب ہیں، چناں چہ آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی عاشوراء کے روزے کا حکم دیا۔ (بخاری ومسلم)

آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موافقت اور اتباع کا ذکر فرمایا نہ کہ یہود کی موافقت کا، یعنی ہم یہ روزہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موافقت میں رکھیں گے اور ہم انبیاء کرام علیہم السلام کے طریقے کی پیروی کے زیادہ حق دار ہیں۔ بعد میں جب یہود کی مکاریوں اور ضد وعناد کے نتیجے میں آپ ﷺ نے یہود کی مخالفت کا حکم دیا تو اس وقت لوگوں نے آپ ﷺ سے عاشوراء کے روزے کے حوالے سے بھی دریافت کیا، چناں چہ ''حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کے دِن روزہ رکھا اَور صحابہ کوبھی اِس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ ایسا دن ہے کہ یہودونصارٰی اِس کی بہت تعظیم کرتے ہیں (اَورروزہ رکھ کر ہم اِس دِن کی تعظیم کرنے میں یہودونصارٰی کی موافقت کرنے لگتے ہیں جب کہ ہمارے اَوراُن کے دین میں بڑا فرق ہے )۔ آپ نے فرمایا: آئندہ سال اِن شاء اللہ ہم نویں تاریخ کو (بھی) روزہ رکھیں گے۔ حضرت ابن ِعباس فرماتے ہیں کہ آئندہ سال محرم سے پہلے ہی آپ ﷺ کاوصال ہوگیا''۔
"سمعت عبد الله بن عباس رضي الله عنهما يقول: حين صام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء وأمر بصيامه، قالوا: يا رسول الله إنه يوم تعظمه اليهود والنصارى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع»، قال: فلم يأت العام المقبل، حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم" . (صحيح مسلم، (2/ 797)

حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تم نویں اَوردسویں تاریخ کا روزہ رکھواَوریہود کی مخالفت کرو''۔
"وروي عن ابن عباس أنه قال: «صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود»". (سنن الترمذي، (3/ 120)
لہذا ماہِ محرم کی دسویں تاریخ یعنی عاشوراء کے روزہ کا سنت ہونا حضورﷺ کے عمل اور قول سے ثابت ہے، اور تشبہ سے بچنے کے لیے نویں تاریخ کے روزے کا قصد بھی ثابت ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان بھی ثابت ہے کہ نویں اور دسویں کو روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ یہودیوں میں عاشوراء کے روزے کا رواج نہیں ہے، یہ ثابت کرنا مشکل ہے، ان میں سے بعض پرانے لوگ جو بزعمِ خود اپنے مذہب کے پابند ہیں روزہ رکھتے ہوں گے، بلکہ بعض اہلِ علم نے بیان کیا ہے کہ یہود کے اہلِ علم اور ربی آج بھی اس روزے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس لیے کہ شریعتِ موسوی میں عاشوراء کا روزہ بطورِ شکر لازم تھا، جیساکہ سابقہ سطور میں بحوالہ گزر چکاہے۔

لہذا علتِ تشبہ قائم ہے، اور اس سے بھی انکار نہیں کہ چودہ سو سال سے امت کا اس پر عمل چلا آرہا ہے، اور امت کے اہلِ علم کا توارث اور مسلسل عمل بھی بجائے خود دلیل ہے، تراویح کی بیس رکعت کے بعد اجتماعی دعا منقول نہیں، لیکن امت اور اکابر کے عمل کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے اور دعا مانگی جاتی ہے ، علی ہذا عید الاضحی کی نماز کے بعد تکبیر ثابت نہیں ہے، فقہاء نے ۲۳ نمازیں شما رکی ہیں جن کے بعد تکبیرات تشریق کہی جاتی ہیں اور یہ چوبیسویں نماز ہوجاتی ہے، مگر توارث کی بناپر تکبیر کہنے کو تسلیم کیا جاتا ہے اور بعض نے واجب تک فرما دیا ہے،"ولا بأ س به عقب العید؛ لان المسلمین توارثوه، فوجب اتباعهم، وعلیه البلخیون".(درمختار مع الشامی ج۱ ص ۷۸۶ مطلب فی تکبیر التشریق)

لہذا عاشوراء (یعنی دسویں محرم ) کے روزے کے ساتھ نویں تاریخ کا روزہ بھی رکھنا ہوگا، اگر نویں کا نہ رکھ سکے تو دسویں کے ساتھ گیارہویں کا بھی روزہ رکھ لے۔ ( فتاوی رحیمیہ 7/273)

تاہم اگر کسی بنا پر دو روزے نہ رکھ سکے تو کم سے کم دسویں تاریخ کا ایک روزہ رکھنے کی کوشش کرلے، اس روزہ کا ثواب ملے گا۔ بلکہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عاشوراء کے روزہ کی تین شکلیں ہیں:

(۱) نویں، دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھا جائے (۲) نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے (۳) صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔

ان میں پہلی شکل سب سے افضل ہے، اور دوسری شکل کا درجہ اس سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ سب سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ جو سب سے کم ہے اسی کو فقہاء نے کراہتِ تنزیہی سے تعبیر کردیا ہے، ورنہ جس روزہ کو آپ ﷺ نے رکھا ہو اور آئندہ نویں کا روزہ رکھنے کی صرف تمنا کی ہو اس کو کیسے مکروہ کہا جاسکتا ہے۔

العرف الشذي شرح سنن الترمذي (2/ 177)
"وحاصل الشريعة: أن الأفضل صوم عاشوراء وصوم يوم قبله وبعده، ثم الأدون منه صوم عاشوراء مع صوم يوم قبله أو بعده، ثم الأدون صوم يوم عاشوراء فقط. والثلاثة عبادات عظمى، وأما ما في الدر المختار من كراهة صوم عاشوراء منفرداً تنزيهاً، فلا بد من التأويل فيه أي أنها عبادة مفضولة من القسمين الباقيين، ولا يحكم بكراهة؛ فإنه عليه الصلاة والسلام صام مدة عمره صوم عاشوراء منفرداً، وتمنى أن لو بقي إلى المستقبل صام يوماً معه".فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144001200054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

26/06/2024

وٹہ سٹہ کی شادی کا شرعی حکم
سوال
زید اور خالد دو شخص ہیں اور ان دونوں کی ایک ایک بیٹی بھی ہے۔ زید نے اپنی بیٹی کا نکاح خالد سے کروا لیا تو کیا خالد اپنی بیٹی کا نکاح زید سے کروا سکتا ہے؟ مطلب یہ کہ کیا دونوں ایک دوسرے کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہیں؟

جواب
بصورتِ مسئولہ اگر زید نے اپنی بیٹی کا نکاح خالد سے باقاعدہ مہر طے کرکے کردیا، اور پھر خالد نے بھی اپنی بیٹی کا نکاح زید سے مستقل مہر طے کرکے کردیا تو یہ نکاح درست ہے، البتہ اگر زید اور خالد میں سے ہر ایک اپنی بیٹی کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرے کہ ہر ایک دوسرے کو اپنی بیٹی نکاح میں دےگا اور حق مہر نہیں ہوگا، یعنی کہ ایک لڑکی کے بدلے میں دوسری لڑکی لی جائے، ایسی صورت کو "شغار" کہتے ہیں جس سے آپﷺ نے منع فرمایا ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے "نکاحِ شغار" سے منع فرمایا ہے اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اسے کرکے دےگا اور ان کے درمیان مہر مقرر نہ کیا جائے (یعنی دونوں عورتوں کو ایک دوسری کا مہر تصورکیا جائے)۔"

(صحیح مسلم، باب تحريم نكاح الشغار وبطلانه، ج:2، ص:1034، ط:داراحیاء التراث العربی)،

لہذا از روئے شرع ایسی شادی کرنا ناجائز ہے۔ البتہ اگر زید اور خالد میں سے ہر ایک نے دوسرے کی بیٹی سے اس کی مکمل رضامندی اور شرائط نکاح کے ساتھ نکاح کیا، جب کہ ہر لڑکی کا الگ سے مہر بھی مقرر ہو، تو یہ صورت نکاح شغار کی نہ ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و وجب مهر المثل في الشغار) هو أن يزوجه بنته على أن يزوجه الآخر بنته أو أخته مثلا معاوضة بالعقدين وهو منهي عنه لخلوه عن المهر، فأوجبنا فيه مهر المثل فلم يبق شغارًا.

"(قوله: في الشغار) بكسر الشين مصدر شاغر اهـ ح (قوله: هو أن يزوجه إلخ) قال في النهر: وهو أن يشاغر الرجل: أي يزوجه حريمته على أن يزوجه الآخر حريمته ولا مهر إلا هذا، كذا في المغرب: أي على أن يكون بضع كل صداقًا عن الآخر، وهذا المقيد لا بد منه في مسمى الشغار، حتى لو لم يقل ذلك ولا معناه بل قال: زوجتك بنتي على أن تزوجني بنتك، فقبل أو على أن يكون بضع بنتي صداقًا لبنتك فلم يقبل الآخر بل زوجه بنته ولم يجعلها صداقًا لم يكن شغارًا بل نكاحًا صحيحًا اتفاقًا، وإن وجب مهر المثل في الكل."

(كتاب النكاح، مطلب نكاح الشغار، ج:3، ص:105، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم

16/06/2024

عوام بھی عجیب ہے یار
شادی بیاہ پر اخراجات کرنے نہ کرنے کا کبھی نہیں پوچھتی خواہ قرضے لینے پڑیں مگر قربانی سے بچنے کیلئے مال کے ہوتے ہوئے بھی سوالات پوچھتی ہے؟؟

13/06/2024

بھینس کی قربانی!

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : بھینس کی قربانی قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟ بعض حضرات اس کی قربانی کو ناجائز کہتے ہیں ، لیکن خیرات کرنے کو جائز کہتے ہیں ۔
الجواب حامدًا ومصلیًا واضح رہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہائ، مفسرین وائمہ کرام کے نزدیک بھینس ‘ گائے کی نوع میں شامل ہے اور اس وجہ سے اس کی قربانی بھی درست ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’أُحِلَّتْ لَکُمْ بَہِیْمَۃُ الْأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ الخ۔‘‘ (المائدہ:۱) اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں: ’’پالتو جانور جیسے اونٹ، گائے، بھینس، بکری وغیرہ جن کی آٹھ قسمیں سورۂ انعام میں بیان فرمائی گئی ہیں ان کو ’’ أَنْعَام ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس جملہ میں اُس خاص معاہدہ کا بیان آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اونٹ، بکری، گائے، بھینس وغیرہ کو حلال کردیا ہے، ان کو شرعی قاعدہ کے موافق ذبح کرکے کھا سکتے ہیں۔‘‘(معارف القرآن، ج:۳،ص:۱۳) تمام علماء کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ سب ’’بہیمۃ الأنعام‘‘ (چرنے چگنے والے چوپایوں) کی قربانی جائز ہے، کم از کم بھینس کی قربانی میں کوئی شک نہیں ہے۔ نیز جہاں قرآن مجید میں حرام چیزوں کی فہرست دی ہے، وہاں یہ الفاظ ہیں: ’’قُلْ لاَّ أَجِدُ فِیْ مَا أُوْحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗ إِلَّا أَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَتًا أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا۔‘‘ (الانعام:۱۴۵) درج بالا دونوں آیات میں تمام چرنے والے جانوروں کی حلت کا عام حکم ہے، اس میں بھینس بھی شامل ہے، کیونکہ وہ بھی چرنے والے جانوروں میں سے ہے، اسی طرح ’’بہیمۃ الأنعام‘‘ کی حلت میں بھی بھینس بصراحت شامل ہے، اس کا گوشت اور دودھ‘ گائے کے گوشت اور دودھ کی طرح حلال وطیب ہے، کیونکہ یہ دونوں ایک ہی جنس سے ہیں۔ اگر بھینس کو گائے کی جنس سے مانا جائے یا عمومِ بہیمۃ الانعام پر نظر ڈالی جائے تو حکمِ جوازِ قربانی کے لیے یہ علت کافی ہے۔ شرعاً بھینس چوپایہ جانوروں میں سے ہے اور ’’بقر‘‘ (گائے) میں شامل ہے، گائے کی قربانی جائز ہے اس لیے بھینس کی قربانی بھی جائز ودرست ہے۔ اس دلیل کو اگرنہ مانا جائے تو گائے کی ہم جنس بھینس کے دودھ اور اس کے گوشت کے حلال ہونے کی بھی دلیل مشکوک ہوجائے گی۔ حدیث مبارکہ میں ہے: حضرت ابوہریرہq سے روایت ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ’’کل ذی ناب من السباع، فأکلہٗ حرام‘‘ ہر کچلی (نوک دار دانت جو اگلے دانتوں کے متصل ہوتے ہیں) والے درندے کا کھانا حرام ہے۔‘‘ (صحیح مسلم ،کتاب الصید والذبائح وما یؤکل من الحیوان، ص:۱۴۷) اور بھینس یقینا شریعت کے اس اصول کے تحت بھی نہیں آتی، کیونکہ یہ ’’ذی ناب من السباع‘‘ میں سے نہیں ہے۔ درحقیقت بنیادی طور پر تین اقسام کے جانور ہیں جن کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ قربانی کے لیے قابل قبول ہیں: 1:۔۔۔۔۔۔۔ ’’غنم‘‘ میں اس کی انواع اور نرومادہ شامل ہیں، یعنی بھیڑ اور بکری۔ 2:۔۔۔۔۔۔۔’’إبل‘‘ سے مراد اونٹ نر ومادہ۔ 3:۔۔۔۔۔۔۔’’بقر‘‘ میں بھی اس کی انواع اور نر ومادہ شامل ہیں، یعنی گائے اور بھینس۔ چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’واضح ہو کہ جنس واجب میں یہ ہونا چاہیے کہ قربانی کا جانور اونٹ، گائے اور غنم تین اجناس سے ہو اور ہر جنس میں اس کی نوع نر ومادہ اور خصی وفحل سب داخل ہیں، کیونکہ اسم جنس کا ان سب پر اطلاق کیا جاتا ہے اور ’’معز‘‘ (بھیڑ) نوعِ غنم ہے اور ’’جاموس‘‘ (بھینس) نوعِ بقر ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے کوئی وحشی جائز نہیں ہے۔‘‘ (فتاویٰ ہندیہ، ج:۵، ۲۹۷، طبع: رشیدیہ۔ بدائع الصنائع،ج:۵،ص:۶۹، دار الکتاب العربی بیروت) ہدایہ میں ہے: ’’ویدخل فی البقر الجاموس لأنہٗ من جنسہٖ۔‘‘ (الہدایہ، ج:۲،ص:۴۴۷، باب الأضحیۃ) امام ابن المنذر v فرماتے ہیں: ’’ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع واتفاق ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔‘‘ (الاجماع لابن المنذر،ص::۴۸) حافظ ابن قدامہ المقدسی لکھتے ہیں: ’’ہمیں ا س میں اختلاف کا علم نہیں ہے، ابن المنذرv نے اس بات پر اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے، نیز بھینس ‘ گائے کی ایک نوع ہے۔‘‘ (المغنی لابن قدامہ،ج:۲،ص:۵۹۴) امام حسن بصریv بھی یہی کہا کرتے تھے کہ: ’’بھینس گائے کی طرح ہی ہے۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ،ج:۳،ص:۲۱۹، وسندہ صحیح) لہٰذا اس بات پر جمہور علماء اور ائمہ اسلام کا اجماع واتفاق ہے کہ بھینس کی قربانی کا وہی حکم ہے جو گائے کا ہے، بھینس کو گائے کے ساتھ شامل وشمار کیا جائے گا۔ بکری اورگائے کی طرح بھینس کی قربانی بھی جائز ہے

Address

Komila, Dasu , Upper Kohistan
Islamabad
HANIF@77

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when شرعی مسائل ،احکام و فتاویٰ جات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share