Sheikh Hadi Hussain Nasri

Sheikh Hadi Hussain Nasri .

بسم اللہ الرحمن الرحیمإِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَہمیں انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ محتر...
29/05/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

ہمیں انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ محترم و مکرم عالمِ دین، علامہ شیخ خورشید انور جوادی صاحب کے خاندان میں ان کی خوشدامنِ(ساس) محترمہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ یہ سانحہ یقیناً اہلِ خانہ کے لیے ایک عظیم صدمہ اور آزمائش ہے۔

اس موقع پر ہم علامہ شیخ خورشید انور جوادی صاحب، تمام اہلِ خانہ اور پسماندگان کی خدمت میں دلی تعزیت اور ہمدردی پیش کرتے ہیں۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی وسیع رحمتوں میں جگہ عطا فرمائے، اُن کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے، اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

بلاشبہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر اہلِ ایمان کے لیے صبر، رضا اور دعا ہی بہترین سہارا ہیں۔ ہم اس غم کی گھڑی میں اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور ان کے لیے بارگاہِ الٰہی میں اجر و ثواب کی دعا کرتے ہیں۔

والسلام

|| ھادی حسين ناصرى

نظامِ قیادت: ایک تاریخی پس منظر اور ارتقائی سفرپاکستان میں شیعہ سیاسی و مذہبی قیادت کا منظم تصور ایک خاص تاریخی پس منظر ...
29/05/2026

نظامِ قیادت: ایک تاریخی پس منظر اور ارتقائی سفر

پاکستان میں شیعہ سیاسی و مذہبی قیادت کا منظم تصور ایک خاص تاریخی پس منظر میں ابھرا۔ یہ محض چند شخصیات کی تبدیلی کا نام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے اجتماعی شعور کا اظہار تھا جس نے مختلف ادوار میں ملتِ جعفریہ کے وجود، تشخص اور حقوق کے تحفظ کے لیے قیادت کا ایک تسلسل قائم رکھا۔ اس نظامِ قیادت کو سمجھنے کے لیے اُس زمانے کے سیاسی حالات، ریاستی رویّوں اور داخلی و خارجی چیلنجز کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

سن 1958 میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا اور سیاسی تبدیلیوں کے بعد ملک کے مختلف مذہبی و سماجی طبقات کی طرح شیعہ مکتبِ فکر کو بھی اپنے حقوق، شناخت اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا ہوا۔ انہی حالات کے پس منظر میں "مطالبات کمیٹی" وجود میں آئی، جس کا مقصد ملتِ جعفریہ کے اجتماعی مطالبات کو منظم انداز میں پیش کرنا اور ریاست کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھتے ہوئى شیعہ وجود کا تحفظ کرنا تھا۔ اس کمیٹی کی قیادت سید دہلوی کے ہاتھ میں آئی، جو بعد میں "قائدِ ملتِ جعفریہ" کے عنوان سے معروف ہوئے۔ انہوں نے اُس دور کے حساس سیاسی ماحول میں تحمل، حکمت اور تدبر کے ساتھ ملت کی نمائندگی کی اور شیعہ قیادت کے ایک منظم ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔

اس کے بعد مختلف ادوار میں مختلف شخصیات نے اس قیادت کو آگے بڑھایا۔ علامہ مفتی جعفر حسین کا دور اپنے مخصوص حالات اور تقاضوں کا حامل تھا۔ انہوں نے ملت کو ایک مذہبی و سیاسی شناخت دینے اور قومی سطح پر شیعہ آواز کو منظم انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُن کے زمانے میں داخلی تنظیم اور قومی سطح پر رابطوں کو مضبوط بنانے کی کوششیں نمایاں رہیں۔

بعد ازاں شہید قائد سید عارف حسین الحسینی کی قیادت سامنے آئی، جنہوں نے ایک انقلابی اور بیدار کن طرزِ خطاب کے ذریعے نوجوان نسل میں شعور پیدا کیا۔ ان کا دور عالمی و علاقائی تبدیلیوں، انقلابِ ایران کے اثرات اور افغان جنگ جیسے پیچیدہ حالات سے عبارت تھا۔ انہوں نے ملت کے اندر دینی بیداری، فکری تحرک اور ظلم کے خلاف مزاحمتی شعور کو فروغ دیا۔ ان کی شخصیت نے شیعہ قیادت کو ایک نئی روح اور حرارت عطا کی۔

ان کے بعد علامہ سید ساجد علی نقوی (حفظہ اللہ) نے قیادت سنبھالی، اور وہ آج بھی اپنی قیادت اور دینی و سیاسی کردار کے ساتھ ملتِ جعفریہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کا دور نہایت حساس اور پیچیدہ حالات سے عبارت رہا، جس میں فرقہ واریت، دہشت گردی، علاقائی کشیدگی اور ریاستی دباؤ جیسے متعدد چیلنجز موجود تھے۔ اس مرحلے پر قیادت کا انداز نسبتاً مختلف تھا، کیونکہ حالات بھی بدل چکے تھے۔ سید ساجد علی نقوی نے ایک متوازن، محتاط اور وحدت پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کی۔ انہوں نے کوشش کی کہ شیعہ ملت اپنے وجود، تشخص اور دینی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ریاست کے ساتھ تصادم کی راہ پر نہ چلے۔ انہوں نے ہمیشہ وحدتِ امت کے خطاب کو اہمیت دی، غیر ضروری محاذ آرائی سے اجتناب کیا اور مہاتراتی سیاست سے خود کو دور رکھا۔

یہ حقیقت ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ مختلف ادوار کی قیادتوں کا تقابلی انداز میں فیصلہ کرنا یا ان کے درمیان برتری کی بحث چھیڑنا تاریخی حقیقتوں سے صرفِ نظر کے مترادف ہے۔ ہر دور کے اپنے حالات، خطرات، امکانات اور تقاضے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر قائد نے اپنی فہم، استعداد اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ملتِ جعفریہ کی خدمت کی اور شیعہ وجود کے تحفظ کے لیے کردار ادا کیا۔ کسی نے تنظیم کو سنبھالا، کسی نے مزاحمتی شعور پیدا کیا، کسی نے وحدت و توازن کی سیاست کو ترجیح دی، اور کسی نے قومی سطح پر ملت کی نمائندگی کو مضبوط کیا۔

اہم بات یہ ہے کہ اس پورے سفر میں قیادت کا ایک تسلسل قائم رہا، شیعہ وجود محفوظ رہا، اور ملت شدید ترین حالات کے باوجود انتشار یا ریاست دشمن تصادم کی طرف نہیں گئی۔ یہی اس نظامِ قیادت کی بنیادی کامیابی ہے کہ اس نے مختلف نشیب و فراز کے باوجود ملت کو ایک اجتماعی نظم، سیاسی شعور اور دینی شناخت کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش جاری رکھی۔

عرب کہتے ہیں: "مَنْ لَا مَاضِيَ لَهُ لَا حَاضِرَ وَلَا مُسْتَقْبَلَ لَهُ"
یعنی: "جس قوم یا فرد کا کوئی ماضی نہ ہو، اُس کا نہ حال ہوتا ہے اور نہ مستقبل۔"

اور اسی احساس کے تحت یہ چند تاریخی اشارے ذکر کیے گئے ہیں، کیونکہ قرآن کہتا ہے:
"فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ"
یعنی: "بے شک یاد دہانی مؤمنین کو فائدہ دیتی ہے۔"

||هادى حسين ناصرى

26/05/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیمبیانِ تعزیتإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَقائد ملتِ جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساج...
26/05/2026

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بیانِ تعزیت

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

قائد ملتِ جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب دامت برکاتہ کی اہلیہ محترمہ، ڈاکٹر سید عون ساجد نقوی، سید محمد ساجد نقوی اور سید علی ساجد نقوی کی والدہ محترمہ کے انتقال کی خبر انتہائی رنج و الم کا باعث بنی۔

اس غم انگیز موقع پر ہم علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب، تمام اہلِ خانہ اور سوگواران کی خدمت میں دلی تعزیت اور ہمدردی پیش کرتے ہیں۔ مرحومہ کی دینی، اخلاقی اور خاندانی خدمات یقیناً صدقۂ جاریہ ہیں، اور ان کی جدائی اہلِ خاندان کے لیے ایک عظیم صدمہ ہے۔

ہم بارگاہِ الٰہی میں دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں بلند درجات نصیب کرے، اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

هادى حسين ناصرى

اللهم احفظہ بعينک التي لاتنام
24/04/2026

اللهم احفظہ بعينک التي لاتنام

 #ایران میدانِ جنگ میں حاصل کردہ کامیابیوں کو مذاکرات کے ذریعے مستحکم اور  #قانونی شکل دینا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ مذاکرا...
12/04/2026

#ایران میدانِ جنگ میں حاصل کردہ کامیابیوں کو مذاکرات کے ذریعے مستحکم اور #قانونی شکل دینا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ مذاکرات کے ذریعے وہ اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ میدان میں حاصل نہ کر سکا۔
#ایران بلا شبہ میدان میں کامیاب ہوا ہے، مگر اب اصل مرحلہ اس کامیابی کو سیاسی اور میڈیا کے میدان میں مستحکم کرنے کا ہے۔
لہٰذا شکوک کو اپنے دلوں میں جگہ نہ دیں—اپنی کامیابی پر خوشی منائیں اور اس پر یقین کے ساتھ قائم رہیں، کیونکہ تذبذب خود کامیابی کو کمزور کر دیتا ہے۔

01/04/2026

Proud to be

27/03/2026

27/03/2026

نماز عشق

Address

G-10
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sheikh Hadi Hussain Nasri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Sheikh Hadi Hussain Nasri:

Share