Deen ki baten

Deen ki baten Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Deen ki baten, Religious organisation, Islamabad.

بسم اللہ الرحمن الرحیم 🤍
یہ گروپ دینِ اسلام کی خوبصورت باتوں کے لیے ہے
یہاں آپ کو روزانہ قرآن، حدیث اور اسلامی ویڈیوز ملیں گی 🤲
گروپ جوائن کریں اور دوسروں تک خیر پہنچائیں ❤️"

حضرت زید جو زید شہید کے نام سے مشہور ہیں، آپ امام زین العابدینؑ کے بیٹے اور امام محمد باقرؑ کے بھائی ہیں۔ آپکی والدہ کا ...
17/07/2026

حضرت زید جو زید شہید کے نام سے مشہور ہیں، آپ امام زین العابدینؑ کے بیٹے اور امام محمد باقرؑ کے بھائی ہیں۔ آپکی والدہ کا نام جیدہ السندھی تھا، آپ کا تعلق سندھ کی سرزمین سے بتایا جاتا ہے۔ حضرت زیدؑ کی ولادت مدینہ منورہ 75 یا 80 ہجری میں ہوئی۔ ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد بزرگوار امام زین العابدینؑ سے ہی حاصل کی۔ جب آپکے والد کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر 18 سال تھی۔ آپ اپنے بڑے بھائی امام محمد باقرؑ کے زیر سایہ رہے۔

عبادت ، زہد ، تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے، آپ کو قرآن پاک سے بے حد محبت تھی ، عمر کا بیشتر حصہ قرآن کریم کی تلاوت ، معانی اور تفاسیر میں گزاری یہی وجہ یے آپ کو حلیفِ قرآن کا لقب دیا گیا۔ آپ زیدیہ مسلک انکو اپنا امام مانتے ہیں، اور زیدی سادات کے جد بھی ہیں۔

اموی حکمران ہشام بن عبدالملک جب حکمران بنا تو پہلے حکمرانوں کی طرح اس نے بھی آلِ محمدؑ پہ زندگی تنگ کرنا شروع کردی، آپ کے ایک خاندانی حق پہ غصب کیا گیا تو جنابِ زیدؑ مدینہ سے دمشق ہشام کے پاس خود گئے مگر اس نے آپ سے پہلے تو ملنا گوارہ نہ کیا ، جب ملاقات کی تو آپ کے ساتھ توہین آمیز رویہ رکھا گیا۔ حضرت زیدؑ اور ہشام کے درمیان سخت کلامی ہوئی آپ دمشق سے واپس کوفہ تشریف لائے۔ حضرت زیدؑ کے اندر ابھی کربلاء میں ہونے والے ظلم پہ پہلے ہی غصہ تھا ہشام کے مذید ظلم دیکھ کر آپ نے ہشام کے خلاف قیام کا فیصلہ کیا۔

پہلے تو ہزاروں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پہ بیعت کی مگر جب والیِ کوفہ نے آپ کا ساتھ دینے والوں کی جان مال پہ ظلم کا اعلان کیا تو صرف دو سو افراد نے آپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا، یکم صفر 122 ہجری کی رات کو خروج طے پایا۔ کوفہ میں ایک بار پھر گھمسان کی جنگ ہوئی۔ مگر دو سو افراد کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں فوج مدمقابل تھی۔ دورانِ جنگ حضرت زیدؑ کی پیشانی میں تیر لگا،جو آپ کی شہادت کا باعث بنا۔

ہشام نے آپ کا سر کاٹ کر لانے والے کو دس ہزار درھم انعام کا اعلان کیا۔ بے حرمتی سے بچانے کے لئے آپ کے ساتھیوں نے آپ کا میت نہر کا پانی روک کر زمین میں چھپا دیا اور پانی چھوڑ دیا۔ مگر چند ہی دن بعد کسی جاسوس نے آپ کے میت کا پتہ والیِ کوفہ کو دیا تو آپ کا میت نہر سے نکال کر آپ کا سر تن سے جدا کیا گیا، سر شام ہشام کے پاس بھجوا دیا گیا۔ ہشام نے کئی روز تک آپ کا سر دمشق کے صدر دروازے پہ لٹکائے رکھا۔ ادھر آپ کی برہنہ لاش کو کوفہ کے صدر دروازے پہ لٹکا دیا گیا۔ تقریباً تین یا چار سال تک آپ کا جسد کوفہ میں لٹکا رہا۔ ایک مکڑی نے آپ کی شرمگاہ کو اپنے جالے سے چھپا دیا۔

ہشام کے بعد آنے والے حکمران نے آپ کا جسد اتروایا اور لاش کو آگ لگا دی اور راکھ کا ایک حصہ فرات میں بہا دیا گیا اور کچھ حصہ دفن کردیا گیا۔ ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ حضرت جریر بن حازم کو نبی کریمؐ خواب میں ملے آپ نے اپنی پشت جنابِ زیدؑ کے جسد کے ساتھ لگا رکھی اور فرما رہے اے لوگو میرے فرزند کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو؟

لوگ پوچھتے ہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ مسلمان اپنے نبیؐ کی اولاد پہ ظلم کرسکتے ہیں جسے یقین نہ آئے وہ کربلاء جائے یا پھر کوفہ کے قریب جنابِ زیدؑ کی قبر پہ چلا جائے جہاں قبر میں میت نہیں صرف رکھ کی ایک مٹھی دفن یے۔

دو صفر یومِ شہادت حضرت زید بن امام زین العابدینؑ

علی اصغر

حیرت بھٹکنے پر نہیں ہوتیحیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہر بھٹکا ہوا شخص دوسرے کو راہ راست پر لانے میں لگا ہوا ہے سب سے پہلے م...
28/06/2026

حیرت بھٹکنے پر نہیں ہوتی
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہر بھٹکا ہوا شخص دوسرے کو راہ راست پر لانے میں لگا ہوا ہے سب سے پہلے محنت اپنی ذات پر ہونی چاہئے

‏بے شک میرا رب جب ہمیں آزماتا ہے تو سنبھال بھی لیتا ہے ❤️✨
28/06/2026

‏بے شک میرا رب جب ہمیں آزماتا ہے
تو سنبھال بھی لیتا ہے ❤️✨

*انسان ہر چیز کے بغیر رہ سکتا ہے،**مگر اپنے دل کے دکھ اللہ سے بیان کیے بغیر نہیں رہ سکتا،**کیونکہ حقیقی سکون صرف اللہ ہی...
28/06/2026

*انسان ہر چیز کے بغیر رہ سکتا ہے،*
*مگر اپنے دل کے دکھ اللہ سے بیان کیے بغیر نہیں رہ سکتا،*
*کیونکہ حقیقی سکون صرف اللہ ہی عطا فرماتا ہے۔* 🌷🤍
Follow my page Deen ki baten 🤍
اللہ آپ کی ہر پریشانی آسان فرمائے 🤲
ایک فالو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتا ہے
Like Follow and Share plz

((ام المصائب کیوں کہا جاتا ہے؟))حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو “ام المصائب” کہا جاتا ہے، اور واقعی وہ اس لقب کی حق دار ہیں...
26/06/2026

((ام المصائب کیوں کہا جاتا ہے؟))

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو “ام المصائب” کہا جاتا ہے، اور واقعی وہ اس لقب کی حق دار ہیں، کیونکہ انہوں نے یکے بعد دیگرے بڑے بڑے مصائب اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

انہوں نے اپنے جدّ رسول اللہ ﷺ کی وفات کا صدمہ دیکھا،
اپنی والدہ حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت اور وفات کا غم دیکھا،
پھر اپنے والد امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت دیکھی،

اس کے بعد اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کی مصیبت اور زہر کے ذریعے ان کی شہادت دیکھی،

اور پھر سب سے بڑی مصیبت دیکھی، یعنی اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام اور اہلِ بیت کی شہادت۔

انہوں نے اپنے بیٹوں عون اور محمد کو اپنے ماموں کے ساتھ اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتے دیکھا،

پھر انہیں کربلا سے کوفہ تک قیدی بنا کر لے جایا گیا،

اور ابن زیاد کے دربار میں مردوں کے مجمع میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں سخت، تلخ اور طعنہ آمیز گفتگو کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد انہیں کوفہ سے شام لے جایا گیا، اور وہاں یزید کے دربار میں پیش کیا گیا،

اس پورے سفر میں ان کے بھائی، بیٹوں اور اہلِ بیت کے سروں کو نیزوں پر اٹھا کر ان کے سامنے رکھا گیا،

یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں دمشق پہنچے، اور یزید کے دربار میں رسیوں میں جکڑ کر داخل کیے گئے۔

سلام ہو آپ پر اے پاکیزہ، متقی اور نیک سیرت ہستی!
سلام ہو آپ پر اے مظلوم و مقہور خاتون!
سلام ہو آپ پر اے راضی اور رضا یافتہ ہستی!
Follow my page Deen ki baten 🤍
اللہ آپ کی ہر پریشانی آسان فرمائے 🤲
ایک فالو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتا ہے

*شبِ عاشور سکینہ ع اور بابا حسین ع*💔😭*رات گہری ہو چکی تھی**خیموں کے باہر کربلا کی ریت خاموش تھی مگر خیموں کے اندر دلوں م...
26/06/2026

*شبِ عاشور سکینہ ع اور بابا حسین ع*💔😭
*رات گہری ہو چکی تھی*
*خیموں کے باہر کربلا کی ریت خاموش تھی مگر خیموں کے اندر دلوں میں قیامت برپا تھی*💔
*ننھی سکینہ س آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اپنے بابا حسین ع کے پاس آئیں*
*بابا سجدے سے فارغ ہوئے تو بیٹی نے آکر ان کے گلے میں بانہیں ڈال دیں*
*بابا۔۔۔* 😭
*امام ع نے مسکرا کر بیٹی کو سینے سے لگا لیا جی میری شہزادی؟*😭
*سکینہ س نے معصوم آنکھوں سے بابا کے چہرے کو دیکھا اور بولیں*
*بابا آج سب اتنا روتے کیوں ہیں؟*😭😭😭😭😭😭😭
*پھوپھی زینب س بھی اداس ہیں امی بھی خاموش ہیں اور آپ کے ساتھی بھی عجیب عجیب باتیں کر رہے ہیں*
*امام حسین ع نے بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا مگر آنکھوں میں چھپے آنسو دل کی دیواریں توڑنا چاہتے تھے*
*بیٹی! اللہ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے سکینہ ع نے فوراً پوچھا*😭
*بابا! کیا ہمارا بھی امتحان ہے؟*
*امام ع نے بیٹی کو اپنے سینے سے اور قریب کر لیا ہاں میری بیٹی ہمارا بھی امتحان ہے*
*سکینہ س کچھ لمحے خاموشی رہیں*
*پھر سیدہ سکینہ ع نے دھیرے سے کہا*
*بابا! آپ کل بھی میرے پاس ہوں گے نا؟*😭😭
*یہ سوال سن کر جیسے وقت رک گیا امام حسین ع کی پلکوں پر آنسو لرزنے لگے*
*انہوں نے بیٹی کا ماتھا چوما اور آسمان کی طرف دیکھا*
*سکینہ ع پھر بولیں*😭😭
*بابا! اگر میں رات کو جاگ گئی تو مجھے اپنی آغوش ملے گی نا؟*😭
*اگر میں ڈر گئی تو آپ مجھے چپ کروائیں گے نا؟*😭
*امام ع نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا*
*اتنا قریب کہ شاید دل کی دھڑکنوں میں اپنی آخری محبت سمو لینا چاہتے تھے*
*میری بچی تم ہمیشہ میرے دل میں رہو گی*😭😭😭
*سکینہ س نے بابا کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیا اور بولیں*😭😭
*بابا مجھے چھوڑ کر مت جانا*😭
*یہ الفاظ سن کر امام حسین ع کی آنکھوں سے آنسو رخساروں پر بہہ نکلے*
*کربلا کی وہ رات گواہ ہے ایک طرف نبوت کا وارث تھا دوسری طرف اس کی ننھی بیٹی*😭😭
*ایک کو خدا کی رضا عزیز تھی دوسری کو اپنے بابا کی آغوش*
*بس عزادارو رات گزرتی رہی*😭
*سکینہ س بابا کے سینے پر سر رکھ کر سو گئیں مگر حسین ع جاگتے رہے*
*وہ بیٹی کے چہرے کو دیکھتے رہے*
*شاید اس لیے کہ صبح کے بعد یہ منظر دوبارہ نصیب نہ ہونا تھا*
*اور پھر عاشور کی صبح آگئی* 🥺💔
*سورج طلوع ہوا مگر سکینہ س کی دنیا غروب ہونے لگی*
*وہ بار بار خیمے کے دروازے پر آتیں اور اپنے بابا کو دیکھتیں کبھی ان کا ہاتھ چومتیں کبھی ان کے دامن سے لپٹ جاتیں*😭😭
*بابا! آپ جائیں گے تو واپس آئیں گے نا؟ بابا میدان میں جو بھی جاتا ہے وہ واپس نہیں آتا...بابا آپ واپس آئیں گے ناں*😭😭
*امام ع مسکراتے مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے ایک سمندر چھپا ہوتا*
*وقت گزرتا گیا*
*ایک ایک کر کے وفا کے چراغ بجھتے گئے*
*سکینہ س کبھی کسی لاشے پر رونے والی سب آواز سنتیں کبھی خیموں میں پھیلتی ہوئی خاموشی کو محسوس کرتیں*😭
*پھر وہ لمحہ بھی آگیا جب بابا حسین ع رخصت ہونے لگے*
*سکینہ س دوڑتی ہوئی آئیں اور بابا کے گھوڑے کی رکاب پکڑ لی*😭
*بابا! مجھے بھی ساتھ لے چلیں*
*امام ع گھوڑے سے اترےںبیٹی کو سینے سے لگایا ماتھا چوما اور آنسوؤں کو چھپاتے ہوئے فرمایا*
*میری بیٹی! ابھی تمہیں ایک بہت بڑا پیغام دنیا تک پہنچانا ہے*
*سکینہ س کچھ نہ سمجھ سکیں بس بابا کے گلے سے لپٹی رہیں*😭
*پھر وقت نے باپ اور بیٹی کو جدا کر دیا*😭
*عصرِ عاشور ہونے لگی*
*خیموں کے باہر شور تھا نیزوں کی جھنکار تھی تلواروں کی آوازیں تھیں مگر سکینہ س کے کان صرف ایک آواز سننا چاہتے تھے*😭😭
*ہاۓ سکینہ س مگر وہ آواز نہ آئی*
*ننھی شہزادی خیمے کے دروازے پر کھڑی رہیں نظریں میدان کی طرف تھیں ہر آتے ہوئے سوار کو دیکھتیں اور پھر مایوس ہو جاتیں*😭😭
*آخرکار جب ذوالجناح واپس آیا تو اس کی زین خالی تھی*😭
*سکینہ س نے خالی زین دیکھی تو جیسے ان کی دنیا اجڑ گئی*😭
*وہ گھوڑے کے گلے سے لپٹ کر رونے لگیں:*
*میرے بابا کہاں ہیں؟*😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭
*مجھے میرے بابا کے پاس لے چلو*
*مجھے اپنے بابا کی خوشبو چاہیے*
*مجھے اپنے بابا کی آغوش چاہیے*
*مگر کربلا کا میدان خاموش ہو چکا تھا*
*اور آسمان بھی اس ننھی یتیم بچی کے سوال کا جواب نہ دے سکا*😭
*خالی زین کو دیکھ کر سکینہ س کی چیخ نکل گئی*
*بابا...! آپ کہاں ہیں؟*😭
*مگر اب جواب دینے والا کوئی نہ تھا*
بس عزادارو شامِ غریباں آگئی😭💔
*خیموں میں آگ لگا دی گئی ننھے ننھے بچے جلتے ہوئے خیموں سے باہر بھاگ رہے تھے کوئی اپنی ماں کو پکار رہا تھا کوئی اپنے بابا کوسکینہ س بھی خوفزدہ تھیں مگر ان کے دل میں ایک ہی سوال تھا میرے بابا کہاں ہیں؟*😭😭
*رات بھر وہ کبھی جلتے ہوئے خیموں کی طرف دیکھتیں کبھی میدانِ کربلا کی طرف جب بھی کوئی انہیں چپ کرانے کی کوشش کرتا وہ یہی کہتیں*😭
*مجھے میرے بابا کے پاس لے چلو*
*شامِ غریباں تھی*
*خیمے جل چکے تھے بچے بکھر چکے تھے اور کربلا کی ریت پر غم کی ایسی چادر تن چکی تھی جس کی مثال تاریخ نہ دے سکی*😭😭
*اسی تاریکی میں ایک ننھی سی بچی اپنے بابا کو ڈھونڈ رہی تھی*
*بابا...! بابا...!*
*ہر طرف یہی صدا گونج رہی تھی*
*روایاتِ مقتل میں بیان ہوتا ہے کہ بی بی سکینہ س اپنے بابا کی تلاش میں میدانِ کربلا کی طرف نکل گئیں*😭
*ریت پر چلتے ہوئے ننھے قدم خوف سے کانپتا ہوا وجود اور دل میں صرف ایک آرزو ایک بار بابا مل جائیں*
*وہ لاشوں کے درمیان چلتی رہیں*
*کبھی کسی شہید کو دیکھتیں کبھی کسی اور طرف دوڑ جاتیں*😭😭
*پھر اچانک ان کی نظر اس جسمِ مبارک پر پڑی جو نیزوں اور تلواروں کے زخموں سے چور تھا*
*سر تن سے جدا تھا*😭😭
*مگر بیٹی نے اپنے بابا کو پہچان لیا*
*وہ دوڑ کر اس جسمِ مبارک سے لپٹ گئیں*😭😭
*بابا...!*
*میں آگئی ہوں بابا...!*
*دیکھیں نا سب آپ کو چھوڑ گئے*😭
*مجھے بھی سب چھوڑ گئے ہیں بابا*😭
*ننھی بچی اپنے بابا کے سینے پر سر رکھ کر روتی رہی*
*بابا! اٹھیں نا*
*دیکھیں آپ کی سکینہ س آئی ہے*
*آپ تو میری آواز سنتے تھے نا بابا*
*رات کی تاریکی میں ایک یتیم بچی کی سسکیاں آسمان تک پہنچ رہی تھیں*
*وہ کبھی بابا کے ہاتھوں کو چومتی کبھی زخموں کو دیکھ کر روتی*
*بابا! آپ کو بہت مارا ہے نا؟* 😭😭😭😭
*بابا! آپ کو بہت تکلیف ہوئی ہوگی نا؟*😭😭😭
*پھر شہزادی نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا*😭
*بابا! آپ نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے..*
*پھر آپ اتنی دور کیوں چلے گئے؟*
*کربلا کی ریت گواہ ہے*
*اس رات سب سے دردناک منظر ایک یتیم بچی کا اپنے بابا کے بے سر جسم سے لپٹ کر رونا تھا 💔🥺*
*آخرکار اہلِ بیت ع کی خواتین نے سکینہ س کو وہاں سے اٹھایا*😭
*مگر وہ بار بار پلٹ کر اپنے بابا کو دیکھتی رہیں*
*پھر قید کا سفر شروع ہوا*
*ننگے سروں رسیوں اور مصیبتوں کے ساتھ اہلِ بیت ع کو کربلا سے کوفہ اور پھر شام لے جایا گیا*😭
سلام ہو اس معصوم بچی پر
سلام ہو اس معصوم شہزادی پر جس نے قید بھوک پیاس اور جدائی کے مصائب برداشت کیے
جس نے یتیمی کا درد سہا
جس نے کربلا میں بابا کا جنازہ دیکھا
شامِ غریباں میں بابا کا مقتل دیکھا
قید و سلاسل دیکھی
اور آخرکار بابا کی یاد میں جان دے دی 💔😢
*السلام علیکِ یا سکینۃ الحسینؑ*
*سلام ہو سکینہ بنتِ حسین ع پر*
_سِسکتی تاریخِ کربلا_🚩🥀

┄┅═════❁❁═════┄
گمنام سپاہی

قتلِ حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہےاسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعدحق اور باطل کی اس معرکہ آرائی میں امام عالی مقام، جگر گ...
26/06/2026

قتلِ حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حق اور باطل کی اس معرکہ آرائی میں امام عالی مقام، جگر گوشۂ رسولؐ، حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دینِ اسلام کو وہ دوام بخشا جو قیامت تک قائم رہے گا۔ کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور حق پر مٹ جانے کا وہ ابدی پیغام ہے جو ہر دور کے یزید کو مٹاتا ہے اور اسلام کو نئی زندگی دیتا ہے۔

سلام ہو سجدۂ شبیرؑ پر، سلام ہو صبرِ حسینؑ پر۔ 🕋✨


Follow my page Deen ki baten 🤍
اللہ آپ کی ہر پریشانی آسان فرمائے 🤲
ایک فالو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتا ہے

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَ...
26/06/2026

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:
إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي ﷺ
ترجمہ: میں نہ سرکشی، نہ تکبر، نہ فساد اور نہ ظلم کے لیے نکلا ہوں، بلکہ اپنے نانا ﷺ کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔

Address

Islamabad
48580

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deen ki baten posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share