17/07/2026
حضرت زید جو زید شہید کے نام سے مشہور ہیں، آپ امام زین العابدینؑ کے بیٹے اور امام محمد باقرؑ کے بھائی ہیں۔ آپکی والدہ کا نام جیدہ السندھی تھا، آپ کا تعلق سندھ کی سرزمین سے بتایا جاتا ہے۔ حضرت زیدؑ کی ولادت مدینہ منورہ 75 یا 80 ہجری میں ہوئی۔ ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد بزرگوار امام زین العابدینؑ سے ہی حاصل کی۔ جب آپکے والد کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر 18 سال تھی۔ آپ اپنے بڑے بھائی امام محمد باقرؑ کے زیر سایہ رہے۔
عبادت ، زہد ، تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے، آپ کو قرآن پاک سے بے حد محبت تھی ، عمر کا بیشتر حصہ قرآن کریم کی تلاوت ، معانی اور تفاسیر میں گزاری یہی وجہ یے آپ کو حلیفِ قرآن کا لقب دیا گیا۔ آپ زیدیہ مسلک انکو اپنا امام مانتے ہیں، اور زیدی سادات کے جد بھی ہیں۔
اموی حکمران ہشام بن عبدالملک جب حکمران بنا تو پہلے حکمرانوں کی طرح اس نے بھی آلِ محمدؑ پہ زندگی تنگ کرنا شروع کردی، آپ کے ایک خاندانی حق پہ غصب کیا گیا تو جنابِ زیدؑ مدینہ سے دمشق ہشام کے پاس خود گئے مگر اس نے آپ سے پہلے تو ملنا گوارہ نہ کیا ، جب ملاقات کی تو آپ کے ساتھ توہین آمیز رویہ رکھا گیا۔ حضرت زیدؑ اور ہشام کے درمیان سخت کلامی ہوئی آپ دمشق سے واپس کوفہ تشریف لائے۔ حضرت زیدؑ کے اندر ابھی کربلاء میں ہونے والے ظلم پہ پہلے ہی غصہ تھا ہشام کے مذید ظلم دیکھ کر آپ نے ہشام کے خلاف قیام کا فیصلہ کیا۔
پہلے تو ہزاروں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پہ بیعت کی مگر جب والیِ کوفہ نے آپ کا ساتھ دینے والوں کی جان مال پہ ظلم کا اعلان کیا تو صرف دو سو افراد نے آپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا، یکم صفر 122 ہجری کی رات کو خروج طے پایا۔ کوفہ میں ایک بار پھر گھمسان کی جنگ ہوئی۔ مگر دو سو افراد کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں فوج مدمقابل تھی۔ دورانِ جنگ حضرت زیدؑ کی پیشانی میں تیر لگا،جو آپ کی شہادت کا باعث بنا۔
ہشام نے آپ کا سر کاٹ کر لانے والے کو دس ہزار درھم انعام کا اعلان کیا۔ بے حرمتی سے بچانے کے لئے آپ کے ساتھیوں نے آپ کا میت نہر کا پانی روک کر زمین میں چھپا دیا اور پانی چھوڑ دیا۔ مگر چند ہی دن بعد کسی جاسوس نے آپ کے میت کا پتہ والیِ کوفہ کو دیا تو آپ کا میت نہر سے نکال کر آپ کا سر تن سے جدا کیا گیا، سر شام ہشام کے پاس بھجوا دیا گیا۔ ہشام نے کئی روز تک آپ کا سر دمشق کے صدر دروازے پہ لٹکائے رکھا۔ ادھر آپ کی برہنہ لاش کو کوفہ کے صدر دروازے پہ لٹکا دیا گیا۔ تقریباً تین یا چار سال تک آپ کا جسد کوفہ میں لٹکا رہا۔ ایک مکڑی نے آپ کی شرمگاہ کو اپنے جالے سے چھپا دیا۔
ہشام کے بعد آنے والے حکمران نے آپ کا جسد اتروایا اور لاش کو آگ لگا دی اور راکھ کا ایک حصہ فرات میں بہا دیا گیا اور کچھ حصہ دفن کردیا گیا۔ ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ حضرت جریر بن حازم کو نبی کریمؐ خواب میں ملے آپ نے اپنی پشت جنابِ زیدؑ کے جسد کے ساتھ لگا رکھی اور فرما رہے اے لوگو میرے فرزند کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو؟
لوگ پوچھتے ہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ مسلمان اپنے نبیؐ کی اولاد پہ ظلم کرسکتے ہیں جسے یقین نہ آئے وہ کربلاء جائے یا پھر کوفہ کے قریب جنابِ زیدؑ کی قبر پہ چلا جائے جہاں قبر میں میت نہیں صرف رکھ کی ایک مٹھی دفن یے۔
دو صفر یومِ شہادت حضرت زید بن امام زین العابدینؑ
علی اصغر