انجمن مہریہ نصیریہ تحصیل چکار

Website

انجمن مہریہ نصیریہ تحصیل چکار اسلام علیکم ۔

بڑی گیارہویں شریف بہت بہت مبارک ہو سگ درگاہ جیلانی
23/09/2026

بڑی گیارہویں شریف بہت بہت مبارک ہو
سگ درگاہ جیلانی

اسلام علیکم۔ امید کرتا ہوں کہ سب بہن بھائی بخیریت ہوں گے۔ اس جگہ کو تو سب ہی جانتے ہوں گے۔ جن کے علم میں نہیں تو میں ارض...
21/09/2026

اسلام علیکم۔
امید کرتا ہوں کہ سب بہن بھائی بخیریت ہوں گے۔ اس جگہ کو تو سب ہی جانتے ہوں گے۔ جن کے علم میں نہیں تو میں ارض کرتا چلوں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کبھی دیدارِ لالا جی کیا کرتے تھے۔ کل یہاں جانا ہوا تو دل یاد لالا جی سرکار میں خون کے آنسو رویا۔ کتنی بے رونق ہو گئی ہے یہ جگہ۔
ساری رونق آپ سے ہی تھی۔ حضرت قبلہ پیر سیدنا شاہ عبدالحق گیلانی رحمتہ اللہ علیہ❤ اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائے🤲🤲🤲🤲 😭😭😭😭

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا، ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما”حاضری۔ حضور داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ
18/09/2026

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا،
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما”
حاضری۔ حضور داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ

03/09/2026
28/08/2026

مرشدِ کریم آل نبیﷺ اولاد علی حضرت قبلہ پیر سیدنا شاہ عبدالحق گیلانی رحمتہ اللہ علیہ���

haq naseer ya naseer
28/08/2026

haq naseer ya naseer

محفل میلاد مصطفیٰ ﷺدرگاہ غوثیہ گولڑہ شریف بدھ 12 ربیع الاوّل 1448 ہجری،26 اگست 2026 عیسوی
26/08/2026

محفل میلاد مصطفیٰ ﷺ
درگاہ غوثیہ گولڑہ شریف
بدھ 12 ربیع الاوّل 1448 ہجری،
26 اگست 2026 عیسوی

ردِ قادیانیت میں حضرت قبلہء عالم سیدنا پیر مہر علی شاہ گیلانیؓ کا قائدانہ و مجدّدانہ کردارعقیدہء ختمِ نبوت دینِ اسلام کی...
25/08/2026

ردِ قادیانیت میں حضرت قبلہء عالم سیدنا پیر مہر علی شاہ گیلانیؓ کا قائدانہ و مجدّدانہ کردار

عقیدہء ختمِ نبوت دینِ اسلام کی اساس ہے ہمارے حضورﷺ اللہ تعالٰی کے آخری نبی ہیں اور آپؐ کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی نہیں آئے گا ، اس پر قرآن و حدیث میں پوری صراحت موجود ہے اس لیے سرکارِ دوعالمؐ کے ظاہری وصال کے بعد جب جھوٹے مدعیان نبوت اُٹھے تو اُن کے خلاف جہاد کیا گیا، ہر دور میں جھوٹے نبی پیدا ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے، سرکار ﷺؐ کا ارشاد ہے کہ میرے بعد 30 دجال و کذاب جھوٹے نبی ہوں گے۔
برصغیر پاک و ہند میں جب انگریزوں نے اپنا تسلط جمایا تو مسلمانوں کو ہر لحاظ سے کمزور کرنے کی کوششیں کردیں اور بعد میں ان کے احساسِ محرومی سے پیدا ہونے والی ذہنی کیفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جھوٹی نبوت کا دروازہ کھولنے کا پروگرام بنایا تاکہ ان کی وحدت کو پارہ پارہ کیا جا سکے اس سلسلے میں ان کی نظرِ انتخاب گورداسپور کے باسی مرزا غلام احمد قادیانی پر پڑی۔
اپنے پروگرام کے مطابق حکومتِ برطانیہ کے گماشتوں نے مرزا کو بطور مبلغ و مناظر متعارف کروایا اور ان کے عیسائی پادریوں کے ساتھ کئی ایک مناظرے کرائے، حیرت کی بات ہے کہ انگریز جیسی متعصب اور تنگ نظر قوم نے اپنے عہدِ حکومت اور کُلی تسلط میں مرزا کو عیسائیت کے بارے میں نہ صرف گندی سے گندی زبان استعمال کرنے کی اجازت دی بلکہ زرِ کثیر خرچ کر کے ان کا کُل لٹریچر بھی شائع کیا اور تشہیر کے لیے اپنا پورا زور لگایا، اہلِ نظر اسی وقت بھانپ گئے تھے کہ دال میں کچھ کالا ہے مگر سادہ لوح مسلمان اسی دام فریب میں رہے کہ مرزا دینِ اسلام کی خدمت میں کوشاں ہیں، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی بظاہر تبلیغِ اسلام اور غیر مسلموں کے ساتھ مناظرے کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل ہونے پر رُخ بدل کر مسیحِ موعود اور مامور مِن اللہ ہونے کا دعوٰی کرنے لگے۔
جب علماء اسلام نے مرزا کے اس دعوٰی کی تردید کی اور انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے اپنی کتاب ایام الصلح میں لکھا اس وقت آسمان کے نیچے کسی کو مجال نہیں کہ میری برابری کا دم مارے میں اعلانیہ اور کسی خوف کے بغیر کہتا ہوں کہ جو لوگ چشتی قادری نقشبندی اور سہروردی اور کیا کیا کہلاتے ہیں انہیں میرےسامنے لاؤ، جب مرزائی فتنہ ابھرنے لگا اور فساد فی الدین کا خطرہ الارم دینے لگا تو علماء دین کی طرف سے کیے گئے اصرار اور خصوصًا سرکارِ دو عالمؐ کے حکم ملنے پر 1899ء میں حضرت سیدنا پیر مہر علی شاہؒ نے شمس الہدایہ کے نام سے ایک کتاب تالیف فرمائی جس میں قرآن و حدیث اور آثارِ صحابہؓ سے لیے گئے قطعی دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ حضرت عیسٰیؑ ابنِ مریم کو اللہ تعالٰی نے زندہ آسمان پر اُٹھایا اور وہ خود ہی اپنے جسم کے ساتھ آسمانوں پر زندہ ہیں اور زمانہ قُرب قیامت میں خود بذاتِ ہی زمین پر نزول فرمائیں گے ، مرزا نے ایام الصلح میں بڑے تکبر کا مظاہرہ کیا تھا جس پر حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہؒ نے اپنی کتاب شمس الہدایہ میں امتحانًا (امتحان کے طور پر) مرزا صاحب سے مطالبہ فرمایا کہ وہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کا معنی بتلائیں، یہ کتاب شائع ہو کر پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔
اس کی ایک کاپی مرزا کو قادیان کے پتہ ہر بھیج دی گئی اس کتاب کے اندازِ استدلال اور طرزِ نگارش نے مسلمانانِ ہند میں ایک نئی رُوح پھونک دی،
20 فروری 1900ء کو حکیم نورالدین نے حضرت قبلہ پیر صاحب کو بذریعہ خط 12 سوالات لکھ بھیجے، آپؒ نے ان کے جوابات تحریر فرمائے اور حکیم نورالدین سے صرف ایک سوال کیا کہ آپ حقیقتِ معجزہ کی تشریح کریں مگر آج تک جواب نہ آ سکا۔
20 جولائی 1900ء کو مرزا نے ایک اشتہارِ عام کے ذریعے حضرت سیّدنا پیر مہر علی شاہؒ کو عربی میں تفسیرِ قرآن لکھنے کا مقابلہ کرنے کے لیے للکارا، اس اشتہار میں غیر مہذب زبان استعمال کی اور مقابلے کی تمام شرائط خود ہی طے کیں، 25 جولائی 1900ء کو یہ اشتہار گولڑہ شریف موصول ہوا، اعلیٰحضرتؒ نے اُسی دن مطبع خبار چوہدویں صدی سے اپنا جوابی اشتہار شائع کیا کہ مجھے مرزا کا چیلنج تمام شرائط کے ساتھ قبول ہے اور آپؒ نے مناظرے کے لیے 25 اگست 1900ء کی تاریخ مقرر فرمائی۔
24 اگست1900ء کو آپؒ گولڑہ شریف سے روانہ ہوئے ، راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سے بذریعہ تار قادیان میں مرزا کو اطلاع کی کہ میں روانہ ہو چکا ہوں پھر دورانِ سفر لالہ موسٰی ریلوے اسٹیشن پہنچ کر اسی مضمون کا تار قادیان میں دوبارہ ارسال کیا۔
جب آپؒ لاہور ریلوے اسٹیشن پر اُترے تو 50 جیّد اور مستند علمائے دین کی جماعت آپؒ کے ساتھ تھی، بعد ازاں سینکڑوں علماء اسلام لاہور پہنچ گئے اور ہزاروں اہلِ ایمان جوق در جوق لاہور پہنچنے لگے، آپؒ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ برکت علی محمڈن ہال بیرون موچی دروازہ لاہور میں قیام فرمایا مگر مرزا کو قادیان میں اپنے خانہء تاریک سے باہر نکلنے کی ہمت نہ ہوسکی،
25 اگست کا دِن گزر گیا پھر 26 اگست کا دن بھی چلا گیا، مرزا کو نہ آنا تھا نہ آئے، قادیانی جماعت کے ایک وفد نے حضرت قبلہ پیر صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپؒ مرزا کے ساتھ مباہلہ کریں یعنی ایک اندھے اور اپاہج کے حق میں مرزا دُعا کریں اور اُسی طرح آپ بھی اندھے اور اپاہج کے حق میں دُعا کریں جس کی دُعا سے اندھا اور اپاہج شفایاب ہو جائے اُسی کو برحَق مان لیا جائے،
اس پر حضرت قبلہء عالمؒ نے فرمایا کہ مرزا سے کہہ دیں اگر مُردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آ جائیں میں حاضر ہوں، تفسیر نویسی کے معاملے میں بھی حضرت پیر صاحبؒ نے فرمایا کہ ہاتھ میں قلم پکڑ کر تفسیر لکھنا تو عام سی بات ہے ہمارے آقاؐ مولاؐ نبی کریمؐ کی اُمت میں اس وقت بھی ایسے خادمِ دین موجود ہیں کہ اگر قلم پر توجہ ڈالیں تو وہ خود بخود تفسیر قرآن لکھنے لگے۔
27 اگست کو بادشاہی مسجد لاہور میں اہلِ اسلام کے بےمثال عظیم الشان اجتماع سے علمائے کرام نے خطابات فرمائے، آخر میں آپؒ نے دُعا فرمائی۔
29 اگست کو واپس روانہ ہوئے 15 دسمبر 1900ء کو مرزا نے اعجاز المسیح کے نام سے صورت فاتح کی تفسیر شائع کرتے ہوئے اس کو اپنی حقانیت کی آخری دلیل قرار دیا اور مولوی احسن امروہی کو معاوضہ دے کر اس سے حضرت قبلہ پیر صاحبؒ کی کتاب شمس الہدایہ کا جواب لکھوایا جس کا نام شمس بازغہ رکھا گیا، ان دونوں کتابوں کے جواب میں حضرت قبلہء عالمؒ نے دنیا عِلم و استدلال کا لازوال شاہکار تصنیف فرمایا جو 1902ء میں سیفِ چشتیائی کے نام سے شائع ہو کر مرزائیت کے لیے ملک الموت ثابت ہوا،
علم کی دنیا میں سیفِ چشتیائی کو لازوال حیثیت حاصل ہوئی اور آج بھی حقانیت کے آسمان پر مہرِمنیر کی طرح نورِ فشاں نظر آتی ہے۔
سیّدالعالمینؐ ختم المُرسلینؐ کا ارشادِ گرامی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ مسیح زمین پر نزول فرمائیں گے ، مدینہ منورہ میں روضہءاطہر پر حاضر ہو کر سلام عرض کریں گے اور میں سلام کا جواب دوں گا،
مگر قبلہ پیر صاحبؒ نے پیشین گوئی فرمائی کہ مرزا تو مدینہ شریف کی حاضری سے بھی محروم رہیں گے، یہ پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی اور مرزا صاحب مدینہ منورہ کی حاضری کے بغیر ہی اس دنیا سے کُوچ کر گئے۔

اس معرکہء حق و باطل کو گزرے 122 سال بِیت چُکے ہیں اور قوتِ حق کی پے در پے فتوحات کے ذریعے عقیدہء ختمِ نبوت کا "ورفعنا لک ذکرک" کے مصداق ہر طرف بول بالا ہے، دریں اثناء مرزائی پاکستان کے آئین کے مطابق اقلیت قرار دیے جا چُکے ہیں لیکن ان کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں لہٰذا تمام اہلِ اسلام کی ذمہ داری ہے کہ عقیدہء ختمِ نبوت پر مکمل ایمان کے ساتھ ساتھ اس کا پرچار بھی کریں اور اس کی اہمیت سے اوروں کو آگاہ بھی کریں کیونکہ یہ اٹل اور ابدی حقیقت ہے کہ

مصطفٰیؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بو لہبی ست

____تحریر____
قاسمِ فیضانِ غوثِ جلیؓ، وارثِ علومِ مہرِعلیؓ
حضرت پیر سیّد معین الحق گیلانی
دامت برکاتہم العالیہ
سجادہ نشین درگاہِ عالیہ گولڑہ شریف

24/08/2026

آمد مصطفیٰ ﷺ
مرحبا مرحبا
سرکار کی آمد
مرحبا

Address

تحصیل چکار ضلع جہلم ویلی
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انجمن مہریہ نصیریہ تحصیل چکار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share