02/10/2026
ہمارے بزرگ کہتے تھے: "باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔" علم کتابوں سے آتا ہے، مگر برکت ادب سے آتی ہے۔ تاریخ میں کتنے ہی ذہین لوگ گزرے جو صرف اس لیے پیچھے رہ گئے کہ اُن کے پاس علم تو تھا، ادب نہیں تھا۔
ادب کمزوری نہیں، ایک طاقت ہے۔ جو شخص اختلاف کے باوجود لہجہ نرم رکھے، غصے کے باوجود لفظ سنبھال کر بولے، وہی اصل میں مضبوط انسان ہے۔
اس لیے بولنے سے پہلے ایک لمحہ رک جائیں۔ سوچیں کہ یہ لفظ کسی دل پر کیسا اثر کرے گا۔ کیونکہ بعض دروازے ایک بار بند ہو جائیں، تو زندگی بھر دستک دینے سے بھی نہیں کھلتے۔
اسے ہمیشہ یاد رکھیے۔