Islam Or Ishq e Mustafa ﷺ

Islam Or Ishq e Mustafa ﷺ Allah ko wahdahu la shareek jan'na, Tajdar e Kainat SAWW se ishq kerna or Sahaba o Ahl e Bait RA ka dil se adab o ehtiraam kerna Islaam ki asaas he.

Religious practices such as offering prayer, performing
hajj, giving zakât, keeping fasts, preaching, and spending in
charities comprises the body of Islam. The extreme love and
reverence of the Holy Prophet (SAW) constitutes the soul
of the body. Both the body and the soul are combined to
make a human. A soul can exist without a body as it did in
the spiritual world. It exists in the material wor

ld and it will
continue to exist until the Hereafter. However, a body
without a soul cannot exist instead it decays. Similarly our
practices and good acts without the love of the Holy
Prophet (SAW) can never be proved to be fruitful,
everlasting or rewardable. Like the soul, the love of the
Holy Prophet (SAW), even in its abstract form can remain
positive and earn reward. However, it would not be a
complete and productive îmân1. Although the love of the
Holy Prophet (SAW) helps a man to restore its relation
with the body, an enlightened and strong îmân can only be
achieved by combining the soul and the body. Religious acts
and obligations must be strictly adhered to as well as
developing love for the Holy Prophet (SAW).

27/04/2026

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی آدمی جب دس آیتیں پڑھ لیتا تو آگے نہیں بڑھتا تھا جب تک ان کے معانی کو نہ سمجھ لیتا اور ان پر عمل نہ کرتا۔

(تفسیر طبری: 66)

25/12/2025

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دنیا میں عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ایک عادل حکمران کی حیثیت سے نہ تشریف لے آئیں، اُس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔ وہ (دنیا میں نازل ہو کر) صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو مار ڈالیں گے اور (بطور اِحسان غیر مسلم شہریوں سے) ریاستی حفاظت کا ٹیکس (جو عسکری خدمات سے اِستثناء کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے) معاف کردیں گے۔ (ان کے دورِ حکومت میں) مال و دولت کی اتنی فراوانی ہو گی کہ (پیشکش کے باوجود) کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔

أخرجه البخاري في الصحيح، كتاب المظالم، باب كسر الصليب وقتل الخنزير، 2/875، الرقم/2344،

05/09/2025

آپﷺ آئے تو بجھتے چراغوں کو رستہ ملا

ورنہ کون ان اندھیروں کی جڑ کاٹتا

04/09/2025

نورِ مصطفٰی ﷺ کو زوال نہیں

The light of Mustafa ﷺ never declines

01/09/2025

سورۃ یونس، آیت 58:

قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّمَّا يَجۡمَعُوۡنَ‏

“(اے محبوبِ مکرم محمد ﷺ)
فرما دیجیے: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی انہیں خوشی منانی چاہیے۔ وہ اس (مال و دولت) سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔”

جب اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا، جیسا کہ امام ضحاک رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:

“أن فضل الله: العلم، ورحمته: محمد صلى الله عليه وسلم، رواه الضحاك عن ابن عباس.”

یعنی: “اللہ کا فضل علم (یعنی قرآن و توحید کا علم) ہے اور اس کی رحمت سیدنا محمد ﷺ ہیں۔”

[امام ابن جوزی حنبلی رحمہ اللہ، زاد المسیر فی علم التفسیر، جلد 4، صفحہ 40]

01/09/2025

یہ معرفت کہ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی کامل حقیقت (حقیقتِ محمدیہ) کو مخلوق کے لیے سمجھنا ممکن نہیں، عقل و فہم سے ماورا ہے۔ ہمیں روایت کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے ذہن و دماغ کے لیے رسول اللہ ﷺ کی اصل حقیقت کو پوری طرح سمجھنا نہایت دشوار ہے، جیسا کہ خود رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا:
“اے ابوبکر! اُس رب کی قسم جس نے مجھے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے، میری حقیقت (حقیقتِ محمدیہ) کو میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔”

[امام الفاسی المالکی، متعالی المصارعات، ص 129۔ الدولۃ المکیۃ، ص 164، مکتبہ رضا مصطفیٰ الہند۔
امام یوسف النبھانی، جواہر البحار فی فضائل النبی، ج 3، ص 298۔
الجزائری، کتاب المواقف الروحیہ والفیو ضات الصبحیہ، ج 1، ص 168]

28/08/2025

مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ، مصر، شام، یمن الغرض شرق تا غرب تمام بلادِ عرب کے باشندے ہمیشہ سے میلادالنبی ﷺ کی محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں۔ وہ ربیع الاول کا چاند دیکھتے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی
ابن جوزي، بيان الميلاد النبوي ﷺ: 58

25/08/2025

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کے معجزات – مولدِ رسول ﷺ

1) سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کو “محمد” ﷺ نام رکھنے کا حکم

ابو سعید عبد الملک النیسابوری نے اپنی کتاب الکبیر میں ذکر کیا ہے جیسا کہ مصنف السعادة والبشرى نے کعب سے اپنی طویل روایت میں نقل کیا ہے۔ اور ابو نعیم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ:

سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا بیان فرمایا کرتی تھیں:
“جب میرے حمل کو چھ ماہ گزرے تو خواب میں کوئی میرے پاس آیا اور کہا: اے آمنہ! تو تمام جہانوں کے سب سے بہتر کو اپنے شکم میں لیے ہوئے ہے۔ جب اس کی ولادت ہو تو اس کا نام محمد رکھنا اور اپنے معاملے کو پوشیدہ رکھنا۔”

حوالہ:
امام قسطلانی رحمہ اللہ، المواہب اللدنیہ، جلد 1، صفحہ 76
(باب: آیات ولادتہ ﷺ)

21/08/2025

“وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ” [94:4]

مفسرین نے ذکر فرمایا ہے کہ لفظ “وَرَفَعْنَا” ماضی کے صیغے میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بلندی اور رفعتِ ذکر کوئی ایسا انعام نہیں جو حال ہی میں دیا گیا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ازل سے ہی مقرر فرما دیا تھا۔ ماضی، حال اور مستقبل تو ہماری فہم کے لئے ہیں، ورنہ حضور ﷺ کا رتبہ ازل سے ابد تک اللہ کے حکم سے قائم ہے۔

لفظ “نَا” (ہم) دراصل اس پر دلالت کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ذکر بلند کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کوئی اگر اس عظمت کو گھٹانے کی کوشش کرے تو دراصل اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی مخالفت کرتا ہے۔

لفظ “لَكَ” (تمہارے لئے/تمہاری خاطر) یہ بتاتا ہے کہ یہ شرف خالصتاً حضور ﷺ کے لئے عطا فرمایا گیا، کسی بیرونی سبب یا وجہ کی بنا پر نہیں۔ اس میں موجود “لام” اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ بلند مرتبہ صرف آپ ﷺ ہی کے ساتھ خاص ہے۔

اور لفظ “ذِكْرَكَ” (تمہارا ذکر/یاد) اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کے ذکر کو ایک منفرد بلندی بخشی گئی ہے۔ کسی مخلوق کا ذکر اس طرح اور اس شان کے ساتھ کبھی نہیں ہوا جیسے سید المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ کا۔ آپ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ اذان میں، نماز میں اور تاریخ کے ہر دور میں بلند کیا گیا ہے

Address

Panian
Haripur

Telephone

0097155690069

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam Or Ishq e Mustafa ﷺ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islam Or Ishq e Mustafa ﷺ:

Share